Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode36

December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode36

•••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••
…فرش پہ انوشیر کی آئی ڈی کارڈ نظر آئی…اس نے جهک کر وہ کارڈ اٹهایا …اس پہ انوشیر کی تصویر لگی ہوئی تھی. ..آئی ڈی کارڈ میں بھی وہ کافی پرکشش لگ رہا تھا. ..وہ اس سے نگاہیں نہیں ہٹا سکی….تصویر سے نظر ہٹی تو نام پہ نظر پڑی…ایک بچهو تها جس نے اسے ڈنک مارا …..
اس نے آنکهوں کو بے یقینی سے مسل کر ایک بار پھر نام کو دیکها…اس کی آنکھوں کے سامنے زمین آسمان گهومنے لگے. …اس کے کان سائیں سائیں کرنے لگے. …شرٹ اس کے ہاتھ سے چهوٹ کر نیچے گر گئی. .اس کے اندر کچھ ٹوٹا تها کہیں وہ دل تو نہیں تها…..؟
اس کا جسم حرکت کرنا بهول گیا…دماغ میں آندهیاں چلنے لگیں…وہ سانس لینا بھی بهول چکی تھی. .اس کے جسم سے جان نکلتی جا رہی تھی. …..
“”دهوکہ. …؟ اتنا بڑا دهوکہ. .”.. اس شخص نے اسے منہ کے بل گرایا تھا اور ایسے گرایا وہ دوبارہ زندگی میں کهبی کهڑی ہونے کے قابل نہیں رہی تهی…اسے سب کچھ ختم ہوتا دکهائی دیا…سب کچھ بهاپ بن کر ہواؤں میں اڑ رہا تھا. …اس کی زندگی کے یہ دس مہینے مکمل طور پر آتش کی زد میں تهے……..
سب کچھ آنکهوں کے سامنے تحلیل ہوتا جا رہا تها وہ خود بھی کچھ لمحوں بعد تحلیل ہو جاتی ..جیسے پانی میں نظر آنے والا بلبلا. ….
اسے کہیں سے قہقہے سنائی دیے…کوئی ہنس رہا تھا اس پر …اور ہنسنے والی دیواریں تهیں…کهڑکی تهی…پینٹنگز ، بیڈ صوفہ ، کمرے میں موجود ایک ایک چیز کے دانت نکل آئے…..سبهی اس کی حماقت پر ہنس رہے تھے. .. وہ اب کس کس سے کہے گی وہ چہروں کو شناخت کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے. ..؟
اس نے اپنے گالوں پر نمی کو محسوس کیا..وہ وہیں کهڑے کهڑے جم چکی تهی. .برف بن چکی تهی. . وہ جانتی تهی جب یہ برف پهگلے گا تو طوفان آئے گا. ..اس کی آنکھوں نے اس شخص کو باہر نکلتے دیکها..وہ بنا شرٹ کے وہیں رک کر اسے دیکهنے لگا. .پهر اس کی نظر اس لڑکی کے ہاتھ میں موجود آئی ڈی کارڈ پر پڑا….. بے اختیار اس نے اپنے ہونٹ کاٹ لیے…….اور وہ .وہ شخص کون تها.. ؟ وہ تو اسے پہلی بار دیکھ رہی تھی …وہ تصویر اسی شخص کی تهی مگر وہ تها کون….؟.
اتنا بڑا دهوکہ. ….برف پهگل چکی تهی وہ حواسوں میں لوٹ آئی لیکن کب جب سب کچھ ختم ہو چکا تها.
” دیکهو آیت ایسا کچھ نہیں ہے جیسا تم سوچ رہی ہو.”..؟.
وہ کہہ رہا تها ایسا کچھ نہیں ہے. اور وہ. وہ کیا سوچ رہی تهی وہ کیا سوچ سکتی تهی سن ذہن کے ساتھ. .اب کیا بچا تها سوچنے کے لیے سب کچھ تو واضح تها…
” میرا یقین کرو. ..”..وہ ایک قدم آگے بڑھا. .بے اختیار وہ روتے ہوئے ایک قدم پیچھے ہٹی. …
“یقین. “.؟ اب یقین کرنے کے لیے کیا باقی رہ گیا. .سارا یقین اعتبار تو وہ خود ہی توڑ چکا تها اب وہ کیسے یقین کرتی…..
“دیکهو بیٹھ کر بات کرتے ہیں. .میں آپ کو پورا سچ بتاتا ہوں…”..اس سے بڑھ کر کون سا سچ باقی تها….
اور جهوٹ بولنے کی کوشش بھی مت کرنا مسٹر روحل آفتاب. ….وہ بهرائی ہوئی آواز میں بولی. ..اور منہ پر ہاتھ رکھ کر بهاگتی ہوئی کمرے سے باہر نکلی….وہ بھی اس کے پیچھے پیچھے آ رہا تها لیکن آیت نے اندر سے دروازہ بند کر دیا…….وہ اب دروازے کو پیٹ رہا تها وہ نہیں سن رہی تھی. ….وہ بهاگ کر گرل والی کهڑکی کے پاس آیا ….
” دیکهو آپ مجهے غلط سمجھ رہی ہو..مجهے صفائی پیش کرنے کا ایک موقع تو دیں.”
…..یہ آخری جملہ تها جو اس نے سنا.. .وہ بهاگ کر اس اپارٹمنٹ سے باہر نکلی. ..اور سڑک پر روتے ہوئے چل رہی تهی. ..آنسو رکنے کا نام ہی نہیں لے رہے تھے. ….اسے نہیں معلوم اس کے قدم اسے کہاں لے کر جا رہے تھے. ..اتنا بڑا دهوکہ کها کر وہ کہاں جاتی……..
روحل آفتاب تو یہ شخص روحل آفتاب تها…اتنا بڑا جهوٹ اتنا بڑا دهوکہ کوئی کیسے دے سکتا ہے. …
وہ اسے ٹهکرا کر آئی تھی اور وہ ٹھکرائے جانے کا بدلہ لینے کے لیے لنڈن پہنچ گیا. ..اس نے ضد باندھ لی تهی وہ اس لڑکی سے بدلہ لے کر ہی رہے گا. …اور وہ. …وہ. ..اس دن پارک میں اس سے ملنے کون آیا تها…..؟.
“مجهے ایسا لگتا ہے جیسے انوشیر آپ کو پہلے سے ہی جانتا ہو….”؟
” آر…اے …رضا انوشیر نہیں روحل آفتاب…”
وہ ننگے پاؤں بهاگتی ہوئی دوڑ رہی تهی اس آس پاس کچھ بھی دکهائی نہیں دے رہا تها. …وہ تو اپنے آپ کو بھی کهو چکی تهی اس بهیڑ میں. …..
” میں لڑکیوں سے پیسے نہیں لیتا.”… .
” دوپٹہ ہی لڑکیوں کا اصل زیور ہے. “….
” میں آپ کو رسوا ہونے دے سکتا ہوں کیا. “..؟
” میں آپ کو کهبی فیل ہونے نہیں دوں گا….”..
“دهڑام.”…تاج محل ٹوٹ کر زمین پر آ گرا…خواب ٹوٹ کر بکھر گیا. .اور خواب کی تعبیر اتنی بهیانک ہوگی یہ اس نے نہیں سوچا تها. ..کتنے کتنے چہرے ہوتے ہیں انسانوں کے….احمق تهی وہ نادان تهی جو دنیا کو اپنے جیسا سمجهتی تهی…محبت کے نام پر طمانچہ مارا گیا تها اس کے منہ پہ….وہ محبت نہیں تهی وہ تو بدلہ تها وہ تو صرف انتقام کے لیے لنڈن آیا تھا …..
جب چہروں سے نقاب اترتے ہیں تو وہ اتنے ہی خوفناک ہوتے ہیں جب انسانوں کا باطن نظر آنے لگتا ہے تو یونہی سب ختم ہو جاتا ہے جیسے اس کا سب کچھ ختم ہو رہا تها……..دس مہینے لگے تهے سب کچھ بننے میں ٹوٹنے میں دس سکینڈز بھی نہیں لگے…….وہ بهاگ کر یونیورسٹی میں داخل ہوئی سبهی سٹوڈنٹس ہاتهوں میں بکس لیے کهڑے تهے…اب کیا باقی تها…اب تو کچھ بھی نہیں بچا تها. ..وہ آنسو بہاتی بهاگ کر اپنے کمرے تک پہنچی…..غصہ، دکھ، پچهتاوا کیا کیا نہیں تها اس وقت اس کے چہرے پر. ..اس نے بیڈ کے نیچے سے وہ بیگ نکالا…..اور روتے ہوئے جا کر الماری کھولی. …وہ اس میں اب ایک ایک چیز رکھ رہی تهی. …دهندلی آنکھوں سے وہ اپنا سب کچھ اس بیگ میں پیک کرتی جا رہی تهی. ……..
کیوں. ..کیوں. .کیوں…اس کے ساتھ ہی ایسا کیوں ہوا اسے ہی اتنا بڑا دهوکہ کیوں ملا تها..اس کا دل خون کے آنسو رو رہا تھا. .آج تو ماتم کا دن تھا سب کچھ ختم ہو گیا تها…..بیگ پیک کر کے اس نے ایک نظر مڑ کر اس کمرے کو بھی نہیں دیکها جس میں وہ دس مہینے سے رہ رہی تھی …بهاگتی ہوئی وہ سیڑهاں اتری ..آنسو نہیں رک رہے تھے. ..اس رفتار سے وہ تمام سٹوڈنٹس کے سامنے بهاگتی یونیورسٹی کے گیٹ تک آئی…سبهی آج اس پاکستانی لڑکی کی بے بسی کا تماشا دیکھ رہے تھے . ..اس نے ٹیکسی کو ہاتھ کے اشارے سے روکا …اور ٹیکسی میں بیٹھ کر ایک آخری بار اس اونچی عمارت کو دیکها جو اسے راس نہیں آئی…اسے تو لنڈن بھی راس نہیں آئی…..سب کچھ چهوڑتے اسے ایک لمحے کے لیے بھی خیال نہیں آیا آج اس کا پیپر تها اس نے یہ بھی نہیں سوچا لنڈن میں پڑهنا یہاں کی ڈگری حاصل کرنا اس کی زندگی کا سب سے بڑا خواب تها…..سب سے بڑی خواہش تهی اور آج وہ سب کچھ اپنے قدموں تلے روند رہی تھی. ……
ٹیکسی میں بیٹهے بیٹهے اس کے کانوں میں پوجا کے الفاظ گونجے تهے….
‘” جہاں محبت ہوتی ہے وہ کچھ اور نہیں سوچا جا سکتا کوئی کچھ سوچ بھی نہیں سکتا…یہ بات تم نہیں سمجهو گی جب تمہیں کسی سے محبت ہوگی تب تمہیں سمجھ جاو گی”. …
محبت .؟ اس نے دوپٹے سے آنسو پونچھنے کی کوشش کی .تو کیا وہ اس سے محبت کرتی تهی. ..یی تکلیف صرف اس لیے ہو رہی ہے اس شخص نے اس کی محبت کی توہین کی…..وہ اس دهوکے سے زیادہ محبت کی توہین برداشت نہیں کر سکی …..
اس نے ایمرجنسی اپنی ٹکٹ بک کروائی اور ایئر پورٹ پہ چلی آئی….اس کے آنسو نئے سرے سے شروع ہونے لگے….اس وہ سیاہ فام لڑکی یاد آئی جو اس دن اسے لینے یہاں آئی تھی. …تب وہ خوش تهی اور آج…؟ تب لنڈن کو وہ اپنی مٹهی میں محسوس کر رہی تهی اور آج سب کچھ اس کی مٹهی سے نکل چکا تھا. .
کتنا مختصر وقفہ تها…زندگی سے موت کا….وہ ہنستے ہوئے آئی تهی روتے ہوئے جا رہی تھی وہ کچھ پانے کے لئے آئی تهی اور اپنا سب کچھ کهو کر جا رہی تهی. ..پورا ائیر پورٹ وہیں کهڑا تها…سارے انگریز وہیں موجود تھے….ہر منظر وہیں تها سب کچھ ویسے تها… لیکن ان سب میں وہ ایک شخص کہیں بھی نہیں تها….وہ دل کے اس کهیل میں اپنا سب کچھ ہار کر جا رہی تهی. …..وہ جہاز میں آ کر بیٹھ گئی. …اس نے کهڑکی سے ایک آخری بار لنڈن کی سرزمین کو دیکها ….اپنے خوابوں کے شہر کو دیکها. .مگر سب کچھ اسے ریت کی طرح اڑتا دکهائی دے رہا تها. …لنڈن کہہ رہا تھا ہم نے تمہیں آزاد کر دیا اب جاو جہاں جاتی ہو…؟ اور وہ…وہ. ..سب کچھ ختم ہو جانے کے بعد اب کہاں جاتی….
” لنڈن میں نے تم سے وعدہ لیا تها مجھ سے میرا کچھ مت چهیننا…پهر بھی تو نے مجھے دهوکہ دے دیا ..تم نے مجھ سے میرا سب کچھ چهین لیا. .. میں پهر کهبی نہیں آؤں گی تیری سرزمین پہ…”
..اس نے کهڑکی سے باہر دیکهتے ہوئے سوچا……….
وہ تو پاکستان جا رہی ہے…لیکن اپنا دل انگلینڈ کے سب سے بڑے شہر کے ائیر پورٹ پر چهوڑ کر جا رہی تهی. … .وقت کی سوئی رک جاو.تهم جاو ..اتنی جلدی بھی کیا ہے میں خود کو جہاں چهوڑ کر جا رہی ہوں وہ موڑ تو بہت پیچھے چهوٹ رہا ہے. ……
” ﺑﮯ ﺍﻋﺘﺒﺎﺭ ﺷﺨﺺ ﺗﮭﺎ ﺳﻮ ﻭﺍﺭ ﮐﺮ ﮔﯿﺎ
ﻟﯿﮑﻦ ﻣﯿﺮﮮ ﺷﻌﻮﺭ ﮐﻮ ﺑﯿﺪﺍﺭ ﮐﺮ ﮔﯿﺎ
ﮐﭽﮫ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺍﺷﺘﯿﺎﻝ ﻣﯿﮟ ﺷﮑﻮﮮ ﮔﻠﮯ ﮐﯿﮯ
ﮐﭽﮫ ﻭﮦ ﺷﮑﺎﯾﺘﯿﮟ ﺳﺮِ ﺑﺎﺯﺍﺭ ﮐﺮ ﮔﯿﺎ
ﭘﮩﻠﮯ ﻭﮦ ﻣﯿﺮﯼ ﺫﺍﺕ ﮐﯽ ﺗﻌﻤﯿﺮ ﻣﯿﮟ ﺭﮨﺎ
ﭘﮭﺮ ﻣﺠﮫ ﮐﻮ ﺍﭘﻨﮯ ﮨﺎﺗﮫ ﺳﮯ ﻣﺴﻤﺎﺭ ﮐﺮ ﮔﯿﺎ
ﻭﮦ ﺁﻣﻼ ﺗﻮ ﻓﺎﺻﻠﮯ ﮐﭩﺘﮯ ﭼﻠﮯ ﮔﺌﮯ
ﺑﭽﮭﮍﺍ ﺗﻮ ﺭﺍﺳﺘﮯ ﻣﯿﺮﮮ ﺩﺷﻮﺍﺭ ﮐﺮ ﮔﯿﺎ
ﺑﭽﮭﮍﺍ ﮐﭽﮫ ﺍﺱ ﺍﺩﺍ ﺳﮯ ﮐﮯ ﺭُﺕ ﮨﯽ ﺑﺪﻝ ﮔﺌﯽ
ﺍﮎ ﺷﺨﺺ ﺳﺎﺭﮮ ﺷﮩﺮ ﮐﻮ ﻭﯾﺮﺍﻥ ﮐﺮ ﮔﯿﺎ”
_ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _
وہ کمرے کے اندر بند تها اور یوں اور تڑپ رہا تها جیسے بن پانی کے مچھلی…آیت اس طرح کیسے کر سکتی ہے اس کے ساتھ. ..اس نے صفائی پیش کرنے کا ایک بهی موقع نہیں دیا..یوں کوئی کسی کو سزا سناتا ہے کیا….؟
وہ دروازے کو توڑنے کی کوشش کر رہا تھا. ..تا کہ اسے جا کر سمجهائے اسے بتائے وہ غلط نہیں ہے اور آج تو اس کا پیپر ہے کہیں وہ پیپر ہی غلط نہ کر بیٹهے. ..اس کی کچھ سمجھ میں نہیں آ رہا تها وہ کیا کرے. ..پهر وہ گرل والی کھڑکیوں کے پاس آیا…اس نے گرل کو توڑنے کی کوشش مگر وہ ایسا نہیں کر سکا..وہ کافی مضبوط لوہے کا گرل تها. ..اس کا اضطراب بڑهتا جا رہا تها …..
پهر وہ دروازے کے پاس آیا اور دروازے کو زور زور سے لاتیں مارنے لگا…دروازہ لکڑی کا تها شاید ٹوٹ جاتا…..وہ آدهے گهنٹے تک مسلسل کوشش کرتا رہا اور اس کی کوشش کامیاب ہوئی…دروازہ باہر سے کهل گیا…وہ بهاگ کر کمرے سے باہر آیا اس نے بائیک کی چابی اٹهائی….نیچے آکر بائیک سٹارٹ کی اور سیدھا یونیورسٹی پہنچا……
[ دسمبر لوٹ آنا تم تحریر ناصر حسین]
ہال میں سٹوڈنٹس پیپر دے رہے تهے…وہ بھی انہی سٹوڈنٹس کے بیچ کہیں بیٹهی ہوگی اس نے سوچا…پهر وہ انتظار کرنے کے لیے اس کے کمرے میں آیا…..وہاں اس نے ہر چیز کو ادهر ادهر بکهرا دیکها. .دھڑکتے دل کے ساتھ اس نے کپڑوں والی الماری کھولی اسے دهچکا لگا الماری خالی تهی….؟
اس کی چهٹی حس نے اسے اشارہ کیا…وہ بهاگ کر گیٹ تک آیا اور اس نے وہاں بیٹھے چوکیدار سے اس پاکستانی لڑکی کے بارے میں پوچها……..
چوکیدار نے بتایا وہ بیگ لے کر کسی ٹیکسی میں بیٹهی. .اس نے بے ساختہ اپنا سر تهام لیا…محاورتاً نہیں حقیقت میں اس کے پاوں تلے ز زمین نکل گئی..
تو کیا وہ چلی گئی سب کچھ چهوڑ کر. ..اس طرح…اپنے ایگزامز. ..
وہ بائیک لے کر ائیر پورٹ پہنچا. ..اور اس نے آسمان پر اڑتے اس جہاز کو دیکها جس میں اس کی زندگی تهی…..دو آنسو اس کی گالوں پر آئے….
” اتنا بڑا ظلم تو نہیں کرنا چاہیے تها تمہیں. ..اتنی بڑی سزا تو مت دیتی مجهے. ..تم نے تو مجهے حقیقت میں مجرم بنا دیا….میری وجہ سے تم اپنے ایگزامز اپنا کیرئیر سب کچھ چهوڑ کر چلی گئیں…مجهے بهی…اب میں خود کو کیسے معاف کروں گا..:”.
” تمہیں رکنا چاہیے تها کم از کم مجهے اتنی مہلت تو دیتیں میں اپنی صفائی پیش کرتا”…اس نے ہونٹ بھینچ لیے. ..اندهیرا تها ہر طرف اندھیرا تها اسے کچھ بھی دکهائی نہیں دے رہا تها. ….
وہی لنڈن ،وہی سڑکیں ، وہی سب کچھ بس وہ پاکستانی لڑکی کہیں نہیں تهی….وہ تو چلی گئی واپس اور ساتھ اس کی سانسیں بهی لے گئی…..
” دیکها ناں تونے مڑ کے بهی پیچهے____
کچھ دیر تو میں رکا تھا_______
جب دل نے تجھ کو روکنا چاہا________
دور تو جا چکا تها __________”
_ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _
” وٹ آ پلیزینٹ سر پرائز. ..”؟ یہ تم ہی ہو ناں” آیت…عروہ مسکراتے ہوئے اس کے گلے لگی تهی….وہ عروہ آپی کے گلے لگ کر سسک پڑی…وقتی طور پر عروہ کو یہی لگا وہ اتنی لمبی جدائی کے بعد پاکستان آئی ہے اس لئے رو رہی ہے. .لیکن وہ آنسو کچھ اور تهے کسی اور کے لیے تهے. ….
“امی دیکهیں تو زرا کون آیا ہے.”…عروہ نے وہیں سے عمارہ بیگم کو آواز دی….اور مسکرا کر آیت کے گال چهونے لگی…..
“ارے کون آیا ہے بهئی تم….”…آیت کو دیکھ کر ان کی بات ادهوری رہ گئی. ..وہ خوشگوار حیرت کے ساتھ آ کر آیت کے گلے لگیں………..
“تو کیسا رہا تمہارے لنڈن کا سفر.”…رات کے کهانے کے وقت ابو نے اس سے پوچها تها…وہ سب آیت کی طرف متوجہ ہو گئے…چمچ چهوٹ کر پلیٹ میں جا گرا…
کیسا تها وہ سوچنے لگی….وہ میری زندگی کا سب سے برا سفر تها …میں نے اپنا سب کچھ کهو دیا…وہ کہہ نہیں سکی…منہ سے نکلا تو بس ” اچها “
“لیکن تم تو ایک سال کے لئے گئی تهیں ناں..”.پهر اتنی جلدی تمہارے ایگزامز ختم ہو گئے. ..عمارہ بیگم کو یاد آیا… .
“میں نے ایگزامز نہیں تهے.”..سب نے ایک دوسرے کی طرف دیکها. ….
” ایگزامز نہیں دیے…لیکن کیوں..:.”؟ آیت نے بهر پور حیرت سے پوچھا. …..
“بس میرا دل نہیں کیا”….آواز جیسے کسی کهائی سے آئی تھی. …عروہ اور عمارہ بیگم حیران ہوئیں..
” دل نہیں چاہا.. ؟ کیا صرف اس لیے لیکن آیت تم”….ان کے ابو نے ان کی بات کاٹ دی. ….
” اچها کیا آگئی…میں بهی یہی چاہتا تھا تم واپس آ جاو.” ..انہیں کوئی فرق نہیں پڑا تها بیٹی کے دس مہینے ضائع ہو گئے….عروہ ابهی بهی الجهی ہوئی تھی. …
کهانے کے بعد جب وہ سونے کے لیے لیٹی تهی ..تبهی عروہ نے اس سے پوچها…..
” سچ سچ بتاو کیا بات ہے آیت.”.؟ وہ نگاہیں چرا گئی…
” کچھ نہیں آپی بتایا تو ہے….”بس دل نہیں لگا….اس نے ٹالنے کی کوشش کی. ….
” نہیں آیت تم صرف اس لیے تو ایگزامز نہیں چهوڑ سکتیں تهیں ..لنڈن جانا تمہارا سب سے بڑا خواب تها..بتاو کیا بات ہے”. …..
” میں نہیں بتا سکتی. ..”..وہ ناخن کهروچنے لگی. ..
“مطلب کوئی بات ہے. …”عروہ نے اس کی آنکھوں میں دیکها تها. ..
“ہاں…لیکن ابهی میں نہیں بتا سکتی مجهے کچھ وقت لگے گا.” ..وہ کمبل اوڑهنے لگی..عروہ نے مزید بحث نہیں کی. …
_ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _
جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *