Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode08

December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode08

““““““““““““““““““““““““
لیکن پہلے کی طرح وہ منہ کهولے دیکهنے نہیں کهڑی ہوئی بس اس لڑکی سے کچھ انفارمیشن لینے لگی …..
انفارمیشن کے مطابق اسے اپنا کهانا خود بنانا تها یہ پہلا دھچکا تها …اچهی سی لنچ کا خواب پهر سے اڑ گیا….
دوسرا دھچکا اسے تب لگا جب اسے بتایا گیا اس کمرے میں وہ اکیلی نہیں ہے. ..اور تیسرا دھچکا سب سے زیادہ خطرناک تها اس کے مطابق اس کمرے میں ایک اور افریقن لڑکا بھی اس کے ساتھ رہے گا. …وہ منہ کهولے بنا پلکیں جهپکائے اسے دیکھ رہی تھی یہ کیسے ممکن تها وہ اپنا کمرہ کسی لڑکے کے ساتھ کیسے شئر کرتی. ….تهوڑی سی مزید انفارمیشن دینے کے بعد وہ گدھے کے سر سینگ والے محاورے کی طرح غائب ہوئی….کافی عجلت میں لگ رہی تهی. …لیکن اس کی سب سوچوں کے درمیان یہی ایک سوچ آ رہا تها وہ کسی لڑکے کے ساتھ کیسے رہے گی….یہ تو نا ممکن سی بات تهی …اس لڑکی کے سامنے وہ اس لیے کچھ نہیں بولی کیونکہ ان کے لیے یہ غیر معمولی بات نہیں تهی..مگر اس پاکستانی لڑکی کے لیے یہ سب سے بڑا مسئلہ تها………
_ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _
شام کا وقت ہو رہا تها سورج کی سنہری سنہری روشی پورے لندن کو اپنے رنگ میں رنگ رہی تهی. .وہ شال اوڑهے کهڑکی کے پاس کهڑی نیچے کے منظر کو دیکھ رہی تھی کهبی کهبی زندگی کتنی حسین لگتی ہے عام لوگ بھی کتنے خوبصورت لگنے لگتے ہیں ..جیسے اس وقت وہاں سے نظر آتے وہ سٹوڈنٹس، وہ پهولوں کو پانی دیتے مالی ، آسمان پہ گول گول چکر کاٹتے وہ رنگ برنگے پرندے. …ایک گهنٹے سے وہ وہاں کهڑی سب دیکھ رہی تھی لیکن ابهی بهی اس کا دل نہیں بهرا ایسے خوبصورت مناظر سے بھی بهلا کسی کا دل بهر سکتا ہے. …لندن تو لندن ہے لندن کی کیا ہی بات ہے…. ..
اسے بهوک کا احساس ہوا ..ائیر پورٹ سے یہاں آ کر بھی اس نے کچھ نہیں کهایا اور وہ سیاہ فام عادتاً کچھ ایسی بد اخلاق واقع ہوئی اس نے ایک بار مروتا بھی نہیں پوچها کچھ کهاو گی. ….
وہ جو پاکستان سے بڑے بڑے لنچ کا سوچ کر نکلی تهی اس کی ہر سوچ پر پانی پهر چکا تها. …اس لڑکی نے صرف اتنا بتایا یہ کچن ہے یہ سامان اور یہ ہو تم…..اب آگے تم جانو تمہارا کام جائے اور وہ ایسے بهاگی جیسے اس کے پیچھے افریقہ کے کوئی شکاری کتے پڑ گئے ہوں……
[ دسمبر لوٹ آنا تم تحریر ناصر حسین مکمل ناول گوگل پر بھی دستیاب ہے ]
انداز سے ایسا لگ رہا تها وہ صبح سے جان چھڑانے کے چکروں میں تهی……
اف اگر اتنی ہی بد اخلاق تهی تو ائیر پورٹ تک ہی کیوں آئی وہ وہاں سے یہاں خود بھی آ سکتی تهی اس نے غصے سے سوچا اور کچن میں چلی آئی….کچن کیا تها کمرے سے اٹیچ ایک چهوٹا سا حصہ جسے کچن کی شکل دے رکهی تهی انہوں نے. …..
پورا آدها گهنٹہ وہ چیزوں کو اٹها اٹها کر دیکهتی رہی جیسے کچن میں نہیں کسی میوزم میں پہنچ گئی ہو…ایک چیز مختلف. ..وہ جتنی ہی پڑهی لکهی اور ماڈرن کیوں نہ تهی یہاں آ کر اس کی بهی عقل دنگ ہو رہی تهی. …نئی نئی چیزیں اور انہیں استعمال کرنے کے بهی نئے نئے طریقے. ….اسے سامنے منی فریج نظر آئی جیسے پاکستان میں چهوٹے واٹر فلٹر مشین ہوتے ہیں. ..اس وقت اس نے شدت سے دعا کی کاش فریج میں سے کچھ بنا بنایا مل جائے مگر وہ ایک حقیقی فریج تهی کسی ڈرامے کا نہیں. ..البتہ اگر ڈرامے کا ہوتا تو وہاں ڈھیر ساری فروٹس کے ساتھ ساتھ کئی قسم کے سالن بھی ہوتے مگر افسوس اس فریج میں کچے گوشت کے علاوہ کچھ نہیں تها……
اس گوشت کو دیکها وہ بهی کچھ الگ قسم کا محسوس ہوا جانے کس چیز کا تها اسے مفت میں ہی کراہت ہونے لگی. …
انہیں واپس اپنی جگہ پر رکھ کر اس نے فریج کو ڈهکن بند کر دیا. ..اور کاونٹر کی طرف گهومی سامنے چولہا رکها تها اور اس نے چولہے کے بٹن کو آن کیا..اور متلاشی نگاہوں سے ہر طرف کا جائزہ لے کر کهانے کے لیے کچھ ڈهونڈنے لگی….الماری پر بھی کئی قسم کے مثالہ جات رکهے تهے مگر کهانے کے لیے کچھ نہیں تها….اس سیاہ فام لڑکی نے اسے یہ بتایا کہ اسے کهانا خود بنانا ہے مگر اس نے یہ نہیں بتایا سامان بھی اسے ہی خود ہی منگوانا ہے..
وہ بیچاری خواہ مخواہ ہی لندن کی تعریف کر رہی تهی اتنے بڑے ملک کے اتنے بڑے شہر کی سب سے بڑی یونیورسٹی میں کهانا خود بنانا تها. ..لو یہ انسانیت ہے پتا نہیں یہ انگریز چاہتے کیا ہیں. …خیر کهانے کے لیے کچھ نہیں تها مگر وہ چائے تو بنا ہی سکتی تهی ناں …چینی تو وہ سکینڈز میں پا چکی تهی لیکن اب پتی کی تلاش تهی …اس لڑکی نے بتایا یہاں ایک افریقن لڑکا بھی ہوتا ہے پتا نہیں وہ انسان تها یہ جانور ہر چیز ادهر ادهر بکهری پڑی تهیں…پورے کچن کی بینڈ بجی ہوئی تھی . دو چار گالیاں اسے نوازنے کے بعد وہ پھر سے پتی کی تلاش میں لگ گئی….مگر اس وقت پتی اور عید کے چاند میں کوئی فرق نظر نہیں آ رہا تها. .چلو میری قسمت بنا پتی والی چائے ہی بنا لیتی ہوں .جب وہ کافی دیر تک ڈهونڈنے میں ناکام نظر آئی تبهی کندهے اچکا کر بولی..سردی کا زور بڑهتا جا رہا تها اس نے سیاہ شیشے والے شال کو اپنے گرد اچهی طرح لپیٹ لیا اور ایک برتن میں پانی ڈال کر چولہے پہ رکھ دیا. …
اس کے بعد وہ مشن ماچس سرچ میں لگ گئی..اسے تلاشنا بھی اتنا ہی مشکل تها جتنا پتی کو..مگر وہ ایک ضروری ایٹم تها ہونا تو چاہیے تها. .اس لیے اس نے امید نہیں چهوڑی اور سٹول کے ذریعے اوپر نیچے ہو کر اس نے ایک ایک خانہ دیکھ لیا نہ ماچس ملا اور نہ ہی اسے ملنا تھا. .اسے پہلی بار اپنے آپ پر ترس آیا..یہ خواہشات انسان کو کہاں سے کہاں لے آتی ہیں یہی تو انسان کو زندگی سے موت تک کا سفر بهلا دیتی ہیں. ..اس کی خوش قسمتی تھی یا خدا کو اس پہ ترس آ گیا جب اس کی نظر چولہے پہ رکهے پستول پر پڑی..پہلے وہ چونکی پهر بدک کر پیچھے ہٹی اور پھر ذہن کو استعمال کرتے ہوئے اسے یاد آیا یہ پستول نما ماچس پاکستان میں بھی ہوتے ہیں. ..لیکن اس کا شیپ بالکل اصل پستول جیسا تها اس لیے وہ ڈر رہی تهی کہیں اصلی پستول ہی نہ ہو….وہ اسے ہاتھ میں اٹها کر دیکهنے لگی تهوڑا بهاری محسوس ہوا اس کے شک کو تقویت ملی…..
ہاتھ میں لینے کے باوجود بھی وہ ٹریگر دبانے سے ڈر رہی تهی. .پهر اس نے کچھ یوں کیا کانوں میں بهر بهر کے روئی ٹهوس لی اور پستول کا رخ آسمان کی طرف کیا…ٹریگر دبانے سے پہلے وہ بسم اللہ پڑهنا نہیں بهولی …نہ کوئی دھماکہ ہوا نہ کوئی گولی چلی بس ہلکا سا آواز پیدا ہوا اسے تهوڑا حوصلہ ملا…یہ عمل تین چار بار کرنے کے بعد جب وہ مکمل طور پر یہ جاننے میں کامیاب ہوئی کہ وہ کوئی پستول نہیں ہے تو اس نے اس کا رخ چولہے کی طرف کیا…اور ٹریگر دبانے کے لیے انگلی اس پہ رکها …وہ پاگل لڑکی یہ بهول چکی تهی اس نے بیس منٹس پہلے گیس آن کیا تها اب ماچس جلانے کی صورت میں آگ بهڑک سکتا ہے. …
اس نے جهک کر ٹریگر دبایا اور وہی ہوا جو ہونا چاہیے تھا ..ایک بہت بڑا شعلہ اوپر کو اٹها اور تیزی سے اس کی شال کو اپنی لپیٹ میں لے لیا….
وہ زور دار چیخ مار کر پیچھے ہٹی شال ابهی بهی اس کے کندھوں پر تها جس پہ آگ بهڑک رہی تهی. ..چیخ پر چیخ مارتی اس نے شال کو اتار کر دور پهینکا وہ احمق اتنا نہ دیکھ سکی شال بجلی کی تار پر جا گرا جس سے تهوڑی دیر بعد شارٹ سرکٹ ہو کر پورے ہوسٹل کو آگ لگ سکتا تها. …..اور اسے اپنی حماقت کا احساس تب ہوا جب یہ سب ہو چکا تها…شال کے ذریعے آگ تار تک پہنچ گئی اور پھر آہستہ دوسرے تاروں تک….
وہ بے یقینی سے کهڑی دیکھ رہی تھی. ..
” کیا یہ سب سچ میں ہو رہا تها. .” ..اور اسے یہ یقین تب آیا جب پورے کچن میں چاروں طرف آگ پهیل چکی تهی یہاں تک باہر جانے والا راستہ بھی بند نظر آ رہا تها. …پورے کمرے میں دهواں پهیل گیا اور وہ حواس باختہ ہو کر ادهر ادهر دیکھ رہی تھی. ..دهواں ناک سے اندر داخل ہو کر سانس لینے کا راستہ بند کر رہے تهے وہ ڈری سہمی کهڑی سب دیکھ رہی تھی. …….
” بچاو …..بچاو کوئی ہے.”….وہ حلق کے بل چلائی پهر اسے یاد آیا وہ انگریزی ملک میں ہے…
“ہیلپ می…”…وہ پوری شدت سے چلا رہی تھی موت کو بالکل پاس ہی کهڑی وہ دیکھ رہی تھی بالکل قریب. ..اس کا دم گهٹ رہا تها…اور آگ کو دیکھ کر اسے وحشت ہونے لگی آگ سے وہ ہمیشہ سے ڈرتی تهی کیونکہ آگ سب کچھ جلا کر راکھ کر دیتا ہے..جس طرح وہ راکھ بن جاتی کچھ پلوں میں کچھ لمحوں میں وہ اس آگ لے سمندر میں غائب ہو جاتی…اور پھر…..
ڈر اور گهٹن اتنا زیادہ تها کہ وہ غش کها کر وہیں گر پڑی. .اس کی آنکھیں بند ہو رہیں تهیں..لا شعور کی دنیا میں جانے سے پہلے اس نے کچھ آوازیں سنی کچھ شور سنا اور کچھ محسوس کیا…..پهر وہ بے ہوش ہو گئی. ……
_ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _
رات کے وقت وہ سر جهکائے پرنسپل آفس میں بیٹهی تهی. ..اس کی آنکھوں میں ندامت کی لکیر واضح نظر آ رہی تهی.ادهیڑ عمر پرنسپل نے عینک کے اوپر سے گهور کر اسے دیکها………
[ دسمبر لوٹ آنا تم تحریر ناصر حسین مکمل ناول گوگل پر بھی دستیاب ہے ]
” ہمیں آپ سے اتنی حماقت کی توقع نہیں تهی…”.
وہ انگریزی میں بولے تهے. …اس کا سر مزید جهک گیا…
” اگر آپ کی شال کو آگ نے پکڑ بھی لیا تو آپ اسے فرش پر پهینک کر کسی بڑے نقصان سے بچ سکتی تهیں…اس بے وقوفی کا نتیجہ معلوم ہے آپ کو. .آپ مر سکتی تهیں آپ کی جان بهی جا سکتی تهی شکر ادا کریں اس لڑکے کا جس نے اپنی جان بچا کر آپ کی جان بچائی …..”
اس نے معذرت خواہ انداز میں سر اٹھا کر پرنسپل کو دیکها …
” آئم سوری سر آئندہ ایسا نہیں ہوگا….”..وہ واحد جملہ جب سب ٹهیک کر سکتا تها…آفس سے نکل کر وہ باہر آئی…آنسو تهمنے کا نام ہی نہیں لے رہے تھے وہ پہلے دن ہی اپنا امیج خراب کر چکی تهی سب کی نظروں میں آ چکی تھی. ..لوگوں کا یہ خیال پاکستانی بے وقوف ہوتے ہیں سہی ثابت کر چکی تهی. ..وہ تو اپنے آپ سے نگاہیں ملانے کے قابل بھی نہیں رہی تھی ….
” اگر وہ جل جاتی تو..”..؟
اور وہ لڑکا….؟ وہ کون تها جس نے اپنی جان پر کھیل کر اس کی جان بچائی. .اس اجنبی ملک میں اجنبی لوگوں میں اس کا ہمدرد کون تها جو اپنی جان کی پرواہ کیے بنا اس کے لیے آگ میں کود گیا……..
وہ تو یہاں اس ملک میں کسی کو نہیں جانتی تھی. .پهر. ..؟وہ جب بے ہوش تهی اور کچھ سٹوڈنٹس اس کے ارد گرد کهڑے تهے سبهی اس لڑکے کی تعریفیں کر رہے تھے اس وقت اس نے توجہ نہیں دی مگر اب..جب وہ سوچ رہی تهی تو کچھ سمجھ نہیں پا رہی تهی. …
” چلو جو بھی تها اللہ اسے خوش رکهے.”…وہ اسے صرف دعا ہی دے سکتی تهی جو وہ دے رہی تهی..لیکن اپنی بے وقوف پر اسے رہ رہ کر غصہ آ رہا تها. ..وہ کمرے میں آ کر بهی کافی دیر تک روتی رہی. .رات کا اندهیرا پهیل چکا تها کهڑکی کهول کر وہ چاند کو دیکهنے لگی.وہ ہمیشہ کی طرح ستاروں کی جهرمٹ میں سر تانے ہوئے تها مگر جانے کیوں اسے آج چاند بهی اداس لگا…کافی دیر وہ وہیں بیٹهی رہی .لندن کا شہر اندهیرے میں ڈوبا ہوا تها….اور یہی اندهیرا اس وقت وہ اپنے اندر محسوس کرنے لگی تھی. …..بڑے وقت کے بعد وہ خود کو نارمل کرنے میں کامیاب ہوئی….
کتنا مختصر وقفہ تها زندگی کا ..زیادہ وقت تو نہیں لگا اسے وہاں سے یہاں آنے میں. .کل صبح اس نے گهر پہ اپنی آنکھ کهولی تهی جبکہ آج اس اجنبی ملک اجنبی شہر اجنبی کمرے میں. ….بس کچھ لمحے. ..پاکستان اب اس کے لیے صرف ایک یاد تها….
سرد ہوائیں اندر داخل ہونے لگیں اس نے کهڑکی بند کر کے آخری بار چاند کو دیکھ کر ناک منہ چڑایا…..
آ گئے ناں تم میرے پیچھے پیچھے لندن…..چاند مسکرا دیا. ..اس نے دروازہ بند کر دیے. .پیچھے مڑتے ہی اسے یاد آیا یہ کمرہ اکیلا اس کا نہیں ہے. . اور یہ سوچ سوچ کر اسے وحشت ہونے لگی جانے وہ کون ہوگا…کیسا ہوگا….
ایک تو آج پہلے ہی دن اتنا بڑا مسئلہ کهڑا کر چکی تهی اور اوپر سے اس لڑکے کی وجہ سے کافی پریشان تهی.اس نے سوچا یہی تها رات کو پرنسپل سے بات کر کے اپنا کمرہ بدلوا دے گی یا اس کا لیکن قسقسمت نے اس کے لیے کچھ اور ہی سوچ رکها تها اس کی سوچ سے الگ ..رات دس بجے تک وہ نیند کو دور بھگاتی رہی پهر جب وہ اپنی کوشش میں ناکام ہوئی تو اس نے جا کر دروازہ اندر سے اچهی طرح بند کر دیا. .اور بیڈ پہ سونے کے لیے لیٹی اب اسے کچھ بھی اچها نہیں لگ رہا تها. ..اچانک ہر شے سے دل اچاٹ ہو گیا. ..
وہ کروٹ بدل کر نیند کو بلانے کی ناکام کوشش کر رہی تهی…وہ صبح سے بهوکی ہے یہ بات بھی وہ بهول گئی کیونکہ اس کے پاس سوچنے کے لیے بہت کچھ تها….جن میں سر فہرست یہ روم شئیرنگ والا
مسئلہ تها… …………
سارے مسائل حل ہو جاتے سب ٹهیک ہو جاتا..اگر بیچ میں یہ آگ والا سین نہ آیا ہوتا..مگر اب کیا ہو سکتا تها یہ تو اچھی بات تهی اسے کوئی نقصان نہیں ہوا …اگر اسے کچھ ہو جاتا تو….؟
” لندن تم میرے خوابوں کے شہر ہو پلیز مجھ سے میرا کچھ مت چهیننا……”.اس نے آنکهیں میچ کر سچے دل سے دعا کی……
اگلی صبح اس کی آنکھ دیر سے کهلی دیر سے سوئی تهی تو دیر سے ہی اسے جاگنا تها…واش روم میں منہ ہاتھ دهونے کے بعد وہ آئینے کے سامنے بال بنانے لگی وہ ابهی تک کل والے سیاہ فراک میں ملبوس تهی اور فی الحال اسے چینج کرنے کا اس کا ارادہ تها بھی نہیں. …
[ دسمبر لوٹ آنا تم تحریر ناصر حسین مکمل ناول گوگل پر بھی دستیاب ہے ]
آج اس نے ناشتے کا انتظار نہیں کیا..یہ پاکستان نہیں تها اور نہ ہی مما یہاں موجود تهیں جو صبح صبح ہی اس کے لیے کمرے میں ناشتہ لاتیں…اب اس کا پیٹ بال خالی تهی بهوک کی وجہ سے دل بیٹها جا رہا تها چوبیس گھنٹے سے پانی کے سوا کچھ پیٹ میں نہیں گیا خود سے بنانے کے بارے میں وہ سوچ بھی نہیں سکتی تهی. ..جو ہوا تها اس کے بعد شرمندگی کے ساتھ ساتھ وہ ڈر بھی رہی تهی. ….
لیکن بهوک بهی برداشت سے باہر ہوتی جا رہی تهی. .
کینٹین سے ہی کچھ کها لوں گی….یہی سوچ کر وہ کمرے سے باہر نکل آئی….اس کے ساتھ رہنے والا افریقن لڑکا رات کو نہیں آیا..اور کیوں نہیں آیا یہ اسے نہیں معلوم تها اس نے فقط اس کے نہ آنے پہ اللہ کا شکر ادا کیا…..ہو سکتا ہے وہ آیا ہو اور دروازہ کھٹکھٹاتا رہا ہو مگر وہ گہری نیند میں تهی….
لیکن وہ اس کے بارے میں نہیں سوچنا چاہتی انفیکٹ اس وقت تو وہ کهانے کے علاوہ کچھ اور سوچ بھی نہیں سکتی تهی. ..خوبصورت سی سنگ مرمر کی سیڑهیاں جو شیشے کی طرح چمک رہی تهیں جن میں اسے اپنا عکس بھی نظر آرہا تها عبور کرتی وہ نیچے لان کی طرف آئی….اس وقت سٹوڈنٹس کا ایک سمندر وہاں کهڑا تها کسی میلے کا سماں پیش کر رہا تها وہ یونیورسٹی. ….
ان سٹوڈنٹس میں تقریباً سبهی سفید فام ہی تهے مگر بیچ بیچ میں کچھ سیاہ فام بھی گهومتے نظر آ رہے تهے ..ایسے جیسے بهیڑوں کی منڈی میں کچھ سیاہ بهیڑ بھی شامل ہوں..سبهی جینز اور ٹی شرٹس میں تهے کسی نے چهوٹے سکرٹس پہنے ہوئے تھے ان سب سے عجیب وہی تهی جو پورے کپڑوں میں ملبوس تهی اور گلے میں دوپٹہ ڈالے ہوئے کهڑی تهی. …جس طرح پاکستان میں کوئی انگریز آ جاتا تو اسے سبهی پاکستانی آنکهیں نکال کر دیکهتے کیوں کہ وہ سب سے عجیب لگ رہا ہوتا آج وہ بھی بالکل ایسے ہی عجیب لگ رہی تهی لیکن یہاں کے لوگ بہت مصروف تهے ان کے پاس اتنا وقت نہیں تها جو گردن اٹها کر اس منفرد لڑکی کو دیکهتے…..
..اف وہ تو انسانوں کے اس ریلے میں گم ہی ہو جاتی پهر اپنے آپ کو ڈهونڈنا بھی مشکل تها…ہزاروں سٹوڈنٹس میں سے کون اسے جانتا تھا کسے کیا معلوم وہ کون تهی……..
[ دسمبر لوٹ آنا تم تحریر ناصر حسین مکمل ناول گوگل پر بھی دستیاب ہے ]
وہ گهاس پر چلتی ہوئی کینٹین کی طرف جانے لگی___ لیکن اسے کیا معلوم کینٹین کہاں ہے لنڈن کے اتنے بڑے یونیورسٹی میں کینٹین کو ڈهونڈنا آسان تها کیا_______؟
یہی سوچ کر وہ ایک سرخ بالوں والی لڑکی کے پاس آئی جس کی آنکھیں چائنیز کی طرح چهوٹی چهوٹی تهیں_____وہ ہاتهوں میں کوئی کتاب لیے مصروف نظر آ رہی تهی_______
Excuse me Can you tell me about Canteen….?
( کیا آپ مجهے کینٹین کے بارے میں بتا سکتی ہیں )
اس لڑکی نے سرسری سا سر اٹها کر اسے دیکها____نہ وہ برف بنی اور نہ ہی اسے گهورنے کهڑی ہو گئی_____
سوری آئم بزی_____
اس نے معذرت کرتے ہوئے انکار کر دیا____حد ہے ایسی بھی کیا بے مروتی _____دور سے آئی مہمان کو کوئی یوں اتنی رکھائی سے جواب دیتا ہے کیا_____؟
اٹس اوکے_____
وہ یہی کہہ سکتی تهی اب جنگ تو کرنے سے رہی_____اسے بهر پور غصے سے دیکهنے کے بعد وہ آگے چل کر ایک اور لڑکے کے پاس آئی اور اپنا مدعا پیش کیا_____
بزی ڈارلنگ _____
ڈارلنگ____؟ اگر پاکستان ہوتا تو وہ کہتی گهر میں ماں بہن نہیں ہے کیا لیکن ان کم بختوں کو اب کیا کہنا____یہاں جسے دیکھو بزی ہے____
بزی ____بزی____بزی_____وہ جنجھلاہٹ کا شکار ہونے لگی کیا بزی کون سا جہاز اڑاتے ہیں یہ_____اس پر بهر پور لعنت بهیجنے کے بعد وہ آگے بڑهی اور گهاس پہ بیٹهی ایک لڑکی سے وہی پوچهنے لگی جو اب تک پوچهتی آ رہی تهی_______
اس نے محض اشارہ کر کے کینٹین کے بارے میں بتانے کی کوشش کی اور اشارہ بھی ایسا کیا کہ آیت کی سات نسلوں کو سمجھ نہیں آ پاتا______اس نے جب اسے ساتھ چلنے کے لئے کہا تو اس نے یہ کہہ کر منع کیا______
آئم بزی_____اور اس کا دل چاہا یونیورسٹی کی عمارت اٹها کر اس کے سر پہ دے مارے____
انگریز اتنے بد اخلاق بهی ہو سکتے ہیں اس نے ایک پل بھی نہیں سوچا______اس لڑکی پہ اپنا غصہ اس نے کچھ یوں اتارا ____
اٹس اوکے____یو آر اے گدها____
اس نے دانت چبا کر کہا _______
اردو اس کے باپ کو بھی سمجھ نہیں آنی تهی_____؟
” گادا_____؟ ” اس لڑکی نے سوالیہ انداز میں وہ لفظ دہرایا______
گدها مین سویٹ گرل_____اس نے فوراً غلط تصیح کی جس پہ وہ ایسے مسکرا دی جیسے دنیا بھر کی اچھائی اس پہ آ کے ختم ہوتی ہو_____
Thanks You Are Also A Ghadha ____
— ہونہہ— وہ پیر پٹختی وہاں سے دور نکل آئی____یہ کیسی یونیورسٹی تهی جہاں کوئی کسی کی مدد ہی نہیں کرتا. ..سبهی مصروف ہیں حد ہے ویسے____اتنے بد اخلاق انگریز_____اللہ معافی دے ان گوروں سے______
وہ اب کسی سے پوچهنا نہیں چاہ رہی تھی خود اپنی مدد آپ کے تحت وہ کیٹین ڈهونڈنا چاہ رہی تھی مگر بیس منٹ خوار ہونے کے بعد اسے اندازہ ہو گیا تھا یہ سب اتنا بھی آسان نہیں____پیٹ میں چوہے نہیں ہرنی دوڑ رہے تهے ____سپنوں کے شہر میں یہ کیا ہو رہا تها اس کے ساتھ______
سفید اینٹوں والے راستے پہ وہ چلتی جا رہی تهی جن کے آس پاس خوبصورت پهول والے گملے لگے ہوئے تھے ایک بار اس کا دل چاہا کوئی پهول توڑ لے مگر اس کے بدلے اس کی ٹانگیں توڑ دی جاتیں______
اچانک سامنے درخت کے پاس اسے ایک اور انگریز لڑکا دکهائی دیا وہ اکیلا تها اور مصروف بھی نہیں تها____ایک بازو درخت پر ٹکائے وہ دوسری طرف دیکھ رہا تھا سیاہ شرٹ اور سیاہ لیدر کی جیکٹ اس نے پہن رکهی تهی_____وہ کافی دراز قد تها______
وہ اس کے پاس آئی_____
[ دسمبر لوٹ آنا تم تحریر ناصر حسین ]
ایکسکیوزمی _____
وہ لڑکا چونک کر پلٹا اور اسے دیکھ کر وہ واحد لڑکا تھا جو حیران نظر آ رہا تها______
اس کے بال اتنے بڑے نہیں تهے. .وہ کلین شیو کرتا تها مگر اس وقت چہرے پہ تهوڑی داڑھی نظر آ رہی تهی آنکهیں بهی اس کی تهوڑی مختلف تهیں____اس نے ہاتھ پہ ایک خوبصورت بلیک گهڑی باندھ رکهی تهی آستین فولڈ کر رکهے تهے اس نے ___ گڈ لکنگ تها چہرے سے ہی وہ کافی سنجیدہ اور روکهے مزاج کا لگ رہا تها______
یس____وہ مدهم آواز میں بولا…اور وہ اس کے نقوش کا جائزہ لے کر فارغ ہو چکی تهی______
Can you tell me about Canteen….?
( کیا آپ مجهے کینٹین کے بارے میں بتا سکتے ہیں )
اس سوال پہ وہ رٹا لگا چکی تهی اس شخص نے تیکھی نظروں سے اسے دیکها______
سوری آئی ڈونٹ نو_____
اس نے اتنے ہی روکهے پن سے جواب دیا جتنا روکها اس کا چہرہ تها____اب کی بار اس کا غصہ آسمان کو چهو چکا تها______
( بد اخلاقی بے مروتی تو کوئی ان انگریزوں سے سیکهے ..کسی کی مدد کرنا تو گناہ سمجهتے ہیں..)
اچها بهاڑ میں جاو____وہ اردو میں کہتے ہی پیر پٹخ کر پلٹی____اسے یقین تھا اردو اسے تو کیا اس کے باپ کو بھی سمجھ نہیں آئے گی______
کیا کہا آپ نے _____؟ آواز پیچھے سے ہی آئی___ اور سامنے والا منظر تحلیل ہو گیا___ تیز تیز چلتے اچانک اس کے قدموں کو بریک لگ گئی____ وہ مگر مچھ کی طرح منہ کهولے ایڑی کے بل گهومی____ایک سکینڈ کے لیے بھی اس نے نہیں سوچا تھا سامنے کهڑا شخص پاکستانی ہو سکتا ہے____اور اب جب اسے معلوم ہوا تو گهڑوں پانی کو نہیں پورے سمندر کو اپنے اوپر محسوس کر رہی تهی____
اس نے زبان دانتوں تلے دبا کر خجالت سے اس شخص کو دیکھا______
جاری ہے______

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *