December Lout Ana Tum by Nasir Hussain NovelR50779 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode40
Rate this Novel
December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode01 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode02 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode03 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode04 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode05 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode06 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode07 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode08 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode09 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode10 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode11 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode12 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode13 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode14 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode15 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode16 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode17 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode18 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode19 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode20 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode21 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode22 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode23 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode24 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode25 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode26 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode27 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode28 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode29 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode30 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode31 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode32 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode33 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode34 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode35 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode36 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode37 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode38 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode39 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode40 (Watching)December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode41 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode42 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode43 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode44 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode45 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Last Episode
December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode40
December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode40
•••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••
آیت کوہ سلیمان جانا چاہتی تھی کسی جعلی بابا کا پردہ فاش کرنے. .
صبح سب کو الوداع کر کے وہ بس سٹینڈ تک آئی…عروہ اسے آخر تک رکنے کا کہتی رہی لیکن وہ نہیں رکی..ٹهنڈی ٹهنڈی ہوا اس کے جسم کے پار ہونے لگی…درخت جهوم رہے تھے …بس سٹینڈ پہ اس وقت کچھ اور مسافر بھی بیٹهے تهے. ..ٹکٹ اس کا کل ہی ہو گیا تها. ..وہ وہیں بنچ پر بیٹھ گئی…بس کے آنے میں ابھی کچھ وقت تها اس نے اپنا چهوٹا بیگ اپنے پاس رکها…بیگ میں اس نے زیادہ سامان نہیں ڈالا تها بس ضرورت کی کچھ چیزیں تهیں……
” اسلام و علیکم میڈیم. ..”..اس کے پاس سے ہی کہیں آواز آئی. .اس نے سر اٹها کر مخاطب کو دیکها. ….
وہ کوئی پٹھان شخص تها .جس کی بڑی بڑی مونچھیں تهیں…لمبا کرتا اور پشاوری چپل پہنی ہوئی تھی اس نے. …ہاتهوں میں پهولوں کا ایک ٹوکرا تها….وہ کچھ لمحے اس سے نظر نہیں ہٹا سکی پهر سلام کا جواب دیا…اس نے سلام کا جواب دیا اور اس پٹھان نے سمجها اسے بنچ پر بیٹهنے کی اجازت بھی مل گئی وہ اس سے کچھ فاصلے پر بیٹھ گیا. ..درمیان میں اس کا بیگ رکها ہوا تها….
“کیسا ہے تم….؟” اب وہ ایسے پوچھ رہا تھا جیسے اسے برسوں سے جانتا ہو…آیت نے دیکها وہ چوینگم بهی چبا رہا تها. ….
“ٹهیک ہوں..”اس نے مدهم آواز میں کہا اور ایک بار پھر سڑک کی طرف دیکهنے لگی. …..
“ہمارا نام بادشاہ خان ہے ہم ادهر کو پهول بیچتا ہے”. .وہ خود ہی بتانے لگا آیت کو اس اس کی طرف متوجہ ہونا پڑا…کوئی عجیب انسان معلوم ہو رہا تھا. …
” اوہ.”..وہ اتنا ہی بول سکی…..
“پهول چاہیے آپ کو….”؟ وہ اب سفید اور نیلے گلاب نکال رہا تها. …
” نہیں. ..نہیں. .مجهے نہیں چاہیے. “…
” اچها تو کتنے کے دوں پهر. ..”؟ آیت کو لگا وہ شاید بہرہ ہے. ..
“میں نے کہا مجهے گلاب نہیں چاہیے”. …وہ زرا زور سے بولی. ..
“ہاہاہاہا…آپ بهی کمال کرتا ہے میڈیم. .دہی چاہیے. اب ہم دہی کدھر سے لائے.”..وہ واقعی ہی بہرہ تها آیت کو یقین آ گیا…
“تم بہرے ہو کیا….؟ کوئی مشین وغیرہ نہیں استعمال کرتے…”آیت نے دیکها وہ شرما گیا….
“ارے ناں ..ناں کوئی کریم استعمال نہیں کرتا ہم تو پیدائشی خوبصورت ہے..”..وہ خونخوار نگاہوں سے اسے دیکهتی رہی. بہروں سے بات کرنا ہی فضول ہوتا ہے. .آیت اس سے بحث نہیں کرنا چاہتی تهی بس آنے میں پانچ منٹ باقی تهے اگر انہوں نے وقت کی پابندی کی تو…..
“تو آپ کتنے کا پهول بولیں تهیں….”.آیت کا دل چاہا پتهر اٹها کر اس کے سر پر دے مارے…کتنا اریٹیٹ کر رہا تها وہ…اسے لگا وہ پانچ منٹ یوں ہی اس کا سر کهاتا رہے گا اس لیے اس نے بیس روپے نکال کر اس کی طرف بڑهائے. …اس پٹھان نے تین خوبصورت تازے گلاب اسے دیے….اچانک اسے کوئی اور یاد آ گیا..ہر صبح گلدان میں رکهے وہ خوبصورت پهول…….
“اچها اب ہم جائیں میڈیم..”.؟ جیسے اس نے اسے باندھ رکها تها….
“نہیں بیٹھ جاو …تهوڑی دیر بعد یہاں ولیمہ ہونے والا ہے وہ کها کر جائیے گا…”.وہ جل کر بولی….
” نہیں. ..بیس روپے کا تین پهول ہی ملتا ہے اس سے زیادہ نہیں. .”..وہ بڑا سے ٹوکرا لیے وہاں سے چلا گیا. وہ الجهتی ہوئی نگاہوں سے اسے دیکهتی رہی وہ لنگڑاتے ہوئے چل رہا تھا. ..کوئی عجیب انسان تها…….بس نے ہارن بجائی وہ چونکی. …اس نے جلدی جلدی بیگ اٹهایا….سبهی مسافر بس کی طرف بهاگے وہ بھی تیز تیز قدم اٹھاتی بس میں آ کر بیٹھ گئی. ..کچھ مسافر اتر رہے تھے اور کچھ داخل ہو رہے تھے. .مسافروں کا میلہ تها..جو مختلف اور بهیانک آوازیں نکال رہے تھے. ..کهڑکی کا شیشہ بھی ٹوٹا ہوا تها….اور کرسیوں کی بهی یہی حالت تهی….اس نے ٹیک لگا کر ایک موند لیں..مسافروں کا چیخنا چلانا برابر آ رہا تھا. …
“ارے اللہ کا بندی ہم کو دهکا کیوں دیتی ہے.”..اس نے تیزی سے اپنی آنکهیں کهول کر انٹری ڈور کی طرف دیکها وہ پٹھان ٹوکرا لیے اندر گھسنے کی کوشش کر رہا تھا. …
” اف.. ناٹ اگین.”..وہ بڑبڑائی. …..
سیٹیں ساری فل ہو چکی تهیں..اس کے برابر والی سیٹ خالی تهی اور وہ بادشاہ خان ابهی تک اپنے لیے بیٹهنے کی کوئی جگہ ڈهونڈ رہا تها. .. اس نے شدت سے دعا کی وہ اس کے پاس آ کر نہ بیٹھ جائے مگر اس کی دعا قبول نہیں ہوئی اور وہ اس کے پاس ہی آ کر بیٹھ گیا. …..
“کیا ہم ادهر بیٹھ سکتی ہے. ..”؟ یہ وہ بیٹهنے کے بعد پوچھ رہا تھا. …
” اگر میں نہیں بولوں گی تب بھی آپ یہاں بیٹهے ہی رہو گے.” .وہ غصے سے دانت چبا کر بولی….
“مہربانی. ..پهر سے تعریف کا شکریہ. ..ویسے ہم اتنا خوبصورت نہیں ہے جتنی آپ ہماری تعریف کرتی ہے.” ..ماشاءاللہ آپ بھی تو بہت خوبصورت ہے آپ کون سا کریم استعمال کرتا ہے. ..”.اس نے غصے سے بادشاہ خان کو دیکها. …..
” میں کریم کی نہیں مشین کا کہہ رہی تھی. .مشین یہ کان والا…پاگل”. …اس نے ہاتھ سے کان کی طرف اشارہ کیا. ..
” تم مشین کا بات کرتا ہے.” ..؟
“ہاں ہم مشین کا بات کرتا ہے. .”.اس نے اپنی بات سمجھ جانے پہ شکر ادا کیا…اب وہ پٹهان جیب میں ہاتھ ڈال کر کان والی مشین نکال کر کان میں لگا رہا تھا. …وہ کهڑکی سے باہر دیکهنے لگی بس چل پڑی. ..وہ اس سے کوئی بھی بات نہیں کرنا چاہتی تهی اس کے باوجود وہ جانتی تھی وہ اس سے کوئی نہ کوئی بات ضرور کرے گا اور وہی ہوا ….
” آپ کدھر جاتا ہے.” ..
” بابا فقیر شاہ کے ڈیرے پر. …”.
” کمال ہے ہم بھی وہیں جاتا ہے” …وہ کچھ نہ بولی. .
” آپ کا نام کیا ہے میڈیم..”.؟یہ پہلا سوال تها…
” آیت..”..
” پورا نام” …؟ دوسرا. …
“آیت انوشیر رضا. .”..بے اختیار اس کے منہ سے پهسلا . اور پهر خود ہی خاموش ہو گئی. ….
“انوشیر آپ کا ابا کا نام ہے…”..؟ تیسرا سوال اس کے بعد سوالوں کا سلسلہ چل پڑا. ….
” نہیں. .”..اس نے چہرہ دوسری طرف کیا…
” پهر کس کا ..”.؟ وہ جھنجلا گئی….
‘ شوہر کا..”…
“واللہ آپ شادی شدہ ہے. “…وہ جوش سے پوچھ رہا تھا. .لگتا تو نہیں ہے. ….
” کتنا بچہ ہے. .”..؟
“میری شادی کو زیادہ عرصہ نہیں ہوا..لیکن میں ابهی پریگننٹ ہوں.”…؟
” کیا ہو…”.اس پٹهان کے اوپر سے گزر گیا شاید…
” مطلب ابهی بچہ میرے پیٹ میں ہے .” وہ زچ ہو چکی تهی. ..
‘ تو کب باہر آئے گا. .”..یہ احمقانہ سوال تها…..
” چار مہینے بعد شاید.”(اف)…
” بیٹا ہے یا بیٹی. .”.دوسرا احمقانہ سوال…ایسے سوالوں کی توقع ایک پاگل سے ہی کی جا سکتی تھی وہ بهی بنا سوچے سمجھے اس کے ہر سوال کا جواب دیتی جا رہی تھی. …..
” ابهی نہیں پتا.”…..
” شوہر کدھر ہے. “…؟
” آپ اور کتنے سوال پوچهنے والے ہیں.” ..اس نے غصے سے کہا اور وہ خاموش ہوا. ..اس نے اللہ کا شکر ادا کیا اس نے مزید کوئی سوال نہیں کیا اور باقی کا سفر خاموشی سے کٹا………
[ دسمبر لوٹ آنا تم تحریر ناصر حسین]
_ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _
بس راستے میں رکا…اس وقت وہ سو رہی تھی جب اچانک جهٹکے سے اٹھ بیٹهی…اس نے آس پاس دیکها..آدهے سے زیادہ مسافر رک رہے تھے پهر اس کی نظر بادشاہ خان کی طرف گئی وہ اسے عجیب نگاہوں سے دیکھ رہا تھا. ….
سو جاو ہم تمہاری سامان کا خیال رکهتی ہے…وہ اسے گھورتی ہوئی سیٹ سے سر ٹکا کر سو گئی اور اگلی بار اس کی آنکھ تب کهلی جب ہوٹل پہ بس رکا…اس وقت سبهی مسافر جاگ رہے تھے اور سبهی اتر کر ہوٹل کی طرف گئے….وہ وہیں اندر ہی بیٹهی رہی اس کے ساتھ دو چار اور مسافر بھی اندر بیٹھے تھے. …بادشاہ خان بھی باہر چلا گیا. ..تهوڑی دیر بعد اس نے بادشاہ خان کو باہر کهڑکی سے دیکها وہ اس کی طرف آ رہا تھا. …..
” یہ لے میڈیم. ..”.وہ اب اس کی طرف کچھ کهانے کی چیز بڑها رہا تھا. ..اس نے کوئی مزاحمت کیے بنا وہ چیزیں اس کے ہاتھ سے لے لیں. ..وہ ایک برگر اور کوک کی کین تهی.اس نے سب ختم کر دیا اسے احساس ہی نہیں ہوا. .کب اسے بهوک لگی. …….سفر ختم ہی نہیں ہو رہا تها وہ بور ہو چکی تهی…..یہ سفر کافی طویل تها…اور بس کی حالت ایسی تهی ایک دن کا سفر دو دن میں طے ہو رہا تها. . مسافروں کی باتیں ، مشغلے اس سب چیزوں میں اچانک دلچسپی محسوس ہونے لگی. ..کچھ دن پہلے والا اضطراب وہ بهول گئی. ..وہ تو یہ بهی بهول گئی وہ ایک بہت بڑے بابا کو چیلنج کرنے جا رہی ہے. ..اور اس کا انجام کتنا خطرناک ہو سکتا ہے. ……بادشاہ خان کافی دیر تک اس کا سر کهاتا رہا. …اس کی باتیں عجیب تهیں بہت زیادہ عجیب. ..وہ کافی تنگ آ چکی تهی اس کی باتوں سے. …
بیالیس گهنٹے کے بعد وہ سفر ختم ہوا…اور وہ کوہ سلیمان کے پہاڑی علاقے میں کهڑی تهی….جب وہ بس سے نیچے اتری تو آس پاس کے اونچے اونچے پہاڑوں نے اس کا استقبال کیا….بادشاہ خان بھی اس کے ساتھ ہی اترا تها…وہ اس پورے سفر میں اس کے ساتھ رہا ایک ہم سفر کی طرح. ……
بادشاہ خان نے اس کا بیگ اپنے کندھوں پر رکها. .. وہ کچھ نہیں بولی اور اس کے پیچھے پیچھے چلنے لگی ..ہر طرف پہاڑ تهے …درخت تهے…اور ان پہاڑوں پر خوبصورت سبزہ نظر آ رہا تها…دور نیچے ایک پانی کی جهیل بھی نظر آئی ..اسے ایک اور جهیل یاد آنے لگا. .کچھ اور یاد آنے لگا…….
اس وقت وہ جہاں کهڑی تهی اس کے سامنے ایک پہاڑی تهی جس پر بابا فقیر شاہ کا اڈہ تها…..اور اس پہاڑی کے نیچے سیکڑوں کے حساب سے گاڑیاں کهڑی تهیں…موٹر سائیکلیں تهیں بہت سارے لوگ آ جا رہے تھے. .اسے افسوس ہوا وہاں کوئی ایک انسان نہیں تها جو شرک کر رہا تھا. .وہ لاکھوں میں تهے جو اللہ تعالیٰ سے نہیں اس کے ایک ادنیٰ بندے کے سامنے جهک رہے تهے. ….
وہ پہاڑی اس کے بالکل سامنے تهی…جو بہت اونچی تهی سامنے خوبصورت پتهروں سے بنی سیڑهیاں تهیں…جو کافی چوڑی تهیں…وہ سیڑھیاں پتهروں کو تراش کر بنائی گئی تهیں. . جن سے لوگ آ رہے تهے جا رہے تهے…ہر طرف ایک ہجوم تها.. اس ہجوم میں اسے اپنا وجود اجنبی سا لگا..بادشاہ خان سیڑھیوں پر اپنا قدم رکھ چکا تها. ..وہ بھی اس کے پیچھے پیچھے چل رہی تهی. ..کتنا بڑا خطرہ اس نے مول لیا ہے اس کا اندازہ اسے اب ہو رہا تھا. …
کیا ہو جائے گا زیادہ سے زیادہ جان چلی جائے گی مگر مجهے یہ افسوس تو کهبی نہیں ہوگا میں نے کهبی برائی سے لڑنے کی کوشش نہیں کی. ….اس نے مسکراتے ہوئے سوچا…….
وہ اب اونچی سیڑهیاں مکمل کراس کر کے اس ڈیرے کے سامنے کهڑی تهی. .جو دور دور تک پهیلا ہوا تها..
اسے ڈیرے کے اندر جاتے ہوئے اور مزار سے باہر نکلتے ہوئے ہزاروں لوگ نظر آئے ..ہزاروں سوالی تهے ہزاروں اپنی مرادیں پوری کروانے آئے تهے.. آخر یہ لوگ ڈائریکٹ اللہ سے کیوں نہیں مانگتے .شرک کیوں کرتے ہیں. .اگر خدا سے سچے دل سے مانگیں تو کیا وہ نہیں دے گا…خدا سے مانگنے والا تو کهبی کسی کے سامنے نہیں جهکتا ، نہ قبروں پہ نہ کوٹهوں پہ نہ میناروں پہ نہ مزاروں پہ…خدا تو خدا ہے سب سے بڑا سب سے عظیم. ..وہ تو مالک ہے جو چاہے وہ کر سکتا ہے…………
ڈیرے کے باہر ایک بہت بڑا بیری کا درخت تها جس کے نیچے پانی کے بہت بڑے مٹکے رکهے ہوئے تهے .وہ اب دروازے تک پہنچ چکی تهی…نیلے رنگ کا وہ ایک بہت بڑا لکڑی کا دروازہ تها جہاں سے کئی لوگ آ جا رہے تهے …
بادشاہ خان وہ دروازہ کراس کر کے اندر آ چکا تها..وہ بھی اندر آئی .. .یہ ایک بہت ہی زیادہ وسیع اور کشادہ اڈہ تها جہاں چاروں طرف لوگ ہی لوگ نظر آئے اسے . اسے ڈر لگا اتنی سارے لوگوں میں کہیں کوئی یہ نہ جان لے کہ وہ یہاں کیا کرنے آئی ہے کیا مقصد ہے اس کا..لیکن اتنے لوگوں میں کوئی کیسے جان سکتا تها وہ بھی عام انسان تهی یہاں آئے باقی لوگوں جیسی ..تو کسی کو کیسے پتا چل سکتا تها وہ کیا کرنے آئی ہے یہاں.اس کا باطن کیا ہے…….
[ دسمبر لوٹ آنا تم تحریر ناصر حسین]
وہ خود کو بادشاہ خان کے رحم و کرم پر چھوڑ چکی تهی. ..کیونکہ اس نے کہا وہ یہاں کے بارے میں سب جانتا ہے اس کی باتوں میں کتنی سچائی تهی یہ وہ نہیں جانتی تھی. …وہ اسے لیے ایک بڑے سے کمرے میں آیا…جہاں پہلے بھی کئی عورتیں موجود تهیں…بادشاہ نے اس کا بیگ اسے دے دیا. ….
“تم بابا کا زیارت کب کرے گا…”..اس نے آس پاس دیکها اسے اندهیرا نظر آیا اس وقت وہ نہیں جا سکتی تھی وہ کل شام کو ان کے پاس جائے گی .اب تو زیادہ لوگ واپس جا رہے تھے …….اس نے سوچا……
“”میں کل مل لوں گی. ….”اس نے مدهم آواز میں کہا…
“اچها ابهی آپ یہیں رہو . “.وہ چلا گیا وہ اسے ایک بار پھر دیکهتی رہی. …اس کمرے میں کئی چهوٹے چهوٹے بچے تهے جنہوں نے بری طرح سے شور مچا رکھا تها اور عورتوں کا ہجوم تها……اس کے بیٹهنے کی کوئی جگہ ہی نہیں تهی…..دو تین بڑے بڑے چار پائیاں رکهی ہوئی تهیں لیکن ان پہ پہلے ہی قبضہ جمایا گیا تها…وہ یہاں سوئے گی کیسے رہے گی کیسے. ..؟
اور کهانے پینے کا انتظام وہ تو کچھ بھی سوچ کر نہیں آئی تھی یہ ایک سنسان علاقہ تها یہاں کم از کم کوئی کهانے کا انتظام نہیں تها اگر کہیں پہ کچھ تها بھی تو وہ نہیں جانتی تھی. …اسے کافی مشکلات کا سامنا تها…….آدهے گهنٹے بعد بادشاہ خان واپس آیا اس کے ہاتھ میں کچھ تها جو اس نے آیت کی طرف بڑهایا وہ سمجھ گئی اس میں کچھ کهانے کی چیزیں ہیں اس نے اس کا شکریہ ادا نہیں کیا……
وہ چلا گیا اور دس منٹ بعد واپس جب آیا…تو ایک چار پائی بھی لے کر آیا…اسے نہیں معلوم اس نے یہاں چار پائی کا انتظام کیسے کیا. .مگر وہ چار پائی دیکھ کر خوش ہوئی. …
اب اسے رکهنے کی پرابلم تهی ..وہ اسے اندر تو لے گیا مگر کوئی اسے رکهنے ہی نہیں دے رہا تها. .عورتوں نے چلانا شروع کیا…جگہ کم ہے اس لیے وہ چارپائی وہاں نہیں رکھ سکتا……
“ارے اللہ کا بندی ہمارا بیگم کدھر سوئے گا پهر. .”؟ اس نے جهٹکا کها کر بادشاہ کو دیکها …جو چارپائی سیٹ کر چکا تها…….وہ اس کی طرف گهوما ….
” ارے معاف کرنا اگر ہم ایسا نہیں کہتا تو یہ لوگ جگہ نہیں دیتی….”.وہ خاموشی سے اسے گھورتی رہی وہ چلا گیا اور وہ وہیں چار پائی پر لیٹ گئی……..
_ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _
صبح کی چمکتی روشنی پہاڑوں کے درمیان سے راستہ بناتی چهین کرتی زمین پر اپنی کرنیں بکھیر رہی تھی تھوڑی دیر پہلے والا اندھیرا ختم ہو گیا. .وہ صبح جلدی ہی اٹھ گئی تهی سو بهی کیسے سکتی تھی ہر طرف بچوں کے رونے کی آوازیں تهیں………
وہ اس بڑے ہال نما پتھروں سے بنے کمرے سے باہر نکل آئی….اور وہیں کهڑی ہو کر نیچے کا نظارہ دیکھنے لگی.اللہ تعالیٰ کی بنائی ہوئی ہر شے خوبصورت اور منفرد تهی ، پہاڑوں سے لے کر درختوں تک ، سبزے سے لے کر بارشوں تک……پھر بھی یہ لوگ اللہ کے سامنے نہیں انسانوں کے سامنے سجدہ کرتی ہیں. ..صبح کی اداسی اس کی آنکھوں میں اتر آئی…..وہ ہاتھ باندھے نیچے دیکھے جا رہی تھی. ..
اسلام و علیکم. …بادشاہ خان کی آواز سنائی دی اسے.. اس نے گردن گهما کر پیچھے دیکها وہ ہاتھوں میں ناشتے کی ٹرے لیے کهڑا تها……
“ہم تمہارے لیے ناشتہ لائی ہے…'”..وہ ٹرے ادھر ہی پتھروں پر رکھتے ہوئے بولا…وہ وہیں ایک پتھر پر جا کر بیٹھ گئی. ..وہ بھی اس کے برابر بیٹھ گیا ..اور اسے عجیب نگاہوں سے دیکھنے لگا.. ..
“آپ نے ناشتہ کر لیا.”….؟وہ چائے کے گھونٹ لیتے ہوئے بولی. .وہاں کی چائے کافی الگ تهی وہ ایسی چائے پہلی بار پی رہی تھی ….
” ارے میڈیم اب بسکٹ کدھر سے لائے ہم …آپ یہی پراٹها کها لو..”…بے اختیار وہ مسکرا دی…..
“پتا ہے میرا دل چاہتا ہے یہ پتھر اٹها کر آپ کے سر پہ دے ماروں…..”اس نے ایک بڑے پتھر کی طرف اشارہ کیا. ……
[ دسمبر لوٹ آنا تم تحریر ناصر حسین]
“ارے ناں…ہم پتھر نہیں بیچتے…وہ تو ہمارا دادا پر دادا کرتا تھا یہ سب کام…”…وہ اس کے لیے پانی بھی س ساتھ لایا تھا. .وہ اب پانی کا ایک گلاس پی رہی تھی اور پہاڑی کے اوپر سے نیچے دیکھ رہی تھی. .نیچے اسے ایک خوبصورت نہر نظر آئی. .اس کا دل بے اختیار چاہا وہ اس نہر کے پاس چلی جائے…….
“آپ مجھے وہاں اس نہر کے پاس لے چلو گے…اس نے نہر کی طرف انگلی سے اشارہ کیا اور پانی گلاس خالی کر کے وہیں رکھ دیا.”…بادشاہ خان نے گردن لمبی کر کے نیچے دیکها……
“اب صاف ہے یا گندہ یہی پانی پیو…وہاں تک ایک گلاس کے لیے کون جائے…”.وہ ادھر نہر کو ہی دیکھ رہی تھی اس کی بات سن کر اسے گهور کر دیکها ……
“تم اپنی کان والی مشین لگاو”…وہ اشارہ سمجھ کر مشین نکالنے لگا پھر اس نے غور سے آیت کی طرف دیکھا…….
“میں نے کہا آپ مجھے اس نہر کے کنارے لے چلو گے..”
“تو کیا تم پیر صاحب کا زیارت نہیں کرے گا..سیر سپاٹے کو آئی ہے. “…..
“”وہ میں بعد میں کر لوں گی” …وہ ناگواری سے بولی..اور اٹھ کھڑی ہوئی بادشاہ خان بھی اس کے ساتھ کهڑا ہو گیا…اب وہ دونوں اس پہاڑی سے نیچے اترتے نظر آئے. .راستہ کافی ڈھلوان تها اور مشکل بھی. ..اسے اترنے میں کافی دشواری پیش آ رہی تھی.
ہمارا ہاتھ پکڑ لے. ..بادشاہ خان نے اپنا ہاتھ آگے بڑهایا..کچھ لمحے وہ اس کی آنکھوں میں دیکهتی رہی.
” نہیں شکریہ”. ..اس نے جیسے غصے سے کہا….
“ارے اللہ کا بندی ہم شریف لڑکا ہے کوئی ایسا ویسی حرکت نہیں کرے گا….ا”س نے بادشاہ خان کو گھورتے ہوئے اپنا ہاتھ دیا..اس کے گرم ہاتھوں نے ان نازک ہاتھوں کو پکڑ لیا. ….. اب وہ اسے لے کر نیچے اتر آیا. آدهے گهنٹے بعد وہ اس نہر کے پاس کھڑے تهے ..وہ اس نہر کے درمیان میں اپنا قدم رکھ چکی تھی اور آہستہ آہستہ پانی میں چلنے لگی…ٹھنڈا ٹھنڈا پانی اسے عجیب احساس سے دو چار کر رہا تھا اس کے پاؤں میں گدگدی ہونے لگی….بادشاہ خان نے اس کا ہاتھ پکڑا ہوا تها اسے اچانک لندن یاد آیا………
” تم کب واپس جائے گا.” …؟
” ابهی نہیں پتا..شاید کل کو”….
“”تم اپنا شوہر کو ساتھ نہیں لائی.” …
” وہ نہیں ہے.” …..
” مر گئی کیا.”..؟ بادشاہ خان بھرپور حیران ہوا….
” بکواس بند کرو.” …..
تو کدھر ہے. ….
“”لنڈن میں. .”…وہ پانی میں اپنے پاوں بهگو رہی تھی. “ادهر کیا کرتا ہے.” .؟ سوالوں کا بوچھاڑ. …
“کچھ نہیں.” . ..
‘ پاکستان کیوں نہیں آتا”….,؟
” پتا نہیں. ..میں اس سے ناراض ہوں..”..
“کیوں. .؟” پرندوں کا ایک غول ان کے سر کے اوپر سے اڑ کر گزر گیا….
“”وہ بہت برا ہے. .”.وہ بھرائی ہوئی آواز میں بولی….
‘ تم کیا تم اس کو چھوڑ دیا”…؟
” اس نے مجھے چھوڑ دیا..”…
” ہمارا بیوی بھی ہم کو چھوڑ گئی”….وہ خاموش رہی..
“تم ہم سے شادی کرے گا کیا.”..وہ چلتے چلتے رک گئی. اس کی آنکھوں سے دو آنسو اتر آئے…..
“ہم تو مذاق کرتا ہے. .تم روتی کیوں ہے”….؟
” تم نے ایسا کیوں کیا. “؟اس نے روتے ہوئے اس کی آنکھوں میں دیکها….
ہم نے کیا کیا….؟
” تم نے میرے ساتھ ایسا کیوں کیا انوشیر.”…؟
وہ سانس نہیں لے سکا….
جاری ہے. ……
