Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode21

December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode21

•••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••
مدهو رام کو لے کر بهاگ گئی..لیکن بهاگتے وقت وہ یہ بهول گئی تهی اس کے سامنے ایک خطرناک جنگل ہے جس سے زندہ بچ نکلنا ناممکن ہے …..
جو خطرناک طوفان ان کا منتظر تها اس کے بارے میں کسی کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا. .اگلی صبح چوہدری خاندان کی زندگی کی اداس نہیں اداس ترین صبح تهی… جب انہیں مدهو اور رام کے موت کی اطلاع ملی…یہ کوئی خبر نہیں تها ایک تیز دار خنجر تها جو سب کے دل میں پیوست ہو گیا. …زندگی اتنی ظالم اور سفاک کیسے ہو سکتی ہے لمحہ بھر میں انسان سے سانسیں کیسے چهین سکتی ہے. ……
مدهو اور رام کی لاش اس بهیانک جنگل میں ملی تھی جس کے اندر جانے سے لوگ دن کو بھی ڈرتے ہیں وہاں ایسے ہی خطرناک بھیڑیے رہتے ہیں. ..اور ان دونوں کی ہڈیاں دیکھ کر سخت سے سخت دل انسان بھی کانپ جاتا…کچھ بے رحم جانوروں نے ان کے جسم سے سارا گوشت نوچ ڈالا تها اور جو ہڈیاں بچی تهیں وہ بهی جگہ جگہ زخمی نظر آئیں….ان دونوں کی موت ایک ناگہانی آفت تهی…. کسی کے لیے بھی اس بات کو قبول کرنا آسان نہیں تها….دادی کے آنسو ندی کی طرح بہتے چلے جا رہے تھے ..وہ ننها سا شرارتی رام جو ان کی زندگیوں اور گهر کا ایک اہم حصہ تها یوں ان کا ساتھ چهوڑ جائے گا….بس اتنی ہی زندگی لکهوا کر لایا تها وہ اوپر سے. ….جنت کا دل چاہا پهوٹ پهوٹ کر رو دے…کتنا افسوس کتنا دکھ ہوا تھا اسے….رام کو وہ معصومیت وہ بچپن سب کچھ یاد آنے لگا تها اسے….اور مدهو ان کے ساتھ ایسا کیسے ہو گیا….مدهو تو اللہ پر بهروسہ کر کے اپنا سب کچھ چهوڑ کر نکلی تھی پهر اللہ تعالیٰ نے اس کے ساتھ ایسا کیوں کیا…کس گناہ کی سزا ملی تھی اسے….ضرور اس کا یقین ٹوٹا ہوگا ضرور اس نے شرک کیا ہوگا …یا کوئی ایسا گناہ جس کی اسے اتنی بهیانک سزا ملی…….
پچهلی رات کتنی غضب کی رات تھی کسی ایک انسان کو سزا نہیں ملی…اکشے کا پورا خاندان اس ایک ہی رات میں قتل ہوا تھا ..صبح صبح ہی اکشے کے گهر سے کسی لاش کی بدبو آئی…چوہدری افضل نے جب اندر جا کر دیکها تو اکشے کی لاش دیکھ کر ٹهٹک گیا. ….اسے گولی لگی تھی …کل رات انہوں نے گولی چلنے کی آواز سنی ضرور تهی مگر یہ نہیں سوچا تھا اس طرح اکشے کی موت ہوئی ہوگی. …اکشے ایک ہندو تها اور چوہدری صاحب ہندو کے ساتھ کوئی بھی رشتہ نہیں رکهنا چاہتے تھے. …انہوں نے لاش کو وہیں چھوڑ دیا اور گهر کا دروازہ تالا لگا کر بند کیا…..گهر آ کر انہوں نے یہ بات سب کو بتائی یہ بات سب کے لئے حیرانی کا باعث بنی…..ابهی وہ اس حیرت سے نکل نہیں پائے تهے جب رام اور مدهو کی موت کی خبر ان تک پہنچی …یہ خبر پہلے سے بھی زیادہ دردناک تها ان کے لیے. …اور اب جنت سمجھ رہی تھی مدهو کو کس گناہ کی سزا ملی…شاید شوہر کے قتل کی سزا….؟
جو بھی ہو لیکن ان کی موت دل چیر دینے والا انکشاف تها..دادی نے رو رو کر برا حال کر دیا جنت کو آج معلوم ہوا وہ رام سے کتنی محبت کرتی تهیں…مگر افسوس وہ اس کے لیے کچھ کر نہ سکیں…دادی کو حوصلہ تو وہ تب دیتیں جب خود کو سمجهانے میں کامیاب ہوتیں…وہ تو خود ہی اس صدمے سے باہر نہیں نکل پا رہی تهی. …وہ کہانی سننے والا لڑکا ، وہ ان کے ساتھ لکڑیوں پہ جانے والا لڑکا ، وہ شرارتیں وہ یادیں کتنا کچھ تو ادهورا چهوڑ گیا وہ……
وہ دن تو چاہنے کے باوجود بھی بهلائے نہیں جا سکتے..اور زندگی میں ہمیشہ وہی کچھ تو نہیں ہوتا جو سوچا جاتا ہے……
_ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _
وقت گزر جاتا ہے لمحے بیت جاتے ہیں لیکن زندگیوں میں جو خالی پن آتا ہے وہ کهبی نہیں بهرتا….غم کا طوفان آ کر گزر چکا تھا لیکن ان کی زندگیوں کو متاثر بھی کر چکا تها. ..اور سب سے زیادہ ادهورا پن گڑیا کی زندگی میں آیا. ..وہ رام سے نفرت کرتی تهی شدید لیکن بہت اچانک ہی اس پہ یہ انکشاف ہوا وہ کهبی اس سے نفرت نہیں کرتی تهی اس سے کهبی کوئی نفرت کر ہی نہیں سکتا تها…….
اس معصوم بچی کو نہیں معلوم تھا اس کا وہ بچپن کا دوست اس سے یوں چهن جائے گا…انسانوں کی قدر ان کی زندگی کے بعد ہوتی ہے اور ان کی اچهائیاں بهی بعد میں سامنے آتی ہیں. . .اسے یاد تها وہ ہمیشہ رام سے جھگڑے کے بعد اس بد دعائیں دیتی تهی اس کے مرنے کے لیے دعائیں مانگتی تهی مگر وہ یہ نہیں جانتی تھی وہ بد دعائیں اسے لگ بھی جائیں گی. .وہ معصومانہ بچپن کی جنگ تهی جن میں ایسے چهوٹے موٹے جهگڑے تو ہوتے ہی رہتے تھے لیکن وہ سچ مچ اس سے یوں ہر ناطہ توڑ دے گا یہ بات کهبی وہ خواب میں بھی نہیں سوچ سکی..سکول جاتے ہوئے عروج اور گڑیا ہمیشہ اداس ہوتے. ..ان کے زندگی میں ایک بہت بڑی کمی آ گئی تهی..رام نے انہیں تهوڑا نہیں بہت متاثر کیا…
برف کے گهر بنانا ، گڑیوں سے کهیلنا ،چهپن چهپائی ، یہ سب کهیل تو کہیں بہت پیچھے رہ گئے تھے شاید زندگی ہی بہت پیچھے رہ گئی….وہ خوبصورت دن زندگی میں دوبارہ کهبی نہیں آنے تهے….
اس دن آسمان پر بادل تهے گڑیا اکیلی گهر سے باہر نکل آئی…اس کے چہرے اور آنکهوں میں ایک اداسی اتری نظر آئی…شرارتیں کرنے والا ہنسنے ہنسانے والا وہ بلی جیسی آنکھوں والا کہیں بھی نہیں تها…..
وہ چلتے ہوئے بہت آگے نکل آئی..برف چاروں طرف دکهائی دے رہی تهی اسے…ایک وہی نہیں نظر آ رہا تھا. ..وہ جهاڑیاں وہ دسمبر وہ برف سب کچھ تو وہیں تها پهر وہ کیوں نہیں تها وہاں پر. …پوری کائنات ویسے تهی چڑیاں آج بھی اڑتے گنگاتے جهوم رہے تھے بادل آج بھی ویسے ہی آسمان پر تهے پهر بھی کچھ ادهورا تها…ایک کمی تهی بہت بڑی کمی. ..سب سے بڑی کمی…ایک وجود جسے وہاں ہونا چاہیے تھا اس لیے پاس مگر وہ نہیں تها…..
وہ تو صرف مذاق میں ہی اسے برا بهلا کہتی تهی ..اور وہ تو ہمیشہ کے لیے روٹھ گیا….وہ وہیں برف پر بیٹھ گئی…نم آنکهوں سے وہ برف کا گهر بنانے لگی …جب وہ بنا چکی تو اس نے ادهر ادهر دیکها گهر توڑنے والا نہیں تها پهر بھی گهر ٹوٹ چکا تها. …اس نے خود ہی برف کے اس گهر کو مٹا دیا …بچپن کا وہ دوست جو ایک ایک پل اس کے ساتھ تها وہ ہمیشہ کے لیے اسے چهوڑ کر چلا گیا……
” شادی کرو گی مجھ سے. ..”..؟پاس سے ہی کہیں آواز آئی مگر آواز دینے والا نہیں تها….
” تم کہاں ہو بلی جیسی آنکھوں والے .پلیز لوٹ آو میں پهر کهبی تم سے نہیں لڑوں گی پرامس”. …اس کا دل جسے پکار رہا تھا وہ کہیں نہیں تها…اس نے سچے دل سے دعا کی کاش وہ کہیں سے آ جائے اور اسے حیران کر دے کاش وہ کل کا دن لوٹ آئے……
وہ کهڑی ہو گئی .اسے برف سے وحشت ہونے لگی زندگی میں پہلی بار اسے آسمان سے بادل اچهے نہیں لگ رہے تھے. ..زندگی میں پہلی بار وہ اس کے لیے رو رہی تھی جس سے وہ شدید نفرت کرتی تهی…ایسا کیسے ہو سکتا ہے جس سے اس نے ساری زندگی نفرت کی ہو اچانک اس سے محبت کرنے لگ گئی ..یا پهر کهبی اس نے نفرت کی ہی نہیں …….
” یا اللہ پلیز مجهے رام لوٹا دیں…میں آپ کی ہر بات مانوں گی میری صرف یہی ایک بات مان لیں..وہ سجدے میں گر کر جسے میں مانگ رہی تھی وہ وہاں نہیں تها…وہ تو اب کہیں بھی نہیں تها…..وہ چلتی ہوئی تهوڑا آگے آئی….اسے خوبانی کا باغ نظر آیا جس سے وہ ہمیشہ خوبانی چراتے تهے….کل تک وہ کتنی خوش تهی اور آج”….؟
برف کا ایک گولا اس نے ہاتھ میں اٹهایا….اور نیچے پهینک دیا. ….
” دسمبر میں تمہیں معاف کهبی نہیں کروں گی تم نے مجھ سے میرا دوست چهین لیا. .”.اس نے معصومیت سے کہا….ایک بے بسی تهی اس کی آنکهوں میں ..پهر وہ بهاگتے ہوئے واپس گهر چلی آئی…….
شام کے کهانے کا وقت اس کے سامنے کهانا یونہی پڑا ہوا تھا وہ اسے ہاتھ بھی نہیں لگا رہی تھی. ..اور یہ صرف اس دن نہیں ہو رہا تها ہمیشہ سے ہی یہی ہوتا…کهانے میں کهیلنے میں کسی بھی چیز میں اس کا دل نہیں لگتا. …
کهیلنے اور پڑهنے میں بھی اس کا یہی حال تھا وہ بیٹهے بیٹهے کہیں کهو جاتی…پهر جنت کی صبر و استقامت والی لاکھ نصیحتیں بھی اس پر اثر نہیں کرتیں…آم کے درخت سے بندها وہ جهولا آج بھی ویسے ہی لٹک رہا تھا. .کهبی کهبی اسے لگتا اس کے ساتھ ساتھ پوری دنیا اداس ہے. ..وہ جهولا وہ بادل وہ موسم وہ برف سبهی اس لڑکے کو بلا رہے تھے مگر اس نے تو جیسے ضد باندھ لی وہ دوبارہ کهبی لوٹ کر نہیں آئے گا. ..گڑیا روزانہ گهنٹوں بیٹھ کر روتی رہتی اور اللہ تعالیٰ سے دعا کرتی……..
.اس کی یہ اداسی سبهی گهر والے محسوس کر رہے تھے سبهی اسے خوش رکهنے کی پوری کوشش کر رہے تھے لیکن رام کی موت کے بعد وہ ایسے ٹوٹی پهر جڑ نہ سکی….وقتی طور پر سب کو غم تها سب پریشان بھی تهے اب بھی ہیں لیکن دادی اور اس نے تو یہ بات جیسے دل سے ہی لگا لی….
.دادی روتے ہوئے اسے سینے سے لگاتیں اور بہت پیار کرتیں….جس پیار اور لمس کے لیے وہ تمام عمر ترستی رہی وہ آج پا رہی تهی لیکن اسے دادی کی محبت نہیں چاہیے تهی…اسے وہ وقت دوبارہ چاہیے تھا اپنی زندگی میں جب رام دادی اور اس کا جھگڑا کرواتا……
رام ہمیشہ کہتا تها دادی اس سے زیادہ محبت رام سے کرتے ہیں اور گڑیا کو لگا وہ سہی کہتا تھا دادی کهبی اسے اپنے دل سے نکال ہی نہ سکی. …اور وہ خود بھی تو اسے کهبی نہیں بهولی تهی اور نہ ہی کهبی بهول سکتی تهی……
[ دسمبر لوٹ آنا تم تحریر ناصر حسین]
_ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _
” خوبصورت شام کا موسم ____
وہ ڈھلتی رات کا منظر _______
وہ تتلی اور ستارے یوں _____
کهبی ایسے دغا دیں گے _____
وہ برستی برف کا منظر _______
وہ چندن سے ملاقاتیں______
کهبی ایسے دوراہے پر ______
یوں مجھ کو سب سزا دیں گے_____
کهبی ہم نے نہ سوچا تھا______
میرا سب کچھ ادهورا ہے_____
کہ جیون ابهی ادهوری ہے ____
میں تجھ سے التجا کر کے _____
دل سے یوں صدا دے کر_______
اک درخواست کرتی ہوں______
تم میری پکار سن لینا _____
کہیں ایسا نہ کر دینا______
ستاروں کی اس نگری میں _____
نہ جا کر منہ چهپا لینا_______
فقط اتنی سی خواہش ہے______
کهبی تم لوٹ کر آنا _______
دسمبر لوٹ آنا تم_______
دسمبر لوٹ آنا تم________”
جانے والے چلے جاتے ہیں وقت بھی کسی کے لیے نہیں رکتا…اور وقت کی رفتار اتنی تیز ہو جاتی ہے انسان اپنے پیاروں کو بهول جاتا ہے….سبهی بیس دن پہلے ہونے والے سانحہ کو بهول چکے تهے لیکن گڑیا کے دل و دماغ سے وہ سب نکل ہی نہیں رہا تها. ..وہ معصوم چہرہ بار بار اس کی آنکھوں کے سامنے آ جاتا وہ اداس آنکهیں کچھ بھی تو ایسا نہیں تها جنہیں وہ بهول جاتی……..
اس نے خط لکھ کر فولڈ کر دیا..اور خط اٹها کر جنت کے پاس لے گئی..جنت اس وقت آم کے درخت تلے بیٹھ کر کڑھائی کر رہی تهی. ….
” جنت بوا یہ خط کسے دوں..”…؟ جنت نے سر اٹها کر اسے دیکها پهر اس کے ہاتھ میں موجود اس سفید کاغظ کو…
” اس میں کیا ہے اور کس کے نام لکها ہے تو نے یہ خط.”..؟ جنت نے حیران ہو کر سوال کیا…..
جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *