Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode28

December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode28

•••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••
آیت ہوٹل میں بیٹهی تهی__آس پاس ہر طرف لوگ تهے. …ویٹر کهانا سرو کر کے جا چکا تها. ..وہ بے دلی سے کهانا کهانے لگی……
بہت اچانک اسے احساس ہوا جیسے کوئی اسے دیکھ رہا ہے. ..پیچھے آگے دائیں بائیں اس نے ہر طرف دیکها..پهر اسے یہ سب وہم لگا. …..
اچانک ایک زور دار گولی چلنے کی آواز گونجی….اور وہ گولی عین اس کے ٹیبل پر رکهے گلدان کو لگی….اس کی چیخ نکل گئی وہ بے اختیار کهڑی ہو گئی. .پورے ہوٹل میں شور پهیل گیا. .اس نے ڈر کر پیچھے دیکها….اور دروازے سے بهاگتے ہوئے جس شخص کو اس نے دیکها اس کے بعد سانسیں اس کا ساتھ چهوڑنے لگی تهیں…بے یقینی کی آخری سیڑھی تهی وہ جس پر آیت اس وقت کهڑی تهی…..وہ بهاگ کر دروازے تک آئی..وہ شخص ہوٹل سے باہر نکل چکا تها …اس نے دور سے اس شخص کو بهاگتے ہوئے دیکها… ہوٹل میں ایک تہلکا مچا ہوا تها….لوگوں کی گہما گہمی تهی کئی لوگ اس سے ٹکرا رہے تھے لیکن وہ وہیں دروازے پر ہی پتهر بن گئی…اس بات میں کوئی شک نہیں تها وہ انوشیر ہے…اب یقین کرنے کے لیے کچھ بھی باقی نہیں رہ گیا تها. .سب کچھ سامنے تها…بالکل قریب….اسے لگا وہ کهبی ہل نہیں سکے گی….کتنی دعائیں کی تهیں اس نے. ..کاش یہ شخص یہ سب نہ کر رہا ہو…لیکن وہی یہ سب کر رہا تھا. …
اس نے منہ پر ہاتھ رکھ کر جیسے اپنی چیخ دبائی. ..وقت کی سوئی رک گئی…آس پاس آوازیں آنا بند ہو گئیں اس کا دل و دماغ صرف ایک ہی بات سوچ رہا تها. .
انوشیر اسے مارنا چاہتا ہے. …وہ اس کا قتل کرنا چاہتا ہے وہ کئی بار ایسا کرنے کی کوشش کر چکا ہے لیکن وہ ہر بار بچ جاتی ہے. …..اسے حیرت سے زیادہ دکھ تها ..ساتھ ساتھ چلنے والے صرف دوست نہیں ہوتے. ..دشمن بھی ہوتے ہیں تو کیا انوشیر بھی اس کا کوئی دشمن تها…کوئی پرانی دشمنی. …..جس کا بدلہ وہ اس سے لے رہا ہے. …..جو بھی تها لیکن آیت آج ٹوٹ چکی تهی ……..
[ دسمبر لوٹ آنا تم تحریر ناصر حسین]
_ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _
الجهن تهی..سوال تهے..کوئی بہت بڑا پزل تها جو اسے حل کرنا تها…یہ کیا ہو رہا تها اس کے ساتھ. .؟ انوشیر رضا کون ہے اور وہ کیا چاہتا ہے اس سے…وہ اسے مارنا چاہتا ہے کیوں …اس نے تو کهبی کسی کے ساتھ کچھ غلط نہیں کیا پهر وہ اس کا دشمن کیوں بن گیا…..
لیکن وہ اسے مار کیسے سکتا ہے وہ تو اسے مارنا بھی نہیں چاہتا اگر ایسا ہوتا تو وہ اسے اس دن شاپنگ مال والے حادثے سے نہ بچاتا….اور پھر اس دن جو ہیوی لوڈر آ رہا تھا وہ اگر اسے مارنا چاہتا تھا تو اسے بچے کے لیے کم از کم خود تو اس ہیوی لوڈر کے نیچے نہیں آتا…..اور آج ….؟
وہ بے بسی سے سر تهام کر بیٹھ گئی .جو شخص اتنا مذہبی ہے اس کی آنکھوں میں دیکهنے سے کتراتا ہے ..وہ اتنا بڑا گناہ کیسے کر سکتا ہے. …
وہ اسے نہیں جانتا تھا مدد لینے وہ خود گئی تھی اس کے پاس….اور بعد میں بھی کچھ ایسا نہیں ہوا جس سے وہ اس کا دشمن بن جاتا…..یہ سوال وہ تهے جو اس کے ذہن میں تهے وہ انوشیر سے پوچهنا چاہتی تهی لیکن اس سے پوچھ نہیں سکتی تھی. .اگر اس ننانوے فیصد یقین تها یہ سب انوشیر کر رہا ہے تو ایک فیصد بے یقینی بهی تهی…..ایسا بھی ہو سکتا ہے وہ یہ سب نہ کر رہا ہو لیکن یہ نا ممکن تها اپنے دل کو جهوٹی تسلی دینے والی بات تهی….خود اس نے اپنی آنکھوں سے سب کچھ دیکها ہے ایک بار نہیں دو بار. ..وہ کم از کم انوشیر کو پہچاننے میں تو غلطی نہیں کر سکتی….اور اسے یاد آیا ہوٹل جانے سے پہلے اس نے انوشیر کو میسج کیا تها ….وہ ہوٹل جا رہی ہے یہ بات تو صرف انوشیر ہی جانتا تها وہ ایک فیصد بے یقینی بهی ختم ہو گئی….آیت کو یقین تها وہ اس بار غلط نہیں ہے. ..لیکن یہ سب اس کے ساتھ کیوں کیا جا رہا ہے بس یہی معلوم کرنا تها اسے…اور وہ یہ معلوم کرنا چاہتی تهی. …
اس نے کئی بار انوشیر کی آنکھوں میں دیکها. .جن میں ہمیشہ معصومیت ہوتی کوئی دهوکہ کوئی فریب نہیں تها ان آنکھوں میں. .یا تو انوشیر کی آنکهیں اسے دهوکہ دے رہی تهیں یہ اس کی خود کی آنکهیں….
وہ بیڈ پر بیٹھ گئی..الجهنیں بڑهتیں جا رہی تهیں وہ جتنا سوچ رہی تهی سوال اتنے ہی بڑهتے جا رہے تھے. ..
انوشیر اس کے ساتھ ایسا کیوں کرے گا…؟
یہ سوال ایک بار پھر سے آ کر کهڑا ہو گیا. …اور یہی سوال اسے سب سے زیادہ تنگ کر رہا تھا. .یقین کرنا مشکل تها وہ ایسا کچھ کر سکتا ہے. …
” وہ دهمکی بهرے ختم بهیجنا..؟
وہ شاپنگ مال کا ایکسڈینٹ…؟
وہ ہیوی لوڈر والا ایکسڈینٹ. …؟
وہ کهانے میں زہر…..؟
اور آج اس پر گولی چلانا. ….؟
اور دوسری طرف. ….
پل پل اس کا خیال رکهنا…
ہر بار اس کی مدد کے لیے آنا….
اس کے لیے اپنی جان خطرے میں ڈالنا.”….
یہ سب چیزیں کوئی ایک انسان تو نہیں کر سکتا. .؟ کیا ایسا ممکن ہے کوئی انسان کسی سے محبت بھی کرے اور نفرت بھی …اس کا اس حد تک خیال رکهے کہ اس کے لیے اپنی جان پر کھیل جائے اور اس سے اتنی نفرت کرے اس پر گولی چلا دے….
یہ بہت بڑی پہیلی تهی اور اس پہیلی کا جواب انوشیر ہی دے سکتا تها … ایک الجهن وہ سلجھا چکی تهی کم از کم اسے یہ تو پتا چلا یہ سب کون کر رہا ہے. .اس نے سوچا یہ سب مائیکل یا اس افریقن لڑکے کا کام ہے ایک نام جو اس نے نہیں سوچا تها اور نہیں سوچنا چاہتی تهی وہ انوشیر کا تها … وہ کهبی یقین نہیں کرتی اگر سب کچھ اپنی آنکھوں سے نہ دیکهتی…..آنکهیں دهوکہ ضرور کهاتی ہیں لیکن جهوٹ کهبی نہیں بولتیں…..
سر درد سے پهٹ رہا تھا. .پوجا بھی نہیں تهی وہ کچن میں چلی آئی اور اپنے لئے چائے بنانے لگی….
” تیار ہو جاو انوشیر. ..”..اس نے سوچا ….
“میں آوں گی اور تم سے ایک ایک سوال کا جواب جان کر ہی رہوں گی ..تم مجهے اس بار جهٹلا نہیں سکو گے..”…
انوشیر نے شیلف سے قرآن پاک نکالا اور صوفے پر بیٹھ گیا. .اس نے سفید ٹوپی پہنی جو وہ نماز کے وقت پہنتا تها…چہرے پر معصومیت تهی….
وہ قرآن پاک کهول کر پڑهنے لگا روزانہ صبح شام وہ قرآن پاک کی تلاوت کرتا تها. ..وہ ترجمے والا قرآن پاک تها…اس کی انگلی اس آیت پر تهی جسے وہ پڑھ رہا تھا. . …
اور جهوٹ…..اس سے آگے وہ پڑھ نہیں سکا…اس کی آنکهیں نم ہو گئیں جب کهبی وہ کہیں لفظ جهوٹ دیکهتا تو اسے اپنے آپ پر غصہ آنا لگتا…ایک شرمندگی ایک پچهتاوا ہونے لگتا. …..نماز قرآن روزوں کی پابندی کے باوجود اس نے جهوٹ بولا…..وہ شرمندہ تها. ….
لیکن مزید وہ اس جهوٹ کے دلدل میں نہیں رہ سکتا تها اس نے آیت سے جو جهوٹ بولا وہ اسے تیر کی طرح چهبنے لگا…..اسے وہ جهوٹ نہیں بولنا چاہیے تھا. ..
لوگوں کو سچ اور ایمانداری کا درس دینے والا وہ شخص خود اتنا بڑا جهوٹ کیسے بول سکتا تها. …اب وقت آ گیا تها آیت کو سب سچ بتانے کا…..وہ مزید اس جهوٹ کے سہارے نہیں چل سکتا تھا. ….
وہ اس کے بارے میں کیا سوچے گی…سچ جان لینے کے بعد. …وہ اس سے ناراض ہوگی یا شاید نفرت کرے گی.
[ دسمبر لوٹ آنا تم تحریر ناصر حسین]
اس سے مزید قرآن پاک کی تلاوت نہیں ہو سکی اس نے قرآن پاک کو واپس شیلف میں رکھ دیا…اور وہیں سرخ آنکھوں کے ساتھ صوفے پر بیٹھ گیا. ………
دروازے کی گهنٹی بجی. ….کچھ وقفے کے بعد وہ دروازہ کهولنے چلا گیا…سامنے آیت کو دیکھ کر وہ حقیقتاً چونکا….وہ بنا کسی وجہ کے کهبی اس کے اپارٹمنٹ نہیں آئی تھی ……
وہ سیاہ چادر کو اپنے گرد پھیلائے ہوئے تهی….انوشیر کچھ لمحے اس کی آنکھوں میں دیکهتا رہا. .کیا تها اس کی آنکھوں میں ….کوئی پوشیدہ شکوہ…
انوشیر دروازے کے سامنے سے ہٹ گیا وہ اندر چلی آئی….وہ کل رات سے سو نہیں سکی کچھ سوال اسے بہت تنگ کر رہے تھے. …….
ان سوالوں کے جواب شاید سامنے کهڑا شخص ہی دے سکتا تها. …..
” کیسی ہیں آپ….” ؟ انوشیر اس کی آنکھوں سے ڈر گیا تها. .کون سا تاثر تها اس کی آنکھوں میں اس وقت…
“کیسی ہو سکتی ہوں. .”..؟ یہ سوال کے جواب میں سوال تها ..اور یہ وہ جواب نہیں تها جو وہ ہمیشہ دیتی تهی…آج کچھ تو تبدیلی تهی…انوشیر کو لگا وہ اسے ہوٹل میں دیکھ چکی ہے. ………
“آپ مجهے ناپسند کرتے ہو….”؟ آیت نے انوشیر کی آنکھوں میں دیکها تها. ….وہ اس سوال کو سمجھ نہیں سکا….
“آپ مجھ سے غصہ ہو….”.؟ دوسرا سوال بھی فراٹے سے کیا گیا …انوشیر نگاہیں نیچے کیے کهڑا تها…مطلب وہ اسے ہوٹل میں دیکھ چکی تهی. ….
” آپ مجھ سے نفرت کرتے ہیں. .”..؟ بڑا درد ناک سوال تها یہ…..آیت کی آنکهیں نم ہوئیں تهیں..وہ بهرائی ہوئی آواز میں پوچھ رہی تھی. … .
“نفرت. ..؟ اور اس سے. “….کیا ایسا ممکن تها….
“آپ کا دل چاہتا ہے مجهے قتل کر دیں…ہے ناں”….؟ انوشیر کے دل میں خنجر چلا تها.. کیا وہ ایسا چاہ سکتا ہے. ..آیت کی آنکھوں میں آنسو تهے. .ہمیشہ کی طرح آج بھی اس کے آنسو سے اسے تکلیف ہونے لگی….
آپ مجهے کیوں قتل کرنا چاہتے ہیں. ….؟ وہ خاموش رہا. . کوئی جواب ہی نہیں تها اس کے پاس….
“مہ…مہ…میں ایسا ..”…وہ بول نہیں سکا…وہ اسے سچ بتانا چاہتا تھا. ..لیکن الفاظ بولنے سے انکاری ہو گئے…….
“یہ لیں مجهے قتل کر دیں ..”..انوشیر نے سر اٹها کر اسے دیکها. .اس کے ہاتهوں میں ایک بہت بڑا خنجر تها..جسے وہ دونوں ہاتهوں سے اس کی طرف بڑهائے کهڑی تهی. .انوشیر کو وہ خنجر اپنے اندر اترتا ہوا محسوس ہوا. ……….
” یہ …یہ آپ کیا کر رہی ہیں”…وہ گڑگڑا گیا……
“میں کیا کر رہی ہوں…آپ بتائیں آپ کیا کر رہے ہیں”. ..؟وہ زور سے چلائی…
“..جهوٹ کیوں بولا آپ نے مجھ سے. .”. ؟ وہ نگاہیں چرا گیا……
$مجهے قتل کر کے آپ کو کیا ملے گا”…؟ اس کی آواز جیسے خلا سے آئی ہو…..
” میں آپ کو قتل نہیں کرنا چاہتا میں تو .”…آیت نے اس کی بات کاٹ دی. ……
“قتل نہیں کرنا چاہتے تو اس رات میرے کمرے میں کیا کرنے آئے تھے اور مجهے دهمکی کیوں دی…میں نے اپنی آنکھوں سے دیکها تها اور وہ پرچی جس پر آپ نے دهمکی لکھ کر بھیجی تھی کہ میں لنڈن چهوڑ دوں …کیا وہ سب جهوٹ تها..اور کل ہوٹل میں گولی کس نے چلائی کیا آپ نے مجھ پر گولی نہیں چلائی…میں نے اپنی آنکھوں سے دیکها تها آپ کو ہوٹل سے باہر نکلتے ہوئے. ….اگر مجهے مارنا ہی تو اپنے ہاتهوں سے مارو میں اف تک نہیں کروں گی. .لیکن اس طرح پیٹھ پیچهے تو وار مت کرو..جهوٹ تو مت بولو..
یوں میرے بهروسے کا خون تو مت کرو …….آپ کے اندر دل نام کی کوئی چیز بھی ہے یا نہیں. .”
انوشیر تاسف سے اسے دیکهے گیا. …
کتنی بدگمان تهی وہ لڑکی اس سے.. وہ اس سب کہانی کو اپنا من چاہا رنگ دے رہی تهی وہ سچ نہیں جانتی تھی. .وہ جو دیکھ چکی تهی وہی سوچ رہی تھی اسے وہی سوچنا تها……
جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *