Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode23

December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode23

•••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••
گڑیا روہاب کا دیا ہوا خط لیے اندر داخل ہوئی لیکن بد قسمتی سے وہ خط چوہدری افضل کے ہاتھ لگا …وہ غصے سے جنت کو مارنے کے لیے آگے بڑهے……
دادی روتے ہوئے ان کے قدموں میں گر گئی…اور اپنے بیٹے سے بیٹی کی زندگی بهیک میں مانگنے لگی….لیکن اس پر جنون سوار تھا …آج کی رات وہ کم از کم کسی کی نہیں سننے والا تها…انہوں نے دادی کو گهیسٹ کر خود سے الگ کیا اور انہیں زبردستی کهینچتے ہوئے کمرے میں لے جانے لگا. …دادی کو کمرے میں دهکا دے کر انہوں نے دروازہ باہر سے بند کر دیا….جنت سجدے میں تهی . .اس سب تماشے سے لاتعلق. ….
پهر گڑیا نے انہیں غصے سے اماں کی طرف آتے دیکها. .انہوں نے اماں کو بازوؤں سے پکڑا…اماں روتے ہوئے ان سے رحم مانگ رہی تهیں…پهر اماں نے زور سے ان کے قدم جکڑ لیے تا کہ انہیں جنت تک جانے سے روک سکے……جنت ابهی بهی نماز پڑھ رہی تھی وہ بچے ڈرے ہوئے ایک طرف کهڑے تهے…..
” خدا کے لیے اتنا بڑا ظلم مت کریں.”..
” بے غیرت عورت میرے پاوں چهوڑو”……
“جنت اٹهو بهاگ جاو یہاں سے.” …انہوں نے جنت کو آواز دی…دادی گرل والی کھڑکیوں سے باہر کا منظر روتے ہوئے دیکھ رہی تهیں….
” جنت بیٹا…نماز چهوڑو اور بهاگ جاو..”…دادی نے زور سے چلا کر جنت کو کہا..لیکن جنت نے جیسے سنا ہی نہیں وہ ابهی تک نماز پڑھ رہی تھی. .چہرے پہ ہمیشہ والا سکون تها…چوہدری صاحب اپنے قدم چھڑانے کی کوشش کر رہے تھے. ….چاند دور آسمان پر کهڑا ہو کر بے بسی کا یہ تماشا دیکھ رہی تها …آج بنا طوفان کے بجلی گرنے والی تهی. . …
“جنت اللہ کے واسطے نماز توڑ ڈالو اور بهاگو یہاں سے. .اپنی زندگی بچاو”…..دادی نے کہا تها. .لیکن جنت نماز توڑنے والوں میں سے ہرگز نہیں تهی وہ اللہ سے محبت نہیں عشق کرتی تهی ایسے میں اللہ کی نافرمانی کرنے کے بارے میں وہ سوچ بھی نہیں سکتی…..چوہدری نے اماں کو بالوں سے پکڑ کر اوپر کهینچا اور گهیسٹ کر انہیں بھی اس کمرے میں بند کر دیا. …وہ بھی بهاگ کر گرل والی کهڑکی پہ آئیں…پهر چوہدری صاحب نے بچوں کو اندر جانے کو کہا…وہ بیچارے تو پہلے ہی ڈرے ہوئے تھے بهاگ کر اندر چلے گئے چوہدری نے دروازے کو باہر تالا لگا دیا……
گڑیا کو لگا قیامت ابهی آئی نہیں تهی وہ تو قیامت کا ایک چهوٹا سا منظر تها اصل قیامت تو اب آنا تها…موت کا کهیل رام اور مدهو کی زندگی نگل کر ختم نہیں ہوا…موت نے تو گڑیا کا در ہی دیکھ لیا…….
دادی، اماں عروج اور گڑیا کی زور دار چیخیں گونج رہی تهیں وہ کهڑکی سے باہر کا منظر اچهی طرح دیکھ سکتے تھے. …وہ سب کچھ برباد ہوتے ہوئے دیکھ رہے تھے. …چوہدری نے آگے بڑھ کر سجدے میں گری جنت کو ایک زور دار لات ماری اور پٹرول کی کین اٹها کر اس پر پهینکنے لگا. ….
“افضل رحم کر. ..تجهے اللہ کا واسطہ ایسا مت کر. .خدا سے ڈرو..”…اماں اور دادی اس سے التجائیں کر رہی تهیں….گڑیا کی آنکھوں سے آنسو تهم نہیں رہے تهے…جنت بوا کیا ساتھ کیا ہونے والا تها .یہ رات اس سے کیا چھیننا چاہتا تھا. …چوہدری نے جنت کے پورے جسم پر پٹرول چهڑک دی ..وہ سجدے سے اٹھ کر اتا حیات پڑھ رہی تھی. ..اس نے نماز نہیں توڑا…..چوہدری نے ماچس اٹهائی …گڑیا زور زور سے چیخنے چلانے لگی .پورا گهر چیخ رہا تھا. ..وہ یہ بهیانک منظر کهلی آنکهوں سے دیکھ رہے تھے …..
” حرام خور ہمارے سامنے پارسا ہونے کا ڈرامہ کرتی ہے” ..انہوں نے ماچس جلا کر جنت کے اوپر پهینک دی..وہ نماز مکمل کر چکی تهی. ..اس کا پورا جسم شعلوں کی لپیٹ میں تها…ہر طرف آگ ہی آگ تها…..
دادی اور گڑیا کی چیخیں دلخراش تهیں سب کچھ ان کے سامنے برباد ہو رہا تها اور وہ کچھ نہیں کر پا رہے تهے ایسے ظلم پر تو آج آسمان بھی کانپ رہا تھا. …..
چاند فوراً بادلوں کے پیچھے چهپ گیا وہ یہ خوفناک منظر نہیں دیکھ پا رہا تها وہ انسانوں کے ظلم نہیں دیکھ پا رہا تها گڑیا نے اپنی آنکهیں میچ لیں وہ سب کچھ کهلی آنکهوں سے دیکهنے کی طاقت نہیں رکهتی تهی. …تین منٹ بعد سب کچھ ختم ہو چکا…حوا کی ایک اور بیٹی غیرت کے نام پر قتل ہو چکی تهی. اگر آدم کے بیٹے بھی یوں غیرت کے نام پر قتل ہونے لگے ناں تو یہ دنیا دوسرے دن ہی ختم ہو جائے گی..گڑیا نے آنکهوں کو کهولا اس نے دادی کی طرف دیکها جو تڑپ رہی تهیں اماں بھی رو رہی تهیں عروج کی آنکھوں میں بھی آنسو تهے پهر اس نے کهڑکی سے باہر دیکها . ساری آوازیں آنا بند ہو گئیں خاموشی تهی دلوں کو چیر دینے والی خاموش. ..وہ برف بن گئی اسے لگا اب وہ کهبی پهگل نہیں سکے گی وہ کهبی ہل نہیں سکے گی … اسے پوری دنیا سناٹے میں اترتا محسوس ہوا. .سامنے جنت چوہدری کی بے جان لاش پڑی ہوئی تھی سب ختم ہو گیا. .سب کچھ……
اس دسمبر نے تو اس سے سب کچھ چهین لیا. ..اب زندگی پهر اس علاقے کی طرف واپس نہیں آنی تهی…دو آنسو کے قطرے گالوں سے لڑهک کر گریبان تک آئے…..جنت کی جهلسی ہوئی لاش دیکھ کر اس کے کانوں میں اسی کے کہے کچھ الفاظ گونجے….
” اللہ معاف کر دیتا ہے انسان ہی معاف نہیں کرتے. ..اللہ انسان کی بڑی سے بڑی کوتاہی بھی دور کر دیتا ہے اور انسان ایک چهوٹی سی غلطی پر دوسرے انسان کو جہنم میں پهینک دیتے ہیں.” ……
_ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _
آیت لنڈن کی سرزمین پر تهی __ اس وقت اندهیری رات کو وہ اٹھ کر کهڑکی تک آئی اس نے کهڑکی کهولا__
کهڑکی کهلتے ہی ٹهنڈی ہوا کا جھونکا اس کے وجود سے ٹکرایا…چاندنی رات تهی اور چاند کی دھیمی دھیمی روشنی زمین پر پڑ رہی تهی. …چاند ہمیشہ کی طرح سب سے منفرد تها ہمیشہ کی طرح ہزاروں ستاروں کے درمیان سر اٹهائے کهڑا نظر آ رہا تھا. ……
کیسے ہو. …اس نے چاند سے پوچها…چاند سے باتیں کرنے کی عادت اسے ہمیشہ سے تهی..اسے لگتا تھا ہم جو باتیں کرتے ہیں چاند سنتا ہے. ……..
“تم جواب کیوں نہیں دیتے ..”؟ اس نے چاند کو خاموش دیکھ کر پوچها …وہ اب بھی ویسے ہی خاموش رہا….
پتا نہیں اسے اس وقت انوشیر کیسے یاد آ گیا…چاند کے سامنے ایک بادل کا ٹکڑا آ گیا اور وہ مکمل طور پر چهپ گیا…
“اوکے چهپو مجهے بهی تم سے بات کرنے کا کوئی شوق نہیں ہے. .”…اس نے زور سے کهڑکی بند کر دی..کافی ٹهنڈی ہو چکی تهی …کپ سے بهاپ اٹهنا بالکل بند ہو چکا تها… .وہ تیزی سے گهومی اور پھر بے اختیار ٹهٹک گئی….
پوجا الجهے بالوں کے ساتھ نیند میں اسے حیران ہو کر دیکھ رہی تھی. …
“کس سے بات کر رہی تهیں تم..”…؟
“”چاند سے.”…وہ کندهے اچکا کر بولی…..
“کیا تم پاگل ہو…”.؟ پوجا بهر پور حیران ہونے کے بعد بولی…..
” ہاں بہت سارا”……وہ بال پیچھے جهٹک کر بولی….
اور کچن کی طرف بڑهی..پوجا بھی اس کے پیچھے پیچھے آئی….
“آئندہ تمہیں چاند سے بات کرنی ہو یا ستاروں سے لیکن تم میری نیند خراب نہیں کرو گی…”..پوجا کو اپنی نیند خراب کیے جانے پہ بہت دکھ تها….آیت نے اسے گهورنا مناسب سمجها….
“اور تم جو چالیس ہزار فریکوئنسی کے خراٹے لیتی ہو وہ. ..؟ کهبی سوچا ہے میں کیسے سوتی ہوں….”
“ہاں ….وہ…تو میں. ..مطلب وہ تو خود ہی نکلتے ہیں.” ..پوجا نے نگاہیں چرائیں اور ایک بار پھر بیڈ پہ جا کر لیٹ گئی….وہ سنک سے کپ دهو کر بیڈ پہ آئی….اور اپنا موبائل چارجنگ پہ لگا کر سونے کے لیے لیٹی..وہ رات کو ہمیشہ موبائل چارجنگ پہ لگا کر ہی سوتی تهی دن کو تو پوجا میڈم کا موبائل لگا رہتا تھا. ……
شکر تها جو پوجا جاگ گئی ورنہ وہ کهبی سو ہی نہیں پاتی اور اب وہ پندرہ منٹ بعد نیند کی وادی میں اتر گئی…لیکن وہ زیادہ دیر سو نہ سکی …اسے جیسے کوئی آواز دے رہا ہو …کوئی اس کا نام لے رہا ہو ..اسے لگا وہ خواب دیکھ رہی ہے مگر وہ خواب نہیں تها وہ اٹھ کر بیٹھ گئی. ..اس نے ماتهے کو پوروں سے چهو کر دیکها جہاں پسینہ تها..وہ کافی بوکهلائی ہوئی نظر آ رہی تھی. …..
اچانک اسے کمرے میں سایا نظر آیا کوئی چلتا ہوا سایا…اس کی آنکهیں خوف سے پهیل گئیں. .وہ بنا پلکیں جهپکائے اس سائے کو دیکهے جا رہی تھی. ….
پهر اس کی نظر وہاں سے ہوتے ہوئے کهڑکی تک گئی اور اسے جهٹکا اس وقت لگا جب اس نے کهڑکی کو کهلا پایا….اسے یاد تها وہ کهڑکی بند کر کے آئی تهی ….م
“تم اب تک واپس نہیں گئی. “..؟ پورے کمرے میں ایک بهاری مردانہ آواز گونجی. ..اور اس نے آنکهوں پر ہاتھ رکھ کر ایک زور دار چیخ ماری. ..پوجا ہڑابڑا کر اٹھ بیٹھی….اس نے لیمپ آن کیا…..
“کیا ہوا. .”.؟ وہ ڈر کر رونے لگی…پوجا اسے حیرت سے دیکهے جا رہی تھی. ….
” ابهی کوئی کمرے میں تها..”.اس نے ہچکیوں کے درمیان اپنی بات مکمل کی…..
“پاگل ہو کیا…یہاں کوئی نہیں ہے”. ..پوجا نے خفگی سے سے دیکها پهر اس نے چاروں طرف دیکھا واقعی کمرے میں کوئی نہیں تها. …
“میرا یقین کرو ابهی کوئی تها یہاں. .”.؟ اس نے پوجا کو یقین دلانے کی کوشش کی. ……
“پلیز سو جاو …دیکهو کوئی نہیں ہے ضرور تم نے کوئی خواب دیکها ہوگا اس دن کی طرح.” …پوجا اسے ملامت کرتی کمبل کهینچ کر سو گئی اور لیمپ بھی آف کر دیا…وہ ابهی بهی سمٹ کر بیٹهی تهی اور آس پاس دیکھ کر جیسے کسی کو تلاش کر رہی تهی…پوجا کہہ رہی تھی وہ وہم ہے لیکن وہ وہم نہیں تها اسے یقین تھا. ..اسے پچهلے سارے واقعات بھی ترتیب سے یاد آنے لگے تهے….اس نے صبح انوشیر سے بات کرنے کا فیصلہ کر لیا. .وہ اسے سب کچھ بتائے گی…وہ ضرور کوئی نہ کوئی حل نکال لے گا اس کے مسئلے کا….
وہ ڈرتے ڈرتے پهر سے سونے کے لیے لیٹی اس نے کمبل کهینچ کر اپنے اوپر کر لی اور کروٹ بدل کر کهڑکی کی طرف مڑ گئی. …کهڑکی کهلی نظر آئی….
ٹهنڈ کے باوجود اس میں اتنی ہمت نہیں تهی جا کر کهڑکی بند کر دے…وہ آنکهیں کهول کر کهڑکی سے باہر چاند کو دیکھ رہی تھی. .نیند تو اسے آنی ہی نہیں تهی….اسے ایک بار پھر کرنٹ لگا…جب اس نے کسی کو کهڑکی کے اوپر چڑھتے دیکها….وہ جهٹکا کها کر کهڑی ہو گئی. ..وہ کهڑکی سے اندر آتا شخص باہر کود گیا…ایک سانپ تها جس نے اسے کاٹا تها…وہ بهاگتی ہوئی کهڑکی تک آئی……
اور پهٹی ہوئی آنکھوں سے اس شخص کو چاند کی روشنی میں دور جاتا دیکھ رہی تھی. ..وہ اس شخص کو پہچان سکتی تهی. .وہ انوشیر تها جو لمبے لمبے قدم اٹهاتا اس سے دور جا رہا تها. …لیکن حیرت اسے اس بات پہ ہوئی یہ شخص اس کے ساتھ یہ سب کر رہا تھا. .مگر کیوں …؟ انوشیر یہ سب کیوں کر رہا تھا. ..؟ وہ اسے کیوں مارنا چاہتا تھا اور اگر مارنا چاہتا تھا تو وہ اسے بچاتا کیوں تها…….ایک نام جو وہ زندگی بهر نہیں سوچ سکتی تهی وہی نام اس کے سامنے تها…..
انوشیر یہ کیوں چاہے گا وہ واپس پاکستان چلی جائے…اور اس دن وہ ڈائمنڈ رنگ اس کے پرس میں “انوشیر نے ہی رکها تها اور پھر لوڈر “…؟
بے یقینی سے بے یقینی تهی…جس شخص کے اوپر وہ اتنا بهروسہ کرتی تهی…وہ یہ سب کیوں کر رہا تھا. …؟وہ تو ایک مذہبی لڑکا تھا اسلام اور اللہ سے محبت کرنے والا پهر وہ اس کی جان کیوں لینا چاہتا تھا. ..؟
او میرے اللہ. ..وہ سر تهام کے بیٹھ گئی..ہزاروں سوالوں کے درمیان ایک سوال کا بھی جواب اس کے پاس نہیں تها…لیکن وہ جواب حاصل کرنا چاہتی تهی وہ انوشیر سے بات کرنا چاہتی تهی…وہ اس سے سب کچھ جاننا چاہتی تهی…..
وہ اس سے ایک بار پھر ملنا چاہتی تهی. …….
_ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _
لندن کی خوبصورت اور ٹهنڈی ہوا آیت کے جسم سے ٹکرائی اور وہ انگڑائی لے کر بیدار ہوئی…اس کی نظر سامنے والے بستر پر گئی جو خالی تها …پوجا صبح صبح ہی واک پر نکل جاتی ہے. ….وہ اٹھ بیٹهی کمبل کو پیروں سے ہٹا کر وہ واش روم میں آئی. ..چہرے پر پانی کے چھینٹے مارتے ہوئے اسے رات کا واقعہ یاد آیا…وہ بے اختیار رک کر آئینے کو دیکهنے لگی….
کل رات کا واقعہ ناقابلِ فراموش تها اور اس پہ جو انکشاف ہوا وہ حد سے زیادہ بهیانک تها…انوشیر اسے مارنے کی کوشش کر رہا ہے …لیکن کیوں یہ اسے نہیں معلوم. …..
الجهتے ذہن کے ساتھ وہ کچن میں آئی…چائے بنانے لگی دماغ ابهی بهی انہی سوالوں کے درمیان گهرا ہوا تھا. .کچھ چیزیں حالات دکهاتی ہیں کچھ آنکهیں دیکهتی ہیں جانے اس وقت کون سا منظر سہی تها…انوشیر کے خلاف اتنی بڑی بات سوچنے کے لیے اس کا دل نہیں مان رہا تها کتنی بار اس نے اس کی مدد کی اس کا ساتھ دیا اسے کئی بار مصیبتوں سے بچایا…لیکن کل رات جو اس نے دیکها وہ کیا تها……
[ دسمبر لوٹ آنا تم تحریر ناصر حسین]
چائے بنا کر وہ کهڑکی کے پاس آئی. ..کهڑکی کهول کر وہ وہیں کرسی رکھ کر بیٹھ گئی …اور باہر سٹوڈنٹس کو دیکهنے لگی. .صبح صبح کا وہ منظر کافی خوبصورت ہوتا اگر اس کی ذہن میں کئی سوالات نہ ہوتے ……..چائے بھی وہ جیسے رسمی طور پر پی رہی تھی ہر شے سے اچانک دل اچاٹ ہو گیا….
تم پارٹی میں چلو گی میرے ساتھ آیت..؟شام کے وقت پوجا نے اس سے پوچها…وہ تیار ہو رہی تهی ..ہفتے میں چار دن تو وہ کسی نہ کسی پارٹی میں جاتی ہی رہتی تهی. …
” آئم سوری پوجا تم چلی جاو. .میں نہیں آ سکتی”..ناول پڑهتے ہوئے اس نے سر اٹها کر پوجا کو جواب دیا. .
: تم واقعی بور لڑکی ہو”…پوجا نے آئی شیڈ درست کرتے ہوئے ہمیشہ والا تبصرہ کیا وہ کچھ نہ بولی….پوجا اٹھ کر چلی گئی. ….اس نے موبائل نکال کر انوشیر کا نمبر ملایا….پوجا رات کو دیر سے واپس آتی تھی اور یہی موقع تها ان سوالوں کے جواب جاننے کا جو اس لے دل میں تهے…….
“اسلام و علیکم …انوشیر کی آواز سنائی دی.”…کچھ لمحے وہ کچھ بول نہیں سکی.. .اس نے ہونٹ بھینچ لیے….
“ہیلو. ..کوئی کام تها..”…آواز دوبارہ آئی…ہمیشہ کی طرح تشویش سے بهری…
” جی وہ….آپ کو روزہ ہے”….؟
” جی ہاں.”. …
“تو آپ افطاری میرے ہاں کیجیے گا. . “.دوسری طرف کچھ لمحے خاموشی رہی…
“اوکے..”..اس نے فون کٹ کر دیا. ..لہجہ ہمیشہ کی طرح مہذب شائستہ. ..تو پھر. ..؟
وہ کسی بھی سوال میں اس وقت الجهنا نہیں چاہتی تھی اس لیے خاموشی سے کچن میں چلی آئی….
جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *