December Lout Ana Tum by Nasir Hussain NovelR50779 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode38
Rate this Novel
December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode01 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode02 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode03 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode04 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode05 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode06 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode07 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode08 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode09 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode10 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode11 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode12 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode13 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode14 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode15 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode16 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode17 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode18 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode19 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode20 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode21 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode22 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode23 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode24 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode25 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode26 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode27 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode28 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode29 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode30 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode31 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode32 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode33 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode34 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode35 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode36 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode37 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode38 (Watching)December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode39 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode40 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode41 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode42 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode43 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode44 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode45 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Last Episode
December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode38
December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode38
•••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••
میں آپ کو کیا بتاؤں آپی…اس نے سب ختم کر دیا میں اس پہ کتنا بهروسہ کرتی تهی اور اس نے سب کچھ توڑ دیا…..اسے ایسا نہیں کرنا چاہیے تها میرے ساتھ. …میں اس سے بہت پیار کرتی تهی اور اس نے میری محبت کی توہین کر دی….آپ کو یاد ہے آپی میں ایک ناول پڑهتی تهی جس کا ہیرو مجهے بہت اچها لگتا تها..وہ بالکل ویسا تها اس سے بھی زیادہ خوبصورت کسی ملک کا شہزادہ لگتا تھا وہ اور. “‘…….
وہ دو گهنٹے سے اپنے کمرے میں آپی کے سامنے بیٹھ کر اسے روتے ہوئے ساری تفصیل بتا رہی تھی شروع سے لے کر آخر تک. …انوشیر سے مدد لینا…پوجا کی کہانی اور کیسے پوجا کی سازش کی وجہ سے وہ مشکل میں پھنسی. …..اور کیسے ان دونوں کو حادثاتی طور پر نکاح کرنا پڑا تها……
عروہ حیرت، افسوس، دکھ کے ساتھ اس کی ساری داستان سنتی گئی….آیت نے سر اٹها کر آپی کو دیکها …لیکن وہ اسے نہیں وہ منہ کهولے دروازے کی طرف دیکھ رہی تھی اس نے بھی نگاہ گهما کر دروازے کی طرف دیکها. ..اور اسے قیامت کی ایک گهڑی نظر آئی…ابو جانے کب سے وہاں کهڑے تهے اور ان کہ کی کتنی باتیں سن چکے تھے ..ان کے چہرے سے لگ رہا تها وہ کافی کچھ سن چکے ہیں. ….وہ غصے سے مٹهیاں بهینچے کهڑے تهے….عروہ آپی کهڑی ہوئی وہ بھی ڈرتے ڈرتے کهڑی ہو گئی. .
ابو نے آگے بڑھ کر اس کے منہ پہ ایک زناٹے دار تهپڑ مار دیا. …
“بے حیا ، بد بخت لڑکی یہی سب کرنے لنڈن بهیجا تها ہم نے تمہیں. …ہم نے تم سے کہا تها ہم تم پر بهروسہ کر کے تمہیں بهیج رہے ہیں اور تو ہماری عزت اپنے قدموں تلے روند آئی .”……
وہ سر جهکائے کهڑی تهی. عمارہ بیگم بھی وہیں آ گئیں…وہ پریشان ہو کر بیٹیوں کو اور شوہر کو دیکهتی ..”ابو آپ ایک بار آیت کی…”..عروہ نے اس کی طرف داری کرنے کی کوشش کی. …
“ہمیں کچھ نہیں سننا. …ہم نے فیصلہ کر لیا ہے ہم اس کے لیے آج ہی لڑکا دیکهیں گے…”.انہوں نے غصے سے کہا…آیت مزید حیران ہوئی. ..تو اس کا مطلب انہوں نے نکاح والی بات نہیں سنی انہوں نے صرف محبت والی بات سنی تهی. ….
“جماعت اسلامی کے گروپ میں ہمارا اتنا بڑا نام ہے ہم اپنا نام ڈوبنے نہیں دیں گے…جلد سے جلد تمہارا رشتہ طے کر کے تمہیں دفع کر دیں گے….اور اگر تم نے کوئی چوں چراں کرنے کی کوشش کی تو تمہاری خیر نہیں. ..آئی بات سمجھ میں. “…وہ دهمکی دیتے باہر نکلے ..عمارہ بیگم بھی ان کے پیچھے پیچھے گئیں.
اور ان دونوں کو افسوس ہونے لگا انہوں نے دروازہ کیوں بند نہیں کیا…..آیت عروہ کے گلے لگ کر رو پڑی..وہ اسے کیا حوصلہ دیتی……
” آپی میں کسی سے شادی نہیں کروں گی”…
“میں اب کیا کر سکتی ہوں ..حالات اتنے سنگین ہیں اور تم ایسے گرداب میں پھنسی ہو میں تمہیں چاہ کر بھی نہیں نکال سکتی….تمہیں پہلے سب کچھ سوچ کے کرنا تها تمہیں اتنا جذباتی ہو کر نہیں سوچنا چاہیے تھا. .ہو سکتا ہے وہ لڑکا کسی اور وجہ سے لندن گیا ہو.. ..تم بنا سوچے سمجھے چلی آئیں..ابو کو نہیں معلوم تمہارا نکاح ہو چکا ہے اور تم کسی ایک کے نکاح میں ہوتے ہوئے کسی دوسرے سے نکاح نہیں کر سکتیں .اور یہ پریگننسی. “……
سب کچھ دهندلانے لگا تها….
“میری بات مانو تو تم ابورشن کروالو .”..عروہ نے اسے مشورہ دیا وہ اس مشورے پر کرنٹ کها کر پیچھے ہٹی ..اس نے اپنے پیٹ پہ ہاتھ رکها اس ننهنے وجود کا کیا قصور جو ابهی اس دنیا میں آیا بھی نہیں تها اسے کس بات کی سزا ملتی……..
“نہیں میں ابورشن نہیں کروا سکتی.؟.”..وہ سسک پڑی
” دیکهو آیت ہمارے پاس اور کوئی راستہ نہیں بچا..یہی وہ واحد راستہ ہے تم ابورشن کروالو اور اس لڑکے سے رابطہ کر کے اس سے طلاق لے لو….بات یہیں پہ ختم ہو جائے گی….ابو ایک بار جو فیصلہ کر لیتے ہیں پهر انہیں کوئی نہیں روک سکتا اگر انہوں نے کہا ہے وہ تمہارے لیے لڑکا ڈهونڈیں گے تو وہ ایسا ضرور کریں گے تم ڈرنا چاہیے حالات کی سنگینی سے.ابهی تک تو انہیں صرف یہ پتا چلا ہے تم کسی لڑکے میں انٹرسٹڈ ہو اگر انہیں یہ معلوم چلا کہ تم نکاح کر چکی ہو اور پریگننٹ ہو تو وہ واقعی تمہارا قتل کر دیں گے……اور وہ لڑکا اس کی کوئی گارنٹی نہیں ہے وہ پاکستان آئے گا بهی یا نہیں. ..اگر وہ کهبی نہیں آیا تو اس نے تم سے رابطہ نہ کیا تو تم کیا کرو گی…..؟ کیا ساری زندگی یونہی گزار دو گی…اس کی یادوں کے سہارے. .ممکن ہے وہ تمہارے لیے پاکستان آ جائے اور یہ بھی ممکن ہے وہ سب بهول جائے…لیکن ہم امکان اور ممکنات کے سہارے نہیں بیٹھ سکتے. “…
سب کچھ بهنور کی زد میں محسوس ہونے لگا تها اسے…سوچنے سمجهنے کے لیے کچھ بھی نہیں بچا تها اب…جو بھی تها لیکن وہ ابورشن نہیں کروا سکتی تهی اور اس بچے کو اس دنیا میں لانا مطلب اپنے لیے ایک طوفان کهڑا کرنے کے مترادف تها……..
“تم اچهی طرح بیٹھ کر سوچو…تمہیں اس رشتے کے بارے میں کیا کرنا چاہیے. ..میرا مشورہ مان لو آیت ..جذباتی ہو کر مت سوچو. ..جو تمہاری قسمت میں لکها تها وہی ہوا…تم ابورشن کروا کے طلاق لے لو…ساری مصیبتیں ختم ہو جائیں گی سب کچھ پہلے جیسا ہو جائے گا اور جو ہو چکا ہے وہ صرف ایک خواب بن جائے گا…اگر تم اسی طرح ضد کرتی رہیں تو اپنا ہی نقصان کر دو…ابهی تمہارے سامنے پوری زندگی پڑی ہے اور اس بے نام بچے کو لے کر تم کهبی آگے نہیں بڑھ سکو گی. ….کس کس کو صفائی دو گی کس کس کے سامنے اپنی داستان دہراو گی…اور کون کون یقین کرے گا تمہاری بات پر. ….تم اسے پیٹ کو چهپا بھی نہیں سکتیں…کچھ ہی عرصے میں تمہارا پیٹ باہر نکل آئے گا تب کیا جواز پیش کرو گی. .. دنیا والوں کے لیے تو تم آج بھی کنواری ہو….اور کنواری کا پریگننٹ ہونا تمہیں معلوم ہے کیا ہوتا ہے. “…؟
” تم جو نکاح کر چکی ہو اس کا کوئی ثبوت بھی نہیں ہے تمہارے پاس. .بنا نکاح نامے کے کون تسلیم کرے گا تمہارے نکاح کو….اور اگر تم ضد کر کے اس بچے کو دنیا میں لے بھی آئیں تو اس بن باپ کے بچے کو کیسے پالو گی…کیسے دنیا والوں کو بتاو گی اس کا اصل باپ کون ہے. …اور کسے دلچسپی ہوگی تم سے ہمدردی رکھنے میں. ..کل جب یہ بچا بڑا ہوگا اور تم سے اپنے باپ کے بارے میں سوال کرے گا تو کیا جواب دو گی اس بچے کو. ..کہاں سے پیدا کر کے لاو گی اس کے باپ کو…..”..
عروہ اسے مستقبل کا بهیانک نقشہ دکها رہی تهی. .سب کچھ آنکهوں کے سامنے تها…منٹوں میں نہیں سیکنڈوں میں وہ اس خوبصورت خواب کے بهنور سے نکل کر خوفناک سچائی میں قدم رکھ چکی تهی. ..
عروہ اسے سوچنے کا وقت دے کر باہر نکل گئی اور وہ آگے کے قیامت کا انتظار کر رہی تھی اصل قیامت وہ نہیں تها جو آ چکا تھا اصل قیامت تو آگے اس کا منتظر تها…..
_ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _
وہ ایک بار پھر خود کو اسی جنگل میں محسوس کرنے لگی. .اسی ریڈ لائٹ ایریا میں. …اس کا دم ایک بار پھر سے گهٹنے لگا. ..یہ بهیانک سچ یوں اس طرح کهل جائے گا اس نے سوچا بھی نہیں تها…
لیکن سوچا تو اس نے بہت کچھ نہیں تها…عروہ کہہ رہی تھی ابورشن اور طلاق اس مسئلے کا واحد حل ہے.
اگر ابورشن اس مسئلے کا آخری حل ہوتا تب بھی وہ ایسا نہیں کرتی. ..اتنی ظالم وہ کیسے ہو سکتی تهی یوں اس طرح کسی کی جان کیسے لے سکتی تهی وہ بھی اپنے خون کا. ..اس کے پیٹ میں اس شخص کی نشانی تهی جو ان سب کا ذمہ دار تها جس کی وجہ سے سب کچھ اس طرح ہوا تها…لیکن وہ صرف اس کی نشانی ہی تو نہیں تهی وہ اس کا خون بهی تو تها. .کوئی اس طرح اپنے خون کو یوں کیسے ختم ہر سکتا ہے. ….
” مما..”…اس کے پیٹ سے آواز آئی…اس نے پیٹ کو چهو کر دیکها. …
“میرا تو کوئی قصور نہیں ہے مجھ کس کے گناہوں کی سزا مل رہی ہے میں نے کیا کیا .”..؟
“نہیں تم نے کچھ نہیں کیا اور میں تمہیں کسی اور کے گناہوں کی سزا نہیں دوں گی…چاہے کچھ بھی ہو جائے تم اس دنیا میں آ کر ہی رہو گے. ..اگر یہ امتحان ہے تو میں یہ امتحان دوں گی. ایک لڑکی کمزور ہو سکتی ہے ایک بیٹی کمزور پڑ سکتی ہے لیکن ایک ماں …ایک ماں کهبی بهی کمزور نہیں پڑے گی.”.
اس دن اس نے اپنے آپ سے وعدہ کیا وہ ابورشن نہیں کرائے گی..اور یہ فیصلہ کوئی معمولی فیصلہ نہیں تها…ایسا کرنے کی صورت میں اسے کافی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا. .سب کا مقابلہ کرنا تها اسے…سب سے لڑنا تها اسے……
وہ انوشیر سے رابطہ نہیں کر سکتی تهی کیونکہ وہ کرنا بھی نہیں چاہتی تھی. .کیوں گرتی وہ اس ظالم شخص کے قدموں میں جس کی وجہ سے آج وہ ان حالات سے دو چار ہوئی….چاہے کچھ بھی ہو جائے وہ کهبی اس سے رابطہ نہیں کرے گی اب…
گهر میں شادی اور پریگننسی والی بات صرف عروہ کوئی معلوم تهی اور وہ اسے وقتاً فوقتاً ابورشن کا مشورہ دیتی. .وہ جانتی تهی ابورشن اس مسئلے کا آخری حل ہے لیکن پهر بھی وہ یہ نہیں کرنا چاہتی تهی. …وہ جانتی تهی اگر ابو کو معلوم چل گیا تو وہ اسے گهر سے نکال دیں گے یا اس کا قتل کر دیں گے. ..اور اسے یہ بھی معلوم تها کچھ ہی مہینوں بعد اس کا پیٹ ظاہر ہو کر باہر آئے گا تب اس حقیقت کو چهپانا مشکل ہو جائے گا. ..مستقبل اسے بہت بهیانک نظر آنے لگی…خوابوں اور خیالوں میں رہنے والی وہ البیلی سی لڑکی تقدیر کی زد میں اچانک تهی …ہنسنے گانے کهیلنے اور چاند سے باتیں کرنے والا وہ دور تو بہت پیچھے رہ گیا. ..زندگی خوابوں خیالوں سے ہٹ کر ہے اور جیسا ناولز میں ہوتا ہے سب سہی..سب کچھ اچها..ویسا اصل زندگی میں نہیں ہوتا. .اصل زندگی میں معجزے نہیں ہوتے یہاں اپنے دم پہ اپنے بازوؤں سے لڑنا پڑتا ہے. ..یہاں آپ کو ہر مشکل سے بچانے کے لیے کوئی ہیرو نہیں آ جاتا. …….
وہ اس وقت زندگی کے مشکل ترین دور سے گزر رہی تھی. .حالات بے قابو ہوتے جا رہے تھے ..وقت کچھ اور آگے بڑهتا جا رہا تها. .وقت کو وہ وہیں روکنا چاہتی تهی .کسی برف کی طرح جما کر. .لیکن وقت اس کے ہاتهوں میں نہیں تها ..اور وقت کی رفتار کے ساتھ ساتھ اس کے مسائل میں بھی اضافہ ہوتا جا رہا تها. .اس کا پیٹ تهوڑا سا باہر نکلنا شروع ہوا تها….ابو اس کے لیے رشتے ڈهونڈ رہے ہیں یہ بات وہ اچهی طرح جانتی تهی. ..وہ جماعت اسلامی کے ایک اہم رکن تهے جو لوگوں کو دین سکهاتے تهے….اور لوگوں کو صراط مستقیم پر چلنے کا طریقہ بتاتے تهے…وہ کهبی بهی اپنے گروپ کے سامنے اتنی بڑی ذلت کا سامنا نہیں کر سکتے تهے…ان کا مقصد صرف ایک ہی تها وہ جلد از جلد آیت کی شادی کر دیں اس سے پہلے وہ ان کی بے عزتی کا باعث بنے……
گهر میں اس کا ابو سے سامنا کم ہی ہوتا. .کهبی کهبی کهانے کی ٹیبل پر وہ نظر آ ہی جاتے اور اسے حقارت سے دیکهتے وہ بھی ان سے نگاہیں نہیں ملا سکتی تهی. ..
[ دسمبر لوٹ آنا تم تحریر ناصر حسین]
_ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _
اور یہ انہی دنوں کی بات ہے جب اس کے ابو نے اپنے ہی جماعت کا ایک لڑکا اس کے لیے پسند کیا…..وہ لڑکا کافی مذہبی تها اور پڑها لکها بھی تها اس کی داڑھی بہت لمبی تهی …اور جس دن وہ ان کے گهر آئے امی نے ہی آ کر اسے اطلاع دی. ….
“آیت چلو جلدی تیار ہو جاو تمہیں دیکهنے لڑکے والے آئے ہیں…”.؟ یہ کوئی اتنی معمولی خبر تو نہیں تهی جو امی اتنی آسانی سے سنا گئی..
“مجهے کسی سے نہیں ملنا. “.اس نے درشتی سے کہا.
“پاگل ہو کیا جلدی تیار ہو جاو..”…انہوں نے بھی غصے سے اس کی طرف دیکها…..
“ہاں میں پاگل ہوں امی. .آپ بس چلی جائیں یہاں سے.” .”تماشا مت بناؤ آیت….جو کہا جا رہا ہے وہ کرو…اگر تمہارے ابو کو پتا چلا تو وہ دو تهپڑ لگا کر تمہیں لے جائیں گے…”.انہوں نے آیت کو ڈرانے کی کوشش کی. ..”دو تهپڑ لگائیں یا دس لیکن میں نہیں آنے والی.” …وہ کتاب صوفے پر پٹخ کر بولی. .عمارہ بیگم اسے دیکهتی رہ گئیں..اسی وقت عروہ اندر آئی…اور اس نے عمارہ بیگم کو آنکهوں ہی آنکهوں سے جانے کا کہا ..وہ چلی گئیں تو عروہ اس کے پاس آئی……
“چلو آیت”….آپی نے اس کا ہاتھ پکڑا ..اس نے تاسف سے آپی کو دیکها. ..
“”آپ جانتی ہیں آپی میں شادی شدہ ہوں…پهر بهی آپ.”..عروہ نے اس کی بات کاٹ دی. …
“”فی الحال تم سے شادی کے لیے کوئی نہیں کہہ رہا…تم صرف آو انہیں دیکهو اور اپنے آپ کو بھی دکهاو بس…”..
“لیکن میں اس طرح. “…عروہ نے ایک بار پھر اس کی بات کاٹ دی…..
“پاگل ہو کیا…تمہارا نکاح تو کوئی نہیں کر رہا اس وقت. .اور کیوں سب کے سامنے خود کو ظاہر کرنا چاہتی ہو..ابهی تهوڑی دیر بعد ابو اوپر آئیں گے اور تمہارے نہ آنے کی وجہ پوچهیں گے تو کیا جواب دو گی انہیں. ..؟ بہتر ہے تم چلو اور باقی سب مجھ پہ چهوڑ دو میں کرتی ہوں کچھ…دیکهو وہ جو پوچهیں نارمل طریقے سے بتاتی جاو..” …عروہ نے اسے تسلی دی. ..وہ آئینے کے سامنے آئی اور بال بنائے……سر پہ دوپٹہ لیا….عروہ نے سیاہ شال اس کی طرف بڑهائی. . .
“یہ کیا ہے.”..؟ آیت نے شال کو حیرت سے دیکها. …
“یہ شال ہے تم اس اچهی طرح اوڑھ لو تا کہ تمہارا جو پیٹ تهوڑا بڑها ہوا ہے وہ نظر نہ آ سکے.”…اس نے شال کو اوڑھ لیا….
“اور ہاں چلتے ہوئے زرا جهک کر چلنا تا کہ پیٹ پیچھے چلا جائے..”..عروہ نے تاقید کی. …
“اس سے میرے بچے کو تو نقصان نہیں ہوگا ناں” ..؟ وہ ڈرتے ہوئے پوچهنے لگی. …
“نہیں. .”.وہ عروہ کا ہاتھ پکڑے باہر آئی…عروہ اسے چھپانے کی کوشش کر رہی تهی اس لیے زرا آگے چل رہی تهی تا کہ وہ نظر نہ آسکے….وہ سر جهکائے عروہ کے بتائے ہوئے طریقے سے چل رہی تهی. ….ہال میں سبهی موجود تهے…ابو امی اور لڑکا اور اس کی ماں…لڑکے کی ماں اسے جانچتی نگاہوں سے دیکھ رہی تھی. ….وہ اسے لے کر ایک صوفے پر جا کر بیٹھ گئی. ….
“یہ آپ نے اسے اس طرح پکڑ کر کیوں رکها ہے”…؟ خود نہیں چل سکتی کیا..”..؟ ہال میں پوچها جانے والا پہلا سوال جو لڑکے کی ماں نے پوچها تها…….
” نہیں آنٹی ایسی کوئی بات نہیں ہے دراصل آیت کے پاوں پہ زرا موچ آ گئی ہے.” …عروہ نے جهوٹ بول کر اس کی طرف داری کی…وہ لڑکا نگاہیں جهکائے بیٹها تها اس نے سر پہ سفید ٹوپی بھی پہنی ہوئی تھی. ..اس کا ابو اور وہ باتیں کر رہے تهے….عروہ موقع کی تلاش میں تهی اور آیت کو وہیں چھوڑ کر وہ اپنی امی ابو کے صوفے کے پیچھے آئی…..اس لڑکے کی امی آیت سے پوچھ گچھ کرنے میں مصروف تهیں .سب کا چہرہ دوسری طرف تها وہ لڑکے کی طرف دیکهنے لگی. ..اسے سمجھ میں نہیں آیا وہ کس طرح اس لڑکے کو بلا لائے …….
“عروہ بیٹا چائے پانی لے آو”….اس نے اپنی ماں کی آواز سنی اور ہونٹ کاٹ کر کچن میں چلی گئی. .چائے اور سموسے ٹرے میں سجا کر وہ باہر چلی آئی. .چائے بنا کر وہ سب کو ان کے کپ تهمانے لگی…….اچانک ایک خیال بجلی کی طرح اس کے دماغ میں آیا …..اس لڑکے کی طرف کپ بڑھاتے ہوئے اس نے ہاتھ کو زرا ڈهیلا کیا اور کپ اس کے ہاتھ سے گر کر فرش پر جا پڑا…چائے ساری لڑکے کے سفید کپڑوں پہ جا گری….سبهی ان کی طرف متوجہ ہو گئے……
“اوہ…آئم….سو. ..سوری.”….وہ گڑبڑانے کی ایکٹنگ کر رہی تهی. ….
“خیال سے عروہ بیٹا….”.عمارہ بیگم نے اسے ٹوکا….
“آئیں میں آپ کو واش روم دکهاتی ہوں..آپ اپنے کپڑے دهو لیں..”..وہ اس لڑکے کو لیے واش روم کی طرف آئی….لڑکا اندر جا کر اپنی قمیض صاف کرنے لگا..وہ تب تک باہر کهڑی رہی……جب وہ قمیض صاف کر باہر نکلا تو وہ اس کے آگے جا کر کهڑی ہو گئی….
“دیکهیں میں نے تهوڑی دیر پہلے جهوٹ بولا تها..کہ آیت کے پاوں پہ موچ آئی ہے دراصل ایسا نہیں ہے.” …وہ ہاتھ باندھ کر اس کے سامنے کهڑی تهی وہ مولوی ٹائپ کا لڑکا اسے الجهے ہوئے انداز میں دیکھ رہا تھا.
” تو….؟” اس نے پوچها. …
” دراصل آیت نے آج کچھ زیادہ چڑها لی تهی”….
” کیا..”..؟
” شراب…”.وہ لڑکا ہکا بکا ہو کر اسے دیکهنے لگا. …
” استغفراللہ تو کیا وہ شراب پیتی ہے”. ….
“نہیں ..نہیں. ..نہیں. ..وہ روز تو نہیں پیتی کهبی کهبی جب کلب جاتی ہے تو تهوڑا بہت پی لیتی ہے. “….لڑکے کی آنکهیں پهیل گئیں. ….
” کلب….توبہ نعوذبااللہ.” ….
جاری ہے
