Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode39

December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode39

•••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••
“نہیں ..نہیں. ..نہیں. ..وہ روز تو نہیں پیتی کهبی کهبی جب کلب جاتی ہے تو تهوڑا بہت پی لیتی ہے. “….لڑکے کی آنکهیں پهیل گئیں. ….
” کلب….توبہ نعوذبااللہ.” ….
“آپ غلط سمجھ رہے ہیں وہ ہمیشہ کلب نہیں جاتی..وہ تو جب سے جیل سے ہو کر آئی ہے تب سے ہی جانے لگی ہے “..
“جیل. ..او میرے اللہ تو کیا وہ جیل بھی جا چکی ہے. ..کس جرم میں.” ..؟
“قتل…..”عروہ نے افسوس کے ساتھ ہونٹ سکڑ لیے….
“استغفار. .استغفار. …تو وہ قتل بھی کر چکی ہے..”.
“ہاں جب اسے مرگی کا دورہ پڑا تها.”…عروہ نے بے نیازی سے بتایا. …
“تو کیا اسے مرگی کے دورے بھی پڑتے ہیں. “..؟ اس لڑکے کی آواز بہ مشکل عروہ کو سنائی دی…..
“ہمیشہ کہاں ہیں پڑتے ہیں وہ تو تب پڑتے ہیں جب کوئی اس کا رشتہ دیکهنے آتا ہے”. …وہ لڑکا سر پہ پاوں رکھ کر ایسے بهاگا….جیسے کوئی کتا اس کے پیچھے پڑا ہو. .عروہ ہنس ہنس کر پاگل ہو رہی تهی. ..اور وہی ہوا جو اس نے سوچا تها اس لڑکے نے رشتے سے انکار کر دیا وجہ اس نے یہ بتائی اسے لڑکی ہی نہیں پسند…اب کیا ہو سکتا تھا وہ چلے گئے. ….
شام کو جب اس نے اپنا یہ نمایاں اور انوکھا کارنامہ آیت کو سنایا تو وہ یقین ہی نہیں کر سکی. …..
” یہ سب تم نے کیا ہے..”..؟ اس نے بے یقینی سے پوچها. ..
” کوئی شک. “.؟ وہ فرضی کالر جهاڑنے لگی….
“لیکن تم تو اتنی سنجیدہ مزاج ہو…تم نے یہ سب کیسے کیا…”.؟
” بس ہو گیا…پہلے میرا ارادہ تها اسے سب سچ بتاوں پهر سوچا اس طرح اسے لگے لگا ہم ہی رشتہ نہیں کرنا چاہتے پهر میں نے وہ طریقہ سوچا جس سے وہ خود ہی انکار کر دیتا……اور اس نے وہی کیا. .وہ اتنی زور سے بهاگا تمہیں کیا بتاؤں. ..اس کی شکل دیکهنے لائق تهی……ہاہاہاہاہاہا. ..”دونوں بہنوں نے مل کر قہقہے لگائے…وہ اتنی اداس ہونے کے باوجود اس واقعے پہ ہنس رہی تهی….
” لیکن عروہ مجهے معلوم ہے…ابو اور رشتہ ڈهونڈنے کی کوشش کریں گے وہ اس طرح نہیں بیٹهیں گے”…وہ سنجیدہ ہو کر کہنے لگی. …..
” میں جانتی ہوں. .اور ہم ہر بار یہ سب نہیں کر سکتے میری بات مانو تو ابورشن کے بارے میں پهر سے سوچو .یا اس لڑکے سے رابطہ کرنے کی کوشش کرو…”.آیت نے کچھ نہیں کہا. …
[ دسمبر لوٹ آنا تم تحریر ناصر حسین]
_ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _
” تمہارے سارے مسائل کا حل مل گیا ہے مجهے”. …؟
وہ اداس ہو کر کهڑکی کے پاس کهڑی چاند کو دیکھ رہی تھی جب عروہ اخبار لیے اندر داخل ہوئی..اس کے چہرے سے ہی خوشی نظر آرہی تهی…وہ حیران ہو کر عروہ کو دیکهنے لگی. ……
“تمہارے ہر مسئلے کا حل اس میں ہے”…؟ عروہ نے اخبار کی طرف اشارہ کیا. …اس نے بے یقینی سے اخبار کی طرف دیکها. ……
” اس میں کیا ہے. ..”.؟ کهڑکی سے ٹهنڈی ہوا اندر داخل ہونے لگی…اس نے کهڑکی بند کر دی اور عروہ آپی کی طرف متوجہ ہوئی. …
“یہ لو پڑهو…اچها ایک منٹ میں خود ہی پڑھ کر سناتی ہوں.”..
“کوہ سلیمان کے پہاڑی علاقے میں بابا فقیر شاہ کا ڈیرہ ..بابا فقیر شاہ روحانی علم میں اپنا ایک الگ نام رکهتے ہیں..ان کی طاقت سے کئی لوگوں کی مرادیں پوری ہوئی ہیں..یہ غائب کا علم بهی جانتے ہیں اور ایک بار جب کہتے ہیں ہو جا تو سب ہو جاتا ہے. ….ان کے ڈیرے پر روزانہ سیکڑوں لوگ پر امید ہو کر لوٹتے ہیں. اس جمرات کو خصوصی اجتماع ہے… .اولاد کا نا ہونا..گهریلو ناچاکی…محبوب آپ کے قدموں میں. …ہر بیماری کا علاج. …دشمنوں کو زیر کرنا….خواہ آپ کو کوئی بھی مسئلہ ہو…بابا کے پاوں چهو کر اپنی خواہشات پوری کریں…..بابا جی کی فیس صرف ایک ہزار روپے..اور آپ..”..عروہ جوش سے پڑهتی جا رہی تهی جب آیت نے غصے سے اس کی بات کاٹ دی ….
” پاگل ہو کیا آپی “. …عروہ نے اخبار بیڈ پر رکھ دیا. ..
” اس میں پاگل ہونے والی کون سی بات ہے'”. ..؟
” یہ شرک ہے….:.؟
“شرک…؟ مطلب. “..؟ عروہ الجهی…..
” شرک مطلب شریک کرنا..یعنی اللہ تعالیٰ کے برابر کسی کو لا کر کهڑا کرنا. .تم بتاو مجهے کیا اللہ تعالیٰ کے برابر کوئی ہو سکتا ہے. ..وہ جو پوری کائنات کا مالک ہے خالق ہے جس نے زمین آسمان بنائے جو ہمیں رزق عطا کرتا ہے. ..کیا کوئی اور اس کا مقابلہ کر سکتا ہے”. ….؟
“نہیں آیت…یہ شرک نہیں یہ تو عقیدت ہے” …؟ آیت کو مزید غصہ ہے…..
“کیسی باتیں کر رہی ہیں آپ…؟ آپ تو پڑھی لکھی ہیں..یہ عقیدت نہیں سراسر حماقت ہے. .بے وقوف ہیں وہ لوگ جو یہ سب کر رہے ہیں. …جو کہتا ہے کن ( ہو جا ) اور ہو جاتا ہے وہ صرف اللہ تعالیٰ کی ذات ہے….کوئی اور یہ اختیار نہیں رکهتا. .اس بابا کی فیس ہزار روپے ہے اور اللہ تعالیٰ جو ہمیں رزق دیتا ہے ، انہوں نے تو کهبی کوئی فیس نہیں لی ہم سے….؟ اور اس میں لکها تها غائب کا علم. ..غائب کا علم صرف اللہ تعالیٰ کو ہے اور کسی کو بھی نہیں. ..یہاں اس بابا میں جو جو خصوصیات بیان کی گئی ہیں..وہ صرف اللہ تعالیٰ ہی کر سکتا ہے یہ سب کسی انسان کے بس کی بات نہیں ہے. …اور وہ بابا بھی ہم جیسا ہی ایک انسان ہے وہ خدا نہیں ہے جو یہ سب کرے…..اور نہ ہی وہ ایسا کچھ کر سکتا ہے. ..اولاد دینا نہ دینا صرف اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے یہ کوئی انسان تو کهبی بهی نہیں کر سکتا. …اور انسان تو انسان فرشتے اور پیغمبر بھی اللہ تعالیٰ کے ساتھ برابری کرنے کی ہمت نہیں کر سکتے….ایک طرح سے یہ زمانے کے خدا ہوئے جو سمجهتے ہیں وہ سب کچھ کر سکتے ہیں. .سب کچھ ان کے ہاتھ میں حالانکہ ایسا کچھ بھی نہیں ہے اگر اللہ تعالیٰ چاہے تو سیکنڈوں میں ان کی ہستی مٹا دے. “…
اس کی بات سن کر عروہ نے ایک گہری سانس خارج کی. ..
“آیت میرا مطلب یہ نہیں ہے لیکن تم یہ بھی تو دیکهو اتنے سارے لوگ ان کے پاس جاتے ہیں ان سے مدد لیتے ہیں. ..اتنے سارے لوگ تو غلطی نہیں ہو سکتے ناں.”..؟
“یہ سب وہ لوگ ہیں جن کے دل پہ ٹھپا لگا ہوا ہوتا ہے جو کچھ دیکھ نہیں سکتے. ..انہیں نہیں معلوم ہوتا وہ اپنے لیے جہنم خرید رہے ہیں ہر گناہ معاف کیا جا سکتا ہے لیکن شرک( اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو شریک کرنا) کهبی معاف نہیں ہوتا….یہ جاہل لوگ ہیں جو اللہ تعالیٰ کے علاوہ دوسروں کو پکارتے ہیں. ..وہ جو خود بھی ان کی طرح کے انسان ہیں..ایک انسان دوسرے انسان کو کیا دے سکتا ہے. ..ان کے پاس کتنے لوگ جاتے ہیں. ..دس بی، سو ، یا ہزار. .لیکن اللہ تعالیٰ کے گهر میں اور خانہ کعبہ میں ایک ہی وقت میں کروڑوں انسان ہوتے ہیں. ..جو اللہ تعالیٰ کے سامنے سجدہ کرتے ہیں اور اللہ سے مدد مانگتے ہیں ایک ہم ہیں جو ان لوگوں کو فالو کرتے ہیں جن کی اقلیت ہے….ہم ان دس بیس لوگوں کو فالو کرتے ہیں جو خدا سے نہیں انسانوں سے رزق مانگتے ہیں ان کروڑوں کو نہیں جو اللہ تعالیٰ کے پیروکار ہیں. …تمہیں کیا لگتا ہے.اگر اللہ تعالیٰ کسی کو آزما رہا ہے یا کچھ نہیں دے رہا تو کیا ایسے لوگ وہ چیز دے سکتے ہیں ایسے لوگ اختیار رکهتے ہیں. .جن کا اپنی سانس پر بھی اختیار نہیں وہ کسی اور چیز پر کیا اختیار رکهیں گے….فرعون نے بھی اللہ تعالیٰ کے ساتھ برابری کرنے کی کوشش کی تهی اور کیا ہوا…؟ کیا وہ ایسا کر سکا. …؟ کیا وہ کامیاب ہوا تها نہیں ناں.؟ تو پھر اس دنیا کے فرعون کیسے کامیاب ہو سکتے ہیں. ..اور تم یہ اخبار لے کر میرے پاس آئیں…دس دس بیس بیس روپے میں ایمان بیچنے والے یہ انسان …اب میں مدد لینے ان کے پاس جاؤں گی.” …؟ اس نے بلند آواز میں چلا کر وہ اخبار دور پهینک دیا…عروہ خاموشی سے اسے دیکهتی رہی. …
“میں صرف اتنا کہہ رہی تھی یہ بہت بڑا عالم ہے تم جا کر ایک بار اس سے مل لو ہو سکتا ہے وہ تمہاری مدد کرے….عروہ نے مدهم آواز میں کہا تها…”..
” آپی بات پهر سے وہیں پر آ گئی…میں اس کے پاس کیوں جاوں مدد کے لیے. جب اللہ تعالیٰ میرے پاس ہیں میرے شہہ رگ سے بھی زیادہ قریب تو میں کسی انسان کو سجدہ کرنے کیوں جاوں..”.؟
“میں اس کے پاس چلی جاؤں اور ان لوگوں میں شامل ہو جاوں جو ہزار روپے فیس دے کر جہنم خرید رہے ہیں. .میں بھی جہنم خریدوں. …آپ صلی علیہ والہ وسلم فرماتے ہیں اگر نمک کی بهی حاجت ہو تو اللہ سے مانگیں…اگر ہمارے پیارے نبی صلی علیہ والہ وسلم نے فرمایا تو ان کی بات غلط کیسے ہو سکتی ہے. ..؟
کیا اس کے علاوہ مجهے کسی اور دلیل کی ضرورت ہے کیا اس سے بڑھ کر کوئی اور دلیل ہے. ….؟
آپ کہہ رہی ہیں وہ بہت بڑا عالم ہے جس عالم کو یہ تک نہیں معلوم اس کی زندگی کتنی ہے اور وہ کب مرے گا وہ کتنا بڑا عالم ہو سکتا ہے. ..یہ جو لوگ کہتے ہیں ان کے دل سے سکون غائب ہو گیا ہے. ..؟ یہ اچانک نہیں غائب ہو جاتا…؟ اللہ اچانک بنا مقصد بندے سے ناراض نہیں ہو جاتا….سب سے پہلے انسان اللہ تعالیٰ کے برابر دوسروں کو شریک کرتا ہے …یعنی اللہ کا مقابلہ کرتا ہے. ..تب انسان کے اندر سے خوف خدا ختم ہو جاتا ہے پهر اس کے دل سے ایمان ختم کر دیا جاتا ہے. ….اور پهر سب کچھ ختم ہو جاتا ہے. ….اچانک کچھ ختم نہیں ہوتا….بندے خود ہمیشہ اللہ تعالیٰ سے دور ہو جاتے ہیں اللہ تعالیٰ کهبی اپنے بندوں کو تنہا نہیں چھوڑتا…..” ….وہ مختلف دلیلیں دینے لگی…..
“تم بے کار میں مجھ سے بحث کر رہی ہو آیت ..میرے یا تمہارے کہنے اور سوچنے سے کچھ بھی بدل نہیں جائے گا…لوگ یہ سب خوشی خوشی کر رہے ہیں اور کرتے رہیں گے..اگر وہ غلط بهی ہیں تب بھی وہ اس غلطی پر خوش ہیں. .انہیں یہ سب سہی لگتا ہے. .چاہے وہ سہی نہ بھی ہو…..”…..وہ خاموش ہو گئی اس نے افسوس بهری ایک ٹهنڈی آہ نکالی. ..واقعی عروہ سے بحث کر کے اس کیا حاصل ہونا تها جو لوگ یہ سب کر رہے ہیں وہ کسی کے رکنے سے نہیں رکیں گے……..اسے دکھ ہوا بہت دکھ. …..
[ دسمبر لوٹ آنا تم تحریر ناصر حسین]
_ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _
وہ کهلی کهڑکی کے پاس کهڑی تهی ہوا اندر داخل ہو رہی تهی ..وہ آسمان پہ موجود اس خوبصورت چمکتے چاند کو دیکھ کر کچھ سوچ رہی تهی. ….
عروہ آپی کے خراٹے اسے سنائی دے رہے تھے وہ بڑے مزے سے سو رہی تھی لیکن وہ خود نہیں سو سکی…صبح سے اس کے اندر ایک بے چینی تهی…عروہ کی باتوں نے اور اخبار کے اس خبر نے اس کافی ڈسٹرب کیا……
“وہ بابا غائب کا علم بهی جانتے ہیں اور ایک بار جب کہتے ہیں ہو جا تو سب ہو جاتا ہے. .”..اس کے کانوں میں درد ہونے لگا. …بے چینی بڑهتی جا رہی تهی. .کوئی انسان یہ اختیار کیسے رکهتا ہے…یہ کیسے ممکن ہے کسی انسان کے کہنے سے سب ہو جائے….
شرک. یعنی اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو شریک کرنا.
” ﺍﮔﺮ ﺗﻢ ﺍﭘﻨﮯ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﮐﮯ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﻣﺠﮭﮯ ﺭﺩ ﮐﺮﻭ ﮔﮯﺗﻮ ﻣﯿﮟ ﺗﻤﮩﯿﮟ ﺍﭘﻨﯽ ﻧﻈﺮﻭﮞ ﻣﯿﮟ ﺭﺩ ﮐﺮﻭﻧﮕﺎ “
اس نے آنکهیں بند کر سوچنے کی کوشش کی. ..
” گستاخی. ..”؟ تو کیا یہ گستاخ خدا نہیں. ..کیا یہ انسان اللہ تعالیٰ کے ساتھ اتنی بڑی گستاخی نہیں کر رہا. .جو کہہ رہا ہے میں سب کچھ کر سکتا ہوں جو خدائی کا دعویٰ کر رہا ہے …اس سے بڑھ کر ظالم کون ہوگا..
ٹهیک ہے اللہ خود ہی اسے ہدایت دے میں کچھ نہیں کر سکتی…اس نے گہری سانس لے کر ہتھیار پهینک دیے….
“”تو کیا تم پہ کچھ فرض نہیں…”..دل سے آواز آئی….
” کیا تم بھی دوسرے لوگوں کی طرح برائی کا تماشا دیکهتی رہو گی اسے روکنے کی کوشش نہیں کرو گی…اگر اس بابا کی وجہ سے ایک بهی انسان گمراہ ہو کر جہنم میں چلا گیا تو کیا معاف کر سکو گی خود کو… ؟ وہ تمہارے مسلمان بہن بھائیوں کو گمراہ کر رہا ہے اور تم یہیں گهر بیٹھ کر صرف افسوس کرو گی. ..برائی کے خلاف جہاد نہیں کرو گی”. …..؟
اسے اچانک لنڈن میں اسے بوڑھے سے کی گئی گفتگو یاد آئی اور اس کے اپنے الفاظ ہر طرف گونج اٹھے. ..
“”زندگی میں بہت بار رسک لینا پڑتا ہے …اور ویسے بھی میں نے اچهے کام بہت کم ہی کیے ہیں اگر زندگی نے کهبی موقع دیا تو میں پیچھے نہیں ہٹوں گی….”..
موقع تو ملا تها اسے تو کیا وہ پیچھے نہیں ہٹ رہی تھی. .؟
اس رات وہ کافی دیر تک دل کے ساتھ بحث کرتی رہی اور اس بحث کے نتیجے میں اس نے کوہ سلیمان جانے کا فیصلہ کیا. .یہ علاقہ کہاں ہے کیسا ہے یہ وہ نہیں جانتی تھی اس کے دل میں صرف ایک ہی بات تهی کسی طرح بھی اپنے ان مسلمانوں کو گمراہ ہونے سے بچانا ہے جو غلط راستے پر چل نکلے ہیں…وہ انہیں ایک بار حقیقت سے آگاہ ضرور کرے گی وہ انہیں صراط مستقیم کا راستہ ضرور بتائے گی اس کے بعد وہ اللہ کو سجدہ کریں یا اس بابا کو وہ ان کا اپنا ایمان ہے….اس کی اپنی زندگی میں کئی مسائل تهے جن کے حل ابهی تک نہیں نکلے اس خود نہیں معلوم تها اس کا اور اس کے بچے کا مستقبل کیا ہوگا اور آنے والی زندگی میں کیا کیا امتحانات باقی ہیں. ..اس کی اپنی پرسنل زندگی کے مسائل بہت ہی زیادہ تهے اور ایسے میں یہ فیصلہ کوئی معمولی فیصلہ نہیں تها اس کے لیے خطرہ بھی تها اپنی زندگی کا خطرہ. …وہ نہیں جانتی تھی وہ بابا کس قسم کا انسان ہے اور اس کے کتنے مرید ہوں گے….اسے چیلنج کرنا اور غلط ثابت کرنا آسان نہیں تها…مگر ہر امکانات پر غور کرنے کے باوجود بھی اس نے کوہ سلیمان جانے کا فیصلہ کر لیا…وہ اپنا فیصلہ نہیں بدلنے والی تهی. ….لیکن سب سے پہلا مسئلہ گهر والوں سے بات کرنے کا تها وہ جانتی تھی ابو اسے وہاں جانے کی اجازت نہیں دیں گے…وہ دو دن کا سفر تها جانے کیسا علاقہ کیسے اجنبی لوگ تهے…..لیکن اگر وہ ابو سے کہے وہ صرف زیارت کے لئے وہاں جا رہی ہے تو وہ اسے نہیں روکیں گے کیونکہ ابو لاکھ مزہبی اور جماعت اسلامی کے رکن ہونے کے باوجود بہت سارے غلط کام بھی کرتے تھے…اس نے مستحکم فیصلہ کر لیا تها اور ہاتھ اپنے پیٹ پر رکها…انوشیر کی تصویر آنکھوں کے سامنے آئی اس نے آنکهیں کهول دیں…سامنے چاند پہ انوشیر کی تصویر دکهائی دینے لگی….وہ کهڑکی بند کر کے اندر آئی….
[ دسمبر لوٹ آنا تم تحریر ناصر حسین]
_ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _
“میں کوہ سلیمان جانا چاہتی ہوں. “…رات کے کهانے پہ اس نے اعلان کیا. .سبهی کهانا روک کر اس کا چہرہ دیکهنے لگے .. اس کا چہرہ سپاٹ تها……
” کوہ سلیمان. …؟وہ پہاڑی علاقہ.” ..؟ عمارہ بیگم نے دہرایا. ..اسے پہلی بار پتا چلا وہ پہاڑی علاقہ ہے اب اسے یاد آیا وہ کتابوں میں بھی کوہ سلیمان پہاڑوں کا سلسلہ پڑھ چکی تهی……..
“”وہاں کیا کرنے جاو گی تم.”…؟ اس کے ابو نے کهیر کی چمچ منہ میں رکهتے ہوئے پوچها…عروہ ابهی تک حیران تهی……..
“بابا فقیر شاہ کے پاس جاؤں گی .”..وہ چالوں میں چمچ گهما رہی تھی. …..
‘یہ کون ہیں.”…؟
“ایک روحانی عالم…جن کے پاس ہر مشکل کا حل ہے…”آخری جملہ اس نے استہزائیہ انداز میں کہا…
“اور تمارے ساتھ کیا مسئلہ ہے”. ..؟
“مسئلے پیش آ سکتے ہیں. ..کهبی کہیں بھی ہو سکتا ہے میری آنے والی زندگی میں کچھ پرابلمز ہوں…”.
یہ بات تم کیسے کہہ سکتی ہو. ..؟ تم کوئی نجومی تو نہیں ہو…”.اب کی بار اس کے ابو نے زرا غصے سے کہا. ….
“میں نہیں جانتی لیکن بابا فقیر شاہ تو جانتے ہیں ان کے پاس تو غائب کا بھی علم ہے. ہے ناں عروہ آپی.” ؟…اس کا لہجہ کچھ تلخ ہو گیا ..عروہ نے اسے گهور کر دیکها..
” تم انہیں کب سے جانتی ہو…”.؟
” آج صبح سے ہی..”…
” کہیں ٹی وی میں دیکها تها کیا.”..؟
“نہیں نیوز پیپر پہ… “.
” جانا ضروری ہے کیا. …؟”
” بہت ضروری ہے. ….”
” کیوں ضروری ہے”. ….؟
” بس مجهے عقیدت ہے محبت ہے.. …اللہ سے..”.آخری دو الفاظ وہ دل میں ہی بولی….اس کے ابو کچھ دیر خاموش رہے….عمارہ بیگم اور عروہ بھی ان دونوں کی گفتگو سن رہے تھے. …..
” کتنے دن کے لئے جاو گی”. .؟
” پانچ دن تو لگ ہی جائیں گے”. .؟
” اکیلے جا سکو گی اتنی دور”…..؟
” میں سات سمندر پار لنڈن اکیلی گئی تھی اور اکیلی واپس بھی آئی ہوں”….اس نے یاد دلایا…..
” ٹهیک ہے …چونکہ تم ایک اچهے کام کے لیے جا رہی ہو اس لیے تمہیں روکنا گناہ ہوگا…وہاں سے واپس آنے کے بعد میں نے تمہارا نکاح کر دینا ہے..”..وہ سرد مہری سے بولے…وہ کچھ نہیں بولی……….
“”کیا کہا تم کوہ سلیمان جا رہی ہو…”؟ رات کو عروہ نے اس سے پوچها تها. …
ہاں….
” اب کیوں جا رہی ہو ..؟ صبح جب میں نے تمہیں مشورہ دیا تها تب تم نے آسمان سر پر اٹها لیا اور ایک سے بڑھ کر ایک دلائل دینے لگی…..”.عروہ کو غصہ آیا….
“”میں وہاں کوئی دعا کوئی منت مانگنے اب بھی نہیں جا رہی. .”.عروہ کے ماتهے پہ بل پڑے….
“”تو پھر کس لیے جا رہی ہو تم..”..؟
” لوگوں کو گمراہی سے نکالنے اور اس جعلی بابا کا پردہ فاش کرنے.”….عروہ کی آنکهیں بڑی ہو گئیں..
” تم….تم…یہ…کیا…تم پاگل تو نہیں ہو”….عروہ کو سمجھ نہیں آیا وہ کیا کہے اسے. ….
” بہت زیادہ پاگل ہوں…”وہ بے نیازی سے بولی. .
“میری طرف دیکهو آیت..”..آیت نے عروہ کو دیکها. ..
” دنیا میں بہت کچھ غلط ہوتا ہے. .ہر جگہ کوئی نہ کوئی برائی ہو رہی ہوتی ہے ہم ہر کسی کو غلط کرنے سے روک نہیں سکتے…یہ ہماری ذمہ داری نہیں ہوتی…تم ان سب چکروں میں مت پڑو تمہاری اپنی زندگی میں کم مسائل ہیں کیا…؟ تمہیں اپنے کل کا پتا نہیں اور تم دوسروں کو دینے سکھانے چل پڑی ہو…تمہیں یہ بھی نہیں پتا تمہارا اپنا مستقبل کیا ہے. .اس بچے کو کیا کرو گی..اور..”..آیت نے جھنجھلا کر اس کی بات کاٹی..
” آپی آپ پلیز مجهے سہی اور غلط مت بتائیں…اگر میں بھی دوسرے انسانوں کی طرح دور کهڑی ہو کر تماشا دیکهتی رہی تو مجھ میں اور ان میں کیا فرق باقی رہ جائے گا….میرا دل کہتا ہے وہ لوگ غلط ہیں اور اگر کوئی میری وجہ سے غلط راستے پر جانے سے رک گیا تو یہ کتنی اچهی بات ہے…اگر کوئی نہ بھی رکا تو کم از کم سوچ میں ضرور پڑ جائے گا….میں نے زندگی میں اچهے کام بہت کم ہی کیے ہیں اور اگر مجهے اللہ تعالیٰ کسی اچهے کام کے لیے استعمال کر رہے ہیں تو آپ پلیز مجھے گمراہ کرنے کی کوشش نہ کریں…میری خواہش ہے میں زندگی میں کوئی تو ایسا کام کروں جس سے مجهے اپنے آپ پر فخر ہو جس سے میں اپنی نظروں میں کهڑی رہ سکوں…میں صرف ایک ڈگری حاصل کرنے کے لیے سات سمندر پار گئی تھی اللہ تعالیٰ کی راہ میں اتنا چهوٹا سفر نہیں طے کر سکتی. …”
عروہ کا دل چاہا اپنا ماتها پیٹ لے …..
” میں تمہیں کیسے سمجھاؤں آیت یہ سب آسان نہیں ہے. ..اللہ کے لیے تم نماز پڑھ رہی ہو یہی کافی ہے لیکن اس طرح وہاں جانے کا مطلب تمہیں معلوم ہے” ..؟ ” ایک اجنبی علاقہ اجنبی لوگ. …اور جس بابا کو چیلنج کرنے تم چل پڑی ہو وہ کتنا بڑا عالم ہے اور لوگ اس سے کتنی محبت کرتے ہیں تمہاری کوئی بھی غلطی تمہیں موت کے منہ میں بهیج سکتا ہے. …وہ لوگ بابا سے اس قدر محبت کرتے ہیں تمہاری کوئی بھی گستاخی سننے سے پہلے ہی تمہاری گردن کاٹ دیں گے. .تم ان ہزاروں لوگوں سے ٹکر لینے نکلی ہو….وہ بھی اکیلی…تم کوئی بہت بڑی عالم دین نہیں ہو اور نہ یہ تمہارا کام ہے زندگی ان سب چیزوں میں پڑنے کا نام نہیں ہے جو ہو رہا ہے اسے ہونے دو… تم سچ مچ احمق ہو…..اور اوپر سے تم پریگننٹ بھی ہو…سفر میں اس پہاڑی علاقے میں تمہارے ساتھ ساتھ اس بچے کی زندگی کو بھی خطرہ ہو سکتا ہے. ..تم سمجهتی کیوں نہیں ہو…تم اگر اللہ تعالیٰ سے محبت کرتی ہو تو یہیں بیٹھ کر دعا کرو ..تم کوئی مضبوط لڑکے نہیں ہو ایک معمولی کمزور سی لڑکی ہو….ہر چهوٹی بات پہ رونے والی….اتنا بڑا جنگ کیسے لڑو گی…..”؟
اس نے عروہ آپی کی بات سنی…..لیکن متفق نہیں ہوئی…..
” میں جانتی ہوں یہ مشکل ہے. .اس میں رسک ہے. .میری زندگی کے چانسز بھی کم ہیں لیکن اگر میری زندگی ختم بھی ہو گئی تب بھی مجهے یہ پچهتاو تو نہیں ہوگا میں نے برائی سے لڑنے کی کوشش نہیں کی…..اور یہ کوئی اتنی بڑی جنگ نہیں ہے. .کربلا کی جنگ میں مسلمانوں نے کتنی تکلیفوں کا سامنا کیا تها. .اللہ تعالیٰ نے انہیں ہر طرح سے آزمایا تها پهر بھی وہ مستحکم رہے….اور میں ایک معمولی سی جنگ نہیں لڑ سکتی…..آپ پلیز مجهے غلط کرنے کو نہ کہیں. ..اگر میں یہیں بیٹھ کر نیوز پڑھ کر افسوس کرتی رہوں تو کهبی برائی ختم نہیں ہوگی. ..ہم میں سے کسی نے کسی کو کهبی نہ کهبی برائی کے خلاف نکلنا ہی پڑے گا…….ﺭﺳﻮﻝ ﺍﻟﻠﮧ ﷺ ﻧﮯﻓﺮﻣﺎﯾﺎ ﺟﻮ ﺍﻟﻠَّﻪُ ﮐﮯﻟﯿﮯ ﺗﻮﺍﺿﻊ ﺍﺧﺘﯿﺎﺭ ﮐﺮﺗﺎﮨﮯ ﺍﻟﻠﮧ ﺍﺱ ﮐﻮﺑﻠﻨﺪﮐﺮﺗﺎﮨﮯ ﺍﻭﺭﺟﻮ ﺗﮑﺒﺮﮐﺮﺗﺎ ﮨﮯ ﺍﻟﻠﮧ ﺍﺱ ﮐﻮ ﭘﺴﺖ ﮐﺮﺗﺎ ﮨﮯ” ……….
عروہ تاسف سے اسے دیکهتی رہی اسے سمجهانا فضول تها. . وہ آ کر سونے کے لیے لیٹ گئی…آیت نے لیپ ٹاپ آن کیا اور کوہ سلیمان کا نقشہ ڈهونڈ نکالا….وہ پہاڑی علاقہ تها ایک خطرناک اجنبی علاقہ…جہاں جان ہتھیلی پر رکھ کر چلنا تها لیکن اس کے باوجود ایک لمحے کے بهی اس نے اپنے ارادے کمزور نہیں پڑنے دیے……اور اپنا سامان پیک کر کے برائی کے خلاف جہاد کرنے کے لیے کهڑی ہوئی. …
جاری ہے. ……

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *