Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode24

December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode24

•••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••
وہ کسی بھی سوال میں اس وقت الجهنا نہیں چاہتی تھی اس لیے خاموشی سے کچن میں چلی آئی….
بال کهلے ہوئے تھے جنہیں اس نے چهوٹی سی پونی میں قید کردیا. ….کهانا اور افطاری تیار کرنے میں اس کافی وقت لگا…جب انوشیر آیا اس وقت مغرب ہونے میں فقط پندرہ بیس منٹ باقی تهے…اس نے انوشیر کو کهانے کی ٹیبل پہ بٹهایا….اور خود کهانا لگانے لگی. .سر پہ دوپٹے کا وہ اضافہ کر چکی تهی کیونکہ انوشیر کو بنا دوپٹے والی لڑکیاں نہیں پسند تهیں…
انوشیر کے چہرے پہ سنجیدگی ہمیشہ کی طرح تهی..وہ کریم کلر کی ٹی شرٹ پہنے ہوئے تھا اوپر سیاہ لیدر کی جیکٹ تهی….بال سلجھے ہوئے …دودھیا رنگت. ..سنہری آنکهیں….کلائی پہ ایک خوبصورت ہینڈ واچ…..وہ وہیں کچن میں کهڑی ہو کر لمحہ بھر اسے دیکهتی رہی. .سب کچھ سیٹ کرنے کے بعد وہ بھی وہیں بیٹھ گئی. .انوشیر نے اب تک خیر خیریت کے علاوہ کوئی بات نہیں کی اسے بالکل بھی حیرت نہیں ہوئی وہ باتیں کم ہی کرتا تها..
افطاری کے بعد اس کا پکا ارادہ تها وہ انوشیر سے ان سوالوں کے جواب حاصل کرے جن کے لئے وہ رات سے بے قرار ہے. .. .آس پاس کوئی مسجد نہیں تهی اس لیے ازان کی آواز نہیں آنی تهی انوشیر نے اپنے کسی دوست کے ذمے لگا رکها تها وہ اسے عین افطاری کے وقت میسج کرتا….دو منٹ بعد اس نے میسج کیا. . سب سے پہلے انوشیر نے کھجور منہ میں رکها. ……
کتنا معصوم کتنا خوبصورت دکهنے والا یہ شخص کیا اندر سے اتنا سخت دل ہے. ..وہ انوشیر کو دیکھ کر سوچنے لگی…وہ اب ملک شیک پی رہا تھا وہ بھی چاولوں کے ڈونگے میں یونہی چمچ گهما رہی تھی. ..وہ اب کچھ فروٹس کها رہا تها وہ اسے دیکهنے لگی. .پهر اس نے چاولوں کی ایک پلیٹ انوشیر کی طرف بڑهائی….انوشیر عجلت میں لگ رہا تھا شاید نماز پڑهنے کی جلدی تهی اسے. ..انوشیر نے چالوں کا پہلا چمچ منہ میں رکها پهر دوسرا، تیسرا وہ اسے دیکهے جا رہی تھی انوشیر اس کی طرف متوجہ نہیں تها. ..پهر اس نے کچھ اور دیکها….انوشیر کو زور سے ابکائی آئی اور خون کی ایک ندی الٹی کی صورت میں اس کے منہ سے نکلا…وہ بدحواس ہو کر انوشیر کے پاس گئی وہ گلے کو پکڑے بری طرح کهانس رہا تها…اس کے منہ سے خون نکل رہا تھا. ..وہ جگ اٹها کر گلاس میں پانی نکالنے لگی…پانی نکال کر وہ انوشیر کی طرف مڑی…وہ اوندھے منہ فرش پر گرا پڑا تها….آیت کی آنکهیں پهیل گئیں یہ کیا ہوگیا. …؟
جگ اس کے ہاتهوں سے گر کر ٹکڑے ٹکڑے ہو گیا وہ انوشیر پر جهکی …وہ بے ہوش تها خون کے قطرے اس کے منہ سے نکل رہے تھے. ..آیت رو رہی تهی بدحواس تهی پریشان تهی….اس کی سمجھ میں نہیں آیا وہ کیا کرے……پهر وہ تیزی سے فون تک آئی….
_ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _
ایمرجنسی وارڈ کے سامنے وہ اس وقت ایک بنچ پر بیٹهی تهی. .آنسو تهے کہ تهم ہی نہیں رہے تهے ..انوشیر اندر ایڈمٹ تها تین گهنٹے ہو چکے لیکن وہ ابهی تک ہوش میں نہیں آیا تها….وہ کچھ سمجھ نہیں سکی اچانک انوشیر کو ہو گیا ہے. …دوپٹہ سر پر لیے وہ مسلسل اللہ تعالیٰ سے انوشیر کی زندگی مانگ رہی تھی. …..
ہسپتال میں اس وقت ایک گہما گہمی تهی اور وہ اکیلی بیٹهی ڈاکٹرز کے باہر آنے کی منتظر تهی. ..انگلینڈ یونیفارم میں ملبوس دو پولیس والے اچانک اسے اپنی طرف آتے دکهائی دیے …وہ آکر اس کے بالکل پاس کهڑے ہو گئے وہ حیران پریشان ہو کر انہیں دیکهنے لگی…
“بیڈ نمبر سیون کے پیشنٹ آپ کے ساتھ ہیں. .”.؟ ان میں سے ایک نے انگریزی میں سوال کیا. .وہ کهڑی ہو گئی آنسو پونچھ کر اس نے سر اثبات میں ہلا دیا. …..
” کیا ہوا تها ان کے ساتھ.” ….؟
اس نے سامنے دیکها ایمرجنسی وارڈ میں ایک چهوٹی سی کهڑکی تهی جس کے اندر سے انوشیر لیٹا دکهائی دے رہا تها. …وہ اس وقت بے ہوش تها آکسیجن ماسک کے سہارے سانس لیتا ہوا ….اسے دیکھ کر بے اختیار آنسو ایک بار پھر گرنے لگے. …….
پولیس والے جواب کا منتظر تهے…اس نے شروع سے لے کر آخر تک ساری بات بتائی یعنی اس کے روزے سے چاول اور پهر اس کی بے ہوشی. …….
مگر اس کے بعد پولیس نے جو کہا وہ اس کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا. …
” یو آر انڈر اریسٹ” ( آپ کو گرفتار کیا جاتا ہے)
وہ حیران ہو کر انہیں دیکهنے لگی. ….
” کیوں.”…؟ اس کے منہ سے بے اختیار نکلا…..
“کیونکہ ان چاولوں میں زہر ملا ہوا تھا. .”…آیت کو لگا اسے بھی آکسیجن کی ضرورت ہے. .اسے گهٹن محسوس ہونے لگی. …
“زہر….”؟اس نے کهڑکی سے نظر آتے انوشیر کی طرف دیکها…
“ہاں” ..اور پهر ایک نے آگے بڑھ کر اسے ہتهکڑی لگائی..
” مہ…مہ. .میں نے کچھ نہیں کیا….”؟..اس نے کچھ کہنے کی کوشش کی لیکن وہ نہیں سن رہے تھے. .وہ اسے کهینچ کر زبردستی ہاسپٹل سے باہر لے جانے لگے. ..دوپٹہ اس کے سر سے اتر گیا…اس نے پیچھے مڑ کر انوشیر کو دیکها اور زور سے چیخ کر اسے آواز دی…اس کے بے ہوش وجود نے حرکت کی. ….اور پھر آہستہ آہستہ اس نے آنکهیں کهولیں…..آیت نے جهٹکے سے خود کو پولیس کی گرفتار سے آزاد کیا اور بهاگ کر ایمرجنسی کے اندر داخل ہو گئی …انوشیر ہوش میں آ چکا تھا وہ گهٹنوں کے بل اس کے پاس بیٹھ گئی. ..وہ رو رہی تھی. ..انوشیر اسے دیکھ رہا تھا. ..
پولیس والے بھی اس کے پیچھے پیچھے اندر آئے….
“مہ…مہ. ..میں نے آپ کو زہر نہیں دیا…آپ پلیز پولیس والوں کو بتائیں ناں ” . .وہ گڑگڑا کر اسے جهنجوڑ رہی تهی انوشیر نے پولیس کو دیکها…..اور روتی ہوئی اس معصوم لڑکی کو….
” سر شی از مائی فرینڈ.” …..وہ کہہ رہا تها.
“اس نے مجهے زہر نہیں دیا…اور نہ ہی کهبی یہ ایسا کر سکتی ہے.” …بڑی مشکل سے اس کی آواز آئی….پولیس والے چلے گئے. .وہ وہیں بیٹهی تهی. …
تهوڑی دیر بعد پوجا بھی وہیں چلی آئی…اس نے جیسے ہی سنا وہ بهاگ کر انوشیر کی طبیعت کے بارے میں دریافت کرنے آئی…اس نے آیت کو دلاسا دیا..اور زبردستی اسے کهانا بهی کهلانے لگی. …وہ بس روئے چلی جا رہی تهی. …….
[ دسمبر لوٹ آنا تم تحریر ناصر حسین]
_ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _
ٹیکسی والے کو کرایا دے کر وہ نیچے اتری…اس نے اپنے سامنے بنے اس پرشکوہ عمارت کو دیکها. ..
اپنا پہلا قدم اس نے اپارٹمنٹ کی سیڑھی پر رکها اور دوپٹہ سنبهالتی اوپر پہنچ گئی. .اپنے مطلوبہ فلیٹ کے سامنے رک کر اس نے گهنٹی پہ انگلی رکهی……
دو بار بیل دینے کے بعد دروازہ کھلنے کی آواز نے اسے متوجہ کیا. .سامنے انوشیر کهڑا تها اس نے شرٹ نہیں پہنی تھی…اس کا سفید جسم اور گلے میں لٹکتا لاکٹ صاف نظر آ رہا تھا. .بے اختیار اس نے نگاہیں چرائیں انوشیر بھی زرا جهنپ گیا….وہ اندر چلا گیا اور شرٹ پہن کر واپس آیا وہ تب تک وہیں کهڑی رہی….
اندر آئیں …..وہ اس کے پیچھے پیچھے چلتے ہوئے پہلی بار اس کے فلیٹ میں آئی تھی. .وہاں موجود ایک ایک چیز سلیقے سے رکهی ہوئی تھی. .وہ صرف اپنے معاملے میں ہی نہیں ہر معاملے ستهرا اور سنجیدہ ہے آیت نے سوچا…انوشیر کو ہاسپٹل سے گهر آئے ہوئے دوسرا دن تها وہ ہاسپٹل تو اس کے ساتھ رہی لیکن ڈسچارج ہونے کے بعد وہ فون پر تو اس سے خیریت پوچهتی لیکن باقاعدہ ملنے پہلی بار آئی تهی……
انوشیر نے اسے صوفے پر بیٹهنے کو کہا…..وہ جهجکتے ہوئے بیٹھ گئی. وہ شرمندہ شرمندہ سی لگی انوشیر کو…..
“:کیا لیں گی آپ…؟”
انوشیر نے پوچها….وہ ناخن کهروچتے رک سی گئی..
“:کچھ نہیں آپ کی طبیعت اب کیسی ہے.” …؟ وہ انوشیر کی آنکھوں میں دیکهنے سے کترا رہی تھی. ..”میں بالکل ٹهیک ہوں. ..چائے یا کافی”. …اس نے سر اٹها کر اسے دیکها. ….
“چائے…”جیسے وہ ہار مانتے ہوئے بولی…..انوشیر اپنے چهوٹے سے کچن میں چلا گیا. ..وہ وہیں صوفے پر بیٹهی رہ گئی.کافی دیر ادهر ادهر دیکهنے کے بعد وہ اس کے پیچھے کچن میں چلی گئی…..
وہ اسے دیکھ چکا تھا لیکن پهر بھی نظر انداز کیے ہوئے تها ..پورے انہماک سے کام کرتے ہوئے وہ یہ تاثر دے رہا تها جیسے اس کے علاوہ کوئی نہیں ہے وہاں….
“آپ ناراض ہو مجھ سے.” …؟ آیت کی زبان سے جانے کیسے یہ بات پهسل گئی وہ ہاتھ روک کر اسے دیکهنے لگا.
“ناراض. ..”؟ اس کے خوبصورت ہونٹ بھینچ گئے…
“میں آپ سے ناراض کیوں ہوں گا..”…وہ اب کپ میں چائے نکال رہا تھا. …آیت کی سمجھ میں نہیں آیا وہ کیا کہے بڑی دیر بعد وہ بولی. ….
“آئم سوری اس دن جو ہوا مجهے نہیں پتا کیسے ہوا…چاولوں میں زہر کیسے آیا میں نہیں جانتی آپ. ..”
انوشیر نے اس کی بات کاٹ دی…..
“میں نے آپ سے کچھ کہا…”.؟ وہ روہانسی ہو گئی .
“نہیں لیکن آپ میرا یقین کریں…مجهے خود نہیں پتا یہ سب کیسے ہو گیا…آپ کو میری وجہ سے کتنی تکلیف اٹهانی پڑی …”.آنسو ابل پڑے….
“مجهے آپ پر بهروسہ ہے اور مجهے کوئی تکلیف نہیں ہوئی. .وہ ایک آزمائش تها اور آزمائشیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے آتی ہیں جن پہ ہمیں صبر کرنا چاہیے. .”…
وہ کپ اس کی طرف بڑها رہا تھا. ..جو اس نے برستی آنکھوں کے ساتھ تهام لی…انوشیر نے اپنا کپ اٹهایا….
ویسے میں اتنی بری چائے نہیں بناتا جتنے آپ آنسو بہا رہی ہیں….وہ کچن سے نکلتے ہوئے بولا..اس کے چہرے پہ کوئی مسکراہٹ نہیں تهی لیکن آیت نم آنکھوں کے ساتھ مسکرا دی….وہ پندرہ منٹ انوشیر کے پاس بیٹهی رہی. ..واپس ہوسٹل اسے انوشیر نے اپنی بائیک پر ہی ڈراپ کیا……وہ کئی سوچیں لیے اپنے کمرے میں داخل ہوئی….جن جن سوالوں کے جواب وہ تلاش کر رہی تهی ان کی تعداد میں اضافہ ہو چکا تها. …
پہلے اگر اسے انوشیر پر شک تها تو اب وہ شک دهندلانے لگا ..اس رات انوشیر کو یونیورسٹی میں دیکهنے کے بعد وہ سمجھ رہی تھی انوشیر شاید اسے مارنا چاہتا ہے. ..اور وہ اس ایکسیڈنٹ اور شاپنگ مال والے واقع کو بھی انوشیر کے ساتھ جوڑ رہی تهی لیکن اس رات جو ہوا اس نے اسے مزید سوچنے پر مجبور کر دیا. ..وہ چاول اس نے اپنے ہاتهوں سے بنائے تهے ان میں زہر کہاں سے آیا….اور اگر انوشیر ہی یہ سب کر رہا تھا تو وہ خود چاول کها کر اتنے بڑے حادثے کا شکار تو نہیں ہوتا. ..اور اگر وہ بے گناہ تها تو اس رات کهڑکی سے اندر آ کر وہ اسے دهمکی کیوں دے رہا تها. …..لیکن کچھ تو تها کچھ غلط کچھ بہت غلط جو وہ سمجھ نہیں پا رہی تهی. ……
“آج کی پارٹی میں کون سا سوٹ پہنوں”….؟ پوجا اچانک اس کے سامنے نمودار ہوئی وہ بے اختیار چونک گئی….وہ ہاتهوں میں دو سوٹ لیے کهڑی تهی اس کا دل چاہا وہ اپنا ماتها پیٹ لے…پوجا کی پارٹیاں ختم ہی نہیں ہوتیں…..
“کیا تم لندن یہی سب کرنے آئی ہو.”…؟ اس نے جل کر سوال کیا……
“ہاں…لائف کو انجوائے کرنے.”…وہ بے نیازی سے بولی…
“کیا تم سارے انڈین اتنے نکمے ہوتے ہو”. …؟
“نہیں. .لیکن کیا سارے پاکستانی اتنے ہی بور ہوتے ہیں جتنی تم ہو…”.؟ پوجا نے سرگوشی کے انداز میں سوال کیا….وہ برا مان گئی …
ہ” م پاکستانی بور نہیں ہوتے اور نہ ہی میں کوئی بور لڑکی ہوں…..میں بہت زندہ دل لڑکی ہوں…”.پوجا نے گہری سانس خارج کی….
“اوکے تم بور نہیں ہو زندہ دل ہو…اب بتاو میں کون سا سوٹ پہنوں”…..وہ ایک بار پھر ہینگرز اس کے سامنے لے آئی…..
“یہ والا…”.کالے سکرٹ پر انگلی رکھ کر وہ واش روم میں گهس گئی ….
_ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _
پوجا لیپ ٹاپ لیے کمرے میں داخل ہوئی. ..آیت اس وقت بیڈ پہ اوندھی لیٹی ناول پڑھ رہی تھی. ….
اس نے تاسف سے ایک نگاہ آیت کو دیکها اور لیپ ٹاپ میز پر رکھ دیا اور خود چهلانگ لگا کر بیڈ پر کود گئی…آیت اس اچانک حملے سے بوکهلا گئی. …
اس نے گهور کر پوجا کو دیکها….وہ ہمیشہ کی طرح بنا بازوؤں والی ٹی شرٹ میں ملبوس تهی…..
پوجا نے غور سے اسے پهر اس کے ناول کو دیکها. .
اس کے ہاتهوں میں ہمیشہ وہی ایک ناول دیکهنے کو ہی ملتا…..پوجا نے دیکھا دن میں کم از کم دو گهنٹے اس ناول کو ضرور پڑهتی ..لیکن تعجب کی بات یہ نہیں ہے حیرانی کی بات تو یہ تهی وہ اس کے علاوہ کوئی دوسرا ناول پڑهتی ہی نہیں تهی یہ ختم ہو جانے کے بعد پهر سے شروع کر دیتی وہ ناول……..یہ بات خود آیت نے ہی اسے بتائی تهی اور وہ سن کر ہی ساکت رہ گئی……..
[ دسمبر لوٹ آنا تم تحریر ناصر حسین]
پوجا کو یاد نہیں یہ ناول اس نے پہلی بار کب اس کے ہاتهوں میں دیکها تها شاید بہت عرصہ پہلے.جب وہ اس کے روم میں شفٹ ہوئی تهی.. .اب تو اس کتاب کی جلد اور اوراق بھی بوسیدہ ہو چکے تھے لیکن وہ دن بدن اس کے عشق میں مبتلا ہوتی جا رہی تهی. ..
دراصل وہ اس ناول سے زیادہ اس کے ایک کردار سے محبت کرتی تهی. جو اس ناول کا ہیرو تها اسے اس کا کردار پسند تها..
.اس وقت بھی وہ ناول میں گم سم تهی.جب پوجا اس کے پاس بیڈ پر پہنچی……..
” تم پهر سے وہی ناول لیے بیٹهی ہو.” …؟ پوجا نے مصنوعی غصے سے کہا. ….
“:ہاں تو” ..؟ وہ بے نیازی سے بولی …..
“میں نے تم سے کتنی بار کہا ایسے ہیروز صرف ناولوں میں ہوتے ہیں حقیقت میں نہیں اس کی تمنا کرنا چهوڑ دو.”…..
“اول تو تمہاری سوچ ہی غلط ہے پوجا. ..جس رائٹر نے بھی یہ ناول لکها اس نے ہیرو کا کردار کہیں سے دیکھ کر ہی لکها ہوگا…اتنی بڑی دنیا ہے کہیں نہ کہیں تو ضرور ہی ہوگا….اور اگر وہ نہ بھی ہوا تو اس کے جیسا کوئی نہ کوئی تو ہوگا”. …
“.مجهے یقین ہے میں اس سے ایک دن ضرور ملوں گی.. .اور دوسری بات میں نے اس کی تمنا تو نہیں کی میں صرف اس کے کریکٹر کو پسند کرتی ہوں” …
.وہ ہمیشہ کی طرح پوجا کو مختلف دلائل دے رہی تهی……….
“مجهے تمہاری باتیں سمجھ نہیں آتیں. “…..وہ سر جهٹک کر بولی…..
“تمہیں سمجھ آئیں گی بھی نہیں اور سمجهنے کی کوشش بھی مت کرو”. ..اب آیت وہ ناول بند کر رہی تهی. ..
“ویسے تمہارے ناول کا ہیرو تمہارے بوائے فرینڈ سے زیادہ خوبصورت ہے کیا”….؟ پوجا نے شرارت سے اس کی آنکھوں میں دیکها…آیت کے ماتهے پہ شکنیں نمودار ہوئیں. …
” بوائے فرینڈ. ..”.؟
“ہاں وہی جو ہر وقت تمہارے ساتھ رہتا ہے کتنا خوبصورت ہے ناں وہ”..؟
” وہ میرا بوائے فرینڈ نہیں ہے. .”…آیت کو برا لگا…
:اوہ…مجهے لگا تمہارا بوائے فرینڈ ہوگا…”.وہ کندهے اچکا کر کهڑی ہوئی. …آیت کے فون کی گھنٹی بجی. .پاکستان سے عروہ آپی کی کال تهی……
“کیسی ہو آپی.”…فون کان پر رکھ کر وہ مسکرائی…
” میں ٹهیک ہوں تم سناو…واپس کب آ رہی ہو. ..؟ بہت مس کر رہی ہوں تمہیں.” …
” بس آپی اب کم وقت ہی رہ گیا ہے جلد ہی آؤں گی پاکستان. “…..وہ دس منٹ تک عروہ سے باتیں کرتی رہی پهر کال ڈسکنٹ کر کے وہ کهڑکی کے پاس آئی..
جاری ہے. …………

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *