Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode20

December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode20

•••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••
“نیچ عورت تیرے پاس ایک گهنٹہ مزید ہے اپنا فیصلہ بدل نہیں تو جان سے جائے گی..”…اکشے نے ایک بار پھر اپنی دهمکی دہرائی.. .
“ایک گهنٹے بعد جانے زندگی مجهے کہاں لے جائے گی اور میں کہاں ہوں گی…”..وہ سوچ کر ہی رہ گئی اور خاموشی سے واپس کچن کی طرف چلی آئی…رام کے سامنے پلیٹ ابهی تک ویسے ہی رکها تها جیسے وہ رکھ کر گئی تھی. …
“تم کهاتے کیوں نہیں رام ….”وہ پیار سے اس کے سر پر ہاتھ پھیر کر کہنے لگی……
مجهے بهوک نہیں ہے. …
“تهوڑا بہت تو کها لو رام…”..مدهو نے اس کی گال پر چٹکی کاٹی اور وہیں اس کے پاس بیٹھ کر اسے اپنے ہاتهوں سے کهلانے لگی. ….کهبی وہ رام کے منہ میں نوالا ڈالتی کهبی رام اس کے منہ میں. …..
تهوڑی دیر بعد مدهو کو باہر سے اکشے کے خراٹے سنائی دینے لگے اس نے اللہ کا شکر ادا کیا..اور کهانے کے بعد وہ اپنے کمرے میں آئی….ایک چهوٹا سا بیگ نکال کر اس میں اپنا سامان رکهنے لگی…کچھ کپڑے کچھ پیسے اور کچھ رام کی چیزیں. …..
ان سب پیکنگ میں کافی وقت لگ گیا…جب سب کچھ تیار ہو چکا تو اس نے رام کی انگلی پکڑ لی……اور ایک آخری نظر مڑ کر اس گهر کو دیکها …..گهروں کو چهوڑنا آسان تو نہیں ہوتا…..
زندگی نے اس کے سامنے انتخاب ہی کچھ یوں رکها….
[ دسمبر لوٹ آنا تم تحریر ناصر حسین]
مذہب یا گهر…..اسلام یا شوہر…..اور مدهو نے انتخاب کر لیا تها…ایک نظر اس نے اکشے کو دیکها جس سے وہ کهبی بہت محبت کرتی تهی اور آج وہ اس سے زیادہ محبت اسلام سے کرتی تهی اس لیے اسلام کے لیے سب کچھ چهوڑنے پر تیار ہو گئی……اپنے گهر سے نکل کر وہ برابر والے چوہدری افضل کے گهر آئی….
ٹهنڈ بڑهتی ہی جا رہی تهی….چاند کی روشنی میں اسے سب کچھ نظر آ رہا تھا. …اس کا ارادہ یہ تها وہ آج کی رات چوہدری افضل کے گهر پناہ لے گی اور صبح ہوتے ہی کہیں بہت دور چلی جائے گی. ..اس وقت اتنی رات کو وہ اکیلی کہیں نہیں جا سکتی تھی. .وہ کافی ڈرتی تهی ان سنسان جنگلوں سے. …اس نے زور زور سے چوہدری کے گهر کا دروازہ بجایا…اتنی رات کو انہیں ڈسٹرب کرنا اسے بالکل بھی اچها نہیں لگ رہا تها لیکن اس کے علاوہ کوئی راستہ ہی نہیں تها اس کے پاس……دروازہ بجانے کے بعد وہ کافی دیر تک کهڑی رہی رام معصومیت سے ادهر ادهر دیکھ رہا تھا ..وہ تهوڑا ڈرا ہوا بھی تها اس کی آنکهیں نیند سے بوجھل نظر آ رہی تهیں…مدهو کو اس پہ کافی ترس آیا….اس نے ایک بار پھر دروازہ بجایا…اسے یہ بھی ڈر تها کہیں اکشے ہی نہ جاگ جائے…حالانکہ وہ اسے اپنے ہاتهوں سے نیند کی دوائی دے کر آئی تھی پهر بھی ایک انجانا سا خوف تها اسے….چاند کا سفر جاری تها……
وہ ہمیشہ کی طرح ہزاروں ستاروں کی سیکورٹی میں بے نیاز کهڑا نظر آ رہا تھا. ….دو منٹ بعد دروازہ کهولا گیا چوہدری افضل خود ہی دروازہ کهولنے آئے تهے…اتنی رات کو اسے وہاں دیکھ کر وہ حیران نہیں شاکڈ تهے….اور صرف وہی نہیں اندر سے پورا خاندان جاگ چکا تها ….گڑیا اور عروج بھی. …چوہدری صاحب نے کرخت نگاہوں سے اسے دیکها. ….
تم اتنی رات کو یہاں کیا کر رہی ہو…..چوہدری صاحب نے ناگواری سے اسے دیکھ کر پوچها…ان کے چہرے سے ہی غرور عیاں تها. ….
“مہ…مہ…مجهے صرف ایک رات کے لیے پناہ چاہیے” …وہ لرزتے ہونٹوں سے اپنی بات مکمل کر گئی…..جنت دادی سبهی کهڑے تهے…….
” ہم تمہیں اپنے گهر میں کیوں پناہ دیں…اپنے گهر واپس چلی جاو بی بی.”…..
“میں وہ گهر چهوڑ آئی ہوں چوہدری صاحب. .صرف آج کی رات پناہ دیں صبح میں یہاں سے چلی جاؤں گی.” …اس کے لہجے میں ایک التجا تهی…رام یک ٹک گڑیا کو دیکهے جا رہا تها. …گڑیا بھی حیرت سے اسے دیکھ رہی تھی. ….
“اللہ کی پناہ…ہم ایک کافر عورت کو اپنے گهر میں کیوں پناہ دیں..”…چوہدری صاحب نے وہ کہا جو مدهو نے خواب میں بھی نہیں سوچا تھا. ..مدهو کو اپنی سانس اٹکتی ہوئی محسوس ہوئی بے ساختہ اس نے جنت کی طرف دیکها. .مگر وہ سب خاموش تهے چوہدری صاحب کے سامنے وہ کهبی بول نہیں سکتے تھے. …..
رام نے سر اٹها کر چوہدری کو دیکها اسے اپنی ماں پر ترس آیا…..
“میں اسلام قبول کر چکی ہوں چوہدری صاحب. .”.مدهو کی آواز بهرائی ہوئی تهی. ….
“ہونہہ. ..یہ کوئی مذاق نہیں ہے. ..تم کافر کهبی بهی مسلمان نہیں بن سکتیں…دفع ہو جاو یہاں سے.” ….چوہدری صاحب کو مسلمان ہونے ہر غرور تها اور وہ دوسروں کو ہمیشہ خود سے کمتر محسوس کرتے تھے. .جنت نے بے بسی سے اسے دیکها….وہ بہت کچھ کرنا چاہتی تهی لیکن کر کچھ بھی نہیں سکتی تهی. ..سبهی خاموش تماشائی تهے…عروج اور گڑیا بھی اس رات کچھ سمجھ نہیں پا رہے تھے گڑیا نے زندگی میں پہلی بار رام کی بلی جیسی آنکھوں میں ایک اداسی دیکهی تهی…..لیکن گڑیا کو یہ نہیں معلوم تها اس رات وہ رام کو آخری بار دیکھ رہی ہے…اگر اسے معلوم ہوتا تو شاید وقت کو وہ روک لیتی لیکن یہ سب اس کے بس کی بات نہیں تهی. …..
چوہدری صاحب اللہ کے واسطے مجهے صرف ایک رات کے لیے پناہ دیں. ..مدهو اب گڑگڑا رہی تهی. ..اس کی آنکھوں میں آنسو تهے. ..وہاں کهڑے سبهی اس کے آنسو پر ترس کھا رہے تھے لیکن چوہدری کا دل نہ تو پهگلا تها اور نہ ہی کهبی پهگلنا تها…….
” یہ ڈرامے مت کرو ہمارے سامنے اور دفع ہو جاؤ یہاں سے. ..ہم ہندو لوگوں کو اپنے گهر میں پناہ نہیں دیتے…کیا سوچ کر تم یہاں چلی آئیں…ہم نے تمہارے غریب بچے کو دو جوڑے کپڑے اور روٹی کیا دی تم نے تو جیسے اس گهر کو اپنی ملکیت ہی سمجھ لیا. …چلی جاو یہاں سے اس گهر میں تمہارا سایا بھی نہیں پڑنے دوں گا میں. ..”..چوہدری صاحب کی بلند آواز پورے علاقے میں گونجی…انہوں نے مدهو کو جو طعنہ دیا تها اس پہ مدهو تو کیا رام کا بھی دل رو دینے کو چاہا…ہر انسان نیکیاں کر کے جتاتا ہے. ….
“دادی آپ ہی کچھ کریں اللہ کے واسطے آپ تو رام سے بہت محبت کرتی ہیں ناں…”..مدهو نے بلکتے ہوئے دادی کو دیکها…انہوں نے اپنی نگاہیں چرائیں…رام کی آنکھوں میں ایک شکوہ تها دادی کے لیے. ..دادی وہ شکوہ نہیں دیکھ پا رہی تهیں. ..وہ اپنے بیٹے کے سامنے بے بس تهیں کچھ نہیں کر پا رہی تهیں…..
چوہدری صاحب ایک رات سے کیا ہو جائے گا میں اپنے اس معصوم بچے کو لے کر کہاں جاؤں گی. .ایک عجیب بے بسی تهی اس کی آنکهوں میں. ……
دنیا کا ہر انسان اس پر ترس کها سکتا تها لیکن چوہدری افضل کهبی نہیں. ..
” جہنم میں جاو…یہ ہمارا مسئلہ نہیں ہے ہم نے کہہ دیا ہم کسی کافر عورت کو پناہ نہیں دے سکتے.” …اس نے جنت کی طرف دیکها وہ اس سے پوچهنا چاہتی تهی یہ کس قسم کے مسلمان ہیں ..جنت نے اسے آنکهوں ہی آنکهوں میں جواب دے دیا. …
“یہ انسان ہیں انسان سے رحم کی امید کهبی مت کرنا..اور نہ ہی انسانوں کے سامنے ہاتھ پھیلاو…اللہ سے مدد مانگو وہ ضرور تمہاری مدد کریں گے”. ….جنت کی آنکهوں میں لکها پیغام پڑهنے کے باوجود بھی ایک بار پھر چوہدری صاحب سے وہ التجا کرنے لگی…چوہدری نے اسے دروازے کی چوکھٹ سے دهکا دے کر دور گرایا اور کهٹک سے دروازہ بند کر دیا. .وہ وہیں برف پر پڑی آنسو بہاتی رہی. …یہ قیامت کے آغاز کا منظر تها انتہا ابهی باقی تها….
رام نے اپنی ماں کو اٹهانے کی کوشش کی. ..مدهو کے لیے سارے راستے بند تهے ایک واحد ٹهکانہ جس کا سوچ کر اس نے سب کچھ چهوڑ دیا وہ بھی ایسے غائب ہوا جیسے بادلوں میں سورج….مدهو کو اس رات خود پر ترس آ رہا تھا.آگے کنواں پیچھے کهائی والی کہاوت اس پر بالکل صادق نظر آ رہی تھی. …وہ بهاری وجود کے ساتھ ایک بار پھر اٹھ کهڑی ہوئی …جو ہوا اس نے سوچا ہی نہیں تها چوہدری صاحب کے گهرانے کے ساتھ ان کے تعلقات کئی سال پرانے تهے…چوہدری کے مزاج سے واقف ہونے کے باوجود بھی اسے لگا تها کم از کم وہ اسے ایک رات کے لیے پناہ ضرور دیں گے لیکن انسان کے ہزاروں اندازے غلط ثابت ہوتے ہیں. ….
[ دسمبر لوٹ آنا تم تحریر ناصر حسین]
رام کی انگلی پکڑ کر چلتی ہوئی جب وہ زرا آگے آئی تو اسے لگا وہ زندگی میں پهر کهبی چلنے کے قابل نہیں رہے گی. ..اکشے دروازے پر ہاتھ ٹکائے غضبناک نگاہوں سے اسے دیکھ رہا تھا. .اس وقت اس کی آنکھوں میں جو وحشت تهی اسے دیکھ کر لگ رہا تها وہ سب کچھ ختم کر دے گا…..وہ یہ کیوں بهول گئی اکشے اکثر نشہ کرتا تها اس لیے اس پہ نیند کی گولیاں زیادہ اثر نہیں کرتی تهیں…وہ یہاں سے نکلتے وقت کم از کم باہر سے دروازہ ہی بند کر دیتی…لیکن سارے طوفان اس ایک رات میں آنے تهے…..اکشے نے آگے بڑھ کر اس کی کلائی پکڑی اور غصے سے اسے کهینچتا ہوا گهر کے اندر لے گیا…رام اس کے پیچھے پیچھے اندر آیا…اکشے نے اسے زور دار دهکا دیا جس سے وہ چارپائی سے جاکر ٹکرائی…ماتهے سے خون کا چشمہ ابل پڑا…..
“بے غیرت، بے حیا عورت….کہاں جا رہی تهیں تم.”…؟ اب وہ ایک ڈنڈا ڈهونڈ رہا تها اور پھر اسے ایک لکڑی دکهائی دی جس سے وہ مدهو کی پٹائی کرنے لگا. ..رام کا دل چاہا وہ اس سارے منظر سے کہیں غائب ہو جائے …..
“اب بتا تو ہندو ہے یا مسلمان. …”؟ اسے کافی مارنے کے بعد وہ پوچھ رہا تھا. .
“میں مسلمان ہوں اور آخری سانس تک مسلمان ہی رہوں گی.”….وہ ایک بار پھر اس کی پٹائی کرنے لگا مدهو نے بے آواز اللہ تعالیٰ کو پکارا…..کیونکہ اس وقت اللہ ہی اس کی مدد کر سکتا تها.. ..
اکشے اسے زور سے مارنے کے بعد ایک بار پھر اس کا مذہب پوچھ رہا تھا اور وہ ہر بار ایک ہی جواب دیتی….اکشے کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو گیا وہ بهاگتے ہوئے جنونی انداز میں اندر کمرے کی طرف گیا وہاں اس نے چهوٹے سائز کی پسٹل نکالی جو شروع سے ان کے پاس تها…….
پسٹل لیے وہ باہر آیا…اس نے وہ پسٹل مدهو کے ماتهے پر رکھ دی…..
“آج میں تیرے مذہب کا بهوت نکال کر ہی دم لوں گا..بتا اب دوبارہ پڑھے گی کلمہ”. ..؟.وہ گرج کر بولا..مدهو کو اس سے ڈر نہیں لگا..
“ایک بار نہیں ہزار بار پڑهوں گی…لا الٰہ الا اللہ محمد رسول اللہ.” ….اکشے نے اس کے پیٹ پر زور دار لات ماری….اور پسٹل مدهو کے ماتهے سے ہٹا کر رام کی طرف تان دی…اپنے بیٹے اپنے خون کی طرف. .مدهو کی آنکهیں خوف سے پهیل گئیں. ..رام بهی سہم کر اپنے پیتا جی کو دیکھ رہا تھا. ….
“اب اگر تم نے کلمہ پڑها تو میں تمہارے بیٹے کا خون کر دوں گا…..”ایک عورت ایک بیوی کمزور ہو سکتی ہے لیکن ایک ماں تو کهبی کمزور نہیں ہو سکتی مدهو میں بھی جانے اتنی ہمت کیسے آ گئی….اور اس وقت اس نے یہ بھی نہیں سوچا سامنے کهڑے شخص پر جھپٹنے کی صورت میں نتیجہ کیا نکل سکتا ہے لیکن وہ اکشے پر اسے جهپٹی جیسے بهوکی شیرنی ہو……
اور اب وہ اکشے کے ہاتهوں سے وہ پسٹل چهیننے کی کوشش کر رہا تھا. ..دونوں میں زور سے ہاتها پائی ہونے لگی…..رام اس قسم کی لڑائی پہلی بار دیکھ رہا تھا. ..اس کے آنسو زمین میں جذب ہو رہے تھے. ….
ان دونوں کی مزاحمت سے ایک زور دار دھماکہ ہوا…اندهیری اور خاموش رات میں ایک زور دار آواز پورے علاقے میں سنائی دی….پسٹل سے گولی نکل چکی تھی رام نے اپنے کانوں پہ ہاتھ رکها. …اس کی ماں کی آنکهیں بڑی ہو چکی تهیں…خوف کی ایک لہر اس کے وجود سے ٹکرایا. ….
پسٹل نیچے گر گیا…اور تهوڑی ہی دیر بعد اس کے پیتا جی کا وجود کسی پتے کی طرح لڑهک کر فرش پر گر گیا. ..گولی ان کے سینے پہ لگ چکی تهی….جسم سے خون نکل رہا تھا مدهو ابهی تک شاکڈ تهی…وہ پتهر بن کر ہلنا بهول چکی تھی. …..صرف کچھ لمحے لگے تهے اسے یہ یقین آنے میں اکشے مر چکا ہے اور یہ وقت وہاں رک کر آنسو بہانے کا یا ماتم کرنے کا نہیں تها…بلکہ وقت تو تها ہی نہیں. …..
“چلو رام..”..دوڑ کر اس نے رام کی انگلی پکڑی…یہاں رکے رہنے میں حماقت تهی..پیچهے صرف بربادی ہی نظر آنے لگی. …..
” کہاں..”…رام نے سوال کیا….
” بہت دور. “..وہ دونوں بهاگتے ہوئے گهر سے باہر نکل آئے. ..اور سفید برف پر چلتے ہوئے پہاڑوں کی طرف بڑھنے لگے..خالی ہاتھ. ….
مدهو کو صرف اتنا یاد تها اسے بهاگ کر یہاں سے دور جانا ہے اپنی اور رام کی زندگی بچانی ہے مگر وہ جلد بازی میں یہ بهول گئی سامنے بہت بڑا جنگل ہے جس میں کئی خونخوار قسم کے جانور پائے جاتے ہیں اور وہاں جانے پر وہ زندگی ہار سکتے ہیں.
[ دسمبر لوٹ آنا تم تحریر ناصر حسین]
_ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _
جو خطرناک طوفان ان کا منتظر تها اس کے بارے میں کسی کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا. .اگلی صبح چوہدری خاندان کی زندگی کی اداس نہیں اداس ترین صبح تهی… . صبح صبح دروازے پر دستک ہوئی جنت روئی روئی سرخ آنکهیں لیے دروازے تک گئی … …
ایک بری خبر ہے. . .؟ وہ ان کے گاوں کا ایک بوڑھا شخص تها…. جنت نے سوالیہ انداز میں اسے دیکها….اس نے وہ خبر سنائی جنت اگر دروازہ نہ پکڑتی تو گر جاتی. …اس کے قدموں سے جیسے جان ہی نکل گئی. … ….
جاری ہے. ……

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *