Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode07

December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode07

““““““““““““““““““““““““
دس بجنے میں پندرہ منٹ باقی تھے. ..آیت اس وقت سٹی پارک کے ایک بنچ پر بیٹهی تهی …. اور بار بار موبائل پہ ٹائم دیکھ رہی تھی. .وہ اس وقت نیلے فراک میں ملبوس تهی کاندھوں پہ سفید دوپٹہ تها…بالوں کو پونی میں قید کر کے وہ پیچھے کندهے پہ دھکیل چکی تهی. .اس کے چہرے سے ہی اضطراب واضح نظر آ رہا تها. اس نے روحل کو اسی پارک میں ملنے کے لیے بلایا تها لیکن وہ ابهی تک نہیں آیا…اور اس لیے نہیں آیا کیونکہ مقررہ وقت سے وہ بیس منٹ پہلے آئی تهی اور پہلے اس لیے آئی تهی کیونکہ اس کے دل دماغ پہ ایک بوجھ تها……..
[ دسمبر لوٹ آنا تم تحریر ناصر حسین مکمل ناول گوگل پر بھی دستیاب ہے ]
مگر وہ ڈر بھی بہت رہی تهی اسے نہیں معلوم تها آگے کیا ہونے والا ہے وہ جو کرنے آئی تهی وہ کافی حد تک رسکی کام تها لیکن کچھ کام رسک لیے بنا نہیں ہو سکتے. ……
بہرحال یہ تو اسے کرنا ہی تها وہ اپنے لندن جانے والے خواب کے ساتھ سمجهوتہ کهبی نہیں کر سکتی تهی اور حالیہ دور میں اس کی راہ کی رکاوٹ یہی رشتہ تها __
اس نے بے تابی سے ایک بار پھر وقت کو دیکها__صرف پانچ منٹ ہی وقت آگے بڑها __پتا نہیں کهبی کهبی گهڑی کی سوئیاں اتنی سست ہو جاتی ہیں یا انسان بہت تیز ہو جاتا ہے__بہرحال وقت انسان کا محتاج نہیں ہے انسان کو وقت کے ساتھ ساتھ چلنا پڑتا ہے ___
پارک میں بیٹهے لوگ کهیلتے بچے __وہ درخت جس کے سائے تلے وہ بیٹهی تهی پہلی بار ان سب سے وہ الجهن محسوس کرنے لگی__ جب کچھ اچھا نہیں ہوتا تو کچھ اچها نہیں لگتا __
اور اس وقت جب موبائل نے وقت مکمل ہونے کی اطلاع دی تبهی اسے پارک کے دروازے سے ہی ایک شخص اپنی طرف آتا دکهائی دیا ___
جانے وہ کهڑی کیوں ہو گئی __اس کے چلنے کا انداز کافی حد تک متاثر کون تها __آنکهوں پہ سن گلاسز چڑھائے ہوئے تهے اس نے___ ہلکی سی چهوٹی داڑھی اور درمیانہ قد ___کافی گڈ لکنگ تها __لیکن اس حد تک بھی نہیں جہاں تک مما نے تعریف کی __
اس نے پاس آتے ہی اسے سلام کیا سلام کا جواب دینے کے بعد آیت نے اسے بیٹهنے کی آفر کی وہ بے تکلفی سے بیٹھ گیا وہ بھی جهجکتے ہوئے بیٹھ گئی سامنے والا بندہ کافی پر اعتماد نظر آ رہا تها لیکن اسے اپنا اعتماد کیوں رخصت ہوتا نظر آیا وہ چاہ کر بھی پہلے جیسا خود کو ریلکس نہیں کر پا رہی تهی___
دل کی حالت خراب ہوتی جا رہی تهی جو بات وہ کہنے جا رہی تهی اس کے لیے اسے ہر قسم کے ری ایکشن کے لیے تیار ہونا تها_____
وہ اسے سوالیہ نگاہوں سے دیکھ رہا تھا ملنے کے لیے اس نے بلایا تها تو بات بھی اس نے ہی شروع کرنی تهی __اگر وہ لندن کے خواب کو الگ رکھ کر سوچتی تو اس میں بظاہر کوئی خامی نہیں تهی وہ ایک اچها جیون ساتھی ہو سکتا تها __لیکن لندن جانے کا خواب ہر شے کے بیچ میں آ رہا تها _
کچھ سکینڈز اسے دیکهنے کے بعد اس نے گلہ کهنگار کر بات شروع کرنے کی کوشش کی ___اور وہ خود کو پہلے کی نسبت پرسکون کر چکی تهی ___
” دیکهے جو بات میں کہنے جا رہی ہوں ہو سکتا ہے آپ کو عجیب لگے یا آپ کو برا لگے لیکن مجهے یقین ہے آپ میری مجبوری سمجهیں گے “___
بنا تہمید کے ہی اس نے صاف صاف بات کرنے کا فیصلہ کیا تها__وہ غور سے اسے سن رہا تھا اور اس کے منہ سے نکلنے والے اگلے جملے کا منتظر نظر آ رہا تها …
“میں آپ کے ساتھ کوئی رشتہ نہیں بنانا چاہتی …یہ رشتہ میرے گهر والے میری مرضی کے خلاف کر رہے ہیں جس شخص کو میں نے دیکها نہیں جس سے ملی نہیں اس کے ساتھ میں اپنی زندگی کهبی نہیں گزار سکتی”. ……
لمحہ بھر کو وہ رکی اس کے تاثرات دیکهنے کے لیے وہ تهوڑا غمگین نظر آ رہا تها …..لیکن وہ اپنی بات جاری رکهتے ہوئے بولی. ….
” میں ایک پڑهی لکهی لڑکی ہوں اور ہمارے مذہب میں لڑکی کو بھی اپنی مرضی کا شوہر چننے کا اتنا ہی اختیار ہے جتنا ایک لڑکے کو ہے یہ مت سوچیے گا آپ اگر پیچھے نہیں ہٹیں گے تو یہ رشتہ ہو جائے گا ..میں آپ کے ساتھ شادی کهبی بهی نہیں کروں گی اگر آپ منع نہیں کریں گے تب بھی نہیں. …اور مجهے لگتا ہے آپ بھی پڑهے لکهے ان فضول کے جهیملوں میں پڑ کر اپنا وقت ضائع نہیں کریں گے. ..بعد کے مسائل سے بہتر ہے ابهی سے ہی اس راستے پہ نہ چلا جائے جس کی منزل نہیں. …”….
اپنی بات پوری کر کے وہ خاموش ہوئی ….اور اس کے بولنے کا انتظار کرنے لگی ….کافی دیر تک وہ بھی ہونٹ بهینچے خاموش رہا..پهر اس کے موبائل پہ بیپ ہوئی شاید کوئی میسج آیا تھا جسے اوپن کر کے وہ پڑهنے لگا…وہ اس پر سے نگاہیں ہٹا کر بظاہر ادهر ادهر دیکهنے لگی….
” کیا آپ صرف اس وجہ سے یہ رشتہ نہیں کرنا چاہتیں کیونکہ آپ مجهے پسند نہیں کرتیں….”؟ اس نے موبائل واپس جیب میں ڈالتے ہوئے پوچها تها……
” نہیں کیونکہ میں کسی اور کو پسند کرتی ہوں.” …
اس نے سراسر جهوٹ بولا.یہ ترپ کا وہ آخری پنا تها جس پہ اس بازی کی جیت یا ہار کا فیصلہ ہونا تها. ..
اس کے پاس ہی درخت کے اوپر ایک پرندہ پهڑپهڑاتا ہوا زمین پہ آ گرا اور پهر اڑتا ہوا ایک بار پھر خلا سے باتیں کرنے لگا. …اس نے روحل کے چہرے کو مرجهاتے دیکها ….اس نے مٹهیاں بهینچ لیے….اسے غصہ تها یا غم وہ سمجھ نہ سکی…….
” اوکے میں آئندہ آپ کے راستے میں نہیں آؤں گا .”…
وہ اٹھ کهڑا ہوا…وہ بھی پرس سنبهالتی کهڑی ہو گئی اس نے سن گلاسز لگائے جبکہ آیت نے اسے مشکور نگاہوں سے مسکرا کر دیکها…جو اس نے سوچا بھی نہیں تها وہ ہو گیا. ..سامنے کهڑا شخص حساس تها سلجها ہوا تها عقل مند تها یا بے وقوف وہ بالکل بهی نہیں جان سکی …….
وہ ایک قدم الٹا چلتا ہوا گهوما ….آیت کو کچھ یاد آیا…
” چوڑیوں کے لیے تهینکس.” …..وہ جاتے جاتے رک گیا ..اس نے پیچھے مڑ کر دیکھا …
” چوڑیاں. ..”.؟ اس نے سن گلاسز اتارتے ہوئے حیران ہو کر سوالیہ انداز میں لفظ دہرایا……
” ہاں جو وہ آپ نے دیں تهیں مطلب پهینکی تهیں بائی دی وے تهینکس.” ……
اس کے ماتهے پہ بل پڑتے ہوئے دکهائی دیے. ..
” میں نے کوئی چوڑیاں نہیں دی تهیں آپ کو…”اب کی بار حیران ہونے کی باری آیت کی تهی….
جواب دے کر وہ رکا نہیں. ..لمبے لمبے ڈگ بھرتا پارک سے باہر نکل گیا جب کہ وہ وہیں کهڑی تهی..ایک نئی سوچ ایک نئی الجهن کے ساتھ. …؟
پھر سے ایک نیا سوال جنم لینے لگا اگر وہ چوڑیاں اس نے نہیں بهیجیں تو پھر. ……..؟
_ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _
وہ اگر کوئی خواب تها تو کوئی بہت ہی خوبصورت خواب تها اگر حقیقت تهی تو اس سے حسین حقیقت کوئی ہو ہی نہیں سکتی ___لیکن خواب تو بند آنکهوں سے دیکهے جاتے ہیں جبکہ اس کی آنکهیں تو کهلی تهیں اور اسے سب کچھ نظر آ رہا تها …..
اس نے آنکهوں کو مسلتے ہوئے بے یقینی سے سامنے والے منظر پر یقین کرنے کی کوشش کی اور بس ایک لمحہ لگا تها اسے یقین آنے میں____اور اگلے ہی پل اس نے مسکراتے ہوئے دائیں بائیں اپنے ہاتھ ایسے پهیلائے جیسے شاہین اپنے پر پھیلاتا ہے ……….
اور پهر ایڑی پر زور دے کر دائرے کی صورت میں گول گول گهومی….اس کا سیاہ فراک بھی اس کے ساتھ گھومنے لگا……..
” یا ہو…..میں آ گئی لندن. ….” وہ اتنی زور سے چلائی کہ ائیر پورٹ پہ کهڑے سیکڑوں کے حساب سے وہ انگریز اور سیاہ فام لوگ اسے دیکهنے پر مجبور ہو گئے. …وہ انگلینڈ کے سب سے بڑے شہر کی سب سے بڑے ائیر پورٹ کے اندر کهڑی تهی. …….
انگلینڈ کی سر زمین کو وہ اپنے پاوں تلے محسوس کر رہی تهی ….آس پاس گزرتے لوگوں کو اس کی دماغی حالت پہ شبہ ہونے لگا لیکن رک کر اس پاکستانی لڑکی کا تماشا دیکھتے اتنی فرصت کسی کو نہ تهی……..
میں نے کہا تها ناں میں آؤں گی تیری جاگیر پر……
اس نے اتنی ہی زور سے کہا جتنی زور سے وہ چیخ مار چکی تهی …پهر اس کے منہ سے ایک بے اختیار قہقہ گونج اٹھا. …
خواب اتنے بهی حسین ہوتے ہیں اور یوں بھی پورے ہو جاتے ہیں یہ اس نے نہیں سوچا تھا سب کتنا آسان تها …وہ اس وقت اپنے خوابوں کے شہر اپنے سپنوں کے لندن کهڑی تهی…
دنیا کے اتنے بڑے ائیر پورٹ میں ہزاروں انگریزوں کے درمیان میں کهڑی وہ پاکستانی لڑکی سب سے نمایاں تهی اس وقت وہ سیاہ جالی دار آستینوں والے فراک میں ملبوس تهی ….دوپٹہ گردن میں رسی کے انداز میں پڑا ہوا تھا اس کا دراز قد اور پتلی جسامت تقریباً سبهی کو اپنی طرف متوجہ کر رہا تها. ……
مگر وہ سب سے بے نیاز کسی پاگل کی طرح عمارت کے اندر آرائش و زیبائش کو اور وہاں ٹہلتے لوگوں کو دیکهنے میں مصروف تهی….
” Excuse me You are Ayat From Pakistan “
( آپ آیت ہیں پاکستان سے )
اسے اپنے پاس ہی کسی لڑکی کی آواز سنائی دی وہ گهومی اور اس کی نگاہیں اس لڑکی کے چہرے سے ٹکرائیں بے اختیار اس کی چیخ نکلتے نکلتے رہ گئی. ..
وہ کوئی سیاہ فام تهی بڑے بڑے موٹے موٹے ہونٹ..چهوٹے سے بال ….آواز کے علاوہ کسی بھی انداز سے وہ لڑکی نہیں لگتی تهی……
اس کے ہاتھ میں آیت نام کی تختی تهی…
( اف…تو یہ نمونے انگلینڈ میں بھی ہوتے ہیں)
وہ شاید یونیورسٹی کی طرف سے آئی تهی جس میں اس نے اپلائی کیا تها…
وہ سیاہ فام لڑکی آگے آگے چل رہی تهی اور وہ اس کے پیچھے پیچھے چل کم اور ادهر ادهر زیادہ دیکھ رہی تھی …کئی بار وہ لوگوں سے ٹکراتے ٹکراتے بچی تهی ………پهر وہ ائیر پورٹ کے اندرونی احاطے سے باہر نکل آئے….
[ دسمبر لوٹ آنا تم تحریر ناصر حسین مکمل ناول گوگل پر بھی دستیاب ہے ]
اس نے سر اٹها کر اوپر کی طرف دیکها کئی گهنٹوں بعد اسے آسمان دیکهنا نصیب ہوا تها….آسمان بالکل ویسا تها جیسے پاکستان میں ہوتا تھا اور یہ وہ واحد چیز تهی جو مشابہت رکهتی تهی ورنہ وہاں کی ایک ایک چیز مختلف تهی….
اس کا دل چاہا زور سے چیخ چیخ کر آسمان کو بتا دے میں انگلینڈ آ گئی ہوں. ..کالے بادلوں کو . ..اڑتے پرندوں کو ……لندن کی بڑی بڑی عمارتوں کو……
پهر اس نے ایسا کیا بهی..جانے کیوں وہ خود بھی قابو نہ رکھ سکی اور اس کے منہ سے نکلنے والی چیخ لندن کی فضا میں گونج اٹهی……
اس سیاہ فام لڑکی نے مڑ کر تشویش سے اسے دیکها. .یہ پاکستانی اس کے لیے ہمیشہ عجیب ہوتے تھے. .
” What Happened. ..?”
اس نے ناگواری سے پوچها……
” Nothing. …”
وہ خجالت سے مسکراتی گاڑی میں آ کر بیٹھ گئی حالانکہ ابهی اس کا قید ہونے کا کوئی ارادہ نہیں تها وہ وہاں کی ایک ایک چیز کو چهو کر محسوس کرنا چاہتی تهی. …لیکن خیر ابهی بہت وقت تها لندن کو دل اور آنکهوں میں قید کرنے کے لیے. …….
لندن اس کا خواب تها اور یہ اس خواب کی تعبیر. .ایک ہفتہ پہلے جب اس نے روحل کو رشتے کے لیے منع کیا تھا تو گهر میں اس موضوع پہ دوبارہ بات نہیں کی گئی اسے سر سے منوں بوجھ ہٹتا دکهائی دیا …گلے کا کانٹا وہ نکال چکی تهی لیکن لندن جانے والی بات ابهی بهی وہیں کهڑی تهی…مما نے وعدہ کیا تھا وہ ابو سے بات کریں گی لیکن بات کرنے کی ان کی ہمت ہی نہیں ہو رہی تهی ابو ہمیشہ سے ہی کچھ سخت مزاج اور غصیلے تهے…
مما بہت ڈرتی تهیں ان سے. ..لیکن وہ اٹهتے بیٹهتے مما کو ان کا وعدہ یاد دلاتی بہرحال ایک دن عمارہ بیگم نے اپنے اندر ہمت پیدا کر کے بات کرنے کی ٹهانی. ..
وہ ان کی بیٹی تهی اور سب سے پیاری بهی والدین اولاد کی خوشی کے لیے آخری حد کو بهی چهو لیتے ہیں تو وہ کیوں نہ کرتیں…. اولاد کی محبت ہے ہی ایسی ظالم شے… ..
مگر جس دن انہوں نے آیت کے ابو سے بات کی تو ان کی سوچ کے مطابق وہ بهڑک اٹهے…ان کا بهڑکنا لازمی تها وہ اکیلی بیٹی کو بیرون ملک بھیجنے کے بارے میں سوچ بھی نہیں سکتے تھے. ..ہر بات کے بیچ میں ذات برادری حائل رہی….
عمارہ بیگم کافی دیر تک تحمل مزاجی اور رسانیت کے ساتھ ان سے بحث کرتی رہیں ..وہ یہ کہہ کر ان کے دل میں نرم گوشہ پیدا کرنے لگیں. ..
کہ گاوں والے ان پہ فخر کریں گے ان کی بیٹی لندن سے پڑھ کر آئی ہے….
ان کی عزت ہوگی کتنا اونچا نام ہوگا…جس گاوں میں کسی لڑکے نے بھی لندن میں تعلیم حاصل نہیں کی وہاں ہماری بیٹی تعلیم حاصل کر کے ہماری عزت کو چار چاند لگائے گی…..اور بهی کچھ ایسی باتیں وہ ان کے دماغ میں ڈالتی رہیں…شوہر تها ان کا ساری زندگی ساتھ گزرا تھا ان سے بڑھ کر ان کے مزاج کو کون سمجھ سکتا تھا. …..
وہ سوچ میں ضرور پڑ گئے لیکن پوری طرح رضامند نہیں ہوئے ..اور ایسے ہی کچھ دن مزید کوششوں کے بعد انہوں نے ان کو مطمئن کر ہی لیا….آیت اتنی ہی خوش تهی جتنا اسے ہونا چاہیے تھا. ….
اس کی ٹکٹ ہو گئی پاسپورٹ بنا. .یہ سب ایک سپنا لگ رہا تها اسے….اس نے اسی دن سے ہی سامان کو پیک کرنا شروع کیا. ..اس کے قدم گویا زمین پہ ہی نہیں ٹک رہے تهے. …..
اور وقت کی سوئیوں نے زندگی کو تهوڑا آگے دهکیلا اور وہ دن بھی آ گیا جب وہ پاکستان ایئر پورٹ پر کهڑی تهی. ..اسے وداع کرنے اس وقت مما ابو اور اس کی بہن آئے تهے…اسے اس وقت سب کچھ اچها لگ رہا تها. ..آخری بار اسے اللہ حافظ کہتے وقت اس کے باپ نے اسے کرختگی کے ساتھ کچھ نصیحتیں کی تهیں….
تمہیں معلوم ہے آج تک ہمارے خاندان میں کوئی بیرون ملک نہیں گیا ہم تمہیں رعایت دے رہے ہیں اس کا مطلب یہ نہیں تم ہماری عزت اور ہمارے بهروسے کا خون کرو…بہت یقین کے ساتھ تمہیں بهیج رہے ہیں ہمارا یقین کهبی مت توڑنا…..
اس وقت وہ اتنی خوش تهی کہ اسے اپنے باپ کی نصیحت بھی بری نہیں لگی جو اسے ہمیشہ سے ہی برے لگتے تھے. ……
پهر یوں ہوا خوابوں خیالوں میں رہنے والی وہ دیوانی سی لڑکی لندن پہنچ گئی…وہ سیاہ فام لڑکی گاڑی خود ڈرائیو کر رہی تهی اور وہ پچھلی سیٹ پہ بیٹهی منہ کهولے سڑکوں کو اور بڑی بڑی عمارتوں کو دیکھ رہی تھی. ….ٹی وی ڈراموں میں دیکهنا الگ بات تهی لیکن سب کچھ اپنی آنکھوں کے سامنے دیکهنا کس قدر دلکش تها یہ کوئی آیت سے ہی پوچهتا…….
اس کی بڑی بڑی آنکھیں ان خوبصورت مناظر کو اپنے اندر قید کرنے کی کوشش کر رہی تهیں…اسے روڈ پہ ایک چهوٹے بالوں والی بوڑھی نظر آئی….جس نے جینز کے اوپر ٹی شرٹ پہنی تهی وہ اس لباس میں کافی عجیب لگ رہی تهی ..وہ کافی دیر تک اسے دیکھ کر مسکراتی رہی …….
وہ سیاہ فام لڑکی البتہ بے نیازی سے ڈرائیونگ کرنے میں مصروف تهی… دوسرے ملکوں سے آئے لوگ کیسے پاگل ہو جاتے ہیں یہ تجربہ وہ پہلے بھی کافی بار کر چکی تهی خصوصاً پاکستانیوں کے بارے میں وہ کچھ اچهے خیالات نہیں رکهتی تهی……
اور ایسے ہی ایک آدھ بار اس نے بیک ویومر میں سے اس عجیب احمق لڑکی کو دیکها جو ونڈو سے زرافے کی طرح سر باہر نکال کر جانے کیا کھوجنے میں مصروف تهی……..
گاڑی ایک عالیشان اونچی بلڈنگ کے سامنے آ کر رک گئی. وہ منہ کهولے حیرت سے ایسے بلڈنگ کو دیکھ رہی تھی جیسے اس کے سامنے ہزار سال پرانا ڈائنو سار کا مجسمہ رکها ہوا ہو….سیاہ فام لڑکی نے اسے تین بار آواز دی مگر وہ بنا سانس لیے یونیورسٹی کی عمارت کو دیکهے جا رہی تهی. …لندن کی بڑی بڑی عمارتوں کے درمیان میں وہ عمارت ایک شان سے سر اٹهائے کهڑی نظر آ رہی تهی. ..سب سے الگ سب سے منفرد. …
[ دسمبر لوٹ آنا تم تحریر ناصر حسین مکمل ناول گوگل پر بھی دستیاب ہے ]
” ایکسکیوزمی….”..اس لڑکی نے زور سے گاڑی پہ ہاتھ مار کر اسے ہوش میں لانے کی کوشش کی اور وہ ہوش میں بھی مکمل طور پر نہیں آئی اس لیے ونڈو کهول کر نکلنے کی بجائے کهڑکی سے نکلنے کی کوشش کر رہی تهی ….اس سیاہ فام کو وہ واقعی پاگل لگی اس نے ونڈو کو اوپن کیا اور وہ شرمندہ شرمندہ سی باہر نکلی…..
وہ بالکل اس عمارت کے سامنے کهڑی تهی اس عمارت کی قد اس کی قد سے کہیں زیادہ اونچی تهی… جب پیسہ ہو تو کیا نہیں ہوتا…کاغذ کے وہ ٹکڑے واقعی بہت طاقتور تهے…….
پهر اچانک اسے اپنا بیگ یاد آیا وہ دوڑتی ہوئی ڈگی سے بیگ نکالنے لگی جو کافی حد تک بهاری لگی اسے…مما نے ٹهوس ٹهوس کر اس میں جو دنیا جہان کی چیزیں بهری تهیں ان سے بیگ کو بهاری ہی ہونا تها…بیگ کو نکال کر اس نے ایک امید بهری نگاہ سے اس لڑکی کو دیکها .اگر اس وقت وہ یہ سوچ رہی تھی کہ وہ لڑکی بیگ اٹهانے میں اس کی مدد کرے گی تو وہ احمق ترین تهی یہ پاکستان نہیں تها جہاں مروت کے ڈهول پہن کر لوگ ایک دوسرے کی مدد کرتا وہ اس وقت لندن میں کهڑی تهی جہاں جس کا کام اسی کو ساجهے کے تحت کام ہوتا تھا. …..
اس غصے سے گهور کر دیکهنے کے بعد وہ اپنا بیگ گھسیٹی اندر داخل ہوئی …اور اندر آ کر وہ ایک بار پھر برف بن گئی. …ہزاروں فیٹ دور دور تک پهیلا وہ خوبصورت لان ، وہ بڑا سا خوبصورت تالاب ،وہ فوراہ ،وہ خوبصورت سر سبز گهاس ، وہ پهولوں کے باغ …..
آہ کیا منظر تها…وہ بهاری بیگ کو کهینچتی گهاس کے درمیان بنے راستے سے سامنے والی بلڈنگ میں جا رہی تهی .اس عمارت کے اندر بھی کئی اور عمارتیں تهیں آس پاس گهاس پہ بیٹهے ہوئے سٹوڈنٹس آنکهیں اٹها اٹها کر اس پاکستانی لڑکی کو دیکھ رہے تهے. ..
مگر وہ انہیں نہیں اس وسیع و عریض خوبصورت عمارت کو دیکهے جا رہی تهی جو اس کی سوچ سے بھی زیادہ خوبصورت تهی…نیٹ پہ جو تصاویر اس نے دیکهی تهیں وہ تو کچھ بھی نہیں تهیں اس لائیو منظر کے سامنے جو اس کی کالی کالی آنکهیں دیکھ رہی تهیں….
وہ سیاہ فام لڑکی رک رک کر اسے گهور کر دیکهتی اور وہ خجل سے سر جهٹک کر پهر سے چلنے لگتی.
ہونہہ ایک تو بیگ نہیں اٹهاتی کم بخت اور اوپر سے کچھ دیکهنے بھی نہیں دیتی …یہ تو روز دیکهتی ہو گی میں دیکهوں یا نہ دیکهوں اسے کیا پرواہ. …..
وہ بری طرح زچ ہو کر سوچنے لگی…..
وہ اسے دوسری منزل پہ ایک کمرے میں لے آئی…وہ بیگ کے ساتھ اس کمرے تک کیسے پہنچی یہ بڑی لمبی کہانی ہے…وہ کمرہ کافی بڑا اور خوبصورت تها یہ سرسری سا دیکهنے پہ ہی اسے اندازہ ہوا….لیکن پہلے کی طرح وہ منہ کهولے دیکهنے نہیں کهڑی ہوئی بس اس لڑکی سے کچھ انفارمیشن لینے لگی …..
جاری ہے🍁

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *