Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode05

December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode05

““““““““““““““““““““““““
اکشے اپنی بیوی مدهو کو غصے سے ڈانٹ رہا تھا. .
تم ایک نمبر کی بے غیرت پتنی ( بیوی) ہو.”….رام نے اپنے پتا ( باپ ) کو اونچی آواز میں چلاتے سنا اور کنچے پهینک کر بهاگتے ہوئے کمرے میں آ گیا __جہاں اس کے پتا بری طرح سے اس کی ماں پہ چلا رہا تھا اور ماں خاموش تهی وہ ہمیشہ ہی خاموش رہتی رام نے کهبی انہیں پتا جی کو جواب دیتے نہیں سنا. …
” تم سے وواہ ( شادی) میری زندگی کا سب سے بڑا پاپ ( گناہ ) ہے” …..اس کے پتا نے زور دار تهپڑ اس کی ماں کے گالوں پہ مار دیا ماں تب بهی خاموش رہیں…پتا جی کمرے سے باہر نکل گئے وہ دوڑتے ہوئے ماں کے قدموں سے لپٹ گیا. ..مدهو اس کے سر کو سہلانے لگا…..اسے ہمیشہ دکھ ہوتا جب اس کے پتا اس کی ماں پہ چلاتے …اور ماں تهوڑی دیر آنسو بہانے کے بعد پهر سے وہی پہلے جیسی بن جاتیں…پهر سے وہی گهر کے کام کرتیں …….
وہ کئی بار سوچتا ماں بولتی کیوں نہیں وہ بھی پتا جی کی طرح زور سے کیوں نہیں چلاتی لیکن اس سوال کا جواب اسے کهبی نہیں ملا…..جب پہلی بار اس نے پتا کو ماں پہ ہاتھ اٹهاتے دیکها تو وہ حیران ہوا….پتا جی زور زور سے ماں کو مار رہے تھے اور وہ برف کی طرح جم چکی تهیں اسے کافی برا لگا.. .وہ اپنی ماں سے بہت محبت کرتا تھا لیکن پتا جی سے وہ کچھ کہہ نہیں سکتا تها اس دن پہلی بار اس نے ماں سے پوچھا. [ دسمبر لوٹ آنا تم تحریر ناصر حسین ] …
” پتا جی نے آپ کو کیوں مارا ماں”….؟ اس نے معصومیت سے ان کی گود میں سر رکھ کر سوال کیا. …”بس یونہی. ..”.وہ دوپٹے سے آنسو صاف کرتے ہوئے بولیں…..
“پتا جی بہت برے ہیں ناں…”.؟ اس نے اپنی ماں کی آنکهوں میں دیکها. ….
” ایسا نہیں کہتے رام…وہ برے نہیں ہیں بس زرا غصہ والے ہیں. “…اس کی ماں نے اسے تسلی دی تهی لیکن وہ جانتا تھا ماں جهوٹ بول رہی ہے پتا جی بہت برے ہیں. …اس کے بعد اس نے ماں سے کهبی نہیں پوچها وہ انہیں کیوں مارتے ہیں وہ چپ چاپ کهڑے ہو کر ایک تماشائی کی طرح سب دیکھتے کچھ روکنے یا بدلنے کی ہمت اس آٹھ سال کے لڑکے میں نہیں تهے..اسے سب برا لگتا لیکن زندگی میں بہت کچھ برا لگتا ہے لیکن سب کچھ بدلا نہیں جا سکتا….وقت کے ساتھ ساتھ اسے ہر شے کی عادت ہونے لگی شروع شروع کے کچھ دن اس نے پتا جی کو صرف ماں پہ غصہ کرتے دیکھا ہے لیکن پهر وہ اسے بھی بات بات پہ ڈانٹنے لگتے اور کهبی کهبی اسے مارتے بھی تهے لیکن وہ بھی ضدی تها وہ جس کام سے منع کرتے وہ بھی جان بوجھ کر وہی کرتا……وہ اسے جتنا مارتے لیکن وہ اپنی ضد سے کهبی نہیں ہٹتا ….وہ نہ روتا تها اور نہ جواب دیتا بس خاموشی سے مار کهاتا …ہمیشہ ماں اسے چهڑانے کی کوشش کرتیں اور پھر پتا جی اسے چھوڑ کر ماں کو مارنا شروع کر دیتے یہ بات اسے اور بھی بری لگتی. …وہ چاہتا تھا وہ اسے جتنا ماریں لیکن ماں کو کچھ بھی نہ کہیں…مگر وہ صرف سوچ سکتا تھا کهبی کهبی وہ سوچتا اس کے پاس کوئی جادو کی چھڑی ہوتی یا اللہ دین کا کوئی چراغ ہوتا جیسا گڑیا کی دادی کہانیوں میں بتاتی تهی جس سے وہ سب ٹهیک کرتا …..لیکن اصل زندگی میں ایسا کچھ نہیں ہوتا نہ جادو کی چھڑی اور نہ ہی اللہ دین کا چراغ یہاں سب خود اپنے بازوؤں سے حاصل کرنا ہوتا ہے …… …
مدهو اور اکشے اگروال کی شادی دس سال پہلے ہوئی تھی مدهو اس سے پہلی بار رکشے میں ملی.وہ دونوں بهارت کے ایک گاؤں درگا نگر میں رہتے تھے ..اکشے رکشہ چلاتا تها اور وہیں سے ہی ان کی دوستی کا آغاز ہو گیا. ..اور پھر رفتہ رفتہ دوستی محبت میں بدل گئی پهر ایک دن اکشے نے اسے شادی کے لئے پرپوز کیا…اور مدهو نے یہ بات اپنے گهر والوں تک پہنچائی مگر انہوں نے صاف انکار کر دیا. ..انکار کی وجہ جہاں ذات اور برداری تهی وہیں انہیں اس بات پہ بھی انکار تها اکشے آٹو چلاتا ہے جبکہ ان کا شہر میں ایک بہت بڑا نام تها…جسے وہ یوں گوانا نہیں چاہتے تھے ..جوانی کا پہلا پیار تها اور پہلے پیار کا نشہ ہی کچھ ایسا ہوتا ہے دیکهنے اور سوچنے سمجھنے کی صلاحیت چهن جاتی ہے یہی ان کے ساتھ بھی ہوا….جب انہیں ہر راستہ بند نظر آیا تو اکشے کے کہنے پہ ہی ان دونوں نے بهاگنے کا فیصلہ کیا. …مگر یہ فیصلہ اتنا آسان نہیں تها وہ گهر سے تو بهاگی مگر بهاگنے کے بعد اس کے گهر والوں کو علم ہو گیا…اب جو لوگ سوسائٹی میں اتنا اونچا نام رکهتے تهے وہ یہ کیسے برداشت کرتے ان کی بیٹی بهاگ گئی. …انہوں نے اپنے اثر و رسوخ کا خوب استعمال کیا جہاں تک کر سکتے تھے ان کی پہنچ کافی دور تک اور کافی بلندی تک تهی ..وہ اکشے اور مدهو کو ڈهونڈنے میں کامیاب ہو جاتے اگر وہ بهارت میں ہوتے….وہ دونوں تو اپنا تهوڑا بہت سازو سامان لے کر ریل گاڑی کے اوپر(اس دور میں آمد رفت کے لیے زیادہ ریل گاڑی کا استعمال ہوتا تھا) پاکستان چلے آئے. یہاں آنے کے بعد انہیں کافی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا. ..اجنبی ملک تها اجنبی لوگ..وہ کسی کو جانتے بھی نہیں تهے یہاں قدم قدم پر ٹهوکریں ان کی منتظر تهیں.پهر بھی انہیں اپنے فیصلے پہ پچهتاوا نہیں تها….کچھ دن تک تو ان کے پاس رہنے کے لیے پیسے وغیرہ تهے لیکن بعد میں اکشے نے دماغ کا استعمال کر کے ایک بہت بڑے وکیل کے بنگلے پہ کام کرنا شروع کر دیا. .مدهو بھی اس کے ساتھ تهی یہاں سب سے بڑی بات تو یہ تهی انہیں شہریت قومیت کے ساتھ ساتھ اپنا مذہب بھی سب سے چهپانا تها…وہ اگر کسی کو بتاتے کے وہ بهارت سے آئے ہندو ہیں تو پاکستانی شاید نہ تو انہیں کام دیتے اور نہ ہی ان کی مدد کرتے….اس لیے اس وکیل کی کوٹھی پہ بھی انہوں نے خود کو مسلمان کے طور پر پیش کیا….وہاں کوئی ان سے مسلمان ہونے کا ثبوت نہیں مانگتا…اور رہی بات نماز قرآن کی تو وہ تو آج کل کے اصل مسلمان بھی نہیں پڑهتے تهے تو ان سے کسی نے کیا سوال کرنا تها. …..
ایک سال تک وہ اس کوٹھی میں کام کرتے رہے پهر اچانک ہی ان پہ انکشاف ہوا وہ دو نہیں تین ہونے والے ہیں. .یہ بات جان کر جہاں مدهو خوش ہوئی وہیں اکشے کی خوشی کا بھی ٹھکانہ نہیں تها……
پهر اکشے کو اپنے کندھوں کا بوجھ مزید بهاری ہوتے ہوئے محسوس ہوا…اور ایک رات اس نے ساری لحاظ سارے احسانات فراموش کر کے وکیل کے گهر پہ ڈاکا مارا….دس لاکھ کی نقدی اور تین تولہ سونا لے کر وہ اس کوٹهی کو ہمیشہ الوداع کہہ گیا. ..گو کہ یہ بات مدهو کو سہی نہیں لگی مگر اس نے مدهو کو جهڑک کر چپ کرا دیا…ان کے درمیان پہلا جهگڑا اسی ڈاکے کو لے کر ہوا تها اور اس کے بعد آہستہ آہستہ تلخیاں بڑهتی گئیں. …اکشے نے مری کے پاس ہی ایک برفانی علاقے میں اپنے لیے ایک چهوٹا سا گهر خریدا…یہ رپوش اور کافی سنسان علاقہ تها بس ان کے گهر کے پاس ایک مسلمان گهرانہ چوہدری افضل کا تها….شروع شروع میں انہوں نے چوہدری کے سامنے بهی خود کو مسلمان ظاہر کیا مگر وقت کے ساتھ انہیں معلوم ہوا اس خاندان سے انہیں کوئی خطرہ نہیں ہے تو انہوں نے کچھ نہیں چهپایا…….
اور پهر ان کے درمیان اجنبیت کی دیوار ختم ہو گئی.وہ پڑوسیوں جیسے نہیں رشتے داروں جیسے ہو گئے اس کی اصل وجہ چوہدری صاحب کی ماں اور بیوی تهی جو کافی خوش مزاج اور ملنسار تهیں…..
یہاں آنے کے عرصہ بعد ان کے ہاں رام کی پیدائش ہوئی…وہ دن بہت خوبصورت دن تها…اکشے کو لگا اب چهوٹا موٹا کاروبار شروع کر کے عیش سے زندگی گزارے گا اور مدهو کی خوشی کا کوئی ٹهکانہ نہیں تها اسے لگا اس نے زمین پہ ہی جنت پا لیا کیونکہ جنت اس کے قدموں تلے آ گئی…لیکن اس کی یہ خوشی وقتی تهی بہار کے دن ہمیشہ مختصر سے ہوتے ہیں. …….اکشے نے تمام پیسہ ایک دکان پہ لگایا جو پانچ سال تک تو سہی چلتا رہا لیکن ایک دن شارٹ سرکٹ کی وجہ سے دکان کے ساتھ ساتھ ان کی امیدیں بھی جل گئیں…اس دن کے بعد اکشے نے نشہ شروع کر دیا اور نشہ بھی سگریٹ سے شروع ہو کر ڈرگز اور ڈرگز سے شراب تک جا پہنچا….وی کافی چڑ چڑا ہونے لگا تها اور پهر وہ مدهو کے ساتھ بھی بری طرح پیش آنے لگا تھا. محبت کا بهوت اتر چکا تها سب ختم ہو چکا تها خواب خیال ٹوٹ چکے تھے اصل زندگی خوابوں سے بہت مختلف تهی…مدهو نے جو زندگی میں خوش رہنے کے خواب دیکهے تهے وہ تو بہت پیچھے کہیں رہ گئے. ..اکشے نے اس پہ ہاتھ اٹهانا شروع کیا تھا وہ کچھ نہیں کر رہی تهی اور کر بھی کچھ نہیں سکتی تھی پیچھے سے ساری کشتیاں جلا کر نکلی تهی اب راستہ صرف آگے جاتا تھا پیچھے تو دهواں ہی باقی رہ گیا. …
وہ صبر کرنے والی عورت تهی اور صبر کر رہی تهی اکشے کے مظالم دن بہ دن بڑهتے ہی جا رہے تھے دکان کے بعد وہ دستی مزدوری کرتا جو کهبی ہوتا اور کهبی نہیں. …لیکن اللہ بهلا کرے ان پڑوسیوں کا جو ان کے دکھ سے غافل نہیں تهے اور دادی ہر مہینے کچھ نہ کچھ پیسے اسے دیا کرتی…. عروج اور گڑیا کے لیے بھی جب وہ کوئی نئی چیز خردیتیں تو رام کو نہ بهولتیں….مدهو ہر پل ان کی مشکور تهی اس کی اپنی زندگی کہیں کهو گئی تهی اب وہ صرف رام کے لیے زندہ تهی…….
یہ غریبی بڑی ظالم شے ہوتی ہے انسان کو عزت خوداری ، جیسے الفاظ پل میں بهلانے ہر مجبور کر دیتی ہے …لیکن اس نے زندگی سی امید نہیں چهوڑی اسے یقین تھا کهبی نہ کهبی صبح ضرور ہوگی……..
_ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _
دهوپ کچھ زیادہ تیز تهی اس دن…جنت آم کے درخت کی چھاوں تلے چار پائی پر بیٹهی تهی اس کے سامنے مدهو بیٹهی تهی. ..وہ اسے موت کا منظر کتاب میں سے کوئی اسلامی واقعہ سنا رہی تھی. …..
گڑیا جهولے پہ جهول رہے تھے. .عروج اور رام سکول گئے ہوئے تھے گڑیا بخار کا بہانہ بنا کر گهر میں رک گئی. .جانے جهولے پہ جهول کر کیسے ٹمپریچر کم ہوتا تها…..اماں اور دادی بھی گهر پہ نہیں تهیں وہ دونوں پاس کے گاؤں میں کسی قران خانی پہ گئی ہوئی تهیں…..گهر پہ وہ تینوں ہی تهیں…..
گڑیا اونچی آواز میں جهولتے ہوئے گانا گا رہی تهی جب جنت نے جنجھلا کر اسے ٹوکا…..
” گانا گانا بری بات ہے گڑیا…”..اس نے تنبیہی نگاہوں سے اسے دیکها. ..
” کیا گانا گانا بھی گناہ ہے تم لوگوں کے مذہب میں.” ..؟ مدهو نے تجسس سے پوچها. …..
“ہاں ہر وہ چیز جو انسان کو جہنم کی طرف لے جائے وہ گناہ ہے.”…….مدهو ابهی مزید بحث کرنا چاہتی تهی جب دروازہ کسی نے کهٹکٹایا……
گڑیا جهولے سے اتر کر دروازے تک گئی…وہ دونوں بھی اسی طرف دیکهنے لگیں…دروازے پہ کوئی فقیرنی کهڑی تهی. .وہ میلے پرانے پهٹے کپڑوں میں ملبوس تهی…اس کے بال الجھے ہوئے تهے……
وہ اندر آ گئی..ویسے جس علاقے میں وہ رہتے تھے وہاں فقیرنی زیادہ آتے تو نہیں تهے کیوں کہ ان علاقہ آبادی سے تهوڑا فاصلے پر تها مگر پھر بھی کهبی کهبی آ ہی جاتے تھے. …..
.جنت اٹھ کر اندر چلی گئی جب واپس آئی تو اس کے ہاتھ میں آٹے کا ایک کٹورہ تها جو اس نے فقیرنی کے تھیلے میں ڈال دیا. ….
” اللہ تم لوگوں کا بهلا کرے”…جنت نے مسکرا کر شکریہ ادا کیا…..
” ویسے میں نجومی بھی ہوں ..”.ہاتھ دیکھ کر قسمت کا حال بتاتی ہوں..”…..اس فقیرنی نے کہا تها. …..
” مجهے ان سب باتوں پہ یقین نہیں ہے. ..غائب کا علم صرف ایک ہی ہستی کو ہے. “یہ صرف شرک ہے. .شرک یعنی اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو شریک کرنا “….جنت نے رسانیت سے اسے جواب دیا. …..
” غائب کا علم واقعی اوپر والے کو ہے…ہم صرف وہی بتاتے ہیں جو لکیروں میں لکها ہوتا ہے. .اور لکیریں کهبی جهوٹ نہیں بولتیں……”
وہ پراسرار انداز میں بولی. ..مدهو بھی ان کی گفتگو سن رہی تھی. ….
“قسمت تو ان کی بهی ہوتی ہے جن کے ہاتھ نہیں ہوتے…اور لکیریں کیا کہتی ہیں یہ معلوم ہو بھی جائے تو فائدہ نہیں کیونکہ اس سے صرف مستقبل کا حال معلوم ہو جاتا ہے یہ یہ نہیں بتاتے مستقبل کو بدلا کیسے جا سکتا ہے. ” ……….
” چل تیری مرضی..”.وہ جانے کے لیے مڑی تبهی مدهو نے اسے آواز دی. …
“ارے ہاتھ دکھانے میں حرج ہی کیا ہے. .”مدهو نے کہا وہ کچھ نہیں بولی اور واپس آ کر چار پائی پر بیٹھ گئی….
اس نجومی نے مدهو کے ہاتھ کو دیکها. .اس کے چہرے پہ ایک رنگ آیا…اور آنکهیں پهیل گئیں…پهر اس نے نفی میں سر ہلاتے جنت کے ہاتھ کو پکڑا بالکل وہی تاثرات اس کے چہرے پہ دوبارہ آئے…..خوف وحشت، ڈر کچھ ایسے ہی تاثرات تهے…..مدهو اور جنت ایک دوسرے کو الجھ کر دیکهنے لگے. ….وہ فقیرنی گردن ہلانے لگی جیسے کسی بات پہ افسوس کر رہی ہو….وہ دونوں ابهی بهی کچھ سمجھ نہیں پا رہی تهیں…پهر اس نے جهٹکے سے جنت کا ہاتھ چهوڑ دیا. …اور ساتھ بیٹهی گڑیا کا ہاتھ پکڑا….
اس کا ہاتھ دیکهتے ہوئے بھی وہ وہی تاثرات لیے ہوئی تھی .اس نے یہ نہیں بتایا ان کے ہاتهوں کی لکیریں کیا کہتی ہیں. …وہ بہت پریشان اور الجهی ہوئی نظر آنے لگی…….
وہ جانے کے لئے اٹهی اور جانے لگی…تبهی مدهو نے اسے پیچھے سے آواز دی…
“ارے بتائیں تو سہی کہا کہتی ہیں ہماری لکیریں. .”.؟جنت نے بھی اسے دیکها…..
” تم لوگوں کی لکیریں جو کہتی ہیں وہ بتانے کے لیے میرے پاس ہمت نہیں ہے. .بس اللہ تعالیٰ سے رحم مانگا کرو. ….تم تینوں کی زندگی میں کچھ نہ کچھ منفرد ہے. ..تم تینوں میں سے ایک جی کر مرے گی دوسری مر کر جیے گی اور تیسری کے ہاتهوں کسی کی بربادی لکهی ہے. ..”..
” لیکن کس کے ساتھ کیا ہوگا یہ میں نہیں بتا سکتی. قسمت صرف اللہ تعالیٰ ہی بدل سکتا ہے تو دعا کرو…باقی ابهی تم لوگوں کو میری باتیں سمجھ نہیں آ رہی …لیکن ایک وقت آئے گا جب تم سب سمجھ جاو گی….چلتی ہوں..رب راکها..”….
وہ تینوں بنا سانس لیے اس فقیرنی کو جاتا ہوا دیکهتے رہے….کیا کہہ گئی وہ اس کی باتوں کا کیا مطلب تها..کس بارے میں بات کر رہی تهی آخر کیا ہونے والا تها. ..وہ کچھ سمجھ اور جان نہیں پائے..
_ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _
مدهو اس وقت چوہدری صاحب کے گهر میں آئی __شام کا سورج غروب ہونے والا تها_وہ رام کو ڈهونڈنے آئی تهی اس کا سارا دن یہیں پہ گزرتا __گهر کے اندر قدم رکهتے ہی اس سامنے جنت قرآن پاک کی تلاوت کرتی ہوئی نظر آئی وہ اونچی اور سریلی آواز میں تلاوت کر رہی تهی___وہ قرآن سننا نہیں چاہتی تھی مگر جانے کیوں جنت کی خوبصورت آواز سن کر وہ کهچی چلی جاتی__ اس وقت بھی وہ یونہی چلتی ہوئی جنت کے پاس آ کر بیٹھ گئی__اور غور سے اسے سننے لگی ایک حرف بھی وہ نہیں سمجھ سکی مگر اس کی آواز وہ سن رہی تهی___
[ دسمبر لوٹ آنا تم تحریر ناصر حسین ]
“”کیا تم مجهے اس کا ترجمہ اردو میں سنا سکتی ہو …؟” دس منٹ بعد جب جنت قرآن پاک کو غلاف میں لپیٹنے لگی تبهی مدهو بولی. ..وہ مسکرا دی اسے ترجمہ حفظ تها …….
” اے اللہ تو بادشاہ ہے حقیقی ہے وہ بادشاہ کی کوئی عبادت کے لائق نہیں مگر تو تو میرا رب ہے اور میں تیرا بندہ ہوں میں نے برا کام کیا اور اپنے نفس پہ ظلم کیا میں اپنے گناہوں کا اقرار کرتا ہوں میرے گناہ بخش دے تمام کے تمام….کیونکہ نہیں بخش سکتا گناہ مگر تو ہی اے اللہ اے رحمن اے رحیم اے رب اے غفور اے شکور اے حلیم اے کریم اے حکیم اے اللہ میں تیری حمد کرتا ہوں اور تو ہی حمد کے لائق ہے تونے مجهے خاص کیا اپنی عمدہ نعمتوں کے عطیات سے اور تو نے پہنچائے میری طرف قدرتوں کے فضائل اور تو نے مجهے عطا کیا ساتھ اس کے احسان سے…”… …..
” تم بہت محبت کرتی ہو اپنے اللہ سے.”….؟ جنت قرآن پاک غلاف میں لپیٹ کر اسے ہونٹوں سے لگا رہی تھی دوپٹہ اس نے حجاب کے انداز میں اوڑھ رکها تها___
” ہاں کیونکہ میرا پروردگار ہے ہی عبادت اور محبت کے لائق_”___
“تم لوگوں کے اس قرآن میں کیا ہے.”….؟ اس نے تجسس سے پوچها. …ایسے کئی سوالات وہ اکثر جنت سے کرتی رہتی تھی. …..
“یہ اللہ کی کتاب ہے جو ہمارے پیارے نبی صلی علیہ السلام پہ نازل کی گئی اس میں سب کچھ ہے دنیا کی ہر شے …..یہ ایک مکمل کتاب ہے مدهو …اس میں سیکھنے کے لیے ہر چیز ہے ….اب تو انگریز اور بڑے بڑے سائنسدان بھی قرآن پاک کے معجزات کو ماننے لگے ہیں. اس میں ہر کسی کی زندگی ہے..”…..
وہ بڑی عقیدت سے بولی تهی. ….
“کیا اس میں میری بهی زندگی ہے…”..جنت مسکرانے لگی….
” ہاں سب کی …تمہاری بھی اگر تم اسے سمجهنا چاہو.”..وہ مدهو کے کاندھوں پہ ہاتھ رکھ کر بولی…..
“لیکن اسے اپنانے کے بدلے میں مجهے کیا ملے گا …؟”
” سب کچھ. …اگر تم نے اسے پا لیا تو سب کچھ پا لیا اسے کهو دیا تو سب کچھ کهو دیا….یہ کتاب ایک راستہ ہے جو تمہیں اور ہم سب کو سہی راستے تک پہنچائے گی…..اس سے تم دنیا میں بھی سب کچھ پا لو گی اور آخرت میں بھی”. …
آسمان پہ پرندے گنگناتے ہوئے اپنے آشیانوں کو واپس لوٹ رہے تهے. …..
” کیا اسے پڑهنے سے میری تمام پریشانیاں دور ہو جائیں گی. .”…اس نے ایک اور سوال کیا…….
“اس پہ عمل کرنے سے تمہاری تمام پریشانیاں دور ہو جائیں گی.” …اس نے تصیح کی. ……
“اس پہ عمل کرنے کے لیے مجهے کیا کرنا ہوگا.”….
“تم اسلام قبول کر لو…”…مدهو کو جهٹکا لگا…وہ خشک چہرے کے ساتھ جنت کو دیکهے گئی اتنی بڑی بات وہ کتنی آسانی سے کہہ گئی……
“نہیں میں ایسا نہیں کر سکتی. …اب ایسا نہیں ہو سکتا اب بہت دور ہو گئی. …”..وہ ہم کلامی کے انداز میں بڑبڑانے لگی……
“واپس جانے کے لیے دیر کهبی نہیں ہوتی…تم آج بھی وہیں کهڑی ہوگی جہاں سے تمہارا سفر شروع ہوگا…تمہاری پچھلی زندگی کو نہیں یاد رکها جائے گا .تم آگے کیا کرو گی یا دیکها جائے گا. ..اللہ تعالیٰ کے نناوے ناموں میں سے ایک نام یا تواب ہے جس کے معنی توبہ قبول کرنے والے ہیں….اور تم سچے دل سے توبہ کرو وہ تمہیں نہیں ٹهکرائیں گے..”…
“نہیں. ..نہیں. …نہیں ایسا ممکن نہیں ہے جنت..اکشے اس بات کے لیے نہیں مانیں گے. …میں بکهر جاوں گی”. …
وہ ڈرتے ہوئے بولی. ..اس کے دل میں اکشے کا ڈر بیٹها ہوا تها وہ جانتی تھی اگر اس نے ایسی کوئی بات کی تو وہ اسے جان سے مار دیں گے. …..
“اللہ تعالیٰ کے ناموں میں سے ایک نام رقیب بھی ہے جس کا مطلب ہے نگہبانی کرنے والا…..تم بس اللہ پہ بهروسہ کرو راستہ تمہیں خود بخود نظر آئے گا. ..اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ کے حوالے کرو کهبی ٹهوکر نہیں کهاو گی.”…….
وہ ہلکا سا مسکرائی. …جبکہ مدهو گهبرا کر کهڑی ہو گئی جیسے وہ جنت نہیں تهی کوئی مقناطیس تهی جو اسے اپنی طرف کهینچ رہی تهی. .کیا کہہ رہی تهی وہ کیوں کہہ رہی تھی ایسا کیسے ہو سکتا ہے. ..یوں مذہب بدلنا کوئی آسان تها کیا…..وہ الٹے قدم چلتی ہوئی پیچھے کی طرف جا رہی تهی ….وہ واقعی بهول گئی تھی وہ یہاں کیا کرنے آئی تهی……..
” تہ….تہ…..تم مجهے گمراہ کر دو گی….”.وہ لرزتی ہوئی آواز میں بولی..جنت بھی قرآن پاک ہاتهوں میں لیے کهڑی ہو گئی. ….
” میں تمہیں گمراہ نہیں کر رہی مدهو. …تم خود ہی گمراہی کے رستے پر ہو.”…وہ تاسف سے بولی اور مدهو بهاگتی ہوئی حویلی سے باہر نکل گئی. . . ….
وہ اگلے کچھ دن تک جنت سے دور رہی کیونکہ جنت کی باتوں میں ایسی تاثیر تهی جس سے وہ خود کو روک نہیں پاتی تهی …مدهو نے پہلے بھی کئی بار اسے اسلامی واقعات سنائے اسلام کی اہمیت بتائی اسے یہ بتایا یہ کتنا خوبصورت دین ہے. . لیکن اسلام قبول کرنے والی بات اس نے پہلی بار کہی تھی تو اس کا یوں ری ایکٹ کرنا لازمی تها……….
جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *