Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode37

December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode37

•••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••
“ہاں…لیکن ابهی میں نہیں بتا سکتی مجهے کچھ وقت لگے گا.” ..وہ کمبل اوڑهنے لگی..عروہ نے مزید بحث نہیں کی. …
_ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _
وہ پاکستان آ چکی تهی. ..اپنے خوابوں کے شہر کو وہیں انگلینڈ میں چهوڑ کر. ..سب کچھ ختم کر کے آئی تهی. …گزرا لمحہ خواب لگتا اسے….وہ سب کچھ اب صرف یادیں ہی بن کے رہ گئیں تهیں…لیکن وہ یادیں اتنی تکلیف دہ ہوں گے یہ اس نے نہیں سوچا تها. .وہ تو اس ایک سال کو اپنی زندگی کا سب سے خوبصورت سال بنانا چاہتی تهی…اور اچهی اچهی یادیں لے کر لوٹنا چاہتی تهی لیکن تقدیر نے اسے مہلت ہی کہاں دی…انوشیر کے ساتھ گزارا ہوا ہر لمحہ اس کی آنکھوں کے سامنے تها ایک فلم کی طرح. …وہ ہر چیز بهلا دینا چاہتی تھی لیکن کچھ بھی بهلا نہیں پا رہی تهی. ..وہ خود کو وہیں پر چهوڑ آئی..اسی لندن میں. ..وہ اب بھی وہیں تهیں…اسی سڑک پہ. ..اسی کینٹین میں. ..اسی جهیل کے کنارے. …الزبتھ ٹاور کے پاس تصویریں بناتے ہوئے. ..سب کچھ تو وہیں رہ گیا تها….
جیسے یہ کل کی بات ہو…جیسے وہ سب کچھ کل ہی ہوا ہو . کیا تقدیر اتنی ظالم اور سفاک ہے….اس کے مسکراتے چہرے سے لمحے بهر میں مسکراہٹ چهین لی…اور وہ معصوم سا دکهنے والا شخص دل میں اتنی بڑی سازش کیے ہوئے تها…..وہ سب کچھ دهوکہ تها سب کچھ. …وہ اس سے ملنا اس کی مدد لینا ، اس کے ساتھ چلنا پهرنا وہ سب ایک سازش تهی…..اتنی بڑی سازش. …اور وہ احمق اب تک یہ سمجھ رہی تھی اس نے لنڈن میں ایک مسلمان لڑکے کو دریافت کر لیا. ….
حالانکہ اس لڑکے نے اسے ڈهونڈا تها…اس دن یونیورسٹی میں اسے انوشیر رضا نہیں انوشیر رضا کو وہ ملی تھی. .اور آہستہ آہستہ سے اس نے اس معصوم لڑکی کے جذبات کے ساتھ کهیلنا شروع کیا .اس کے دل میں محبت پیدا کرنے کی کوشش کی…اور وہ ایک میگنیٹ کی طرح اس طرف کهچی چلی گئی یہ سوچا بنا وہ سب آنکھوں کا ایک دهوکہ ہے. ….
جیسے مچھلی پکڑنے کے لئے جال پهینکا جاتا ہے اور اس جال میں کچھ کهانے کی چیزیں ہوتی ہیں مچھلیوں کے لیے انوشیر رضا نے بھی تو وہی کیا……اس نے سب کچھ پلان کر رکها تها. ..وہ اس لڑکی کی مدد اس لیے کرتا تها تا کہ وہ اسے پهسا سکے اور بدلہ لے سکے اور وہ احمق یہ سمجھ رہی تھی انوشیر ہر جگہ اس کی مدد کے لیے پہنچ جاتا ہے .اس رات ریڈ لائٹ ایریا میں اسے اپنا پلان کامیاب کرنے کا ایک موقع ملا …اور اس نے اس موقع سے فائدہ اٹھا لیا. .وہ تو ساری زندگی یہی سمجهتی انوشیر نے محض اس کی عزت بچانے کے لیے یہ سب کیا ہے. …..
لیکن وہ سب تو ایک بدلہ تها…وہ آنکهیں بند کرتی تو انوشیر کا چہرہ سامنے آ جاتا…مسکراتا ہوا چہرہ جیسے وہ کہہ رہا ہو. …
” تم مجهے ٹهکرا کر لنڈن چلی گئی تهیں اور میں نے تمہیں تماری چال میں پھنسا دیا…میں نے بھی تم سے شادی کر کے اپنا سارا قرض وصول کر لیا ” . …
وہ انوشیر رضا نہیں تها وہ تو روحل آفتاب تها..وہی شخص جس سے اس نے پہلے دن میسج پہ بات کی اور جسے اس نے پارک میں بلایا تها….اور اس نے اپنے کسی دوست کو روحل آفتاب بنا کر پیش کیا اور اس نادان لڑکی کو بے وقوف بنایا…اور اب اسے یاد آ رہا تھا امی ابو اس کی تعریفیں کر کر کے نہیں تھکتے تھے. .کہ وہ خوبصورت ہے مذہبی ہے ..وہ یہی تها..باہر سے خوبصورت دکهنے والا اندر سے ایسا چہرہ .اس کی زبان نہیں تھکتی تهی اسلام اور مذہب کی باتیں کرتے کرتے….فلاں حدیث میں فلاں حکم ہے فلاں آیت میں یہ کہا گیا ہے. .اور خود…وہ خود کیا کر گیا. .اتنا بڑا دهوکہ دے گیا…ہونہہ دوسروں کو دین سکهانا بہت آسان ہوتا ہے لیکن خود اس پر عمل کرنا ہر دوسرے انسان کے بس کی بات نہیں ہے. …..
اب کیا وہ ساری زندگی کسی انسان پر بهروسہ کر سکے گی اور خصوصاً کسی مرد پر. .کوئی ایک چیز نہیں تها جو اس انسان نے توڑا تها…بهروسہ، یقین، دل ، خواب جانے جانے کیا کیا توڑا تها اس نے. … ..
انوشیر کیا تمہیں معلوم ہے تم نے میرا کتنا بڑا نقصان کر دیا . کهبی کهبی وہ بیٹھ کر سوچتی…اور کهبی کهبی اسے لگتا جیسے اس نے کالا جادو کیا ہو اس پہ .وہ اس کی یاد سے نکل ہی نہیں پاتی. …کون سی چیز تهی جو اسے سانس لینے نہیں دے رہی تهی پاکستان اجنبی لگ رہا تها اسے…وہ یہاں پر سیٹ ہی نہیں ہو پا رہی تهی اور کیسے سیٹ ہوتی یہاں تو صرف جسم لے کر آئی تهی…روح کو وہیں لنڈن میں دفنا کر….عروہ اور عمارہ بیگم اس کی اس تبدیلی کو نوٹ کر رہے تھے وہ لنڈن سے آنے کے بعد چپ چپ اور گم سم رہنے لگی تهی…کهانا پینا سب کچھ بے دلی سے کرتی. ..زیادہ باتیں کرنا بھی چهوڑ چکی تهی. ..کهبی کهبی ندی کے کنارے جا کر بیٹھ جاتی اور وہیں گهنٹوں بیٹهی رہتی. …ایک بار عمارہ بیگم نے اس سے پوچها بھی تها انہیں ڈر تها کہیں وہ بیمار نہ ہو ……
آیت تم ٹهیک تو ہو…کیوں اتنی گم سم رہنے لگی ہو..اللہ خیر کرے کوئی بیماری تو نہیں ہے ناں…اس نے عمارہ بیگم کی آنکهوں میں دیکها. ….
“بیماری تو ہے امی..بہت بڑی بیماری. .مجهے عشق کا روگ لگا ہے جس کا علاج حکیم لقمان کے پاس بھی نہیں ہے.” ….وہ کہہ نہ سکی….
” میں ٹهیک ہوں امی….”اس نے اتنا ہی کہا تھا. …وہ رات کو دیر تک سو نہ پاتی…کهبی کهبی روتی..اسے جب زیادہ گهٹن ہونے لگتی تو وہ گهر سے باہر نکل جاتی اور رجو کے ساتھ بیٹھ کر باتیں کرتی……..
زندگی بہت پیچھے چهوٹ گئی تھی …
_ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _
” تم اتنی اداس کیوں رہتی ہو..”.؟ اس دن درخت کے منڈیر تلے رجو نے اس سے پوچها. ..
” نہیں تو میں اداس نہیں رہتا…”اس نے جهوٹ بولا….
” تم جهوٹ بول رہی ہو کیونکہ تمہاری آنکهیں کچھ اور کہہ رہی ہیں. .” رجو نے اس کی آنکھوں میں دیکها. ..
بعض دفعہ آنکهیں بهی جهوٹ بولتی ہیں. ..اس نے نگاہیں چرائیں اور سامنے دیکهنے لگی. ….
“تو مان نہ مان…لندن میں تیرے ساتھ کچھ نہ کچھ تو ہوا ہے. ..ان انگریزوں نے تجھ سے تیری ہنسی چهین لی.”…
“انگریزوں نے نہیں مسلمان نے. .”.وہ کہنا چاہتی تھی. ..لیکن خاموش رہی…وہ فل دیہاتی ماحول تها جہاں اس وقت کهیتوں میں کام کرتی عورتیں نظر آئیں. .بچے کهیلتے نظر آئے …اسے یاد آیا لنڈن جانے سے پہلے وہ یہیں بیٹهی تهی اور اداس تهی کیونکہ امی اسے لنڈن جانے کی اجازت نہیں دے رہے تهے. .تب اسے سب کچھ اداس لگا تها..اور آج..آج بھی وہ اسی درخت تلے بیٹهی اداس تهی ..آج بهی اسے سب کچھ اداس لگا….
چلو قلفی کهاتے ہیں.. رجو نے سامنے قلفی والے کو دیکھ کر کہا…جس پہ بچے مکهیوں کی طرح منڈلا رہے تھے. .وہ بے دلی سے رجو کے ساتھ چلتی ہوئی قلفی والے کے پاس آئی.. رجو نے دو قلفیاں خریدیں…اسے زندگی میں پہلی بار وہ قلفی پسند نہیں آ رہی تھی اس کا دل چاہا وہ اسے نیچے پهینک دے.. لیکن اگر وہ ایسا کرتی تو اسے رجو کو جواب دینا پڑتا اور اس کے پاس کوئی جواب نہیں تها…….
قلفی کهانے کے بعد رجو کو وہ چوڑیوں والا نظر آ گیا..چوڑیوں کی ریڑھی ہو اور رجو چوڑیاں نہ خریدے یہ تو ناممکن تها….وہ بهاگ کر وہاں گئی اور چوڑیاں دیکهنے لگی. ….
“تم نہیں لو گی چوڑیاں”. …اسے ادهر ادهر دیکهتے رجو نے پوچها. …
” نہیں. ..”وہ سرسبز کهیتوں کو دیکهنے لگی. …
” کیوں تمہیں تو پسند ہیں ناں چوڑیاں”. …؟
” کهبی کهبی پسند کی چیزوں سے بھی نفرت ہونے لگتی ہے” اس نے اداسی سے سوچا…..
“ضروری تو نہیں جو چیز مجهے کهبی پسند ہو وہ ہمیشہ پسند رہے وقت کے ساتھ ساتھ انسان کی سوچ اور پسند بدل جاتی ہے. “..اس نے کچھ تلخی سے کہا….
تم لندن جا کر بدل گئی ہو…رجو نے کندهے اچکا کر تبصرہ کیا. ..وہ حیران نہیں ہوئی یہ اس نے بہت بار سنا تها اور بہت بار سننا تها..رجو نے چوڑیاں خریدیں…اور وہ اس کے ساتھ ساتھ چلنے لگی…..
اچانک کچھ یاد آنے پر وہ ٹهٹک کر رک گئی…..
” رجو تمہیں یاد ہے لنڈن جانے سے پہلے ہم یہیں آئے تهے ہم نے کچھ چوڑیاں خریدیں تهیں.”..
” ہاں تو..”..رجو اپنی چوڑیوں سے کهیلنے لگی…..
” تو کیا اس دن یہاں کوئی اور بھی آیا تها مطلب کوئی اجنبی شخص جس نے چوڑیاں خریدی ہوں….جو ہمارے گاؤں کا نہ ہو…..مطلب تم نے دیکها کسی کو.”…
رجو منہ کهولے اسے دیکھ رہی تھی پهر اس نے زور دار چیخ لگائی…..
[ دسمبر لوٹ آنا تم تحریر ناصر حسین]
“ہائے ربا…میں تے بهول ہی گئی اس دن تمہارے جانے کے بعد میں گهاس کے لیے جب واپس کهیتوں میں آئی تو کیا دیکهتی ہوں ایک خوبصورت گبرو نوجوان چوڑیاں خرید رہا تها. .ایک دم فلمی ہیرو جیسا …کتنا خوبصورت تها وہ تمہیں کیا بتاؤں ایسا شخص میں نے زندگی میں کهبی نہیں دیکها. ..وہ جس کے لیے چوڑیاں لے رہا تھا مجهے اس پہ بہت رشک آیا وہ کتنی خوش قسمت ہوگی.”…
رجو بات کو کچھ زیادہ ہی کهینچ رہی تھی اس نے رجو کو ٹوک دیا ….
“تم بتاو وہ دکهتا کیسا تها مطلب اس کا انداز اس کے کپڑے کیسے تهے…..؟” اس نے تجسس سے پوچها. ..
“دراز قد تها….فٹ باڈی….اس نے آنکهوں پہ کالا عینک لگایا ہوا تها…. اس کے ہونٹ خوبصورت گلابی تهے…اس کی داڑھی مونچھیں نہیں تهیں..بس ہلکی داڑھی تهی ہاتھ پہ گهڑی بندهی تهی….کیا بتاؤں وہ کتنا خوبصورت تها …سچی پوچهو وہ جس کے لیے بھی چوڑیاں. …..”.
رجو چہک کر بولے چلی جا رہی تهی لیکن اس سے مزید سنا نہیں گیا…اس میں زرا برابر بھی شک نہیں تها وہ انوشیر کے علاوہ کوئی اور ہو سکتا ہے. .رجو نے جو نقشہ جو شخصیت بتائی تهی وہ انوشیر کی ہی تهی….وہ یہیں تها پاکستان میں. …اس کے اتنے پاس. .اسے نئے سرے سے سب کچھ یاد آنے لگا. ..رجو سے رخصتی لے کر وہ اسی جگہ پہ آئی..اسی ندی کے پاس اسی درخت تلے جہاں سے اسے چوڑیاں پهینکی گئی تهیں…..اس دن اسے اس سوال کا جواب نہیں ملا لیکن آج اسے جواب مل گیا تها…..اسے وہ تحریر یاد آئی جس پہ لکها تها. ..
“پاگل لڑکی لال رنگ کے کپڑوں کے ساتھ پیلی چوڑیاں کوئی نہیں پہنتا “
اسے کے زخم تازہ ہو گئے…لیکن ایک سوال اس دن وہ چوڑیاں کس طرف سے پهینکی گئیں تهیں .کیونکہ اس نے چاروں طرف دیکها کوئی نہیں تها….اسے کسی کوئل کے گانے کی آواز آئی…بے ساختہ اس کا سر اوپر کی طرف اٹھ گیا…جہاں درخت تها…..اور اسے سارے جواب مل گئے…..وہ اس دن درخت کے اوپر بیٹھ تها….اف وہ اسے اتنے قریب سے دیکھ رہا تھا اور اس نے جب وہ چوڑیاں ندی میں بہا دی تهیں تو کیا اس نے وہ بھی دیکها…..؟
اف اس کی یادیں….وہ وہاں مزید نہیں رک سکی اور نم آنکھوں کے ساتھ گهر چلی گئی…..
_ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _
اگلے سات دن وہ بخار میں مبتلا رہی ..اس رات موبائل پہ انوشیر کی تصویریں دیکهتے ہوئے وہ ساری رات روتی رہی اور جب صبح اٹهی تو ٹمپریچر ہو چکا تها…عمارہ بیگم نے ڈاکٹر کو وہیں گهر پہ بلا لیا تها. ..ڈاکٹر نے اس کا چیک اپ کیا اور کچھ میڈیسن لکھ کر دیں جو وہ نہیں لے رہی تهی …اس شخص نے اگر اسے مارا نہیں تها تو زندہ بھی نہیں چهوڑا…..
اس دن لنڈن ائیر پورٹ پر ہی اس نے اپنی سم نکال کر وہیں پهینک دی تا کہ وہ اس شخص دوبارہ کهبی اس سے رابطہ نہ کر سکے. .اس نے یقیناً رابطہ کرنے کی کوشش ضرور کی ہوگی.. وہ جو ایک بار چلی تهی پهر کہاں ملنے والی تهی…….
وہ ابهی بهی بستر پر پڑی ہوئی تهی اس کی حالت خراب نہیں خراب ترین تهی اور وہ جیسے وقت نزع سے گزر رہی ہو…آنسو آبشار کی طرح نکل رہے تهے اس کی آنکهیں سوجهی ہوئی تهیں. ..بال الجهے ہوئے تهے ..وہ موت مانگ رہی تھی لیکن موت بھی اسے قبول کرنے کے لیے تیار نہیں تها شاید. ..وہ ان کچھ دنوں میں کافی نڈهال نظر آنے لگی جیسے برسوں کی مریضہ ہو…کهانا پینا، باہر جانا ، میک اپ کرنا یہ سب تو وہ کب کا چهوڑ چکی تهی…..دروازے پہ دستک دے کر عروہ آپی اندر داخل ہوئی اس نے آنکهیں نہیں کهولیں…کچھ دنوں سے گهر والے اس کی حالت سے کافی پریشان تهے…..وہ جانتی لیکن کچھ نہیں کر سکتی تهی ابو بہرحال اس معاملے سے آزاد تهے انہیں کوئی فرق نہیں پڑنا تها بیٹی ٹهیک ہے یا بیمار. .زندہ ہے یا مر گئی….انہوں نے ایک بار بھی پوچهنے کی زحمت نہیں کی. ……
عروہ اس کے سرہانے کی طرف آئی اور اس کے ماتهے پر ہاتھ رکھ کر اس کا بخار چیک کرنے لگی…اس نے آہستہ سے آنکهیں کهول دیں…..
” کیسی ہو آیت…”؟ عروہ نے پوچها. ..وہ کیا جواب دیتی..
“ٹهیک ہوں آپی….”وہ کمزور آواز میں کہنے لگی. .آپی وہیں بیڈ پہ اس کے پاس بیٹھ گئی اور سوپ کا جو ڈونگا وہ اپنے ساتھ لائیں تهیں اس میں چمچ ہلانے لگیں….اور پهر انہوں نے آیت کو سہارے سے اٹهایا.اور اسے سوپ پلانے لگی …..
“اور نہیں آپی..”..اس نے دو تین چمچ کے بعد احتجاج کیا.
“امی نے کہا تها آیت سے کہنا یہ سارا سوپ بنا کوئی نخرہ کیے ختم کرنا ہے. .عروہ نے ایک اور چمچ اس کی طرف بڑهائی جو اس نے بادل نخواستہ پی لی…..
آیت یہ سب کیا ہے….”؟ اس نے سوالیہ نگاہوں سے عروہ کی طرف دیکها. ..
[ دسمبر لوٹ آنا تم تحریر ناصر حسین]
“آیت بند کرو یہ سب. .کب تک اس طرح خود کو اور ہمیں تکلیف دیتی رہو گی…آخر کون سا روگ لگا ہے تمہیں. .وہ کون سی چیز ہے جو اندر ہی اندر تمہیں کهائے جا رہی ہے. .”….الفاظ سے پہلے اس کے آنسو نکلے وہ کیا بتاتی……
“آپی میں جینا نہیں چاہتی. .”…وہ بهرائی ہوئی آواز میں بولی. …
“کیوں آیت …مجهے وجہ بتاو اپنے دل کا بوجھ ہلکا کرو اس طرح گهٹ گهٹ کر تم مر جاو گی…کیا تمہارے ساتھ لنڈن میں کوئی حادثہ ہوا ہے…کچھ ایسا جو نہیں ہونا چاہیے تھا .”…..
اس کی آنکھوں کے سامنے لنڈن کی تصویر آئی….
پوجا…انوشیر. …مائیکل. .سب کچھ تو یاد آ گیا اسے…
“عورت کمزور کیوں ہوتی ہے. “…؟ عروہ نے سوپ کا ڈونگا ایک طرف رکها…..
“ویسے دیکهنے کو تو عورت کی بهی دو آنکهیں دو ہاتھ دو پاؤں ہوتے ہیں. .عورت چاہے کتنی ہی بڑی کیوں نہ ہو وہ کمزور ہوتی ہے اور مرد چاہے کتنا ہی دبلا پتلا ہو وہ عورت سے طاقتور ہوتا ہے. …تمہیں معلوم ہے ایسا کیوں ہے”. …؟
“کیوں کہ ہم عورتیں خود کو بہت کمزور ظاہر کرتی ہیں. .ہمیں بہت شوق ہوتا ہے ہمدردی حاصل کرنے کا یہ دکهانے کا کہ ہم بہت کمزور ہیں..بے بس ہیں لاچار ہیں…حالانکہ ایسا نہیں ہے اللہ تعالیٰ نے ہمیں بھی دو پاوں دو ہاتھ دیے پهر ہم کیوں کمزور ہیں. ..ایک مرد بڑے سے بڑے طوفان کا مقابلہ کر سکتا ہے اور ہم عورتیں ایک چھپکلی سے بھی ڈر جاتی ہیں کیوں ہمارے اندر یہ بات بیٹھ چکی ہوتی ہے ہم کمزور ہیں…ہم کچھ نہیں کر سکتیں….بعد صرف ہمت کی ہوتی ہے. .اور ہمت ہار جاتے ہیں تم بھی وہی کر رہی ہو. ..
اگر تمہارے ساتھ کوئی مسئلہ ہے تو اسے فیس کرو بہادر بن کر. .یوں رونا دهونا آنسو بہانا کمزور عورتوں کا کام ہے…..مسائل تو ہر کسی کی زندگی میں ہوتے ہیں لیکن ان کا سامنا کرنے کی ہمت تو ہونی چاہیے ناں انسان میں…اور تم اللہ پر بهروسہ کرو. ان کے فیصلے قبول کرو پهر تم کهبی مار نہیں کهاو گی”…..
عروہ نے اس کے گالوں کو چهوا…اور ڈونگا لیے باہر چلی گئی. ..آپی کی ہر بات اس کے دل کو چهو گئی..واقعی وہ کمزور پڑ رہی تهی اسے حالات کا مقابلہ کرنا تها یوں آنسو بہانا کسی بھی مسئلے کا حل نہیں ہیں….
تو وہ کیا کرے…گهر والوں کو ساری سچائی بتا دے..اور سچ جان لینے کے بعد وہ لوگ کیا کریں گے. .وہ کہاں سے ڈهونڈ لائیں گے اس اجنبی شخص کو. ..اس نے بڑی بے دردی سے اپنے آنسو پونچھ ڈالے یہ سوچ کر وہ آئندہ کهبی ہمت نہیں ہارے گی…
_ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _
دو دن بعد اس کا بخار اترا تو وہ عروہ آپی کے ساتھ شہر میں شاپنگ کرنے آئی..پہلے کی نسبت وہ کافی بہتر لگ رہی تھی. ….مال میں رش تها ..لوگوں کا ایک ہجوم تها…اس نے آس پاس چاروں طرف دیکھا جانے کیا ڈهونڈ رہی تهی …؟
” انوشیر رضا. .”.؟ہونہہ وہ یہاں کیا کرنے آتا…اگر اسے وفا کرنی ہوتی تو وہ اسے اتنا بڑا دهوکہ کهبی نہیں دیتا…اسے یقین تها انوشیر اس کے لیے تو کهبی بهی پاکستان نہیں آئے گا…..
عروہ اس کا ہاتھ پکڑ کر اسے مال کے اندر لے آئی..وہ اداس آنکهوں سے لوگوں کو دیکھ رہی تھی. .اسے پهر سے گهٹن ہونے لگا..ہر جگہ وہی شخص. ..وہ کہیں اور کسی اور جگہ پہنچ گئی…..لندن کا شاپنگ مال. …وہ ڈائمنڈ رنگ. ..وہ تاریک کمرہ….پولیس. ..انوشیر. ..کیا تها جو اسے وہاں یاد نہیں آ رہا تها…ہر شخص میں اس ایک ہی شخص کی تصویر تهی…ہر منظر وہی تها….وہ ہمت ہار رہی تهی ….اور آپی کہتی ہے عورتیں کمزور ہوتی ہیں واقعی کمزور ہوتی ہیں اتنا سب کچھ سہنے کے بعد وہ مضبوط ہو بھی کیسے سکتی تهی. …..
آنکهوں کے گرد اندهیرا چهانے لگا. .جی متلانے لگا اور اگلے ہی لمحے اسے زور دار ابکائی آئی…عروہ بهاگ کر اس کے پاس آئی ..اس کا جی کچا ہو رہا تها. ..عروہ اسے سہارا دیتی ایک رکشے کے پاس لے آئی…اور اسے رکشے میں بٹها کر ایک ڈاکٹر کے پاس لے آئی …..وہ شہر کا ایک چهوٹا کلینک تها…ڈاکٹر نے اس کے کچھ ٹیسٹس کیے…عروہ وہیں بنچ پر بیٹهی دعائیں کرتی رہی……..
“پریشانی کی کوئی بات نہیں. …”وہ دونوں ڈاکٹر کے سامنے بیٹهی تهیں….
“ایسی حالت میں ایسا ہوتا رہتا ہے. آپ کو چاہیے انہیں کسی گائنا کالوجسٹ کے پاس لے جائیں”…ان دونوں نے الجهن بهری نگاہوں سے ایک دوسرے کو دیکها. …
“گائنا کالوجسٹ. ..؟ میں سمجهی نہیں ڈاکٹر صاحب”…؟ عروہ نے حیران ہوتے ہوئے پوچها….
“شی از پریگننٹ…یہ ماں بننے والی ہیں..”..کوئی بم تها جو ان دونوں بہنوں پر گرا تها….عروہ نے شاکڈ ہو کر آیت کو دیکها تها……….
جاری ہے. ……

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *