Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode14

December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode14

وہ ہمیشہ عورت کو عزت کی نظر سے دیکھتے ہیں اور انوشیر بھی انہی مردوں کی اقسام میں تها……..
اس سے چند ہی ملاقاتوں میں وہ اس کے بارے میں بہت کچھ جان گئی تهی…جیسے کہ وہ قرآن پاک کا حافظ ہے اور حج بھی کر چکا ہے. ..وہ اسلام اور اللہ سے محبت کرتا تھا اور اس کی زیادہ تر باتیں اسلام کے حوالے سے ہی ہوتی تهیں…آیت جہاں کافی حد تک اس سے متاثر تهی وہیں وہ آپ میں احساس کمتری کا شکار ہوتی ..
آیت کی روم میٹ ایک انڈین لڑکی پوجا تهی جو کافی شوخ اور خوش مزاج تهی…اس کی تمام حرکتیں زیادہ تر مغربی تهیں لیکن اس کے باوجود بھی وہ انڈین سے محبت کرتی تهی پوجا سے اس کی کافی اچهی دوستی تهی اسے بھی لنڈن بہت پسند تها…وہ بھی سیر و تفریح کی کافی شوقین تهی……
پوجا کے بوائے فرینڈز کے بارے میں وہ یقین کے ساتھ کچھ نہیں کہہ سکتی تهی کیونکہ ان کی تعداد سیکڑوں میں تهی..پوجا تقریباً ہر دوسرے دن اپنا بوائے فرینڈ تبدیل کرتی تهی اس کا سارا الزام میں وہ اپنے بوائے فرینڈ پر ڈالتی تهی اس بریک اپ کے بعد اسے کوئی اور مل جاتا وہ دو دن خوب رونے دهونے اور شور مچانے کے بعد اپنے طرف بڑهتے ہاتھ تهام لیتی….اسے پوجا کی یہ عادت کافی عجیب لگتی تھی لیکن اسے نصیحت کرنا بے کار تها کیونکہ وہ اپنی مرضی کرنے والوں میں سے تهی..لیکن اس سب کے باوجود بھی وہ اس کی اچهی دوست تهی ہر دکھ سکھ میں کام آنے والی جس سے وہ اپنے دل کی بات بے جهجک کہہ سکتی تهی. .لنڈن کا یہ سفر اس کے لیے بہت خوبصورت جا رہا تها. ……
[ دسمبر لوٹ آنا تم تحریر ناصر حسین]
_ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _
ڈھلتی شام کی سنہری روشنی لنڈن کی سرزمین کو اپنے ہی رنگ میں رنگنے کی کوشش کر رہی تهی…وہ کهڑکی کے پاس بیٹهی ٹهنڈی ٹهنڈی ہوا کے جھونکے لے رہی تهی….اس کے ہاتهوں میں اپنا مخصوص ناول تها ….لیکن وہ ناول نہیں پڑھ رہی تهی وہ کهڑکی سے نیچے باہر سٹوڈنٹس کو دیکھ رہی تهی….سیکڑوں کی تعداد میں انگریز ادهر ادهر گهومتے نظر آئے تهے اسے…اب وہ پہلے کی طرح انگریزوں سے نفرت نہیں کرتی تهی کسی حد تک وہ ان کے ساتھ گهل مل گئی تهی…اسے بے تکلفی بھی نہیں کہا جا سکتا تها لیکن شروع شروع کے کچھ دنوں میں اس کے دل میں انگریزوں کے خلاف جو کڑواہٹ تهی وہ ختم ہو گئی. …
ہیلو ڈئیر آیت…..پوجا کی آواز پہ وہ چونکی..اس نے سر اٹها کر پوجا کو دیکها اور مسکرانے کی کوشش کی وہ آج شاپنگ پہ گئی ہوئی تهی اس نے اسے بھی چلنے کے لیے کہا لیکن اس نے انکار کر دیا…..پوجا اسے خوشی خوشی اپنی شاپنگ دکھانے لگی وہ بھی دلچسپی سے اس کی شاپنگ دیکھ رہی تھی پهر پوجا نے ایک بنا بازوؤں والی سکرٹ اسے دکهائی……
یہ کیا ہے …؟ اس نے پوچها ….
یہ تمہارے لیے ہے. ….پوجا نے بتایا…..
لیکن میں اس طرح کے کپڑے نہیں پہنتی….اس نے اعتراض کیا…..
اف آیت…تم کتنی دقیانوسی قسم کی لڑکی ہو یہ لنڈن ہے پاکستان نہیں یہاں سبهی ایسے کپڑے پہنتے ہیں اس میں کچھ بھی غلط نہیں ہے. ….
لیکن میں نہیں پہنتی…
تم اگر ایک دن پہن لو گی تو آسمان نیچے نہیں آ جائے گا. .دیکهنا تم بہت اچهی لگو گی ابهی جا کر ٹرائی کرو میں دیکهنا چاہتی ہوں ……پوجا نے زبردستی وہ سکرٹ اس کے ہاتهوں میں تهمائی……اس نے بادل نخواستہ حامی بهر لی… .
وہ جب چینج کر آئی تو پوجا اسے دیکهتی رہ گئی بقول اس کے وہ بہت خوبصورت لگ رہی ہے. ..پوجا کمرے سے باہر نکل گئی وہ آئینے کے سامنے آئی ..وہ واقعی بہت اچهی لگ رہی تھی یہ احساس اسے آئینہ دیکھ کر ہوا تها…اس نے ہلکا میک اپ بھی کیا ..اور کمرے سے باہر نکل آئی. .موسم اچها تها اس لیے اس کا دل چہل قدمی کرنے کو چاہا…….
بنا بازوؤں والی شارٹ سکرٹ پہن کر جب وہ باہر نکلی تو کوئی اسے عجیب نگاہوں سے نہیں دیکھ رہا تها کیونکہ وہ اس ماحول کا حصہ معلوم ہو رہی تھی لیکن جانے کیوں وہ خود ان فٹ محسوس کر رہی تهی. ..یونیورسٹی کے احاطے سے باہر نکل کر وہ سڑک پر آئی… اس کے کهلے بال شانوں پر بکهرے ہوئے تهے ..سڑک پہ اس وقت اور بھی کئی لوگ چہل قدمی کر رہے تھے شام کا منظر کچھ لمحوں میں غائب ہونے والا تها…ہوا بھی ہمیشہ کی طرح ٹهنڈی سی تهی جو اس کے برہنہ بازوؤں کے آر پار گهس رہی تهی..اس کے وجود میں ہلکی سی کپکپاہٹ بھی ہوئی. ……
چلتے چلتے وہ کافی دور نکل آئی تهی..وہ اس وقت جس جگہ جس سڑک پر چل رہی تھی وہ بالکل سنسان تها..سڑک کے دونوں طرف لمبے لمبے درخت تهے جو ہوا کی وجہ سے جهوم رہے تهے. .اسے بہت اچانک احساس ہونا شروع ہوا جیسے کوئی اس کا پیچھا کر رہا ہے اس نے اپنے چلنے کی رفتار مدهم کر دی اور گردن موڑ کر پیچهے دیکها….پیچهے سے دو لڑکے اسے اپنی طرف آتے ہوئے دکهائی دیے…وہ دونوں شکل سے ہی آوارہ لگ رہے تھے .اچهے برے انسان ہر ملک یر جگہ ہوتے ہیں ضروری تو نہیں ہر برائی پاکستان میں ہو برائی تو ہر جگہ جڑیں پھیلائے ہوئے ہے.. .وہ سہم کر چلنا بهول گئی خوف کی ایک تیز لہر اس نے اپنی ریڑھ کی ہڈی میں محسوس کی….وہ لڑکے اب اس کے پاس آ چکے تھے وہ سمجھ نہیں سکی اسے اب کیا کرنا چاہیے. …
ہائے ڈارلنگ. ..ان میں سے ایک لڑکا بولا…اس کے ہونٹوں پر شیطانی مسکراہٹ رقص کر رہی تهی وہ اس کے جملے سے زیادہ ان کے انداز سے گهبرا گئی..کوئی بھی جواب منہ سے نکلنے سے انکاری ہو گیا….چیونگم چباتا وہ لڑکا اسے اوپر سے نیچے تک بڑی گہری نگاہوں سے دیکھ رہا تھا. …اس وقت وہ اپنے آپ کو برہنہ محسوس کر رہی تهی اس کے وجود میں کپکپی طاری ہو گئی….. ..
[ دسمبر لوٹ آنا تم تحریر ناصر حسین]
اس نے بہتری اسی میں جانی کہ واپس لوٹ جائے اور واپس جانے کے لئے جب وہ مڑی تو اپنے قدم آگے نہیں بڑھا سکی ..ایک لڑکے نے مضبوطی سے اس کی کلائی پکڑ لی ….اور دوسرا لڑکا اس کے سامنے آ کر کهڑا ہو گیا..اس کی رہی سہی ہمت بھی جواب دے گئی وہ ان لڑکوں کی دیدہ دلیری پر حیران تهی…..
لیو مائی ہینڈ… ( ہاتھ چهوڑو میرا) …
اس نے اپنے آپ کو مضبوط بنانے کی حتیٰ الامکان کوشش کی لیکن وہ اس کوشش میں بری طرح ناکام نظر آ رہی تهی…اس لڑکے نے اس کا ہاتھ نہیں چهوڑا پهر وہ اپنے دوسرے ہاتھ سے اس کے گال کو چهو رہا تها بے بسی اور بے عزتی کے احساس سے اس کی آنکهوں سے آنسو رواں ہو گئے….اس نے جهٹکے سے اپنا ہاتھ اس لڑکے کی گرفت سے آزاد کیا اور ایک زناٹے دار تهپڑ اس کے منہ پر دے مارا…….
لڑکا تلملا اٹها…اس کا چہرہ غصے سے سرخ ہو گیا..اس نے آیت کے بالوں کو اپنی مٹهی میں دبا لیا…اور دوسرے لڑکے نے اس کی ہاتهوں کو پکڑ رکها تها وہ بے بسی کی انتہا پر تهی. ..شام ڈهل چکی تهی اس وقت اس کی مدد کو ایک فرشتہ ہی آ سکتا تها وہ جہاں جس سڑک پر کهڑے تهے وہاں کوئی ٹریفک بھی نہیں آتا تها……اچانک اس لڑکی کی مٹهی کا گرفت ڈهیلا پڑ گیا اور اس نے گردن موڑ کر پیچھے دیکها…دوسرے لڑکے نے بھی پیچهے دیکها…..سامنے انوشیر کهڑا تها. ..اسے یہ سب ایک خواب لگا…وہ یہاں کیسے. ..؟ کیا سچ میں وہ وہی تها..اسے انوشیر کے روپ میں اس وقت ایک فرشتہ نظر آیا جسے خدا نے اس کی حفاظت کے لیے بهیجا تها….وہ دونوں لڑکے انوشیر سے لڑنے کے لیے اس کی طرف بڑهے انوشیر نے ایک کے پیٹ پر زور دار لات ماری اور وہ کراہتا ہوا سڑک کے دوسرے کنارے پر جا گرا…….دوسرا لڑکا انوشیر سے لڑنے کے لیے بهاگا ..ان دونوں میں ہاتها پائی شروع ہو گئی…..انوشیر اس لڑائی میں زخمی ہو چکا تها اس کے ہونٹ سے خون نکل رہا تها….وہ آنسو بہاتی انوشیر کو دیکھ رہی تهی…پهر انوشیر نے اس کے پیٹ میں زور دار گهونسہ مارا جس کی وہ تاب نہ لا سکا اور لڑهکتا ہوا دور جا گرا …وہ یہ سب ہوتے ہوئے دیکھ رہی تھی اس کے چہرے پر پسینے کے ساتھ ساتھ گهبراہٹ تهی….انوشیر کا چہرہ غصے اور غیرت سے لال ہو چکا تها وہ اسے اتنے غصے میں پہلی بار دیکھ رہی تھی. ..پهر اس نے انوشیر کو اپنی طرف آتے دیکها اس نے اس کا ہاتھ پکڑا اور اسے کهینچتا ہوا وہ سے اپنی بائیک تک لے آیا..اس کا غصہ ابهی تک ٹهنڈا نہیں ہوا تها….
آیت کو اسے غصے سے بہت ڈرنے لگنے لگا. .اس نے کچھ لمحے آیت کی طرف دیکها. پهر اپنی لیدر کی جیکٹ اتار کر آیت کے برہنہ بازوؤں پر رکھ دی…وہ انوشیر کو بتانا چاہتی تهی کہ کس طرح اور کس ارادے سے وہ یہاں آئی تهی اور کیا ہوا تها اس کے ساتھ. .اسے لگا تها انوشیر اسے دلاسا دے گا اور اسے رونے سے منع کرے گا……..لیکن انوشیر نے اپنا ہاتھ اوپر کی طرف بلند کیا اور ایک تهپڑ اس کے گال پر دے مارا…وہ حیرت اور دکھ کی ملی جلی کیفیت کے ساتھ انوشیر کو دیکهنے لگی .جس کے کان کی لو تک سرخ ہو چکی تهی..وہ بنا پلکیں جهپکائے انوشیر کو دیکھ رہی تهی یہ تهپڑ اس کے لیے غیر متوقع اور غیر معمولی تها…اسے نہیں معلوم یہ تهپڑ اسے کس لیے مارا گیا تھا ..وہ بس حیران تهی انوشیر کچھ لمحے مٹهیاں بھینچے کهڑا رہا…پهر اس نے آیت کی آنکھوں میں دیکها. …..
[ دسمبر لوٹ آنا تم تحریر ناصر حسین]
کس نے آپ سے کہا تھا اس طرح کے کپڑے پہننے کو…؟ وہ گرج دار آواز میں بولا..اس کی آواز سنسان سڑک پر دور دور تک سنائی دینے لگی.وہ پہلی بار اپنے آپ پر غور کرنے لگی اور اسے تهپڑ کی وجہ سمجھ آ گئی… …….
مہ…مہ..لیکن…اس میں کیا حرج ہے….؟ وہ بہ مشکل ہی بول پائی…..
کیا حرج ہے اس میں. .؟ وہ پہلے سے بھی زیادہ زور دار آواز میں بولا…..
آپ نے ایسے کپڑے ہی کیوں پہنے. ..؟ اس کا بس نہیں چلا کہ وہ آیت کا خون کر دیتا..وہ اس کے غصے سے کافی سہم چکی تهی……
میں نے صرف ایسے کپڑے پہنے ہیں لیکن اس میں میرا تو کوئی قصور. …اس نے صفائی دینے کی کوشش کی لیکن انوشیر نے اس کی بات پوری نہیں ہونے دی…
سارا قصور آپ کا ہی ہے…یہ آپ آدهے ادهورے کپڑے پہن کر میک اپ کر کے اکیلی سنسان سڑک پر نکل پڑیں گی تو آپ کو کیا لگتا ہے آپ محفوظ رہیں گی…اگر آپ کو اپنی عزت اتنی ہی پیاری ہے تو یوں اس طرح کرتیں ہی کیوں…؟ان لوگوں کو دعوت آپ خود دے رہی ہیں آپ کے کپڑے چیخ چیخ کر بتا رہے ہیں آپ کس قسم کی لڑکی ہیں اور آپ کہہ رہی ہیں قصور آپ کا نہیں. ..شرم آنی چاہیے آپ کو….انوشیر نے تاسف سے اسے دیکها تها…وہ شرمندہ تهی لیکن اس کے باوجود بھی اس نے اپنے دفاع کی کوشش ترک نہیں کی…….
لیکن لنڈن میں تو سب ایسے کپڑے پہنتے ہیں. ..؟
لیکن آپ لنڈن سے نہیں ہے. .آپ انگریز نہیں ہیں آپ پاکستان سے ہیں اور ایک مسلمان لڑکی ہیں..وہ یہ سب کر سکتے ہیں لیکن ایک مسلمان اور شریف گهر کی لڑکی یہ سب کهبی نہیں کر سکتی…زندگی میں انسان کئی مقامات پر جاتا ہے کئی ملکوں کی سیر بھی کرتا ہے لیکن یوں ان کی تہذیب کو فالو کرنے نہیں بیٹھ جاتا…ہمارا اپنا مذہب کامل ترین ہے ہمیں کچھ بھی فالو کرنے کی ضرورت نہیں ہے. …اور جن لوگوں کی آپ بات کر رہی ہیں وہ شراب بھی پیتی ہیں کلب بھی جاتی ہیں اور غیر مردوں کے ساتھ راتیں بھی گزارتی ہیں….
وہ نگاہیں جهکائے شرمندہ ہو کر کهڑی تهی. ….
میں نے صرف پہلی بار غلطی کی. ..وہ جیسے ہار مانتے ہوئے بولی. ….
غلطی صرف ایک بار ہوتی ہے جو بار بار کیا جائے وہ غلطی نہیں گناہ کہلاتا ہے. ..اور گناہ کی پہلی سیڑھی ہی غلطی ہے….غلط راستے کی منزل ہمیشہ غلط ہوتی ہے جیسے کہ آج آپ نے غلطی کی اور اس کا انجام آپ نے خود دیکھا. اگر آپ پورے کپڑے پہن کر اور سر پر دوپٹہ لیتیں تو کوئی آپ پر انگلی اٹھانے کی ہمت بھی نہیں کر سکتا تها. ……وہ سر اٹهانے کے قابل بھی نہیں رہی تھی. ..انوشیر بائیک پر بیٹها وہ بھی اس کے پیچھے بیٹھ گئی سارا راستہ وہ روتی رہی. .ایک احساسِ ندامت تها جو اسے کهائے جا رہا تها… اگر آج انوشیر نہ آتا تو کیا ہو جاتا …؟ لڑکی کی عزت کانچ کی طرح نازک ہوتی ہے اگر ایک بار ٹوٹ جائے تو پهر کهبی جڑ نہیں سکتا…..انوشیر نے اس سے کوئی بات نہیں کی وہ اس سے ناراض تها اسے یونیورسٹی کے ہوسٹل ڈراپ کر کے وہ خاموشی سے چلا گیا اور اس کی یہ ناراضگی صرف ایک دن کے لیے نہیں تهی وہ کئی دن تک یونہی ناراض رہا اسے منانا کافی مشکل تها..اس دن وہ بنچ پر بیٹها تها جب وہ اس کے پاس گئی اس نے ایک بار پھر انوشیر کو سوری کہا تها…..
دیکهیں اگر آپ کو مجھ سے بات کرنی ہے اور میری مدد چاہیے تو آپ آئندہ اس قسم کے کپڑے نہیں پہنیں گی اور ہمیشہ سر پر دوپٹہ بھی لیں گی…….انوشیر نے اس کے سوری کے جواب میں کہا تها اس نے سر اثبات میں ہلا دیا. …………..
جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *