December Lout Ana Tum by Nasir Hussain NovelR50779 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode30
Rate this Novel
December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode01 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode02 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode03 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode04 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode05 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode06 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode07 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode08 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode09 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode10 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode11 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode12 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode13 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode14 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode15 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode16 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode17 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode18 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode19 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode20 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode21 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode22 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode23 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode24 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode25 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode26 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode27 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode28 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode29 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode30 (Watching)December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode31 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode32 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode33 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode34 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode35 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode36 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode37 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode38 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode39 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode40 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode41 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode42 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode43 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode44 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode45 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Last Episode
December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode30
December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode30
•••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••
آیت پوجا کے ساتھ پکنک پر آئی ہوئی تھی مغرب کی نماز کا وقت ہوا وہ پوجا کو باہر چهوڑ کر نماز ادا کرنے کیمپ کے اندر چلی گئی. ….دس منٹ لگے تهے اس نماز ختم کرنے میں جب وہ دس منٹ بعد باہر نکلی تو پوجا اسے کہیں دکهائی نہیں دی…….
وہ متلاشی نگاہوں سے ادهر ادهر دیکهنے لگی…تاریکی بڑھ چکی تهی وقت پهسل رہا تها. …
لیکن پوجا وہ کہاں تهی…کہاں چلی گئی ایسے کیسے جا سکتی ہے. ….وہ وہیں کیمپ کے پاس کهڑی ہو کر چاروں طرف دیکهنے لگی …دور دور تک پوجا کا نام و نشان تک نہیں تها…حیرت کے ساتھ ساتھ اسے ڈر بھی لگنے لگا……وہ تهوڑا آگے آئی…اس نے منہ کے درمیان ہاتھ کا گولا بنایا اور پوجا کو زور زور سے پکارنے لگی…اس کی اپنی ہی آواز اونچے اونچے درختوں سے ٹکرا کر واپس آ رہی تھی. …اس کے ماتهے پر پریشانی کی لکیریں نمودار ہوئیں….
لیکن اس نے آواز دینا ترک نہیں کیا تها …
” پوجا..”…درختوں کے بیچ زمین اور آسمان کے درمیان اس کی آواز معلق تهی کہیں. …..
” ہائے ڈارلنگ. ..”..آواز اسے پیچھے سے سنائی دی..وہ کوئی بهاری مردانہ مانوس سی آواز تهی….اس نے تیزی سے سر گهمایا اس کا دوپٹہ سر سے اتر کر کاندهوں پر آ گرا……اسے لگا زمین اسے پناہ دینے سے انکاری ہو رہا ہے. ..سامنے کهڑے شخص کو دیکھ کر اس کے حواس گم ہو گئے. ….
“مائیکل. “…؟ نہیں نہیں وہ یہاں کیسے آ سکتا ہے اس کا یہاں کیا کام…؟ وہ مکروہ مسکراہٹ لیے کهڑا تها…اس پر کپکپاہٹ طاری ہونے لگی…….
“تہ..تہ..تم یہاں کیا کر رہے ہو پوجا کہاں ہے”. …؟ وہ دو قدم پیچھے ہٹی …..
“:میں یہاں ہوں”…..یہ پوجا کی آواز تهی. …اس نے پیچھے مڑ کر دیکها…پوجا ہاتھ باندهے سپاٹ چہرہ لیے کهڑی تهی. ….
“پوجا…یہ ..یہ مائیکل یہاں کیسے” ..؟ الفاظ ٹوٹے نکل رہے تھے منہ سے…..
پوجا نے ایک زور دار قہقہہ لگایا. ..پهر وہ قہقہے لگاتی گئی..اور ان قہقہوں میں مائیکل کے قہقہے بھی شامل ہو گئے…وہ پهٹی ہوئی نگاہوں سے کهبی مائیکل کو تو کهبی پوجا کو دیکهتی…….
_ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _
انوشیر نے اپنی بائیک روک دی…اور لمبے لمبے ڈگ بهرتا سیڑھیاں چڑهنے لگا. …آیت کے کمرے کے سامنے رک کر وہ ٹهٹک گیا. دروازے پہ لاک لگا تها…وہ وہاں نہیں تهی….اسے جهٹکا لگا….وہ کہاں گئی وہ بھی رات کو اس وقت ……ایک انجانا خوف اس کے دل میں اترنے لگا…..اس نے پاس والے کمرے کے دروازے پر دستک دی….ایک بهورے بالوں والی لڑکی نکلی. ..انوشیر نے اس سے آیت کے بارے میں پوچها اسے حیرت ہوئی وہ پکنک پر گئے ہیں اور یہ جان کر اسے کرنٹ لگا وہ دونوں پکنک پہ جنگل کی طرف گئے ہیں. ..بقول اس لڑکی کے یہ بات آیت نے اسے بتائی تهی صبح….وہ افسردہ سے چہرہ لیے واپس مڑا…اس نے تاسف سے اس بند دروازے کو دیکها. …..اور ایک زور دار مکا دیوار پر مارا…غصے سے اس کا چہرہ لال ہو گیا…..
” اف یہ پوجا….”..اسے پوجا پر حد سے زیادہ غصہ آنے لگا…اس کا دل چاہا وہ پوجا کو قتل کر دے یا اب تک اس کا قتل کر چکا ہوتا تو اچھا تها……..
پوجا سے اس کی ملاقات یونیورسٹی آنے کے پہلے ہی دن ہوئی…اور پہلے ہی دن وہ اسے اچهی نہیں لگی. .کافی چھچھوری اور ماڈرن تهی وہ….ایسی لڑکیوں سے وہ نفرت کرتا تها انفیکٹ وہ تو لڑکیوں سے ہی نفرت کرتا تها…..پوجا اس کے سامنے آئی اور پوجا نے اسے صاف لفظوں میں اپنی پسندیدگی بتا دی….اس کے لیے یہ نئی بات نہیں تهی …ہر دوسری لڑکی اس پر فدا ہو جاتی وہ اپنے غیر معمولی حسن سے ناواقف کهبی نہیں رہا تها بے نیاز ضرور تها……
اس نے پوجا کو صاف لفظوں میں کہا وہ لڑکیوں میں دلچسپی نہیں رکهتا خصوصاً اس میں. ..پوجا کو یہ بات ہضم نہیں ہوئی تهی شاید…..اسے اتنے صاف انکار کی توقع نہیں تهی وہ خود بھی کوئی معمولی لڑکی نہیں تهی اسے آج تک کسی نے نہیں دهتکارا ہوگا. .اسے ٹھکرانے والا پہلا لڑکا وہ تها اور پوجا کے لیے یہ بات کسی بے عزتی جیسی تهی…….
اس کے بعد پوجا آیت کے روم میں شفٹ ہو گئی…وہ اسے دیکھ چکا تھا لیکن یہ بات اس نے سرے سے ہی نظر انداز کر دی…اسے لگا وہ اب تک سب کچھ بهلا چکی ہوگی مگر وہ غلط تها…..اس کا آیت کی روم میں شفٹ ہونا کوئی اتفاق نہیں تها. ……ایک سازش تها ایک گہری سازش…اسے اس بات کا غصہ تها وہ اس سے نہیں بات کرتا آیت سے بات کرتا ہے اس کی مدد کرتا ہے اور یہی وہ برداشت نہیں کر سکی……….
اس دن آیت کهلے بازوؤں والی ٹی شرٹ پہن کر باہر نکلی تو وہ اسے کافی بری لگی…وہ ایسی لڑکی نہیں تهی جو یوں اس طرح سر عام اپنا جسم دکهاتی. ..اور اسی دن ہی دو لڑکے اسے چهیڑنے لگا اس وقت اس نے ایک پل کے لیے بھی نہیں سوچا تھا وہ پوجا کے بھیجے ہوئے لڑکے ہو سکتے ہیں. ….اس نے ان لڑکوں کو جیل بهجوا دیا تها کیونکہ یہی سہی لگا تها اسے…اس کو آیت پر بھی غصہ تها اس کے کپڑوں پر بھی اس دن پہلی بار اس نے آیت کو تهپڑ مارا…جس کا بعد میں اسے بہت افسوس بھی ہوا………
اور پهر آیت نے اسے کال کر کے شاپنگ مال بلایا…اس دن وہ ڈائمنڈ رنگ چوری کے الزام میں گرفتار ہونے جا رہی تهی. .اسے یقین تها وہ ایسی لڑکی نہیں ہے جو چوری کرے ..لیکن یہ سب کیسے ہوا اس کی پرس میں ڈائمنڈ رنگ کہاں سے آیا کس نے ڈالا ہوگا یہ سوال اسے پریشان کر رہا تھا. ..وہ چاہ کر بھی یہ نہیں سوچ رہا تها یہ سب پوجا کر رہی ہے. …….
پوجا سے وہ ایک دو بار پهر ملا تها اور ہر بار اس نے پوجا کو رکھائی سے جواب دیا…ایک غیرت مند مرد کی یہی نشانی ہوتی ہے وہ ہر دوسری لڑکی کی طرف نہیں کهینچا چلا جاتا اور وہ بے غیرت ہرگز نہیں تها…….
پهر کچھ دنوں بعد جو ہیوی لوڈر اس سے ٹکرایا جو آیت کے اوپر آ رہا تھا اس نے اسے بہت ڈرا دیا. .اس دن پہلی بار بیٹھ کر وہ یہ سب واقعات ترتیب دینے لگا تبهی اس کی چهٹی حس نے اسے پوجا کی طرف متوجہ کیا…وہ اگلے دن سیدھا یونیورسٹی آیا تها اس نے سپاٹ لہجے میں پوجا سے کہا. ….
” تم جو یہ سب کر رہی ہو یہ کرنا بند کر دو سمجهی…ورنہ میں جو کروں گا وہ تم برداشت نہیں کرو گی.”…اس نے پوجا کو دهمکی دی تهی…
“:تمہیں جو کرنا ہے کرو. ..یا تو مجھ سے پیار کرو یا پهر تمہیں حاصل کرنے کے لیے میں خود ہی کوئی راستہ نکالتی ہوں. .ویسے اگر تمہارا ارادہ آیت کو بتانے کا ہے تو یہ تمہاری بهول ہے وہ میرے خلاف تمہاری کسی بھی بات کا یقین کرے گی…”…
وہ سہی کہہ رہی تھی آیت پوجا کے خلاف کسی بھی بات پر یقین کهبی نہیں کرتی. .کیونکہ اس کم عرصے میں وہ اس کی اچهی دوست بن چکی تهی….اب اسے خود ہی کچھ کرنا تها…وہ مٹهیاں بهینچے اس دن وہاں سے چلا آیا تها…..اور پھر اس نے رات کے وقت پوجا کو سب کچھ بتانے کی کوشش کی. ….وہ جب رات کو ہوسٹل کے پاس آیا…تو عین ان کے کمرے والی کهڑکی سے کوئی اندر داخل ہو رہا تھا. .اس نے حیرت سے اس شخص کو دیکھا. ….وہ جب باہر نکلا تو وہ خود اس کهڑکی کے پاس چلا گیا یہ دیکهنے اس شخص نے کہیں آیت کو کوئی نقصان تو نہیں پہنچایا اور یہ دیکھ کر اسے تسلی ہوئی آیت ٹهیک ہے. .وہ کهڑکی سے نیچے کود کر باہر آیا ……اس نے بات کرنے کا فیصلہ اگلے دن تک ملتوی کر دیا. …..
اگلے دن جب آیت نے اسے افطاری پر بلایا اس نے تبهی آیت کو پوجا کی اصلیت بتانے کا فیصلہ کیا تها…لیکن چاول کهاتے ہی اسے ابکائی آئی اور وہ بے ہوش ہو گیا…ہسپتال میں جب پولیس آیت کو لے جانے لگی تو اس کا دل جانتا تها وہ معصوم ہے بے گناہ ہے اس میں بھی پوجا کی کوئی سازش ہوگی….وہ اس سے بات نہیں کر سکا. ……..
کچھ دنوں تک وہ اس سے اس معاملے پر بات نہیں کر سکا …آیت کی مائیکل کے ساتھ ہیلو ہائے ہونے لگی وہ جانتا تها مائیکل بهی اس سازش کا حصہ ہے کیونکہ اس رات اس نے مائیکل کو ہی دیکها تها…اس نے آیت کو منع کر دیا اس سے ملنے کے لیے. ..لیکن وہ احمق تهی نادان تهی اسے اس کی بات سمجھ نہیں آئی…یونیورسٹی میں بھی اس نے کہا تها” آپ کون ہوتے ہیں مجھ پر حکم چلانے والے ” یہ سن کر اسے کافی تکلیف ہوئی…وہ غصے میں اس وقت وہاں سے آ گیا تها لیکن آیت کے معاملے میں وہ لاپرواہ نہیں ہوا تها…پهر جب وہ کلب میں مائیکل اور پوجا کی سازش کا شکار ہوئی…تو اسے معلوم چلا ان سب میں آیت کا کوئی قصور نہیں ان دونوں نے جال ہی ایسی بچهائی ہے وہ خود کو روک ہی نہ سکی….اسے یقین تها اب وہ دوبارہ مائیکل سے کهبی نہیں ملے گی…..اور وہی ہوا. …
.کچھ دن بعد آیت نے اسے ہوٹل پر کهانے کے لیے چلنے کو کہا وہ بزی تها…لیکن بعد میں اسے خیال آیا وہ اکیلی ہوگی…تو وہ ہوٹل پہنچا. ..وہ اسے ڈهونڈتے ڈهونڈتے آگے آیا…پهر کسی نے پیچھے سے آیت پر گولی چلائی اور دروازے کی طرف بهاگ گیا. .وہ بھی ان کے پیچھے بهاگا …آیت نے اس شخص کو تو نہیں البتہ اسے ضرور دیکھ لیا تها پهر اسے یقین تها وہ اس سے سوال جواب کرنے آئے گی…..لیکن وہ اس حد تک بدگمان ہوگی اس سے یہ اس نے نہیں سوچا تها……
وہ کچھ دن اس سے رابطہ نہیں کر سکا ناں اس نے رابطہ کیا تها اور آج….یہ بهیانک انکشاف وہ پوجا کے ساتھ گئی ہے. …اس کی چهٹی حس اسے کچھ غلط اشارے کر رہی تهی. ……وہ موٹر بائیک تک آیا..اس نے کک ماری کر بائیک پوری رفتار کے ساتھ دوڑا دی….
_ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _
وہ کنفیوژڈ ہو کر پوجا کو دیکھ رہی تھی جو بے مقصد ہنس رہی تھی. .اس کی ہنسی میں ایک چهبن تهی…مائیکل آگے بڑھ رہا تھا. ..وہ خوف سے اسے دیکھ رہی تھی. ..مائیکل نے آگے بڑھ کر اس کی کلائی پکڑی. ..اور وہ کسی معصوم شکاری کی طرح اپنے شکار کو دیکهنے لگی. .اس نے رحم طلب نگاہوں سے پوجا کی طرف دیکها. ….وہ خاموشی سے یہ سب دیکھ رہی تھی. …..
بے بسی سے اس کی آنکھوں میں آنسو آ گئے. ..مائیکل اس کهینچ کر کسی طرف لے کر جا رہا تها اس نے پوجا کو آواز دی مگر پوجا نہیں سن رہی تهی…کیا ہونے والا تها آج کی رات کیا کرنے والی تهی اس کے ساتھ. …مائیکل اسے ایک درخت کے پاس لے آیا.. پوجا بھی ایک رسی لیے اس کے پاس آئی……مائیکل نے اسے دهکا دے کر درخت کے ساتھ لگایا اور اس کے کندھوں کو زور سے پکڑ لیا…..پوجا اب وہ باریک ڈوری اس کے گرد لپیٹنے لگی ایسے جیسے اسے باندها جا رہا ہو…….
[ دسمبر لوٹ آنا تم تحریر ناصر حسین]
اس نے تاسف اور غم کی ملی جلی کیفیت میں پوجا کو دیکها جس کے چہرے پر رحم نام کی کوئی چیز دور دور تک دکهائی نہیں دے رہی تهی. …..
“:پوجا یہ سب کیا ہے…تم …تم …یہ کیا کر رہی ہو…”اس نے روتے ہوئے پوجا سے پوچها……
صبر کرو میری جان ابهی تو پارٹی شروع ہوئی ہے…پوجا نے اس ڈوری کو آخری بل دیا تها….
مائیکل پیچھے ہٹا تها….وہ مائیکل کو نہیں پوجا کو دیکھ رہی تھی. .دهوکے کی ایک سیڑھی ایسی ہوتی ہے جب انسان کو دهوکے سے زیادہ دهوکہ دینے والے پر حیرت ہونے لگتی ہے …وہ بھی حیران سی تهی. ..جب رشتوں پر سے پردہ اٹهتا ہے تو کیا ایسی ہی تکلیف دہ حقیقت سامنے آتی ہے. ..یونہی سب ختم ہو جاتا ہے. …
“پوجا خدا کے لیے مجهے کهولو…”.وہ چلائی .پوجا نے ایک زور دار تهپڑ اس کے منہ پر لگایا اور دانت چبا کر اس کی آنکھوں میں دیکها…..
“شٹ اپ. ..کوئی مشورہ نہیں سمجهی. “…اس کے بال بکهر گئے…مائیکل دور ہاتھ باندهے کهڑا تها…جیسے اس کا اس معاملے سے کوئی تعلق ہی نہیں ہو…..
“کیوں کر رہی ہو میرے ساتھ ایسا…میں نے کون سا گناہ کیا ہے .”…؟ وہ بے بس ہو کر رو رہی تھی. ….
“مجهے اتنا ذلیل کیا تم نے اور پوچهتی ہو میں نے کون سا گناہ کیا ہے” ….؟
” میں نے کیا کیا ہے. .”…ایک الجهن بهرا تاثر…..
“تم انوشیر کو مجھ سے کیوں چهیننا چاہتی ہو”….؟ پوجا نے زور سے اس کے بالوں کو پکڑا…….
“انوشیر. ..”؟ آیت نے انوشیر کا نام دہرایا وہ کہاں سے آ گیا بیچ میں. ..
“ہاں میں انوشیر سے محبت کرتی ہوں لیکن وہ مجھ سے محبت نہیں کرتا…”…پوجا نے دکھ کے ساتھ اسے دیکها. ..” جانتی ہو وہ مجھ سے محبت کیوں نہیں کرتا..”..؟ آیت نے اس کی آنکھوں میں دیکها….
” کیونکہ وہ تم سے محبت کرتا ہے. “….بادلوں کی گرج سنائی دی اسے….وہ منہ کهولے حیرت سے پوجا کو دیکھ رہی تھی. ….
” نہیں. ..نہیں پوجا تمہیں غلط فہمی ہوئی ہے ایسا کچھ نہیں ہے. . وہ مجھ سے محبت نہیں کرتا.وہ تو بس یونہی.” …….
پوجا نے اس کے منہ پر ایک اور تهپڑ مارا…اور غصے سے اس کی طرف دیکها……
” محبت نہیں کرتا….؟ تم کہتی ہوئی وہ تم سے محبت نہیں کرتا…یونہی کوئی کسی کے لیے آگ میں نہیں کود جاتا …یونہی کوئی کسی کی مدد کے لیے شاپنگ مال میں نہیں پہنچ جاتا …یوں ہی کوئی کسی کے لیے ٹرک کے نیچے نہیں آ جاتا. …کوئی یونہی کسی کے لیے زہر نہیں کهاتا….کیا یہ محبت نہیں ہے. .اگر یہ محبت نہیں تو کیا ہے…وہ میرے لئے یہ سب کیوں نہیں کرتا وہ پوری یونیورسٹی میں کسی اور کے لیے یہ سب کیوں نہیں کرتا. …جس دن اس نے مجهے ٹھکرایا تها اسی دن وہ تمہیں بچانے کے لیے آگ میں کود گیا..اپنی جان کی پروا کئے بنا…وہاں ہزاروں لوگ کهڑے تهے کوئی اور کیوں نہیں آیا تمہیں بچانے.” …؟
آیت اسے عجیب انکشافات کرتا دیکھ رہی تھی. ..
” محبت. .”.؟ تو کیا وہ اس سے محبت کرتا ہے اور…اور اس دن اسے آگ سے انوشیر نے بچایا تها…حیرتوں کے پہاڑ ٹوٹے تهے اس پر اور آج اس کو سارے سوالوں کے جواب مل رہے تھے لیکن کب کہاں کس موڑ پر. …..
جاری ہے
