December Lout Ana Tum by Nasir Hussain NovelR50779 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode16
Rate this Novel
December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode01 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode02 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode03 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode04 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode05 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode06 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode07 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode08 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode09 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode10 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode11 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode12 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode13 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode14 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode15 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode16 (Watching)December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode17 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode18 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode19 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode20 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode21 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode22 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode23 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode24 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode25 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode26 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode27 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode28 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode29 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode30 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode31 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode32 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode33 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode34 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode35 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode36 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode37 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode38 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode39 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode40 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode41 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode42 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode43 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode44 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode45 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Last Episode
December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode16
December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode16
•••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••
آیت شاپنگ مال میں تهی. .اچانک
پورے مال میں ایک شور سا اٹها ….وہ بھی شور کی طرف متوجہ ہوئی …غور کرنے پر پتا چلا کوئی ڈائمنڈ رنگ چوری ہو گئی….مال کے دروازے بند کر دیے گئے تهے. .پولیس بھی آ چکی تھی اور وہاں کهڑے سبهی لوگوں کی تلاشی لینے لگی. ..وہ ایک سائیڈ پہ حیران سی کهڑی ہو کر یہ سب دیکھ رہی تھی. ….اچانک ایک پولیس والا بولا. ..
چیک دیٹ پاکستانی گرل. . .اس کی اوپر کی سانس اوپر اور نیچے کی نیچے رہ گئی….اس نے ان دو پولیس والوں کو اپنی طرف آتے دیکها. .وہ اس کے قریب آئے اور اس سے بنا پوچهے اس کا پرس لے کر تلاشی لینے لگے…وہ خاموش کهڑی تهی پولیس والا اپنا ہاتھ اندر ڈال کر کهنگهال رہا تها…اسے کوئی ڈر نہیں تها …لیکن پهر بھی اسے یہ سب کچھ اچها نہیں لگ رہا تها….
[ دسمبر لوٹ آنا تم تحریر ناصر حسین]
پولیس والے نے اپنا ہاتھ باہر نکالا…اس کے چہرے پہ ایک استہزائیہ مسکراہٹ تهی سبهی لوگ منہ کهولے حیرت سے ان کی طرف دیکھ رہے تھے ..وہ پولیس والے کو یا کسی اور کو نہیں بلکہ اس ڈائمنڈ رنگ کو دیکھ رہی تهی جو پولیس والے نے اس کے پرس سے برآمد کیا …..اسے اپنے چاروں طرف دھماکوں کی آوازیں آنے لگیں…رہی سہی جان بھی نکل گئی….
چوری کرتی ہو….اس پولیس والے نے حقارت سے اسے دیکها. .وہ کچھ نہیں بول سکی لب ہلنا بهول گئے..وہ تو یہ سوچ کر ہی شاکڈ تهی وہ ڈائمنڈ رنگ اس کے پرس میں کیسے آیا….پولیس والے نے اپنے ساتھی کو اشارہ کیا اور وہ آگے بڑھا. ….پهر کسی نے اس کا ہاتھ پکڑا. …اور کوئی اسے کهینچتے ہوئے ایک تاریک کمرے میں لے آیا…دروازہ باہر سے بند کر دیا گیا تها……
کیا یہ سب سچ مچ ہو رہا تها..؟ وہ بے یقینی سے اس تاریک کمرے کو دیکھ رہی تهی. .یہ سب کتنی جلدی ہوا اسے سوچنے سمجهنے کی مہلت ہی نہیں ملی…اسے اس چهوٹے کمرے میں گهٹن ہونے لگی سانس لینے میں دشواری ہو رہی تھی وہ کیا کیا نہیں دیکھ رہی تھی ..میڈیا چینلز پر اس کا تصاویر اخبار میں اشتہارات. ..اس کا تو سب کچھ ختم ہو جاتا پل بھر. .سب کچھ تباہی کی آخری سیڑھی پر کهڑا تها. …اس بند تاریک کمرے میں نہ تو وہ خود کو نکال سکتی تهی اور نہ ہی کوئی اس کی مدد کر سکتا تها. اس کمرے کو دیکھ کر اسے قبر کا گمان ہونے لگا….لیکن وہ ڈائمنڈ رنگ وہ کیسے اس کے پرس میں آیا…کس نے ڈالا ہوگا کس کی سازش ہوگی پهر اسے وہ دهمکی آموز خط یاد آیا…….جو کچھ وہ اتنے عرصے سے بهلائے بیٹهی تهی وہ سب کچھ ایک دم پهر سے یاد آنے لگا تھا. .لیکن اس وقت سب سے بڑا مسئلہ یہاں سے نکلنے کا تها…چاروں طرف گهپ اندهیرا تها روشنی کی ایک بهی کرن نہیں تهی.
موبائل اس کے ہاتهوں میں تها اور اسے اچانک انوشیر یاد آیا…وہ اس کی مدد کرے گا وہ ضرور کرے وہ ہمیشہ اس مدد کرتا تھا ہر مصیبت میں آج بھی اگر اسے یہاں سے کوئی بچا سکتا تها تو وہ انوشیر ہی تها…اس نے بڑی تیزی سے انوشیر کا نمبر ملایا اور روتے ہوئے سسکیوں کے درمیان اسے پوری بات بتائی. . ……
آپ فکر نہ کریں میں ابهی آرہا ہوں…اس نے جواب میں اتنا ہی کہا اور اچانک اسے ہر طرف روشنی نظر آنے لگی جیسے سب کچھ آخری سیڑهی پر گرنے سے بچ گیا. ….اس کے سر میں درد ہونے لگا اسے چکر آنے لگا چاروں طرف اندهیرا محسوس ہوا…اسے لگا وہ بے ہوش ہونے والی ہے اور وہ فرش پر بے سدھ ہو کر گر گئی…..اس کی آنکهیں بند ہو رہی تهیں…لیکن آنکهیں بند ہونے سے پہلے اس نے جو منظر دیکها انوشیر سامنے کهڑا اس لنڈن پولیس والے سے کوئی بحث کر رہا تھا. ……
مجهے اس لڑکی پر پورا بھروسہ ہے یہ کهبی ایسا کر ہی نہیں سکتی. …اس نے انوشیر کے منہ سے آخری جملہ سنا اس کے بعد وہ ہوش و حواس کی دنیا سے باہر نکل گئی. ……….
_ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _
جب اس کی آنکھ کهلی تو اس نے خود کو ہوسٹل کے کمرے میں پایا…وہ اس وقت نیم دراز تهی اس کے اوپر کمبل تها سر میں ابهی تک ہلکا سا درد باقی تها…انوشیر اس کے پاس بیٹها تها. ..وہ انوشیر کی بہت مشکور تهی اس نے کئی بار کئی مقامات پر اس کی مدد کی وہ اس کے احسانوں کے بوجھ تلے دبی ہوئی تھی شکریہ کا لفظ بہت چهوٹا تها ان سب کے لئے. ..
انوشیر اسے ہوش میں آتا دیکھ کر مطمئن ہو گیا وہ اس وقت سے وہاں اس کے پاس تها جب سے وہ بے ہوش ہوئی تهی….پوجا بھی وہیں آ گئی اور آتے ہی بیڈ پر اس کے برابر بیٹھ گئی. …..انوشیر نے اجازت طلب کی وہ کافی دیر سے وہیں بیٹها ہوا تھا. … .اس نے انوشیر کو روکنے کی کوشش نہیں کی حالانکہ اس کا دل بہت چاہ رہا تھا وہ تهوڑی دیر اس کے پاس رک جاتا……
آئم سوری آیت یہ سب میری وجہ سے ہوا….پوجا نے معذرت خواہ انداز میں اس کی طرف دیکها وہ کافی شرمندہ نظر آ رہی تھی. …..
“نہیں نہیں. .پوجا یہ سب تمہاری وجہ سے نہیں ہوا تمہیں شرمندہ ہونے کی ضرورت نہیں ہے”. …وہ مدهم آواز میں بولی.وہ جانتی تهی جو ہوا اس میں پوجا کی غلطی نہیں ہے یہ سب ضرور ان لڑکوں نے کیا ہوگا …..
نہیں تم کچھ بھی کہو لیکن مجهے یوں اس طرح تمہیں اکیلے چهوڑ کر نہیں جانا چاہیے تھا. ..وہ بہت ہی زیادہ شرمندہ تهی اور کافی دیر تک آیت کے پاس بیٹهی باتیں کرتی رہی پهر اس نے آیت کے لیے سوپ بنایا اور اسے اپنے ہاتهوں سے وہ سوپ پلانے لگی………
رات تک آیت کی طبیعت کافی سنبهل چکی تهی وہ خود کو فریش محسوس کر رہی تهی. .چائے کا کپ لے کر وہ کهڑکی کے پاس آئی. ..سوچوں کا ایک انبار اکهٹا ہو رہا تھا اس کے دل میں. .موہ حالیہ واقعے کے بارے میں سوچنے لگی….اسے خوف محسوس ہونے لگا. ..سب کچھ بهنور کی زد میں آتا دکهائی دیا..اپنی زندگی اسے خطرے میں محسوس ہونے لگی…….
اور یہ اسی رات کی بات ہے جب وہ گہری نیند میں تهی تب اچانک ایک آواز سن کر جاگ گئی…
تم ابهی تک یہیں ہوں لگتا ہے تمہیں اپنی زندگی نہیں عزیز. …بهاری مردانہ آواز پورے کمرے میں گونج اٹهی اس کے ڈر اور وحشت میں مزید اضافہ ہوگیا…ماتهے پہ پسینہ تها وہ کچھ بول نہیں سکی….حلق سے آواز نہیں نکل رہی تھی. .پهر اچانک اس نے ہاتهوں نے حرکت کی اور اس نے سائیڈ لیمپ آن کر دیا..پورا کمرہ روشنی میں نہا گیا ..اس نے ڈرتے ڈرتے چاروں طرف دیکها …کوئی بھی نہیں تها پوجا پاس سوئی ہوئی خراٹے لے رہی تهی اس نے خوف و ہراس سے جهنجهوڑ کر پوجا کو اٹهایا. …پوجا خمار آلود آنکهیں مسلتی ہوئی بیدار ہوئی……
[ دسمبر لوٹ آنا تم تحریر ناصر حسین]
پوجا اس کمرے میں کوئی ہے…اس نے کمبل اپنے اوپر گردن تک کرتے ہوئے بتایا. .پوجا نے حیران ہو کر اسے دیکھا اور اٹھ کر بیٹھ گئی. …..
” یہاں کون ہے. ..کوئی بھی تو نہیں ہے. “..پوجا نے چاروں طرف دیکھ کر جواب دیا….
“:نہیں. .نہیں پوجا میرا یقین کرو یہاں کوئی تها میں نے خود اس مرد کی آواز سنی”…..اس نے پوجا کو یقین دلانے کی کوشش اور پوجا نے اسے ایسا دیکھا جیسے اس کی دماغی حالت پر شبہ کرنے لگی ہو…….
یہاں کوئی نہیں ہے کہاں ہے اچهی طرح دیکھ لو…ضرور تم نے کوئی برا خواب دیکها ہوگا..چلو اب سو جاو…..پوجا لائٹ آف کر کے کمبل اوڑھ کر سو گئی…..وہ بهی ڈرتے ڈرتے سونے کے لئے لیٹی تھی اسے یقین تها یہ خواب نہیں تها اور نہ ہی کوئی وہم….اس رات وہ دیر تک سو نہیں سکی ……
اس کے دل میں خوف گهر کر گیا .اب سوتے جاگتے چلتے پھرتے وہ ڈر رہی تھی اس بات کو اس نے انوشیر کے ساتھ ڈسکس نہیں کیا لیکن وہ اسے بتانا چاہتی تهی شاید وہی اس معاملے میں اس کی مدد کرتا….اس دن وہ انوشیر کے ساتھ پیدل چلتی ہوئی سڑک پر چل رہی تھی وہ اس بات کو ڈسکس کرنا چاہتی تهی…اچانک ایک ہیوی لوڈر اس کے بالکل سامنے آ رہا تھا وہ اسے دیکھ نہیں سکی لیکن انوشیر نے اسے دیکھ لیا تھا اس نے اسے دهکا دے دیا اور خود بھی دور جا گرا……اس دن اس کا شک یقین میں بدل گیا یہ سب اتفاق نہیں تها….یہ ایک سازش تھی جو جان بوجھ کر کی جا رہی تهی. …..اس کے ڈر میں مزید اضافہ ہوا……وہ پڑهائی میں بھی دل نہیں لگا پا رہی تهی. ..کچھ دن تک یہ معاملہ خاموش ہوا..وہ تهوڑی مطمئن ہوئی تهی اور ایک بار پھر زندگی کی طرف لوٹنا چاہتی تهی……
_ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _
اسے بهوک کا احساس ہوا__بنا اس وقت وہ کچھ نہیں سکتی تھی موڈ ہی نہیں تها اس لیے اس نے کینٹین سے کچھ کهانے کا فیصلہ کیا. ….
یہی سوچ کر وہ کمرے سے نکل کر سیڑھیاں عبور کرتی یونیورسٹی کے کشادہ لان میں داخل ہوئی…اس کے ہیل والے قدم سبز گهاس پر پڑ رہے تھے …وہ آس پاس دیکهنے بنا بے نیازی سے چلتی ہوئی آگے بڑھ رہی تهی. .آسمان پر بادل چھائے ہوئے تهے موسم کافی سہانہ تها……
پرندے ہوا سے باتیں کرتے پوری لندن کو اپنے تلے محسوس کر رہے تھے. …ہر طرف سٹوڈنٹس کے گروپس دکهائی دے رہے تهے وہ پہلے دن کی طرح سب کو دیکھ کر گهبراتی نہیں تهی اب……وہ کینٹین سے کچھ ہی فاصلے پر تهی جب اسے اپنے پیچھے کسی کے قدموں کی چاپ سنائی دی. ….
” کہاں جا رہی ہیں آپ…” ؟ آواز سنتے ہی اس نے رک کر پیچھے دیکها سامنے انوشیر کهڑا تها…وہی سنجیدہ انداز …..
” میں کینٹین جا رہی ہوں.”..اس نے کینٹین کی طرف اشارہ کیا انوشیر نے بهی کینٹین کی طرف دیکها. ..
وہاں کئی قسم کے اوباش لڑکے کهڑے ہیں آپ کو جو بھی خریدنا ہو مجهے بتا دیا کریں…..اس کے روکهے انداز میں کہے جانے والے اس جملے پہ وہ برا سا منہ بنا گئی….اس نے آف موڈ کے ساتھ جوس لانے کو کہا…اور وہیں انتظار کرنے لگی. …پتا نہیں یہ انوشیر لندن میں رہ کر اتنا مذہبی کیسے ہے….وہ تو پاکستان میں بھی اتنی مذہبی کهبی نہیں تهی. …اسے انوشیر کی یہ دخل دینے والی عادت سے چڑ ہوتی . . وہ ہمیشہ اس پہ عجیب و غریب پابندیاں لگاتا. ….جیسے جس طرف لڑکے کهڑے ہوں اس طرف مت دیکها کرو…یا شاپنگ کرتے ہوئے وہ ہمیشہ اس کے برابر چلتا….اگر کوئی سامان اس کے ہاتهوں میں ہوتا تو وہ بنا کہے اس کا سامان اٹها لیتا…..
اس قسم کے دقیانوسی مرد اس دور میں ملنا مشکل تهے پتا نہیں انوشیر کون سی دنیا سے تها……..
وہ جوس لے کر آ گیا…اب جوس پینے کا موڈ کس کا تها….
بے دلی سے اس نے اسٹرا ہونٹوں سے لگایا. …
” ہمیشہ بیٹھ کر کچھ پیتے ہیں. ..”؟ اور انوشیر نے ٹوکنا اپنا فریضہ سمجها……
“کیوں کهڑے ہو کر پینے سے کیا ہوتا ہے. “….وہ سوال کیے بنا نہیں رہ سکی…..
“اگر آپ کو معلوم ہو جائے کهڑے ہو کر کچھ پینے سے کس قسم کا شیطان آپ کے ساتھ پی رہا ہے تو آپ زندگی بھر کهڑے ہو کر پانی نہیں پیں گی….اور کهڑے کهڑے پینے سے صحت کے بهی نقصان ہوتے ہیں. …”وہ اسے ہمیشہ کی طرح تحمل سے سمجها رہا تھا. ..لیکن آیت کے سب سر سے اوپر گزرتا جا رہا تها. ..”آپ کو نہیں لگتا آپ کو اپنے ان نصیحتوں پر ایک کتاب لکهنی چاہیے. “..وہ جل کر بولی اقر بیٹھ کر جوس پینے لگی ..انوشیر نے کوئی جواب نہیں دیا. ..اور لمبے لمبے ڈگ بھرتا اس سے دور جا رہا تها. ……
وہ اس کو پیچھے سے دیکهتی رہ گئی..کمال کی شخصیت تهی اس کی .. .
_ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _
لیپ ٹاپ وہ سامنے رکهے بیٹهی تهی. . وکیپیڈیا کا پیج کهلا نظر آ رہا تھا …جہاں سے وہ لندن کی ہسٹری کهنگهال رہی تهی. ..ابهی تهوڑی دیر پہلے ہی اس نے کهانا کهایا تها پوجا مزے سے خراٹے لے رہی تهی اس کے خراٹے ہمیشہ کی طرح ڈسٹرب کر رہے تھے اسے…وہ ہمیشہ کوشش کرتی کہ پوجا سے پہلے سو جائے تا کہ اس کے بهیانک خراٹوں سے بچ سکے لیکن ہر بار کوئی نہ کوئی کام نکل ہی آتا……….
پهر اس نے لیپ ٹاپ کو سائیڈ پہ رکها اور کچن میں آ کر کافی بنانے لگی. .رات کو تهکاوٹ میں کافی پینے کی عادت اس کی بہت پرانی تهی…خراٹوں کی آواز کچن تک بھی آ رہی تھی . کافی بنا کر وہ مگ تهامے کهڑکی کے پاس چلی آئی……
کهڑکی بند تهی جسے اس نے کهولا…اور کهڑکی کے کهلتے ہی ٹهنڈی ہوا کا جھونکا اس کے وجود سے ٹکرایا…چاندنی رات تهی اور چاند کی دھیمی دھیمی روشنی زمین پر پڑ رہی تهی. …چاند ہمیشہ کی طرح سب سے منفرد تها ہمیشہ کی طرح ہزاروں ستاروں کے درمیان سر اٹهائے کهڑا نظر آ رہا تھا. ……
کیسے ہو. …اس نے چاند سے پوچها…چاند سے باتیں کرنے کی عادت اسے ہمیشہ سے تهی..اسے لگتا تھا ہم جو باتیں کرتے ہیں چاند سنتا ہے. ……..
“تم جواب کیوں نہیں دیتے ..”؟ اس نے چاند کو خاموش دیکھ کر پوچها …وہ اب بھی ویسے ہی خاموش رہا….
“اتنے بھی خوبصورت نہیں ہو..انوشیر تم سے زیادہ خوبصورت ہے وہ بھی تمہاری طرح زیادہ نہیں بولتا..”.
پتا نہیں اسے اس وقت انوشیر کیسے یاد آ گیا…چاند کے سامنے ایک بادل کا ٹکڑا آ گیا اور وہ مکمل طور پر چهپ گیا..
[ دسمبر لوٹ آنا تم تحریر ناصر حسین]
“اوکے چهپو مجهے بهی تم سے بات کرنے کا کوئی شوق نہیں ہے. .”…اس نے زور سے کهڑکی بند کر دی..کافی ٹهنڈی ہو چکی تهی …کپ سے بهاپ اٹهنا بالکل بند ہو چکا تها… .وہ تیزی سے گهومی اور پھر بے اختیار ٹهٹک گئی….
پوجا الجهے بالوں کے ساتھ نیند میں اسے حیران ہو کر دیکھ رہی تھی. …
“کس سے بات کر رہی تهیں تم..”…؟
“”چاند سے.”…وہ کندهے اچکا کر بولی…..
“کیا تم پاگل ہو…”.؟ پوجا بهر پور حیران ہونے کے بعد بولی…..
” ہاں بہت سارا”……وہ بال پیچھے جهٹک کر بولی….
اور کچن کی طرف بڑهی..پوجا بھی اس کے پیچھے پیچھے آئی….
“آئندہ تمہیں چاند سے بات کرنی ہو یا ستاروں سے لیکن تم میری نیند خراب نہیں کرو گی…”..پوجا کو اپنی نیند خراب کیے جانے پہ بہت دکھ تها….آیت نے اسے گهورنا مناسب سمجها….
“اور تم جو چالیس ہزار فریکوئنسی کے خراٹے لیتی ہو وہ. ..؟ کهبی سوچا ہے میں کیسے سوتی ہوں….”
“ہاں ….وہ…تو میں. ..مطلب وہ تو خود ہی نکلتے ہیں.” ..پوجا نے نگاہیں چرائیں اور ایک بار پھر بیڈ پہ جا کر لیٹ گئی….وہ سنک سے کپ دهو کر بیڈ پہ آئی….اور اپنا موبائل چارجنگ پہ لگا کر سونے کے لیے لیٹی..وہ رات کو ہمیشہ موبائل چارجنگ پہ لگا کر ہی سوتی تهی دن کو تو پوجا میڈم کا موبائل لگا رہتا تھا. ……
شکر تها جو پوجا جاگ گئی ورنہ وہ کهبی سو ہی نہیں پاتی اور اب وہ پندرہ منٹ بعد نیند کی وادی میں اتر گئی…لیکن وہ زیادہ دیر سو نہ سکی …اسے جیسے کوئی آواز دے رہا ہو …کوئی اس کا نام لے رہا ہو ..اسے لگا وہ خواب دیکھ رہی ہے مگر وہ خواب نہیں تها وہ اٹھ کر بیٹھ گئی. ..اس نے ماتهے کو پوروں سے چهو کر دیکها جہاں پسینہ تها..وہ کافی بوکهلائی ہوئی نظر آ رہی تھی. …..
اچانک اسے کمرے میں سایا نظر آیا کوئی چلتا ہوا سایا…اس کی آنکهیں خوف سے پهیل گئیں. .وہ بنا پلکیں جهپکائے اس سائے کو دیکهے جا رہی تھی. ….
پهر اس کی نظر وہاں سے ہوتے ہوئے کهڑکی تک گئی اور اسے جهٹکا اس وقت لگا جب اس نے کهڑکی کو کهلا پایا….اسے یاد تها وہ کهڑکی بند کر کے آئی تهی ….م
“تم اب تک واپس نہیں گئی. “..؟ پورے کمرے میں ایک بهاری مردانہ آواز گونجی. ..اور اس نے آنکهوں پر ہاتھ رکھ کر ایک زور دار چیخ ماری. ..پوجا ہڑابڑا کر اٹھ بیٹھی….اس نے لیمپ آن کیا…..
“کیا ہوا. .”.؟ وہ ڈر کر رونے لگی…پوجا اسے حیرت سے دیکهے جا رہی تھی. ….
” ابهی کوئی کمرے میں تها..”.اس نے ہچکیوں کے درمیان اپنی بات مکمل کی…..
“پاگل ہو کیا…یہاں کوئی نہیں ہے”. ..پوجا نے خفگی سے سے دیکها پهر اس نے چاروں طرف دیکھا واقعی کمرے میں کوئی نہیں تها. …
“میرا یقین کرو ابهی کوئی تها یہاں. .”.؟ اس نے پوجا کو یقین دلانے کی کوشش کی. ……
“پلیز سو جاو …دیکهو کوئی نہیں ہے ضرور تم نے کوئی خواب دیکها ہوگا اس دن کی طرح.” …پوجا اسے ملامت کرتی کمبل کهینچ کر سو گئی اور لیمپ بھی آف کر دیا…وہ ابهی بهی سمٹ کر بیٹهی تهی اور آس پاس دیکھ کر جیسے کسی کو تلاش کر رہی تهی…پوجا کہہ رہی تھی وہ وہم ہے لیکن وہ وہم نہیں تها اسے یقین تھا. ..اسے پچهلے سارے واقعات بھی ترتیب سے یاد آنے لگے تهے….اس نے صبح انوشیر سے بات کرنے کا فیصلہ کر لیا. .وہ اسے سب کچھ بتائے گی…وہ ضرور کوئی نہ کوئی حل نکال لے گا اس کے مسئلے کا….
وہ ڈرتے ڈرتے پهر سے سونے کے لیے لیٹی اس نے کمبل کهینچ کر اپنے اوپر کر لی اور کروٹ بدل کر کهڑکی کی طرف مڑ گئی. …کهڑکی کهلی نظر آئی….
[ دسمبر لوٹ آنا تم تحریر ناصر حسین]
ٹهنڈ کے باوجود اس میں اتنی ہمت نہیں تهی جا کر کهڑکی بند کر دے…وہ آنکهیں کهول کر کهڑکی سے باہر چاند کو دیکھ رہی تھی. .نیند تو اسے آنی ہی نہیں تهی….اسے ایک بار پھر کرنٹ لگا…جب اس نے کسی کو کهڑکی کے اوپر چڑھتے دیکها….وہ جهٹکا کها کر کهڑی ہو گئی. ..وہ کهڑکی سے اندر آتا شخص باہر کود گیا…ایک سانپ تها جس نے اسے کاٹا تها…وہ بهاگتی ہوئی کهڑکی تک آئی……
اور پهٹی ہوئی آنکھوں سے اس شخص کو چاند کی روشنی میں دور جاتا دیکھ رہی تھی. ..وہ اس شخص کو پہچان سکتی تهی. .وہ انوشیر تها جو لمبے لمبے قدم اٹهاتا اس سے دور جا رہا تها. …لیکن حیرت اسے اس بات پہ ہوئی یہ شخص اس کے ساتھ یہ سب کر رہا تھا. .مگر کیوں …؟ انوشیر یہ سب کیوں کر رہا تھا. ..؟ وہ اسے کیوں مارنا چاہتا تھا اور اگر مارنا چاہتا تھا تو وہ اسے بچاتا کیوں تها…….ایک نام جو وہ زندگی بهر نہیں سوچ سکتی تهی وہی نام اس کے سامنے تها…..
انوشیر یہ کیوں چاہے گا وہ واپس پاکستان چلی جائے…اور اس دن وہ ڈائمنڈ رنگ اس کے پرس میں “انوشیر نے ہی رکها تها اور پھر لوڈر “…؟
بے یقینی سے بے یقینی تهی…جس شخص کے اوپر وہ اتنا بهروسہ کرتی تهی…وہ یہ سب کیوں کر رہا تھا. …؟وہ تو ایک مذہبی لڑکا تھا اسلام اور اللہ سے محبت کرنے والا پهر وہ اس کی جان کیوں لینا چاہتا تھا. ..؟
او میرے اللہ. ..وہ سر تهام کے بیٹھ گئی..ہزاروں سوالوں کے درمیان ایک سوال کا بھی جواب اس کے پاس نہیں تها…لیکن وہ جواب حاصل کرنا چاہتی تهی وہ انوشیر سے بات کرنا چاہتی تهی…وہ اس سے سب کچھ جاننا چاہتی تهی…..
وہ اس سے ایک بار پھر ملنا چاہتی تهی. …….
جاری ہے______
