December Lout Ana Tum by Nasir Hussain NovelR50779 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode27
Rate this Novel
December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode01 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode02 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode03 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode04 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode05 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode06 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode07 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode08 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode09 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode10 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode11 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode12 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode13 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode14 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode15 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode16 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode17 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode18 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode19 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode20 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode21 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode22 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode23 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode24 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode25 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode26 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode27 (Watching)December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode28 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode29 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode30 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode31 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode32 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode33 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode34 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode35 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode36 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode37 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode38 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode39 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode40 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode41 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode42 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode43 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode44 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode45 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Last Episode
December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode27
December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode27
•••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••
روتے ہوئے اس نے اللہ تعالیٰ کو پکارا. …موبائل اس کے پاس تها اس نے انوشیر کو میسج کیا یہ جانتے ہوئے بھی کہ وہ یہاں سے کافی دور ایک ڈنر پہ گیا ہوا ہے. ..اسے خوش فہمی تهی وہ اس کے لیے ڈنر چهوڑ کر آئے گا…….]
_ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _
وہ اس وقت اپنے دوست کے پاس تها جب موبائل کی بیپ بجی…جیب سے موبائل نکال کر اس نے آیت کا میسج اوپن کیا….
” Ap kahan ho. .jahan b ho plz jaldi ao me bohat bari musibat me hn. Mical mujhe 1 club me ly aya..plz plz ao me mar jaon gi….”
غصے کی ایک لہر اس کے جسم میں پیدا ہو گئی…بهاگ کر وہ وہاں سے اٹها اور بائیک پر بیٹها تها. ..اس کا دوست پیچھے آوازیں دیتا رہ گیا…مگر اس نے پوری رفتار سے بائیک دوڑا دی…..
[ دسمبر لوٹ آنا تم تحریر ناصر حسین]
_ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _
دو گهنٹے سے زیادہ ہو چکے تهے وہ اس چهوٹے سے کمرے میں بند تهی ہر طرف شراب کی ٹوٹی پھوٹی بوتلیں نظر آ رہی تهیں ان کی بدبو الگ پهیل رہی تهی. ..آیت کا وہاں دم گهٹنے لگا. ..یہ سب اس کی اپنی بے وقوفی کا نتیجہ تها وہ زندگی میں کئی بار اپنی حماقت کی وجہ سے پچهتائی تهی…..
مائیکل کو سمجهنے میں وہ غلطی کر گئی انوشیر اسے پہلی نظر میں ہی پہچان گیا….اور اب اس کمرے میں اسے قبر یاد آنے لگا…قبر بھی یونہی بهیانک ہوگا. .یا اس سے بھی بڑھ کر. …وہ رو رو کر تهک چکی تهی آنسو خشک ہو چکے تهے. .اسے شاپنگ مال والا واقعہ یاد آیا وہ بھی ایک ایسا ہی کمرہ تها …..
تب انوشیر نے اس کی مدد کی اور آج….؟
زندگی اس پر تنگ ہونے لگی وہ روتے ہوئے بار بار اللہ کو آواز دے رہی تهی. .دروازہ کهلا اس نے آنکهیں میچ کر شدت سے دعا کی .کاش وہ انوشیر ہو لیکن اس کی دعا قبول نہیں ہوئی وہ انوشیر نہیں تها…..
وہ مائیکل تها..معصوم سا دکهنے والا وہ بهیانک انسان……وہ مکروہ مسکراہٹ لیے آگے بڑھا. .بے اختیار وہ کهڑی ہو گئی اور ڈرے ہوئے اسے دیکهنے لگی. .پهر آیت نے اسے شرٹ اتارتے دیکها….
وہ مزید خوف زدہ ہوگئی اس سے پہلے وہ آگے بڑهتا آیت نے شراب کی ایک بوتل اٹها کر اس کے سر پر دے ماری….
وہ کراہتے ہوئے گر پڑا اور پهر کهڑا بھی ہو گیا…اس نے آیت کے منہ پر ہاتھ رکها اس کی چیخ دب گئی…اب وہ اس مرد کے سامنے بے بس تهی….اسے کچھ دکهائی نہیں دے رہا تها سوائے اس شخص کے جس کے سانولے چہرے پر مکروہ مسکراہٹ تهی……
اچانک اس کی مسکراہٹ غائب ہو گئی. ..اس نے آیت کے منہ سے اپنا ہاتھ ہٹا لیا…وہ حیران ہو کر اسے دیکهنے لگی پهر آیت نے اسے لڑهکتے اور فرش پر گرتے نہیں دیکها اس نے سامنے کهڑے انوشیر کو دیکها جو ہاتهوں میں بوتل لیے کهڑا تها…….
وہ شخص جو ایک ہم سفر کی طرح اس کے ساتھ تها ہمیشہ سے آج بھی اس کی مدد کے لیے وہی شخص آیا…وہ روتے ہوئے اتنی جذباتی ہو گئی انوشیر کے سینے پر سر رکھ کر رونے لگی…انوشیر نے اسے خود سے الگ کیا اور اسے لے کر کلب سے باہر آ گیا…رات کا سناٹا تها…ہر طرف اندھیرا تها وہ تو ویسے بھی اندهی ہو چکی تهی. ..انوشیر نے ایک ٹیکسی روکی وہ خاموشی سے اس میں بیٹھ گئی …اس کا دل بہت رونے کو چاہ رہا تھا. …انوشیر اس کے ساتھ بیٹھ گیا وہ اس حالت میں نہیں تهی جو انوشیر اسے اکیلا چهوڑتا.وہ اس وقت اس کی کنڈیشن سمجھ سکتا تها…..
انوشیر نے کوئی غصہ کوئی شکوہ شکایت نہیں کی لیکن وہ تو انوشیر سے نگاہیں ملانے کے قابل بھی نہیں رہی تهی…. اس شخص نے زندگی میں کئی بار اسے منہ کے بل گرانے سے بچایا ہے اور آج ایک اور احسان کا بوجھ اس کے سر پر لاد دیا ہے. .کهبی وہ اس سے پوچهنا چاہتی تهی آخر اس کا اس کے ساتھ رشتہ کیا ہے وہ کیوں اس کے لیے ہر بار اپنی جان پر کهیل جاتا ہے……..
انوشیر اسے لے کر اس کے کمرے میں آیا…پوجا وہیں بیٹهی تهی. ..اسے دیکھ کر وہ بهاگ کر اس کے پاس آئی….اس نے تشویش سے آیت کو دیکها. آیت نے نگاہیں چرائیں جیسے وہ اس سے ناراض ہو……
انوشیر اسے بستر پر لٹا کر واپس چلا گیا…پوجا اس کے پاس آ کر بیٹھ گئی…..
” کیا ہوا آیت سب ٹهیک تو ہے.”…وہ پوچھ رہی تهی..ایک شکوہ والی نظر اس ہر ڈال کر وہ پهوٹ پهوٹ کر رو پڑی…پوجا کو مزید تشویش ہونے لگی……
” تم نے ایسا کیوں کیا پوجا…تم مجهے وہاں لے کر کیوں چلی گئیں…اور لے کر گئیں تهیں تو میرے ساتھ تو رہتیں کم از کم.”…..وہ شکوہ کر رہی تهی اس سے…پوجا شرمندہ ہونے لگی….
“آئم سوری آیت مجهے نہیں معلوم تها ..تم کلب میں پہلی بار جا رہی ہو .ورنہ میں تمہیں کهبی نہیں لے جاتی اور وہاں میں اپنے کچھ پرانے دوستوں کے ساتھ مصروف ہو گئی اور تمہارے بارے میں بهول ہی گئی…لیکن تم کہاں چلی گئیں تهیں تمہارے ساتھ کیا ہوا..”….؟
پوجا نے اس کی حالت پر غور کیا..اور آیت نے شروع سے لے کر آخر تک ساری بات بتائی اسے….پوجا کو یقین نہیں آیا مائیکل ایسا کچھ کر سکتا ہے اس نے آیت کو یقین دلایا وہ دوبارہ کهبی مائیکل سے نہیں ملے گی……آیت باقی رات یونہی روتی رہی. ….
[ دسمبر لوٹ آنا تم تحریر ناصر حسین]
_ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _
اس بار انوشیر اس سے ناراض نہیں ہوا تها شاید وہ اس کی آنکهوں میں پشیمانی دیکھ چکا تها.. ..اس نے مائیکل سے ملنا چهوڑ دیا انگریزوں سے وہ ایک بار پھر چڑنے لگی تهی…جو ایک بهروسے کی کونپل پهوٹ رہی تهی اچانک جل گئی……وہ اب زیادہ کسی سے رابطہ نہیں رکهتی تهی. ..دوستوں کے ساتھ بهی اس نے رابطہ تقریباً ختم کر لیا تها…اس کی صرف ایک ہی دوست تهی پوجا….وہ اس کے ساتھ اپنے دل کی ہر بات شئیر کرتی…اور انوشیر اس کے ساتھ اس کا رشتہ کیا تها وہ ابهی تک طے نہیں کر سکی…..
پاکستان بھی اس کا رابطہ ہمیشہ ہوتا…زیادہ وی عروہ آپی سے ہی بات کرتی. .مما بھی اس سے باتیں کرتی تهیں ابو سے بہرحال وہ مہینوں بعد رسمی گفتگو کر ہی لیا کرتی. ….
وہ ٹیرس پر کهڑی تهی اور پرندوں کو آسمان پر جهومتے دیکھ رہی تھی. .جب ہوسٹل کا چپڑاسی اس کے پاس آیا اور اس نے ایک پرچی اس کی طرف بڑهائی……وہ پرچی اس نے کهولی…..
اس پہ لکهی تحریر دیکھ کر وہ بالکل ساکت ہی رہ گئی …
” تم ابهی تک یہیں ہو پاکستان نہیں گئیں لڑکی. ..لگتا ہے تمہیں اپنی زندگی پیاری نہیں ہے. “..تحریر کے الفاظ ہتهوڑے کی طرح اس کے دماغ میں برسنے لگے…کچھ دنوں سے وہ اس معاملے کو نظرانداز کیے ہوئے تهی…کوئی مذاق سمجھ کر. ..لیکن وہ سب ایک بار پھر اس کے سامنے آکر کهڑا ہو گیا.. یہ سب کون کر رہا ہے اس کی جان کا دشمن کون ہو سکتا ہے. .یہ سوال ایک بار اس کے دماغ میں تها…اسے انہی دو لڑکوں پر شک تها جسے اس نے تهپڑ مارا تها…یا پھر شاید وہ افریقن لڑکا جسے پہلے ہی دن اس نے کمرے سے نکلوا دیا تها…یا پھر مائیکل. …؟.
لیکن یہ سب تو مائیکل کے ملنے سے پہلے ہی ہو رہا تھا..ہو سکتا ہے یہ مائیکل ہی ہو…اسے کچھ دنوں پہلے مائیکل کو مارا ہوا وہ تهپڑ یاد آیا ….اور اس کا شک یقین میں بدل گیا……
اگلے دن انوشیر سے باتوں باتوں میں اس نے ان لڑکوں کیا ذکر جنہوں نے سڑک پر بدتمیزی کی تهی..انوشیر سے یہ سن کر اسے حیرت ہوئی وہ لڑکے جیل میں ہیں اور وہ بھی اسی دن سے جس دن سے انہوں نے بدتمیزی کی تهی. ..اب الجهن مزید بڑھنے لگی…شک کے دائرے میں اب وہ افریقن لڑکا اور مائیکل تهے…ان ہی دونوں میں سے کوئی یہ سب کر رہا ہے اسے یقین تها. ……
[ دسمبر لوٹ آنا تم تحریر ناصر حسین]
_ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _
آٹھ مہینے وہ گزار چکی تهی اب صرف چار مہینے بچے تهے .. پهر اسے پاکستان واپس جانا تها ایک بڑی سی ڈگری لیے….. لندن کی سرزمین کو ہمیشہ کے لیے چهوڑ کر…پهر وہی مشرقی زندگی. .ابو کی مرضی سے کسی بھی انجان لڑکے سے شادی وہی گھریلو زندگی. .دو چار بچے…کچن. .ساس سسر کی خدمت. . ..اور اس کے خوب ان کا کیا….؟
اس کے خواب تو ان سب چیزوں کے بیچ ادهورے ہی رہ جائیں گے. .وہ ناول جیسا ہیرو ایک بہت پیار کرنے والا شخص. …وہ سب سپنے ٹوٹ جائیں گے…..وہ اس دن گهاس پر بیٹهے بیٹهے سوچ رہی تھی. …..
” زندگی کتنی تیز گزرتی ہے ناں پوجا…پتا ہی نہیں چلتا…اب لگتا ہے یہ سب کل کی بات ہو میں لندن آئی اور پہلے ہی دن کچن میں زور دار آگ لگائی”……
” پهر تمہیں کس نے بچایا.”..پوجا نے تجسس سے پوچها. …پتا نہیں تها کوئی….پروفیسر صاحب نے بتایا کسی نے اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کر میری جان بچائی لیکن میں کهبی اس سے ملی نہیں . …..وہ اداسی سے بولی……
” کہیں وہ انوشیر تو نہیں تها.” ….پوجا نے اندازہ لگایا…اس نے سر نفی میں ہلایا…..
“نہیں وہ انوشیر نہیں تها کیونکہ انوشیر سے میں بعد میں ملی تھی. ..اور انوشیر شروع شروع میں کافی روڈ تها…بات بھی نہیں کرتا تها…”..
” واہ یار یہ تو پهر کوئی فلمی سین ہو گیا…کہیں تمہارے ناول کا ہیرو تو نہیں نکل کر آ گیا تمہیں بچانے”….
” ہو سکتا ہے. .”..پوجا کهلکلا کر ہنس پڑی. ..لیکن وہ سوچ میں گم ہو گئی اس سوال کا جواب تو اسے واقعی کهبی نہیں ملا وہ کون تها….اور اس دن ندی کے پاس ” وہ چوڑیاں پهینکنے والا…..؟
اور وہ چاولوں میں زہر ملانے والا….؟
پرس میں ڈائمنڈ رنگ ڈالنے والا….”.؟
یہ کچھ ایسے لوگوں تهے جو اسے کهبی نہیں ملے…
اس کے سر میں درد ہونے لگا. ……
اگلے دن موسم اچها تها اس کا موڈ تها باہر کهانے کو اور وہ تیار بھی ہوئی…اس نے انوشیر کو میسج کیا…انوشیر نے جواب میں کہا وہ بزی ہے نہیں آ سکتا…اس کا موڈ آف ہو گیا….اس کی کمپنی بورنگ ہی سہی لیکن اتنی بری کم از کم نہیں تهی……
اور اب یونیورسٹی میں اس کا موڈ مزید آف ہوتا اس لیے مجبوراً اکیلی ہی باہر نکل آئی…بادل آسمان کو گھیرے ہوئے تهے …کئی لوگ سڑکوں پر دکهائی دیے اسے…
وہ ہاتھ بڑها کر ٹیکسی روکنے لگی. ..ٹیکسی روک کر وہ ہوٹل میں آئی….ہوٹل میں اس وقت کافی رش تها. ..وہ ہمیشہ اسی ہوٹل میں آتی تهی وہ ہوٹل زیادہ بڑا نہیں تها لیکن وہاں کا ماحول صاف اور پرسکون ضرور تها. ….وہ ایک کرسی پر جا کر بیٹھ گئی اس کے سامنے گلاب کے تازہ پهول رکهے ہوئے تهے…وہ ان پهولوں کی خوشبو میں کهو گئی…ویٹر آ کر اس کا آرڈر لینے لگا…اس نے اپنے لیے ایک سادہ سی ڈش منگوائی….ہوٹل میں ایک شخص گٹار بجا رہا تھا اس کی دهن میں ساری دنیا کہ اداسی سمائی ہوئی تهی…ایسے جیسے کچھ بچھڑنے کی آواز….جیسے کچھ ٹوٹنے کی آواز ہو…..وہ ٹهوڑی تلے ہتھیلی رکھ کر بے اختیار اس دهن بجانے والے کو دیکهتی رہی….
آس پاس ہر طرف لوگ تهے اور وہ درمیان کے ہی ایک ٹیبل پر بیٹهی تهی. …ویٹر کهانا سرو کر کے جا چکا تها. ..وہ بے دلی سے کهانا کهانے لگی……
بہت اچانک اسے احساس ہوا جیسے کوئی اسے دیکھ رہا ہے. ..پیچھے آگے دائیں بائیں اس نے ہر طرف دیکها..پهر اسے یہ سب وہم لگا. …..
اچانک ایک زور دار گولی چلنے کی آواز گونجی….اور وہ گولی عین اس کے ٹیبل پر رکهے گلدان کو لگی….اس کی چیخ نکل گئی وہ بے اختیار کهڑی ہو گئی. .پورے ہوٹل میں شور پهیل گیا. .اس نے ڈر کر پیچھے دیکها….اور دروازے سے بهاگتے ہوئے جس شخص کو اس نے دیکها اس کے بعد سانسیں اس کا ساتھ چهوڑنے لگی تهیں…بے یقینی کی آخری سیڑھی تهی وہ جس پر آیت اس وقت کهڑی تهی…..وہ بهاگ کر دروازے تک آئی..وہ شخص ہوٹل سے باہر نکل چکا تها …اس نے دور سے اس شخص کو بهاگتے ہوئے دیکها… ہوٹل میں ایک تہلکا مچا ہوا تها….لوگوں کی گہما گہمی تهی کئی لوگ اس سے ٹکرا رہے تھے لیکن وہ وہیں دروازے پر ہی پتهر بن گئی…اس بات میں کوئی شک نہیں تها وہ انوشیر ہے…اب یقین کرنے کے لیے کچھ بھی باقی نہیں رہ گیا تها. .سب کچھ سامنے تها…بالکل قریب….اسے لگا وہ کهبی ہل نہیں سکے گی….کتنی دعائیں کی تهیں اس نے. ..کاش یہ شخص یہ سب نہ کر رہا ہو…لیکن وہی یہ سب کر رہا تھا. …
اس نے منہ پر ہاتھ رکھ کر جیسے اپنی چیخ دبائی. ..وقت کی سوئی رک گئی…آس پاس آوازیں آنا بند ہو گئیں اس کا دل و دماغ صرف ایک ہی بات سوچ رہا تها. .
انوشیر اسے مارنا چاہتا ہے. …وہ اس کا قتل کرنا چاہتا ہے وہ کئی بار ایسا کرنے کی کوشش کر چکا ہے لیکن وہ ہر بار بچ جاتی ہے. …..اسے حیرت سے زیادہ دکھ تها ..ساتھ ساتھ چلنے والے صرف دوست نہیں ہوتے. ..دشمن بھی ہوتے ہیں تو کیا انوشیر بھی اس کا کوئی دشمن تها…کوئی پرانی دشمنی. …..جس کا بدلہ وہ اس سے لے رہا ہے. …..جو بھی تها لیکن آیت آج ٹوٹ چکی تهی ……….
جاری ہے____
