Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode10

December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode10

••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••
مجهے آپ کی تهوڑی ہیلپ چاہیے ….وہ اس کے برابر چلنے کی کوشش کر رہی تهی….
” لیکن مجهے آپ کی ہیلپ کرنے میں کوئی دلچسپی نہیں ہے” …..وہ کون سی بات کہاں جتا رہا تها…..
” کیا آپ ایک مجبور مسافر لڑکی کی زرا بھی مدد نہیں کریں گے…”..وہ رونے والی تهی…..
” مجهے ایسا کوئی شوق نہیں ہے. ..”.جواب اسی نے نیازی سے دیا گیا. ..سامنے والے کو اس سے زرا بھی ہمدردی نہیں تهی…..
” آپ نے اتنا سارا پڑھ کر یہی سیکها ہے”….؟ ازلی پاکستانی فارمولا. ….
“نہیں لیکن میں نے کچھوے اور بچهو والی کہانی ضرور پڑهی تهی.”.. …
“وہ شاید کچھوے اور خرگوش والی کہانی تهی”…اس نے تصیح کرنا ضروری سمجها….
” نہیں کچهوا اور بچهو…”…
” یہ کس کورس بک میں تهی….”.؟ اس تجسس ہوا …
“جہاں سے میں نے پڑها.”….اس کے سر میں درد ہونے لگا جیسے صبح ہوا تها. ….
“آپ نے کہاں سے پڑها ..”.؟ وہ اصل موضوع سے نکل کر کہیں اور پہنچ گئی. .. .
“جہاں سے مجهے پڑهایا گیا….”.. اگر برداشت کرنے کا کوئی ایوارڈ ہوتا تو وہ یقیناً اسے ہی ملتا….
“لیکن میں نے تو کہیں نہیں پڑها. ..”.؟اسے افسوس ہوا…
” تو میں کیا کروں.” …؟
” کیا اس کہانی میں کچهوا اور بچهو ریس لگاتے ہیں.” .؟ عقل کا تهوڑا بہت غلط استعمال کرتے ہوئے وہ بولی. .
وہ تیز تیز چلتے اچانک رک گیا اور ایک ناگوار سی نگاہ سے مخاطب کو دیکها. …
“نہیں. ..اگر آپ کہیں تو میں آپ کو کل وہ کہانی لکھ کر دوں گا لیکن میرا پیچھا کرنا بند کریں”…..اس کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو گیا. ….
اور اس کے ساتھ ہی آیت کو یاد آیا وہ اس کے پاس کچهوا اور بچهو والی کہانی سننے نہیں کسی اور کام کے لیے آئی تهی کسی بہت ضروری کام کے لیے. ..
” تو آپ میری مدد نہیں کریں گے. ..؟” وہ دهمکی دینے والے انداز میں بولی….
“بالکل نہیں.” ..وہ ایک بار پھر تیز چلنے لگا..دهمکی کا بھی اس پہ اثر نہیں ہوا ..وہ ایک دم نرم پڑ گئی اور آگے بڑھ کر کمال کی بے تکلفی سے اس کا ہاتھ پکڑ لیا. ..وہ جہاں شاکڈ تها وہیں اس لڑکی کی دیدہ دلیری پہ حیران بھی تها..اس نے اپنے ہاتھ کو دیکها جسے اس نے کافی مضبوطی سے پکڑ رکها تها. ….اس کی آنکھوں سے سیلاب جاری ہو گیا. .وہ مزید اپنے آنسو روک نہیں سکی….اور پهوٹ پهوٹ کر رو پڑی. ..
“میں کہاں جاؤں. ..کیا کروں. ..؟ یہاں کوئی میری مدد نہیں کرتا …؟ میں کسی کو جانتی بھی نہیں.” وہ دونوں ہاتھوں سے چہرہ چهپا کر سسک پڑی….
اور اس کے لیے یہ بالکل نئی سچویشن تهی لڑکیوں کو روتا ہوا دیکھ کر اسے الجهن ہونے لگتی…وہ کئی پل اسے دیکهے گیا اس کی سمجھ میں نہیں آ رہا تها اسے کیسے چپ کرائے….
“اوکے..اوکے….آپ کو جو بھی ہیلپ چاہیے میں کروں گا..لیکن رونا بند کر دیں”. ..اس نے دوپٹے سے اپنی سرخ ناک اور آنکهوں کو صاف کیا. ….
اور اسے شروع سے لے کر آخر تک ساری رواد سنائی. وہ خاموشی سے اسے سنتا رہا جب وہ خاموش ہوئی تب وہ صرف اتنا بولا…..
” نو پرابلم وہ لڑکا آج کے بعد آپ کے روم میں نہیں آئے گا.”…آیت کو لگا وہ مذاق کر رہا ہے یا ٹالنے کی کوشش کر رہا ہے. ….اس نے بے یقینی سے اس کی آنکهوں میں دیکها…..
“بولا ناں نہیں آئے گا”…وہ اس کی بے یقینی پڑھ چکا تها
.جب وہ جانے کے لیے مڑا تو پیچھے سے اس نے آواز دی..وہ جنجھلا کر پلٹا….
” آپ کا نام کیا ہے…”؟ جو سوال اسے سب سے پہلے پوچهنا چاہیے تھا وہ اب پوچھ رہی تھی. ..
” انوشیر رضا…”..وہ اب بھی سنجیدہ تها…
اور ایک بار پھر جاتے جاتے اسے پیچھے مڑنا پڑا کیونکہ اس لڑکی نے ایک بار پھر اسے آواز دے کر روک دیا. ..
” سوری اینڈ تهینکس. ..”وہ آنکهوں کو رگڑتے ہوئے بولی…
” کچھ اور کہنا ہے. ..؟ کهڑوس…؟ سڑیل…؟ یا انگریز. “..؟ وہ نم آنکھوں کے باوجود مسکرا دی اور وہ ایک نے تاثر نگاہ اس پہ ڈال کر وہاں سے چلا گیا. …آدهے گهنٹے تک وہ یونہی یونیورسٹی میں چکر لگاتی رہی پهر جب وہ کمرے میں پہنچی تو وہ افریقن اپنا بیگ اٹهائے باہر نکل رہا تھا. ..اس دروازے پہ دیکھ کر ایک کچا چبا جانے والی نظر اس نے آیت پہ ڈالی اور وہ بوکهلا گئی…سمجھ نہیں سکی غصہ وہ کمرے سے نکال دیے جانے پہ ہے یا چارجر منہ پر مارنے سے..بہرحال اس کے جانے کے بعد اس نے سکون کا سانس لیا ..یہ سب کتنی آسانی سے ہو گیا جانے انوشیر نے کیا کیا ہوگا …بہرحال وہ اس کی مشکور تهی اور اس سے شرمندہ بھی…اب یہ کمرہ صرف اسی کا تها……لیکن اس کی یہ خوشی فہمی یوں غلط ثابت ہوئی شام کو وقت ایک انڈین پوجا نامی لڑکی کمرے میں آ گئی..جو بهی تهی خیر وہ لڑکی تو تهی …
انوشیر سے وہ اس کے بعد بھی دو بار ملی ..اور ہر بار صرف مدد کے لیے ہی ملی اب وہ بنا کسی اعتراض کے اس کی مدد کرتا تها…یہ ان آنسو کا اثر تھا شاید..لیکن مدد کے علاوہ وہ کوئی بات نہیں کرتا تها …پتا نہیں وہ لڑکیوں سے اتنا دور کیوں بهاگتا تها..
اور ان کچھ ہی ملاقاتوں میں آیت نے جان لیا وہ کافی مذہبی ہے اسلام اور اللہ سے بہت محبت کرنے والا….
_ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _
جنت تیزی سے بهاگتی ہوئی گهر میں داخل ہوئی دهڑکن ابهی تک بے قابو تهی. .اس انسان کا چہرہ بار بار آنکھوں کے سامنے آ رہا تها وہ اسے ذہن سے جهٹکنا چاہتی تهی لیکن وہ ایسا نہیں کر پا رہی تهی اس کے علاوہ ذہن میں کچھ تها ہی نہیں. …..
آنکهیں کهولنے پر بھی اسے وہی نظر آ رہا تها اور بند کرنے پر بھی وہی چہرہ…
اس نے ماتهے کو چهو کر دیکها جہاں پسینہ ہی پسینہ تها ..تیز تیز بهاگنے کی وجہ اس کا سانس پهولا ہوا تها. .گهر کے دروازے پہ ٹیک لگا کر وہ کهڑی تهی سبهی گهر والے اتنی سردی میں اندر آگ جلائے بیٹهے ہوں گے کسی کو نہیں معلوم باہر جنت کے ساتھ کیا ہو رہا ہے کسی کو تو کیا اسے خود بھی نہیں معلوم تها یہ کیا ہو رہا تها. …..
بس وہ بار بار درود پاک کا ورد کر کے اپنے اوپر پهونک رہی تهی اور اللہ سے دعا کر رہی تهی مجهے گمراہ ہونے سے بچائیں…وہ بڑی دیر تک دروازے کے ساتھ کهڑی رہی …..اور پهر اس کے پاوں تهکاوٹ کی وجہ سے شل ہو گئے وہ وہیں لکڑی کے دروازے کے پاس ہی بیٹھ گئی. ..چہرے پہ کئی خوفناک تاثرات تهے…
ڈر کے گهبراہٹ کے وحشت کے….آنسو کا ایک ریلا جو آنکھوں سے رواں تها ..وہ تب چونکی جب اس کے پاس گڑیا آ کر اسے جهنجوڑنے لگی……
” جنت بوا کیا ہوا آپ کو….”؟ اس نے تشویش سے اسے دیکهتے ہوئے پوچها …وہ کچھ سن کیوں نہیں پا رہی تهی وہ بس گڑیا کے ہونٹ ہلتے ہوئے دیکھ رہی تھی اور پھر گڑیا کا چہرہ تحلیل ہو گیا اس میں ایک نیا چہرہ ابهر آیا…کچھ جانی پہچانی سی آنکهیں ، کچھ مانوس سے ہونٹ….وہ جهٹکا کها کر اٹهی اور جا کر وضو کرنے لگی…..
گڑیا کچھ سمجھ نہیں سکی اور انہیں ان کے حال پہ چهوڑ کر وہ آم کے درخت سے بندھے جهولے سے جهولنے لگی…….
وضو کرنے کے بعد وہ قرآن پاک باہر لے آئی اور کهلے آسمان تلے چار پائی پر بیٹھ کر زور زور سے تلاوت شروع کر دی…اس کی آواز بهرائی ہوئی تهی وہ بار بار آنسو کو پیچھے دھکیل رہی تهی. …تلاوت کرتے ہوئے بهی بار بار اس کا ذہن اس شخص کی طرف جا رہا تها قرآن پاک کے الفاظ میں بھی وہی ایک چہرہ نظر آ رہا تها یہ کیسی بے بسی تهی کتنی بے چارگی کا عالم تھا. .اسے اپنی مدد پہ پہلی بار افسوس ہوا کاش وہ اس کی آنکھوں میں نہ دیکهتی کهبی یا . .یا پھر وہ اس کی مدد کے لیے ہی نہ جاتی….
لیکن اب کیا ہو سکتا تها جو ہونا تھا وہ ہو چکا تها. ..اسے یقین تھا وہ اس چہرے کو بهلا دے گی مگر اس کا یقین بہت جلد ہی ہوا میں اڑنے والا تھا. قرآن پاک کی تلاوت بھی اس سے نہیں ہو سکی الفاظ آنکهوں سے دور ہوتے جا رہے تھے اور ایک تصویر قریب سے قریب تر آتی جا رہی تهی. ……
شام کے وقت سبهی گهر والوں کو تشویش ہوئی اور تشویش ہونا لازمی تها اس کی شکل ہی ایسی بنی ہوئی تھی ..چہرہ سرخ تها اور وہ بات کرتے کرتے اچانک کہیں کهو جاتی…دادی اپنے پرانے خیالات کو برقرار رکھتے ہوئے کہنے لگلگیں ضرور میری بچی سے کوئی بهوت چپٹ گیا ہے. ..ہاں واقعی کوئی بهوت ہی تها جو اس کے پیچھے پڑا تها…
بهابهی نے کہا وہ ساری ساری رات جاگ کر نوافل ادا کرتی ہے اور تسبیح پڑهتی ہے اور دن کو بھی اکثر وقت قرآن پاک کی تلاوت کرتی ہے اس وجہ سے اس کی یہ حالت ہوئی ہے اب وہ کیا کہتی اس نے زندگی میں پہلی بار قرآن پاک کی تلاوت ادهوری چهوڑ دی….
بنا کسی وجہ کے. …اور یہی حال اس کا رات کو تها ..کهانا کهانا تو دور وہ پانی کا ایک گهونٹ بهی حلق سا ناں انڈیل سکی ..کچی عمر کی کچی پهول تهی اور پل بهر میں ٹوٹ گئی..وجود ٹکڑے ٹکڑے ہو گیا. .سوچا نہ تها کهبی یہ ہوگا….
[ دسمبر لوٹ آنا تم تحریر ناصر حسین]
چاند کو دیکهتے ہوئے وہ بار اس میں کسی کا عکس ڈھونڈتی رہی..چاند اسے ہمیشہ ہی خوبصورت نظر آتا مگر پہلی بار اسے چاند کو خوبصورت نہیں لگ رہا تها چاند میں جو ایک تصویر تهی وہی خوبصورت تهی بس دنیا کی ہر شے سے زیادہ. …..
وہ بهاگتی ہوئی آئی تهی وہاں سے خود کو بچانے کے لیے مگر وہ کہاں بچ سکی جس سے بهاگ رہی تهی وہ اس کے پیچھے پیچھے چلا آیا..اس کی سانسوں کے ساتھ. .وہ آئی تهی مگر وہ نہیں آئی تھی اس کا صرف جسم لوٹ آیا تها…روح اور دل وہ کہاں رہ گئے. ..؟
وہ ان کو کہاں چهوڑ آئی .اسی پہاڑی پہ وہیں کہیں. ..؟ جہاں وہ خود کو چهوڑ آئی تهی وہ موڑ تو بہت پیچھے رہ گیا پهر وہ بار بار کیوں سوچ رہی تهی. ….
آنکهیں اتنی پیاسی کیوں تهیں…دل اداس کیوں تها کچھ اچها کیوں نہیں لگ رہا تها. .ہر منظر واضح کیوں نہیں تها. ..اور وقت وہ کیوں اتنا آگے نکل گیا وہ صبح تهی اور اب رات….وہ سماں کچھ اور تها اور یہ کچھ اور. ..اس کے دل میں اچانک یہ خواہش کیوں ابهری وقت رک جاتا اور پیچھے لوٹ جاتا…چند گهنٹے واپس پیچھے چلا جاتا اور پھر. ..پهر کیا ہوتا. ….؟
” یا اللہ یہ مجهے کیا ہو رہا ہے میں کیوں اس کے بارے میں اتنا سوچ رہی ہوں.” …اس نے دل کے سامنے ہاتھ جوڑ دیے اور دل یوں ہنسا جیسے چهوٹے بچے کی بات پہ ہنسا جاتا ہے ….دل نے اس قید کر لیا وہ دل کی قیدی بن گئی اور جو دل کے قیدی ہوتے ہیں وہ تو اپنے آپ میں بھی نہیں رہتے……
اس رات سردی اتنی تهی کہ ہڈیوں کے اندر گهسی چلی جاتی ..ایک تو دسمبر کا مہینہ تھا اور اوپر سے برفانی علاقہ تو سردی عروج پر پہنچ چکی تهی مگر اس نے اپنے ہاتهوں کو دیکها وہ سردی کیوں محسوس نہیں کر رہی تهی….
اس نے جائے نماز بچها کر نوافل ادا کئے مگر اس کا دهیان وہاں بھی نہیں تها. …وہ اللہ کی یاد سے بھی غافل ہو رہی تهی کس کے لیے ایک مرد کے لیے جس سے وہ صرف ایک بار ملی ایک لمحے کے لیے اس کی آنکھوں میں دیکها اور ایک لمحے کی خطا کے بدلے دل نے اسے کہاں سے کہاں پہنچا دیا. ……وہ روتی آنسو بہاتی سجدے میں پڑی اللہ تعالیٰ سے اپنے لیے رحم مانگ رہی تھی. .صراط مستقیم مانگ رہی تھی. .
اس کے باوجود بھی اس چہرے نے اس کا پیچھا نہیں چهوڑا ..وہ کوئی آسیب تها جو اس سے چپٹ گیا…کمرے میں انگهیٹی جل رہی تھی وہ انگهیٹی کے پاس آئی….ایک انگارہ نکال کر اس نے اپنی ہتھیلی پر رکھا اور اپنے آپ سے پوچها….؟
” جب میں یہ آگ برداشت نہیں کر سکتی تو جہنم کی آگ کیسے برداشت کروں گی..”…
[ دسمبر لوٹ آنا تم تحریر ناصر حسین]
_ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _
وہ پورے ایک ہفتے تک پهر سے لکڑیاں کاٹنے نہیں گئی..لیکن پورے ہفتے میں ایک لمحہ بھی ایسا نہیں آیا جب اسے وہ نہ یاد آیا ہو. …؟ اسے خوش فہمی تهی وہ آہستہ آہستہ اس کی یاد سے پیچھا چهڑا لے گی لیکن یہ صرف ایک خوش فہمی کے علاوہ کچھ نہ تھا. ..
وہ چلتے چلتے رک جاتی بیٹهے بیٹهے کهو جاتی کهانا کهاتے ہوئے کہیں اور پہنچ جاتی………
ایک بار تو حد ہی ہو گئی وہ سب کے ساتھ بیٹهی کهانا کها رہی تهی جب روٹی کا ٹکڑا سالن میں ڈبونے کی بجائے پانی میں ڈبو کر منہ میں ڈالنے لگی اسے ہوش تب آیا جب رام گڑیا اور عروج کے قہقہے گونج اٹهے…باقی گهر والے بھی مسکراہٹ چهپا رہے تهے. .وہ خود بھی بری طرح جهنپ گئی ….
تینوں بچے کافی دیر تک ہنستے رہے..اور وہ ان سے نگاہیں نہیں ملا سکی….دادی کہتی تهی میری بیٹی پاگل ہو گئی ہے. ..سہی تو کہتی تهیں وہ پاگل ہی تو ہو گئی تهی وہ البیلی. …
اس کی یاد کے باوجود وہ نماز قرآن سے غافل نہیں ہوئی توجہ ہوتی یا نہ لیکن وہ فرض ضرور ادا کرتی.
” تیری یاد دے وچ سجنڑاں اسی اپنے آپ نوں بهلا دتا___تیرا جادو ایسا چلیا میرے تے میں زہر نوں چاہ کے آپ پیتا_____”
زندگی میں ایک سٹیج ایسا ہوتا ہے جو کوئی اور تو کیا انسان خود بھی کهبی سمجھ نہیں پاتا اس کے ساتھ کیا ہو رہا ہے وہ اپنے آپ سے بھی دور دور رہنے لگتا ہے. ..بادل ایک بار پھر آسمان پر قبضہ جمانے آ گئے. ..گڑیا کو ہمیشہ اعتراض رہتا یہ بادل ہمارے علاقے میں ہی کیوں آتے ہیں دور کیوں نہیں جاتے. ..تب وہ اسے بڑی محبت سے سمجهاتی بارش اللہ تعالیٰ کی نعمت ہے وہ بارش برساتا ہے تبهی فصلیں اور درخت سرسبز ہوتے ہیں …….
” کیا اللہ میاں زمین کو نہلاتا ہے..”..وہ معصومیت سے پوچهتی . جنت مسکرا دیتی اس کی عمر اتنی نہیں تهی جو وہ اس سے لمبی چوڑی بحث کرتی اس لیے سر اثبات میں ہلا دیتی لیکن اس کے برعکس رام اس کی باتیں جلدی سمجھ جاتا …شاید وہ ذہین تها یا پھر وہ توجہ سے سنتا یا اس لیے کیونکہ وہ لڑکا تها لیکن اس نے کهبی اس بات پہ غور نہیں کیا. …وہ صرف سمجهتا نہیں تها وہ مانتا بھی تها …لاکھ شرارتی سہی لیکن جنت کی بات اس کے لیے پتهر کی لکیر ہوتی ..عروج بھی زیادہ چوں چراں نہیں کرتی تهی بس گڑیا کو کهبی کهبی اعتراض ہوتے…….
” اللہ تعالیٰ نے مجهے سکول میں فرسٹ پوزیشن کیوں نہیں دی….”تب وہ اس کے گالوں پہ ہاتھ رکھ کر کہتی ” ضرور تم نے محنت نہیں کی ہوگی..”..
جس پہ وہ منہ بسور کر کہتی “لیکن میں نے دعا تو کی تهی ناں….”؟
“تم نے صرف دعا کی ہوگی اور کسی نے دعا کے ساتھ ساتھ محنت بھی کی ہوگی تو یقیناً اسی کی دعا قبول ہوتی ناں….”؟ گڑیا کو اس کی بات سمجھ میں نہیں آتی….اکثر اسے سمجهاتے ہوئے وہ کئی کئی مختصر مثالیں بناتی…..تب رام کہتا “یہ تو ہے ہی پاگل جنت بوا مجهے سمجهاو ” اور وہ خفگی سے رام کو گهور کر کہتی. …” بلی جیسی آنکھوں والے دفعہ ہو جاو یہ میری بوا ہے تمہاری کیا لگتی ہے” تب رام اداسی سے اسے دیکهتا اور پوچهتا وہ اس کی کیا لگتی ہے تب وہ اس کے گالوں کی چٹکی کاٹ کر کہتی میں تمہاری دوست ہوں تمہاری آپی…..وہ پهر سے خوش ہو کر گڑیا کو چڑانے لگتا ……..
اس علاقے میں دن کو بھی اکثر اندهیرے کا سماں ہوتا کیونکہ سورج کے عین سامنے کالے بادل آ کر کهڑے ہو جاتے تهے……اور یہی حال اس دن بھی تها وہ لکڑیاں کاٹنے کے بارے میں سوچ رہی تھی لیکن سورج بھی لکا چهپی کهیل رہا تها. …مگر اس کے باوجود اس نے ارادہ ملتوی نہیں کیا…..
سفید چادر نما شال کو اپنے گرد اچهی طرح لپیٹ لیا. .سر کو بھی اسکارف سے چهپا لیا. …
وہ لڑکا جو بھی تها اس کے بارے میں وہ یہ سوچ کر نکلی تهی وہ ایک سیاح تها جو محض سیر و تفریح کے لیے آیا ہوگا اور واپس چلا گیا ہوگا …عموماً چار پانچ دن سے وہ رہتے نہیں تهے…….
کلہاڑی رسی اور گڑیا کی انگلی تهام کر وہ باہر نکلی…آج اس کے ساتھ چلنے کے لئے صرف گڑیا ہی تهی رام اور اس کی کسی بات پہ لڑائی ہوئی تھی جو ہمیشہ ہوتی رہتی تھی اس لیے وہ ساتھ چلنے سے انکار کر چکا تها اور عروج کو تهوڑا ہوم ورک کرنا تها اس لیے وہ گڑیا کو ساتهی بنا چکی تهی. ………
[ دسمبر لوٹ آنا تم تحریر ناصر حسین]
برف کی تہہ کافی حد تک اوپر آ چکی تھی گڑیا کو برف پہ چلنا ہمیشہ مشکل لگتا .اس کی زبان پہ ہر وقت یہی شکوہ رہتا برف دوسری طرف کیوں نہیں پڑتی تب وہ اس سے کہتی “کیونکہ اللہ تعالیٰ ہم سے بہت محبت کرتے ہیں اور دوسرے لوگ پیسے دے کر سفر کر کے ہمارے علاقے میں برف دیکهنے آتے ہیں جبکہ ہم بنا پیسوں کے ہی اللہ تعالیٰ کی نعمتوں سے فیض یاب ہو رہے ہیں ” وہ پل بهر کے لیے مسکاتی…
” جنت بوا اللہ کہاں ہے. ..”؟ اس نے چلتے چلتے اچانک پوچها…..
” اللہ آسمانوں کے اوپر ہے اور تمہارے بالکل پاس..”.
“تو مجهے نظر کیوں نہیں آتا..”.؟ وہ حیران ہو کر پوچهنے لگی…..
” تمہیں معلوم ہے تمہارے جسم کے اندر ایک دل ہے جس کے ذریعے تم زندہ ہو ..اگر وہ نہ ہو تو تم مر جاو گی …وہ پورے جسم میں خون کو کنٹرول کرتا ہے لیکن تم اسے دیکھ نہیں سکتی….مگر اس کا مطلب یہ تو نہیں کہ دل ہے ہی نہیں. اسی طرح تم سورج کو نہیں دیکھ سکتیں کهبی کیونکہ تمہاری آنکهیں چدهیا جائیں گی جب تم سورج کو نہیں دیکھ سکتیں تو سورج بنانے والا تمہیں کیسے نظر آئے گا لیکن تم اس سے ملو گی تم اسے دیکهو گی ہر انسان اسے دیکهے گا لیکن مرنے کے بعد….اور اللہ تعالیٰ تو کر جگہ موجود ہیں ان پہاڑوں میں ان درختوں میں. .یہ سب اللہ تعالیٰ کی تخلیق کی ہوئی نعمتیں ہیں. ..”….اس نے ہمیشہ کی طرح پیار سے اسے سمجهایا……
“اوکے میں سمجھ گئی…اچها یہ بتاو اللہ تعالیٰ نے ہمیں کیوں پیدا کیا. ..؟” اس نے ایک اور سوال پوچها….
“اپنی عبادت کے لئے. ….”
“لیکن دادی تو کہتی ہے تم منحوسیت پهیلانے کے لیے پیدا ہوئی ہو. ….”وہ منہ بنا کر خفگی سے بولی جنت مسکرا دی….
“وہ تو یوں ہی کہتی ہیں. ..ہم سب عبادت کے لئے بنائے گئے ہیں…جس طرح تم سکول جاتی پهر ہوم ورک کرتی ہو اور اس کے بعد ایگزامز دیتی ہو …بالکل ویسے ہی اللہ تعالیٰ نے ہمیں ہوم ورک کے لیے بهیجا ہے اور ہم اس وقت ایگزامینشن ہال میں ہیں….”..
“لیکن ہم تو برف کے اوپر چل رہے ہیں ..”..وہ شرات کے ساتھ بولی…..
“اف اللہ. ..میں صرف مثال دے رہی ہوں پگلی…”.
“اور اس امتحان کا رزلٹ کب آئے گا…”… ؟
“روز محشر. ..”..گڑیا ایک بهی بات نہیں سمجھ سکی اور باقی کا راستہ خاموشی سے ادهر ادهر دیکهتے ہوئے چلنے لگی……..
جنت کے ذہن میں جو تهوڑے بہت خیال آ رہے تھے وہ انہیں جهٹکنے کی کوشش کر رہی تهی مگر وہ اس کوشش میں بری طرح ناکام ہو رہی تهی. .پرندے ہمیشہ کی طرح آسمان کے اوپر ڈیرہ ڈالے ہوئے تهے ..اچانک چلتے چلتے ایک ڈهلوان راستے پہ گڑیا گر گئی.جنت نے پیچھے مڑ کر دیکھا تو وہ منہ کے بل برف کے اوپر پڑی ہوئی تھی. …….
“جنت بوا پلیز اپنا ہاتھ دیں مجهے. ..”.اس نے جیسے التجا کی لیکن جنت بے نیازی سے ہاتھ باندھ کر کهڑی ہو گئی. …
“خود اٹهنے کی کوشش کرو…”.. گڑیا کو اس پہ غصہ آیا یہ کون سا موقع تها یہ سب کرنے کا. …
“میں نہیں اٹھ سکتی…”..وہ رونے والی تهی حالانکہ اس نے اٹهنے کی کوشش ہی نہیں کی……
“تم اٹھ سکتی ہو گڑیا …بس کوشش کرو ساری زندگی دوسروں پہ منحصر مت رہا کرو کیونکہ کوئی تمہارا ساتھ ہمیشہ نہیں نبهائے گا ساری زندگی تونے اکیلے گزارنی ہے تو کسی اور کا سہارا لینے سے بہتر ہے خود اپنا سہارا بنو.”……..
اس وقت اسے جنت کی فلاسفی سے چڑ ہونے لگی اور کوشش کر کے وہ کهڑی ہونے میں کامیاب ہو گئی.
ان دونوں نے ایک بار پھر اپنا سفر شروع کیا پهر گڑیا کو ہی ایک جگہ سوکھی لڑکی کا درخت نظر آ گیا اور وہ وہیں اس طرف مڑے……
رسی ایک طرف رکھ کر اس نے کلہاڑی اٹهائی ..گڑیا تب تک برف کا گهر بنانے لگی. ..بادل پہلے کی نسبت کم ہو چکے تهے لیکن سردی کا زور ویسے ہی برقرار تها….
وہ پورے انہماک سے لکڑیاں کاٹنے میں مصروف ہو گئی. .جب سکینڈ کے ہزارویں حصے میں اسے محسوس ہوا جیسے اس کے پیچھے کوئی کهڑا ہے تیزی سے گردن گهما کر دیکهنے پہ وہ پتهر ہو گئی جیسے ایک ہفتہ پہلے ہوئی تھی. …..
سامنے نظر آتے منظر پہ یقین مشکل تها لیکن نا ممکن نہیں. .وہ اسے اتنی بار دیکھ چکی تهی اب جب حقیقت میں وہ اس کے سامنے تها تو اسے وہ بھی وہم ہی لگ رہا تها. …وہ سانس لینا بھی بهول گئی دونوں کی نگاہیں ایک دوسرے کا طواف کر رہی تهیں..
جاری ہے______

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *