December Lout Ana Tum by Nasir Hussain NovelR50779 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode29
Rate this Novel
December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode01 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode02 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode03 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode04 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode05 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode06 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode07 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode08 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode09 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode10 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode11 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode12 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode13 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode14 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode15 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode16 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode17 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode18 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode19 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode20 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode21 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode22 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode23 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode24 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode25 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode26 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode27 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode28 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode29 (Watching)December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode30 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode31 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode32 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode33 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode34 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode35 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode36 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode37 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode38 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode39 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode40 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode41 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode42 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode43 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode44 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode45 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Last Episode
December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode29
December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode29
•••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••
کتنی بدگمان تهی وہ لڑکی اس سے.. وہ اس سب کہانی کو اپنا من چاہا رنگ دے رہی تهی وہ سچ نہیں جانتی تھی. .وہ جو دیکھ چکی تهی وہی سوچ رہی تھی اسے وہی سوچنا تها……
“آپ نے ایسا کیوں کیا. .آپ نے میری اتنی مدد کی ..پهر مجهے مارنا بھی چاہتے ہو…آپ کی میرے ساتھ کیا دشمنی ہے. شرم آنی چاہیے آپ کو…آئندہ میں آپ سے کهبی مدد نہیں لوں گی آپ سے کهبی بات نہیں کروں گی…”….وہ روتے ہوئے ایک ایک قدم اٹهاتی پیچھے جا رہی تهی. ..وہ اسے روک نہیں سکا …وہ اسے روکنا نہیں چاہتا تھا. .اس وقت اگر وہ اسے سچ بتا بھی دیتا وہ کهبی یقین نہیں کرتی. .ایسے میں اسے سچ بتا کر اپنی عزت گوانے کے مترادف تها. ….لیکن بنا سچ جانے وہ کیا کیا سوچ رہی تهی. ..اس نے اپنی آنکھوں میں نمی محسوس کیا…..وہ وہیں صوفے پر نڈهال سا گر گیا….
_ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _
انوشیر کے ساتھ آیت نے رابطہ ختم کر لیا تها .کهبی کهبی اسے افسوس ہوتا اس رشتے کے ٹوٹ جانے پر..لیکن پهر وہ خود کو سمجهاتی جو رشتہ کهبی بنا ہی نہیں اس کے ٹوٹ جانے پر ملال کیسا….
انوشیر نے جو کیا وہ اسے نہیں کرنا چاہیے تها لیکن اس نے ہی یہ کیوں کیا یہ بات وہ نہیں جان سکی…اور اسے یقین تها وہ یہ سب کهبی نہیں جان سکے گی….کچھ سوالوں کے جواب اسے نہیں ملنے تهے .. لیکن ایک فائدہ بہرحال اسے ضرور ہوا تها اس نے انوشیر کے ساتھ رابطہ ختم کیا اس کے بعد سے اسے کوئی دهمکی آموز پرچیاں موصول نہیں ہوئیں…..
انوشیر نے خود سے بھی رابطہ کرنے کی کوشش نہیں کی. .کچھ سفر زندگی میں بہت مختصر وقفوں کے لیے ہوتا ہیں ایسا ہی ایک سفر یہ بھی تها…..وہ دل لگا کر پڑهائی میں مصروف ہو گئ..وہ خود کو ہر طرح سے مصروف رکهنا چاہتی تهی. .جب کهبی وہ مایوس یا اداس ہوتی تو خود کو یہی سمجهاتی وہ یہاں .ان سب چیزوں کے لیے نہیں آئی …لندن میں پڑهائی ہی اس کا خواب تها اور اسے بس وہی خواب پورا کرنا تها ویسے بھی یہاں اس کا قیام اب کم ہی رہ گیا تها…….
کچھ دنوں تک وہ ایگزامز دے کر پاکستان چلی جائے گی وہاں کوئی انوشیر نہیں ہوگا…
. [ دسمبر لوٹ آنا تم تحریر ناصر حسین]
_ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _
اسی دوران پوجا نے سیر و تفریح کے لیے پلان بنایا ..اور اس پلان میں اس نے آیت کو بھی شامل کرنا چاہا. .گھومنے پھرنے کی وہ ویسے بھی شوقین تهی اور اس بار اسے پوجا کا پلان بھی معقول لگا تو وہ تیار ہو گئی…..پوجا نے یہاں سے چند کلومیٹر فاصلے پر ایک پہاڑی علاقے کے بارے میں بتایا…وہاں ایک خوبصورت جنگل ہے جہاں مختلف قسم کے درخت پائے جاتے ہیں. ..اور خوبصورت پہاڑ بھی ہیں تو وہاں جا کر ایک دن گزارنے میں کوئی مضائقہ نہیں تها. ……
پوجا اکیلی نہیں جا رہی تهی اس کا ایک بوائے فرینڈ بھی اس کے ساتھ تها اس بات پر اس نے اعتراض کرنے کی کوشش کی لیکن پوجا نے اس سے وعدہ کیا وہ پہلے کی طرح اسے اکیلا نہیں چهوڑے گی…ویسے بھی وہ ٹرپ صرف ایک دن کے لئے ہی تها……
یعنی صبح جانا تها اور شام کو واپس آنا تھا. .زیادہ دور بھی نہیں تها…اپنے آپ کو مصروف رکهنے اور الجهنیں کم کرنے کے لیے اسے یہی سب ٹهیک لگا……..
پوجا نے بتایا تها وہ کافی سرد جگہ ہے اس لیے گرم کپڑے اور شال لے جانا ضروری ہے. ..اس نے نیلے فراک کے اوپر سفید سویٹر پہن لیا تها…اور دستانے بھی پرس میں رکھ دیے تهے…..
“تمہیں کهانا میں کیا پسند ہے. .”..؟ پوجا اچانک ایک کاغذ قلم لیے نمودار ہوئی….
“کچھ بهی جو تم لوگوں کو پسند ہو…”..وہ اس وقت ناول لیے بیٹهی تهی. ..پوجا کا جو بوائے فرینڈ تها جس کا نام اس نے رابرٹ بتایا تها وہ ابهی تک آیا نہیں تها اور اس کے آنے میں ابهی ڈیڑھ گهنٹہ باقی تها……
پهر بھی تمہاری اپنی بهی تو پسند ہوگی …؟ پوجا پنسل منہ میں دبائے سوچ میں پڑ گئی. ….
“کچھ بهی برگر ، چپس وغیرہ بهی صیح رہے گا”…اس نے اپنی رائے دی….
“او ہیلو محترمہ ہم یہاں سے کچھ لے کر نہیں جا رہے ہم سب کچھ وہیں بنائیں گے تو کسی ایسی چیز کا نام بتاو جسے بنانا آسان ہو..” ….
اس نے چونک کر سر اٹهایا …..
“سب کچھ وہاں کیسے بن سکتا ہے …”؟ وہ حیران ہوئی..
“یہی تو مزا ہے میری جان….”.پوجا اب کاغذ پہ کچھ لکھ رہی تھی. …وہ ابهی بهی الجهی ہوئی تھی. …
“لیکن تم نے تو کہا تها وہ پہاڑی علاقہ ہے اور وہاں ہر طرف جنگل ہے…”..اس نے پوجا کو یاد دلایا …..
“ہاں تو کیا ہوا…پہاڑی علاقے میں اپنے لیے کچھ بنا کر کهانا کتنا زبردست لگے گا ناں…”.
” زبردست. .”.؟ کافی عجیب نہیں لگے گا…..
” کچھ بهی عجیب نہیں لگے گا…تم تو ہو ہی بور. ..
گوشت کتنا کافی رہے گا…”.؟ پوجا نے اس سے رائے طلب کی. ….
“میں کیا کہہ سکتی ہوں …تمہیں پتا…میں تو ابهی تک مراقبے میں ہوں…کمال کا سین ہوگا ناں ہم لوگ جنگل میں سو سال پرانے لوگوں کے جیسے اپنے لیے کهانا بنا رہے ہوں گے… ..”..
پوجا نے اسے گهورنے پر اکتفا کیا. .نیچے رابرٹ کی ہارن سنائی دی…وہ دونوں پہلے سے ہی تیار بیٹهیں تهیں .
ہارن کی آواز سن کر دونوں کهڑی ہوئیں…پوجا نے ایک آخری نظر آئینے میں دیکها اور برتن اٹها کر باہر نکل گئی..وہ بهی پرس اور موبائل اٹها کر باہر آئی اس نے کمرے کا دروازہ لاک کر دیا…یونیورسٹی کی خوبصورت سڑک پر رابرٹ اپنی گاڑی میں ان کا منتظر تها……
اس کی گاڑی بنا چهت والی تهی اس نے رابرٹ کو سلام کیا…وہ چهوٹے قد والا ایک سفید فام انگریز تها…داڑھی نہیں تهی ہلکی ہلکی موچھیں چمک رہی تهیں…سر پہ اس نے کیپ پہنا ہوا تها..
وہ ونڈو کهول کر پوجا کے برابر بیٹھ گئی. .پوجا نے خوشی خوشی سن گلاسز لگائے اور کار ایک لمبے سفر کے لیے نکل پڑی….مارکیٹ سے انہوں وہ سامان بھی خریدا جس کی لسٹ انہوں نے بنائی تهی…..
گاڑی فل سپیڈ سے چل رہی تهی. .ساتھ میں خوبصورت انگریزی گانا بھی لگا تها..پوجا جهوم جهوم کر تالیاں بجا رہی تهی لیکن وہ اداس تهی…..
افسردہ چہرے کے ساتھ وہ باہر سڑک پر موجود درختوں کو دیکهے جا رہی تھی. .درخت بھی جواباً اداس لگے اسے….آسمان پر بادل تهے…نیلے رنگ کا آسمان اس وقت بالکل سیاہ ہو چکا تها…بارش بھی آنے والی تهی. ..اگر بارش آ گئی تو یہ لوگ کہاں جائیں گے…؟ کیا کریں گے…وہ ایسا کچھ بھی نہیں سوچ رہی تھی اور پوجا کی طرف سے بھی ایسی کوئی پریشانی نظر نہیں آ رہی تھی وہ خود کو اس وقت پوجا اور رابرٹ کے رحم و کرم پر چھوڑ چکی تهی. ..ہاں اس وقت وہ یہ نہیں جانتی تھی آگے چل کر اس کے ساتھ کیا ہونے والا ہے. ..رابرٹ پورے راستے خاموش رہا. .وہ زیادہ بولتا نہیں تها شاید….ایک گهنٹے بعد ان کی گاڑی ایک سنسان جنگلی راستے میں داخل ہو گئی….پوجا نے ہم پہنچ گئے کا زور دار نعرہ لگایا. ….گاڑیوں رابرٹ جهاڑیوں کے بیچ لے گیا…وہ اس جگہ کو دیکھ کر حیران رہ گئی وہ ایسی کوئی جگہ نہیں تھی جہاں قیام کیا جاتا یا پھر کوئی تفریح ہو سکتی. …..
آس پاس ہر طرف جنگل تها..درخت تهے درخت تهے…اس کے قد سے کہیں زیادہ اونچے اونچے درخت تهے…زمین پر سوکھے ہوئے پتوں کا ایک ڈھیر تها جو ہوا کی وجہ سے ادهر ادهر اڑ رہے تھے اور عجیب آوازیں پیدا کر رہے تھے. ……
وہ ان پتوں پر پوجا کے ساتھ چلتی ہوئی آگے بڑهی تهی. ..رابرٹ بہت پیچھے رہ گیا. ..
انسان تو کیا اسے کوئی جانور یا کوئی پرندہ بھی نظر نہیں آیا…یہ کیسا جنگل تها. ..ایک خوفناک جنگل جیسے فلموں میں ہوتے ہیں. ..اگر دن کا وقت نہ ہوتا اور پوجا اس کے ساتھ نہ ہوتی تو وہ یقیناً اس جنگل میں اپنے حواس قابو نہ رکھ پاتی……..
” کیا تم اسی جنگل کی بات کر رہی تهیں.” ..؟ اس نے چلتے چلتے پوجا سے پوچها…..
“ہاں …کیوں اچها نہیں لگا کیا….؟” پوجا نے پوچها. .
“اچها..”؟تو کیا اس جنگل میں کچھ ایسا تها جو اسے اچها لگتا…وہاں تو اسے ایسا کچھ بھی نظر نہیں آیا جو اسے اچها لگتا لیکن اس نے پوجا سے مزید بحث نہیں کی. ..بحث کا فائدہ بھی تو نہیں تها اب کم از کم وہ لوگ واپس تو نہیں لوٹ سکتے تھے. …….
پوجا ایک بڑے درخت کے نیچے آکر رک گئی..اور اس نے آس پاس کا جائزہ لیا. ….
یہی جگہ سہی ہے ناں کیمپ لگانے کے لئے. پوجا نے پوچها…..اس نے آس پاس دیکها.اور برا سا منہ بنا کر کندهے اچکائے. ..رابرٹ دور سے آتق دکهائی دیا اس کے ہاتهوں میں وہ بهاری تهیلا تها جس میں کچھ سامان تها…کچھ سامان پوجا خود لے کر آئی تھی. …..پوجا رابرٹ سے اس کی رائے لینے کے بعد وہیں خیمہ لگانے لگی …رابرٹ اس کی مدد کر رہا تھا جبکہ وہ خاموش تماشائی بنی سب دیکھ رہی تھی. …..
اس نے موبائل نکال کر کچھ تصویریں بنائیں…لیکن اس کا موڈ کافی آف ہو چکا تھا. .اسے یہ توقع نہیں تھی پکنک کے لیے کوئی ایسی جگہ کا انتخاب بھی کر سکتا ہے لیکن اسے یہ نہیں معلوم تها پکنک کے لیے کوئی آیا بھی نہیں تها……
[ دسمبر لوٹ آنا تم تحریر ناصر حسین]
پوجا کیمپ لگانے کے بعد وہیں کهانے کا سامان نکالنے لگی….اور وہیں لکڑیوں کا ایک ڈھیر اکهٹا کر کے آگ جلانے لگی. ..بادلوں کی وجہ سے ٹهنڈ بڑهتی جا رہی تهی. .پوجا نے دو چار بار کوشش کی لیکن وہ باہر ہوا کی وجہ سے آگ جلانے میں ناکام نظر آئی…پهر رابرٹ کے مشورے پر اس نے کیمپ کے اندر ہی آگ جلانے کی کوشش کی اور وہ اس کوشش میں کامیاب ہو چکی تهی…رابرٹ بهی اس کے ساتھ تها…اب وہ دونوں اسے گوشت کاٹتے اور مصالحہ بناتے دکهائی دیے….وہ دلچسپی سے انہیں دیکهنے لگی اس نے پوجا کی کئی تصویریں بنائیں…پوجا وہ سب کام ایسے کر رہی تهی جیسے برسوں سے یہ سب کرتی آئی ہو….
آدهے گهنٹے بعد رابرٹ کو وہیں خیمے میں چهوڑ کر وہ دونوں فوٹوگرافی کرنے دور نکل آئیں…لیکن دور آنے پر بھی وہ جنگل ویسا ہی تها اس میں کوئی تبدیلی نہیں تهی …ہر جگہ ویسے ہی درخت ویسے ہی پتے…..
اسے پوجا کی حماقت پہ واقعی افسوس ہونے لگا. .لیکن وہ اس سے کچھ کہہ نہیں سکتی تھی. …
کافی دیر تک وہ وہیں بیٹھ کر باتیں کرتی رہیں…وقت آہستہ آہستہ آگے سرک رہا تھا. ..عصر کا وقت ہو رہا تها. .بادل اب بھی ویسے ہی تهے لیکن برس نہیں رہے تهے یہ گویا ایک غنیمت تهی…….
جب وہ واپس آئیں تو رابرٹ کهانا تیار کر چکا تها. .وہیں کیمپ کے اندر بیٹھ کر ہی انہوں نے انگاروں پر بنے کباب انجوائے کیے….اور ساتھ میں کوک کی بوتلیں بھی وہ لائے تهے …..بالکل اچانک ہی اسے انوشیر یاد آیا …اگر وہ ہوتا تو…، ؟
“وہ کہاں ہوگا. اس دن کے بعد اس نے رابطہ کیوں نہیں کیا…اپنی صفائی میں کیوں کچھ نہیں بولا”. ..وہ کوک ہونٹوں سے لگائے سوچ میں پڑ گئی. …….
رشتوں کا سفر ” آپ ” سے شروع ہو کر ” تم ” تک پہنچتا ہے تبهی رشتے مضبوط ہوتے ہیں لیکن انوشیر کے ساتھ اس کا رشتہ تو آپ والا ہی تها تو پھر وہ کیوں اس کے بارے میں سوچ رہی تھی ……..
شام کی سنہری روشنی سیاہی میں بدلنے لگی..جب وہ آئے تهے اس وقت ہر طرف روشنی ہی روشنی تهی اب اندهیرا چهانے لگا تها…..وہ پوجا کے ساتھ کافی گهوم پهر رہی تھی. …وہ حیران ہوئی جب رابرٹ نے کہا ..
میں چلتا ہوں……اس نے الجهے ہوئے انداز میں پوجا کی طرف دیکها. ..
“یہ کہاں جا رہا ہے اور ہمارے چلنے کا بھی تو وقت ہوگیا ہے ناں” …؟
” یہ پاس ہی کسی کام سے جا رہا ہے تهوڑی دیر تک واپس آجائے گا”…پوجا نے بتایا. ..اور وہ رابرٹ کو دور جاتا ہوا دیکھ رہی تھی …دل میں کچھ خطرناک اندیشے جنم لے رہے تھے. …..پوجا اس کے ساتھ ساتھ چلتی ہوئی تهوڑا آگے بڑهی. …اس نے مغرب کی نماز نہیں پڑھی وہ پوجا کو باہر چهوڑ کر نماز ادا کرنے کیمپ کے اندر چلی گئی. ….دس منٹ لگے تهے اس نماز ختم کرنے میں جب وہ دس منٹ بعد باہر نکلی تو پوجا اسے کہیں دکهائی نہیں دی…….
وہ متلاشی نگاہوں سے ادهر ادهر دیکهنے لگی…تاریکی بڑھ چکی تهی وقت پهسل رہا تها. …
لیکن پوجا وہ کہاں تهی…کہاں چلی گئی ایسے کیسے جا سکتی ہے. ….وہ وہیں کیمپ کے پاس کهڑی ہو کر چاروں طرف دیکهنے لگی …دور دور تک پوجا کا نام و نشان تک نہیں تها…حیرت کے ساتھ ساتھ اسے ڈر بھی لگنے لگا……وہ تهوڑا آگے آئی…اس نے منہ کے درمیان ہاتھ کا گولا بنایا اور پوجا کو زور زور سے پکارنے لگی…اس کی اپنی ہی آواز اونچے اونچے درختوں سے ٹکرا کر واپس آ رہی تھی. …اس کے ماتهے پر پریشانی کی لکیریں نمودار ہوئیں….
لیکن اس نے آواز دینا ترک نہیں کیا تها …
” پوجا..”…درختوں کے بیچ زمین اور آسمان کے درمیان اس کی آواز معلق تهی کہیں. …..
” ہائے ڈارلنگ. ..”..آواز اسے پیچھے سے سنائی دی..وہ کوئی بهاری مردانہ مانوس سی آواز تهی….اس نے تیزی سے سر گهمایا اس کا دوپٹہ سر سے اتر کر کاندهوں پر آ گرا……اسے لگا زمین اسے پناہ دینے سے انکاری ہو رہا ہے. ..سامنے کهڑے شخص کو دیکھ کر اس کے حواس گم ہو گئے. ….
“مائیکل. “…؟ نہیں نہیں وہ یہاں کیسے آ سکتا ہے اس کا یہاں کیا کام…؟ وہ مکروہ مسکراہٹ لیے کهڑا تها…اس پر کپکپاہٹ طاری ہونے لگی…….
“تہ..تہ..تم یہاں کیا کر رہے ہو پوجا کہاں ہے”. …؟ وہ دو قدم پیچھے ہٹی …..
“:میں یہاں ہوں”…..یہ پوجا کی آواز تهی. …اس نے پیچھے مڑ کر دیکها…پوجا ہاتھ باندهے سپاٹ چہرہ لیے کهڑی تهی. ….
“پوجا…یہ ..یہ مائیکل یہاں کیسے” ..؟ الفاظ ٹوٹے نکل رہے تھے منہ سے…..
پوجا نے ایک زور دار قہقہہ لگایا. ..پهر وہ قہقہے لگاتی گئی..اور ان قہقہوں میں مائیکل کے قہقہے بھی شامل ہو گئے…وہ پهٹی ہوئی نگاہوں سے کهبی مائیکل کو تو کهبی پوجا کو دیکهتی…….
جاری ہے ____
