December Lout Ana Tum by Nasir Hussain NovelR50779 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode13
Rate this Novel
December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode01 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode02 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode03 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode04 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode05 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode06 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode07 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode08 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode09 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode10 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode11 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode12 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode13 (Watching)December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode14 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode15 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode16 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode17 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode18 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode19 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode20 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode21 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode22 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode23 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode24 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode25 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode26 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode27 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode28 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode29 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode30 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode31 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode32 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode33 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode34 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode35 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode36 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode37 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode38 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode39 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode40 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode41 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode42 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode43 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode44 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode45 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Last Episode
December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode13
December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode13
••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••
رام کی ماں مدهو اس وقت گہری نیند میں تهی جب گهر کا دروازہ زور زور سے بجا …پہلی بار تو وہ سن نہیں سکی لیکن دروازہ مسلسل پیٹا جا رہا تها تو اس کی آنکھ کهلی سب سے پہلی نظر اس کی رام پر پڑی جو گہری نیند میں تها..اس کے ماتهے پہ بوسا دے کر وہ کمرے کا دروازہ کھول کر باہر نکل آئی….سردی تهمنے کا نام نہیں لے رہی تهی آسمان پر چاند کو دیکھ کر اس نے اندازہ لگانے کی کوشش کی یہ کون سا وقت ہے ..شاید آدهی رات
تهی وہ جانتی تھی دروازے پر کون ہوگا. ….
اکشے نشہ کر کے اسی وقت واپس آتا تها شروع شروع میں اس نے کئی بار پوچها بھی تها لیکن اب عادت سی ہو ہوگئی اکیلے رہنے کی….اس نے کنڈی کهول کر لکڑی کا دروازہ کهولا ..سامنے اکشے غصے سے لال چہرہ لیے کهڑا تها. …
” سنتی نہیں ہے کیا بے غیرت. ..”اکشے نے زور سے اسے دهکا دے کر سامنے سے ہٹایا وہ منہ کے بل زمین پہ جا گری یہ دهکا بھی اس کے لیے نیا نہیں تها…اس کی بهی عادت ہو چکی تهی اسے….
” کهانا لا سالی …”..وہ غراتے ہوئے بولا..اس نے یہ بھی نہیں سوچا رام گہری نیند میں ہے وہ جاگ سکتا ہے لیکن وہ سوچ ہی تو نہیں سکتا تها……..
مدهو نے آدهی رات کو اتنی ٹهنڈ میں چولہا جلایا اور روٹیاں توے پہ ڈالنے لگی. .سالن رات کا ہی بچا ہوا تها. ..دال کا سالن تها اور اس میں بھی آدهے سے زیادہ پانی…غریبی بہت مشکل ہے ایک امتحان ہے جو لوگ اس امتحان سے گزرتے ہیں وہی جانتے ہیں ورنہ صبح شام چکن کهانے والوں کو کیا معلوم
دنیا میں کچھ لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں جو کئی کئی رات فاقوں میں گزارتے ہیں. …..
لیکن اس نے کهبی نا شکری نہیں کی ..پهر بھی جانے کہیں کوئی سکون کیوں نہیں تها زندگی میں. .خوشی تو ان کے گهر میں جیسے حرام ہو چکی تهی ایک رام ہی تها جو ان کی زندگی تها…ان کے نئے خواب….
سالن گرم کر کے وہ وہاں لے آئی جہاں اکشے بیٹها ہوا تها ..پهر وہ پانی بهرنے گهڑے کی طرف آئی لیکن اس سے پہلے اکشے سارا کهانا زمین پہ پهینک چکا تها. ..
ذلیل نیچ عورت یہ دال تمہارا باپ کهائے گا….وہ غصے سے اٹها اور رام کا لکڑی والا بیٹ اٹها کر زور زور سے مدهو کو پیٹنے لگا…وہ کچھ نہیں بول سکی اس ڈر سے کہیں رام ناں اٹھ جائے وہ آرام سے مار کهاتی رہی…یہ مار تو اس کی قسمت میں ہی لکها تها…جب وہ اسے مار مار کر تهک گیا تو سونے کے لیے جا کر لیٹ گیا…مدهو کے جسم کا ایک ایک حصہ درد کرنے لگا …سر سے خون بہہ رہا
تها لیکن وہ ضبط کے تمام ریکارڈ توڑ کر چپ چاپ کهڑی ہو کر بستر پر لیٹ گئی .یہ محبت بھی انسان کو کہاں لے آتی ہے اس نے کہاں سوچا تها یہ سب ہوگا. ..جانے خواب پورے ہو کر اتنا دکھ کیوں دیتے ہیں. .امیدیں ایسے ٹوٹتی ہیں ان کے ٹکڑے چنتے چنتے پور پور زخمی ہو جاتا ہے. …..
اس رات وہاں بستر پر لیٹے لیٹے وہ جنت کی باتوں کے بارے میں سوچنے لگی….
” میرا دین سہی ہے….”.
” میرے دین میں ہی سب کی منزل ہے….”.
” میرے دین میں ہی سکون ہے’……..
اور مدهو زندگی میں پہلی بار اس دین کے بارے میں سوچ رہی تھی. .اور جنت کی باتوں پہ غور کر رہی تهی..وہ پہلے بھی کئی بار جنت سے بہت اسلامی واقعات سن چکی تهی اور متاثر بھی بہت ہوئی لیکن آج جس انداز سے وہ سوچ رہی تهی ویسے کهبی نہیں سوچا. ..اکشے سے بات کرنا اپنی جان گوانے کے مترادف تها رام ابهی چهوٹا تها …اسے خود ہی کچھ کرنا تها وہ ہمیشہ پتهر کے
بهگوان سے انصاف مانگتی آئی تهی اس بار وہ کسی اور کو آزمانا چاہتی تهی. .یہ سہی تها تها یا غلط لیکن وہ زندگی میں ایک بار یہ غلطی کرنا چاہ رہی تھی ………..
_ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _
اگلے دن مدهو جنت کے پاس گئی اور اسے لکڑیاں کاٹنے کے لیے ساتھ چلنے کو کہا…جنت راضی ہو گئی مگر وہ جانتی تھی وہ صرف لکڑیوں کے لیے نہیں جا رہی. ….
جنت نے مدهو کو باہر چارپائی پر بٹهایا اور خود کمرے میں چلی آئی اسے یقین تھا روہاب بھی وہیں ہوگا اس لیے کاغذ قلم اٹها کر اسے خط لکهنے لگی. ….وہ زیادہ پڑهی لکهی تو نہیں تهی لیکن خط لکهنا اتنا وہ کر سکتی تهی. ….
” اسلام و علیکم ..
میں آپ سے کیا کہوں کیا لکهوں کچھ سمجھ نہیں پا رہی مجھ سے ملنے کے بعد جو حالت آپ کی ہے وہی میری ہے …آپ کہتے ہو میں نے آپ پہ جادو
کیا ہے لیکن اصل جادو تو آپ نے کیا ہے میں کہیں بھی نہیں ہوتی ہر جگہ آپ ہی آپ ہوتے ہو…..
میں نے سوچا کچھ دن تک آپ کو بهول جاوں گی لیکن میرے لیے یہ نا ممکن ہے میں آپ کو بهلانے میں ہار گئی اور دل مجھ سے جیت گیا. لیکن میں ایک مسلمان لڑکی ہوں اور غلط محبت کے بارے میں سوچ بھی نہیں سکتی آپ نے کہا تها محبت کرنا گناہ نہیں محبت عبادت ہے سہی کہا تها آپ نے لیکن میں یہ عبادت عبادت کی طرح ہی کرنا چاہتی ہوں………
دل سے ہاری. .”.
” جنت چوہدری. .”
اس خط کو چپکے سے لپیٹ کر اس نے دوپٹے سے باندھ دیا اور باہر چلی آئی مدهو وہیں بیٹهی ہوئی تھی جہاں وہ اسے بٹها کر گئی تھی. …
کلہاڑی اور رسی سنبهال کر وہ اس کے ساتھ ساتھ چل پڑی..ہمیشہ کی طرح آسمان بادلوں سے ڈهکا ہوا تها ..تینوں بچے سکول گئے ہوئے تھے. ..سکول یہاں سے کچھ ہی فاصلے پر تها …کوئی خاص سکول نہیں تها دو ٹیچرز آتے تھے اور علاقے کے
بچے وہیں سے کچھ سیکھنے کی کوشش کرتے. …..
اس نے فراک کے اوپر سیاہ سویٹر پہن رکهی تهی. .اور سکارف بھی ہمیشہ کی طرح اس کے وجود کا حصہ تها….کافی دیر خاموش سے چلنے کے بعد مدهو نے کہا. …
” تم مجهے اپنے دین کے بارے میں بتاو…”…جنت تهوڑی حیران ہوئی اسے لگا تها اس دن کے بعد مدهو اس موضوع پر بات نہیں کرے گی……
” کیا جاننا چاہتی ہو تم” …؟
” تمہارے دین میں کیا ہے..”..؟
“میرے دین میں سب کچھ ہے الف سے لے کر یے تک..”
” کیا تمہارا دین کامل ہے. …”.
” کامل ترین. …جنت نے تصیح کی.” …
“تم ایسا کیسے کہہ سکتی ہو”….؟
” میں نہیں قرآن پاک کہتا ہے دنیا کی سب سے عظیم کتاب….”..وہ فخر سے بولی…..
“اور تمہارے قرآن میں سب سہی ہے میں کیسے
یقین کروں…”. مدهو نے پوچها. …
“تم نہ کرو تمہارے یقین یا بے یقینی سے سچ نہیں بدلے گا. .. یہ بات بڑے سے بڑے سائنسدان ثابت کر چکے ہیں مدهو. ..قرآن پاک میں سب کچھ ہے اور سائنس بھی اس بات کی تصدیق کرتی ہے. .میرا دین سب سے خوبصورت دین ہے…”وہ دونوں چلتے ہوئے باتیں کر رہی تهیں. ….
“کیا تم ثابت کر سکتی ہو یہ بات…..؟.”.
” کیا”…؟
“یہی کہ تمہارا دین سب سے خوبصورت اور کامل ہے.” .؟مدهو بولی….
” تم مجهے چیلنج کر رہی ہو ؟”
“جو بھی سمجھو.” ..مدهو بے نیازی سے بولی….
میرا دین سب سے خوبصورت اس لیے ہے مدهو کیونکہ اس میں دنیا جہان کے فائدے ہیں…جو کچھ تم یہاں کرو گی اس کے فائدے اور نیکیاں تمہیں وہاں بھی ملیں گی ایسا کسی اور دین میں نہیں ہے. …..
میں تمہیں سمجهاتی ہوں..قرآن پاک میں فرعون کا
ذکر ہے اور فرعون کی لاش سمندر سے ملی اس بات پہ سائنسدان بھی دنگ رہ گئے. ..جیسا کہ صدیوں پرانی اس کتاب میں سمندر کے دو حصوں کا ذکر ہے آج بھی دنیا اس بات کو تسلیم کرتی ہے سمندر کا ایک حصہ نمکین بھی ہے….ان انگریزوں نے بہت کچھ سیکھا ہے قرآن پاک سے جو ہم بھی نہیں سیکھ پائے……
اب صبح صبح اٹھ کر اگر میں نماز ادا کروں گی تو اس کا مجهے یہ فائدہ ہوگا مجهے ایکسرسائز کرنے کی ضرورت نہیں ہوگی کیونکہ نماز کے دوران ہے جسم کی ورزش ہو جاتی ہے. …..اور دوسرا فائدہ مجهے آخرت میں ہوگا……
میرا دین کہتا ہے پانی بیٹھ کر تین گهونٹ میں پیو…سائنس نے ثابت کیا ہے پانی بیٹھ کر پینے سے انسان کئی بیماریوں سے محفوظ رہ سکتا ہے. …
میں اگر ایسا کروں گی تو اس دنیا میں بھی فائدہ اور اس دنیا میں بھی فائدہ ….
میرا دین کہتا ہے چهینک آنے پہ الحمدللہ پڑها کرو. سائنس بھی کہتی ہے چهنک کے ذریعے کئی جراثیم
ناک سے نکل کر مر جاتے ہیں. …تو اس عمل کا بھی مجهے دونوں جہاں میں فائدہ ہے……
میرا دین کہتا ہے کهانے سے پہلے ہاتھ دهو لو..اب اتنا تو تم بھی مانتی ہو ناں ہاتھ دهوئے بغیر کس طرح کهانے میں جراثیم پیدا ہوتے ہیں. …..
اور میرا دین کہتا ہے پیٹ بھر کر کهانا نہ کهاو اور کهانے کے بعد پانی مت پیو…یہی کچھ عقل مند لوگ بھی کہتے ہیں کیونکہ پیٹ بھر کر کهانے سے انسان کی صحت پر اثر پڑتا ہے اور کهانے کے بعد پانی پینے سے بھی کئی قسم کی بیماریاں پھیلتی ہیں…..
میرا دین کہتا ہے غصہ مت کرو …بالکل سہی کہتا ہے کیونکہ غصے میں انسان صرف اپنا نقصان کرتا ہے …اور میرے دین میں شراب حرام ہے …شراب ایک گهٹیا قسم کا نشہ ہے جو کئی گهر کئی انسان اجاڑ دیتا ہے تبهی تو میرا دین اسے پینے کی اجازت نہیں دیتا……
میرے دین میں جهوٹ بولنا چوری کرنا گناہ ہے…جهوٹ اور چوری غلط ہیں یہ تو تمہیں بھی
معلوم ہے ناں…؟ اور اس کے نقصانات سے بھی ضرور واقف ہوگی تم.. ..
اگر میں ان پہ عمل کرتی ہوں تو مجهے یہاں بھی فائدہ ملتا ہے اور وہاں بهی. …
میرے دین میں زنا حرام ہے فضول خرچی گناہ ہے ..چغلی اور سود حرام ہے. .مطلب جو جو چیزیں انسان کے لئے سہی نہیں ہیں وہ میرے دین نے انسانوں سے گناہ کی صورت میں دور کر دیے…..
اور میرا دین سب سے آسان ہے…اگر تم نے راہ چلتے کسی کو سلام کیا تم نے نیکیاں کما لیں…اگر تم نے راستے سے کانٹے ہٹا کر دور پهینکے تب بھی تونے نیکیاں کما لیں اور تو اور اگر تم مسکرا کر کسی کو دیکهو گی تو اس کے بدلے میں بھی تمہیں نیکی ہی ملے گی. …….
جنت جو ان سب نیکیوں کا اجر ہوگا وہ میرے اللہ تعالیٰ نے ماں کے قدموں تلے رکھ دی اور میرا اللہ اپنے ایک بندے سے ستر گنا ماوں سے زیادہ محبت کرتا ہے. …
میں نے تمہیں کئی واقعات پہلے بھی سنائے ہیں
حضرت بلال حضرت یوسف حضرت علی کے….میرے دین میں عدل اور ایثار کی جو مثالیں ہیں وہ تمہیں اور کہیں نہیں ملیں گی…..کیونکہ میرا دین کامل ترین دین ہے…..
مدهو گنگ ہو گئی…سارے الفاظ منہ میں ہی دم توڑ گئے وہ بیس سال کی لڑکی اس کے چیلنج کی دھجیاں اڑا چکی تهی. ..دل میں کوئی شک باقی نہیں رہا تھا مگر وہ کچھ اور سیکهنا چاہتی تهی اس سے. . بہت کچھ. ….
تم اپنے اللہ اور رسول سے بہت محبت کرتی ہو. …؟ مدهو نے مسکرا کر پوچها….
کوشش کرتی ہوں لیکن وہ مجھ سے میری محبت سے بھی زیادہ محبت کرتے ہیں. میں تمہیں ایک واقعہ سناتی ہوں جس سے تمہیں یقین آ جائے گا ہمارے پیارے رسول ہم سے کتنی محبت کرتے ہیں. …..
ﺍﯾﮏ ﺑﺎﺭ ﺟﺐ ﺟﺒﺮﺍﺋﯿﻞ ﻋﻠﯿﮧ ﺳﻼﻡ ﻧﺒﯽ ﮐﺮﯾﻢ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﺁﮮ ﺗﻮ ﻣﺤﻤﺪ ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﻭﺳﻠﻢ ﻧﮯ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﮐﮧ ﺟﺒﺮﺍﯾﻞ ﮐﭽﮫ ﭘﺮﯾﺸﺎﻥ ﮨﮯ ﺁﭖ ﻧﮯ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ ﺟﺒﺮﺍﺋﯿﻞ ﮐﯿﺎ
ﻣﻌﺎﻣﻠﮧ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺁﺝ ﻣﯿﮟ ﺁﭘﮑﻮ ﻏﻤﺰﺩﮦ ﺩﯾﮑﮫ ﺭﮨﺎ ﮨﻮﮞ ﺟﺒﺮﺍﺋﯿﻞ ﻧﮯ ﻋﺮﺽ ﮐﯽ ﺍﮮ ﻣﺤﺒﻮﺏ ﮐﻞ ﺟﮩﺎﮞ ﺁﺝ ﻣﯿﮟ ﺍﻟﻠﮧ ﭘﺎﮎ ﮐﮯ ﺣﮑﻢ ﺳﮯ ﺟﮩﻨﻢ ﮐﺎ ﻧﻈﺎﺭﮦ ﮐﺮﮐﮧ ﺁﯾﺎ ﮨﻮﮞ ﺍﺳﮑﻮ ﺩﯾﮑﮭﻨﮯ ﺳﮯ ﻣﺠﮫ ﭘﮧ ﻏﻢ ﮐﮯ ﺁﺛﺎﺭ ﻧﻤﻮﺩﺍﺭ ﮨﻮﮮ ﮨﯿﮟ ﻧﺒﯽ ﮐﺮﯾﻢ ﻧﮯ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ ﺟﺒﺮﺍﺋﯿﻞ ﻣﺠﮭﮯ ﺑﮭﯽ ﺟﮩﻨﻢ ﮐﮯ ﺣﺎﻻﺕ ﺑﺘﺎﻭ ﺟﺒﺮﺍﺋﯿﻞ ﻧﮯ ﻋﺮﺽ ﮐﯽ ﺟﮩﻨﻢ ﮐﮯ ﮐﻞ ﺳﺎﺕ
ﺩﺭﺟﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﻥ ﻣﯿﮟ ﺟﻮ ﺳﺐ ﺳﮯ ﻧﯿﭽﮯ ﻭﺍﻻ ﺩﺭﺟﮧ ﮨﮯ ﺍﻟﻠﮧ ﺍﺱ ﻣﯿﮟ ﻣﻨﺎﻓﻘﻮﮞ ﮐﻮ ﺭﮐﮭﮯ ﮔﺎ
ﺍﺱ ﺳﮯ ﺍﻭﭘﺮ ﻭﺍﻟﮯ ﭼﮭﭩﮯ ﺩﺭﺟﮯ ﻣﯿﮟ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽ ﻣﺸﺮﮎ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﮐﻮ ﮈﺍﻟﯿﮟ ﮔﮯ
ﺍﺱ ﺳﮯ ﺍﻭﭘﺮ ﭘﺎﻧﭽﻮﯾﮟ ﺩﺭﺟﮯ ﻣﯿﮟ ﺍﻟﻠﮧ ﺳﻮﺭﺝ ﺍﻭﺭ ﭼﺎﻧﺪ ﮐﯽ ﭘﺮﺳﺘﺶ ﮐﺮﻧﮯ ﻭﺍﻟﻮﮞ ﮐﻮ ﮈﺍﻟﯿﮟ ﮔﮯ
ﭼﻮﺗﮭﮯ ﺩﺭﺟﮯ ﻣﯿﮟ ﺍﻟﻠﮧ ﭘﺎﮎ ﺁﺗﺶ ﭘﺮﺳﺖ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﮐﻮ ﮈﺍﻟﯿﮟ ﮔﮯ ﺗﯿﺴﺮﮮ ﺩﺭﺟﮯ ﻣﯿﮟ ﺍﻟﻠﮧ ﭘﺎﮎ ﯾﮩﻮﺩ ﮐﻮ ﮈﺍﻟﯿﮟ ﮔﮯ ﺩﻭﺳﺮﮮ ﺩﺭﺟﮯ ﻣﯿﮟ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽ ﻋﺴﺎﺋﯿﻮﮞ ﮐﻮ ﮈﺍﻟﯿﮟ ﮔﮯ ﯾﮧ ﮐﮩﮧ ﮐﺮ ﺟﺒﺮﺍﺋﯿﻞ ﻋﻠﯿﮧ ﺳﻼﻡ ﺧﺎﻣﻮﺵ ﮨﻮﮔﺌﮯ ﺗﻮ ﻧﺒﯽ
ﮐﺮﯾﻢ ﻧﮯ ﭘﻮﭼﮭﺎ ﺟﺒﺮﺍﺋﯿﻞ ﺁﭖ ﺧﺎﻣﻮﺵ ﮐﯿﻮﮞ ﮨﻮﮔﺌﮯ ﻣﺠﮭﮯ ﺑﺘﺎﻭ ﮐﮧ ﭘﮩﻠﮯ ﺩﺭﺟﮯ ﻣﯿﮟ ﮐﻮﻥ ﮨﻮﮔﺎ ﺟﺒﺮﺍﺋﯿﻞ ﻋﻠﯿﮧ ﺳﻼﻡ ﻧﮯ ﻋﺮﺽ ﮐﯿﺎ ﺍﮮ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﮯ ﺭﺳﻮﻝ ﭘﮩﻠﮯ ﺩﺭﺟﮯ ﻣﯿﮟ ﺍﻟﻠﮧ ﭘﺎﮎ ﺁﭘﮑﯽ ﺍﻣﺖ ﮐﮯ ﮔﻨﮩﮕﺎﺭﻭﮞ ﮐﻮ ﮈﺍﻟﯿﮟ ﮔﮯ ﺟﺐ ﻧﺒﯽ ﮐﺮﯾﻢ ﻧﮯ ﯾﮧ ﺳﻨﺎ ﮐﮧ ﻣﯿﺮﯼ ﺍﻣﺖ ﮐﻮ ﺑﮭﯽ ﺟﮩﻨﻢ ﻣﯿﮟ ﮈﺍﻻ ﺟﺎﮮ
ﮔﺎ ﺗﻮ ﺁﭖ ﺑﮯ ﺣﺪ ﻏﻤﮕﯿﻦ ﮨﻮﮮ ﺍﻭﺭ ﺁﭖ ﻧﮯ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﮯ ﺣﻀﻮﺭ ﺩﻋﺎﺋﯿﮟ ﮐﺮﻧﺎ
ﺷﺮﻭﻉ ﮐﯿﮟ ﺗﯿﻦ ﺩﻥ ﺍﯾﺴﮯ ﮔﺰﺭﮮ ﮐﮧ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﮯ ﻣﺤﺒﻮﺏ ﻣﺴﺠﺪ ﻣﯿﮟ ﻧﻤﺎﺯ ﭘﮍﮬﻨﮯ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﺗﺸﺮﯾﻒ ﻻﺗﮯ ﻧﻤﺎﺯ ﭘﮍﮪ ﮐﺮ ﺣﺠﺮﮮ ﻣﯿﮟ ﺗﺸﺮﯾﻒ ﻟﮯ ﺟﺎﺗﮯ ﺍﻭﺭ ﺩﺭﻭﺍﺯﮦ ﺑﻨﺪ ﮐﺮﮐﮧ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﮯ ﺣﻀﻮﺭ ﺭﻭ ﺭﻭ ﮐﺮ ﻓﺮﯾﺎﺩ ﮐﺮﺗﮯ ﺻﺤﺎﺑﮧ
ﺍﮐﺮﺍﻡ ﺣﯿﺮﺍﻥ ﺗﮭﮯ ﮐﮧ ﻧﺒﯽ ﮐﺮﯾﻢ ﭘﮧ ﯾﮧ ﮐﯿﺴﯽ ﮐﯿﻔﯿﺖ ﻃﺎﺭﯼ ﮨﻮﺋﯽ ﮨﮯ ﻣﺴﺠﺪ ﺳﮯ ﺣﺠﺮﮮ ﺟﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ
ﮔﮭﺮ ﺑﮭﯽ ﺗﺸﺮﯾﻒ ﻟﯿﮑﺮ ﻧﮩﯿﮟ ﺟﺎ ﺭﮨﮯ۔ ﺟﺐ ﺗﯿﺴﺮﺍ ﺩﻥ ﮨﻮﺍ ﺗﻮ ﺳﯿﺪﻧﺎ ﺍﺑﻮ
ﺑﮑﺮﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽ ﻋﻨﮧ ﺳﮯ ﺭﮨﺎ ﻧﮩﯿﮟ ﮔﯿﺎ ﻭﮦ ﺩﺭﻭﺍﺯﮮ ﭘﮧ ﺁﮮ ﺩﺳﺘﮏ ﺩﯼ ﺍﻭﺭ ﺳﻼﻡ ﮐﯿﺎ ﻟﯿﮑﻦ ﺳﻼﻡ ﮐﺎ ﺟﻮﺍﺏ ﻧﮩﯿﮟ ﺁﯾﺎ ﺁﭖ ﺭﻭﺗﮯ ﮨﻮﮮ
ﺳﯿﺪﻧﺎ ﻋﻤﺮﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽ ﻋﻨﮧ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﺁﮮ ﺍﻭﺭ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ ﮐﮧ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺳﻼﻡ ﮐﯿﺎ ﻟﯿﮑﻦ ﺳﻼﻡ ﮐﺎ ﺟﻮﺍﺏ ﻧﮧ ﭘﺎﯾﺎ ﻟﮩﺬﺍ ﺁﭖ ﺟﺎﺋﯿﮟ ﺁﭖ ﮐﻮ ﮨﻮﺳﮑﺘﺎ ﮯ ﺳﻼﻡ ﮐﺎ ﺟﻮﺍﺏ ﻣﻞ ﺟﺎﮮ ﺁﭖ ﮔﺌﮯ ﺗﻮ ﺁﭖ ﻧﮯ ﺗﯿﻦ ﺑﺎﺭ ﺳﻼﻡ ﮐﯿﺎ
ﻟﯿﮑﻦ ﺟﻮﺍﺏ ﻧﮧ ﺁﯾﺎ ﺣﻀﺮﺕ ﻋﻤﺮ ﻧﮯ ﺳﻠﻤﺎﻥ ﻓﺎﺭﺳﯽ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽ ﻋﻨﮧ ﮐﻮ ﺑﮭﯿﺠﺎ ﻟﯿﮑﻦ ﭘﮭﺮ ﺑﮭﯽ ﺳﻼﻡ ﮐﺎ ﺟﻮﺍﺏ ﻧﮧ ﺁﯾﺎ ﺣﻀﺮﺕ ﺳﻠﻤﺎﻥ ﻓﺎﺭﺳﯽ ﻧﮯ ﻭﺍﻗﻌﮯ ﮐﺎ ﺗﺬﮐﺮﮦ ﻋﻠﯽ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽ ﺳﮯ ﮐﯿﺎ
ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﺳﻮﭼﺎ ﮐﮧ ﺟﺐ ﺍﺗﻨﯽ ﻋﻈﯿﻢ ﺷﺤﺼﯿﺎﺕ ﮐﻮ ﺳﻼﻡ ﮐﺎ ﺟﻮﺍﺏ ﻧﮧ ﻣﻼ ﺗﻮ ﻣﺠﮭﮯ ﺑﮭﯽ ﺧﻮﺩ ﻧﮭﯽ ﺟﺎﻧﺎ ﭼﺎﮬﯿﺌﮯ
ﺑﻠﮑﮧ ﻣﺠﮭﮯ ﺍﻧﮑﯽ ﻧﻮﺭ ﻧﻈﺮ ﺑﯿﭩﯽ ﻓﺎﻃﻤﮧ ﺍﻧﺪﺭ ﺑﮭﯿﺠﻨﯽ ﭼﺎﮬﯿﺌﮯ ۔ ﻟﮩﺬﺍ
ﺁﭖ ﻧﮯ ﻓﺎﻃﻤﮧ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽ ﮐﻮ ﺳﺐ ﺍﺣﻮﺍﻝ ﺑﺘﺎ ﺩﯾﺎ ﺁﭖ ﺣﺠﺮﮮ ﮐﮯ ﺩﺭﻭﺍﺯﮮ ﭘﮧ ﺁﺋﯿﮟ
ﺍﺑﺎ ﺟﺎﻥ ﺍﺳﻼﻡ ﻭﻋﻠﯿﮑﻢ
ﺑﯿﭩﯽ ﮐﯽ ﺁﻭﺍﺯ ﺳﻦ ﮐﺮ ﻣﺤﺒﻮﺏ ﮐﺎﺋﯿﻨﺎﺕ ﺍﭨﮭﮯ ﺩﺭﻭﺍﺯﮦ ﮐﮭﻮﻻ ﺍﻭﺭ ﺳﻼﻡ ﮐﺎ ﺟﻮﺍﺏ ﺩﯾﺎ ﺍﺑﺎ ﺟﺎﻥ ﺁﭖ ﭘﺮ ﮐﯿﺎ ﮐﯿﻔﯿﺖ ﮬﮯ ﮐﮧ ﺗﯿﻦ ﺩﻥ ﺳﮯ ﺁﭖ ﯾﮩﺎﮞ ﺗﺸﺮﯾﻒ ﻓﺮﻣﺎ
ﮨﮯ ﻧﺒﯽ ﮐﺮﯾﻢ ﻧﮯ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ ﮐﮧ ﺟﺒﺮﺍﺋﯿﻞ ﻧﮯ ﻣﺠﮭﮯ ﺁﮔﺎﮦ ﮐﯿﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﻣﯿﺮﯼ ﺍﻣﺖ ﺑﮭﯽ ﺟﮩﻨﻢ ﻣﯿﮟ ﺟﺎﺋﮯ ﮔﯽ ﻓﺎﻃﻤﮧ ﺑﯿﭩﯽ ﻣﺠﮭﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﺍﻣﺖ ﮐﮯ ﮔﻨﮩﮕﺎﺭﻭﮞ ﮐﺎ ﻏﻢ ﮐﮭﺎﺋﮯ ﺟﺎ ﺭﮨﺎ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﻣﯿﮟ ﺍﭘﻨﮯ ﻣﺎﻟﮏ ﺳﮯ ﺩﻋﺎﺋﯿﮟ ﮐﺮﺭﮨﺎ ﮨﻮﮞ ﮐﮧ ﺍﻟﻠﮧ ﺍﻧﮑﻮ ﻣﻌﺎ ﻑ ﮐﺮ ﺍﻭﺭ ﺟﮩﻨﻢ ﺳﮯ ﺑﺮﯼ ﮐﺮ ﯾﮧ ﮐﮩﮧ ﮐﺮ
ﺁﭖ ﭘﮭﺮ ﺳﺠﺪﮮ ﻣﯿﮟ ﭼﻠﮯ ﮔﺌﮯ ﺍﻭﺭ ﺭﻭﻧﺎ ﺷﺮﻭﻉ ﮐﯿﺎ ﯾﺎ ﺍﻟﻠﮧ ﻣﯿﺮﯼ ﺍﻣﺖ ﯾﺎ ﺍﻟﻠﮧ ﻣﯿﺮﯼ ﺍﻣﺖ ﮐﮯ ﮔﻨﮩﮕﺎﺭﻭﮞ ﭘﮧ ﺭﺣﻢ ﮐﺮ ﺍﻧﮑﻮ ﺟﮩﻨﻢ ﺳﮯ ﺁﺯﺍﺩ ﮐﺮ
ﮐﮧ ﺍﺗﻨﮯ ﻣﯿﮟ ﺣﮑﻢ ﺁﮔﯿﺎ
ﻭَﻟَﺴَﻮْﻑَ ﻳُﻌْﻄِﻴﻚَ ﺭَﺑُّﻚَ ﻓَﺘَﺮْﺿَﻰ
ﺍﮮ ﻣﯿﺮﮮ ﻣﺤﺒﻮﺏ ﻏﻢ ﻧﮧ ﮐﺮ ﻣﯿﮟ ﺗﻢ ﮐﻮ ﺍﺗﻨﺎ ﻋﻄﺎ ﮐﺮﺩﻭﮞ ﮔﺎ ﮐﮧ ﺁﭖ ﺭﺍﺿﯽ ﮨﻮﺟﺎﻭ ﮔﮯ
ﺁﭖ ﺧﻮﺷﯽ ﺳﮯ ﮐﮭﻞ ﺍﭨﮭﮯ ﺍﻭﺭ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ ﻟﻮﮔﻮ۔۔ ﺍﻟﻠﮧ ﻧﮯ ﻣﺠﮫ ﺳﮯ ﻭﻋﺪﮦ ﮐﺮﻟﯿﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﻭﮦ ﺭﻭﺯ ﻗﯿﺎﻣﺖ ﻣﺠﮭﮯ ﻣﯿﺮﯼ ﺍﻣﺖ ﮐﮯ ﻣﻌﺎﻣﻠﮯ ﻣﯿﮟ ﺧﻮﺏ ﺭﺍﺿﯽ ﮐﺮﮮ ﮔﺎ ﺍﻭﺭ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺍﺱ ﻭﻗﺖ ﺗﮏ ﺭﺍﺿﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﻧﺎ ﺟﺐ ﺗﮏ
ﻣﯿﺮﺍ ﺁﺧﺮﯼ ﺍﻣﺘﯽ ﺑﮭﯽ ﺟﻨﺖ ﻣﯿﮟ ﻧﮧ ﭼﻼ ﺟﺎﮮ …..مدهو
نے جنت کو شال سے آنسو پونچھتے دیکها وہ بهی حضرت محمد صلی علیہ والہ وسلم سے کافی متاثر ہوئی ایک ایسا نبی جو رات رات بھر رو کر صرف اپنی امت کے لیے بخشش مانگتا ہے ان جیسا اس دنیا میں کوئی نہیں ہو سکتا. …….
اگر اللہ تعالیٰ تم لوگوں سے اتنی محبت کرتے ہیں تو تمہیں تکلیف کیوں دیتے ہیں….؟
مدهو نے پوچها…وہ جانتی تھی ساتھ چلتی ہوئی لڑکی اسے ایک بار پھر لاجواب کر دے گی. ….
تکلیف نہیں دیتے مدهو وہ صرف امتحان لیتے ہیں. ..اور اگر امتحان نہ لیں تو ہم ان کی یاد سے غافل ہو جائیں گے. ..اگر آزمائشیں نہ ہوتیں تو ہم اللہ کو کهبی نہیں یاد کرتے…اور اللہ تعالیٰ صرف ہمیں نہیں آزماتے انہوں نے ہم سے پہلے اپنے پیاروں کو سب سے زیادہ آزمایا جن کی مثالیں آج بھی زندہ ہیں…..
کربلا کے میدان میں جنگ لڑتے ہوئے وہ اللہ کے پیارے کئی دن تک بهوکے پیاسے جنگ لڑتے رہے. ….اور حضرت یوسف علیہ السلام کو ان کے بھائیوں
نے اندهیرے کنوئیں میں پهینک دیا تها یہ بھی اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک امتحان تها…..حضرت محمد صلی علیہ والہ وسلم نے بهوک کی وجہ سے اپنے پیٹ پہ پتهر باندهے اور روزانہ راستے پر سے گزرتے ہوئے ایک بڑهیا ان پہ کوڑا پهینکتی لیکن حضرت محمد صلی علیہ والہ وسلم ان کے لیے پهر بھی دعا کرتے……
یہ تهے ہمارے پیارے نبی. .جن کے صبر استقامت ،ایثار اور تقویٰ کی مثالیں آج صدیوں بعد بھی زندہ ہیں. ….
وہ لوگ سوکھی لکڑیوں کی ایک جهاڑی کے پاس پہنچ گئے. .رسی اور کلہاڑی وہیں پهینک کر وہ برف کے اوپر بیٹھ گئیں…..
جس نبی کو تم لوگوں نے دیکها ہی نہیں اس پہ یقین کرنا مشکل ہوتا ہوگا ناں. ..؟ جنت مسکرا دی.
کوئی مشکل نہیں ہے بس ایمان پختہ ہونا چاہیے..
ایک صحابی تها شاید جن کا نام مجهے نہیں یاد آ رہا حضور پاک سے کہنے لگے اے پیارے نبی ہم کتنے خوش قسمت ہیں جو آپ کو دیکھ رہے ہیں آپ سے باتیں کر رہے ہیں آپ کی سنتوں پہ عمل کر رہے ہیں. …
تو حضور پاک نے کہا تم لوگ اتنے خوش قسمت نہیں ہو جتنی خوش قسمت میری آنے والی امت ہوگی تم لوگ مجهے دیکھ کر مجھ سے بات کر کے میری پیروی کر رہے ہو ..ایک امت ایسی ہوگی جو مجهے بنا دیکهے بنا سنے مجھ پہ ایمان لائے گی ………..
مدهو کے پاس مزید کوئی سوال نہیں تها…اس نے کہا تو فقط اتنا .. .
میں اسلام قبول کرنا چاہتی ہوں…..جنت نے خوشگوار حیرت سے اسے دیکها. ..
کیا تم نے اپنے شوہر سے بات کی اس بارے میں. ..؟
نہیں اکشے کهبی نہیں مانیں گے…ان سے بات کا فائدہ ہی نہیں ہے. …وہ مایوسی سے بولی……
بہتر ہے تم ان سے بات کر لو ایک بار مدهو اور
انہیں اسلام کی اہمیت بتاو ..یقیناً وہ سمجھ جائیں گے. ..
ٹهیک ہے لیکن اس سے پہلے مجهے بہت کچھ سیکھنے کی ضرورت ہے تم سے …سب سے پہلے میں قرآن سیکهنا چاہتی ہوں… کیا تم مجهے سکهاو گی….؟
اس نے سوال کیا….جنت نے سر اثبات میں ہلا دیا….اور لکڑیاں کاٹنے لگی…..مدهو بھی وہیں کلہاڑی کے ذریعے مصروف ہو گئی……
بہت اچانک سے ہی جنت کو احساس ہونا شروع ہو گیا کوئی اسے دیکھ رہا ہے ..وہ جانتی تهی کون ہوگا اس نے اسکارف کو نقاب کے انداز میں لپیٹ لیا اور خود کو مکمل طور پر ڈھانپ لیا…دو آنکھوں کے علاوہ کچھ نظر نہیں آ رہا تها. ….اس نے دائیں طرف دیکها تو وہ اسے ایک درخت کے پیچھے کهڑا نظر آیا…..وہ وہیں کهڑی اسے دیکهتا رہا جب تک وہ لکڑیاں کاٹتی رہی وہ بھی کهبی کهبی ایک نظر اسے دیکھ ہی لیتی …..
جاتے وقت اس نے مدهو سے نظر بچا کر خط اسے
دکهایا اور وہیں اس جهاڑی کے پاس ہی رکھ دیا..اس نے دیکها روہاب کے چہرے پر روشنی سی آئی….پهر وہ مدهو کے ساتھ گهر آئی…..اور ان خطوں کا سلسلہ صرف ایک دن کا نہیں تها بعد میں بھی کئی بار روہاب نے گڑیا کو سکول سے چهٹی کے وقت وہ خط دیے تهے اور وہ بھی گڑیا کے ہاتهوں خط کا جواب بهیجنے لگی تهی…..
مدهو روزانہ اس سے قرآن پاک کی درس لینے آتی تھی اور وہ اسے کئی اسلامی واقعات اور قرآن سکهاتی تهی……
[ دسمبر لوٹ آنا تم تحریر ناصر حسین]
_ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _
آیت کو لنڈن آئے دو مہینے ہو چکے تھے لنڈن کا شہر اس کے لیے اب پہلے جیسا اجنبی نہیں تھا. .وہ یہاں کے لوگوں یہاں کے ماحول میں خود کو مکمل طور پر ڈهال چکی تھی. …یہ خوبصورت شہر تها اس کے خوابوں کا شہر وہ لنڈن سے محبت نہیں عشق کرتی تهی. .اسے یہاں شروع شروع میں کافی مشکلات کا سامنا تها وہ کسی کو نہیں جانتی تھی لیکن آہستہ آہستہ وہ سب کچھ ٹھیک کرتی گئی اور ان سب کا سارا کریڈٹ انوشیر رضا کو جاتا ہے اس نے ہر مشکل میں اس کا ساتھ دیا اسے لنڈن میں جب بھی کسی مسئلے کا سامنا ہوتا تو وہ سیدھا انوشیر کے پاس جاتی اور اسے اپنی پرابلم بتاتی…وہ خوشی سے یا مجبوری سے بہرحال اس کی مدد کر دیا کرتا..اس کا مزاج ویسے ہی تها جیسے ہمیشہ سے ہوتا تها…حد سے زیادہ سنجیدہ قسم کا مرد اور اس سے بھی بڑھ کر ایک پاکستانی مشرقی مرد…..
اسے لڑکیوں سے زیادہ بات کرنا اچها نہیں لگتا ..شروع میں آیت کو لگا وہ شرما رہا ہے لیکن بعد میں اسے پتا چلا وہ شرمیلا نہیں وہ غیرت مند ہی اتنا ہی کسی بھی لڑکی کی طرف آنکھ اٹھا کر نہیں دیکھتا. ..اسے آیت کا کسی اور لڑکے کے ساتھ بات کرنا بھی زیادہ اچها نہیں لگتا تھا یہ وہ تب محسوس کرتی تهی جب وہ کسی کے ساتھ ہوتی تو وہ اسے فوراً وہاں سے چلے جانے کا کہتا. … .اگر وہ دونوں کہیں جا رہے ہوتے تو وہ ہمیشہ دو قدم آگے چلتا تها..اگر اس کے ہاتھوں میں کوئی چیز ہوتی تو وہ بنا کہے وہ چیزیں اٹھا لیتا…….
اصل مرد وہی ہوتے ہیں جو عورت کی حفاظت کریں.ان کی تمام ضروریات کا خیال رکھیں. ..غیرت مند ہر دوسری لڑکی کے ساتھ فری نہیں ہو جاتے ہر دوسری لڑکی سے محبت کا اظہار نہیں کرتے….وہ ہمیشہ عورت کو عزت کی نظر سے دیکھتے ہیں اور انوشیر بھی انہی مردوں کی اقسام میں تها……..
جاری ہے
