December Lout Ana Tum by Nasir Hussain NovelR50779 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode02
Rate this Novel
December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode01 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode02 (Watching)December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode03 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode04 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode05 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode06 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode07 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode08 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode09 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode10 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode11 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode12 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode13 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode14 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode15 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode16 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode17 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode18 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode19 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode20 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode21 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode22 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode23 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode24 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode25 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode26 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode27 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode28 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode29 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode30 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode31 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode32 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode33 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode34 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode35 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode36 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode37 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode38 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode39 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode40 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode41 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode42 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode43 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode44 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode45 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Last Episode
December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode02
December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode02
اگر وہ پڑهی لکهی نہ ہوتی تو یہ سوچتی یہ سب کسی جن بهوت کا کام ہے لیکن اب وہ ایسا بھی نہیں سوچ سکتی تهی ___دماغ کام کرنا چهوڑ رہا تها____
” جو بھی ہے بهاڑ میں جائے ” وہ جب سوچنے میں ناکام ہوئی تو غصے سے بڑبڑائی ___ وہ چوڑیاں اس نے غصے سے ندی میں پهینک دیں _____اور گهر کی طرف روانہ ہو گئی____
رات کے وقت وہ کھڑکی کے سامنے بیٹھی تھی اس کے ہاتھ میں ایک ناول تها .وہ پورے انہماک کے ساتھ ناول پڑھ رہی تھی جب اس کی بڑی بہن عروہ اندر آئی..اس کے ہاتھوں میں ایک ٹرے تها وہ اس کے لیے کهانا لے کر آئی تھی رات کا کھانا وہ دونوں اکثر کمرے میں کهاتی تهیں…..
عروہ نے خونخوار نظروں سے اسے اور اس کے ناول کو دیکها…اسے یاد تها یہ ناول وہ کافی عرصہ پہلے خرید لائی تهی اور اس کے بعد وہ ہمیشہ ایک ہی ناول میں کھوئی رہتی..اس کے اوراق بوسیدہ ہو چکے تهے جلد بهی کافی پرانی ہو چکی تھی لیکن آیت جیسے اس ناول سے عشق کرتی تهی……..
دراصل وہ ناول سے نہیں ناول کے ہیرو کو پسند کرتی تهی…وہ اکثر اس ہیرو کا ذکر اس کے سامنے کرتی اس کی آنکھیں ایسی ہیں اس کا انداز ایسا ہے…یہ سب کرتے ہوئے اسے اپنی چھوٹی بہن احمق ترین لڑکی لگتی.. .. . ..
آیت اس ناول کو بند کرو اور آ کر کهانا کهاو… اس نے غصے سے آیت کو ٹوک دیا…وہ گہری سانس لے کر بے بسی سے مسکرائی جیسے یہ کافی مشکل کام ہو …پھر ناول کو دراز میں رکھ کر بیڈ پر آ کر اس کے پاس بیٹھ گئی……..
تم پاگل ہو کیا…؟ تمہیں معلوم ہے اس ناول میں جو ہیرو ہے وہ تمہیں نہیں ملے گا….بلکہ وہ تو کہیں بھی نہیں ملے گا وہ محض ایک فرضی کردار ہے پھر بھی تم اسے پسند کرتی ہو…..عروہ نے اسے جهڑک دیا…وہ اب چاولوں کا چمچ منہ میں ڈال رہی تهی…..
کچھ بھی نا ممکن نہیں ہے اگر کسی کو سچے دل سے چاہو تو وہ ضرور ملے گا…….عروہ نے اسے گھور کر دیکھا اس وقت وہ احمقوں کی ملکہ لگ رہی تھی. ..
امی نے ابو سے بات کر لی کیا. ..؟ وہ موضوع تبدیل کرتے ہوئے بولی…..
کس بارے میں. ..؟
میرے لنڈن جانے کے بارے میں. ..
نہیں اور مجھے نہیں لگتا وہ کریں گی…اور کر بھی لیا تو ابو کھبی نہیں مانیں گے. ..لنڈن جانے کا خواب چھوڑ دو……عروہ نے اسے مشورہ دیا……
نہیں ایسا کبھی نہیں ہو سکتا. ..وہ ہٹ دھرمی سے بولی. ..
تو کیا کرو گی تم..؟ جو چیز ناممکن ہے وہ تم ممکن نہیں بنا سکتیں…ابو جماعت اسلامی کے اتنے بڑے رکن ہیں یوں اکیلے بیٹی کو لنڈن بهیج دیں..ایسا ہو ہی نہیں ہو سکتا. ..اور وہ تمہارے لیے لڑکا بھی ڈھونڈ رہے ہیں جلد تمہاری شادی ہو جائے گی اور…..آیت نے غصے سے اس کی بات کاٹ دی….
شادی کے علاوہ بھی ایک زندگی ہے ..اور ان سب چیزوں کے لیے پوری زندگی ہے یوں اپنے آپ کو شادی کے بندھن میں باندھ کر میں اپنی لائف برباد ہرگز نہیں کروں گی…..میں کسی کے اصولوں کے لیے اپنا فیوچر خراب نہیں کروں گی. ..زندگی میں ایسے موقعے بار بار نہیں آتے…چاہے کچھ بھی ہو جائے لنڈن تو میں جا کر ہی رہوں گی. ..کوئی من مجھے نہیں روک سکے گا……..وہ غصے میں کهانا نہیں کها رہی تھی. .عروہ اسے تاسف اور بے بسی سے دیکھتی رہ گئی..
آسمان سیاہ تها اور سیاہ اس لیے تها کیونکہ بادلوں کی چادر نے آسمان کو لپیٹ رکها تها__وہ کهڑکی کے پاس بیٹھ کر باہر کے نظارے کو دیکھ رہی تھی___
ہاتهوں میں جو اردو ناول تها وہ اس کی توجہ کا منتظر تها مگر وہ بیٹهے بیٹهے جانے کہاں کهو گئی___
وہ چونکی تو تب جب اس نے دروازہ کھلنے کی آواز سنی __اس کی امی آ کر اس کے سامنے صوفے پر بیٹھ گئیں __ان کا انداز ایسا تها جیسے کچھ کہنا چاہ رہی ہوں لیکن کہہ نہیں پا رہی تهیں وہ شاید کوئی تہمید سوچ رہی تهیں ____
آیت خاموشی سے انہیں دیکهے گئی پهر اس نے ہی ان کی یہ مشکل آسان کر دی___
” کیا بات ہے امی کچھ کہنا چاہتی ہیں آپ” ___اور اسی بات سے انہیں حوصلہ ملا___
“دیکھ آیت __بیٹا جو بات میں تم سے کہنے جا رہی ہوں اس پہ کوئی تماشا مت کهڑا کرنا”___ ایسا کیا کہنے والی ہیں اس نے سوچا____
عمارہ بیگم کچھ پل خاموش رہیں یہ سوچنے کے لیے کیسے بات شروع کرے ___
ویسے ان کی دو بیٹیاں تھیں لیکن آیت سے وہ بہت زیادہ محبت کرتی تهیں __اس کی وجہ وہ خود تهی _تهوڑی شرارتی تهوڑی جذباتی اور تهوڑی نرم دل… ان کی دوسری بیٹی عروہ تهی جو خاموش اور تحمل مزاج..__ ویسے تو ماں باپ کے لیے ہر اولاد خوبصورت ہوتی ہے____
لیکن آیت کی بات ہی کچھ اور تهی وہ صرف اپنی ماں کے لیے ہی نہیں سب کے لئے پرکشش تهی __
“پتا ہے آج تمہارے ابو ایک لڑکے کی بات کر رہے تهے_”___آیت نے خشک اور سوالیہ نظروں سے انہیں دیکها وہ نہیں جانتی تھی امی کس لڑکے کی بات کر رہی ہیں لیکن ایک گهنٹے سے امی نے کسی روحل آفتاب نامی ایک لڑکے کی تعریفیں کر کر کے اس کے کان پکا دیے _وہ اس سے کهبی نہیں ملی نہ ہی اس نے اسے دیکها __اور ایسا بھی نہیں تها وہ اس کی باتیں سننے میں دلچسپی رکھتی تھی پهر بھی جانے امی کے پاس اس ٹاپک کے علاوہ دوسرا کوئی ٹاپک کیوں نہیں تها __جیسے دنیا جہان میں ایک وہی لڑکا ہی باقی رہ گیا ہو بس____اس کا نام روحل آفتاب تها___
بقول امی کے وہ پہلی بار ابو کو کہیں ملا تها ایک مہینے پہلے اور اس نے پہلی نظر میں ابو کو متاثر کیا ہوگا اور ابو نے یہ بات امی تک پہنچائی اور امی اس کے کانوں میں انڈیلنے کی کوشش کر رہی تهیں__لیکن اس کے کانوں میں کہاں جوں رینگنے تهے _____
اور امی اس میں وہ وہ خوبیاں نکال رہی تهیں جو اس میں شاید ہوں گی بھی نہیں… اسے بهلا کیا دلچسپی ہو سکتی تهی یہ جاننے میں وہ کتنا اچها کتنا باشعور اور کتنا امیر کتنا خوبصورت ہے___
وہ اتنی نادان تو نہیں تهی جو مما کی ان باتوں کا مطلب ہی نہ سمجهتی لیکن وہ جان کر انجان بن رہی تهی اس معاملے میں اسے رتی بهر بھی دلچسپی نہیں تهی__
” تمہیں پتا ہے آیت وہ بہت خوبصورت لڑکا ہے __آہستہ مدهم آواز__نماز قرآن پابندی سے ادا کرتا ہے __سلجها ہوا انداز__ وہ آج کی لڑکوں سے بہت مختلف ہے اور بہت مذہبی بهی ہے _اور تو اور تمہارے ابا بتا رہے تهے وہ حافظ قرآن بھی ہے” _مما جانے کہاں کهو گئیں اور وہ انہیں” یہ کهبی باز نہیں آئیں گی ” والی نگاہوں سے دیکهنے لگی مگر بولی کچھ نہیں ایک بار امی یونہی دو کسی کی تعریفیں کرتی رہی ان تعریفوں کے بعد اس نے صرف اتنا کہا ” تو میں کیا کروں “
اس کے بدلے میں امی نے اسے آس پاس کے پڑوسیوں کی مثالیں دینی شروع کر دیں فلاں لڑکی کی عمر اتنی ہے اور فلاں کے اتنے بیٹے ہو چکے ہیں فلاں عورت نواسے نواسیوں کے مزے لے رہی ہے. .اور فلاں لڑکی ہنسی خوشی زندگی گزار رہی ہے____یہ سب سننے سے بہتر تها وہ خاموش ہی رہتی__
“اور ایک مزے کی بات بتاوں؟” انہوں نے پوچھا اور اگر وہ نہ بھی کہتی تب بهی وہ اپنی بات بتا کر ہی رہتیں__
اسے ایک بار گردن گهما کر انہیں دیکهنا ہی پڑا __
“تمہارے ابو کو وہ تمہارے لیے بہت پسند آیا __پڑها لکها ہے شہر میں رہتا ہے اور کل شام وہ تمہیں دیکهنے آ رہے ہیں”____
دهڑاز ___
کے ٹو کی پوری پہاڑی اس کے سر پہ گر گئی___
_اس کی امی نے مسکرا کر کہا تھا اگر یہ مذاق تها تو بہت گهٹیا مذاق تها _ کچھ لمحے لگے تهے اسے کانوں سنی بات پہ یقین کرنے کے لیے پہلے وہ حیران ہوئی پهر شاکڈ اور پھر کرنٹ کها کر کهڑی ہو گئی.
” واٹ “
وہ حلق کے بل چلائی عمارہ بیگم بھی کهڑی ہو گئیں__اس کا چہرہ یک دم سرخ ہو گیا__اب اس کی یہی اوقات رہ گئی تهی کسی بھی راہ چلتے لڑکے کو اس کے لیے پسند کیا جاتا _جسے نہ وہ جانتی ہو نہ اس نے دیکها ہو __ابهی تو اس کی شادی کی عمر ہی نہیں تهی چوبیس سال شادی کی کوئی عمر نہیں ہوتی اور اس کا دور دور تک کوئی ارادہ بھی نہیں تها وہ ابهی پڑهائی کرنا چاہتی تهی _لندن والا مسئلہ ابهی تک حل نہیں ہوا اور یہاں ایک اور بکهیڑا کهڑا ہو گیا_لندن جانا اس کی زندگی کا سب سے بڑا خواب تها _اور یوں اس طرح یہ سب ___وہ سوچ بھی نہیں سکتی تھی ابو ایسا کچھ کریں گے اتنی بڑی بے وقوفی کی توقع اسے ان سے نہیں تهی__وہ ان کی حاکمانہ طبیعت سے واقف تهی لیکن اس نے یہ نہیں سوچا تها ابو یوں کسی کو بھی اس کے گلے کا ڈهول بنا کر پیش کریں گے _____
امی آپ ایسا کیسے کر سکتی ہیں. ..؟
اس نے آس پاس دیکھ کر کوئی چیز ڈهونڈنے کی کوشش کی تهی جس پہ وہ اپنا غصہ نکالتی __پهر اس نے ناول کو اٹها کر دور پهینک دیا____عمارہ بیگم ہکا بکا ہو کر اسے دیکهنے لگیں اتنے غصے کی توقع وہ اس سے نہیں کر رہی تهیں ___
اس کی آنکھوں سے ایک سمندر رواں ہو گیا وہ ابهی بهی بے یقین تهی دو دن پہلے تو اس نے لندن جانے کی بات کہی تھی ___اس بارے میں تو کسی نے نہیں سوچا_____
“آیت ابهی صرف “___جانے ان کے منہ سے کیا نکلنے والا تها لیکن آیت غصے میں کهبی ان کی بات پوری نہیں ہونے دیتی تهی ___
“نو …..نو…نو….امی نو.” …وہ پهوٹ پهوٹ کر رو پڑی عمارہ بیگم کے دل کو کچھ ہونے لگا__لیکن وہ بھی کیا کرتیں شوہر کے سامنے ان کی بهی نہیں چلتی تهی ___
وہ غصے سے مٹهیاں بهینچے آئینے کے سامنے جا کر بیٹھ گئی_اس کی آنکهیں لال ہو چکی تهیں _جن سے آنسو بہہ رہے تهے_ماتهے پہ پسینہ تها بال تهوڑے آگے کو بکهرے ہوئے تھے __وہ یک ٹک بنا پلکیں جهپکائے آئینے میں اپنے عکس کو دیکهے جا رہی تهی ___پهراس نے آئینے کے سامنے رکھا ہوا وہ آخری خوبصورت جاپانی کلاک بھی زور سے دیوار پر دے مارا____
ایک چهنک کی آواز پورے کمرے میں گونج اٹهی اور وہ کلاک کئی حصوں میں تقسیم ہو کر ادهر ادهر پهیل گیا __ کچھ لمحے وہ یونہی کهڑی اسے دیکهتی رہیں __
اور اس کے پاس چلی آئیں ___انہوں نے اس کے سر پہ ہاتھ رکھ بڑی محبت سے اسے دیکها مگر وہ انہیں نہیں غصے سے آئینے کو دیکهے جا رہی تهی_____
” آیت “___
” آیت میری بات سنو”___
وہ اس کا چہرہ اپنی طرف گهما کر بولیں __ایک لمحہ صرف ایک لمحہ وہ انہیں دیکهتی رہی پهر ان کا ہاتھ جهٹک کر کهڑی ہو گئی__
” چلی جائیں یہاں سے مما _”__وہ جیسے بہت ضبط کر کے بولی تهی__اگر وہ اس کی ماں نہ ہوتی تو یقیناً وہ چلا کر گیٹ لاسٹ کہہ دیتی ___مگر رشتے انسان کو کمزور بنا دیتے ہیں _دل کو ان کے سامنے جهکنا پڑتا ہے _____
” لیکن _”__
” میں نے کہا چلی جائیں یہاں سے _آپ مجھ سے زرا پیار نہیں کرتیں آپ کو اپنی اس بیٹی سے بالکل بھی محبت نہیں ہے_”..اس کی آواز میں بلا کا دکھ تها ___اور آج تو تکلیف کی وجہ بھی زیادہ تهی __عمارہ بیگم کا دل تڑپ اٹها ___
” میں نے کچھ نہیں کیا آیت یہ سب تمہارے ابو نے کیا ہے اور تم جانتی ہو میں تم سے کتنا پیار کرتی ہوں” ___وہ بے بسی سے بولیں___
” یہ پیار کرتی ہیں آپ” ___وہ پهٹ پڑی
” آپ لوگ میری زندگی برباد کر دینا چاہتی ہوں یوں کیریئر کے آخری سٹیج پہ لا کر آپ سب ختم کر دینا چاہتی ہیں __آپ لوگ ایسا کیسے کر سکتے ہیں__کیا بیٹیاں واقعی بوجھ ہوتی ہیں کیا والدین ان سے محبت بالکل بھی نہیں کرتے ____ہر قدم پہ بیٹی ہی کیوں قربانی دے” _____
اس نے شکوے سے عمارہ بیگم کو دیکها ___
” کیونکہ ایک عورت پیدا ہی قربانی دینے کے لیے ہوتی ہے بچپن سے لے کر بڑھاپے تک اسے قربانی دینی ہی پڑتی ہے مرد کهبی قربانی نہیں دیتا وہ صرف حکومت کرنا جانتے ہیں سمجھوتہ ہمیشہ عورتوں کو ہی کرنا پڑتا ہے”_____
” عورتوں کو ہی کیوں مما __کیا وہ انسان نہیں ہیں کیا ان کے پاس دل نہیں ہے __آپ سوچیں تو سہی آپ میرے ساتھ کیا کر رہے ہیں جہاں سب کچھ شروع ہونا تها آپ وہیں آ کر سب ختم کر رہی ہیں___یوں کسی بھی راہ چلتے لڑکے کو آپ لوگ کیسے میرے لیے منتخب کر سکتے ہیں__پسند کی جیون ساتھی کا انتخاب تو اسلام میں بھی دیا گیا ہے”_____
اس کی آواز جیسے خلا سے کہیں آ رہی تهی____
” دیکهو آیت جن سے ہم محبت کرتے ہیں ان کے ساتھ ہماری کئی امیدیں وابستہ ہوتی ہیں ہم ان پہ اپنا حق سمجھتے ہیں ہم انہیں اچهی چیزیں اس لیے بھی دینا چاہ رہے ہوتے ہیں تا کہ وہ کسی غلط شے کی تمنا نہ کریں……اور والدین کهبی اپنی اولاد کا برا نہیں چاہ سکتے تم جانتی ہو ہر ماں باپ کی طرح ہماری بھی تمنا ہے تمہیں دلہن بنی دیکھوں. ..اگر ہم نے ایسی کوئی خواہش کی بهی ہے تو اس میں کیا غلط ہے. کیا ایک ماں باپ کو اتنا بھی حق نہیں ہوتا وہ اپنے بچے کے لیے جیون ساتھی کا انتخاب کرے”……..
وہ آہستہ آواز میں بولیں ان کی آواز میں نمی تهی….آیت انہیں دیکهے جا رہی تهی. .ایسا کیسے ہو سکتا ہے کوئی باپ ایسا کیسے کر سکتا ہے ملکیت اور محبت اپنی جگہ لیکن یوں اسے زندگی کے سب سے بڑے فیصلے سے دستبردار کر دینا یہ کہاں کا انصاف تها……جو تعریف وہ انہیں سمجها رہی تهیں وہ بالکل بهی سمجھ نہیں پا رہی تهی____
” میں تو صرف اتنا چاہتی ہوں کہ تمہاری جیون ساتھی بہت اچها ہو جیسی تم ہو. …اور یقین جانو تمہارے ابو کہہ رہے تھے اس جیسا لڑکا تمہیں پوری دنیا میں کہیں نہیں ملے گا “… ….
( اف پهر سے وہی لڑکا وہی شادی… یہاں یہ بات معنی نہیں رکھتا میں سب سے پہلے لندن جانا چاہتی ہوں اس کے بعد کچھ سوچوں گی ان جهیملوں کے بارے میں )
اس نے خاموشی سے اپنی مما کو دیکها سکینڈ کے ہزارویں حصے میں ایک خیال بجلی کی طرح اس کے دماغ میں کوندا ___اور اس نے اپنے آنسو صاف کر کے مما کے ہاتھ پہ ہاتھ رکها_____
” آپ اور ابو جو چاہتے ہیں وہیں ہوگا امی لیکن..”….وہ ان کے ہاتهوں کو مضبوطی سے دباتے ہوئے بولی….
” لیکن؟” عمارہ بیگم نے سوالیہ نگاہوں سے اسے دیکها__
” لیکن میری ایک شرط ہے امی ” ___؟ وہ ان کی گود میں سر رکھ کر کافی دیر بعد بولی___عمارہ بیگم نے اسے اسے دیکھا وہ ان کی گود سے سر اٹھا کر ان کی آنکهوں میں دیکهنے لگی_____
” مجهے لندن جانا ہے ” ___ عمارہ بیگم کے چہرے پہ ایک رنگ آیا _کافی دیر تک وہ خاموشی سے اسے دیکهتی رہیں__
جاری ھے
