Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode41

December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode41

•••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••
تم ہم سے شادی کرے گا کیا.”.
بادشاہ خان نے پوچها. ..وہ چلتے چلتے رک گئی. اس کی آنکھوں سے دو آنسو اتر آئے…..
“ہم تو مذاق کرتا ہے. .تم روتی کیوں ہے”….؟
” تم نے ایسا کیوں کیا. “؟اس نے روتے ہوئے اس کی آنکھوں میں دیکها….
ہم نے کیا کیا….؟
” تم نے میرے ساتھ ایسا کیوں کیا انوشیر.”…؟
وہ سانس نہیں لے سکا….
” کیا بولا تم ہم کو انوشیر کیوں بولا.”..؟ وہ شاکڈ تها..
” کیوں کہ میں بے وقوف نہیں ہوں. ..تمہیں کیا لگا نقلی مونچھ لگا کر اور یہ لمبا کرتا پہن کر تم مجهے بے وقوف بنا لو گے اور میں بن بهی جاؤں گی”. ….؟ وہ غصے سے بولی. ….
” اوہ”….وہ مسکرا دیا….
“مطلب اب تم نے مجھے پہچان لیا “…وہ اپنی مونچھ اتار رہا تھا. ….
” اب نہیں پہچانا پہلی بار تمہیں دیکھتے ہی پہچان لیا تھا. .تمہیں کیا لگا تها میں ہر دوسرے شخص کو اپنے ساتھ سیٹ میں بیٹهنے کی اجازت دوں گی اور ہر دوسرے مرد کے ہاتھوں میں اپنا ہاتھ دے دوں گی.” ..وہ غصے میں اس کی آنکھوں میں دیکھ رہی تھی. …
“تمہارا کیا ارادہ ہے…؟ آخر تم چاہتے کیا ہو…؟ اور کتنا تنگ کرو گے مجهے اور کتنے نام ہیں تمہارے ..تمہیں کس نام سے پکاروں….انوشیر رضا…روحل آفتاب یا بادشاہ خان”……..
“جو تم کو اچها لگے جان.”…وہ اس کے غصے کو نظر انداز کرتا شرارت سے بولا…..
“دفع ہو جاو یہاں سے. .میں تم سے کهبی بات نہیں کروں گی تمہیں معلوم ہے تمہاری وجہ سے مجھے کتنی تکلیف اٹھانی پڑی تھی. .”……
“تکلیف تمہیں میری وجہ سے نہیں اپنی حماقت کی وجہ سے اٹھانی پڑی ہے. .کیا ضرورت تهی سب کچھ چهوڑ کر آنے کی..’…وہ بھی اب سنجیدہ ہو چکا تها…
“تو کیا کرتی میں. …؟ کہاں جاتی…؟ اتنا بڑا دهوکہ کها کے. .”…اس کے آنسو نکل رہے تھے. ..
“میں نے تمہیں کوئی دهوکہ نہیں دیا..تم مجھے صفائی پیش کرنے کا موقع ہی نہیں دیا..یونہی سزا سنا کر چلی آئیں…ایسے کوئی کرتا ہے…تم کم از کم مجھے ایک موقع تو دیتیں. ….میں لنڈن صرف اس لئے آیا تھا کیونکہ میں آپ سے پیار کرتا تها….میں وہاں صرف آپ کے لیے ہی آیا تها… .اس دن جب آپ نے مجھ سے ملنے کے لیے کہا تو میں نے اپنے دوست کو بهیجا…میں جانتا تھا آپ مل کر اس رشتے کو توڑنے کی بات کریں گی …اس لئے میں سامنے نہیں آیا…اس دن میں بھی اسی پارک میں کهڑا تها درخت کے پیچھے آپ کی ساری باتیں سن رہا تھا. . جب آپ نے کہا آپ کسی اور سے پیار کرتی ہیں تو مجھے صدمہ لگا..میں ساری رات سو نہیں سکا…پهر میرے دل میں خیال آیا ہو سکتا ہے آپ جهوٹ بول رہی ہوں اور اسی بات کو جاننے میں لنڈن آیا تها.”………
” تا کہ آپ کے دل میں مجهے لے کر جو بھی غلط فہمی ہو وہ صاف ہو جائے اور میں ایک نئے انسان کے روپ میں آپ کے سامنے آوں…..اور وہ نکاح ایک اتفاق تها میرا کوئی پلان نہیں تها وہ صرف تقدیر کاتب کا فیصلہ تها ہم دونوں کو ملانے کے لئے.” …..
آیت بنا پلکیں جهپکائے اس کی آنکھوں میں دیکھ رہی تھی اسے پہلی بار محسوس ہوا وہ جهوٹ نہیں بول رہا….
” اور میں یہ بات آپ کو بتانا چاہتا تھا یاد ہے اس دن جهیل کے کنارے بیٹهے ہوئے میں نے آپ سے کہا تھا میں آپ کو ایک بات بتانا چاہتا ہوں لیکن آپ کے ایگزامز کے بعد. .تا کہ ایگزامز میں آپ کو کوئی ٹینشن نہ ہو…..اور آپ کو جس دن سچ پتا چلا آپ سب کچھ چهوڑ کر چلی آئیں…اس حد تک بدگمان تهیں مجھ سے. ..میں پاگلوں کی طرح ائیر پورٹ پر آپ کو ڈھونڈتا رہا…یونیورسٹی کے ایک کونے میں. …میں اس جهیل کے کنارے بھی گیا تھا اور الزبتھ ٹاور بھی. سب کچھ وہیں تها پورا یو کے وہیں تها ایک تم ہی نہیں تهیں…..میں اسی دن پاکستان آنا چاہتا تھا لیکن یہاں قسمت نے میرا ساتھ نہیں دیا…میں بائیک چلاتے ہوئے جا رہا تھا میری آنکھوں سے آنسو نکل رہے تھے میں کچھ دیکھ نہیں پایا اور ایک بس نے میری بائیک کو ٹکر مار دی. ..اور میں ساڑھے چار مہینے ہاسپٹل رہا…کیونکہ میں چل نہیں سکتا تھا. ..اس بیڈ پر پڑے ہوئے میں نے تمہیں کتنی بار یاد کیا کتنی بار تمہارا نام لیا….مجهے نہیں معلوم. ..لیکن تمہاری یاد سانس لینے کے ساتھ آتی تهی میرا دل چاہتا اڑ کر آپ کے پاس آوں اور آپ کو سب بتاؤں. .میں نے کل بھی آپ سے محبت کی اور آج بھی صرف آپ سے محبت کرتا ہوں آپ نے مجھے کل بھی غلط سمجها آپ مجهے آج بھی غلط سمجهتی ہیں. ….”…
وہ خاموش ہوا….آیت نے اسے اپنی نم آنکھیں صاف کرتے دیکها.. آخر وہ کتنی بار اس انسان کو پہچاننے میں دهوکہ کهائے گی…. اسے لگا تها وہ مظلوم ہے اور سامنے کهڑا شخص ظالم ہے. ..لیکن آج اسے معلوم ہوا وہ غلط تهی …اس شخص نے ایک معمولی سا سچ چهپایا جو وہ بتانا چاہتا تھا. …اور اس نے اسے اتنی بڑی سزا دی…اور آج جب وہ اس کے سامنے کهڑا تها تو وہ اس سے نگاہیں ملانے کے قابل بھی نہیں رہی تھی. …
انوشیر نے اس کا ہاتھ پکڑا……اور مسکرا کر اپنے پوروں سے اس کی آنکھیں صاف کیں…..
” ہم بہت روئے ہیں ایک دوسرے کے لیے اب اور نہیں. .اب ہم اپنے قیمتی آنسو ضائع نہیں کریں گے.” ..وہ اس کے ساتھ ساتھ چلنے لگا. ..آیت کے حلق سے جیسے کسی نے زبان کھینچ لی ہو. ..وہ کچھ بھی بول نہیں پا رہی تھی. .یہ شخص اسے کبھی بولنے کے قابل نہیں چهوڑتا تها وہ زندگی کے ہر قدم پر اسے غلط سمجهتی آئی لیکن آخر میں ہمیشہ وہی سہی نکلا…….
“میرا بے بی کیسا ہے. ..؟” اچانک انوشیر نے اس کے پیٹ پر ہاتھ لگایا….
” بالکل تماری طرح. ..پیٹ میں آتے ہی اس نے مجهے رلانا شروع کر دیا. “…..وہ مصنوعی خفگی سے بولی انوشیر مسکرا دیا….پہاڑوں کے درمیان اس خوبصورت نہر کے کنارے چلتے ہوئے ہم سفر کے ہاتھوں میں ہاتھ ڈال کر. ..کیا زندگی اس سے بھی بڑھ کر خوبصورت ہوتی ہے. ………
“ویسے تم یہاں کیا کرنے آئی ہو…”؟ اچانک انوشیر کو یاد آیا….
“”اس ڈھونگی بابا کا پردہ فاش کرنے..”…
“”کیا کرنے. ..”؟ انوشیر چلتے چلتے رکا تها…..
“وہ لوگوں کو گمراہ کر رہا ہے. .جہنم میں دھکیل رہا ہے …اور میں اس برائی کو ختم کرنے آئی ہوں..”..انوشیر نے ہونٹ بھینچ لیے…..
” تمہیں معلوم ہے ناں یہ سب مشکل ہے. .بلکہ ناممکن ہے. .اور تم اس طرح اپنا سب کچھ داو پر لگا کر کسی اور کی جنگ لڑنے آئی ہو….برائی تو ہر جگہ ہوتی ہے تم ایک کا پردہ فاش کرو گی تو ہزاروں اور پیدا ہو جائیں گے. ..”وہ اسے سمجھاتے ہوئے بولا…. .
“میں جانتی ہوں …لیکن کہیں پہ تو برائی ختم ہوگی کچھ غلط ہونے سے تو رک جائے گا ایسا ضروری نہیں ہم پوری دنیا سے برائی کو نکال کر پھینک دیں..ہم جو کر سکتے ہیں جتنا کر سکتے ہیں ہمیں اتنا کرنا چاہیے. .اگر ہم روزے نہیں رکھ سکتے تو اس کا مطلب یہ نہیں ہے ہمیں نماز بھی نہیں پڑهنی چاہیے. …ویسے بھی میں جتنا کر سکی کروں گی…..”…وہ پر عزم ہو کر بولی تهی……
” ارے واہ. .میری زوجہ محترمہ اتنی بہادر ہے اور مجھے کهبی معلوم ہی نہیں ہو سکا……
میں بہادر ہوں بس اللہ تعالیٰ نے اس برائی کو ختم کرنے کے لیے میرا انتخاب کیا ہے اور میں اپنے فرض سے پیچھے نہیں ہٹوں گی. “…
انوشیر دشوار راستوں پر اس کا ہاتھ پکڑ کر چل رہا تھا وہ اسے گرنے نہیں دے رہا تھا. ہمیشہ کی طرح. .
_ _ _ _ _ _ ___ ___ _ _ _ _ _ _ _ _ _ __
وہ سیڑهیاں ایک بار پھر اس کے سامنے تهیں..وہ پہاڑی جس پر چڑھ کر اسے اپنی منزل تک پہنچنا تها…اس نے اپنا پہلا قدم اوپر رکها. …راستہ دشوار تها لیکن دور نہیں تها…انوشیر بھی اس کے ساتھ تها……
قیامت جانے اور کتنی دور تهی وہ گناہ کی اس دلدل سے کتنی دور تهی. اس شخص سے کتنے فاصلے پر تهی جو زمین پر خدائی کا دعویٰ کر رہا تھا جو اتنا بڑا شرک کر رہا تھا اور لوگوں سے کروا رہا تھا. …وہ خود جہنم میں کهڑا تها اور ہزاروں مسلمانوں کو بھی اس گڑھے کی طرف کھینچ رہا تها………
وہ آہستہ آہستہ سیڑھیوں پر چڑھ رہی تھی. .لوگوں کا ایک میلہ تها آج کے دن…ہر طرف چھوٹے بڑے لوگ ہی لوگ نظر آئے اسے…پتهروں سے زیادہ انسان تهے وہاں. ………
[ دسمبر لوٹ آنا تم تحریر ناصر حسین]
وہ نہیں جانتی تھی اس نے کتنا بڑا رسک لیا ہے یا کیا ہونے والا ہے آگے لیکن وہ بنا کچھ سوچے سمجھے آگے بڑھ رہی تهی…….
یہی وہ وقت تها جب سوچ کو حقیقت میں بدلنا تها جب زمانے کے بادشاہوں کو بتانا تها اصل بادشاہ کون ہے …وہ پتهروں کی سیڑهیاں عبور کر چکی تهی…سامنے ایک کهلا میدان تها ایک بہت بڑا درخت اور اس درخت کے نیچے بیٹهے شخص کو دیکھ کر اسے اس پر ترس آنے لگا. ..وہ سبز کرتے میں ملبوس تها اس کے بال بکھرے ہوئے تھے بڑے بڑے سفید اور سیاہ بال…گلے میں موتیوں والے کئی ہار اس نے پہن رکهے تهے ان کے سامنے عقیدت مندوں کی ایک لائن لگی ہوئی تهی…وہ سیکڑوں نہیں ہزاروں کے حساب سے تهے….چاروں طرف ایک ہجوم تها….اس نے انوشیر کو آنکهوں ہی آنکهوں سے کچھ اشارہ کیا. ..انوشیر نے سر اثبات میں ہلا دیا. ..اور کیمرہ سنبھال کر کهڑا ہو گیا. .وہ بھی اس لمبی لائن کے آخر میں آ کر کهڑی ہو گئی جس کی رسائی اس ظالم انسان تک تهی جس کے سامنے سبهی سجدہ کر رہے تھے. ……..
انوشیر بابا جی کے پاس جا کر کهڑا ہو گیا کیمرہ اس کی شرٹ پر لگا ہوا تها تا کہ کسی کو نظر نہ آ سکے..اس کی ایک سہیلی میڈیا میں تهی اور اسی کی مدد لے کر وہ یہ کیمرہ لائی تهی جس سے ساری کوریج آن لائن لوگوں کو دکهائی جائے گی. …..
لائن آہستہ آہستہ آگے بڑھ رہی تھی. ..وہ بھی اسی حساب سے چل رہی تھی. ..اس نے سیاہ چادر کو اپنے چاروں طرف اوڑھ رکها تها صرف اس کا چہرہ نظر آ رہا تھا جو دھوپ کی روشنی میں چمک رہا تها……
رش اتنا زیادہ تها لوگ اتنے زیادہ تهے اس کی باری دو گهنٹے بعد آئی اور وہ دو گهنٹے اس لائن میں کھڑی رہی….وہ اب اس انسان کے سامنے کهڑی تهی…جو ہزار روپے فیس لے کر جہنم خرید رہا تها….جو ایک ادنیٰ سا انسان تها اور خدا سے مقابلہ کرنے نکلا تها..جو ایک نطفے سے پیدا کیا گیا تها جسے یہ نہیں پتا اس کے ساتھ کیا ہونے والا ہے وہ لوگوں کو ان کے باطن دکهاتا تها…………
وہ ان کے پاس بیٹھ گئی اور پرس سے ہزار روپے نکال کر ان کے ہاتھ میں رکھ دیا…..
” بول بچہ کیا مسئلہ ہے. ..؟” وہ پوچھ رہے تھے انوشیر اس کے پاس کهڑا تها…کیمرہ سنٹر پہ تها..یہ ساری وڈیو پاکستان ایک بہت بڑے نیوز چینل پہ دکهائی جا رہی تھی. ……
” بابا میں نے الٹرا ساؤنڈ کرایا ہے ڈاکٹر نے کہا .میرے پیٹ میں بیٹی ہے لیکن مجهے بیٹا چاہیے. ..”..اس نے جهوٹ بولا اسے لگا وہ بابا الجهے گا یا کچھ اور کہے گا مگر وہ چونکی جب انہوں نے کہا …….
“ہو جائے گا..”… (ہو جائے گا اتنی جلدی. ..)
“اور مجهے ایک شخص کو قتل کروانا ہے”. ..؟ اس نے رک کر بابا کے تاثرات دیکهے …..
“ہو جائے گا.اور کچھ” ..انہوں نے کہا…وہ آنکهیں بند کر کے تسبیح پڑھ رہے تهے.اسے افسوس ہوا…
“اور..اور..مجهے ابهی اسی وقت خانہ کعبہ کا دیدار کرنا ہے. .”…اس نے تیزی سے کہا…..
” ہو جا.”…..وہ کہتے کہتے رکا ….اس نے آنکھیں کھول کر اس لڑکی کو دیکھا. ..آیت کو لگا وہ تهوڑا گهبرا گیا ہے اور کچھ سوچ رہا ہے. …..
” لڑکی یہ نہیں ہو سکتا”. …؟
” کیوں نہیں ہو سکتا..”…
” اس کی فیس بہت زیادہ ہے”. …وہ زور سے بولے. ..
” کتنی. ..”.؟ وہ چونک گئے ….
“پچاس ہزار. “…وہ سوچ کر بولے…..
” میں دے دوں گی. …آپ مجهے دیدار کرا دیں “…وہ ضدی ہو کر بولی..اس بابا کے تاثرات بدل گئے…اس کے چہرے پہ حیرت کے ساتھ ساتھ غصہ آیا…..
“تم اس قابل نہیں ہو کہ خانہ کعبہ کا دیدار کر سکو. .تم بہت گناہگار ہو”…..وہ بولے….
” اس لئے تو دیدار کرنا چاہتی ہوں تا کہ میرے گناہ دهل جائیں بابا جی..اور کہیں پہ یہ تو نہیں لکها گنہگار انسان خانہ کعبہ نہیں جا سکتا یا نہیں دیکھ سکتا……”سبهی لوگ ان کی گفتگو سن رہے تهے…بابا نے ادهر ادهر لوگوں کو دیکها. .انہیں تهوڑی بے عزتی کا احساس ہوا…
” چلی جاو یہاں سے. …دوسروں کو آنے دو.”…وہ گرج دار آواز میں بولے …لیکن وہ ٹس سے مس نہیں ہوئی وہ ان کے سامنے بیٹهی ہوئی تهی…….
“قرآن پاک میں کتنی سورتیں ہیں. “…؟..اس نے سوالیہ نگاہوں سے بابا کو دیکھا. ..وہ چونک گئے..انہوں نے آس پاس دیکها سبهی ان کے جواب کے منتظر تھے لیکن وہ جواب تب دیتے جب انہیں خود معلوم ہوتا…
“اس میں اتنی سوچنے والی کیا بات ہے آپ کو تو جواب معلوم ہونا چاہیے ناں.؟ دوسرا کلمہ آتا ہے آپ کو”…؟
بابا خاموش تهے ان کے پاس کوئی جواب نہیں تها..لوگوں نے نگاہوں کا تبادلہ کیا…..بابا جی غصے میں تهے…….
“چلی جا لڑکی.”….وہ دهاڑے لیکن اس نے جیسے سنا ہی نہیں. ..
“دوسرا کلمہ سنائیں اس وقت پچیس کروڑ عوام آپ کے جواب کا منتظر ہے. ..آپ کی یہ لائیو کوریج پورا پاکستان دیکھ رہا ہے. “……
جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *