December Lout Ana Tum by Nasir

” میں لندن جانا چاہتی ہوں امی ” ____
عمارہ بیگم کے ماتھے پر بل پڑے __وہ پهٹی ہوئی نگاہوں سے اسے دیکهنے لگیں___
” پاگل تو نہیں ہو گئی آیت یہ کس طرح کی باتیں کر رہی ہے___؟” انہوں نے بے یقینی سے پوچها ___
” امی آپ جانتی ہیں لندن جانا میری زندگی کی سب سے بڑی خواہش ہے _”_وہ متلجائیہ انداز میں عمارہ بیگم کا ہاتھ پکڑ کر بولی___
ہوا کے تیز جھونکے سے بند کهڑکی کهل گئی__ٹهنڈی ہوا کا جھونکا راستہ بناتا ہوا اندر داخل ہوا __
” تو جانتی ہے یہ ممکن نہیں ہے اور انسان کی ہزاروں خواہشات ہوتی ہیں ہر خواہش پوری ہو ایسا ضروری نہیں جو پوری ہوتی ہے اسے زندگی کہتے ہیں خواہشات نہیں_”_وہ اپنا ہاتھ چهڑا کر خفگی سے بولیں___
” آپ نے ایک بار مجھ سے وعدہ کیا تها”___وہ روہانسی ہوتے ہوئے بولی ___
” وہ وعدہ میں نے تمہیں صرف بہلانے کے لیے کہا تھا وہ کوئی باقاعدہ وعدہ نہیں تها __تم سمجهتی کیوں نہیں یہ نا ممکن ہے_”___
” کچھ بھی نا ممکن نہیں ہوتا مما_ہم انسان ہر شے کو ناممکن بنا دیتے ہیں__ویسے بھی یہ کوئی اتنی بڑی بات نہیں ہے”____
” اتنی بڑی بات نہیں ہے”__؟ عمارہ بیگم نے خفگی سے اسے دیکها____
” آیت تو اسلام آباد سے کراچی جانے کی بات نہیں کر رہی __پاکستان سے لندن جانے کی بات کر رہی ہے اور تمہیں اچهی طرح معلوم ہے ایسا نہیں ہو سکتا پهر بھی بے کار میں مجھ سے بحث کیے جا رہی ہے”____
” امی والدین تو اپنی اولاد کی خواہشات پوری کرنے کے لیے کیا کچھ نہیں کرتے آپ صرف مجهے اجازت نہیں دے سکتیں _”_؟ وہ بهرائی ہوئی آواز میں بولی
“”اجازت میں نے نہیں دینا__اجازت تیرے ابو نے دینا ہے اور وہ کهبی نہیں دیں گے”____
“تو آپ مناو ناں انہیں__”_وہ ان کا ہاتھ پکڑ کر پر امید انداز میں بولی__
“ہوش میں تو ہے وہ مجهے دو باتیں سنا کر چپ کرا دیں گے __پتا تو ہے ناں تمہیں وہ کتنے دقیانوسی خیالات کے ہیں” ___
“مجهے یقین ہے امی آپ انہیں قائل کر لیں گی_یہ کوئی اتنا بڑا مسئلہ نہیں ہے میری ساری فرینڈز جا رہی ہیں_صرف ایک سال کی ہی تو بات ہے __ آپ لوگوں نے مجهے اجازت نہیں دی تو میرا مستقبل برباد ہو جائے گا ___اگر آپ لوگوں نے میرے ساتھ ایسا ہی کرنا تها تو اب تک مجهے اتنی تعلیم کیوں دلوائی”____وہ ناراض ہوتے ہوئے بولی ____
” یہی ہماری سب سے بڑی غلطی تھی __نہ تجهے شہر میں تعلیم کے لیے بھجواتے اور نہ ہی تم اتنے اونچے خواب دیکهتی__ دنیا کیا کہے گی زمانہ کیا کہے گا __ہمارے خاندان میں تو دور پورے گاؤں میں لڑکی تو کیا کوئی لڑکا بھی لندن نہیں گیا اور تم سات سمندر پار کر کے اس اجنبی ملک جانا چاہتی ہے _اور دنیا والے بھی کیا سوچیں گے اکیلی بیٹی کو بهیج دیا ملک سے باہر”____
عمارہ بیگم صوفے پہ سر تهام کر بیٹھ گئیں وہ سمجھ نہیں پا رہی تهیں آیت کو کیسے سمجهائے ___آیت بھی ان کے برابر جا کر صوفے پہ بیٹھ گئی___
” مجهے اس بات سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ گاوں والے میرے بارے میں کیا سوچیں گے میرے لیے یہ بات زیادہ معنی رکهتا ہے کہ میرے اپنے میرے بارے میں کیا سوچتے ہیں __ مجهے تعلیم گاوں والوں نے نہیں دلوائی مجهے شہر انہوں نے نہیں بهیجا مجھ پہ خرچا انہوں نے نہیں کیا تو میں ان کے بارے میں کیوں سوچوں امی ” ___
” یہ سب افسانوی باتیں ہیں آیت __اصل زندگی میں ایک عورت کے لیے اس کا گهر اس کا خاندان سب سے بڑھ کر ہوتا ہے__تمہارے ابو تمہارے لیے لڑکا ڈهونڈ رہے ہیں کچھ ہی دنوں میں تمہاری شادی ہو جائے گی __بچے ہوں گے تب تمہیں یاد بھی نہیں ہوگا تم نے ایسی کوئی خواہش کی ہے _یہ صرف وقتی خواب ہوتے ہیں جن چیزوں کو حاصل کرنا انسان کے بس میں نہ ہو ان کے بارے میں سوچنا بھی نہیں چاہیے”____وہ اب اسے پیار سے سمجهانے لگیں___
ان سب کے لئے پوری زندگی پڑی ہے مما_میں شادی کے لیے اپنا مستقبل اپنا کیرئیر نہیں برباد کر سکتی ___ میں بهی ہر عورت کی طرح اپنی زندگی دوسروں پہ وقف کر دوں گی ساری زندگی بچوں اور شوہر کے نام کر دوں گی __اور میرا اپنا کیا ؟ میری خواہشات کا کیا __؟ کچھ تو ایسا کروں جس سے مجهے لگے میں نے بھی اپنی زندگی کے کچھ پل جیے ہیں___
زندگی صرف ایک بار ملتی ہے اور میں اپنی زندگی دوسروں کے نام وقف نہیں کر سکتی __اتنا بڑا ظرف نہیں ہے میرا امی” ___
” بس زندگی کے کچھ پل پهر ملیں نہ ملیں یہ موقع پهر ہاتھ آئے یا نہ آئے اس لیے میں ان لمحوں کو گوانا نہیں چاہتی”_____
وہ خوابوں خیالوں میں کهو گئی___
” اتنا پڑھ لکھ کر کیا کرنا ہے تونے __سب کچھ تو ہے تمہارے پاس ” ___اس کی مما نے اسے ٹوکا ___
” مما تعلیم دولت کے لئے کوئی حاصل نہیں کرتا اور پیسہ ہی زندگی میں سب کچھ نہیں ہوتا __کچھ چیزیں کچھ خواہشات جو پیسے سے نہیں خریدے جاتے __آخر مسئلہ کیا ہے کوئی اکیلی تو نہیں ہوں گی وہاں اور بھی لڑکیاں ہوں گی”_____
“”تجهے تو اللہ سمجھائے لڑکی “__ عمارہ بیگم ماتهے پہ ہاتھ مارتی ہوئی کمرے سے باہر نکل گئیں__
وہ دوپٹہ شانوں پر پهیلائے کهڑکی تک آئی __ہوا کے زور کی وجہ سے کهڑکی کهبی کهلتی اور کهبی بند ہوتی__وہ ہاتھ باندھ کر دور آسمان پہ موجود چاند کو دیکهنے لگی__لاکهوں ستاروں کے بیچ وہ چاند ایک شان سے ہی سر اٹهائے نظر آ رہا تها__اس چاند کو اپنے آپ پہ آخر غرور کیوں نہ ہوتا آسمان پہ موجود سبهی ستارے تو اس کی پہرے دادی کر رہے تهے__جیسے ایک تخت پہ بیٹها بادشاہ اور اس کے ارد گرد ہزاروں کی تعداد میں رعایا ______
لیکن چاند میں ایک خامی ہے یہ کهبی مستحکم نہیں رہتا ہمیشہ بهاگتا رہتا ہے__انسانوں کی بستی سے دور دل والوں کی دنیا سے دور جانے کہاں اس کا سفر مکمل ہوتا ہے ___
کیا چاند کی کوئی منزل بھی ہے ____
پهر سے ہوا نے زبردستی اندر داخل ہونے کی کوشش کی لیکن اس بار وہ اس کے سامنے ڈٹ کر کهڑی تهی__ہوا کو اندر جانے کے لیے اس کا مقابلہ کرنا تها __
” میں لندن ضرور جاوں گی”___ اس نے چاند کو بتانے کی کوشش کی __
_”_جس دیس میں میرا دل ہے جہاں میرے خوابوں کی دنیا آباد ہے __جہاں میرے سپنوں کا تاج محل ہے میں وہاں آ رہی ہوں”____

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Categories: Action Action & Adventure After Marriage after nikah Billionaire College cousin based Decent Emotional / Love Story English Novels Family Dispute force marriage Love Story Based Social Issues BAsed urdu novels
Tags: After Marriage age difference COMPLETE NOVEL Forced marriage love story based Urdu Novels

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *