Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Dil Ki Dharkan Ho Tum (Episode 19)

Dil Ki Dharkan Ho Tum by Aiman Waqar

ایس-وی کو جب سے اپنی تیسری شکست کا معلوم ہوا تھا۔ تب سے وہ زخمی شیر بنا ہوا تھا۔ شدید غصہ میں غفار کو بھی شوٹ کر چکا تھا۔ مگر گولی کندھے کو چھو کر گزری تھی۔خود کو ہر طرف سے پھاسا دیکھ خود کو غائب کرنے کا سوچا تھا۔ اور فلوقت ہر برے کام کو روک دیا تھا۔ کیوں کے اب وہ کچھ گرینڈ کرنے والا تھا۔

🖤
🖤
🖤
🖤

مومل اور سالار اندر ہال میں آئے تھے۔ جہاں سب ہی موجود تھے۔ تو وہ دونوں بھی سب کے ساتھ باتوں میں مشغول ہوگے۔ مصطفٰی دادا اور ابراہیم دادا، جبران صاحب اور حسن صاحب کے ساتھ میٹنگ میں جارہے تھے۔ جو کہ روبن رابرٹ کی کمپنی کے ساتھ تھی۔

صبح سے سبھی لوگ گھر میں گھوم رہے تھے۔ گھر سے باہر جانا سب کا ممنوع تھا۔کیوں کہ سعدیہ بیگم اور دانیہ بیگم سخت خفا تھیں۔انمول نے سب کو مصروف پایا، تو اپنے ساتھ بیھٹے علیان کو مخاطب کیا۔

” علی بھئیو !! “

انمول نے میسنی سی شکل بنائی اور آنکھیں ٹپ ٹپائیں تھیں۔انمول کی معصومیت علی کو کسی خطرے کی علامت لگ رہیں تھیں۔ لیکن اپنے سارے خیالات کو ایک طرف رکھ کر علی نے مانو کو جواب دیا۔

“جی میری گڑیا۔۔؟”

علیان نے پیار سے پچکارا تھا۔تو مانو کی سبز آنکھوں میں ڈھیروں چمک آئی تھی۔

“بھئیو بچاری مومل ہمارے ساتھ پہلی بار گھومنے آئی ہے۔ اور آتے ہی بیمار پڑ گی۔ ہم سب تو کافی گھوم چکے ہیں۔مگر وہ گھر سے کہیں بھی نہیں گی۔ تو میں سوچ رہی تھی۔ اج رات کا کھانا، ہم سب کہیں باہر کھاتے ہیں۔ تو آپ ہماری جلاد مما ، میرا مطلب ہے، پیاری سی مما کو بولیں نا۔۔۔”

علیان نے انمول کی ساری بات آرام سے ملاحظہ فرمائیں تھیں۔ مگر مانو کی آخری بات پر زبردست قسم کی گھوری سے نوازا تھا۔ جس پر مانو نے دانتوں کی نمائش کی تھی۔

“نکمی سی شہزادی سیدھا سا بولو نا بندوق میرے کندھے پر رکھ کے چلانی ہے۔”

علیان مانو کی چلاکی سمجھتے ہوئے بولا تھا۔ ساتھ ہی اس کی سر پر ہلکی سے چیت بھی رسید کی تھی۔

“چلو بات کرتا ہوں”علی نے اپنی رضا مندی ظاہر کی تھی۔جس پر مانو کھلکھلائی تھی۔

داری کمرے سے فون میں مصروف سا نکلا تھا اور ہال میں سب کے ساتھ آبیٹھا۔

“ہائےےےےےےاللہ” پری نے ناک ہر ہاتھ رکھا تھا۔

” اتنی بدبو اففففففف خدایا” مانو کو ابکائی محسوس ہوئی تھی۔ سبھی نے اپنے ناک اور منہ کو کور کیا تھا۔ مجھے لگتا ہے شاید کچھ مرا ہوا ہے چوہا وغیرہ۔ اس لیے اتنی بدبو ہو رہی ہے۔ازلان نے ناک پر ہاتھ جمائے ہوئے کہا تھا۔ازلان،علی،احمراور سالار یہاں وہاں نظر گھما رہے تھے۔

شاید کچھ نظر آجائے،

اووووووو ماہم منہ پر ہاتھ رکھتی، باتھ کی طرف بھاگی تھی۔ماہم کے بعد ایشو اور پری نے باتھ کی طرف دوڑ لگائی تھی۔ کیوں کہ ان کو بھی ابکائی ہوئی تھی۔

پورے ہال میں ایک شخص تھا۔جو کانوں میں ہیڈ فون لگائے موبائل فون میں گم تھا۔ مانو جو داریان کے اس طرح بیٹھنے پر حیران تھی۔پھر غصے سے، اس کے نفیس بالوں کو، اپنے شکنجے میں لیا تھا۔

“اااہہہہ !! ” داریان کو اپنے بال جڑوں سے اکھاڑتے ہوئے محسوس ہوئے تھے۔تبھی اس کی دلخراش چیخیں بلند ہوئیں تھیں۔موبائل اور ہیڈ فون کو ایک طرف پھنکتا، پیچھے کی طرف موڑا تھا۔ کہ کس نے داریان خانزادہ کی پہلی محبت، یعنی اس کی خوبصورت زلفوں کو اپنے شکنجے میں قید کررکھا تھا۔ ارے وہ پاگل چڑیل کوئی اور نہیں بلکہ اپنی ہی جنگلی بلی تھی۔

“آااااا مانو بلی کیا ہوا ہے۔ چھوڑ دو میرے نازک بالوں کو” داریان جیسے اپنے بال چھڑوانے کے لیے اگئے بڑھا تھا۔مانو کو بدبو اور بھی تیزی سے محسوس ہوئی تھی۔اسی لیے داری کے بال چھوڑتی چار قدم دور ہوئی تھی۔ بال میں موجودہ سبھی نے نفی میں سر ہلایا تھا۔

” اسی داری گٹر سے بدبو ارہی ہے۔ ” مانو کو شدت سے ابکائی محسوس ہوئی تھی۔ مگر خود پر ضبط کر گی۔بمشکل بول پائی تھی۔سب نے مانو کی طرف سوالیہ نظروں سے دیکھا تھا۔”ہان نا سب کو بدبو محسوس ہو رہی ہے۔ مگر یہ سکون سے بیٹھا ہے”۔مانو نے جلدی سے ناک اور منہ پر ہاتھ جمایا تھا۔

“کونسی بدبو ، کیسی بدبو، مجھے نہیں محسوس ہو رہی”داریان نے کوفت سے سر جھٹکا کر بولا تھا۔ تبھی سب نے بے یقینی نظروں سے داریان کو گھورا تھا۔

“داری تمہیں ذرہ برابر شرم نا آئی، یہ کرتے ہوئے، محفل کا ہی ادب کر لیتے، مانو نے اپنی خالص اردو جھاڑی تھی۔اگر پیٹ میں مروڑ اُٹھ رہے تھے، تو واش روم جاتے یا پھر بچوں والے پیمپر لگا لیتے، کم سے کم ایسی حماقت تو نا کرتے۔۔۔

“چھی چھی چھی”

جہاں مانو کی بات پر سبھی نے قہقہہ لگایا تھا۔ وہیں داریان آنمول کی ایسی بے باک بات پر سکتے میں چلا گیا تھا۔

” توبہ توبہ کیا زمانہ آگیا ہے” مانو نے بڑے بزرگوں کا لہجہ اپنایا تھا۔

“بکواس نہیں کرو مانو”

داریان انمول کی بات پر بگڑا تھآ۔ کوئی میرے پیٹ میں مروڑ نہیں اُٹھ رہے، اور میں صبح ہی نہایا ہوں، داریان اپنے آپ کو سر تا پاؤں سونگتا ہوا بولا تھا۔ مگر اپنی ناک، پاؤں کے قریب لے جاتے ہی اس کا جی متلایا تھا۔

“او اچھا اچھا اب میں سمجھا میری فیورٹ سی جربوں میں تھوڑی سی بدبو ہورہی ہے۔” جرابوں کا حال کچھ ایسا تھا۔ ان کا رنگ سفید اب سے کالا پڑ چکا تھا۔ایک جراب سے پاؤں کا آنگھوٹا، تو دوسرے سے دو اُنگلیاں باہر کو نکلیں ہوئیں تھیں۔

دریان کا لفظ تھوڑی سی بدبو بولنے پر سب نے اس کو گھورا تھا۔ماہم ، پری اور ایشو تینوں کو ابکائی ہوئی تھی۔تو واش بیسن پر اپنا چہرہ دھونے کے بعد واپس ہال میں آئیں تھیں۔

“مجھے ایسے کیوں دیکھ رہے ہو ۔میرے دوست کا دیا ہوا تحفہ ہے۔میرے دوست نے نشانی کے طور پر اپنی پہنی ہوئی دیں تھیں۔اور پھر چار سال سے میں نے بھی نہیں دھوئیں۔ جب اس کو مس کرتا ہوں تو پہن لیتا ہوں۔”

داری کی گوہرافشائی سن کر سبھی سکتے میں تھے۔مگر لفظ چار سال پر سب ششدر سے رہے گئے تھے۔

“اوووو گٹر میں غرق ہوئی عوام،نکلو یہاں سے ابھی کے ابھی اور ایسے نایاب تحفے کو آگ لگا دو ، ورنہ میں تمہیں لگا دوں گی۔”انمول خود پر برداشت کا بند باندھتے ہوئے بولی تھی۔

باقی سب بھی اپنے کمروں کی بڑھ گے تھے۔ جب کے علی نے اپنے قدم سعدیہ بیگم کے کمرے کی جانب بڑھائے تھے۔روازہ ناک کیا تھا۔ اجازت ملنے پر اندر کی جانب بڑھا۔ سامنے سعدیہ بیگم کسی کتاب کا مطالعہ کر رہیں تھیں۔ کسی کی موجودگی کو محسوس کرتے ہوئے سر اوپر کی طرف اُٹھایا تو سامنے علی کو پایا تھا۔

“مما جانی آپ سے بات کرنی ہے۔ “

“ہاں جی بولو بچے”سعدیہ بیگم پیار سے بولیں تھیں۔

“اج رات کا ڈنر ہم سب کہیں باہر کرتے ہیں۔”

ہمم کس نے پلان بنایا ہے۔سعدیہ بیگم نے آئی بررو اچکائی تھی۔ ان کے انداز پر علی گڑبڑا گیا تھا۔ مگر پھر خود کو سنبھلتے ہوئے جواب دیا تھا۔

” مما جانی ہم سب نے”علی نے بہنا تراشا تھا۔

” ہاں بلکل لگ رہا ہے۔ ہم سب میں کون کون شامل ہے۔” سعدیہ بیگم نے بھویں سکھڑیں تھیں۔” مما سب ہی” علی نے نظریں چرائیں تھیں۔”سوائے انمول کے کوئی بھی ہم میں شامل نہیں ہے۔ میں نے ٹھیک کہا نا” علی نے اپنی چوری پکڑے جانے پر ہار مان لی تھی۔ کیوں کہ ماں تو بچے کی رگ رگ سے اوقف ہوتیں ہیں۔

” ہمم آپ مما جانی جو ہیں سب جانتی ہیں”

“تو پھر ہزار بہانے کیوں بنائے۔” سعدیہ بیگم نے گھور تھا۔

“مما جانی اب ہم سب جاسکتے ہیں۔۔۔؟”علی نے بچارگی سے کہا تھا۔

“ہاں جاؤ مگر اس نمونی پر نظر رکھنا اور وقت سے آجانا۔” سعدیہ بیگم نےوارننگ کے ساتھ ہدایت کی تھی۔ “اوکے مما جانی تھینک یو سو مچ “

علی اپنے چہرے پر سکون تاثرات سجائے بولا تھا۔ اور پھر باہر کی جانب چل دیا،لیکن ایک خیال کے تحت رک کر پلٹا تھا

“ارے مما جانی میں سوچ رہا ہوں، آپ سب بھی چلیں گھر بور ہو جائیں گی۔”علیان نے ساتھ چلنے کی پیشکش کی تھی۔”نہیں بچے میں نہیں چل سکتی، کل دوبئی کی فلائٹ ہے۔اور سب کی پیکنگ بھی کرنی ہے۔ آپ سب جائیں،آپ کی دادی جان کی طبیعت بھی کچھ ناساز ہے۔” سعدیہ بیگم نےتفصیل سے بتایا تھا۔

“چلیں جیسا آپ کو مناسب لگے”۔ یہ بولتے ہی علی کمرے سے باہر نکل گیا۔اپنے کمرے میں آتے ہی سب کو واٹس آپ گروپ پر میسج کیا۔اور پھر شاور لینے کے لیے باتھ کی طرف بڑھ گیا۔ انمول اور باقی سب کو جب علی کا میسج ملا، تو سبھی اپنی اپنی تیاری میں لگ گے۔

اج ساری ینگ پارٹی باہر ڈنر کرنے جانے والی تھی۔اسی لے سب نے اوکے کا رپلائی کیا تھا۔ پہلے ڈنر کریں گے۔ اس کے بعد آئسکریم، یس مزہ آئے گا۔ انمول نے گروپ میں جواب دیا۔اور پھر موبائل فون کو بیڈ پر رکھتے الماری سے ڈرس نکالتی باتھ کی طرف بھاگی تھی۔

تقریبن آدھے گھنٹے بعد سبھی تیار ہو کے ہال میں موجود تھے۔ “چلیں پھر ۔۔۔؟”احمر نے سے پوچھا، تو نے ہاں میں جواب دیا۔”لیکن ایک منٹ داری!!! کیا تم اچھے سے نہا آئے ہو۔۔۔؟کیوں کہ ہال سے اپنی تک بدبو نہیں گئی۔”

“مانو!!ذلیل کہیں کی”انمول کی بات پر جہاں سب سے زوردار قہقہہ لگایا تھا ۔ وہیں داری چیخا تھا۔

” دور کھڑی قسمت ان سب کو دیکھ کر ظنزیہ سی مسکرائی تھی۔سبھی خوش تھے۔آنے والے وقت سے انجان کے خوشیوں کو جلدی نظر لگتی ہے۔قسمت اور تقدیر کو بدلنے میں وقت نہیں لگتا۔زمانے کی نفرتوں کی بھیڑ میں چھوٹی چھوٹی خوشیاں کہیں کھو سی جاتی ہیں۔”

احمر،علیان اور ازلان نے آج ڈرائیونگ سیٹ سمبھالی تھی۔ احمر کے ساتھ پری، داری،ماہم تھے۔تو علی کے ساتھ ایشو، سالار اور مومل۔ باقی بچے تین،اور تینوں ایک دوسرے کی جان کے دشمن، ازلان ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھا تھا۔ مانو یا نایاب میں سے کوئی ایک ہی فرنٹ سیٹ پر بیٹھ سکتا تھا۔

نایاب نے یہ دیکھتے ہوئے، گیٹ سے گاڑی تک دوڑ لگائی تھی۔ کہ وہ فرنٹ سیٹ پر بیٹھ سکے۔ مگر قسمت کو نامنظور تھا۔شاید اس لیے بھاگنے کے دوران، اس کے پاؤں میں پتھر لگا، جس کی وجہ نایاب منہ کہ بل گری تھی۔ مانو چلتی ہوئی اس کے پاس پہنچی تھی۔ نایاب نے مدد کے لیے ہاتھ بڑھا تھا۔ کہ وہ موقع پاتے ہی انمول کو نیچے دھکا دے دے گی۔ مگر انمول نے اس کے ناپاک ارادوں کو ناکام بنا دیا۔ نایاب کا ہاتھ پکڑ کر جھٹکا تھا۔ “جلدی کا کام شیطان کا “انمول نایاب کو بولتی، اس کے پاس سے گزر گی۔اور چپ چاپ ازلان کے ساتھ فرنٹ سیٹ پر بیٹھ گی۔ پیچھے نایاب جلتی بھنتی رہے گی۔ گاڑی کا ہارن بجنے پر ہوش کی دنیا میں واپس آئی اور پیر پٹختی گاڑی کی بیک سیٹ پر بیٹھی تھی۔

تینوں گاڑیاں ایک دوسرے کے آگے پیچھے رواں دواں تھیں۔ امریکہ کے مشہور ریسٹورنٹ کی جانب۔ ایک جگہ ڈرائیونگ لائسنس کی چیکنگ ہو رہی تھی۔ پہلے احمر نے اپنا گارڈ دیکھا، پھر علیان نے، اگلی باری ازلان کی تھی۔ مگر ازلان اپنا کارڈ گھر پر بھول آیا تھا۔

“او شیٹ یار”

” کیا ہوا ” بیک وقت انمول اور نایاب دونوں نے پوچھا تھا۔

“ڈرائیونگ لائسنس میں گھر بھول گیا۔”

“واٹ! ازلان اب کیا ہوگا ” نایاب پریشان ہوتی ہوئی بولی تھی۔ جب کہ انمول کہ دماغ میں ایک تقریب آئی تھی۔ جس کو سوچتے ہی انمول کی دانت باہر نکلے تھے۔میرے پاس ایک پلین ہے۔ بس دونوں چپ رہنا۔

انمول نے اپنے گلے میں موجودہ بڑے سے سکارف کو گلے سے نکالا اور اس کو گول گول بنا کر اپنی شرٹ کے اندر رکھا تھا۔اپنی سیٹ کو نیچے کی طرف ڈاؤن کیا اور پانی کی بوتل سامنے ڈر سے نکالی، چہرے پر چھنٹے مارے، بال بھی تھوڑے خراب کر لیے۔

ازلان اور نایاب ہونکوں کی طرح منہ کھولے مانو کی حرکتیں دیکھ رہے تھے۔ کہ ان کی باری اچکی تھی۔ازلان نے گاڑی کا شیشہ نیچے کیا ہی تھا۔ مانو نے گاڑی میں اونچا اونچا چیخنا شروع کر دیا۔ جس کی وجہ سے نایاب اور ازلان بدک کر پیچھے ہٹتے سیٹ سے جا لگے تھے۔ اور جو ادمی لائیسنس چیک کروانے کا بولنے ہی والا تھا۔اس اپنے کانوں کی پردے پھڑکتے ہوئے محسوس ہوئے تھے۔ فورن سے اس نے کانوں پر ہاتھ جمائے تھے۔ اور انگریزی میں سوال کیا تھا۔

What Happening Sir…?

مانو مصنوعی پیٹ پر ہاتھ رکھے ایک بار پھر چیخ اُٹھی تھی۔ ساتھ ہی ازلان کا ہاتھ تھامتے ہوئے،چٹکی کاٹی تھی۔جس سے بچارہ ازلان درد کو ضبط کرتا رہے گیا۔ مگر مانو کے ہاتھ کہ لمس کو محسوس کرتے ہوئے، ایک بیٹ مس ہوئی تھی۔ لیکن خود کو کمپوز کرتے ہوئے جواب دیا تھا۔

Sir !

“My wife is pregnant.

and A few minutes ago She had started a Labour pain.

then, We will go to the Hospital “

“ااااہہہہہہہہہہ “مانو دوبارہ چیخی تھیں۔

ازلان کا سر چکرا رہا تھا۔ایک طرف انمول کی چیخوں سے دوسری طرف گاڑی کے باہر گھڑے لائسنس چیکر کی نظروں سے۔ تبھی جو منہ میں آیا بولتا چلا گیا۔ پوری انگریزی کا بیڑا غرق کر کے۔

انمول نے اپنا قہقہہ ضبط کیا تھا۔

ازلان کی تو حالت ہی پتلی ہوگی تھی۔ دوسری جانب پیچھے نایاب ساری کہانی سمجھنے کی کوشش میں لگی تھی۔ انمول نے ایک بار پھر سے چیخ ماری تھی۔ “ااہہہہ” جس پر باہر کھڑا پولیس گارڈ ہڑبڑا اُٹھا۔

“ابے او گنجے لوٹے ارے نہیں بلکہ ٹیٹے مجھے جانے دے اااہہہہ”مانو دوبارہ چلائی تھی۔

What you say Ma’am…?

انمول نے اردو میں اپنی بات کہی تھی۔ جو کہ اس پولیس گاڈ کے ٹیٹ پر سے گزری تھی۔ جبھی انمول دوبارہ چیخیں تھی۔ اااہہہہ “ہمیں جانے دو اُجڑی ہوئی کھتی” سامنے کھڑا آدمی اپنے بال نوچنے کو تھا۔مگر پہلے سے ہی اس کی پاس چم چماتا ہوا گنج تھا۔ تبھی اس نے اپنی جان چھڑئی تھی۔ اس آفت کی پوڑیا سے۔۔۔

“o””o OK sir please go 🙏

ازلان نے گارڈ کی بات سنتے ہی گاڑی آگے بڑھا لی تھی۔پیچھے پولیس گارڈ نے سکھ کا سانس لیا تھا۔ جب کہ کچھ آگے جانے کے بعد انمول کا زوردار قہقہہ گونجا تھا۔

“ہاہاہاہاہاہاہا”

مانو کو یوں ہنستا دیکھ، ازلان نے اپنے چہرے کا رخ بدلا تھا۔ کہ کہیں اس کو نظر ہی نا لگ جائے۔مگر ساری کارروائی یاد کر کے ازلان کو بھی بہت ہنسی آئی تھی۔ مگر ظاہر ہونے نہیں دیا تھا۔ پیچے نایاب ابھی تک پاگلوں کی طرح منہ کھولے بیٹھی تھی۔

” پاگل ہو پوری کی پوری کالی بلی “ازلان سر جھٹک کر بولا تھا۔

“سو تو ہے، زکوٹا جن”انمول نے زبان چڑاتے ہوئے کہا تھا۔

🖤
🖤
🖤
🖤

احمر ،علی اور سبھی لوگ کافی دیر سے ازلان، مانو اور نایاب کا ریسٹورنٹ میں ویٹ کر رہے تھے۔جو کہ داخلی دروازے سے داخل ہوتے ہوئے نظر آئے تھے۔

” کہاں رہے گئے تھے تم سب ” علی نے فکرمندی سے پوچھا تھا۔تو ازلان نے مختصر سا بتایا۔ مگر مانو نے اپنا کارنامہ پورا بتایا تھا۔ جہاں سبھی پیٹ پر ہاتھ رکھے ہنسی سے لوٹ پھوٹ ہو رہے تھے۔ وہیں ازلان خجل سا ہوگیا تھا۔

“اچھا بس کرو سب اور آڈر دو” علی نے آنکھیں دکھائیں تھیں۔ اڈر دینے کے بعد مانو پورے ریسٹورنٹ کا جائزہ لے رہی تھی۔ اس کی نظر اپنی دائیں جانب ٹیبل پر رکی تھی۔

سامنے ہی اپنے باپ، دادا انکل پر نظر ٹھہری تھی۔” سامنے دیکھو سب، یہاں تو بابا جانی، ابراہیم دادو، حسن انکل، اور دادو جان بھی ہیں”۔مانو چمکتی آنکھوں سے بولی تھی۔

” ہاں ہم نے ابھی دیکھا ہے۔”داریان نے جواب دیا تھا۔

مصطفٰی صاحب کی نظر انمول کی طرف اُٹھی تھی۔تو مانو نے چمکتی آنکھوں سے دیکھا اور پھر ہاتھ ہلایا تھا۔ تو مصطفٰی صاحب نے سر ہلا کر جواب دیا تھا۔لیکن پھر اپنی میٹنگ کی جانب متوجہ ہو گے تھے۔

مانو نے ایک بار پھر ہاتھ ہلا تھا۔ جب کہ اب جبران صاحب مسکرائے تھے۔ مگر اچانک ہی مانو کہ مسکراتے ہوئے چہرے پر ڈر کے سائے لہرے تھے۔پھلے ہوئے لب جانے کب کے سکھڑ چکے تھے، مانو کا کھلا ہوا،چہرہ پل میں سفید پڑ چکا تھا۔سالار مسلسل انمول کی بدلتے تاثرات دیکھ رہا تھا۔مگر کچھ اندازہ نہیں لگا پا رہا تھا۔

ٹھاہ !!!

ریسٹورنٹ میں اچانک سے گولی چلی تھی۔ دوسری طرف انمول بھاگی تھی۔

جاری ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *