December Lout Ana Tum by Nasir Hussain NovelR50779 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode34
Rate this Novel
December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode01 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode02 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode03 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode04 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode05 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode06 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode07 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode08 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode09 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode10 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode11 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode12 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode13 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode14 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode15 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode16 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode17 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode18 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode19 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode20 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode21 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode22 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode23 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode24 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode25 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode26 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode27 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode28 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode29 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode30 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode31 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode32 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode33 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode34 (Watching)December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode35 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode36 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode37 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode38 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode39 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode40 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode41 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode42 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode43 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode44 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode45 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Last Episode
December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode34
December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode34
•••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••
آیت اور انوشیر پولیس کے ہاتھ لگ چکے تھے انوشیر نے ایک جهوٹ بولا لیکن پولیس نے پهر ایک عجیب شرط عائد کر دی…….
اپنی بات کو سچ ثابت کرنے کے لیے تم دونوں ہماری آنکھوں کے سامنے شادی کرو….
اس نے اطمینان سے کہا…جب کہ ان دونوں پر کسی نے جیسے بم گرا دیا ہو……دونوں نے پهٹی نگاہوں سے ایک دوسرے کو دیکها. ….
“سوچ لو جو سہی لگے دس منٹ ہیں تم لوگوں کے پاس.”.آیت ایک بار پھر رونے لگی وہ پولیس والا جا کر صوفے پر بیٹھ گیا. ..انوشیر نے ” اب کیا کریں ” والی نگاہوں سے آیت کی طرف دیکها…….
آیت کی نگاہوں کے سامنے دونوں جہان گهوم رہے تھے. .ایک مشکل کے بعد دوسری مشکل ایک مصیبت کے بعد اس سے بڑی مصیبت. …
سب کچھ آنکھوں کے سامنے تها اس نے ذہن کو تھوڑا بہت سوچنے پر لگا دیا. …..
“اگر میں جیل میں گئی تو سب ختم ہو جائے گا. .یہ بات میڈیا پہ اچهالی جائے گی میری تصویریں نکالیں جائیں گی…میری بہت بدنامی ہوگی. .میرا سارا کیریئر برباد ہو جائے گا. ..لنڈن آنا میرا سب سے بڑا خواب تها اور میرا خواب ادهورا رہ جائے گا..میں بہت منتیں کر کے آئی ہوں یہاں… اور یہ بات پاکستان میں بھی پهیل جائے گی ابو میری جان لے لیں گے.” ….
وہ روتے ہوئے جیسے آپ نے آپ سے مخاطب تهی….
” تو .کیا کریں..”..؟ انوشیر نے پوچها. …اس نے پر امید نگاہوں سے انوشیر کی طرف دیکها. .اس کا انداز ایسے تها جیسے کہہ رہا ہو تم اگر جان بھی مانگو گی تو دوں گا…..
“میں جانتی ہوں میں بہت مطلبی ہوں آپ کو میری وجہ سے پہلے بھی کئی مصیبتوں کا سامنا کرنا پڑا ہے…لیکن یوں اس طرح زندگی کے اس موڑ پر میرے خواب ٹوٹنے نہ دیں…مجهے بازار میں ننگا ہونے سے بچا لیں…آپ ہی ایسا کر سکتے ہیں. ..میں جانتی ہوں یہ مشکل ہے لیکن. ..لیکن آپ پلیز مجھ سے نکاح کر لیں…..پلیز.” .وہ ہاتھ جوڑ کر رو رہی تھی. . انوشیر کچھ لمحے اسے دیکهتا رہا …
“آپ کو کیا لگتا ہے. ..میں آپ کو رسوا ہونے دے سکتا ہوں…”.آیت نم آنکھوں سے مسکرا دی. . .
اور پهر وہ ہوا جو کسی نے بھی نہیں سوچا…ان دونوں نے پولیس کو ہاں کہہ دی اور انہیں بتایا وہ اسلامی طریقے سے نکاح کرنا چاہتے ہیں. ..اس پولیس افسر نے فوراً ہی کسی نکاح خواں کا انتظام کیا. .یہ اس کے لیے مشکل کام نہیں تها…اور ایک گهنٹے کے اندر اندر ان دونوں کا نکاح ہوگیا…اور وہ اس مشکل سے آزاد ہو کر ایک نئے رشتے کے ساتھ بندھ گئے….جب وہ اس ریڈ لائٹ ایریا سے باہر نکلی تب تک سب کچھ بدل چکا تها. .رشتے بدل چکے تھے رشتوں کے مطلب بدل چکے تهے. .جو شخص اس کے لیے اجنبی تها کهبی اب وہی شخص اس کا شوہر تها….وقت کتنی تیزی سے چلتا ہے ناں..انسان کو سوچنے سمجهنے کا موقع ہی نہیں ملتا اسے بھی موقع نہیں ملا….بس فیصلہ سنا دیا گیا تها. .ایک ہی رات میں زندگی اسے کہاں سے کہاں لے آئی. کتنا لمبا سفر طے ہو گیا ….اسے نہیں معلوم جو ہوا وہ سہی تها یا غلط لیکن جب جب جو جو ہونا ہوتا ہے وہ ہو کر ہی رہتا ہے کسی کے لاکھ چاہنے کے باوجود قسمت کا لکها بدل نہیں جاتا….شاید لندن کی سرزمین میں اس کے ساتھ یہی سب ہونا لکها تها. ..انسان کیا کیا سوچتا ہے اور ہو کیا جاتا ہے. .انسان زندگی میں اپنی مرضی کے فیصلے کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ ان فیصلوں کو رد کر کے کہتا ہے ہوگا وہی جو میں چاہوں گا. ….
یہ فیصلہ بھی اللہ تعالیٰ نے اس کے لیے کیا ہوگا…اور اللہ تعالیٰ کے فیصلے کهبی غلط نہیں ہوتے…وہ خشک آنکهیں لیے خاموش تهی جیسے اب بولنے کے لیے کچھ باقی ہی نہ رہا ہو. ..واقعی اب بولنے کے لیے کچھ بھی نہیں بچا تها…انوشیر اسے بائیک پر بٹها کر اپنے اپارٹمنٹ لے آیا….اور اسے بیڈ پر بٹها دیا…..اتنی رات کو اسے ہوسٹل میں داخل ہونے کی اجازت نہیں مل سکتی تهی…..
وہ حیران نگاہوں سے ادهر ادهر دیکهنے لگی…یہ سب کچھ اجنبی تها اس کے لیے. ..وہ دن میں غیر لڑکوں کے کمرے میں آنے سے ڈرتی تهی اور آج رات وہ اس کمرے میں اس بیڈ پر بیٹهی تهی. ..کیونکہ اسے حق حاصل تها وہ شخص اب اس کے لیے غیر کہاں تها وہ تو اسلامی طریقے سے اس کا شوہر بنا تها اور اس نے خود ہی تو قبول کیا….وہ نکاح کے دوران بھی گم سم بیٹهی رہی جب اسے قبول ہے کرنے کے لیے کہا گیا تبهی اس نے قبول ہے کہا……وہ اس شخص کو اپنی مرضی سے قبول کر چکی تهی. ..اور وہ شخص کیا اسے وہ زبردستی تهوپ دی گئی. ..کیا وہ اس رشتے سے خوش نہیں ہے. …کیا اس نے محض اس کی عزت بچانے کے لیے نکاح کیا ہے ….
” یوں کوئی کسی کے لیے اتنا سب کچھ نہیں کرتا..”..
پوجا کے الفاظ اس کے کانوں میں گونجے.. تو کیا کچھ اور بھی ہے….اس سمجھوتے کے علاوہ…ہونہہ تقدیر نے کیسا مذاق کیا تها اس بے بس لڑکی کے ساتھ ..وہ اس کے لیے پانی لے آیا تها…وہ بنا کچھ کہے پانی پینے لگی…وہ اس کے پاس بیڈ پر بیٹھ گیا اس نے آیت کا ہاتھ پکڑ کر اپنے ہاتهوں میں لے لیا. ..اسے یاد پہلے جب کهبی وہ اس کا ہاتھ پکڑتی تو وہ خود ہی چهڑا لیتا لیکن اب وہ اختیار رکهتا تها صرف اس کے ہاتھ پر نہیں اس کے پورے وجود پر …..
آپ تهک گئیں ہوں گی تهوڑا آرام کر لینا. …
وہ کہہ رہا تها. .وہ کچھ نہیں بولی ایک خاموش مجسمے کی طرح بیٹهی ہوئی تھی وہ تو واقعی پتهر بن گئی. .انوشیر نے اسے بازوؤں سے پکڑ کر لیٹایا اور اس پر کمبل اوڑھ دی….اور خود جا کر صوفے پر لیٹ گیا….
وہ اس کی مشکور تهی…ہمیشہ سے آج بھی. ..
صبح جب اس کی آنکھ کهلی تب تک انوشیر ناشتہ بنا چکا تها ..وہ ہاتھ منہ دهونے کے لیے واش روم گئی کل کی نسبت اس نے آج خود کو ہلکا پھلکا محسوس کیا.جب وہ باہر آئی…تو. وہ ناشتہ لیے اس کا منتظر تها…
وہ وہیں بیڈ پر جا کر بیٹھ گئی. .اس نے اسے کهانے کو کہا لیکن وہ اپنے کانپتے ہاتهوں سے کچھ کها نہیں پا رہی تهی. ..اس کے ہاتھ کیوں کانپ رہے تھے سردی کی وجہ سے یا کچھ اور وجہ تهی ….؟
انوشیر اپنے ہاتهوں سے اسے ناشتہ کرانے لگا .وہ بھی بنا مذاحمت کے ناشتہ کر رہی تهی. ..دن کے دس بجے وہ اسے اپنی بائیک پر لے کر یونیورسٹی پہنچا…بائیک روک کر اس نے آیت کا ہاتھ پکڑا اور اس کے ساتھ ساتھ چلتا ہوا ….اندر داخل ہوا. اسے سامنے ہی پوجا دکهائی دی جو کسی بات پر ہنس رہی تھی ان دونوں کو یوں سا دے کر اس کی ہنسی کو بریک لگ گئی…وہ حیران اور تاسف سے انہیں دیکھ رہی تھی. .
_ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _
“تم کہیں جا رہی ہو پوجا. …؟” آیت نے پوجا سے پوچها وہ روتے ہوئے اپنا سامان پیک کر رہی تهی. ..وہ جواباً کچھ نہیں بولی اور بیگ میں اپنے کپڑے رکهنے لگی….
“پلیز بتاو پوجا تم کہاں جا رہی ہو…”.اس نے پوجا کو بازوؤں سے پکڑا. ….
“میں انڈیا جا رہی ہوں…ہمیشہ ہمیشہ کے لیے. .”.وہ پوجا کا چہرہ دیکھ کر رہ گئی…..
لیکن تم اس طرح. ..مطلب تمہاری پڑهائی تو ادهوری ہے ..وہ حیران ہوئی….
جہاں محبت ہوتی ہے وہ کچھ اور نہیں سوچا جا سکتا کوئی کچھ سوچ بھی نہیں سکتا…یہ بات تم نہیں ” سمجهو گی جب تمہیں کسی سے محبت ہوگی تب تمہیں سمجھ آئیں گی میری باتیں……”وہ آنسو پونچھ کر بتا رہی تھی. …..
“آئم سوری پوجا. ..لیکن میں نے کچھ بھی جان بوجھ کر نہیں کیا”…سب انجانے میں ہو گیا….وہ پوجا سے معذرت کر رہی تهی. …
” معافی تمہیں نہیں مجهے مانگنی چاہیے. ..میں نے بہت غلط کیا تمہارے ساتھ. ..لیکن میں صرف دل سے مجبور تهی . .میں نے انوشیر کی محبت میں ہی یہ سب کیا ہے میں اندهی ہو گئی مجهے کچھ نظر نہیں آیا…لیکن تم پلیز مجهے غلط مت سمجهنا میں اتنی بری نہیں ہوں….”..
“میں تم سے ناراض نہیں ہوں پوجا. .میں سمجھ سکتی ہوں محبت انسان کو کچھ بھی سوچنے سمجهنے کے قابل نہیں چهوڑتا…لیکن تم اس طرح یوں تو مت جاو پلیز. …..”پوجا بیگ میں کپڑے ڈالتے ڈالتے رک گئی اس نے آیت کی آنکھوں میں دیکها. …..
“مجهے جانا چاہیے مجهے نہیں معلوم یہاں رہ کر میں اور کون سا تماشا کروں گی اور سچ پوچھو تو میں یہ دیکھ ہی نہیں سکتی انوشیر کسی اور سے محبت کرتا ہے وہ مجھ سے محبت نہیں کرتا مجهے نہیں چاہتا میں برداشت کر لوں گی لیکن وہ میری آنکھوں کے سامنے کسی اور کو چاہے کسی اور کو پسند کرے یہ برداشت نہیں ہوگا مجھ سے. .. میں نے کل رات تم سے کہا تها اگر تمہاری محبت سچی ہوئی تو وہ تمہیں ضرور ملے گا اور وہ تمہیں ملے گا اپنے وعدے کے مطابق مجهے اب پیچھے ہٹ جانا چاہیے. …”…..آیت کی آنکھوں میں بھی آنسو آ گئے اس نے پوجا کا ہاتھ پکڑ کر اسے بیڈ پر اپنے برابر بٹهایا. ..
“مجهے ساری زندگی افسوس رہے گا میری وجہ سے تمہیں تمہاری محبت نہیں مل سکی…کاش مجهے پتا ہوتا تو میں کهبی لنڈن نہیں آتی…مجهے نہیں پتا تھا میں یوں کهبی اس طرح کسی کے دل توڑنے کی وجہ بنوں گی. .”….آیت نے کہا……
“افسوس تو مجهے رہے گا…آخری سانس تک میں نے تم جیسی پیاری دوست کا بهروسہ توڑا…اور تمہیں کانٹوں پر پهینک دیا…اور انوشیر میرا کهبی نہیں تها اگر وہ تمہارا نہ بھی ہوتا تب بھی وہ میرا نہیں تها……لیکن تمہیں معلوم ہے وہ تمہیں پہلے سے جانتا تها. .اس کی آنکھوں میں دیکھ کر ایسا ہی لگتا ہے مجهے.”…..
پوجا نے نے اس کے گالوں کو چهو کر کہا. .
“تو کیا انوشیر اسے پہلے سے جانتا تها مگر کیسے”…؟
وہ ایک بار پھر سے الجهی. …لیکن اگلے ہی لمحے پوجا کی طرف متوجہ ہو گئی….
” پوجا پلیز مت جاو.”….
“جانا تو مجهے پڑے گا..میں یہاں نہیں رک سکتی اور تم پلیز مجهے خوشی خوشی وداع کرو…اگر یوں روتے ہوئے وداع کیا تو میں ساری زندگی پریشان رہوں گی..میں تمہیں ہمیشہ یاد رکهوں گی…تمہارے ساتھ گزارے دن میری زندگی کے بہت خوبصورت دن تهے…تم بہت یاد آو گی آیت. …”……
وہ رو رہی تھی. …وہ دونوں ہی رو رہی تهیں..پوجا نے روتے روتے اپنا بیگ اٹهایا…وہ اس کے ساتھ باہر تک آئی. .پهر سیڑهاں عبور کر نیچے پہنچی. ..مائیکل گاڑی میں پوجا کی منتظر تهی. .مائیکل نے اسے معذرت خواں نگاہوں سے دیکها. …
“میں تمہیں بہت بہت مس کروں گی پوجا. “..وہ پوجا سے آخری بار گلے ملی تھی. ….
“میں بهی.” .پوجا نے اس کا گال چوما اور گاڑی میں جا کر بیٹھ گئی. .وہ است دیکهتی رہی گاڑی سٹارٹ ہوئی پوجا جاتے ہوئے ہاتھ سے اسے الوداع کہہ رہی تھی اور وہ سوچ رہی تهی زندگی میں آخری الوداع کتنی کهٹن ہوتی ہے. …….
[ دسمبر لوٹ آنا تم تحریر ناصر حسین]
_ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _
شام کی اداسی اس کی آنکھوں میں اتر آئی تهی…اس نے نہیں سوچا تها وہ پوجا کو اتنا مس کرے گی..زندگی میں جو لوگ بہت قریب ہوتے ہیں چاہے وہ اچهے ہوں یا برے جب وہ اچانک بچهڑ جاتے ہیں تو درد ہوتا ہے. ….
اور وہ جانتی تھی پوجا بری نہیں ہے. .اس نے صرف پیار میں اندهی ہو کر غلط کیا ہے. .اور اب جب وہ چلی گئی تو اسے لگا وہ سارے جہان کی خوشیاں سمیٹ کر لے گئی. .اس کے ساتھ اس نے اتنا اچها وقت گزارہ تها زندگی کی کچھ خوبصورت یادیں تهیں…وہ ان لمحوں کو کهبی بهول نہیں سکے گی…یہ وقت اسے بہت یاد آئے گا…..کاش زندگی میں آخری الوداع نہیں ہوتا. .تو کوئی بھی اداس نہیں ہوتا…یہ احساس کتنا تکلیف دہ ہوتا ہے جس سے محبت کرو جس کو چاہو اسے پهر ہمیشہ کے لیے کهو دو…وہ چیز ملتی ہی کیوں ہے جو ہماری ہوتی ہی نہیں ….جانے پوجا اب کہاں ہوگی…کیسی ہوگی…کیا وہ اسے یاد کرتی ہوگی…
اور وہ خود تو صبح شام اسے یاد کرتی ..کمرے میں ہر جگہ وہی نظر آتی….اف اس کی باتیں اور اس کے بوائے فرینڈز. ….
انوشیر کے ساتھ اس کا نیا رشتہ بندها تها اور یہ سب اس کے لیے غیر متوقع تها ..اسے نہیں معلوم تها اسے کیسے ری ایکٹ کرنا چاہیے. ..اسے خوش ہونا چاہیے یا اداس….وہ کچھ سمجھ نہیں پا رہی تهی. ….
انوشیر میں کوئی خاص تبدیلی نہیں آئی وہ پہلے سے بھی زیادہ اس کا خیال رکهنے لگا تها..اور وہ بھی اس رشتے کو قبول کرنے کی کوشش کر رہی تهی..کیونکہ اسے یہی کرنا تها اب….اس نے نہیں سوچا تها یوں لنڈن میں اس کا نکاح ہو جائے گا لیکن اب جب کہ یہ ہو چکا ہے تو اسے سوچنا تها…..
اسے رشتے کو بنائے رکهنا چاہیے یا ختم کر دینا چاہیے. .کهبی کهبی وہ سوچنے بیٹھ جاتی…کهبی وہ اسے توڑنے کے بارے میں سوچتی …ایسے کیسے نکاح ہو سکتا ہے اور یوں وہ پاکستان جا کر کیا جواب دے گی جب سب سوال کریں گے. ..وہ سب کا سامنا کیسے کرے گی . . .لیکن کهبی وہ اس رشتے کو قائم رکھنے کے بارے میں سوچتی….
ہو سکتا ہے ان دونوں کا ملنا کوئی اتفاق نہ ہو..یہ سب تقدیر کاتب کا فیصلہ ہو…پوجا کا ان کی زندگی میں آنا انوشیر کو اس کے مزید قریب لانا اور اچانک نکاح ..اس ناول کا ہیرو جو اسے بہت پسند تها…وہ جانتی تهی انوشیر اس سے زیادہ خوبصورت ہے اور اس سے زیادہ اچها ہے…کیا اسے اس کے خوابوں کا شہزادہ مل گیا ..کیا وہ انوشیر تها….
کیا اس سے انوشیر جتنی محبت کوئی اور کر سکتا ہے…کهبی نہیں. . دل نے جواب دیا…اس جیسا شخص اس دنیا میں ہے ہی نہیں. .دنیا میں دوسرا ایسا انسان نہیں ہے جو اس سے اتنی محبت کرے…..
وہ شخص سائے کی طرح ہمیشہ اس کے ساتھ تها اس نے کئی بار اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کر اس کی زندگی بچائی….انوشیر نے اس رشتے کے بارے میں کوئی بات نہیں کی. ..وہ فیصلہ اس پر چهوڑ چکا ہے شاید. ..اس رشتے کی وجہ سے ان کی زندگیوں میں کوئی خاص تبدیلی نہیں آئی لیکن کچھ نہ کچھ چینج ہو گیا تها…جیسے پہلے انوشیر اس کا ہاتھ پکڑنے سے کتراتا تها اب ہمیشہ اس کا ہاتھ پکڑ کر چلتا. ..اسے اپنے ہاتهوں سے کهانا کهلاتا ..اس کی ضرورت کی ہر چیز اپنے پیسوں سے خرید کر اسے دیتے…وہ مشرقی شوہروں والے سارے فرض نبها رہا تها اور وہ خود بھی ایک مشرقی بیوی بننے کے کوشش کر رہی تهی جیسے پہلے کی طرح وہ انوشیر کے ساتھ ہنس کر کهلکلا کر بات نہیں کرتی تهی. ..اس کے ساتھ مذاق نہیں کرتی تهی …اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر اس نے کهبی بات نہیں کی…اب وہ اس کی آنکهوں میں دیکهنے سے کتراتی تهی . انوشیر یقیناً اس کی اس تبدیلی کو محسوس کر رہا تھا. . …لیکن وہ خود اب بنا کسی خوف کے اس کی آنکھوں میں دیکھ کر ہی بات کرتا اور پہلے کی طرح شرماتا نہیں تها…پہلے اگر وہ اس سے بات کرتا تو ادهر ادهر دیکھ رہا ہوتا ……
بہت زیادہ رومینٹک تو خیر وہ اب بھی نہیں تها..مزاج اس کا اب بھی ہمیشہ کی طرح سنجیدہ اور سڑیل تها لیکن وہ پہلے کی نسبت کافی بدل چکا تها……..
اور جانے کیوں اسے یہ تبدیلی اچهی لگ رہی ..
_ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _
اس دن جب وہ بیدار ہوئی تو اس نے اپنے آس پاس گلاب کی خوشبو کو محسوس کیا. .بے ساختہ اس کی نظر سامنے رکهے گلدان پر گئی…جہاں تازے گلاب لگے ہوئے تھے .وہ مسکرا دی.. لیکن حیران نہیں ہوئی کیونکہ یہ پہلی بار نہیں ہو رہا تها جب سے اس کا نکاح ہوا تھا انوشیر یونہی تازے خوبصورت پهول لا کر وہاں سجا دیتے….اسے نہیں معلوم تها وہ اتنی صبح یہ پهول کہاں سے لاتا ہوگا. ….لیکن لال گلاب محبت کی نشانی ہوتی ہے یہ وہ ضرور جانتی تهی……….
وہ اس نکاح کو قبول کر چکا ہے اور اس سے خوش ہے یہ وہ سمجھ رہی تھی لیکن وہ خود ابهی بهی الجهن میں تهی اس رشتے کو لے کر. ..کمبل ہٹا کر وہ واش روم میں گئی…منہ ہاتھ دهونے کے بعد وہ اپنے لیے ناشتہ بنانے چلی گئی. …..
اور کاونٹر پر بڑا سا شاپر دیکھ کر بھی وہ نہیں چونکی اور مسکرا دی…پهر اسے یاد آیا انوشیر روزانہ اس کے لیے ریڈی میڈ ناشتہ لاتا تها….وہ شاپر اٹها کر باہر آئی اور سوچ میں پڑ گئی اسے اس سب کے بدلے کیا کرنا چاہیے. .. محبت کا جواب محبت سے دینا چاہیے. ….؟
جاری ہے
