December Lout Ana Tum by Nasir Hussain NovelR50779 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode03
Rate this Novel
December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode01 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode02 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode03 (Watching)December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode04 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode05 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode06 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode07 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode08 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode09 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode10 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode11 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode12 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode13 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode14 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode15 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode16 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode17 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode18 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode19 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode20 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode21 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode22 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode23 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode24 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode25 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode26 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode27 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode28 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode29 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode30 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode31 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode32 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode33 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode34 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode35 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode36 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode37 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode38 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode39 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode40 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode41 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode42 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode43 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode44 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode45 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Last Episode
December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode03
December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode03
••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••
آیت کو سمجھ نہیں آیا والدین کو کیسے راضی کرے _
آپ لوگ میری زندگی برباد کر دینا چاہتی ہیں یوں کیریئر کے آخری سٹیج پہ لا کر آپ سب ختم کر دینا چاہتی ہیں __آپ لوگ ایسا کیسے کر سکتے ہیں__کیا بیٹیاں واقعی بوجھ ہوتی ہیں کیا والدین ان سے محبت بالکل بھی نہیں کرتے ____ہر قدم پہ بیٹی ہی کیوں قربانی دے” _____
اس نے شکوے سے عمارہ بیگم کو دیکها ___
” کیونکہ ایک عورت پیدا ہی قربانی دینے کے لیے ہوتی ہے بچپن سے لے کر بڑھاپے تک اسے قربانی دینی ہی پڑتی ہے مرد کهبی قربانی نہیں دیتا وہ صرف حکومت کرنا جانتے ہیں سمجھوتہ ہمیشہ عورتوں کو ہی کرنا پڑتا ہے”_____
” عورتوں کو ہی کیوں مما __کیا وہ انسان نہیں ہیں کیا ان کے پاس دل نہیں ہے __آپ سوچیں تو سہی آپ میرے ساتھ کیا کر رہے ہیں جہاں سب کچھ شروع ہونا تها آپ وہیں آ کر سب ختم کر رہی ہیں___یوں کسی بھی راہ چلتے لڑکے کو آپ لوگ کیسے میرے لیے منتخب کر سکتے ہیں__پسند کی جیون ساتھی کا انتخاب تو اسلام میں بھی دیا گیا ہے”_____
اس کی آواز جیسے خلا سے کہیں آ رہی تهی____
” دیکهو آیت جن سے ہم محبت کرتے ہیں ان کے ساتھ ہماری کئی امیدیں وابستہ ہوتی ہیں ہم ان پہ اپنا حق سمجھتے ہیں ہم انہیں اچهی چیزیں اس لیے بھی دینا چاہ رہے ہوتے ہیں تا کہ وہ کسی غلط شے کی تمنا نہ کریں……اور والدین کهبی اپنی اولاد کا برا نہیں چاہ سکتے تم جانتی ہو ہر ماں باپ کی طرح ہماری بھی تمنا ہے تمہیں دلہن بنی دیکھوں. ..اگر ہم نے ایسی کوئی خواہش کی بهی ہے تو اس میں کیا غلط ہے. کیا ایک ماں باپ کو اتنا بھی حق نہیں ہوتا وہ اپنے بچے کے لیے جیون ساتھی کا انتخاب کرے”……..
وہ آہستہ آواز میں بولیں ان کی آواز میں نمی تهی….آیت انہیں دیکهے جا رہی تهی. .ایسا کیسے ہو سکتا ہے کوئی باپ ایسا کیسے کر سکتا ہے ملکیت اور محبت اپنی جگہ لیکن یوں اسے زندگی کے سب سے بڑے فیصلے سے دستبردار کر دینا یہ کہاں کا انصاف تها……جو تعریف وہ انہیں سمجها رہی تهیں وہ بالکل بهی سمجھ نہیں پا رہی تهی____
” میں تو صرف اتنا چاہتی ہوں کہ تمہاری جیون ساتھی بہت اچها ہو جیسی تم ہو. …اور یقین جانو تمہارے ابو کہہ رہے تھے اس جیسا لڑکا تمہیں پوری دنیا میں کہیں نہیں ملے گا “… ….
( اف پهر سے وہی لڑکا وہی شادی… یہاں یہ بات معنی نہیں رکھتا میں سب سے پہلے لندن جانا چاہتی ہوں اس کے بعد کچھ سوچوں گی ان جهیملوں کے بارے میں )
اس نے خاموشی سے اپنی مما کو دیکها سکینڈ کے ہزارویں حصے میں ایک خیال بجلی کی طرح اس کے دماغ میں کوندا ___اور اس نے اپنے آنسو صاف کر کے مما کے ہاتھ پہ ہاتھ رکها_____
” آپ اور ابو جو چاہتے ہیں وہیں ہوگا امی لیکن..”….وہ ان کے ہاتهوں کو مضبوطی سے دباتے ہوئے بولی….
” لیکن؟” عمارہ بیگم نے سوالیہ نگاہوں سے اسے دیکها__
” لیکن میری ایک شرط ہے امی ” ___؟ وہ ان کی گود میں سر رکھ کر کافی دیر بعد بولی___عمارہ بیگم نے اسے اسے دیکھا وہ ان کی گود سے سر اٹھا کر ان کی آنکهوں میں دیکهنے لگی_____
” مجهے لندن جانا ہے ” ___ عمارہ بیگم کے چہرے پہ ایک رنگ آیا _کافی دیر تک وہ خاموشی سے اسے دیکهتی رہیں__
” تم جانتی ہو یہ نا ممکن ہے تمہارے ابو کهبی اس بات کی اجازت نہیں دیں گے “……
” نا ممکن کچھ نہیں ہوتا مما دنیا میں ہر شے ممکن ہے آپ ایک بار ابو سے بات تو کریں کیا پتا وہ مان جائیں”___
” ٹهیک ہے میں ایک بار کوشش کروں گی”___عمارہ بیگم نے اسے امید دلائی وہ خوشی سے ان کے گلے لگ گئی ___
وہ جانتی تھی وہ جهوٹ بول رہی ہے وہ ایسا کهبی بهی نہیں کر سکتی یوں کسی سے شادی وہ خواب میں بھی نہیں کر سکتی لیکن وہ اپنی مما کو مزید دکھ نہیں دینا چاہتی تهی جو اس نے سوچا تها وہ وہی کرنا چاہتی تهی____ اور اس مسئلے کا حل وہ بعد میں آرام سے سوچنا چاہتی تهی. ……….
اپنے کمرے میں آ کر بهی وہ یونہی ٹہلتی رہی تقریباً آدها مسئلہ تو وہ حل کر چکی تهی لیکن پهر بھی وہ ٹیشن میں تهی ____پہلے اگر سوچنے کے لیے صرف لندن تها تو اب اس کی سوچ میں ایک اجنبی لڑکے کا بھی اضافہ ہو گیا____
لندن کا خواب اپنی جگہ لیکن وہ اپنی سب سے بڑی خواہش کی تکمیل کے لیے اتنی بڑی قربانی تو کهبی نہیں دے سکتی تهی__
یوں راہ چلتا کوئی بھی لڑکا اس کی زندگی میں یوں تو نہیں آسکتا تھا. …اپنی زندگی اور اپنے جیون ساتھی کو لے کر ہر انسان کے دل میں کئی خواب ہوتے ہیں ___
اس کا سر درد سے پهٹا جا رہا تھا. ..وہ سر تهام کر جیسے بے بس ہو گئی اور صوفے پہ بیٹھ گئی.تهوڑی دیر پہلے تک وہ بالکل پرسکون تهی لیکن آنے والے کچھ لمحے کچھ گهڑیاں انسان کی زندگی کو کہاں سے کہاں لے جاتی ہیں……..
اچانک اس کے دماغ میں ایک خیال بجلی کی طرح آیا …گو کہ یہ کام کافی حد تک رسکی تها لیکن اس کے علاوہ کوئی دوسرا راستہ بھی تو نہیں تها……..اس آئڈیے کے تحت اسے یقین تها اب کچھ نہ کچھ تو ہو ہی جائے گا. .اس لیے اس کی ٹینشن میں کافی حد تک کمی آئی……
دوپٹہ اتار کر وہ بیڈ پہ سونے کے لیے لیٹی لیکن کهلی آنکهوں سے وہ سو نہیں سکتی تھی وہ خاموشی سے چهت کو دیکهے جا رہی تهی. . …
ابو کی عجیب اور احمقانہ ضد کی وجہ سے اسے کتنا خوار ہونا پڑ رہا تها..پاپا سے ٹکر لینے کا وہ سوچ بھی نہیں سکتی تهی وہ کافی غصیلے اور سخت تهے مگر اس سب کے باوجود بھی وہ کسی بھی لڑکے کو شادی کے لئے منتخب نہیں کر سکتی تهی…
اب اسے کوئی ایسا طریقہ نکالنا تها جس سے سانپ بھی مر جاتا اور لاٹهی بھی نہ ٹوٹتی…………
_ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _
شام کا وقت تھا__
آیت نے موبائل چارجنگ سے نکال کر وقت دیکها…شام کے پانچ بج رہے تھے اس وقت ابو یقیناً نماز پہ گئے ہوں گے یہی سہی موقع تها اپنے کام کو سر انجام دینے کا..وہ جو کل سے سوچ رہی تھی اس کام کو کرنے کا وقت آ چکا تها. ..لیکن یہ کام کافی رسکی تها کچھ بھی ہو سکتا تها مگر زندگی میں کهبی نہ کهبی رسک لینا ہی پڑتا ہے. ….وہ اپنے کمرے سے باہر نکل آئی…سام سامنے اسے مما دکهائی دیں جو صوفے پہ بیٹھ کر ٹی وی پہ کوئی اسلامی پروگرام دیکھ رہی تهیں. …اسے مما کو کسی کام میں مصروف کرنا تها تبهی وہ اپنا کام آسانی سے کر سکتی تهی. ….وہ صوفے پہ ان کے برابر آ کر بیٹھ گئی. ….
” کیا دیکھ رہی ہیں آپ امی…”؟ سوال بے تکا تها لیکن بات شروع کرنے کے لیے اس سے بہتر جملہ اسے نہیں مل سکتا تها ……
” بس یونہی. “….اس کی مما نے ریموٹ رکھ کر اسے غور سے دیکھا. …..
“عروہ آپی کہاں ہے ..”.؟اس نے اپنی بڑی بہن کا پوچها. ….
” وہ نادیہ کے گهر گئی ہے خیر تو ہے.” …عمارہ بیگم کو اس کا یہ عجیب و غریب انداز دیکھ کر تشویش ہونے لگی…..
” جی امی”…..اچها امی آج موسم کافی اچها ہے ناں تو کیوں نہ آپ میرے لیے بریانی بنائیں”. ….
” یہ اچانک بریانی کا خیال کیسے آیا تمہارے دل میں”. ..؟
” بس ویسے ہی پلیز بنا دیں ناں”…. عمارہ بیگم گہری سانس لے کر کچن میں چلی گئیں….اور اس نے بھی اطمینان کا سانس لیا اور بهاگتی ہوئی ابو کے کمرے میں آئی….ان کا موبائل اس وقت کمرے میں ہی ہوتا تھا وہ نماز پہ جانے سے پہلے موبائل چارجنگ پہ لگا کر جاتے تھے____اس نے دروازہ بند کر کے موبائل کو چارجنگ سے نکال کر بیڈ پہ بیٹھ گئی____
کنٹیکٹ اوپن کر کے وہ روحل آفتاب کا نمبر ڈهونڈنے لگی….
اور جلد ہی اس نے وہ نمبر حاصل کر لیا پھر وہ نمبر اپنے موبائل میں نوٹ کرنے لگی. .اس نے گهبرا کر دروازے کی طرف دیکها اور موبائل چارجنگ پہ لگا کر کمرے سے باہر نکل کر اپنے کمرے میں آئی……
سب سے پہلے اس نے اس نمبر پہ ایس ایم ایس کیا جس میں اس نے صرف سلام لکها….اس نے جواب کا انتظار کیا جو آدهے گهنٹے بعد ملا……
” Wa salam Kon..?”
اس نے میسج کو پڑها اور اس کا رپلائی لکهنے لگی…..
” I am Ayat and I want to meet you.”
( میں آیت ہوں اور تم سے ملنا چاہتی ہوں )
دوسری طرف سے جواب آیا…جو کافی دیر بعد دیا گیا تها. ……
” Why…?”
وہ جنجھلاہٹ کا شکار ہونے لگی. ….اس کا مطلب وہ اسے جانتا تھا اس لیے اس نے یہ نہیں پوچها کون آیت…
پهر اسے وہ چوڑیاں یاد آئیں __اب ساری بات وہ سمجھ چکی تهی ضرور اس لڑکے نے کہیں اسے دیکها ہوگا اور پسند کیا پهر وہ ابو کو متاثر کرنے کے لیے ان کا من پسند روپ دهارنے لگا ___اور اس دن وہ چوڑیاں بھی اسی نے ہی پهینکی تهیں مگر کہاں سے پهینکی گئیں تهیں یہ سمجهنا اس کی سوچ سے باہر تها __وہ جو بھی تها اس کے لیے وہ اپنے دل میں غصہ محسوس کرنے لگی تھی___
” Kal Subh 10 Bje city park me Thumara wait karon gi Aa jana…Why ka jawab thumen wohin mily ga…bye.. ..”
دهڑکن کی رفتار بے قابو تهی اسے ڈر تها کہیں کسی کو پتا نہ چل جائے…….
” Ok…..”
اس نے ایک ماتهے پہ آیا پسینہ صاف کیا..ایک کام تو وہ کر چکی تهی اب جانے آگے کیا ہونا تها…جو وہ سوچ رہی تهی وہ ممکن تها بھی یا نہیں. …لیکن کل کی کل دیکهی جائے گی اس نے سوچا…….
_ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _
نیلے آسمان کی چادر تلے دور دور تک پهیلا وہ خوبصورت پہاڑی علاقہ جو قدرتی حسن سے مالا مال تها …برف کی خوبصورت سفید چادر سے ڈهکے وہ پہاڑ اور ان کے درمیان درخت اس علاقے کی خوبصورتی میں چار چاند لگا رہے تهے……..
وہ گویا زمین پہ ایک جنت کا ٹکڑا ہو…خوبصورت پانی کے آبشار صبح صبح پرندوں کی خوبصورت چہچہاہٹ. .,
آنکهوں میں رنگ بهر دینے والا تھا وہ علاقہ..دل کو مسحور کر دینے والا وہ منظر. …….
[ دسمبر لوٹ آنا تم تحریر ناصر حسین ]
وہ ایک خوبصورت صبح تهی جب آسمان کو بادلوں نے اپنی لپیٹ میں لے رکها تها جو کسی بھی پل اس پہاڑی علاقے کو بهگو سکتے تھے. ..ٹهنڈی ٹهنڈی ہوا چل رہی تهی ..اس علاقے میں آبادی تقریباً نہ ہونے کے برابر تهی زیادہ سے زیادہ چالیس پچاس گهرانے تهے وہ بھی ایک دوسرے سے اتنے فاصلے پہ کہ سب کے درمیان ایک دوری حائل رہتی………
یہ گاوں شہر سے کافی دور ایک روپوش علاقے میں واقع تهی یہاں شہروں جیسی مصروف اور مشینی زندگی نہیں تهی سادہ سے لوگوں کی سادہ سی زندگی. ….
ایسا نہیں تها یہاں کے لوگ جاہل یا گوار تهے وہ سبهی نہایت سلجھے ہوئے اور نئے طرز سے زندگی گزارنے والے لوگ تھے لیکن پھر بھی شہری زندگی اور اس زندگی میں زمین و آسمان کا فرق تها…شاید یہی وہ فرق اس علاقے کو ایک خوبصورت گاوں بنا رہا تھا. ….
اور اسی گاوں کے ڈھلوان میں واقع وہ خوبصورت اور بڑی حویلی جو دو کنال کے رقبے پر پھیلی ہوئی تھی جس کے چاروں طرف چار فٹ کی دیوار تهی…….
اس حویلی کے آنگن میں ایک بہت بڑا آم کا درخت تها .ویسے عموماً ایسے علاقوں میں عام کے درخت ہوتے نہیں تهے لیکن کئی کئی مقامات پر پائے جاتے …
اسی بڑے درخت کی ایک ٹہنی پہ ایک کوئل اپنی خوبصورت آواز میں کوئی گانا گا رہا تها.. اور بهی کئی پرندے اس درخت کے اوپر اپنا آشیانہ بنائے ہوئے تهے اور اس درخت کی ایک شاخ پہ بہت بڑا جهولا بندها ہوا تها. …….
اور اس جھولے پہ ایک آٹھ سال کی خوبصورت بچی بڑے مزے سے جهولے لے رہی تهی __ہوا میں اڑتے کسی پرندے کی طرح مسکراتی__دنیا اور غموں سے بے خبر __وہ زور زور سے جهولے لینے میں مصروف تهی اتنی بے خبر تهی کہ اسے معلوم ہی نہیں ہو سکا اس کے پیچھے کون کهڑا شرارت سے اسے دیکھ رہا ہے__
کئی لمحے وہ اسے یونہی دیکهتا رہا پهر وہ آٹھ سال کا شرارتی لڑکا چپکے سے بنا کوئی آواز پیدا کیے آم کے درخت کے اوپر چڑھ گیا___وہ بچی ابهی بهی جهول رہی ہے اس نے نہ کسی کی آمد کو محسوس کیا اور نہ ہی محسوس کر سکتی تهی کیونکہ وہ اتنے مگن انداز میں جهولے لے رہی تهی _____
وہ لڑکا بالکل اسی شاخ پہ جا پہنچا جس سے جهولا بندها ہوا تها اس نے آہستہ سے جیب میں ہاتھ ڈال کر چهوٹا سا چاقو نکالا اور جهولے کی رسی کاٹنے لگا __اس کے ننھے اور شریر ہاتھ بڑی پھرتی سے رسی پہ چل رہے تھے_____
وہ لڑکی بے نیاز تهی __اور کوئی نغمہ گنگناتے ہوئے بڑے مزے لے رہی تهی نہیں جانتی تھی اگلے لمحے اس کے ساتھ کیا ہونے والا ہے__اس لڑکے نے مسکراتے ہوئے ایک آخری بار اس لڑکی کو دیکها اور اگلے ہی پل رسی ٹوٹ کر شاخ سے چهلک گئی اور وہ لڑکی زور سے جهولے کهاتے ہوئے اڑتی ہوئی منہ کے بل زمین پہ جا گری __ایک دلخراش چیخ اس کے منہ سے برآمد ہوا ___
” ہائے میں مر گئی “__وہ کراہتے ہوئے بولی اور اٹهنے کی کوشش کرنے لگی __کپڑے سارے خراب ہو گئے پاوں میں بھی ہلکے ٹیس کا احساس ہوا اسے___
وہ لڑکا زور زور سے قہقہے لگانے لگا __اس لڑکی نے قہقہہ سن کر پیچھے دیکها اور پهر درخت کے اوپر وہ بڑی بے نیازی سے امرود کها رہا تها اور ہنستے ہوئے اسے دیکھ رہا تھا__وہ کپڑے جھاڑتے ہوئے کهڑی ہوئی اس نے غصے سے مٹهیاں بهینچ لیں اور آنکهیں نکال کر اس لڑکے کو دیکهنے لگی____
” اوئے موٹے کهوتے دے پتر _بلی جیسی آنکھوں والے تیری ہمت کیسے ہوئی رسی کاٹنے کی”___اس نے زور سے چلا کر اپنا غصہ نکالنا چاہا لیکن اس لڑکے پہ جیسے بالکل اثر ہی نہیں ہوا ____
” دادی__دادی __”_اس بچی نے زور زور سے چلا کر دادی کو آواز دی ___
” ارے کیا مصیبت ہے کم بخت__اب کون سی آفت آ گئی کیوں گلا پهاڑ پهاڑ کر چلا رہی ہے _”__دادی لاٹهی سنبهالتی بہ مشکل باہر نکلیں __اس کی چیخ سن کر پورا گهر اکهٹا ہو گیا ___اماں، عروج، جنت اور دادی بھی___
” یہ دیکهیں دادی آپ کے لاڈلے نے کیا کر دیا”؟ گڑیا روتے ہوئے بولی اس کے ٹانگ میں ابهی بهی درد تها سب نے چہرہ گهما کر رام کو دیکها____
” ارے میں نے کیا کیا” __؟ وہ دنیا بهر کے معصوم لوگوں کا ریکارڈ توڑتے ہوئے بولا….
” تم نے جهولے کو کاٹ دیا اور میں نیچے گر گئی_اب معصوم بن کے ایکٹنگ کر رہے ہو__”وہ اسے چبانے کے لیے تیار کهڑی تهی __سب کی سمجھ میں نہیں آ رہا تها کیا کریں ____
” تم ثابت کیا کرنا چاہتی ہو گڑیا میں نے تمہیں گرایا ہے __
جاری ہے
