Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode19

December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode19

•••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••
جب شام کا وقت ہوا تو مدهو ترجمے والا قرآن پاک لے کر بیٹھ گئی ..جائے نماز پر بیٹهی وہ کئی گهنٹے تلاوت کرتی رہی …ایک ایک لفظ اس کے دل میں اتر رہا تھا وہ اس وقت خود کو دنیا کی سب سے خوش قسمت انسان سمجھ رہی تھی. ..قرآن سننا اور بات تهی لیکن خود اپنے دل میں اتارنا الگ بات.رام باہر چهوٹے سے صحن میں اکیلے بیٹھ کر کنچے کهیل رہا تها اس نے مدهو کو قرآن پڑهتے نہیں دیکها…نہیں تو وہ اس بارے میں سوال ضرور کرتا……..اکشے کے آنے میں ابهی وقت تها…..وہ عموماً مغرب اور عشا کے درمیان آتا تھا لیکن اس شام مدهو کی قسمت میں جانے کیا لکها تها وہ دهڑام سے دروازہ کھول کر اندر داخل ہوا…….ہمیشہ کی طرح شراب کے نشے میں دهت…اس مدهو کے تلاوت کرنے کی آواز سنائی دی….وہ باہر چارپائی پر بیٹھ گیا اسے لگا تها مدهو شاید گیتا پڑھ رہی ہے لیکن بہت اچانک ہی اسے احساس ہونا شروع ہوا وہ گیتا نہیں کچھ اور پڑھ رہی ہے…وہ کچھ اور کیا ہے یہی دیکهنے وہ کمرے میں گیا….کمرے کا دروازہ کھلا تھا اس وقت..مدهو کا منہ دوسری طرف تها اور وہ بڑی عقیدت سے بلند آواز میں تلاوت کر رہی تهی. …اکشے چند لمحے اس کی تلاوت پر غور کرتا رہا پهر اس کی نظر اس کتاب پر پڑی جو گیتا نہیں تهی…..ایک دهماکہ تها جو اس کے آس پاس پهٹا تها یا پهر کسی نے اس پر جلتا کوئلہ ڈال دیا ہو……ایک سکینڈ بھی ضائع کیے بنا وہ مدهو کے سر پر پہنچا……..
“کیا ہے یہ..؟” پوری قوت سے چلا کر اس نے مدهو سے سوال کیا جہاں وہ اس کی اچانک آمد پر چونکی تهی وہیں رام بھی بهاگتا ہوا اندر آیا…اور دروازے کے پاس سہم کر کهڑا ہو گیا…….مدهو نے قرآن پاک کو غلاف میں لپیٹا اس کے کسی بھی انداز سے یہ نہیں لگ رہا تها وہ ڈری ہوئی ہے یہ اسلام قبول کرنے کی طاقت تهی یا کچھ اور وہ سمجھ نہیں سکی…عام حالات میں وہ اکشے کو دیکھ کر ہی حواس باختہ ہو جاتی تهی….اور اس وقت اکشے غصے سے کهڑا اسے گهور رہا تها. .اور اپنی جواب کا منتظر تها…..اور جواب نہ پا کر اس نے مدهو کے بازو کو زور سے پکڑا اور کهینچ کر اسے اپنے سامنے کیا…….
” میں نے کچھ پوچها ہے تم سے ..”.؟ وہ کسی زخمی شیر کے انداز میں دهاڑا…مدهو زندگی میں پہلی بار اس کے غصے سے نہیں ڈر رہی تهی. …
” قرآن پاک. ..”..مدهو نے اعتماد سے جواب دیا…یہ جواب نہیں تها ایک سلگهتا ہوا انگارہ تها جو اکشے کے وجود سے ٹکرایا. ..وہ پهٹی ہوئی نگاہوں سے مدهو کو دیکهے جا رہا تها. آٹھ سال کا وہ بچہ اس گفتگو سے انجان تها.اسے موضوع سے دلچسپی نہیں تهی وہ صرف اپنے پیتا اور ماں کو لڑتے ہوئے دیکھ رہا تها جیسے ہمیشہ دیکهتا تها……
“تم. .تم یہ..”..؟ اکشے اگروال ابهی تک شاکڈ تها وہ سمجھ نہیں سکا کیا کہے اور کیا کرے…..
” میں اسلام قبول کر چکی ہوں..”….اکشے کے سر پر چهت گر پڑا….غصے سے اس کا چہرہ لال ہو گیا…ایک زناٹے دار تهپڑ اس نے مدهو کے چہرے پہ دے مارا…
” کیا کہا تم نے کمینی بدذات عورت..”…؟
” میں نے کہا میں اسلام قبول کر چکی ہوں.”.وہ پہلے سے بھی زیادہ پر اعتماد ہو گئی….
ایک اور تهپڑ پڑا تها اسے…اور یوں تهپڑوں کی برسات شروع ہو گئی…..پهر اکشے نے اسے بالوں سے پکڑ کر پورے کمرے میں گهیسٹنا شروع کر دیا. .وہ زور زور سے اسے بری طرح پیٹ رہا تها. …..
” بولو جائے ماتا دی.”…..
“کهبی نہیں. …لا الٰہ الا اللہ محمد رسول اللہ.” …مدهو نے کلمہ پڑها…اکشے نے مار کی سپیڈ بڑها دی…رام ایک بے بس تماشائی تها…..
مدهو کے کانوں نے جنت کے الفاظ سنے. …
[ دسمبر لوٹ آنا تم تحریر ناصر حسین]
” تم وہ پہلی نہیں ہو جو آزمائی جاو گی…اور نہ ہی آخری ہو…آزمائشیں ہر انسان کے حصے میں آتی ہیں ان میں گرنا نہیں مستحکم رہنا ہے ….ہم سے پہلے لوگ بھی یونہی آزمائے گئے تهے بلکہ اس سے بھی بڑھ کر.”
” میں تمہاری جان لے لوں گا..”..اس نے ایک زور دار لات مدهو کے پیٹ پر دے مارا….درد کی ایک لہر اس کے جسم سے نکلی…مگر اس کا جذبہ ختم نہیں ہوا….
چاہے ٹکڑے ہزار کر لو….لیکن میں اقرار کرتی ہوں اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں اور حضرت محمد صلی علیہ والہ وسلم اللہ کے رسول ہیں. …..
“پاپی (گنہگار ) عورت ..نرگ ( دوزخ ) میں بھی جگہ نہیں ملے گی تمہیں”. …اکشے کا جنون بڑهتا چلا جا رہا تھا. .وہ منہ کے بل فرش پر پڑی ہوئی تھی ہونٹوں سے خون نکل رہا تھا. …..
“مجهے نرگ میں جگہ چاہیے بھی نہیں وہاں تم جیسے لوگوں کا ٹهکانہ ہے.”…وہ ہذیانی انداز میں چلائی. .اسے نہیں یاد زندگی میں کهبی اس نے اکشے کے ساتھ اس طرح بات کی ہو………
اکشے اسے مار مار کر تهک چکا تها اس کی سانس پهولی ہوئی تهی…رام کی آنکھوں میں بے بسی کے آنسو تهے….
“میں تمہیں آج رات کی مہلت دیتا ہوں…. مسلمیوں والا مذہب چهوڑ دو اور لوٹ آو….اگر تم نے ایسا نہیں کیا تو کل کا سورج نہیں دیکهو گی.” ….ایک آخری لات اس کے سر پر مار کر وہ باہر کی طرف بڑها…..رام کو دروازے پر دیکھ کر وہ ٹهٹک گیا…غصے کی ایک لہر اس کے وجود میں دوڑ گئی….اسے اندر دهکا دے کر اس نے دروازہ باہر سے بند کر دیا اور اس پہ تالا لگا دیا…..رام روتا ہوا ماں کے سینے سے آ لگا…….
_ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _
کهڑکی کهلی ہوئی نظر آ رہی تھی اور باہر سے چاند کا خوبصورت منظر دکهائی دے رہا تها…جنت لیٹی ہوئی تھی اس کے دائیں جانب عروج اور بائیں جانب گڑیا لیٹی ہوئی تھی. ……وہ ان دونوں کو کہانی سنا رہی تھی. …وہ لڑکا وہیں اس کے انتظار میں کهڑا تها اور وہ نہیں گئی… بچے توجہ سے اس کی کہانی سن رہے تھے بعض اوقات وہ کہانی سناتے سناتے کہیں اور نکل جاتی. ..جیسے ابهی وہ جنگل کے جانوروں کی کہانی سنا رہی تھی اور لڑکا لڑکی جانے کہاں سے بیچ میں آ گئی….عروج اور گڑیا نے حیرت سے ایک دوسرے کو دیکها……
“جنت بوا کهبی آپ کی یہ کہانی مکمل بھی ہوگی ..”..؟گڑیا نے پوچها جنت چونک گئی …..
” مجهے نہیں معلوم. .شاید ایسا ہو…یا پھر شاید ایسا نہ ہو. ..کیونکہ زندگی میں سب کچھ تو پورا نہیں ہوتا کچھ خواب ادهورے رہ جاتے ہیں خواہشیں ادهوری رہ جاتی ہیں کچھ کہانیاں ادهوری رہ جاتی ہیں صرف زندگی مکمل ہوتی ہے” ……
” میں اللہ تعالیٰ سے دعا کروں گی یہ کہانی مکمل ہو جائے..”..جنت مسکرا دی…..عروج کو نیند آ رہی تھی اس لیے وہ تو نیند کی وادی میں اتر گئی……
” ایک بات سچ سچ بتاؤں بوا.” ….؟
” ہوں.”.جنت نے چاند کی طرف دیکهتے ہوئے کہا….
” مجهے آپ کی کہانی کا ہیرو بہت پسند ہے”. …جنت خاموش ہو گئی….
” ہیروئن بھی پسند ہے لیکن وہ تهوڑی زیادہ ہی نصیحتیں کرتی ہیں. .”… جنت نے چونک کر اسے دیکها وہ شرارت سے مسکرا دی. …
” شش….چپ کرو..ج”نت نے عروج کی طرف دیکھ کر سرگوشی کے انداز میں کہا.. …
“اچها آج رام کیوں نہیں آیا کہانی سننے.”….کافی دیر بعد جنت نے پوچها. ….
” مجهے کیا پتا وہ بلی جیسی آنکھوں والا کیوں نہیں آیا..”.وہ ہونٹ سکڑ کر ناگواری سے بولی…….
“بری بات ایسا نہیں کہتے…”…جنت نے اسے ٹوکا. …
“وہ مجهے کتنا تنگ کرتا ہے آپ بھی اس کی سائیڈ لیتے ہو دادی کی طرح. “….وہ سچ مچ خفا تهی….
“وہ تمہیں تنگ نہیں کرتا. ..وہ تمہارے ساتھ صرف مذاق کرتا ہے کیونکہ اسے تم اچهی لگتی ہو…”
“لیکن مجهے وہ بہت برا لگتا ہے” …..
“ایسا ضروری تو نہیں جو چیز تمہیں بہت برا لگے وہ ہو ہی برا…ناریل کو دیکها ہے کهبی کتنا سخت نظر آتا ہے باہر سے جبکہ اندر کهولنے ہر کتنا نرم ہوتا ہے. ….ور ایک بات گڑیا تمہیں چہرے پڑهنا بالکل بھی نہیں آتا..”.
گڑیا کو اس کی بات سمجھ نہیں آئی…جنت کو یقین تها وہ کهبی نہ کهبی اس کی بات ضرور سمجھ جائے گی….
_ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _
شام ڈهل چکی تهی رات ہو چکی تهی ہر طرف اندھیرا تها…دو گهنٹے ہو چکے تهے مدهو اور رام ابهی تک اس کمرے میں قید تهے…باہر نکلنے کا کوئی راستہ نہیں تها. ..ایک چهوٹی سی کهڑکی تهی لیکن اس میں مضبوط لوہے کے سلاخ تهے…انہیں توڑنا مدهو کے بس کی بات نہیں تهی ..وہ وہیں دیوار سے ٹیک لگائے کلمے کا ورد کیے جا رہی تهی. ..رام اس کی گود میں تها وہ کسی گہری سوچ میں ڈوبا ہوا نظر آیا…مدهو کو اپنا وجود کسی دلدل میں دهنسا ہوا محسوس ہوا جہاں سے نکلنے کا کوئی راستہ نہیں تها. ….
مگر وہ نکلنا چاہتی تهی یہاں سے باہر نکلنا اس کے لیے بہت ضروری تها..دوسری صورت میں اکشے اسے پهر سے کافر بننے کے لئے کہتا اور وہ یہ ہرگز نہیں کرتی اور ایسا نہ کرنے پہ وہ اس کی جان لے سکتا تھا مگر اسے پرواہ اپنی جان کی نہیں تهی وہ تو رام کو لے کر پریشان تهی اس کے بعد رام کا اس دنیا میں کوئی نہیں تها. ….
دوسرا سوال اس کے ذہن میں یہ تها اگر وہ یہاں سے رام کو لے کر بهاگ بھی جائے تو کہاں جائے پاکستان میں وہ کسی کو جانتی ہی نہیں تهی شروع سے ہی وہ اس برفانی علاقے میں رہ رہی تهی….اس تو جگہوں کے نام بھی نہیں معلوم تهے…یہ کوئی بہت بڑا امتحان تها اس کے لیے. ..سب سے بڑا چیلنج جو اسے ہر حال میں پورا کرنا تها……
” ماں پیتا جی آپ کو کیوں مار رہے تھے.” ….رام نے اداسی سے پوچها. ..اس سوال کا جواب وہ ابهی رام کو نہیں سمجها سکتی تهی….وقت آنے پر وہ رام کو ہر حقیقت سے آگاہ کر دیتی لیکن ابهی تو اسے صرف ٹال ہی سکتی تهی…..
[ دسمبر لوٹ آنا تم تحریر ناصر حسین]
” بس یونہی. “….اس جواب میں ایک مبہم سا درد چهپا تها..
“ماں ہم یہاں سے چلے کیوں نہیں جاتے”……
” کہاں جائیں.” …؟
“کہیں بھی بہت دور ….جہاں پیتا جی نہ ہوں. “..
“تم اللہ سے دعا کرو سب ٹهیک ہو جائے. ” …مدهو نے اس کی پیٹھ تهپکی….
:اللہ. .”.؟ وہ حیران ہوا….جنت ، گڑیا اور عروج سے وہ اللہ کا ذکر اکثر سنا کرتا تها لیکن اپنی ماں کی زبان سے اللہ کا نام وہ پہلی بار سن رہا تھا. ….
” اللہ کون ہیں ماں”….؟
اللہ جو ہم سب سے بڑے ہیں..جنہوں نے ہم سب کو پیدا کیا. …
” وہ کہاں ہیں…”..ایک اور معصومانہ سوال…..
” وہ ہماری شہ رگ سے بھی زیادہ قریب ہیں”. …..
“شہ رگ کیا ہے…”.؟ مدهو ہلکا سا مسکرائی. . پهر اس نے رام کی گردن پر انگلی رکھ کر بتایا……
ابهی ان کی باتیں جاری تهیں جب جهٹکے سے دروازہ کھول کر اکشے اندر آیا…اس کی آنکھوں میں ویسی ہی وحشت تهی جیسے دو گهنٹے پہلے نظر آئی مدهو کو….رام نے چونک کر اپنا سر مدهو کی گود سے اٹهایا….اور سہم مدهو سے چپٹ گیا…….
“بے غیرت عورت مجهے کهانا بنا دے…مدهو انکار کرنے والی تهی جب ایک خیال بجلی کی طرح اس کے دماغ میں آیا…..”.اس نے سر اثبات میں ہلا دیا. ..شاید اسے بهوک لگی تهی اس لیے اس نے مزید کوئی بحث نہیں کی مدهو جانتی تهی وہ اس موضوع سے ہٹے گا نہیں. ..حکم دے کر وہ باہر نکل گیا. ….مدهو اپنے ٹوٹے ہوئے وجود کو دیوار کا سہارا دے کر کهڑی ہوئی ..رام بهی اس کے ساتھ کهڑا ہوا….پهر وہ دونوں آہستہ آہستہ چلتے ہوئے دوسرے کمرے میں بنے چهوٹے سے کچن میں آ گئے…….
اکشے باہر ٹهنڈ میں بیٹها تها…وہ وہیں کهانا بنانے لگی رام اس کے پاس بیٹها رہا…رات کافی ہو چکی تهی اس بات کا اندازہ کهڑکی سے نظر آتے چاند کو دیکھ کر اس نے لگایا. . .اس نے سب سے پہلے رام کی پلیٹ میں دال چاول نکالے تاکہ وہ بهوکا نہ رہ جائے . جانے زندگی کا سفر کہاں تک کا تها…..
رام کو کهانا دے کر وہ چپکے سے دوسرے کمرے میں آئی…وہاں اس نے الماری سے نیند کی گولیاں نکالیں جو اکشے اکثر سکون کے لئے استعمال کیا کرتا تھا. .دو گولیاں اس نے دل چاول کے اندر مکس کر دیں.اور پلیٹ لے کر اکشے کے پاس پہنچی…….اس نے اکشے کے پاس پانی بھی رکها وہ اسے غضب ناک انداز میں دیکھ رہا تھا. …..
“نیچ عورت تیرے پاس ایک گهنٹہ مزید ہے اپنا فیصلہ بدل نہیں تو جان سے جائے گی..”…اکشے نے ایک بار پھر اپنی دهمکی دہرائی.. .
جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *