December Lout Ana Tum by Nasir Hussain NovelR50779 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode09
Rate this Novel
December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode01 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode02 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode03 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode04 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode05 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode06 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode07 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode08 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode09 (Watching)December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode10 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode11 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode12 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode13 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode14 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode15 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode16 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode17 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode18 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode19 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode20 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode21 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode22 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode23 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode24 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode25 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode26 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode27 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode28 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode29 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode30 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode31 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode32 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode33 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode34 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode35 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode36 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode37 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode38 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode39 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode40 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode41 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode42 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode43 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode44 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode45 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Last Episode
December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode09
December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode09
•••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••
وہ کینٹین ڈهونڈ رہی تهی____
سفید اینٹوں والے راستے پہ وہ چلتی جا رہی تهی جن کے آس پاس خوبصورت پهول والے گملے لگے ہوئے تھے ایک بار اس کا دل چاہا کوئی پهول توڑ لے مگر اس کے بدلے اس کی ٹانگیں توڑ دی جاتیں…..
اچانک سامنے درخت کے پاس اسے ایک لڑکا دکهائی دیا وہ اکیلا تها اور مصروف بھی نہیں تها..ایک بازو درخت پر ٹکائے وہ دوسری طرف دیکھ رہا تھا سیاہ شرٹ اور سیاہ لیدر کی جیکٹ اس نے پہن رکهی تهی…وہ کافی دراز قد تها .. …
وہ اس کے پاس آئی…….
“ایکسکیوزمی. .”..وہ لڑکا چونک کر پلٹا اور اسے دیکھ کر وہ واحد لڑکا تھا جو حیران نظر آ رہا تها. ..
اس کے بال اتنے بڑے نہیں تهے. .وہ کلین شیو کرتا تها مگر اس وقت چہرے پہ تهوڑی داڑھی نظر آ رہی تهی آنکهیں بهی اس کی تهوڑی مختلف تهیں…اس نے ہاتھ پہ ایک خوبصورت بلیک گهڑی باندھ رکهی تهی ..آستین فولڈ کر رکهے تهے اس نے . گڈ لکنگ تها ..چہرے سے ہی وہ کافی سنجیدہ اور روکهے مزاج کا لگ رہا تها. ……..
یس…….وہ مدهم آواز میں بولا…اور وہ اس کے نقوش کا جائزہ لے کر فارغ ہو چکی تهی. …..
” Can you tell me about Canteen….?”
( کیا آپ مجهے کینٹین کے بارے میں بتا سکتے ہیں )
اس سوال پہ وہ رٹا لگا چکی تهی اس شخص نے تیکھی نظروں سے اسے دیکها……
“سوری آئی ڈونٹ نو….”..اس نے اتنے ہی روکهے پن سے جواب دیا جتنا روکها اس کا چہرہ تها…..اب کی بار اس کا غصہ آسمان کو چهو چکا تها. …
( بد اخلاقی بے مروتی تو کوئی ان انگریزوں سے سیکهے ..کسی کی مدد کرنا تو گناہ سمجهتے ہیں..)
“اچها بهاڑ میں جاو….”..وہ اردو میں کہتے ہی پیر پٹخ کر پلٹی……
“کیا کہا آپ نے ….”؟ اور سامنے والا منظر تحلیل ہو گیا وہ مگر مچھ کی طرح منہ کهولے ایڑی کے بل گهومی. ..ایک سکینڈ کے لیے بھی اس نے نہیں سوچا تھا سامنے کهڑا شخص پاکستانی ہو سکتا ہے. …اور اب جب اسے معلوم ہوا تو گهڑوں پانی کو نہیں پورے سمندر کو اپنے اوپر محسوس کر رہی تهی. …….
کسی نے ﺍﯾﻠﺰﺑﺘﮫ کی ٹاور اس کے اوپر گرا دی ہو….وہ شخص خفگی سے اسے گهورتا ہوا جانے کے لیے مڑا…اور وہ وہیں جم گئی…افسوس اور شرمندگی اپنی جگہ لیکن انگلینڈ جیسے ملک میں اپنے کسی پاکستانی کو دیکھ کر محسوس ہونے والی خوشی اپنی جگہ تهی…اس اجنبی ملک میں کوئی سایا دار شجر اس کے ہاتھ آیا تو وہ اسے یوں کیسے جانے دے سکتی تهی. .وہ بهاگتی ہوئی اس کے پیچھے گئی اور اس کے برابر چلنے کی ناکام کوشش کرنے لگی. ..وہ آگے دیکهتا ہوا بڑی سنجیدگی سے چلتا جا رہا تها. ..
“سنیں..سنیں…سنیں ….سنیں …..پلیز. ….”.
اس نے حواس باختہ سی ہو کر اسے آواز مگر وہ رکا نہیں. ….
“آپ پاکستانی ہیں…؟”اس کی سنجیدگی کے باوجود وہ خود کو بات کرنے سے روک نہیں پا رہی تهی. …
“نہیں. .”..ایک لفظی جواب دیا گیا اسے تھوڑا حوصلہ ملا…
“تو آپ کو اردو کیسے آتی ہے. “…؟ یہ کوئی احمقانہ سوال تها جس سے سامنے والے شخص نے اسے گهورنا مناسب سمجها مگر رکنے کا وقت نہیں تها اس کے پاس شاید. …
“کیوں اردو صرف پاکستانیوں کو ہی آتی ہے.’ …؟ چہرہ بے تاثر تها…….
“تو آپ کہاں سے ہیں…”.؟ وہ اس کے برابر چلنے کی کوشش کر رہی تهی. .اور اس کوشش میں وہ کافی تهک گئی. …..
“انڈیا…..”. وہی ایک لفظی جواب…..
“کیا آپ مسلمان ہیں. …”؟ وہ سوالات کا سلسلہ ختم نہیں کرنا چاہتی تهی خواہ مخواہ ہی گفتگو کو طول دیے جا رہی تهی. …
“الحمدللہ.” …..
“یہاں کیا کر رہے ہیں. “..؟ پهر سے بے تکا سوال…وہ اتنی خوش تهی کہ اس کے منہ سے بے ربط جملے نکل رہے تھے. …..
“جو آپ کرنے آئی ہیں. .”.؟ وہ یقیناً اس احمق لڑکی کے سوالوں سے زچ ہو چکا تها…….
” آپ اتنا تیز تیز کیوں چل رہے ہیں میں تهک گئی ہوں”.
؟ وہ واقعی تهک چکی تهی ..سامنے والے نے پهر سے مخاطب کو گهور کر دیکها. .جیسے وہ یہاں چہل قدمی کے لیے آئے ہوں. ..اس نے کوئی جواب نہیں دیا. …
“یہ لندن والے اتنے بد اخلاق کیوں ہوتے ہیں. ..”.؟ ایک اور سوال پوچها گیا….
“مصروف ہوتے ہیں. .”.اس نے تصیح کی. ..
“اچها یہ کینٹین کہاں ہے.”؟..اصل سوال اس نے سب سے آخر میں پوچها. ….
“اسی یونیورسٹی میں…”…..اس کا مزاج کافی روکها تها….لیکن وہ اس کے انداز پہ کہاں غور کر رہی تهی.
زیادہ دور ہے کیا. …؟
“پتا نہیں. …”.
“وہاں سے کچھ کهانے کے لیے تو مل جائے گا ناں. “..؟. .اس کا بهوک کے مارے برا حال تها……
” ظاہر ہے… کینٹین کا مطلب کیا ہے. .”؟ وہ عاجز نظر آ رہا تها. ….
“وہاں بسکٹ وغیرہ تو ہوں گے ..”…؟
” شاید. …’.وہ اس کی طرف دیکهے بغیر جواب دیتا جا رہا تها. …
” اور اگر کینٹین بند ہوا تو..”..؟ اسے تشویش ہوئی. ..
” تو میں کیا کر سکتا ہوں..”..جانے وہ اور کتنے سوال پوچهنے والی تهی……
اس نے آسمان کی طرف دیکھ کر دعا کی. .اگر آج کینٹین بند ہوا تو وہ ضرور مر جائے گی. …
“آپ پلیز مجهے کینٹین کا پتا بتائیں.” …دو منٹ خاموشی کے بعد اس نے ایک بار پھر بات شروع کی. …”ہم اسی طرف جا رہے ہیں. “…اس نے چبا چبا کر الفاظ ادا کیے. ….
[ دسمبر لوٹ آنا تم تحریر ناصر حسین]
“کس طرف. .”.وہ بے دھیانی سے بولی. ..جبکہ اس کا چہرہ سرخ پڑ گیا. .اور وہ اس گفتگو میں پہلی بار رک کر اس لڑکی کی طرف دیکهنے لگا…جو کافی گھبرائی ہوئی سی معلوم ہو رہی تهی. …..
” کینٹین کی طرف. ‘”. .اب آپ نے کوئی سوال نہیں کرنا…آئی بات سمجھ میں. “….وہ زرا اونچی آواز میں بولا اور آیت نے خاموشی میں ہی بهلائی جانی….اور چپ چاپ اس کے پیچھے پیچھے چلنے لگی…. حالانکہ وہ اس سے کئی اور سوالات پوچهنا چاہ رہی تھی مگر وہ بھی شاید انگریزوں کے ساتھ رہ رہ کر ان کے جیسا بد اخلاق ہو گیا….دو منٹ بعد وہ رک گیا اسے بھی رکنا پڑا. ….
“وہ ہے کینٹین. “…؟ اس نے انگلی کے ذریعے سامنے اشارہ کیا. ..جہاں کافی رش تھا بہت سارے لوگ تهے…وہ تو دیکھ کر ہی گهبرا گئی….
” اوکے تهینکس”……..
اس لڑکے نے غور سے اسے دیکھ جب وہ کینٹین کی طرف جانے لگی تبهی اس نے پیچھے سے آواز دی. ..
” رکیں .”….اس نے گردن گهما کر پیچھے دیکها. .
“بتائیں کیا کیا لانا ہے…میں لا دیتا ہوں. .. وہاں کافی لڑکے کهڑے ہیں…”
وہ ازلی سنجیدگی سے بولا…..
“شکر ہے کچھ تو اس میں پاکستانیوں جیسا تها..”.اس نے اپنی فرمائش بتائی اور وہیں اینٹوں والے راستے سے ہٹ کر گهاس والے پلاٹ میں آ کر بیٹھ گئی. .پانچ منٹ بعد جب وہ واپس آیا تو اس کے ہاتهوں میں برگر کے ساتھ ساتھ کوک کی کین بهی تهی…..
وہ کهڑی ہو گئی. ..اس نے مطلوبہ چیزیں اس کی طرف بڑهائیں اور جانے کے لیے مڑا.وہ برگر پا کر اتنی خوش تهی کہ اس سے پیسوں کا بھی نہیں پوچها….برگر بند پیکنگ میں تها اس نے غور سے پیکٹ کو الٹ پلٹ کر دیکها اور زور دار چیخ مار کر اس پیکٹ کو دور پهینک دیا. …زور زور سے چلتا ہوا وہ شخص جاتے جاتے مڑا…اور آس پاس کچھ لوگوں نے بھی رک کر اسے دیکها…..
وہ تشویش سے اسے دیکهتے ہوئے اس کے پاس آیا…وہ اسے نہیں منہ کهولے نیچے پڑے پیکٹ کو دیکھ رہی تھی. …..
“What Happened. ..?”
وہ اس کے پاس آ چکا تھا. ….
“یہ…یہ….اس پیکٹ کے اوپر گدهے کی تصویر ہے.” …اس نے پیکٹ کو دیکها. ..اور غصے سے سر جهٹکا وہ جانے کیا کیا سوچ رہا تها. …..
” تو….”؟
” گدهے کا گوشت تو حرام ہے ناں..”؟ وہ اداسی سے بولی …
“تو آپ سے کس نے کہا آپ گدهے کا گوشت کهاو..”.وہ ضبط کے سارے ریکارڈ توڑتے ہوئے بولا…..
“اس برگر میں گدهے کا گوشت ہے ناں.”…؟ وہ تقریباً رو دینے کو تهی…..
“اف کیا مصیبت ہے یہ لڑکی اسے پاگل کر دے گی.” .
“وہ صرف لوگو بنا ہوا ہے …اس برگر میں گوشت ہے ہی نہیں. …”.جانے وہ اس کم مغز لڑکی کو کیا سمجهانے کی کوشش کر رہا تها. ……
“نہیں میں پهر بھی اسے نہیں کها سکتی. ..آپ پلیز اسے چینج کر آئیں..”…اس نے پیکٹ اٹها کر اس کی طرف بڑهایا ..وہ بادل نخواستہ پیکٹ پکڑنے پر مجبور ہو گیا…اس نے یقیناً اس لمحے کو کوسا ہوگا جب اس نے اس لڑکی سے بات کی..پیکٹ پکڑ کر وہ ایک بار پھر سے کینٹین کی طرف گیا…آج کا دن اس کا خراب گزرنے والا تھا. ……
واپس آلو کے چپس اسے تھماتے ہوئے جب وہ مڑا تو ایک بار اس لڑکی نے اسے آواز دی. ..اس نے ” اب کیا ہوا ” والی نظروں سے اسے دیکها. …….
“تهینکس. …کتنے پیسے ہیں. ..”اس نے گہری سانس خارج کی. …..
‘ اٹس اوکے.” ……
” نہیں پلیز لے لیں. “…اس نے اصرار کیا. ….
” میں لڑکیوں سے پیسے نہیں لیتا..'”.
..کہہ کر وہ پهر سے مڑا تب آیت کو یاد آیا اس نے چپس کهانے کی تو آفر ہی نہیں کی اسے….
” کهائیں گے آپ..”…اس نے غصے سے مٹهیاں بهینچ لیں ..اور آیت نے بے اختیار اپنا نچلا ہونٹ دانتوں تلے دبایا…
” چپس. .”…وہ ڈرتے ہوئے بولی تهی اور اس نے پہلی بار اس انگریز نما انڈین لڑکے کو مسکراتے ہوئے دیکها…مسکراتے ہوئے وہ طوفان برپا کرنے کی صلاحیت رکھتا تھا……
” تهینکس بٹ میرا روزہ ہے.”.
“روزہ. “…؟ یہ کس مہینے کا روزہ تها…؟وہ حیران تهی…وہ پهر سے جانے لگا….
لیکن اسے ایک بار پھر سے رکنا پڑا کیونکہ اس لڑکی نے پهر سے اسے ” سنیں ” کہہ کر روک دیا……
“جی”……آج اس کا تحمل ریکارڈ توڑ دیتا. ….
” تهینکس.” …اور اسے وہ لڑکی پاگل لگی تهی….
” جتنی بار تهینکس بولنا ہیں بول دیں میں یہیں کهڑا ہوں ..لیکن اگر مڑنے کے بعد آپ نے آواز دی تو اچها نہیں ہوگا…..”.وہ انگلی سے اسے وارن کرتا ہوا بولا ..
“نہیں یہ آخری بار تها. .”…وہ خجل سی ہوتے ہوئے بولی…
“ویسے آپ کو ایک بات بتاؤں. “…؟ اس نے غصے سے اس شخص کو دیکھا. ….
” آپ نہایت سڑیل ، کهڑوس قسم کے انسان ہیں..انگریزوں کے ساتھ رہ رہ کر آپ ان کے جیسے ہو گئے ہیں. .اور آئندہ اگر میں مر بھی جاؤں گی ناں تب بھی آپ سے مدد نہیں لوں گی.”….غصے سے کہتی وہ پلٹی اور بنا پیچھے دیکهے آگے بڑهی جبکہ وہ وہیں برف بن گیا……
دل ہی دل میں اسے کوستی وہ دور نکل آئی. ..وہ کب سے اس کی بد اخلاقی کو برداشت کر رہی تهی لیکن آخر میں کام ہو جانے کے بعد اس نے مکمل بهڑاس نکال لی……اس نے سوچا وہ اس سے کهبی نہیں ملے گی لیکن اس بار اس کی سوچ غلط تهی…..
_ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _
“کیسی ہیں آپ امی” __
“میں بالکل ٹھیک”___
” میرا لنڈن بھی ایک دم زبردست ہے”____
اس نے چپس کو دانتوں سے کترتے ہوئے کہا اور کوک کی کین ہونٹوں سے لگایا…دن کا وقت تها وہ کمرے میں بیٹهی تهی باہر سٹوڈنٹس کا کافی شور تها. .آج وہ مما کو کال کرنے کا ارادہ کیے ہوئے تهی مگر انہوں نے اس سے پہلے ہی کال کیا….اور لندن جانے کر بهول جانے والا شکوہ کیا جو اکثر پاکستانی بیرون ملک جانے والوں سے کرتے ہیں اب وہ انہیں کیا بتاتی یہاں اتنے بڑے ملک میں انسان اپنے کو بھی بهول جائے …
اچانک دهڑام سے دروازہ کھول کر کوئی اندر داخل ہوا. .کوک اس کے حلق میں ہی اٹک گئی وہ بری طرح کھانستی کهڑی ہوئی. …..
” او….او….اوکے مما میں آپ سے بعد میں بات کرتی ہوں .”…کہہ کر اس نے فون کٹ کر دیا اور سامنے کهڑے اس ہاتھی نما انسان کو دیکهنے لگی جو کسی بھی اینگل سے انسان نہیں لگتا تها اس سیاہ فام نے تو کہا تها افریقن لڑکا رہتا ہے مگر یہ تو انڈونیشیا کے گینڈوں جیسا تها….اف حد سے زیادہ کالا ، بڑے بڑے ہونٹ باہر نکلا ہوا پیٹ…..پاکستان میں ہوتا تو پاکستانی اسے آدم خور کا لقب ضرور دیتے……
وہ ڈرتے ہوئے کهڑی ہو گئی…وہ بھی مسکراتے ہوئے اسے دیکھ رہا تھا. …اس نے فوراً زور سے آنکهیں میچ کر دعا کی کاش یہ کہیں غائب ہو جائے مگر آنکهیں کهولنے پر اسے احساس ہوا اس کی دعا قبول نہیں ہوئی. ….
” ہائے سویٹ ہارٹ…”.وہ شاید مصافحے کے لیے یا گلے ملنے کے لیے آگے بڑها مگر اس نے سوئچ بورڈ سے لگا چارجز کهینچ کر اس کے منہ پہ دے مارا…اور چیخ مار کر بهاگتی ہوئی باہر نکلی…….
” جل تو جلال تو آئی بلا کو ٹال تو…”کا ورد کرتی وہ تین تین اسٹیپس ایک ساتھ پهلانگتی نیچے پہنچی. ..وہ کیا تها ہاتهی جیسا انسان یا انسان جیسی ہاتهی..اف کتنا بهیانک تها. ..اب وہ کیا کرے. …وہ اس کے ساتھ کهبی بهی اپنا روم شئر نہیں کر سکتی یہ نا ممکن تها…لیکن اب تو کوئی اور راستہ بھی نہیں تها. ….
وہ رونے کو تیار کهڑی تهی آنسو کا بند کهبی بهی ٹوٹ سکتا تها لیکن وہ بہ مشکل ضبط کیے کهڑی تهی. .پرنسپل سے بات کرنے کا وہ سوچ بھی نہیں سکتی تهی رات والے واقع کے بعد ایک نئی فضول بات سن کر وہ تو اسے احمق سمجهیں گے. ..اور یہ بھی ہو سکتا ہے وہ اسے ایڈمیشن ہی نہ دیں…
” نہیں. ..نہیں. “…لیکن وہ اس کالے گینڈے کے ساتھ بھی نہیں رہ سکتی…بے بسی سے وہ آسمان کی طرف دیکهنے لگی یہاں تو وہ کسی کو جانتی بھی نہیں تهی جس سے مدد لیتی یا کچھ انفارمیشن….
اف یہ لندن جانے اور کتنے امتحان لے گی..ہر جگہ لڑکوں اور لڑکیوں کے گروپ کهڑے نظر آ رہے تهے وہ بے دھیانی سے چلتی ہوئی آگے بڑھ رہی تهی. .جانے کہاں جا رہی تهی. ….
تب اسے وہ مسلمان لڑکا یاد آیا جس سے وہ کچھ دیر پہلے ملی تھی لیکن وہ …وہ اب اسے کہاں ملے گا اور اس کے ساتھ تو وہ خود ہی بدتمیزی کر کے آئی تهی کیا معلوم تھا جو اگلے کچھ ہی گهنٹوں میں اسے اس لڑکے کی ضرورت پهر سے پڑنے والی ہے. ..
ٹهیک ہے وہ اس سے اپنی بدتمیزی کے لیے معافی مانگ لے گی لیکن اب وہ ملے گا کہاں یہ کوئی پچاس گز کا سکول نہیں تها لندن کی بڑی یونیورسٹی…جہاں انسان چیونٹیوں کی طرح نظر آ رہے تهے وہاں ایک مخصوص لڑکے کو ڈهونڈنا مشکل نہیں نا ممکن تھا. اور اوپر سے وہ اس کا نام تک بھی نہیں جانتی تھی کاش اس وقت وہ اس سے اس کا نام پوچھ لیتی یا اس سے نمبر ہی لے لیتی….وہ جتنا بھی غصے والا سیڑیل کیوں نہ ہوتا تها تو ایک مسلمان ناں…؟ اس کا ہم مذہب وہ کچھ نہ کچھ تو ضرور کرتا…….
کتنا غیرت مند نظر آ رہا تها وہ .اس نے تو اسے کینٹین جانے سے بھی یہ کہہ کر منع کر دیا کہ وہاں لڑکے کهڑے ہیں تو اس معاملے میں بھی وہ اس کی مدد ضرور کرتا…
وہ احمقوں کی طرح ادهر ادهر دیکهتی واپس صبح والے راستے پر جا رہی تهی جانتی تھی یہ حماقت کے سوا کچھ نہیں مگر ایک بار دیکھنے میں حرج بھی تو نہیں تها. …وہ اسی درخت کے پاس چلی آئی جس کے پاس وہ بازو ٹکائے کهڑا تها مگر اب وہ درخت اس کا منہ چڑا رہا تها. …
سورج سر پہ آ چکا تھا…دسمبر کے باوجود بھی دهوپ میں ہلکی سی تپش ضرور تهی جو اسے اس وقت محسوس نہیں ہو رہی تهی. ..کچھ چلتے ہوئے وہ مزید آگے آئی جہاں صبح اس نے چپس لے کر دیا تها. .وہ جگہ بھی وہی تها وہ گهاس صرف وہی نہیں تها…جانے کہاں تها ……..
[ دسمبر لوٹ آنا تم تحریر ناصر حسین]
وہ اسے ہر جگہ ڈهونڈ رہی تهی یونیورسٹی کے کونے کونے میں. ..اور ایک بار اس نے حماقت کی انتہا کرتے ہوئے ایک لڑکی سے جا کر پوچها صبح یہاں جو لیدر کی جیکٹ والا لڑکا کهڑا تها اس کا نام معلوم ہے آپ کو…
اس لڑکی نے جواب تو کیا دینا تها وہ اسے ملامت بهری نگاہوں سے دیکهتی ہوئی وہاں سے چلی گئی. ..
وہ افسردہ چہرہ لیے واپس ہوسٹل کی سیڑهیوں تک آئی لیکن سیڑهیوں پر موجود اس لڑکے کو دیکھ کر وہ ٹهٹک کر رک گئی. ..چٹکی کاٹ کر دیکها وہ وہی تها آنکهیں مسل کر دیکها ہاں وہ واقعی وہی تها….
وہ آس پاس سے بے نیاز کسی سے فون پہ بات کر رہا تها…وہ دوڑتی ہوئی اس کے پاس گئی…..
” یہاں کیا کر رہے ہیں آپ..”؟جاتے ہی اس کی بے ربطگی شروع ہو گئی …اس نے چونک کر اسے دیکها پهر آیت نے اس کی آنکھوں کو بڑا ہوتے ہوئے دیکها…وہ بهول چکی تهی صبح اس نے کتنی بدتمیزی کی مگر یہ بات وہ بهی بهول چکا ہو ایسا ضروری نہیں تها…..
“آئی ول کال یو لیٹر. …”اس نے فون کانوں سے ہٹایا اور کهڑا ہو گیا. ..
“تو مجهے کہاں ہونا چاہیے تها. “..؟ اب وہ پوری طرح اس کی طرف متوجہ تها…..
“نہیں مطلب میں آپ کو کب سے ڈهونڈ رہی تهی.” …اس سے بات نہیں بن پائی….
“اور آپ مجهے کیوں ڈهونڈ رہی تهیں.”.. وہ ہاتھ سینے پہ باندھ کر پوچهنے لگا. …
“وہ …وہ…مجهے آپ کی مدد چاہیے تهی..”…اس نے جهجکتے ہوئے کہا…..
“اور آپ کو ایسا کیوں لگا میں آپ کی مدد کروں گا.”..اگر وہ غصہ تها بھی تب بھی اس کی باتوں سے ظاہر نہیں ہو رہا تها. ..چہرے پہ دنیا بهر کی سنجیدگی سجائے وہ بڑی رکھائی سے بات کر رہا تها…
“کیونکہ آپ نے صبح میری مدد کی تھی. .”…
” وہ میری سب سے بڑی غلطی تهی..”…
وہ جانے کے لیے مڑا اور وہ اس کے پیچھے ایسے بهاگی جیسے کوئی ہاتھ آیا خزانہ اس سے دور جا رہا ہو…..
” تو ایک بار پھر سے وہی غلطی کریں…”.وہ معصومیت کی انتہا کو پہنچ چکی تھی. …
” میں ایک غلطی بار بار نہیں کرتا”….ضبط.. ضبط… ضبط. اس وقت وہ روزے کے ساتھ یہی کر رہا تها…
مجهے آپ کی تهوڑی ہیلپ چاہیے ….وہ اس کے برابر چلنے کی کوشش کر رہی تهی….
” لیکن مجهے آپ کی ہیلپ کرنے میں کوئی دلچسپی نہیں ہے” …..وہ کون سی بات کہاں جتا رہا تها…..
جاری ہے
