Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode11

December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode11

. رسی ایک طرف رکھ کر اس نے کلہاڑی اٹهائی ..گڑیا تب تک برف کا گهر بنانے لگی. ..بادل پہلے کی نسبت کم ہو چکے تهے لیکن سردی کا زور ویسے ہی برقرار تها….
وہ پورے انہماک سے لکڑیاں کاٹنے میں مصروف ہو گئی. .جب سکینڈ کے ہزارویں حصے میں اسے محسوس ہوا جیسے اس کے پیچھے کوئی کهڑا ہے تیزی سے گردن گهما کر دیکهنے پہ وہ پتهر ہو گئی جیسے ایک ہفتہ پہلے ہوئی تھی. …..
سامنے نظر آتے منظر پہ یقین مشکل تها لیکن نا ممکن نہیں. .وہ اسے اتنی بار دیکھ چکی تهی اب جب حقیقت میں وہ اس کے سامنے تها تو اسے وہ بھی وہم ہی لگ رہا تها. …وہ سانس لینا بھی بهول گئی دونوں کی نگاہیں ایک دوسرے کا طواف کر رہی تهیں..
جسم کے اندر کچھ تها جو اپنی نارمل رفتار میں نہیں تها..یا اللہ یہ کوئی خواب تها کوئی حسین خواب جسے وہ چهو کر دیکهتی تو تحلیل ہو جاتا مگر وہ اس طرح یوں یہاں. …
پهر اسے یاد آیا اس کا چہرہ کهلا ہے اس نے شال کو انگلی کے ذریعے منہ پہ لپیٹا اور اسے مکمل طور پر نظر انداز کرتی بیٹھ کر رسی کو یوں ہی خواہ مخواہ بنانے لگی اس کے ہاتھ بری طرح کانپ رہا تھے بہت جلد ہی اسے احساس ہوا ہاتھ سردی کی وجہ سے نہیں کسی اور وجہ سے کانپ رہے ہیں اور وہ بھی ہاتھ باندھ کر جیسے اس کی گهبراہٹ کو انجوائے کر رہا تها. ….
اسلام و علیکم. …..وہ کتنی دیر بعد بولا اور تب اسے محسوس ہوا وہ کوئی خواب نہیں. .تصویر خواب ہو سکتی ہے لیکن آواز. ..؟ وہ آواز جو اس کے کانوں میں قید ہو چکی تهی …اور وہ سلام کا جواب دینا چاہ رہی تھی اسے نے منہ کهولا ہونٹ ہلائے مگر آواز کیوں اٹک گئی تهی …..
گڑیا بھی کهیلتے کهیلتے اسے یک ٹک دیکهے جا رہی تهی مگر ان دونوں میں سے کوئی اس کی طرف متوجہ نہیں تها. ….
“میں نے اس دن بہت انتظار کیا تها آپ کا لیکن آپ نے پیچھے مڑ کر ہی نہیں دیکها .رات تک میں انہی پہاڑوں پہ کهڑا رہا ان برف اور درختوں میں آپ کو ڈهونڈتے ہوئے مگر آپ مجهے نہیں ملیں….پهر میں اگلی صبح یہاں آیا اور مغرب تک کھڑا رہا اور اس طرح میں پورا ہفتہ یہاں آتا رہا…..صبح سے رات تک صرف آپ کا ہی انتظار کرتا مگر آپ جانے کہاں کهو گئیں تهیں…میرا پورا ٹرپ واپس چلا گیا میں اکیلا رہ گیا صرف آپ کو پهر سے دیکهنے کے لیے اور میں ہمیشہ یوں ہی آتا صبح سے شام تک جب تک آپ مجهے نظر نہ آتیں ……چاہے صدیاں گزر جاتیں ….یہ کیا کر دیا آپ نے. ..؟ آپ نے اس دن میری جان بچا کر بھی میری زندگی لے لی آپ نے مجهے دنیا سے ہی غافل کر دیا کون سا جادو کیا ہے آپ نے. …”..؟
وہ ہل نہیں سکی….وہ پوچھ رہا تها کون سا جادو کیا ہے آپ نے اور وہ بھی اس سے پوچهنا چاہتی تهی کہ اس نے یہ کیا کر دیا ہے…؟ مگر زبان ایک بار پھر بولنے سے انکاری ہو گئی وہ ساکت وجود لیے وہیں بیٹهی رہی ہل بھی نہیں پا رہی تهی کوشش کے باوجود بھی نہیں. …….
[ دسمبر لوٹ آنا تم تحریر ناصر حسین]
“مجهے کچھ کہنے کی ضرورت نہیں ہے میری آنکهیں سب کچھ کہہ رہی ہیں آپ ان میں لکهی ہوئی تحریر پڑھ سکتی ہیں. ..پہلے اگر زندگی کے لیے سانس کی ضرورت تهی تو اب آپ بھی سانس بن گئی ہیں ..آپ پلیز کچھ بولیں اس طرح یوں خاموش نہ رہیں آپ اس دن بھی خاموش تهیں آج بھی خاموش ہیں لیکن آپ کی آنکهیں بول رہی ہیں. .سب کچھ جو آپ نہیں کہہ پا رہی ہیں”. ……وہ کچھ اور بھی کہنا چاہتا تھا مگر وہ کهڑی ہو گئی….اس نے محسوس کیا ہے کهبی کهبی سانس لینا بھی مشکل ہوتا ہے. ..
وہ کہہ رہا تها آپ خاموش نہ رہیں وہ اس سے کہنا چاہتی تھی آپ نے مجهے بولنے کے قابل ہی کہاں چهوڑا ہے اور یہ آنکهیں یہ ہمیشہ دل کی چغلی کیوں کرتی ہیں. ..وہ خاموشی سے گهٹر اٹها کر اپنے سر پر رکهنے لگی اور گڑیا کی انگلی پکڑ کر جانے لگی…وہ اسے چھوڑ کر جا رہی تهی بالکل ویسے جیسے اس دن چهوڑ گئی تھی لیکن آج وہ اپنے آپ کو بھی یہیں انہی پہاڑوں میں چهوڑ کر جا رہی تهی بالکل ویسے جیسے اس دن چهوڑ کر گئی تھی. …….
“کل کو میں آپ کا انتظار کروں گا…”….وہ کہہ رہا تها. اور کیوں کہہ رہا تها ..یہ شخص پہلے بھی اس پہ قاتلانہ حملہ کر چکا تها وہ اسے ایک بار پھر سے گهائل کر گیا.اف یہ محبت. ..
“محبت. ..”.؟ آسمان پہ اڑتے چڑیوں نے چوں چوں شروع کر دی …تو کیا میں اس سے محبت کرتی ہوں دل آج کون سا سچ بتا رہا تھا اسے……
بڑی دیر بعد اسے احساس ہوا اس کے گالوں پہ کچھ پانی ہے…وہ جانتی تھی وہ پیچھے کهڑا ہو کر اسے دیکھ رہا ہوگا اور تب تک دیکهے گا جب تک غائب نہ ہو جاتی وہ…..لیکن وہ تو غائب ہو چکی تهی اب کیا بچا تها. ..
“جنت بوا یہ کون تها..”..؟ گڑیا بار بار پیچھے مڑ کر اس شخص کو دیکھ رہی تھی. …وہ کیا کہتی اب اس سے. .”گڑیا تم گهر میں کسی کو نہیں بتاو گی اس شخص کے بارے میں”. …اس نے سختی سے اسے منع کیا. ..
” کیا میں جهوٹ بولوں.”..؟
” نہیں تم صرف سچ چهپانا. ..”.وہ بهرائی ہوئی آواز میں بولی. …
” سچ چهپانا بھی ایک قسم کا جهوٹ ہے ناں…”.؟ اس نے معصومیت سے پوچھا. .اور اس کے منہ پہ تالا لگ گیا یہ سبق اس نے گڑیا کو خود ہی سکھائی تھی اور آج…؟
اس نے کوئی جواب نہیں دیا جواب تها ہی نہیں شاید.
باقی کا راستہ خاموشی سے طے ہوا……
_ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _
اگلے دن وہ اس کے کہنے کے باوجود بھی نہیں گئی اسے معلوم تھا وہ وہیں پہاڑوں پر اس کا انتظار کر رہا ہوگا اور مغرب تک وہیں کهڑا رہے گا لیکن وہ پهر بھی نہیں گئی..ایسا نہیں تها کہ اس کا دل نہیں کر رہا تها دل تو بے تاب تها اسے دیکهنے کے لیے مگر وہ دل کی بات سن ہی نہیں رہی تھی جب دل نے اس کی بات نہیں مانی تو وہ کیوں مانتی. ….
صبح سے لے کر شام تک وہ کسی چمگادڑ کی طرح چکر کاٹتی رہی …کئی بار دل چاہا وہ چلی جائے مگر وہ نہیں جانا چاہتی تھی. …….
اس دن بہت عرصے بعد سورج نے اپنی شکل دکهائی تهی اور وہاں کے مکین خوشی خوشی سورج کو خوش آمدید کہہ رہے تھے. ..گڑیا ہمیشہ کی طرح لمبے لمبے جهولے لے رہی تهی. ..رام اور عروج وہیں آم کے درخت کے نیچے گهر گهر کهیل رہے تهے. …..دادی بھی درخت کی چھاوں تلے بیٹھی اماں سے سر پہ تیل لگوا رہی تهی ..اچانک کسی شرارتی کوے نے درخت کے اوپر سے دادی کے اوپر سفید کریم ڈال دیا ..
جس کے بدلے میں انہوں نے کوے کو تو جو بد دعائیں دینی تهیں اور ساتھ ہی ساتھ رام کے کہنے پہ اس بات کا الزام گڑیا کے سر پہ ڈال دیا ..یہ سب اس کے منحوس تل کی وجہ سے ہوا ہے….گڑیا نے خفگی سے رام اور دادی کو دیکها…اس گهر میں سبهی حادثے اس تل کی وجہ سے ہو رہے تهے …..
پتا نہیں دادی رام کی باتوں پہ آنکھ بند کر کے یقین کیوں کرتی تهی ..ان کی نظروں میں اگر کوئی معصوم ہے شریف ہے تو وہ رام ہے اور ان کی سگی پوتی دنیا جہان کی احمق اور منحوس ہے……
صبح سے شام تک دادی کے طعنے ہوتے لیکن وہ بھی ڈهیٹ بن کر ایک کان سے سن کر دوسرے سے نکالتی…اب روز روز رام کی مثالیں سننے میں کسے دلچسپی تهی وہ اگر مکھی بھی مارتا تو دادی کی نظروں میں بارڈر پہ جنگ فتح کر کے آیا ہے …
رام ان کے پاس بیٹھ کر بڑے مزے سے اپنی تعریفیں کرواتا اور اس کے نقصانات گنواتا اور دادی بڑے مزے سے انگلی پہ گن گن کر رٹے رٹائے نقصانات بتاتی….
“اس مہینے کم بخت گڑیا نے تین شیشے کے گلاس توڑ دیے “( حالانکہ گهر میں صرف دو گلاس تهے کل شیشے کے)
” ایک لالٹین بھی خراب کر چکی ہے” ( ہونہہ وہ پہلے سے خراب تها لیکن ان کا نشانہ جو وہ تهی بیچاری )
“اچها ہوا جو لڑکا نہیں ہے _نہیں تو اس کی بیوی دوسرے دن میکے بهاگ جاتی “( اگر لڑکا ہوتا تو کم از کم آپ کی ان جلی کٹی باتوں سے چهٹکار پا لیتی )
اس کے دادا زندہ ہوتے تو اسے سیدها کرتے ( لو آپ کو تو وہ سیدھا کر نہیں سکے اسے خاک کرتے)
بڑی منہ پهٹ اور نافرمان ہے ( کل پاؤں دبائے تهے تب تو بڑی فرماں بردار کہہ رہی تهیں )
وہ جهولتے ہوئے دادی کے جلے کٹے طعنے سن رہی تهی. …
. [ دسمبر لوٹ آنا تم تحریر ناصر حسین]
” پتا نہیں منحوس کس پہ گئی ہے__”_؟دادی بڑبڑائی تهیں رام کو تو جیسے اس کی برائی کروا کے کوئی انعام مل رہا تھا. …….
” آپ پہ “__اس نے زور سے چلا کر کہا __اور دادی کے تن بدن میں آگ لگ گئی ایک تو وہ کوے پہ غصہ تهی اور اوپر سے یہ منہ پهٹ لڑکی. ..وہ چهڑی اٹها کر اس کے پیچھے بهاگیں مگر اس سے پہلے وہ جهولے سے اتر کر باہر جا چکی تھی. ……
اس رام کے بچے کو میں چهوڑوں گی نہیں دروازے پہ بیٹھ کر وہ کوئی انتقامی کارروائی سوچنے بیٹھ گئی …اسے کسی موقع کی تلاش تهی جب وہ اس سے بدلہ لے سکے اور یہ موقع اسے بہت جلد ہی مل گیا…..دوپہر کے وقت جب دهوپ کافی تیز ہو گئی تو رام درخت کے نیچے بڑے مزے سے لیٹا تھا. ….
وہ اکثر وہیں درخت کے نیچے کهیلتے اور وہیں سو جاتے ..اس نے عروج کو اس خطرناک پلان میں شامل کیا اور چپکے سے کمرے میں آ کر بیگ سے اپنا کالا مار کار اٹهایا. ….
جنت بوا اس وقت کچن میں روٹیاں پکا رہی تهی دادی تو سوتی رہتی ہیں ہر وقت …وہ اور عروج کمرے سے باہر نکل آئے اور رام کے پاس آ کر بیٹھ گئے … گڑیا نے مارکر کا ٹاپ ہٹا کر اس کی مونچھیں بنا دیں اور اس کے گالوں پہ موٹا موٹا لکھ دیا بلی جیسی آنکھوں والے. …..
جب وہ بیدار ہوا تو آنکهوں کو مسلتے ہوئے گهر کی طرف چل پڑا جب وہ اندر داخل ہوا تو مدهو اسے دیکھ کر پہلے تو حیران ہوئی پهر کهلکلا کر ہنس پڑی وہ حیرت سے ماں کو دیکهنے لگا. . ….
مدهو نے آئینہ اٹها کر اس کے سامنے کیا اور وہ جتنا شرمسار تها اس سے زیادہ اسے غصہ تها…وہ بھی رام تها اسے اتنی آسانی سے کیسے معاف کر سکتا تها. ..
اور اس کا بدلہ اس نے کچھ یوں لیا شام کے وقت جب گڑیا سو رہی تھی تو اس نے چونینگم اس کے بالوں سے چپکا دیا. .یہ بدلہ کافی جان دار تها جو گڑیا کے چودہ طبق روشن کر گیا..وہ بیچاری نہائے تیل لگائے لیکن وہ چونینگم اتر ہی نہیں رہا تھا اس نے رام کو خوب برا بهلا کہا اور دل ہی دل میں اس کے مرنے کی دعائیں مانگیں……
دادی کو بتانے کا کوئی فائدہ نہیں تها وہ یہ کہہ کر ٹال دیتیں” یہ سب تمہارے اس منحوس تل کی وجہ سے ہوا ہے “اور پھر اس نے رام سے مکمل کٹی لگا لی وہ اس سے بالکل ناراض ہو گئی حالانکہ رام نے اسے منانے کی کوشش بھی کی اور اسے خوبصورت پهول بھی دیے مگر وہ پکی ناراض تهی…..
لیکن بچوں کی ناراضگی بهلا کب تک قائم رہتی ہے چهوٹی چهوٹی باتوں پہ لڑتے ہیں اور پھر خود ہی ایک دوسرے سے باتیں کرنے لگتے ہیں. ……..
اگلی صبح وہ تینوں اپنے بهاری بهاری بستے اٹهائے سکول سے واپس آ رہے تھے …ان کی یہ عادت ہمیشہ سے تهی وہ واپس آتے وقت ایک گهنٹہ وہیں برف پہ بیٹھ کر گهر بناتے اور اس دن بھی انہوں نے ایسے ہی کیا وہ برف کے گهر بنانے لگے اور گولے بنا بنا کر ایک دوسرے کو مارنے لگے……..تب اچانک ایک شخص ان تینوں کے پاس آیا …عروج اور رام نے حیرت سے اسے دیکها لیکن گڑیا اسے پہچان گئی یہ وہی شخص تها جو اس دن جنت بوا سے باتیں کرتا رہا. …..
وہ کافی دیر تک ان کے ساتھ بیٹها باتیں کرتا رہا اس نے سب کو چاکلیٹس بھی دیے…اور پھر اس نے چپکے سے گڑیا کو اشارہ کر کے اسے کچھ فاصلے پہ اپنے پاس بلایا. گڑیا جب اس کے پاس گئی تو اس نے جیب سے سفید رومال نکال کر اس پہ پین سے کچھ لکھ کر دیا…
یہ چپکے سے اس لڑکی کو دینا جو اس دن تمہارے ساتھ تهی…اس نے رومال گڑیا کے ہاتهوں میں دیے ..اس نے حیران ہوتے ہوئے وہ رومال پکڑ لیا ..رام اور عروج ابهی تک حیران ہو کر انہیں دیکهنے لگے لیکن وہ کچھ فاصلے پر تهے اس لیے ان کی باتیں نہیں سن سکے..گڑیا نے رومال اپنے بستے میں ان دونوں سے نظر بچا کر ڈال دیا……
” کیا کہہ رہا تها وہ؟ “رام نے پوچها. …
” سچ بتاؤں کیا.”.؟ اس نے رام کی طرف دیکها اس نے سر اثبات میں ہلایا ..عروج بھی اسے ہی دیکھ رہی تھی. ..
” وہ کہہ رہا تها بلی جیسی آنکھوں والے لڑکے سے دور رہنا..”..رام نے خفگی سے اسے گهورا اور وہ کهلکلا کر ہنس پڑی….پهر وہ تینوں اپنے ہی بنائے برف کے گهر خراب کر کے گهر کی طرف آئے……گڑیا نے انہیں سہی بات نہیں بتائی اور نہ ہی وہ بتانا چاہتی تهی کیونکہ بوا نے منع کیا تھا. ..اس رومال پہ کیا لکھا تھا اور بوا کا اس سے کیا رشتہ ہے یہ سوچنے کی ابهی اس کی عمر نہیں تهی………
گهر آ کر سب سے پہلے وہ کچن میں گئی جہاں بوا ..سالن کے نیچے لکڑیاں لگا رہی تھی اسے دیکھ کر وہ مسکرا دی. .گڑیا نے آس پاس اچھی طرح دیکھ کر وہ رومال باہر نکال کر اس کی طرف بڑهایا. ……
” یہ کیا ہے…”.؟ اس نے حیران ہو کر پوچها. …
” یہ اس انکل نے دیا ہے. ..”.گڑیا نے سرگوشی کی. .
“کس نے.” ..؟ فوری طور پر وہ نہیں سمجھ سکی گڑیا کس کی بات کر رہی ہے. …
“وہی جو اس دن آپ کو ملا تها جب آپ لکڑیاں کاٹ رہی تهیں..”اور جنت نے ڈر کر وہ رومال ایسے چهپایا جیسے اس میں کوئی بم ہو.دل کو کچھ ہونے لگا تها…..
“تم نے یہ بات رام اور عروج کو تو نہیں بتائی ناں.”..؟ اس نے خوف زدہ ہو کر پوچها.. .اور گڑیا نے ماتهے پہ ایسے ہاتھ مارا جیسے جنت کی عقل پہ ماتم کر رہی ہو…
“میں بہت سیانی ہوں بوا…میں نے کسی کو نہیں بتائی یہ بات …”.پهر اس نے ساری تفصیل سنائی…جنت کا ڈرا ہوا چہرہ کچھ درست ہوا……
“ٹهیک ہے شابا”ش …..اس نے گڑیا کے گالوں کی چٹکی کاٹی….اس رومال میں جو لکھا تھا وہ اس وقت نہیں پڑھ سکتی تهی لیکن پڑهنے کے لیے بے تاب بہت تهی….
کهبی کهبی گهڑی کی سوئیاں بہت آہستہ ہو جاتی ہیں جیسے اس دن ہوئیں تھیں. .اس نے رات ہونے کا اتنی شدت سے انتظار کهبی نہیں کیا….اور اس دن جب وہ انتظار کر رہی تهی تو رات کافی طویل نظر آنے لگی….جب اسے یقین تھا سب سو گئے ہیں تو اس نے کهڑکی کهول کر چاند کی روشنی میں رومال پہ لکهے وہ الفاظ پڑهنے کی کوشش کی. …..
جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *