December Lout Ana Tum by Nasir Hussain NovelR50779 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode42
Rate this Novel
December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode01 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode02 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode03 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode04 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode05 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode06 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode07 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode08 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode09 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode10 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode11 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode12 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode13 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode14 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode15 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode16 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode17 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode18 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode19 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode20 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode21 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode22 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode23 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode24 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode25 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode26 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode27 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode28 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode29 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode30 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode31 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode32 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode33 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode34 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode35 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode36 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode37 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode38 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode39 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode40 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode41 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode42 (Watching)December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode43 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode44 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode45 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Last Episode
December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode42
December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode42
•••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••
“دوسرا کلمہ سنائیں اس وقت پچیس کروڑ عوام آپ کے جواب کا منتظر ہے. ..آپ کی یہ لائیو کوریج پورا پاکستان دیکھ رہا ہے. “……
وہ گهبرا گئے…انہوں نے تهوک نگلا….
” نہیں معلوم. .تعجب کی بات ہے ایک عالم جو لوگوں کے ہر مسئلے حل کرتا ہے لوگوں کو ان کا باطن بتاتا ہے اسے دوسرا کلمہ ہی نہیں آتا. …..جب آپ کو دوسرا کلمہ ہی نہیں آتا تو آپ لوگوں کو کیا سکهائیں گے….؟ آپ اللہ سے مقابلہ کرنے چلے ہیں. ..؟ آپ کو یہ تک نہیں پتا قرآن پاک میں کتنی سورتیں ہیں…..آپ کسی اور کو کیا کیا صراط مستقیم پر لائیں گے آپ تو خود ہی غفلت کے گڑھے میں گرے ہوئے ہیں ….”…
“پکڑو اس لڑکی کو..”..وہ بابا چلائے ان کے دو مرید آگے بڑهے…انوشیر گهبرا گیا …آیت نے غصے سے ان کی طرف دیکھا. ….
” خبردار اگر کسی نے آگے بڑھنے کی کوشش کی. .واپس اپنے پیروں پر نہیں جاو گے”. …اس کی دھمکی سے وہ پیچھے ہٹے….وہ ایک بار پھر بابا کی طرف متوجہ ہوئی……
” آپ لوگوں کا ان کا باطن بتاتے ہیں ..اللہ کی بنائی ہوئی چیزوں میں ردو بدل کرتے ہیں مجهے یہ جاننا ہے آپ یہ کیسے کرتے ہیں اور آپ کو یہ اختیار کس نے دیا..؟” وہ اس بابا کی آنکھوں میں دیکھ رہی تهی…….
“ہم صرف اللہ کے ولی ہیں اور ہم بشارت دی گئی ہے.” ..؟ وہ بابا جی پر اعتماد ہو کر بولے……
” کس نے کہا آپ اللہ کے ولی ہیں…جو اللہ سے مقابلہ کرے وہ اللہ کا ولی کیسے ہو سکتا ہے جو کسی کو نا حق قتل کرے وہ اللہ کا دوست تو نہیں ہوتا…؟ اور کہاں سے ملی آپ کو بشارت…؟ کس نے دی آپ کو بشارت..
؟ اخبار میں آپ نے اشتہار دیا تها آپ کہیں گے ہو جا تو ہو جائے گا…کس نے آپ سے کہا آپ کے ہو جا کہنے سے سب ہو جائے گا…ابهی آپ ہو جا کہہ کر مجهے یہاں سے غائب کر دیں. . کیا آپ ایسا کر سکتے ہیں کیا آپ کو یہ اختیار ہے. .”.؟
وہ بابا بول نہیں سکے .ان کے حلق سے آیت زبان کھینچ چکی تهی.. وہ خوف سے آیت کو دیکھ رہے تھے. ..
سبهی لوگ اس بہادر لڑکی کو دیکھ رہے تھے جس کی ایک بهی بات غلط نہیں تهی……
“آپ نے کہا تھا آپ میرے دشمن کو قتل کرو گے. کس نے آپ کو یہ اختیار دیا. .”…
” اللہ ہی وہ ہستی ہے جس نے تم کو پیدا کیا پھر تم کو رزق دیا پهر تم کو مارے گا پھر تم کو زندہ کرے گا کیا تمارے شریکوں میں کوئی ایسا ہے جو ان کاموں میں سے کچھ کر سکے. وہ پاک ہے اور بالاتر ہے. …….
بتاو کیوں کرتے ہیں آپ ایسا ..کیوں اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کرتے ہیں. …خدا سے نہیں ڈرتے اس کی طاقت سے نہیں ڈرتے..اسے چیلنج کرتے ہوئے آپ کا دل نہیں کانپتا.. جو سب سے بڑا ہے جو آپ کے شہہ رگ سے بھی زیادہ قریب ہے جو چاہے ابهی کے ابهی آپ کی دهڑکن بند کر دے….جو آپ کو رزق دیتا ہے جس نے آپ کو پیدا کیا آپ اسی سے مقابلہ کر رہے ہو اس کے برابر کهڑے ہونے کی کوشش کر رہے ہو…دین کوئی مذاق نہیں ہے جو ہر بندہ اپنی دوکان کهول کر بیٹھ جائے..”…….اس کی آواز بهرا گئی…انوشیر نے تفاخر سے اسے دیکها….
“تم مرو گی .ہم تمہیں جہنم میں ڈال دیں گے. .”.وہ بابا غصے سے چلائے. ….
“آپ مالک نہیں ہو جو مجهے جہنم میں ڈالو گے آپ میری طرح کے ایک انسان ہو…اور جہنم میں تو آپ خود کهڑے ہیں..”…..
_ ___ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _
عروہ چائے کا کپ لیے لاونج میں آئی…اس نے ٹی وی آن کیا…عمارہ بیگم بھی وہیں آ کر بیٹھ گئیں….
بریکنگ نیوز. ..آیت نامی ایک لڑکی کوہ سلیمان کے علاقے ایک بہت نامور اور مشہور بابا کو چیلنج کرنے نکلے ہیں…..
عروہ کی آنکھیں پھیل گئیں. .عمارہ بیگم نے کپ رکھ کر ٹی وی دیکها…ان کے ابو جو وہاں سے گزر رہے تھے آیت کا نام سن کر رک گئے اور ٹی وی دیکھنے لگے…..وہ ایکنر بول رہی تهی…
” جی تو ناظرین آیت نامی لڑکی اتنی دور سفر طے کر کے اس ڈهونگی بابا کا پردہ فاش کرنے نکلی ہے…جو لوگوں کو گمراہ کر رہا تھا اور شرک کر رہا تها…اس وقت یہ خبر پورا پاکستان دیکھ رہا ہے. .آپ کو یہ لائیو کوریج دکهائی جا رہی ہے. ….کیسے ایک لڑکی بنا ڈر بنا خوف کے اس بابا سے سوال جواب کر رہی ہے. .پورے پاکستان کو اور مسلمانوں کو فخر ہے اس لڑکی پر.اس لڑکی نے ایک اہم برائی پر انگلی اٹھائی ہے….”…
اس کے ابو کے تاثرات بدل گئے….تو وہ کوہ سلیمان زیارت کے لیے نہیں یہ سب کرنے گئی تهی…..
انہوں نے سوچا بھی نہیں تها یہ لڑکی انہیں یوں ننگا کرے گی…..انہیں اس کے جهوٹ پہ غصہ آنے لگا…عمارہ بیگم اور عروہ گھبرائی ہوئی لگ رہی تهیں……
_ ____ ____ _______ _______ ______
” یہ شرک نہیں ہے لڑکی…تم چلی جاو برباد ہو جاو گی..”.
آیت نے حیرت سے اسے دیکھا. ..
” یہ شرک نہیں ہے. .اس سے بڑھ کر شرک اور کیا ہو سکتا ہے. ..آپ وہی کام کرنے کی کوشش کر رہے ہیں جو اللہ تعالیٰ ہی کر سکتا ہے آپ ان کی برابری کرنے کی کوشش کر رہے ہو. ..غائب کا علم صرف اللہ تعالیٰ کو ہے پھر آپ کون ہوتے ہو ؟ کسی کو اس کا مستقبل دکهانے والے. ..آپ کو کلمہ آتا نہیں ہے اور آپ چلے اتنا بڑا چیلنج کرنے. ….اور آپ جیسے سبھی لوگ جو ہزار ہزار روپے میں ایمان کا سودا جہنم سے کرتے ہیں. ..اور گمراہ ہیں وہ لوگ جو اللہ کو چھوڑ کر آپ جیسے انسانوں یا قبروں سے مانگنے لگتے ہیں. ..شرک یہی ہے شرک اس کے علاوہ کسی کو نہیں کہتے…”..
” ان اللہ لا یغفر ان یشرک به ویغر مادون ذالک لمن یشا…انسا 166
بے شک اللہ اس بات کو معاف نہیں کرتا کہ اس کے ساتھ شرک کیا جائے…اس کے سوا وہ جس گناہ کے لیے چاہے گا معاف کر دے گا……
سب کی نگاہیں اسی کی طرف تهیں..سبهی فخر سے اس لڑکی کو دیکھ رہے تھے انہیں ایسا لگ رہا تھا اس لڑکی نے انہیں جہنم میں گرنے سے بچا لیا ہو….
اللہ تعالیٰ مالک ہیں اور انسان اللہ تعالیٰ کا مقابلہ کهبی نہیں کر سکتا. ..اللہ دیتا ہے اور اللہ ہی لیتا ہے انسان کے ہاتھ میں کسی کو رزق دینا نہیں لکها گیا……
کیا آپ ثابت کر سکتے ہیں آپ سہی ہیں…؟ میں آپ کو چیلنج کر رہی ہوں آپ ثابت کر کے دکھائیں آپ شرک نہیں کر رہے. ..؟ آپ مجهے ثبوت دیں اور میں آپ کو ثبوت دیتی ہوں…..وہ انہیں فاتحانہ انداز میں دیکهنے لگی….”..
“ہمارے پاس ثبوت ہے. ..ہم نے ان لوگوں کو تعویذ لکھ کر دی اور انہوں نے ہمیں سجدہ کیا …ان کی اولاد نہیں تهی اور اب ان کا ایک بیٹا ہے. .بابا جی نے ایک جوڑے کی طرف اشارہ کیا تھا..اور ایک دوسرے بندے کو ہم نے نوکری دی اس کے پاس رزق نہیں تها.”…آیت ان کی بات کاٹ کر بولی……..
[ دسمبر لوٹ آنا تم تحریر ناصر حسین]
” کون کہتا ہے ان کو اولاد آپ نے دی….اور جو روزانہ کروڑوں بچے پیدا ہوتے ہیں وہ سب آپ دے رہے ہیں. .آپ کے دماغ میں یہ گهٹیا سوچ آئی بھی کیسے. ..؟ اور میں. .مجھے تو آپ نے اولاد نہیں دی اور نہ ہی میں نے آپ کو سجدہ کیا …نہ ہی آپ کے پاؤں چهوئے…ہزار روپے فیس بھی نہیں دی… تو پهر میرے پیٹ میں بچہ کہاں سے آیا…؟ آپ کہتے ہیں آپ نے ان کو اولاد دی تو آپ نے اس اب وہ اولاد چهین کر دکهاو….کیونکہ اللہ تعالیٰ اگر کچھ دیتا ہے تو وہ لینے کی استقامت بھی رکهتا ہے”……..
” اور آپ نے کہا تها آپ نے کسی کو نوکری دی .رزق دیا…آپ کب سے رزق دینے لگے ..آپ رازق تو نہیں ہو رازق تو کوئی اور ہے آپ تو ایک معمولی نطفے سے پیدا ہونے والے ادنیٰ سے انسان ہو بس اور کچھ نہیں. ..
کوئی اور ثبوت ہے تو پیش کریں..”..وہ ان کے ثبوتوں کے پرخچے اڑا چکی تھی. ……وہ بابا خاموش رہے اس خاموشی کا مطلب وہ سمجھ رہی تھی. …
” اب میں آپ کو ثبوت دیتی ہوں جسے آپ تو کیا یہاں کهڑا کوئی بھی انسان جهٹلا نہیں سکتا. .سورہ انعام میں اللہ تعالیٰ اپنے اٹهارہ برگزید انبیاء کرام کا نام بنا ذکر فرماتا ہے اور آخر میں فرماتا ہے. ..
” ولو اشرکو لحبط عنهم ما کانو یعلمون…
اگر ان سے بھی ( بفرضِ محال) شرک سرزد ہو جاتا تو ان کے اعمال بھی ضائع کر دیے جاتے..”….
اس سے بھی سخت آیت نبی کریم صل اللہ علیہ و علیہ وسلم کے لیے نازل ہوئی کہ…
” ترجمہ ..اے نبی صل اللہ علیہ و سلم اگر آپ نے بھی
( بفرضِ محال) شرک کیا تو آپ کے اعمال بھی ضائع کر دیے جائیں گے اور آپ خسارہ پانے والوں میں شامل ہو جائیں گے. “…..
” ذرا سوچیں تو سہی اللہ کے انبیاء اور خود حضرت محمد صلی علیہ والہ وسلم دنیا میں شرک کرنے نہیں آئے تھے بلکہ شرک کی جڑوں کو دنیا سے اکهاڑ کر پهینکنے آئے تهے. …لیکن یہ بات ان کے حوالے سے انسانیت کو سمجھائی جا رہی ہے کہ دیکهو..شرک اتنا شنیع گناہ ہے کہ اس کے لیے انبیا اکرام کو بھی معاف نہیں کیا جائے گا. ..تو پھر عوام الناس کے اعمال کی کیا حیثیت. آپ صرف پیسے لئے لوگوں کو جہنم بیچ رہے ہیں .چند کاغذ کے معمولی ٹکڑے آپ کو شرک کروا رہے ہیں”. …….
سبهی لوگوں نے خوش ہو کر تالیاں بجائیں آیت کے لیے…اور گھروں میں موجود وہ لوگ جو ٹی وی دیکھ رہے تهے سب خوشی خوشی اور تفاخر سے اسے دیکھ رہے تھے. …….ایک اور جگہ فرمایا گیا ہے..
” تم کس طرح اللہ سے کفر کرتے ہو حالانکہ تم بے جان تهے تو اللہ نے تم کو زندگی عطا کی پهر وہی تم کو موت دے گا پهر وہی تم کو زندہ کرے گا..پهر تم سب “اس کی طرف لوٹائے جاو گے…… البقرہ “…
” اور اس سے زیادہ کون گمراہ ہوگا جو اللہ کے سوا ایسوں کو پکارے جو قیامت تک اس کی پکار کا جواب نہ دیں اور وہ تو ان کی پکار سے بے خبر ہیں. …الاحقاف”….
” پهر فرمایا مردہ اور زندہ برابر نہیں لہذا مردوں کو پکارنا حماقت اور جہالت ہے…”
” آخر وہ اپنے گناہوں کے سبب غرقاب ہو ہوئے پهر آگ میں ڈالے گئے اور اللہ کے سوا ان کو کوئی اور حمایتی نہیں ملا…”
اس لڑکی کے پاس جو دلائل تهے وہ دنیا کے سب سے بڑے دلائل تهے جو ثبوت تهے ان کے بعد کسی اور ثبوت کی ضرورت نہیں تهی. .وہ جس کتاب کا حوالہ دے رہی تھی وہ دنیا کی سب سے بڑی کتاب تهی…..آیت کی آنکھوں میں آنسو تهے…اس نے روتے ہوئے انوشیر کی طرف دیکھا انوشیر نے اسے ہاتھ کا اشارے سے بیسٹ آف لک کہا. ..اس بابا کی کشتی ڈوب چکی تهی کیونکہ وہ دھوکے اور جهوٹ کے بنیاد پر کهڑی تهی…..
[ دسمبر لوٹ آنا تم تحریر ناصر حسین]
پولیس آچکی تهی..وہ یہ جنگ جیت چکی تھی اس نے آسمان کی طرف دیکھ کر دل ہی دل میں کہا…..
” اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں. .وہ ایک ہیں نہ کوئی ان کے جیسا ہے اور نہ ہی کوئی ان کا شریک ہے. .”.وہ بابا هو دنیا کے سبهی لوگوں کو ہر مشکل سے نجات دلاتا تها اس کے پاس ایسا کوئی علاج نہیں تها جس سے وہ اپنے آپ کو بچا پاتا …
اس کی آنکھیں نم ہو چکی تهیں..وہ کامیابی کی سیڑھی پر کهڑی تهی اس نے صرف کوشش کی تھی اور اللہ تعالیٰ اس کے لیے راستے صاف کرتا گیا …
وہ کوئی معمولی کمزور لڑکی تهی کوئی ولی نہیں تهی اس نے اللہ کی راہ میں خود کو نچھاور کر دیا اور اللہ نے اسے رسوا نہیں ہونے دیا……..
انوشیر کیمرے لیا کهڑا تها..وہ نم آنکهیں لیے کهڑی ہوئی….اس نے پوروں سے آنکهوں کو صاف کیا…پولیس اس بابا کو گرفتار کر کے لے جا رہی تھی اس نے ایک آخری بار غصے سے اس لڑکی کو دیکھا جو اس کی ساری بازی الٹ چکا تها….انہوں نے اپنی پوری زندگی نام اور پیسہ کمانے میں گزار کر دی اور وہ لڑکی سیکنڈوں میں اس کا محل گرا چکی تهی….
غصے سے اس لڑکی کو دیکھتے ہوئے. …ان کی نظر ایک پولیس والے کے بیلٹ سے بندھی پستول پر پڑی…انہوں نے اس لڑکی کو دیکھا جو مسکرا رہی تھی سکینڈ کے ہزارویں حصے میں انہوں کھینچ کر وہ پسٹل نکالی اور اس لڑکی کی طرف نشانہ لگایا….وہ نم آنکھوں سے آسمان کی طرف دیکھ رہی تھی …
انوشیر اس بابا کو پسٹل نکالتے اور نشانہ لگاتے دیکھ چکا تها…اس بابا نے تیزی سے ٹریگر دبایا اور انوشیر نے بهاگ کر آیت کو دهکا دے کر دور ہٹایا….گولی اس کے کاندھے کو جا لگی…
دوسری گولی چلانے سے پہلے پولیس اسے پکڑ چکی تهی…آیت نے انوشیر کو دیکھا اور بهاگ کر اس کی وجہ آئی .وہ زمین پر گر رہا تها.اس کی آنکھیں بند ہو رہی تهیں شور تها شور تها….آوازیں تهیں…..اور وہ……..
جاری ہے. ……
