Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode32

December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode32

•••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••
اندھیری رات کو آیت اپنے آپ کو رسیوں سے آزاد کر کے بهاگ رہی تھی تیز تیز……
پورے ایک گهنٹے بهاگنے کے بعد وہ اب جا کر سڑک پر پہنچی…..
سڑک پر پہنچ کر وہ کوئی گاڑی وغیرہ لے گی یہی سوچ کر وہ نکلی تھی لیکن اتنی رات کو اس سنسان سڑک پہ کوئی گاڑی کہاں سے ملتی اسے….
البتہ وہ سڑک تها وقفے وقفے سے کوئی ٹرانسپورٹ والی گاڑی گزر ہی جاتی لیکن وہ اس کے اشارے کے باوجود بھی نہیں رک رہے تھے. ..دوپٹہ وہیں کہیں گر رہے تھے بهاگنے کی وجہ سے جوتی ٹوٹ گئی اب وہ ننگے پاؤں ننگے سر کهڑی تهی……
اس کا سانس پهولا ہوا تها…اچانک ایک چهوٹی سی کار اسے آتی دکهائی دی….اس نے کار کو اشارہ کیا کار زرا فاصلے پر جا کر رک گیا. ….اور ریورس ہو کر پیچھے آیا….اس کار والے نے بٹن کے ذریعے ونڈو کهولا. ..وہ اس کی مشکور ہو گئی. …اور مسکراتے ہوئے گاڑی میں بیٹهی. …گاڑی کی نرم سیٹوں پر اسے تحفظ کا احساس ہوا…….گاڑی چلنے لگی اس نے رحمت کے اس فرشتے کی طرف دیکها جو ڈرائیونگ کر رہا تھا. ….
” تهینکس. “..بڑی دیر بعد وہ بولی. ..اور اس نے سر سیٹ کی پشت پر ٹیک دیا…آنکهیں بھی بند کر دیں…
” نو پرابلم ڈارلنگ. “.اس نے جهٹکے سے آنکهیں کهول دیں..اس کا دماغ آواز کو پہچاننے کی کوشش کر رہا تھا لیکن آنکهیں اس سے پہلے ہی اس شخص کو دیکھ چکی تهیں…اسے ایک بار پھر سب کچھ وہیں لگا جہاں سے سب شروع ہوا تها……اس کا دل بری طرح دهڑک رہا تها وہ زور سے مائیکل کو گاڑی روکنے کا کہہ رہی تھی مگر وہ بے نیاز تها ایک دو بار اس نے شیشہ کهولنے کی بهی کوشش کی مگر کچھ بھی اس کے اختیار میں نہیں تها…وہ خود کو آکٹوپس کے گرداب میں محسوس کرنے لگی. …..مائیکل نے اس کی چیخوں اور مزاحمت سے تنگ آ کر اس بے ہوشی والا رومال سنگهایا اور اگلے ہی لمحے وہ ہوش و حواس کی دنیا سے باہر تهی……
[ دسمبر لوٹ آنا تم تحریر ناصر حسین]
_ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _
پوجا بستر پر لیٹی تھی جب فون کی گھنٹی بجی ..اس نے خمار آلود آنکھوں سے موبائل پر نمبر دیکها. .مائیکل کا نمبر دیکھ کر وہ چونک گئی….اس نے فون کال سے لگایا. ..تو مائی مائیکل نے اسے جو خبر سنائی وہ سن کر سناٹے میں آ گئی..مائیکل کہہ رہا تها وہ رات کو کلب سے واپس آرہا تها جب اتفاقاً اسے آیت ملی.اس نے اسے گاڑی میں لفٹ دی تهی.. ….یہ خبر حیرت کا پہاڑ توڑ چکا تها اس پر. ..وہ وہاں سے کیسے نکلی اس نے خود کو رسی سے کیسے آزاد کیا ہوگا..اور سب سے بڑی بات وہ راستہ ڈهونڈنے میں کیسے کامیاب ہوئی……کہیں انوشیر تو اس تک نہیں پہنچ گیا…نہیں نہیں انوشیر وہاں کیسے جا سکتا ہے انوشیر کو تو معلوم ہی نہیں تها وہ کہاں ہے اور وہ تو کچھ دن سے آیت سے ناراض تها تو….؟
” اب وہ کہاں ہے”.. اس نے مائیکل سے پوچها. …
” ریڈ لائٹ ایریا…” .مائیکل نے بتایا…..
” ریڈ لائٹ ایریا”. ..اس نام کو اس نے زیر لب دہرایا…اور مائیکل سے ایڈرس لے کر کاغذ پہ نوٹ کر لیا… .
اس کے ذہن میں ایک اور شیطانی خیال اچانک آیا…وہ مسکرا دی….
“تم کهبی میری چال سے نہیں بچ سکتیں آیت.”…اس نے سوچا اور موبائل سے ایک اور نمبر ملانے لگی. …
ہیلو لنڈن پولیس کالنگ. …موبائل سے آواز آئی. .
اس نے پولیس کو اس ایریا کے بارے میں انفارمیشن دی..اور انہیں ایڈرس بھی لکهوا دیا..وہ لنڈن تها وہاں کی پولیس منٹوں میں ریڈ لگاتی. ..آیت ہوگی جیل میں اور اس کی بدنامی الگ. ….وہ سوچ سوچ کر ہی مسکرا رہی تھی. …اور پهر کمبل اوڑھ کر سو گئی….
_ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _
انوشیر اس سنسان جنگل میں اتنی دیر سے آیت کو تلاش کر رہا تھا لیکن وہ اسے نہیں مل رہی تهی. ..پچهتاوا، افسوس ، دکھ، اضطراب، کیا تها جو وہ اس وقت نہیں محسوس کر رہا تھا …
[ دسمبر لوٹ آنا تم تحریر ناصر حسین]
_ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _
اس کی آنکھ کهلی. ..اسے تیز تیز روشنی کا احساس ہوا…اس نے آہستہ آہستہ سے آنکهیں کهولیں…اسے محسوس ہوا وہ بیڈ پر لیٹی ہوئی ہے. ..اس نے آنکهوں کو زرا دائیں طرف گهمایا اسے دیوار پہ لگی پینٹنگ نظر آئی…وہ پینٹنگ کسی لڑکی کی تهی جس کے تمام کپڑے غائب تهے تقریباً. ..وہ جهٹکا کر اٹھ بیٹھی. پهر اس نے چاروں طرف دیکها ایسے کئی اور نیم برہنہ پینٹنگز نظر آنے لگیں….اس نے سوچنے کی کوشش کی وہ یہاں کیسے آئی …..
“پکنک پلان..رابرٹ….پوجا….مائیکل. “…اسے سب یاد آ گیا…
“یہ کون سی جگہ ہے. .”.؟ وہ سوچنے لگی. .اس نے وہی کپڑے پہنے ہوئے تھے جو اس نے صبح سے پہنے تهے…وہ اٹھ کر دروازے تک آئی…دروازہ باہر سے بند ملا..اس کا خوف اور وحشت بڑهنے لگا….وہ سامنے لگے آئینے کے سامنے آئی …اسے اپنے وجود اجنبی لگا. .سامنے کهڑی لڑکی کوئی اور تهی….بال بکهرے ہوئے. ..چہرے پہ کئی جگہ دهول اور داغ کے نشان…
اسے دروازہ کھلنے کی آواز سنائی دی. .تیزی سے اس نے پلٹ کر دیکھا..ایک عمر کی خاتون جس کے بال سرخ تهے اندر داخل ہوئی..وہ جینز اور ٹی شرٹ میں ملبوس تهی اس کے چہرے پہ مسکراہٹ تهی….آیت اسے دیکهتی رہ گئی. …..
” تم جاگ گئی ہو.”؟ وہ انگریزی میں اس سے پوچھ رہی تھی. ..
” آپ کون ہیں اور میں یہاں کیسے آئی یہ کون سی جگہ ہے….؟” ایک ہی سانس میں اس نے کتنے سوال پوچھ ڈالے. ….
“:مجهے اپنی دوست سمجهو. .اور تم اس وقت ایک اچهی جگہ پہ ہو. “..اس عورت نے مسکراتے ہوئے کہا..اس کے کهلے سلکی بال کاندهوں پر گرے تهے…..
” اچهی جگہ..”.؟ اس نے نیم برہنہ پینٹنگز کو دیکها. ..
” یہ کون سی جگہ ہے”. …؟
” تم سا وقت ریڈ لائٹ ایریا میں کهڑی ہو..”..
“ریڈ لائٹ ایریا. .ریڈ لائٹ ایریا”. ..پورے کمرے میں انہی الفاظ کی بازگشت شروع ہو گئی…اس نے وحشت زدہ ہو کر ان پینٹنگز کو دیکها…
ریڈ لائٹ ایریا. ..اس کی اب یہی اوقات رہ گئی تھی. .وہ ایسے کیسے جگہ آنا تو دور نام بھی سننا نہیں چاہتی تھی اور قسمت کی سفاکی تو دیکهو اس لڑکی کو کہاں لا کر پهینک دیا….اسے لگا وہ ایک بار پھر اسی جنگل میں کهڑی ہے اسی درخت کے ساتھ بندھی ہوئی. ..اسے وہ کمرہ قبر لگنے لگا….قبر سے بھی بڑھ کر. ….
” مہ…مہ..میں یہاں کیسے آئی ..کون لایا مجھے. .اسے گهن آنے لگی اپنے آپ سے اور اس جگہ سے. “
“تمہارا بوائے فرینڈ لایا تها تمہیں. .اور تمہیں یہیں چهوڑ کر چلا گیا…”.
” بوائے فرینڈ. .مائیکل. “…؟
” نہیں وہ میرا بوائے فرینڈ نہیں تها. .اور میں میں ایسی لڑکی نہیں ہوں آپ پلیز. ..”اس خاتون نے اس کی بات کاٹ دی. ..
” شروع شروع میں سب یہی کہتے ہیں بعد میں ایڈجسٹ ہو جاتے ہیں. .ڈونٹ وری سب ٹهیک ہو جائے گا”. .
“سب ٹهیک ہو جائے گا. ..؟اب ٹهیک ہونے کے لیے کیا بچا تها…اس سے تو بہتر تها وہ وہیں جنگل میں ہی مر جاتی کوئی جانور اسے کها لیتا کم از کم یہ سب تو نہ دیکهنا پڑتا….”.
:”نو پلیز مجهے یہاں سے جانے دیں..”…وہ ان کے آگے ہاتھ جوڑنے لگی…خشک آنسو ایک بار پھر پهگلنے لگے.
“آئم سوری ڈیئر. ..اور یہ سیو جگہ ہے ٹینشن مت لو..یہاں تم کو بہت سارا پیسہ بھی ملے گا.” ….وہ خاتون باہر چلی گئی اور جاتے جاتے اس نے دروازہ بند کر دیا. ….وہ وہیں بیڈ پر گر سی گئی….
اسے ہر طرف اندھیرا ہی اندھیرا نظر آنے لگا..وہ اس اندهیرے میں کہیں غائب ہو چکی تهی .اس کا وجود کہیں کهو سا گیا تھا. ..قیامت کی گھڑیاں قریب تهیں اس کے لیے. ..موت کا منظر اس سے بڑھ کر تو نہیں ہوتا ہوگا….وہ چیخ چیخ کر رونا چاہتی تهی بے پناہ شدت سے….ریڈ لائٹ ایریا. .گناہ کا وہ دلدل جس سے نکلنے کا کوئی راستہ نہیں تها اس کے پاس. ….وہ جگہ جس کا نام اس کی سات پشتوں نے کبھی نہیں سنا وہ وہیں پہنچ گئی. ….
اب یہیں اس کی زندگی گزر جاتی..سب کچھ دهرا کا دهرا رہ گیا…اس کی یہی عزت رہ گئی تھی. ..خواہشوں کا یہ سفر اس کے خوابوں کا شہر اس کے لیے اتنے سارے امتحان چهپائے ہوئے تها…..
وہ آنسو پونچھ کر اٹھ کھڑی ہوئی…اس نے دروازے کو چیک کیا وہ بند تها….وہ اب اس دروازے کو زور زور سے پیٹنے لگی لیکن اس کی چیخ و پکار سننے والا کوئی نہیں تها. …..وہ کچھ بھی نہیں کر سکتی تهی ..کتنی بے بس ہو چکی تهی وہ…کتنی مجبور کتنی لاچار ہو گئی تهی…اس دلدل سے نکلنے کا کوئی راستہ نہیں تها…….
کمرے میں کهڑکی نہیں تهی اور نہ ہی کوئی دوسرا راستہ. .سب کچھ بند ہو چکا تها اس کی سانسیں بهی بند ہونے لگی تهیں……….
یہ تو طے تها اب وہ یہاں سے کهبی نکل نہیں سکے گی اسے یہیں رہنا ہوگا…اور یہاں رہنے کا کیا مطلب تها اپنا جسم بیچنا…..ہر رات جینا ہر رات مرنا..
وہ مسلمان گهرانے کی لڑکی یوں اس طرح اس گندے بازار میں لا کر پهینک دی گئی. ……
پل پل مرنے سے بہتر ہے وہ ایک بار مر جاتی…اس نے فیصلہ کیا ..خودکشی کرنے کا فیصلہ. ..اور وہ ادهر ادهر کوئی ہتھیار دیکھ رہی تھی جس سے وہ اپنی نبض کاٹتی….کچھ نہیں ملا اسے…….پهر اس کی نظر چهت والے پنکهے پر پڑی. …اس نے اپنے آپ کو لٹکانے کا فیصلہ کر لیا. ..اور وہ کسی کپڑے یا رسی کے لیے ادهر ادهر دیکهنے لگی. ..اسے الماری نظر آ گئی وہ دوڑ کر الماری تک گئی وہاں اسے ایک مفلر نما چهوٹا سا دوپٹہ ملا…..دروازے کو اس نے اندر سے بھی بند کر دیا تا کہ کوئی اسے روک نہیں سکے. …..
اس نے میز کو بیڈ کے اوپر رکها …اور میز کے اوپر وہ چهوٹی سی کرسی رکھ دی…اس نے مفلر کو مضبوطی کے ساتھ پنکهے سے باندھ دیا…..اب وہ اپنے گلے میں گرہ ڈالنے لگی…..
“لا الٰہ الا اللہ محمد رسول اللہ.” .اس نے کلمہ پڑها اور آخری گرہ لگایا. . وہ جانتی تهی خودکشی حرام ہے لیکن اس ذلت بهری زندگی سے عزت کی موت ہی بہتر نظر آئی اسے…….
گرہ لگانے کے بعد اس نے کرسی کو لات مار کر اپنے پاوں تلے ہٹانے کی کوشش کی لیکن اچانک ہی اس کی نظر فون پر پڑی. ….اسے ایسا لگا گهپ اندهیرے میں کوئی جگنو ہاتھ لگا ہے اس کے ……وہ فون کر سکتی تهی مگر کسے….؟ انوشیر کو…؟ ہاں اس کا نمبر اسے یاد تها…کیا وہ اس کی مدد کرے گا.؟ کیوں نہیں پہلے بھی کئی بار اس نے مدد کی. ..وہ سوچ میں پڑ گئی اس نے مفلر کو گلے سے نکالا اور چهلانگ لگا کر نیچے آئی…..جلدی جلدی وہ انوشیر کا نمبر ملانے لگی. ..اس کی قسمت اچهی تهی انوشیر نے پہلی ہی بیل پہ کال رسیو کر لی……
جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *