December Lout Ana Tum by Nasir Hussain NovelR50779 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode26
Rate this Novel
December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode01 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode02 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode03 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode04 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode05 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode06 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode07 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode08 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode09 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode10 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode11 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode12 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode13 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode14 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode15 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode16 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode17 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode18 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode19 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode20 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode21 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode22 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode23 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode24 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode25 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode26 (Watching)December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode27 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode28 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode29 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode30 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode31 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode32 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode33 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode34 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode35 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode36 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode37 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode38 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode39 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode40 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode41 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode42 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode43 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode44 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode45 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Last Episode
December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode26
December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode26
•••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••
آیت صبح جب بیدار ہوئی تو سر میں درد کا احساس ہوا. .رات بهر وہ ٹینشن میں تهی..انوشیر کو اس نے پہلی بار ناراض کیا تها اور اسے اس بات کا بہت دکھ تها. .پوجا واک پر جا چکی تھی وہ واش روم میں جا کر منہ دهونے لگی..رات رونے کی وجہ سے اس کی آنکھیں سوجھ چکی تهیں…..
منہ ہاتھ دهو کر اس نے کالے رنگ کا دوپٹہ اٹهایا…اور عجلت میں دروازہ لاک کر کے کمرے سے باہر نکل آئی. .اس نے ناشتہ بھی نہیں کیا …بهوک ہی نہیں تهی…صبح کی ہلکی ہلکی دهوپ لندن کی سرزمین کو چمکا رہی تھی. …..
[ دسمبر لوٹ آنا تم تحریر ناصر حسین]
وہ ٹیکسی میں بیٹهی اور سیدھا انوشیر کے اپارٹمنٹ پہنچی. .بهاگ کر اس نے سیڑھیوں کا راستہ عبور کا یہ فاصلہ اسے پل صراط جیسا لگا…اسے نہیں معلوم وہ کس بات پر اتنا پریشان تهی. ….
ایک سکینڈ بھی ضائع کیے بنا اس نے گهنٹی پہ انگلی رکهی اور زور زور سے بجاتی چلی گئی…دو منٹ تک وہ گهنٹی پر سے انگلی اٹهانا ہی بهول گئی..جب دروازہ کهلا تو اسے انوشیر نظر آیا…وہ بنیان میں تها اس کی آنکهیں نیند سے بوجھل نظر آ رہی تهیں. ..اسے وہاں دیکھ کر اس کی آنکهیں پوری کهل گئیں. ….
آپ یہاں. ….اس کی حیرت بجا تهی..اتنی صبح اسے وہاں دیکھ کر انوشیر کو حیران ہی ہونا تها…م
“مہ…مہ…آپ سمجهتے کیا ہیں اپنے آپ کو…میں نے کتنے کالز ایس ایم ایس کیے آپ جواب کیوں نہیں دیتے. آپ کو کیا لگتا ہے میں مر جاؤں گی. “.وہ ہذیانی انداز میں چلائی. ..انوشیر سنجیدگی سے اسے دیکهتا رہا…..
“آپ اندر آئیں….”وہ باہر کوئی تماشا نہیں چاہتا تھا. ..آیت کی آنکھوں میں آنسو تهے …وہ اس کے پیچھے پیچھے اندر آ گئی…..
” آئم سوری. .”..وہ روتے ہوئے بولی ..
‘ آپ نے ناشتہ کیا” …؟
“مجهے نہیں معلوم میں کل کیا کہہ گئی…بعد میں مجهے افسوس ہوا. ..میں آپ سے. “….
” چائے لیں گی یا کچھ اور..”…؟
” میں بہت شرمندہ ہوں ..میں کل بھی آنا چاہتی تهی لیکن رات کافی ہوچکی تھی.” .انوشیر کچن میں آگیا..وہ بھی اس کے پیچھے پیچھے آئی ..وہ اب ناشتہ تیار کر رہا تھا ایسے جیسے اس کی بات سن ہی نہ رہا ہو. ……
“مما کہتی ہے میں بہت جذباتی ہوں…مجهے بات کرنے کی تمیز بالکل بھی نہیں ہے جو دل میں آتا ہے میں بول دیتی ہوں….اور بعد میں مجهے احساس ہوتا ہے ..”…
وہ نم آواز کے ساتھ بول رہی تهی ….
” آملیٹ لیں گی آپ…”..؟انوشیر نے پوچها. ….
” آپ جو کہیں گے میں وہی کروں گی میں آئندہ.” ….انوشیر نے اس کی بات کاٹ دی اور ناشتہ کی ٹرے اس کی طرف بڑهانے لگا…..
“یہ ناشتہ. …”.آیت کو اب سہی معنوں میں غصہ آیا…اس نے غصے سے ہاتھ آگے بڑها کر ٹرے کو فرش پر پهینک دیا. .انوشیر ہونٹ بھینچ کر کچھ لمحے اس ٹرے کو دیکهتا رہا …
“آپ کو کیا لگتا ہے میں یہاں صبح صبح ناشتہ کرنے آئی ہوں.”.وہ چلائی….انوشیر باہر جانے لگا..اس نے انوشیر کا ہاتھ پکڑ لیا. ….
“پلیز مجهے معاف کر دیں. .”…اس کی آنکھوں میں ایک التجا تهی انوشیر بے اختیار پهگل گیا …..
“اوکے .. “…کہہ کر وہ باہر جا کر صوفے پر بیٹھ گیا اس کے سر سے کوئی بهاری بوجھ ہٹ گیا. …..اس کی ناراضگی ختم ہو چکی تهی. ..وہ پہلے والے انداز میں اس سے باتیں کرتا رہا….آیت کو یہ ناراضگی کافی مہنگی پڑی تهی…….
_ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _
انوشیر سے وعدہ کر لینے کے باوجود وہ مائیکل سے رابطہ ختم نہیں کر سکی ..ہاں اس نے پہلے کی طرح اس سے ملنا ترک کر دیا تها…لیکن جب وہ اس کے سامنے آ جاتا یا پوجا سے ملنے آتا تو مجبوراً وہ بھی اس سے بات کر لیتی. ….اور آج صبح صبح ہی پوجا نے اسے بتا دیا تها وہ سب ایک پارٹی میں جا رہے ہیں تو اسے بھی ان کے ساتھ چلنا ہوگا….اس کے ہزار منع کرنے کے باوجود پوجا اپنی ضد پر اڑی رہی.وہ انکار کر دیتی اگر پوجا نے اپنی دوستی کی قسم نہ دی ہوتی….مجبوراً اسے ہاں کہنا پڑا….لیکن دل ہی دل میں انوشیر سے کیا گیا وعدہ بھی یاد آیا…..وہ اس سے جهوٹ نہیں بولنا چاہتی اور سچ بهی نہیں بتا سکتی. ..کهبی کهبی ایسی پارٹیوں پہ جانے کا حرج نہیں تها…اور ویسے بھی اس وقت اس کے ساتھ سہولت یہ ہوئی انوشیر اس دن وہاں نہیں تها وہ اپنے کسی دوست کے ہاں ڈنر پر جا رہا تها اور یہ بات اس نے صبح میسج پر ہی بتائی….وہ ڈنر کے لیے یہاں سے پندرہ بیس کلومیٹر کے فاصلے پر ہی جانے والا تها….
پارٹی چونکہ رات کے وقت ہی تهی تو اسی مناسبت سے اس نے سفید رنگ کی ایک انارکلی فراک پہنی اور سر پر دوپٹہ اوڑھ لیا….اس کا دراز قد اور سمارٹ جسامت سفید فراک میں دمک رہا تها …بالوں کو کنگھی کر کے اس نے پونی ٹیل میں قید کر دیا تها…
ہلکا سا میک اپ بھی کیا. ..پوجا باہر گئی ہوئی تھی جب واپس آئی تو اس کی تیاری دیکھ کر بے اختیار چیخ اٹهی….
“او مائی گاڈ تم پارٹی میں یہ فل کپڑے اور ماسیوں والا دوپٹہ پہن کر جاو گی.”…اس نے ایک نظر اپنے کپڑوں کو دیکها …
” ہاں تو . “.؟ پوجا نے گہری سانس خارج کی. ..
” حد ہے ویسے.” …..
ان کی گاڑی رات کے دس بجے پارٹی کے مقام پر کهڑی تهی. ..مائیکل ڈرائیو کر رہا تھا وہ اپنا دوپٹہ سنبهال کر نیچے اتری..وہ کافی روپوش علاقہ لگا ..آس پاس کوئی دوسرا گهر کوئی عمارت نہیں تهی…
اندر قدم رکهتے ہی اس پر ایک بهیانک انکشاف ہوا جس کے بعد اس نے زمین کو اپنے قدموں تلے سے کهسکتے دیکها. ..پوجا نے کہا تها وہ پارٹی میں جا رہے ہیں لیکن اس نے یہ نہیں بتایا وہ پارٹی کسی کلب میں ہے……
” کلب ..”.وہ زندگی میں کلب کهبی نہیں گئی..کلب کا نام سنتے ہی اسے وحشت ہونے لگتی …وہ ایک ایسی پارٹی سمجهی تهی جس میں عورتیں ہوتی ہیں لیکن اس اندهیرے کلب میں نیم برہنہ حالت میں ڈانس کرتے وہ لڑکے لڑکیاں. ….
وہ وحشت سے سب کچھ دیکهے جا رہی تھی. .ڈی جے زور دار آواز میں میوزک بجا رہا تها…اسے لگا تها اس کے کان پهٹ جائیں گے…..جوش سے ناچتے وہ کپل اس کے اندر ایک عجیب ڈر پیدا کر رہے تھے. ….
پوجا اس کا ہاتھ پکڑ کر اسے ایک کرسی کے پاس لے آئی ..وہ وہاں سے جانا چاہتی تھی بهاگ جانا چاہتی تھی دور کہیں بہت دور. …..
“پوجا یہ تم مجهے کہاں لے آئی ہو. “…اس نے ناک پر ہاتھ رکھ کر پوچها ہر طرف شراب کی بدبو تهی…..
” پارٹی.”.اس نے تاسف سے پوجا کو دیکها….
” تمہیں پہلے بتانا چاہیے تها …ہم کلب جا رہے ہیں.” ..اسے افسوس ہونے لگا ..اس نے پہلے تصدیق کیوں نہیں کی….
[ دسمبر لوٹ آنا تم تحریر ناصر حسین]
“کیوں تم کهبی نہیں گئیں کیا ایسی پارٹیوں میں.” …پوجا نے پوچها اور اس کا جواب سننے سے پہلے ہی اٹھ کر وہاں سے چلی گئی….اب وہ کسی لڑکے کی بانہوں میں ہاتھ ڈالے رقص کر رہی تهی. …اسے اس ماحول سے گهٹن کا احساس ہوا…..سیکڑوں نیم برہنہ لڑکیوں میں پورے کپڑوں میں ملبوس وہ واحد لڑکی کافی عجیب لگ رہی تھی. …..
مائیکل آ کر اس کے سامنے بیٹھ گیا. .ڈی جے کی آواز لگاتار اس کے کانوں کو چیرنے لگی….
” یو وانٹ ڈرنک..”..مائیکل نے شراب کی بوتل اس کی طرف بڑهائی….اس نے ڈر کر کلمہ پڑھ اور کرنٹ کها کر سمٹ گئی…..یہ کیسا ماحول تها یہ سب کیسے لوگ تهے…وہ سب ایسے ناچ رہے تھے جیسے جنت میں کهڑے ہوں…..
“کیا تم میرے ساتھ ڈانس کرو گی” مائیکل نے پوچها. …اس نے گهبرا کر سر نفی میں ہلا دیا. .لیکن مائیکل نے آگے بڑھ کر اس کی کلائی پکڑی. …
“کم آن. ..”.وہ سہم گئی….
” نو..نو..میں ڈانس نہیں کرتی. ..”اس نے اپنی لرزش پر قابو پانے کی کوشش کی. …
“کم آن بے بی کچھ نہیں ہوتا….”مائیکل نے اسے کهینچ کر اپنے سامنے کیا. …وہ اپنا ہاتھ چهڑانے کی کوشش کر رہی تهی….بے بسی سے اس کی آنکھوں میں آنسو آگئے…مائیکل اب اسے ساتھ لیے ناچ رہا تها…اسے اچانک مائیکل سے نفرت ہونے لگی…انوشیر کی کہی ہوئی نصیحت یاد آئی…اسے افسوس ہوا اس نے پہلے انوشیر کی بات کیوں نہیں مانی…لیکن ہمیشہ وہ غلطی کر کے پچھتاتی تهی….
“آئی سیڈ لیو می” ….آواز بهرائی ہوئی تهی. .مائیکل نے اسے نہیں چهوڑا….وہ زبردستی اس کے ساتھ ناچ رہا تھا آیت نے چاروں طرف دیکھ کر پوجا کو ڈهونڈنے کی کوشش کی جانے وہ کہاں تهی…..مائیکل کے چہرے پر شیطانی مسکراہٹ رقص کر رہی تهی اور وہ اس لمحے کو کوس رہی تھی جب وہ پارٹی میں آنے کے لیے تیار ہوئی……
زور دار جهٹکے سے اس نے خود کو مائیکل کی بانہوں سے آزاد کیا…اور غصے سے ایک زناٹے دار تهپڑ مائیکل کے منہ پر مار دیا…..وہ تلملا اٹها. .اس نے سوچا نہیں تها وہ یوں اسے تهپڑ مار دے گی. .مائیکل کو بے عزتی کا احساس ہونے لگا…آس پاس ڈانس کرتے لوگ جو اس اونچی آواز سے جهوم رہے تھے کوئی بھی اس کی طرف متوجہ نہیں تها. ….
مائیکل نے غصے میں آ کر اس کی کلائی پکڑی اور اسے کهینچ کر کہیں لے جانے لگا. .وہ رو رہی تھی چیخ رہی تھی ہیلپ می ہیلپ می پکار رہی تهی لیکن اتنی اونچی آواز میں اس کی معمولی آواز دب گئی ….
مائیکل اسے ایک چهوٹے کمرے میں لے آیا…آس پاس چاروں طرف شراب کی بوتلیں تهیں….مائیکل نے اسے زور دار دهکا دیا وہ منہ کے بل گر پڑی. ….ہونٹ زخمی ہو گئے. …
میں تهوڑی دیر بعد آوں گا اور تمہارے ساتھ وہ کروں گا جو تم نے خواب میں بھی نہیں سوچا تها……مائیکل اسے دهمکی دے کر باہر چلا گیا اس نے دروازہ باہر سے ہی بند کر دیا. ..وہ قیامت کو اپنے سر پر آتا محسوس کر رہی تهی. ..قیامت کا منظر اس سے بهیانک ہوگا کیا…..روتے آنسو بہاتے وہ صرف اتنا سوچ رہی تھی کاش اس نے انوشیر کی بات مان لی ہوتی تو اتنی بڑی مصیبت سے دو چار نہیں ہوتی…..وہ کیا کرنے والا تها اس کے ساتھ. ..خوف کی ایک لہر اٹهی…..وہ تو کچھ بھی کر سکتا تها…اس فحش کلب میں اسے روکنے والا کون تها. ……
روتے ہوئے اس نے اللہ تعالیٰ کو پکارا. …موبائل اس کے پاس تها اس نے انوشیر کو میسج کیا یہ جانتے ہوئے بھی کہ وہ یہاں سے کافی دور ایک ڈنر پہ گیا ہوا ہے. ..اسے خوش فہمی تهی وہ اس کے لیے ڈنر چهوڑ کر آئے گا…….
جاری ہے
