December Lout Ana Tum by Nasir Hussain NovelR50779 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode06
Rate this Novel
December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode01 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode02 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode03 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode04 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode05 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode06 (Watching)December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode07 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode08 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode09 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode10 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode11 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode12 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode13 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode14 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode15 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode16 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode17 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode18 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode19 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode20 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode21 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode22 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode23 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode24 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode25 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode26 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode27 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode28 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode29 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode30 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode31 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode32 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode33 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode34 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode35 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode36 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode37 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode38 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode39 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode40 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode41 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode42 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode43 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode44 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode45 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Last Episode
December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode06
December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode06
““““““““““““““““““““““““
لیکن اسلام قبول کرنے والی بات اس نے پہلی بار کہی تھی تو اس کا یوں ری ایکٹ کرنا لازمی تها……….
_ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _
اس دن اتوار کا دن تھا. .عروج اور گڑیا کو سکول سے چهٹی تهی اور وہ وہیں گهر پہ بیٹھ کر ہی آم لے نیچے گهر گهر کهیل رہی تهیں….چوہدری صاحب گهر پہ نہیں تهے وہ زیادہ وقت ادهر ادهر ہی گزارتے تهے….دادی رام کو اپنے زمانے کی کوئی کہانی سنا رہی تھیں اور وہ بھی ایسے ہی تاثر دے رہا تها جیسے اسے واقعی وہ کہانی سننے میں دلچسپی تهی……
اماں اپنے سر پہ خود ہی تیل لگا رہی تهیں…آسمان پہ پهر سے بادل چھائے ہوئے تھے …یہاں کا موسم ہی کچھ ایسا تها چوبیس گھنٹوں میں سے دس گهنٹے تو لازماً بادل نظر آتے…..
جنت نے اسکارف کو درست کر کے رسی اٹهائی اور پھر کلہاڑی….وہ لڑکیاں کاٹنے جا رہی تهی اسے تیار ہوتا دیکھ کر عروج اور گڑیا بھی تیار ہو گئیں اور رام بهلا کیوں پیچھے رہتا وہ بھی کهڑا ہو گیا. …..
اکثر اوقات وہ یوں ہی اس کے ساتھ لڑکیاں کاٹنے جاتے رہتے تھے. ..یہ الگ بات ہے پهر وہاں پہ بھی لڑائی شروع کر دیتے.. لڑائی ہمیشہ رام اور گڑیا کے بیچ ہی ہوتی عروج البتہ صرف انجوائے ہی کرتی..
جب وہ گهر سے نکلیں تو بادل مزید سیاہ ہوگئے…ہر طرف برف پڑی ہوئی تھی …اس علاقے کو سفید چادر نے مکمل طور پر ڈھانپ رکها تها. ..یہ کوئی نئی بات نہیں تهی یہاں ہر دوسرے دن برف باری ہوتی تهی…وہاں کے مقامی لوگ خیر اس برف باری سے زیادہ خوش نہیں تهے لیکن دور دراز سے آئے سیاہ اس منظر کو دیکهنے کے لیے پاکستان کے مختلف علاقوں سے آتے رہتے تھے. ………
عروج نے گڑیا کا ہاتھ پکڑ رکها تها اور رام نے جنت کی انگلی مضبوطی سے پکڑ رکهی تهی…اچانک رام کو شرارت سوجهی اس نے پاوں کو زرا سا پیچھے کیا وہ دونوں بہنیں بے خیالی میں ادهر ادهر دیکهتی آ رہی تهیں لیکن رام کے ٹانگ اڑانے سے گڑیا منہ کے بل گر پڑی…رام نے فوراً معصومیت کا روپ دھار لیا. .اور گڑیا بهائیں بهائیں شروع کر چکی تهی. …رام نے اس کا ہاتھ پکڑ کر اسے اٹهایا جیسے اسے گرانے والا کوئی اور تها. ..اور اٹهانے کے بعد وہ بڑی سنجیدگی سے کہنے لگا. .دهیان سے چلا کرو گر جاو گی. ..
گڑیا کا غصہ آسمان کو چهونے لگا..
دیکها آپ نے بوا کیسے اس بلی جیسی آنکھوں والے نے مجهے گرایا..وہ بنا آنسو کے رونا شروع کر چکی تهی. ……
“ارے میں نے کہاں گرایا . .”.؟ .رام بهر پور معصومیت سے کہنے لگا لیکن گڑیا بهلا کہاں سننے والی تهی..وہ اپنے ہاتھ رام کی گریبان تک لانے ہی والی تھی جب جنت نے اس کے ہاتھ پکڑ لیے…….
“بری بات ہے رام…”…جنت نے اسے تنبیہی نگاہوں سے دیکھا. …..
“چلو معافی مانگو گڑیا سے….”.اس نے مزید کہا. .رام کے لیے جیسے یہ بے عزتی کی بات ہو …وہ آنکهیں نکال کر گڑیا کو دیکھ رہا تھا. .جنت نے اس کے گال اپنے ہاتهوں میں لے کر اسے بڑی محبت سے سمجهایا…
“معافی مانگنے سے کوئی چهوٹا نہیں ہو جاتا رام. .اور جب غلطی انسان کی اپنی ہو تو اسے معافی مانگنے میں شرم نہیں کرنی چاہیے. ..معافی مانگنے سے دلوں کے میل دور ہو جاتے ہیں. .”……
“اوکے سوری…”..وہ جیسے خود پہ جبر کر کے بولا تها. .لیکن گڑیا اس معافی سے بھی کچھ خاص خوش نظر نہیں آ رہی تهی. ..اسے نصیحت کر کے وہ گڑیا کی طرف گهومی…..
“اب تم بھی اسے معاف کر دو…معاف کرنا بہت بڑی نیکی ہوتی ہے …ناراضگی کهبی بهی کسی مسئلے کا حل نہیں ہوتا بدلہ لینے سے بھی کچھ پہلے جیسا نہیں ہو سکتا ایسے میں معافی ہی وہ واحد شے ہے جو سب ٹهیک کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے. .”…
اس نے گهور کر رام کو دیکها اور نہ چاہتے ہوئے بھی اسے معاف کرنا پڑا…یقیناً وہ جنت کے مزید لیکچرز سننے میں دلچسپی نہیں رکهتی تهی…….
انہوں نے ایک بار پھر اپنا سفر شروع کیا. ..وہ چاروں کافی دور نکل آئے تهے…پهر ایک جگہ جنت کو خشک لڑکیوں کی ایک جھاڑی نظر آئی اس نے رسی وہیں پهینک دی اور کلہاڑی لے کر اس جھاڑی کے پاس پہنچ گئی…….آدهے گهنٹے میں ہی اس نے کافی لکڑیاں کاٹ لیں …ٹهنڈی ٹهنڈی ہوا سے سردی کا زور بڑهتا جا رہا تها لیکن وہ سبهی گرم لباس میں ملبوس تهے اس لیے انہیں زیادہ سردی محسوس نہیں ہو رہی تھی. …,
جنت نے بچوں کے لیے تین گهٹڑیاں بنائیں وہ تب تک برف کے گهر بناتے رہے ….
“میری ماں کہتی ہیں میں بہت شکتی شالی ( بہادر) ہوں جنت بوا اس لیے میں بڑی والی گهٹڑ اٹهاوں گا..”.. جب گهٹڑیاں تیار ہوئیں تبهی رام بولا. ..وہ مسکرا دی جبکہ گڑیا نے ناک چڑائی پهر وہ تینوں نے اپنے اپنے گهٹڑ اٹها کر گهر کی طرف روانہ ہوئے. ..وہ ابهی تک وہیں لکڑیاں کاٹ رہی تهی اس کی گهڑی ابهی ادهوری تهی …..وہ زور زور سے لکڑی پہ کلہاڑی سے وار کر رہی تهی …اس کے ماتهے پہ گرمی کے باوجود پسینہ تها وہ کافی تهک چکی تهی. ..وہ آج بھی روزے کی حالت میں تهی ..اللہ تعالیٰ کی عبادت کے لئے وہ رمضان کے مہینے کا ہی انتظار نہیں کرتی تهی اللہ تعالیٰ کی عبادت تو ہمیشہ کرنی چاہیے پهر کیا مخصوص دن اور کیا مخصوص راتیں……
بادل برس سکتے تھے مگر اس سے پہلے وہ گهر لوٹنا چاہتی تهی ..اس علاقے میں اس وقت اس کے علاوہ دور دور تک کوئی نہیں تها ہر طرف خوبصورتی سے پهیلا برف پڑا تها..
اور برف کے درمیان میں کچھ خوبصورت درخت بھی تهے ….پرندوں کی آوازیں دور سے سنائی دے رہی تهیں .وہ پورے انہماک اور محنت سے اپنا کام کر رہی تهی ….ابهی اسے زیادہ وقت نہیں ہوا تھا جب اچانک اس کے کانوں میں ایک زور دار آواز گونجی…….
وہ آواز اتنی دلخراش تهی کہ اسے کے چلتے ہاتھ اچانک رک گئے بے ساختہ گردن موڑ کر وہ دائیں بائیں دیکهنے لگی مگر دور دور تک کوئی نظر نہیں آ رہا تها. ..وہ آواز کسی کے چلانے کی آواز تهی جیسے کوئی رو رہا ہو یا پھر چیخ رہا ہو ایسا ہی کچھ تها…..کچھ دیر تک جب وہ آس پاس سے کچھ کھنگالنے میں ناکام ہوئی تو ایک بار پھر سے کام میں مصروف ہو گئی یہ سوچ کر کہ اس کا وہم ہو سکتا ہے. ……..
مگر ابهی کچھ ہی لمحے اور گزرے تهے جب وہ آواز آسمان کو چیرتی ہوئی ایک بار پھر اس کے کانوں میں پڑی….اسے ایک بار پھر کام روکنا پڑا. ریڑھ کی ہڈی میں خوف کی ایک لہر دوڑ گئی..پهر سے وہ ہر طرف دیکهنے لگی لیکن اس بار بھی اسے آواز دینے والا نہیں ملا….وہ کسی مرد کی آواز تهی اور آواز سے ہی اسے اندازہ ہو رہا تها وہ کسی مصیبت میں تها مگر کون اور کہاں تها…….؟
” Any Body please help me……”
اب کی بار آواز صاف صاف سنائی دی وہ کلہاڑی رکھ کر کهڑی ہو گئی. ..آواز اوپر پہاڑی سے ہی آ رہی تهی ..وہ سب کچھ وہیں چهوڑ کر پہاڑی کے اوپر چڑهنے لگی…..اور ساتھ ہی ساتھ درود پاک کا بھی ورد کر رہی تهی. …..
” کوئی ہے بچاو مجهے.”……
آواز مسلسل آ رہی تهی. خاموش ویران جگہ پہ وہ آواز پہاڑوں سے ٹکرا کر عجیب وحشت پیدا کر رہی تهی ..اس نے اپنے قدموں کی رفتار بڑها دی..اور تیزی سے اوپر چڑهنے لگی دل گهبرا رہا تها …..
دس منٹ بعد وہ پہاڑی کے اوپر تهی…اس نے آس پاس دیکها کوئی نظر نہیں آیا…پہاڑی کے اوپر نیچے کا پورا منظر صاف نظر آ رہا تها. ..اس نے اسکارف کو اچهی طرح اپنے گرد لپیٹ لیا …سردی کی وجہ سے اس کے ہاتھ کانپ رہے تھے اور وہ تشویش سے ادهر ادهر دیکھ رہی تھی. …….
وہ خالی آسمان تلے کهڑی تهی پرندے اڑتے ہوئے دور کہیں جا رہے تھے. ….
“کوئی ہے..”….آواز ایک بار پھر سے گونجی لیکن وہ اندازہ نہیں کر سکی کس طرف سے آئی…..وہ دوڑتی ہوئی بائیں جانب گئی جہاں ڈهلوان سا تها مگر وہاں پہنچ کر بھی اسے کچھ نہیں ملا……کچھ سوچ کر اس نے اپنے منہ کے گرد ہاتهوں کا گولا بنایا اور زور سے آواز دینے لگی……
” کہاں ہو. “….
” کہاں ہو….”.اس کی آواز بھی ان اونچے اونچے برف کے پہاڑوں کے درمیان گونج اٹهی. ….کچھ پل خاموشی رہی….پهر اس نے اس مرد کی آواز سنی…..
میں. ..میں. ..یہاں اس جهاڑی کے پاس…..اس کی آواز میں تهکاوٹ اور خوشی محسوس کی جا سکتی تهی. …اس نے آنکهوں کو حرکت دے کر جهاڑی کو تلاش کیا اور دور ہی اسے جهاڑی دکهائی دی…وہ بهاگتی ہوئی وہاں تک گئی جہاں گہری کھائی تهی نیچے نیچے دور دور تک اور جهاڑی کی ایک شاخ کو پکڑے ہوئے وہ گورے سے ہاتھ جن میں خوبصورت ہینڈ واچ بندهی تهی…اس کا چہرہ نظر نہیں آ رہا تها وہ بری طرح سے لٹکا ہوا تھا جهاڑی پر سے اس کے ہاتھوں کی گرفت کسی بھی پل چهوٹ سکتی تهی. .وہ جهاڑی اس پہاڑی کے اختتام پہ کچھ اس انداز سے تهی جسے پکڑ کر وہ لٹک تو سکتا تها مگر اس کا سہارا لے کر وہ اوپر نہیں چڑھ سکتا تها ………
.ایک لمحہ کهڑی وہ اس کے ہاتھ کو دیکهتی رہی پهر اس نے اسکارف سے چہرے کو ایسے لپیٹا جس سے صرف دونوں آنکهیں نظر آتیں….وہ ابهی بهی بری طرح ہاتھ پاؤں مار رہا تھا …اسے یہاں تک کس نے پہنچایا یہ سوچنے کا وقت نہیں تها اور نہ ہی وہ سوچنا چاہتی تهی وہ آہستہ آہستہ چلتی ہوئی آگے بڑهی تبهی اسے کهائی کی گہرائی کا اندازہ ہوا….وہ اس لڑکے کی وحشت سمجھ سکتی تهی لیکن سوال یہ تھا وہ اسے کیسے وہاں سے نکالتی…….اسے دیکھ کر اس لڑکے کی جان میں جان آئی ہوگی یقیناً وہ بہت خوش ہوا تها مگر وہ اس کے چہرے کو نہیں دیکھ رہی تھی ..وہ بس اسے نظریں چرا رہی تهی غیر مردوں کو وہ کهبی نہیں دیکهتی تهی لیکن یہاں معاملہ کچھ الگ تها. ……….
کیا کرتی وہ ….؟ اگر اسے ہاتھ دیتی اور وہ اس کا ہاتھ پکڑ کر کهینچتا تو کوئی شک نہیں تها اس کے ساتھ وہ خود بھی اس کهائی میں گر جاتی کیونکہ وہ کافی مضبوط اعصاب کا توانا مرد تها اور وہ ایک نازک سی لڑکی….
وہ اس کے ہاتهوں کو دیکهتے ہوئے اسے وہاں سے نکالنے کے لیے کوئی راستہ سوچ رہی تهی. ..وہ اسے رسی کے ذریعے با آسانی نکال سکتی تهی …لیکن رسی وہ اس پہاڑی سے نیچے اس گهٹر کے پاس چهوڑ آئی وہاں وہ نہیں جا سکتی تھی اگر جاتی اور یہاں جهاڑی کا حصہ ٹوٹ جاتا یا اس کے ہاتهوں کی گرفت چهوٹ جاتی تو…..؟
وہ یہاں اپنے کچھ دوستوں کے ساتھ سیر کرنے آیا تھا وہ پاس ہی ایک بہت بڑے ہوٹل میں ٹھہرے تهے ..
اس دن بارش اور برف باری کا امکان تها تو وہ سب اسی طرف پہاڑوں پہ نکل آئے ….آہستہ آہستہ سبهی اپنی مرضی کے نظارے دیکهنے کے لیے ادهر ادهر بکهر گئے …..روہاب بھی سب سے الگ ہو کر اس طرف آ گیا وہ یہاں وہاں کئی مقامات پر قدرتی حسن سے لطف اندوز ہوتا رہا اور کئی خوبصورت منظر تصویر کی شکل میں اس نے اپنے موبائل میں بھی قید کیے……
پہاڑی کا اختتام دیکهنے کا اسے تجسس ہوا…اور وہ اس طرف چلا آیا….ایسا نہیں تها اسے کهائی نظر نہیں آئی وہ کهائی دیکھ چکا تھا اور وہ کهائی اب تک کہ سبهی جگہوں سے اسے خوبصورت لگا….جب اس نے اتنی ساری تصویریں بنائیں تو وہ اس خوبصورت کهائی کو بهلا کیوں مس کر دیتا….یہی سوچ کر اس نے مختلف انداز میں چار پانچ تصاویر نکالیں…..پهر اس کے دل میں خواہش ابهری اس خوبصورت کهائی کے ساتھ کیوں نہ اپنی بهی تصویر بنائی جائے. .البتہ وہ یہ نہیں جانتا تھا وہ تصویر اس کے لیے سب سے زیادہ خطرناک ثابت ہونے والی ہے… سوچ آتے ہی اس نے کیمرے کو فرنٹ پہ لگا دیا اور خود جا کر کهائی کے سر پہ کهڑا ہو گیا جہاں سے وہ کسی بھی پل گر سکتا تها اور وہ گرا تها…..اس کا توازن اچانک ٹوٹ گیا اور سب سے پہلے موبائل اس کے ہاتهوں سے چهوٹ کر اس کهائی میں جا گرا ابهی تک وہ مکمل حیران بھی نہیں ہو پایا جب اس کا پاؤں پهسلا اور وہ اڑتا ہوا کسی پتنگ کی طرح اس کهائی میں گرنے لگا…..ہاتھ پاؤں زور سے مارتے ہوئے اس کے ہاتهوں میں جو چیز آئی وہ ایک کانٹے دار جهاڑی تهی جس سے اس کے ہاتھ بھی زخمی ہوئی مگر اس معمولی زخم کے بارے میں سوچنے کی فرصت اسے کہاں تهی………..
موت اسے بالکل اپنے پاس دکهائی دینے لگی…ایسے مناظر اب تک وہ صرف انگلش فلموں میں ہی دیکهتا آیا تھا مگر اس دن افسوس کی بات یہ تهی وہ کوئی فلم نہیں تها وہ ایک حقیقت تهی….اور وہ خود کو قبر میں محسوس کرنے لگا ..اس نے نیچے کهائی کی طرف دیکها اس کی آنکھیں خوف سے پهیل گئیں. ……
وہ کهائی کسی اژدھے کی طرح منہ کهولے اس کا منتظر تها…..جو کسی بھی پل اسے نگل سکتا تها اس وقت اسے کهائی سے یہاں تک وہاں موجود ہر شے سے وحشت ہونے لگی. ….تهوڑی دیر پہلے وہ کهائی اسے دنیا کا سب سے خوبصورت مقام لگ رہا تها لیکن اب وہ موت کا سماں پیش کر رہا تها. ….
اسے اپنا دل بند ہوتے ہوئے محسوس ہوا…موت سے کون نہیں ڈرتا وہ بھی اسے اتنے پاس دیکھ کر. . وہ جتنی زور سے چلایا سکتا تها چلایا …..اس کی آواز کے میں جواب صرف پہاڑ بول رہے تھے. …کسی انسان کا دور دور تک کوئی نشان نہیں تھا. …….
کچھ لمحوں پہلے وہ زندگی کے حسین لمحوں کو کتنی خوبصورتی سے انجوائے کر رہا تها اور کچھ لمحوں بعد. [ دسمبر لوٹ آنا تم تحریر ناصر حسین ] ..؟
اسے وقت اسے آسمان پر اڑتے ہوئے کووں پر بھی رشک آیا…اسے آس پاس موجود ہر شے پہ رشک آ رہا تها. ..ترس اسے صرف اپنے آپ پر آ رہا تها. …وہ اگر رونا چاہتا تو رو بهی نہیں سکتا تھا. ..یہاں ان ویران برف کی پہاڑیوں میں کون اس کے آنسو دیکهتا…کون اس کی فکر کرتا….وہ بھی کچھ دیر بعد اسی برف کا حصہ بن جاتا اور کسی کو اس کی لاش بھی نہیں ملنی تھی. …
وہ ناکامی کے باوجود بھی خاموش نہیں ہوا…چلاتا رہا اپنی پوری طاقت لگا کر. . شاید کوئی مسیحا آ جائے شاید کوئی اس کی آواز سن لے…..
امید. ..امید. …اور امید. …وہاں ان پہاڑوں کے درمیان صرف یہی وہ واحد چیز تهی جو موت سے لڑتے ہوئے اس لڑکے کے پاس باقی تهی….اپنی ہر کوشش کر لینے کے بعد اسے کوئی اور آ گیا جو اسے دیکھ رہا تھا ..جو اس کے پاس تها…پهر اس نے اسے بھی پکارا جی جان لگا کر. …رو رو کر…ایک ایک نیکی ایک ایک عبادت جتا کر. …..تب آدهے گهنٹے بعد اس نے ایک لڑکی کی آواز سنی…..وہ آواز اس کے کانوں میں ایک خوبصورت سر کی طرح پڑی…اور تب اسے پہلی بار احساس ہوا اس کی دعا قبول ہو گئی. ..
جنت جنجھلائے ہوئی کهڑی تهی. . اس کی سمجھ میں نہیں آ رہا تها وہ کیا کرے…پهر اسے ایک خیال آیا….
اگر وہ اپنا اسکارف اتار کر اسے جهاڑی سے باندھ دے تب شاید وہ اس کی مدد کر سکتی تهی لیکن. ..؟
لیکن میں نے تو آج تک کسی بھی غیر مرد کو اپنا چہرہ نہیں دکهایا اور یہاں ایسے….نہیں نہیں یہ نا ممکن ہے میں ایسا نہیں کر سکتی میں اپنا اسکارف نہیں اتار سکتی……
” What You Doing help me…”
( کیا کر رہی ہو میری مدد کرو )
کافی دیر اس کی مدد کا انتظار کرنے کے بعد وہ زچ ہو کر بولا…وہ ابهی بهی ہاں اور ناں کے کشمکش میں تهی اور اس کی آنکھوں میں ایک امید تهی ….وہ اپنا اسکارف نہیں اتار سکتی اور ناں ہی کسی غیر مرد کو اپنا چہرہ دکها سکتی تهی….مگر وہ اسے یوں مرتا ہوا بھی نہیں دیکھ سکتی تهی. ……
جس نے ایک انسان کی جان بچائی گویا اس نے ساری انسانیت کی جان بچائی……یہ جملہ کسی اسم اعظم کی طرح اس کے کانوں میں گونجا اور اس نے ایک بهی سکینڈ مزید ضائع کیے بنا اسکارف اتار کر اس جهاڑی سے باندھ دیا…
پهر اس نے جهاڑی سی بندهی اسکارف کو ایک ہاتھ سے مضبوطی سے قابو کیا اور لیٹنے والے انداز میں وہ کهائی کی آخری حد تک پہنچی. ……
اس نے بنا روہاب کی طرف دیکهے ہاتھ نیچے کیا… اسے ایک بار سرسری سا دیکهنے کے علاوہ اس نے ایک بار بھی اس غور سے نہیں دیکها…….
لیکن اس لمحے روہاب کو کیا ہوا جب اس نے اپنا ہاتھ آگے بڑهایا تها وہ کیوں برف بن گیا..وہ اس کے ہاتهوں کو نہیں اس جهاڑی کو ٹوٹتے ہوئے نہیں وہ تو صرف جنت کو دیکهے جا رہا تها. …کیا تهی وہ کوئی انسان. .یا پریوں کے دیش سے آئی کوئی پری. …
ایسا صاف شفاف چمکتا چہرہ اس کی آنکھوں نے کهبی نہیں دیکها..دنیا جانے کس جنت اور کن حوروں کی باتیں کرتے ہیں. ..وہ جو اللہ کی تخلیق کی اس خوبصورت نقش و نگاری کو دیکھ رہا تھا کیا پریاں اور حوریں اس سے بھی خوبصورت ہوتی ہیں. …..
.اور یہاں اس وقت اس لمحے وہ کیا دیکھ رہا تھا. …
جنت کو دیکهتے ہوئے اسے ایک پل بھی یہ یاد نہیں تها وہ اس وقت کہاں تها اور اسے کیا کرنا چاہیے تھا. .تهوڑی دیر پہلے جو وہ رو رو کر اپنے لیے زندگی مانگ رہا تھا تو اب کیوں کوئی تمنا باقی نہیں رہی تھی. ..
” تیرے انکھیاں جادو میرے دل تے کیتا ____
بهر کے زہر پیالہ میں تے آپے پیتا_____”
تو کیا وہ سبهی شاعر سہی کہتے تھے. ..
” ہاتھ پکڑیں میرا….”.جنت کی آواز آئی. .اس کے ہونٹ ہلتے ہوئے دکهائی دیے مگر اس کے سماعتوں کو کیا ہوا وہ کچھ سن کیوں نہیں پا رہا تها. …….
جلدی کریں جهاڑی ٹوٹ رہی ہے …..اور یہ وہ پہلا جملہ تها جو اسے سنائی دیا…اس کے سماعت واپس لوٹ آئے اب اسے پرندوں کی چوں چوں اور جھینگروں کی آوازیں بھی سنائی دینے لگیں……اس نے جنت کے ہاتھ کو دیکھ کر اپنا ہاتھ آگے بڑهایا اور اس ہاتھ کو مضبوطی سے تهام لیا….اس وقت کون سا لمحہ تها یہ صرف وہی محسوس کر سکتا تها اندر کہیں جنگ جاری ہو چکی تهی. …جنت نے سکارف کے ذریعے خود کو اوپر کهینچا اور وہ بھی زور لگا کر اپنے آپ کو اوپر کی طرف گهسیٹ رہا تھا .دو منٹ کی جدوجہد کے بعد وہ اس پہاڑی کے اوپر تها …..
اس نے اپنے آپ کو نہیں دیکها اس نے یہ نہیں دیکها وہ بچ گیا موت کے منہ سے جاتے جاتے لوٹ آیا…وہ تو بس یک ٹک بنا پلکیں جهپکائے جنت کو دیکهے جا رہا تها جو جلدی جلدی اسکارف جهاڑی سے علیحدہ کر رہی تهی. ……
[ دسمبر لوٹ آنا تم تحریر ناصر حسین ]
پهر اس نے اس لڑکی کو اسکارف چہرے پر باندھتے دیکها. ..وہ اب بھی وہیں کهڑی تها اسے دیکهتے ہوئے …آس پاس وقت کی سوئی جیسے رک سی گئی ہو. ..کائنات کی ہر شے تهم گئی ہو اس لمحے. …
پهر اس نے اس لڑکی کو پلٹتے اور اپنی طرف گھومتے دیکها…اس نے جونہی پیچھے پلٹ کر دیکها اس کی آنکھیں سیدها اس لڑکے کی آنکهوں سے ٹکرائیں…وہ ہلنا بهول گئی یہی وہ قیامت کا لمحہ تها .اس نے اپنی دهڑکن کو دهک دهک کرتے سنا..پهر اس نے اپنے وجود کو برف ہوتے دیکها ..بس کچھ پل محض کچھ پل وہ اسے دیکهتی رہی. .. اور پهر اس سے نگاہیں ہٹا کر یوں بهاگی جیسے وہ کوئی سانپ ہو…..
جیسے وہ کوئی گلیشیر ہو جو ٹوٹ کر اس کے پیچھے بہتا چلا آ رہا ہو…وہ بهاگتی ہوئی بنا آگے پیچھے دیکهے پہاڑی سے نیچے اتر رہی تهی. …اسے نصیحت معلوم وہ زندگی میں کهبی کسی شے سے اتنا ڈری ہو جتنا وہ اس وقت اس لمحے اس لڑکے سے ڈر کر بهاگ رہی تهی. ….اور شاید وہ اس سے نہیں اپنے آپ سے اپنے دل سے دور بهاگ رہی تهی وہ دل کی آواز سننا نہیں چاہتی تھی لیکن دل پہلی بار کچھ بول رہا تھا. …
” تیرے انکھیاں جادو میرے دل تے کیتا ____
بهر کے زہر پیالہ میں تے آپے پیتا_____”
وہ وحشت زدہ ہو کر بهاگی جا رہی تهی. ..جتنی تیز وہ بهاگ سکتی تهی. ..یہ فاصلہ اوپر جاتے ہوئے اس نے دس منٹ میں طے کیا اور نیچے آنے کے لیے اسے صرف ایک منٹ لگا _____
اسے یاد نہیں تها وہ لکڑیاں کاٹنے آئی تهی اسے یاد نہیں تها وہ گهٹر اور رسی یہیں چهوڑ کر جا رہی تهی اسے یاد تها تو صرف اتنا کہ اسے بهاگ کر جانا ہے دور بہت دور. ..دل کی آواز سے دور…….
” یا اللہ مجهے گمراہ ہونے سے بچا ” …..
وہ دوڑتی ہوئی گر پڑی اور پهر سے کهڑی ہو کر دوڑنے لگی زیادہ دوڑنے کی وجہ سے اس کے پاوں شل ہو چکے تهے سانس پهولا ہوا تها. .مگر اس میں حساسیت کی حس ختم ہو چکی تهی. …..
” یا اللہ میرے دل میں نور بهر دے.” ….گالوں پہ کوئی سمندر تها جو بہتا جا رہا تھا اس نے بهاگتے ہوئے ایک بار بھی پیچھے مڑ کر نہیں دیکها اگر مڑ کر دیکهتی تو پتهر ہو جاتی……..
_ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _
دس بجنے میں پندرہ منٹ باقی تھے. ..آیت اس وقت سٹی پارک کے ایک بنچ پر بیٹهی تهی …. اور بار بار موبائل پہ ٹائم دیکھ رہی تھی. .وہ اس وقت نیلے فراک میں ملبوس تهی کاندھوں پہ سفید دوپٹہ تها…بالوں کو پونی میں قید کر کے وہ پیچھے کندهے پہ دھکیل چکی تهی. .اس کے چہرے سے ہی اضطراب واضح نظر آ رہا تها. اس نے روحل کو اسی پارک میں ملنے کے لیے بلایا تها لیکن وہ ابهی تک نہیں آیا…اور اس لیے نہیں آیا کیونکہ مقررہ وقت سے وہ بیس منٹ پہلے آئی تهی اور پہلے اس لیے آئی تهی کیونکہ اس کے دل دماغ پہ ایک بوجھ تها……..
مگر وہ ڈر بھی بہت رہی تهی اسے نہیں معلوم تها آگے کیا ہونے والا ہے وہ جو کرنے آئی تهی وہ کافی حد تک رسکی کام تها لیکن کچھ کام رسک لیے بنا نہیں ہو سکتے. ……
بہرحال یہ تو اسے کرنا ہی تها وہ اپنے لندن جانے والے خواب کے ساتھ سمجهوتہ کهبی نہیں کر سکتی تهی اور حالیہ دور میں اس کی راہ کی رکاوٹ یہی رشتہ تها __
اس نے بے تابی سے ایک بار پھر وقت کو دیکها__صرف پانچ منٹ ہی وقت آگے بڑها __پتا نہیں کهبی کهبی گهڑی کی سوئیاں اتنی سست ہو جاتی ہیں یا انسان بہت تیز ہو جاتا ہے__بہرحال وقت انسان کا محتاج نہیں ہے انسان کو وقت کے ساتھ ساتھ چلنا پڑتا ہے ___
پارک میں بیٹهے لوگ کهیلتے بچے __وہ درخت جس کے سائے تلے وہ بیٹهی تهی پہلی بار ان سب سے وہ الجهن محسوس کرنے لگی__ جب کچھ اچھا نہیں ہوتا تو کچھ اچها نہیں لگتا __
اور اس وقت جب موبائل نے وقت مکمل ہونے کی اطلاع دی تبهی اسے پارک کے دروازے سے ہی ایک شخص اپنی طرف آتا دکهائی دیا ___
جانے وہ کهڑی کیوں ہو گئی __اس کے چلنے کا انداز کافی حد تک متاثر کون تها __آنکهوں پہ سن گلاسز چڑھائے ہوئے تهے اس نے___ ہلکی سی چهوٹی داڑھی اور درمیانہ قد ___کافی گڈ لکنگ تها __لیکن اس حد تک بھی نہیں جہاں تک مما نے تعریف کی __
اس نے پاس آتے ہی اسے سلام کیا سلام کا جواب دینے کے بعد آیت نے اسے بیٹهنے کی آفر کی وہ بے تکلفی سے بیٹھ گیا وہ بھی جهجکتے ہوئے بیٹھ گئی سامنے والا بندہ کافی پر اعتماد نظر آ رہا تها لیکن اسے اپنا اعتماد کیوں رخصت ہوتا نظر آیا وہ چاہ کر بھی پہلے جیسا خود کو ریلکس نہیں کر پا رہی تهی___
دل کی حالت خراب ہوتی جا رہی تهی جو بات وہ کہنے جا رہی تهی اس کے لیے اسے ہر قسم کے ری ایکشن کے لیے تیار ہونا تها_____
وہ اسے سوالیہ نگاہوں سے دیکھ رہا تھا ملنے کے لیے اس نے بلایا تها تو بات بھی اس نے ہی شروع کرنی تهی __اگر وہ لندن کے خواب کو الگ رکھ کر سوچتی تو اس میں بظاہر کوئی خامی نہیں تهی وہ ایک اچها جیون ساتھی ہو سکتا تها __لیکن لندن جانے کا خواب ہر شے کے بیچ میں آ رہا تها _
کچھ سکینڈز اسے دیکهنے کے بعد اس نے گلہ کهنگار کر بات شروع کرنے کی کوشش کی ___اور وہ خود کو پہلے کی نسبت پرسکون کر چکی تهی ___
” دیکهے جو بات میں کہنے جا رہی ہوں ہو سکتا ہے آپ کو عجیب لگے یا آپ کو برا لگے لیکن مجهے یقین ہے آپ میری مجبوری سمجهیں گے “___
بنا تہمید کے ہی اس نے صاف صاف بات کرنے کا فیصلہ کیا تها__وہ غور سے اسے سن رہا تھا اور اس کے منہ سے نکلنے والے اگلے جملے کا منتظر نظر آ رہا تها …
“میں آپ کے ساتھ کوئی رشتہ نہیں بنانا چاہتی …یہ رشتہ میرے گهر والے میری مرضی کے خلاف کر رہے ہیں جس شخص کو میں نے دیکها نہیں جس سے ملی نہیں اس کے ساتھ میں اپنی زندگی کهبی نہیں گزار سکتی”. ……
جاری ہے. .. ..
