Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode44

December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode44

•••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••
“ارے واہ یہ بریانی تو بڑی زبردست ہے. “…انوشیر چمچ منہ میں رکھتے ہوئے بولا….
” ہاں عروہ کهانا بہت اچها بناتی ہے. “..وہ نگاہیں جهکا گئی اس نے کبھی اچها کهانا نہیں بنایا تها..بس گزارے کا ہی بناتی تهی اور پہلی بار اسے اپنی یہ کمزوری بری لگ رہی تھی. ……..
” زبردست. .اگر عروہ نے بنایا ہے تو اس بریانی کو مزیدار ہونا ہی تھا. ..”اس نے ایک نگاہ انوشیر کو پهر عروہ کو دیکھا. .دونوں مسکرا رہے تھے. .چمچ اس کے ہاتهوں سے چھوٹ کر پلیٹ میں جا گرا…کهیر کا ذائقہ اچانک کڑوا ہو گیا…اس کے سامنے رکها ہوا کوک کا گلاس مزید سیاہ ہو گیا…اس نے گرم چاولوں سے اٹھتے بهاپ کو دیکھا اس بهاپ کے اس پر انوشیر اسے دهندلا دکهائی دیا…اچانک اسے سب چیزوں سے نفرت ہونے لگی اس کا دل چاہا وہ سب کچھ اٹها کر پھینک دے….ہر شے سے وحشت ہونے لگی……..دل میں ایک آگ لگی ہوئی تهی..اس نے آگ بجھانے کے لئے کوک کا گلاس اٹهایا…..
انوشیر اور عروہ ابهی بھی مسکرا رہے تھے وہ ان کی نگاہیں دیکھ رہی تهی..ان کی ہنسی میں کانٹوں جیسی چهبن تهی…جیسے وہ سب کو بے وقوف بنا رہے ہیں. ..وہ تیزی سے وہاں سے اٹهی….اور انوشیر کے سر پر جا کر کهڑی ہو گئی…..
” یہ سب کیا ہو رہا ہے. .تم لوگوں کو کیا لگتا ہے تم اس طرح مجھے بے وقوف بنا لو گے اور مجهے کچھ نظر نہیں آئے گا. .اور عروہ تم ..؟.. ڈائن بھی سات گهر چهوڑ کر وار کرتی ہے اور تم نے اپنی ہی بہن کے شوہر پہ قبضہ جمایا.”
.اس نے جنونی انداز میں ٹیبل پہ پڑا ہوا چاقو اٹهایا اور عروہ کے پیٹ میں گهونپ دیا… .سب اسے دیکھتے رہ گئے. ..اس کے ہاتھ کانپ رہے تھے. …
” آیت…..”.اس نے اپنی ماں کی آواز سنی….
“آیت بیٹا سب ٹھیک تو ہے تم کانپ کیوں رہی ہو.” …اس کے منہ نے اسے جھنجھوڑا اور وہ حواسوں میں لوٹ آئی. .عروہ اور انوشیر اسے ہی دیکھ رہے تھے ..وہ کچھ نہیں بولی. .سب ویسے تها…وہ ایک خیال تها اس نے سر جهٹک کر سب کچھ بهلانے کی کوشش کی …
تم ٹھیک ہو آیت….انوشیر کی تشویش بهری آواز سنائی دی اسے…..
” ہاں میں ٹھیک ہوں “..وہ بہ مشکل بول پائی. ..
“آئی تهنک مجهے ریسٹ کرنا چاہیے”. ..وہ وہاں سے اٹھ کر کمرے میں چلی آئی. ………
” تو کیا میرا شک سہی تها وہ سب کچھ ویسے ہی تها جیسا مجهے نظر آ رہا تها..اتنا بڑا دھوکہ. .ایک بار پھر سے…عروہ آپی بھی “….اسے یقین آیا وہ چہرے نہیں پڑھ سکتی…..
[ دسمبر لوٹ آنا تم تحریر ناصر حسین]
_ __ __ _ _ __ _ __ __ __ __ __ __ __ _ _ __
اس وقت وہ ہاسپٹل میں انوشیر کے ساتھ بیٹهی تهی..اسے کچھ کمزوری ہو رہی تھی. .وہ دونوں بنچ پر بیٹهے تهے ..وہ ایک چھوٹا سا کلینک تها..
پریشانی کی بات نہیں ہے ..تھوڑی بہت کمزوری محسوس ہوگی اس کے لیے میں کچھ وٹامنز دے رہی ہوں انشاءاللہ سب ٹھیک ہو جائے گا. ..اس گائنا کالوجسٹ نے انہیں تسلی دی…..وہ مایوس تهی انوشیر نے اس کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لے کر اسے حوصلہ دینے کی کوشش کی. .اسے ہاتھ کا لمس محسوس نہیں ہو رہا تھا. .وہ خاموش نگاہوں سے انوشیر کو دیکھتی رہی……
تھوڑی دیر بعد ایک نرس آئی اس کے ہاتھ میں ایک انجکشن تها….
” یہ انجکشن کس کے لیے ہے…”؟ انوشیر نے پوچها…
” آپ کی مسسز کے لیے. …” .نرس نے بتایا….
” اوہ…لیکن یہ تو بہت تکلیف دے گا..” ..نرس نے بے نیازی سے ابرو اچکائے…..
” کیا کوئی اور طریقہ نہیں ہے. .”..
” کس چیز کے لیے. .”…
” انجکشن لگانے کے لیے. “.
” انجکشن تو وینس میں ہی لگانی پڑے گی” …نرس حیران ہو رہی تھی. . .وہ ان دونوں کی گفتگو سے لاتعلق نظر آ رہی تھی ……
” کیا ایسا نہیں ہو سکتا آپ یہ انجکشن مجهے لگا دیں اور فائدہ انہیں پہنچے…”.نرس چونک کر مسکرا دی ..آیت نے پہلی بار انوشیر کو دیکھا. .جو کافی سنجیدہ لگ رہا تھا …..
” یہ انجکشن آپ کو لگاتی اگر آپ پریگننٹ ہوتے…لیکن آپ کی وائف پریگننٹ ہے تو انہیں ہی لگانی پڑے گی.”..وہ بری طرح جهنپ کر مسکرا دیا…نرس بھی مسکرا رہی تھی آیت نے دیکها یہ مسکرانے کا موقع ہے تو وہ بھی مسکرا دی….. ..
نرس وینز تلاش کرنے لگی…انوشیر نے اس کا دوسرا ہاتھ پکڑ کر زور سے دبایا…وہ ڈر رہا تھا آیت سے بھی زیادہ. ….نرس اب سرنج لگا رہی تھی. .انوشیر نے آنکهیں میچ لیں آیت نے انوشیر کے سینے میں منہ چھپا دیا…نرس اپنا کام کر چکی تهی..انوشیر نے شکر ادا کیا. ..اب وہ نرس آیت کو ٹیبلٹس کی ٹائمنگ بتا رہی تھی…..
” نائس کپل.”….آخر میں جاتے وقت نرس نے تبصرہ کیا..وہ جانے کے لئے کهڑی ہوئی جب انوشیر کے موبائل پہ کال آئی…وہ کال سننے کے لیے اسے وہاں بٹها کر سائیڈ پہ چلا گیا وہ حیران تهی ایسا پہلی بار ہوا تها جب انوشیر اس سے چهپ کر کسی سے بات کر رہا ہو …..جب وہ واپس آیا تو اس نے پوچھا بھی تها…کس کی کال تهی. …
“ایک دوست کی. “..مبہم سا جواب. .نہ سچ تها نہ جهوٹ..
انوشیر اپنی کار پہ اسے اس کے گاؤں ڈراپ کر گیا…جب وہ گاڑی سے اتر رہی تھی تو اس نے انوشیر سے ایک سکینڈ کے لیے اس کا موبائل لیا تها….اس نے بنا سوچے سمجھے موبائل اس کے ہاتهوں میں دیا تها…وہ کال لاگ اوپن کرنے لگی….سب سے پہلے عروہ کا نمبر تها..اس نے کرب سے ہونٹ بھینچ لیے اب کوئی سچ باقی نہیں تها..سب کچھ سامنے تها…..
وہ بے جان قدموں کے ساتھ لاونج تک آئی اور پرس پھینک کر صوفے پر گرنے والے انداز میں بیٹھ گئی…اس کے چہرے پہ صدیوں کی تهکان نظر آ رہی تهی……
“آپ نے کھبی کسی سے محبت کی ہے. .”.؟ رات سونے سے پہلے اس نے آپی سے پوچها تها..وہ جواباً حیران ہو کر اسے دیکھنے لگی. …..
” محبت. .؟ کیوں پوچھ رہی ہو تم….؟”
” بس یونہی. .”…اس نے نگاہ چرائی…..
“یونہی کیوں…آخر کوئی تو وجہ ہوگی.” .عروہ کو شاید اس پر شک ہونے لگا تھا. ..وہ ظاہر نہیں کرنا چاہتی تهی کہ وہ حقیقت تک رسائی حاصل کر چکی ہو… .
” ویسے پوچھ لیا…مطلب کالج میں یا یونیورسٹی میں کھبی کوئی پسند آیا ہو یا اسے آپ پسند آئے ہوں”….وہ سوچ سوچ کر بول رہی تهی…..
” نہیں ایسا کچھ بھی نہیں ہوا..مجهے کالج یونیورسٹی میں کهبی کسی سے محبت نہیں ہوئی….اور اگر کسی کو مجھ سے ہوئی ہے تو میں نہیں جانتی اس بارے میں ..چلو اب سو جاو…”عروہ نے لائٹ کو آف کر دیا…یہ اس بات کی طرف اشارہ تها اسے مزید بات نہیں کرنی اس ٹاپک پہ…..وہ بھی سونے کے لیے لیٹ گئی چہرے پر گہری اداسی کے نشان تهے……….
اگلی صبح جب وہ بیدار ہوئی…تو عروہ اسے بیڈ پہ نظر نہیں آئی…لیکن اسے حیرت نہیں ہوئی کیونکہ وہ صبح جلدی اٹھ کر سب کے لئے چائے ناشتہ بناتی تهی وہ گهر کے کاموں میں سست تهی…عمارہ بیگم کئی بار اس سے کہتی بهی تهیں لیکن اس گهر کے کاموں میں کهبی دلچسپی محسوس نہ ہو سکی…نومبر کے آخری دن چل رہے تهے سردیوں کی آمد شروع ہو چکی تھی. ….کمبل ہٹا کر وہ واش روم میں گئی….منہ دھوتے ہوئے آئینے کے سامنے کهڑی لڑکی کو وہ نہیں پہچان سکی. ..آنکهیں کافی سرخ تهیں..وہ برسوں پرانی مریض لگ رہی تھی. .تولیے سے منہ صاف کرتی وہ ناشتے کے لئے نیچے چلی آئی…..ناشتہ وہ ایک ساتھ نہیں کرتے تھے ابو چونکہ اکثر باہر ہوتے تهے اور امی کهبی جلدی تو کهبی دیر سے کرتیں….اور وہ دونوں بھی اپنی اپنی مرضی سے ناشتہ کرتی تهیں…
وہ عموماً ناشتہ کچن میں کرتی تهی اور آج بھی حسبِ معمول وہ کچن کی طرف چلی آ رہی تھی جب اندر سے آتی عروہ کی آواز سن کر اس کے قدم رک گئے …….
” آپ سے مل کر میں بہت خوش ہوئی تهی..”…وہ کسی سے فون پہ بات کر رہی تهی…
” اس دن جب میں نے آپ کو ہاسپٹل میں دیکها تها تو مجهے تو یقین ہی نہیں آیا میں آپ کو دیکھ رہی ہوں”….
اس کے کانوں میں طلسم توڑا گویا تها…یقین ٹوٹتا جا رہا تھا. .وہ اپنے قدم بڑھاتی آگے نہیں پیچھے جا رہی تھی. ..گهر کی ایک ایک چیز اس پر ہنس رہی تھی اس کے آنسو نہیں تهم رہے تھے…….وہ خود ایک بار پھر لنڈن کے اس بھیانک جنگل میں دیکھ رہی تھی. جہاں پوجا نے اسے تنہا چهوڑا تها….یا اس کلب کے شراب زدہ کمرے میں بند….جہاں مائیکل نے اسے بند کر دیا تها….اسے لگا وہ خوفناک منظر ایک بار پھر سے آنکھوں کے سامنے آ گئی وہ قبر جیسی زندگی اس کا پیچها نہیں چهوڑنے والی تهی. ..یہ کیسی حقیقت تهی جو وہ کھلی آنکھوں سے دیکھ رہی تھی. ……
بہن کا رشتہ تو کتنا عظیم ہوتا ہے جب یہی رشتہ ہی بھروسے کے قابل نہیں تو انسان کس پر بهروسہ کرے…آج رشتے اپنا اعتبار کهو رہے تهے….وہ واپس کمرے میں آ کر اوندھے منہ لیٹ گئی.. ..بات کچھ اور ہے….کیوں نہیں بتا رہے وہ اسے آخر کیا چهپا رہے ہیں کیا انوشیر اس لیے اس پہ ترس کها رہا ہے وہ پریگننٹ ہے ایسے میں ایسی کوئی تکلیف نہیں دینی چاہیے. ..
لیکن انوشیر ایسا کیسے کر سکتا ہے میرے ساتھ وہ مجهے اتنی بڑی تکلیف کیسے دے سکتا ہے وہ تو بہت پیار کرتا ہے مجھ سے. …وہ روتے ہوئے سوچ رہی تھی. …..
ہو سکتا ہے آپی سے وہ بہت پہلے محبت کرتا ہو اور پهر وہ ایک دوسرے سے نارض ہو گئے ہوں یا بچهڑ گئے ہوں …اور تب اسے میں ملی اور وہ مجھ سے محبت کرنے لگ گیا…اور آج برسوں بعد آپی اسے پھر مل گئی ہوگی…وہ خوش ہوگا اور میں. میرا کیا… …؟
[ دسمبر لوٹ آنا تم تحریر ناصر حسین]
______ ___________ __________ _____
اب اس آنکھ مچولی کے کھیل کو ختم ہو جانا چاہیے. .اب اسے صاف صاف سب پتا کرنا ہی ہوگا…یہ سب آخر ہے کیا…آپی اور اس کا رشتہ کیا ہے. .ایک ایسا رشتہ جسے وہ اپنی محبت سے بھی چهپا رہا تھا. …کوئی نہ کوئی تو فیصلہ ہو جانا چاہیے. …آر یا اس پار…اس نے اگلے دن روتے ہوئے انوشیر کو میسج کیا….جس میں اس نے لکها وہ اس سے ملنا چاہتی ہے. …وہ اس کے آمنے سامنے بیٹھ کر بات کرنا چاہتی تھی تا کہ کچھ بھی ابہام باقی نہ رہے. انوشیر کا جواب آیا….
آج ایک دوست کے ساتھ ڈنر ہے کل کو ملیں گے…اس نے موبائل غصے سے بیڈ پہ پھینک دیا….وہ جلد سے جلد یہ معاملہ ختم کرنا چاہتی تهی. ……
اس کے دل کا اضطراب بڑهتا ہی جا رہا تھا اس کا سکون ختم ہو گیا تھا. .وہ ساری رات روتی رہی..دور سے روشنی کی ایک کرن جو نظر آ رہی تھی وہ آخر مرجھا گئی. .وہ سب گهل ہو گیا…وہ گهپ اندھیرے میں پڑی تهی جہاں اسے اپنے وجود سے بھی ڈر لگ رہا تھا. ..مٹھی سے سب کچھ پهسلتا دکهائی دے رہا تھا اس نے اپنے پیٹ پر ہاتھ رکها….اسے ایک زندگی کا احساس ہوا….لیکن خود اس کی زندگی کیوں ختم ہو رہی تھی. ……عروہ کمرے میں چلی آئی اس نے بڑی تیزی سے اپنے آنسو صاف کیے. ..عروہ ہیل کے سٹرپ بند کرنے لگی اس کی تیاری سے ایسا لگ رہا تھا جیسے وہ کہیں جا رہی ہو…….
” کہاں جا رہی ہو آپی..”.اس کے لہجے میں طنز پیدا ہو گیا..
” ایک دوست کے ہاں ڈنر پہ…”..اس پہ بم گر گیا..عروہ کہہ کر باہر نکلی..انوشیر بھی کسی دوست کے ساتھ ڈنر کی بات کر رہا تھا اور یہ بھی ڈنر کی بات کر رہی تھی. ..وہ بھی دوست کہہ رہا تھا یہ بھی دوست کہہ رہی تھی. .دونوں کے جواب مبہم تهے..نہ وہ اسے سچ بتا رہا تھا اور نہ ہی آپی..سچ کیا ہے یہ وہ آج جاننا چاہتی تهی……وہ آنسو صاف کر کے نیچے آئی ..عروہ گاڑی نکال کر نکل چکی تھی وہ دوسری گاڑی میں بیٹهی اور عروہ کا پیچها کرنے لگی. .اس کی گاڑی عروہ سے کچھ ہی فاصلے پر تهی اس نے بڑی شدت سے دعا کی وہ جو سوچ رہی ہو ایسا نہ ہو….وہ انوشیر سے نہیں کسی اور سے ملنے جا رہی ہو….عروہ کی گاڑی شہر کے ایک بہت بڑے ریسٹورنٹ کے سامنے رکی اس نے بھی اپنی گاڑی روک دی…عروہ گاڑی سے نکل کر اس ریسٹورنٹ کے اندر داخل ہو چکی تھی. ……وہ بھی چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتی اس کے پیچھے گئی . ..عروہ اس ٹیبل کی طرف بڑھی جس کے سامنے پہلے ہی ایک شخص کهڑا تها..اس نے آنکھوں سے دھند ہٹا کر دیکھنے کی کوشش کی. .وہ شخص. ….
ریسٹورنٹ کی چهت اچانک اس کے سر پہ آ گری..کون کیا کہہ رہا تھا وہ نہیں سن رہی تھی. .شور تھا بہت شور آوازیں تهی بہت زیادہ …لیکن اس نے زندگی میں پہلی بار ایک سناٹا محسوس کیا. .منہ پر ہاتھ رکھ کر روتے ہوئے وہ باہر نکلی اور گاڑی میں آ کر بیٹھ گئی…..
ہوا میں جیسے آکسیجن کی کمی ہونے لگی ہو اسے سانس لینا مشکل لگ رہا تھا. .اندر سے چهنک کی آواز آئی کچھ ٹوٹا تھا شاید. ..کچھ اندر ہی ..شاید وہ دل تها..
وہ تیز رفتار کے ساتھ گاڑی دوڑاتی گهر پہنچی…اور اپنے کمرے کا دروازہ تیزی سے بند کر بستر پر لیٹ گئی. .کیا سب کچھ یونہی ختم ہو جاتا ہے اتنی جلدی. . وہ روتی رہی کافی دیر تک. ..اس کی آنکھیں سوجھ گئیں…اسے آپی کے آنے کا انتظار تها وہ ان سے آج سبھی جواب چاہتی تهی وہ سب کچھ جاننا چاہتی تهی…وہ اس دھوکے اور جھوٹ پر سے پردہ اٹھانا چاہتی تهی… ..عروہ ڈیڑھ گھنٹے بعد آئی اس وقت وہ رو رو کر تهک چکی تهی..اس کی آنکھیں بالکل خشک تهیں…وہ بس عروہ کو ہیل اتارتے دیکھ رہی تھی. .عروہ خوش نظر آ رہی تھی وہ عروہ کے پاس چلی آئی. …..
“کہاں گئیں تهیں آپ آپی. .”…؟ اس نے عروہ کی آنکھوں میں دیکھ کر سوال کیا….
” ڈنر پہ بتایا تو ہے….”
” کس کے ساتھ کیا تها آپ نے ڈنر.”..؟ اس کے لہجے میں تلخی گهل گئی…
” ایک دوست تها..”.عروہ نے جهوٹ نہیں بولا…
“کہیں اس دوست کا نام انوشیر رضا تو نہیں تها.”..عروہ کے چہرے پہ ایک رنگ آیا…اس نے نگاہیں چرائیں البتہ جواب نہیں دیا …..
“میں نے کچھ پوچھا ہے. .؟ جس کے ساتھ آپ ڈنر کر کے آئیں ہیں وہ انوشیر ہی ہے ناں….”؟ وہ ہزیانی انداز میں چلائی….پورے کمرے میں اس کی آواز سنائی دی..عروہ اس کی باتوں سے زیادہ اس کے لہجے پہ حیران ہوئی …..
“ہاں وہ وہی تها. “…اس نے مدهم آواز میں کہا ….
“کیوں آپی…کیوں کیا آپ نے میرے ساتھ ایسا…میں تو آپ کی سگی بہن تهی ناں پھر کوئی اپنی بہن کے ساتھ یہ سب کرتا ہے. “….وہ روتے ہوئے عروہ سے شکوہ کرنے لگی…..
“”نہیں آیت ایسا کچھ بھی نہیں ہے.” ..عروہ صفائی دینے کی کوشش کر رہی تھی. …
“جهوٹ مت بولیں..میں سب کچھ اپنی آنکھوں سے دیکھ اور سن چکی ہوں”….
” لیکن آیت میری بات تو سنو”…..
“آپ لوگ میری آنکھوں میں دهول جهونک رہے ہو ..آپ کو کیا لگتا ہے مجھے کچھ پتا ہی نہیں چلے گا..”….
“آیت ایسا نہیں ہے میری جان.”.وہ نہیں سن رہی تھی.
“اس دن ہاسپٹل میں بھی انوشیر نے آپ کو اشارہ کر کے بتانے سے منع کیا تها…اور میں نے آپ کو فون پر اس سے باتیں کرتے ہوئے بھی سنا. .کیا سب جهوٹ ہے…”.؟
“نہیں نہیں. ..تم غلط سمجھ رہی ہو آیت. ..میری بات تو سنو..”
” میں غلط سمجھ رہی ہوں سب اپنی آنکھوں سے دیکھ چکی ہوں..جهوٹ بولنے کی کوشش بھی مت کرنا..”..
” لیکن آیت ایک منٹ میری بات سنو…”..
” مجھے کچھ نہیں سننا…بتاو کیا ہے تم دونوں کے بیچ میں کب سے ہے تم دونوں کا یہ” …..اس کی بات پوری نہیں ہوئی عروہ نے ایک زور دار تھپڑ اس کے گالوں پہ مار دیا…عروہ کا چہرہ غصے سے لال ہو چکا تها..عروہ کو دیکھتے ہوئے پہلی بار آیت کو احساس ہو رہا تھا وہ پھر کچھ غلط سمجھ بیٹهی ہے…….
“چپ کرو….بند کرو اپنی بکواس ….کب سے بولے جا رہی ہو….تم…تم ایسا سوچ بھی کیسے سکتی ہو…وہ میرے چھوٹے بھائی جیسا ہے. “……..
آیت نے پهٹی نگاہوں سے عروہ کو دیکھا. .جو اب رو رہی تھی. …وہ بھی رو رہی تهی…..
” تمہیں کچھ نظر نہیں آتا تو اس کا مطلب یہ نہیں ہے تم کچھ بھی سوچو گی تم اب کچھ دیکھ کر اپنی مرضی کی کہانی بنانے لگ گئی… میں نے انوشیر کو پہلی نظر میں دیکھتے ہی پہچان لیا تھا کیونکہ میں چہروں کا شناخت رکھتی ہوں…اور تم اسے ایک بار بھی نہیں پہچان سکیں.. اس نے مجھے بتانے سے منع کیا تها تا کہ تم خود اسے پہچناو.تم پتا ہے وہ کون ہے. .؟”……
آیت خاموشی سے عروہ کو دیکھنے لگی….
” وہ انوشیر رضا نہیں ہے وہ روحل آفتاب بھی نہیں ہے وہ تو رام ہے……تمہارے بچپن کا دوست. …
بلی جیسی آنکھوں والا. . … یاد ہے تمہیں. …آیت ہل تک نہ سکی. ….
جاری ہے. ……

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *