Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode43

December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode43

•••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••
انوشیر کو گولی لگی تھی وہ ہاسپٹل میں تها.. آیت کے آنسو جائے نماز میں جذب ہو رہے تھے ..وہ سجدے میں گری تهی ..انوشیر ایمرجنسی وارڈ میں داخل تها اس کا آپریشن ہو رہا تھا. …وہ اس وقت وہاں اکیلی تهی…سانس لینے میں دقت ہونے لگی اسے…جانے زندگی اور کیا کرنے والی تهی اور کیا کچھ سہنا باقی تها…
ابھی تو بہت کچھ ادهورا تها وہ یوں اس طرح سب کچھ چھوڑ کر کیسے جا سکتا ہے….اس شخص کا وہ مقروض ہے اور ہمیشہ رہے گی..کیا کبھی کوئی ایسا وقت آئے گا اس کی زندگی میں جب وہ اپنے حصے کی مصیبتیں خود اٹھائے گی….ہمیشہ سے ہر قدم پہ جو دکھ تکلیف اس کے حصے کی تهیں وہ شخص اپنے حصے میں کر لیتا تھا. ……
اس کے شخص کے ساتھ اس کا رشتہ کیا تها..؟ آخر کون سا تعلق تها جو اتنا مضبوط تها…..
” یا اللہ پلیز انوشیر کو کچھ نہ ہونے دیں…وہ میری زندگی ہے میں اس سے بہت محبت کرتی ہوں چاہے تو آپ میری جان لے لیں لیکن اسے مرنے نہ دیں….اس شخص نے ہمیشہ میرے لیے مصیبتیں اٹهائی ہیں آج بھی وہ میری زندگی بچانے کے لیے خود موت کے منہ میں آ گیا…جو شخص مجھ سے اتنی محبت کرتا ہے اسے یوں تو مجھ سے الگ نہ کریں……
میرے دل کی دنیا کو یوں تو نہ اجاڑیں..میں نے آج تک جتنی بھی نیکیاں کی ہیں وہ سب میزان میں ڈال کر بدلے میں مجهے انوشیر دے دیں….آپ کی پوری کائنات میں سے مجهے وہ ایک شخص چاہیے …..”….
اس کے دل میں مختلف اندیشے پیدا ہونے لگے..اگر وہ نہیں ہوگا تو کیا باقی رہے گا …؟ اگر اسے کچھ ہوگیا تو وہ کیسے زندہ رہے گی….؟
انوشیر میرے ساتھ ایسا مت کرو میں جانتی ہوں. .میں نے تمہاری محبت کی اتنی قدر کھبی نہیں کی لیکن یوں اس طرح مجھے اتنی بڑی سزا تو مت دو….یوں تو مجھے اپنے زیر بار مت کرو…اتنا بڑا قرض تو میرے سر پر مت لا دو…اگر تمہیں کچھ ہو گیا تو میں خود کو کیسے معاف کر سکوں گی…..
اسے ایمرجینسی وارڈ سے نکلتا ہوا ایک ڈاکٹر دکھائی دیا..وہ بھاگ کر اس کے پاس گئی اس ڈاکٹر کے منہ سے نکلنے والا ایک جملہ اس کی زندگی اور موت کا فیصلہ کر سکتا تها……..
” ڈاکٹر صاحب وہ کیسا ہے…”؟ اس نے بہ مشکل سے نکلتے ہوئے آواز کے ساتھ پوچها…اسی لمحے اس نے شدت سے اللہ تعالیٰ کو پکارا تها…..
“مبارک ہو…آپریشن کامیاب رہا …گولی نکالی دی گئی ہے تھوڑی دیر بعد انہیں ہوش آ جائے گا آپ ان سے مل سکیں گی…”….
ڈاکٹر چلا گیا وہ وہیں سجدے میں گر گئی…اس نے اللہ سے بہت شکوے کیے تهے اب ان کا شکر ادا کرنا تها اس نے …اس نے گهر پہ بھی سب کو بتا دیا ہے ویسے بھی میڈیا کے ذریعے بھی انہیں معلوم ہوا ہے. عروہ نے کہا تها وہ تھوڑی دیر بعد ہاسپٹل آ رہے ہیں. … ..
کچھ وقت گزرا تو اسے ملنے کی اجازت ملی وہ دھڑکتے دل کے ساتھ اندر گئی…وہ ہوش میں تها اور دروازے کی طرف دیکھ کر اسی کا ہی منتظر تها…
وہ سست روی سے چلتی اس کے پاس بیڈ پر جا کر بیٹھ گئی. .اس کی آنکھیں رونے کی وجہ سے سرخ ہو چکی تهیں….انوشیر نے اس کا نازک ہاتھ اپنے گرم ہاتھ میں دبایا. ..وہ انوشیر کی آنکھوں میں کهو گئی. .خوبصورت سنہری آنکهیں..سفید رنگت.
ہلکی سی داڑھی. .موتی جیسے چمکتے خوبصورت دانت…گلے میں لٹکتا گولڈن لاکٹ…..وہ سب پہلے بھی کئی بار دیکھ چکی تهی لیکن ہر بار دیکھنا کتنا اچها لگتا تها….. .
” میں نے تم سے کہا تها تم آئندہ آنسو نہیں بہاو گی.”.؟ وہ اس کی سرخ سوجھی ہوئی آنکهیں دیکھ کر بولا…
” تم بھی تو باز نہیں آتے…ہر بار مجھے رلانے کا موقع ڈھونڈ ہی لیتے ہو …آخر تم مجھے کتنا اور رلانا چاہتے ہو اور کتنی بار میری مصیبتیں اپنے سر پر لو گے…کھبی تو مجھے میرے حصے کے سزا بهگت لینے دو..”….وہ نم آنکھوں کے ساتھ اس سے شکوہ کر رہی تھی. …..
“جب تک میری سانسیں چل رہی ہیں تب تک تو میں تم پر کوئی بھی مصیبت نہیں آنے دوں گا..ہر طوفان کو تم تک پہنچنے کے لیے مجھ سے ٹکرانا ہوگا……اور میری ٹیچر کہتی تهیں…شادی تو سبھی مرد کرتے ہیں محبت بھی سبهی کرتے ہیں اصل مرد وہ ہے جو عورت کی حفاظت کرے…کیونکہ مرد عورت کا محافظ ہوتا ہے. وہ مرد نہیں ہوتے جو محبت کا اقرار کر کے عورت کو قید کر دیتے ہیں اور پھر آزاد ہو جاتے ہیں. ..عورت کی آنکھوں میں آنسو مرد کے لئے آنے چاہیں نا کہ مرد کی وجہ سے. ..”…..
اف انوشیر اور اس کی ٹیچر اور مشرقی مردوں والی باتیں..آیت بے اختیار لمبی سانس لے کر رہ گئی. …اسی لمحے دروازہ کهول کر کوئی اندر داخل ہوا وہ بیڈ سے اٹھ کھڑی ہوئی. ……
وہ عروہ تهی جو آ کر اس کے گلے لگ گئی ….
“میں جانتی تھی تم کر لو گی…کیونکہ تم ہی یہ سب کر سکتی تهیں…مجھے تم پہ فخر ہے. “…عروہ خوشی خوشی بتا رہی تھی. …..
اگلے ہی پل عروہ کی نگاہیں انوشیر سے ملیں اور وہ سانس لینا بهول گئی…یک ٹک منہ کهولے وہ سامنے لیٹے اس شخص کو دیکھ رہی تھی. ..وہ کیا تها کوئی حقیقت کوئی خواب یا کوئی معجزہ……کیا وہ وہی دیکھ رہی تھی جو سامنے تها…کیا سامنے لیٹا شخص وہی تها…وہی…او میرے اللہ. ..یہ کیسے ہو سکتا ہے. ..بے یقینی سے بے یقینی تهی..کم از کم اس شخص کو تو وہ صیح پہچان رہی تھی. ..تقدیر اس سے بڑھ کر اور کیا ہو سکتی ہے ……….انوشیر بھی اسے دیکھ چکا تها وہ حیران ضرور تها لیکن اس کی طرح شاکڈ نہیں تها………..
“یہ ہیں انوشیر. ..تمہارے بہنوئی. .”..آیت نے تعارف کرایا….عروہ کچھ سن نہیں سکی انوشیر بھی آیت کو نہیں عروہ کو دیکھ رہا تھا. ……
“اور انوشیر یہ ہیں میری عروہ آپی”……انوشیر کے چہرے پہ کیا تها .. اس وقت ڈر …شرمندگی. ..؟
“آیت…یہ انوشیر نہیں ہے. …..”اس نے زور سے چلا کر کہا….آیت اور انوشیر دونوں حیران رہ گئے……
“ہاں یہ انوشیر نہیں ہے یہ تو روحل آفتاب ہے.”….کھلے دروازے سے ابو اور امی داخل ہوئیں…..آیت نے پلٹ کر انہیں دیکها…اس کے ابو انوشیر سے مصافحہ کر رہے تھے. .لیکن انوشیر عروہ کو دیکھ رہا تھا. ..
“لیکن یہ روحل آفتاب بھی نہیں ہے یہ تو….”..وہ آگے کچھ کہنے والی تهی…جب انوشیر نے آنکھ کے اشارے سے اسے منع کر دیا. .انوشیر کی آنکھوں میں ایک التجا تهی جو عروہ کے ساتھ ساتھ آیت بھی دیکھ چکی تهی….آیت ان دونوں کو حیرانی سے دیکھ رہی تھی وہ انوشیر کو اشارہ کرتے ہوئے دیکھ چکا تها….تو کیا کوئی اور سچ بھی ہے جو ابھی تک جاننا باقی ہے. ..؟ کیا وہ اس شخص کو پہچاننے میں ایک بار پھر سے غلطی کر گئی…..
ابو انوشیر سے مل کر خوش نظر آ رہے تھے. .کیونکہ وہ اسے پہلے سے جانتے تهے اور اسی خوشی میں انہوں نے آیت سے کچھ نہیں کہا….ورنہ وہ اس سے اس کے جھوٹ کے بارے میں سوال جواب ضرور کرتے……..
“یہی وہ لڑکا تھا جس سے ہمیں تمہاری شادی کرنا چاہتے تھے جب تم لنڈن جانے کی ضد کرنے لگیں”…اس نے اپنے ابو کی آواز سنی….عمارہ بیگم نے ایک خوشگوار حیرت سے انوشیر کو دیکھا. …اس کا دماغ ابهی بھی سن تها……
“لیکن تم اچانک غائب کہاں ہو گئے تهے..”.؟ ابو انوشیر سے پوچھ رہے تھے. ..
بس انکل باہر گیا ہوا تها…..اس نے مسکرانے کی کوشش کی. …آیت ان کی گفتگو سے لاتعلق بیٹھی تھی وہ گاہے بگاہے چوری سے عروہ آپی کو دیکھ رہی تھی. .اس کی اڑی ہوئی رنگت دیکھ کر وہ حیران تهی….سب کو گفتگو میں مگن چھوڑ کر وہ آہستہ سے باہر نکل آئی….
” کیا ابهی بھی کچھ ادهورا تها…”؟ عروہ آپی انوشیر کو دیکھ کر اتنی حیران کیوں ہوئیں. ..وہ بھی حیران تها..کیا وہ ایک دوسرے کو جانتے تھے. ..پہلے سے مگر کیسے. …آپی کب ملی تھی اس سے. …وہ کیسے جانتی ہے انوشیر کو….انوشیر نے اسے کیا بتانے سے منع کیا تها…؟ اور کیا ہے جو ابھی تک سامنے نہیں آیا…..اس کا سر میں پھر سے درد ہونے
لگا. ….
_ ___ __ _ __ _ __ _ __ __ _ _ _ __ _ __
انوشیر کو ہسپتال سے ڈسچارج ہوئے تین دن ہو چکے تھے وہ آیت اور اس کے ابو کے بہت اسرار کے باوجود بھی ان کے گهر نہیں آیا…اسے اپنے شہر جانا تها جو یہاں سے کافی فاصلے پر تها…اس کی طبیعت اب بالکل ٹھیک ہو چکی تهی…جاتے وقت انوشیر نے اسے خدا حافظ کہا تها اور مسکرا کر عروہ کو بھی خدا حافظ کہا تها…….
وہ اس وقت ان کی آنکھوں میں دیکھتی رہ گئی اس آخری لمحے ان کی آنکھوں میں کیسی چمک تهی ..وہ الجھ کر دونوں کو دیکھنے لگی……..گهر آنے کے بعد بھی وہ اس پزل کو حل نہیں کر سکی…..شام کے وقت جب عروہ کمرے میں آئی تو اس نے عروہ سے پوچھنے کا فیصلہ کیا …..
“آپی آپ انوشیر کو کیسے جانتی ہیں. “…؟ عروہ نے سر اٹها کر اسے دیکها….آیت نے دیکھا ان کے چہرے کا رنگ بدل گیا..وہ اٹھ کھڑی ہوئی. ….
“ارے واہ آیت یہ ایوارڈ کتنا خوبصورت ہے ناں..”..؟ وہ اب اس نوبل پرائز ایوارڈ کو اٹها کر دیکھ رہی تھی جو حکومت کی طرف سے اسے ملا تها اس برائی کو ختم کرنے کے لیے. …..عروہ کا انداز ٹالنے والا تها..
“آپی میں نے کچھ پوچها ہے .”…اس نے اپنے سوال پہ زور دے کر پوچها….
“وہ..وہ. .آیت دراصل میں اس سے کچھ عرصہ قبل ملی تھی. ..” عروہ گڑگڑائی….اس نے صاف محسوس کیا وہ کچھ چهپا رہی ہے. .وہ بتانا نہیں چاہ رہی تھی اور اس نے بھی مزید کریدنے کی کوشش نہیں کی…….
لیکن وہ مطمئن نہیں ہوئی ہے. .انوشیر اور آپی اس سے کچھ چهپا رہے تهے کیا تها جو وہ نہیں جانتی تھی. .وہ ایک بار سب کچھ پهر سے سوچنے لگی ایسے آپی انوشیر کو دیکھ کر شاکڈ ہوئی انوشیر کی بھی یہی حالت تهی …جیسے وہ ایک دوسرے کو پہلے سے جانتے ہیں. ….
کوئی پرانی محبت. …؟ یا کالج کے زمانے کا کوئی افئیر….؟ وہ سمجھ نہیں سکی……انوشیر دو دن بعد واپس آ گیا تها وہ اسے بھی کچھ نہیں بتا سکتی تهی ظاہر ہے وہ بھی ٹال دیتا. ……اس شام انوشیر نے اسے ملنے کے لئے بلایا تها…وہ تیار ہوئی ..جب وہ سیڑھیاں اتر کر نیچے جا رہی تھی تبھی پیاس کا تھوڑا احساس ہوا تها اسے. …وہ پانی پینے کے لیے کچن میں چلی گئی. ..عروہ آپی اس وقت وہیں رات کے لیے ڈنر بنا رہی تهیں….اس نے فریج سے پانی کی بوتل نکالی……
” کہاں جا رہی ہو آیت…”.عروہ نے اس کی تیاری دیکھ کر پوچها تها..وہ بوتل کا ڈهکن بند کر رہی تهی….
” انوشیر سے ملنے. “…آپی نے گوشت کڑھائی میں ڈال دیا..ایک خوش ذائقہ خوشبو چاروں طرف پھیل گئی. ..
‘”اچها اسے میرا سلام کہنا..’…وہ چلتے چلتے رک گئی اس نے پلٹ کر آپی کو دیکها وہ مصروف نظر آئی…وہ کچن سے باہر نکل آئی….. . .
شام کے وقت سمندر کی ساحل پہ وہ انوشیر کے ساتھ تها..انوشیر اپنے ہمیشہ والے حلیے میں تها….اس نے پینٹ کی جیب میں دونوں ہاتھ ڈالے ہوئے تهے. آستین کہنیوں تک فولڈ تهے……
شام کی آخری روشنی سمندر کے پانی میں پڑنے لگی .خوبصورت لہریں ان کے پاؤں سے ٹکرا کر واپس پلٹ رہی تهیں…ساحل سمندر پر اس وقت کافی لوگ تھے .
” عروہ کیسی ہے .”..؟ اچانک انوشیر نے پوچها….وہ چلتے چلتے رکی تھی. …
” ٹھیک ہے. .وہ آپ کو سلام کہہ رہی تھی. .”اسے یاد آیا..انوشیر مسکرا دیا….وہ اس سے پوچھ نہیں سکی ” تم عروہ کو کب سے اور کیسے جانتے ہو……..
” اچها عروہ کا نمبر تو مجھے دو.”…انوشیر نے جیب سے موبائل نکالا…وہ ہونٹ بهینچے کسی سوچ میں پڑ گئی پهر اس نے انوشیر کو نمبر نوٹ کروایا تها……..
جب رات کو وہ واپس آئی تب بھی عروہ اس سے انوشیر کے حوالے سے باتیں کرتی رہی وہ بڑی دلچسپی سے اس کی باتیں سن رہی تھی. .جبکہ وہ دلچسپی سے نہیں بتا رہی تهی…..
” مجهے سونا ہے آپی..”.بے رخی سے کہہ کر وہ کمبل کھینچنے لگی عروہ اسے دیکھتی رہ گئی. …
_ _______ ______ _________ _______
ابو جماعت اسلامی کے ایک جلسے میں گئے ہوئے تھے. .وہ واپس آتے تو وہ انہیں سب سچ بتانے کا فیصلہ کر چکی تهی..ابو انوشیر کو جانتے پہلے سے تهے اور وہ اسے پسند بھی کرتے تھے یہ رشتہ سب سے پہلے وہی لے کر آئے تھے. …..
لیکن وہ انہیں اپنے اور انوشیر کے نکاح کے بارے میں سب بتانا چاہتی تهی اور پریگننسی کے بارے میں بھی. .کیونکہ وہ مزید یہ بوجھ اپنے سر پر لے کر نہیں گهوم سکتی تھی ویسے بھی وہ اپنی زندگی کی شروعات ایک جھوٹ کی بنیاد پر نہیں رکهنا چاہتی تھی. …..
اگر وہ سچ نہ بھی بتاتی تب بھی ایک دو مہینے کے بعد اس کے پیٹ نے بولنا تها. .اور یہ سچ سب کے سامنے آ جاتا اس سے پہلے کوئی اس کہانی کو من چاہی رنگ دیتا وہ سب کچھ صاف صاف بتانا چاہتی تهی………..
عمارہ بیگم صوفے پہ بیٹھی ٹی وی دیکھ رہی تھی وہ ناول پڑھ رہی تھی. ..اور انوشیر سے میسج پہ بات بھی کررہی تهی..عروہ بھی ان کے پاس آ کر بیٹھ گئی…. .
اس نے ایک نظر اٹها کر عروہ کو دیکھا پهر ناول کی طرف متوجہ ہو گئی…..
” امی میں کیا کہہ رہی ہوں کیوں ناں …انوشیر کو آج رات کھانے پر بلائیں”….اچانک عروہ بولی…اس نے چونک کر ناول سے نگاہ ہٹائی. .اس کے ماتھے پر لکریں نمودار ہوئیں. ….
” تمہاری مرضی.”…..عمارہ بیگم نے کندھے اچکائے..آیت سمجھ میں نہیں سکی وہ اسے کھانے پر کیوں بلا رہی ہے. …. اور مزید حیرت اسے تب ہوئی جب شام کے وقت وہ کچن میں گهس کر مختلف پکوان خوشی خوشی بنانے لگی. .وہ وہیں کچن میں اس کی تھوڑی مدد کر رہی تھی اور اس کے چہرے کو بھی دیکھ رہی تهی….
” بریانی اسے بہت پسند ہے. .”..عروہ نے گوشت کاٹ کر بے ساختہ کہا اور پھر ہونٹ کاٹ کر خود ہی شرمندہ ہوئی وہ حیرت سے اسے دیکھنے لگی. …اس کا مطلب اس نے سہی سوچا تھا ..کوئی پرانا تعلق ضرور تها..ورنہ آپی کو کیسے معلوم اسے بریانی پسند ہے
.یہ کوئی ایسی بات تو نہیں تھی جو ہر دوسرے کو پتا ہوتی ..یہ تو صرف وہی لوگ جانتے ہیں جو اس کے بہت قریب ہوں…وہ اس کے ساتھ لندن میں اتنا عرصہ رہی اس کے ساتھ نکاح کیا اسے آج تک یہ نہیں معلوم ہو سکا انوشیر کو کهانے میں کیا پسند ہے اور کیا نہیں اور آپی اتنی آسانی سے یہ سب کیسے کہہ گئی……
اس نے انوشیر کو کهانے کے لیے نہیں بلایا امی کے پاس بھی اس کا نمبر نہیں تها ضرور عروہ نے اسے میسج کیا ہوگا…. وہ انوشیر کو دروازے پر رسیو کرتے ہوئے سوچ رہی تھی. ….تو اس مطلب آپی کا اس کے ساتھ رابطہ رہتا ہے. ..اف یہ کیا ہو رہا ہے. ..
انوشیر امی سے عروہ سے بڑے جوش سے ملا.عروہ بھی اسے دیکھ کر خوش تهی لیکن وہ خوش نہیں ہو پا رہی تھی اسے کچھ بھی اچها نہیں لگ رہا تھا کهانے کے دوران بھی کسی نے اس کے تاثرات پر غور کرنے کی کوشش نہیں کی. ..وہ عروہ کی خوشی کو دیکھتی رہ گئی پہلی بار اسے عروہ کی مسکراہٹ زہر لگی……..
“ارے واہ یہ بریانی تو بڑی زبردست ہے. “…انوشیر چمچ منہ میں رکھتے ہوئے بولا….
جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *