Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode04

December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode04

““““““““““““““““““““““““
” تم ثابت کیا کرنا چاہتی ہو گڑیا میں نے تمہیں گرایا ہے __ وہ تو تم زور زور سے جهولے لے رہی تهی رسی ٹوٹ گئی اور تم گر گئیں “____گڑیا کے تلے لگی اور سر پہ آن بجهی ___
” اچها تو درخت کے اوپر کیا کرنے گئے تھے _”گڑیا نے ہاتھ کمر سے ٹکا کر غصے سے اسے دیکها __ایک پل کے لیے رام شرمندہ نظر آیا مگر اگلے ہی پل اس نے چہرے کے تاثرات نارمل کیے ایسا کرنے میں وہ مہارت رکهتا تها _____
” وہ ….وہ….تو ….میں امرود کهانے گیا تها….”.؟
اس نے گڑبڑا کر جواب دیا……
” اور آم کے درخت پہ امرود کہاں سے آئے..”…سب نے سوالیہ نگاہوں سے رام کو دیکها. ….
” وہ تو میں نیچے سے لے کر گیا تھا. ..یہ دیکھیں دادی…” اس نے ہاتھ میں پکڑا ہوا امرود دکهایا…..
” یہ…یہ جهوٹ بول رہا ہے دادی..”….وہ دهواں دهار آنسو بہاتے ہوئے بولی……
” ارے چپ کر منحوس. ….رام کهبی جهوٹ نہیں بولتا.یہ سب تمہارے اس منحوس تل کی وجہ سے ہوا ہے. .کہا بھی تها مت کها اتنے لمبے لمبے جهولے مگر تو کسی کی سنے نہ تب….اور اس معصوم پہ الزام لگانا بند کر…کتنا پیارا بچہ ہے”… دادی نے آگے بڑھ کر اسے گلے سے لگایا لیا…اس نے کها جانے والی نگاہوں سے رام کو دیکها….رام فاتحانہ انداز میں مسکرا رہا تھا. …..
اور سب گهر والے واپس اپنے کاموں میں مصروف ہو گئے. .ان کے لیے یہ شاید کوئی بہت بڑی بات نہیں ہوگی ..اس کے ساتھ ہمیشہ یہی ہوتا ہے اس میں کوئی تعجب کی بات نہیں تهی دادی کهبی بهی رام کے سامنے اس کی سائیڈ نہیں لیتیں تهیں…ویسے بھی دادی کی نظر میں وہ دنیا جہان کی نکمی اور منحوس لڑکی تهی اور اس کی سب سے بڑی وجہ رام تها……
اس برفانی خوبصورت علاقے کے دامن میں چوہدری افضل کا خوبصورت گهر تها جو تقریباً دو کنال کے رقبے پر مشتمل تها .پکا گهر اور ایک بہت بڑا آنگن اور آنگن میں آم کا بہت بڑا درخت تها….چوہدری افضل اس گاوں کے سرپرست مانے جاتے تھے ایک طرح سے وہ وڈیرہ تهے جو دوسروں کے فیصلے کرتے اور ان کے جهگڑے سلجهاتے ..غرور انہیں وراثت میں ہی ملا تها وہ خود کو خدا سمجهنے والوں میں سے تها جو کهبی بهی اپنی غلطی تسلیم نہیں کرتے تهے کیونکہ ان کی نظر میں وہ کهبی غلط ہو ہی نہیں سکتے. ..پیسہ انسان کے کئی عیب چهپاتا ہے اور چوہدری صاحب بھی پیسے کا استعمال چادر کے طور پر کر رہے تهے. …….
والدین میں سے ان کی ماں حیات تهیں والد کافی عرصہ پہلے دل کا دورہ پڑنے سے انتقال کر گئے. ..ان کے بعد ساری ذمہ داری اور ساری جاگیر ان کے ہاتھ آگئی جسے انہوں نے اپنی مرضی سے استعمال کیا. ..وہ بیوی بچوں کو بھی دبا کر رکهتے تهے اور پورے گهر میں ان کی وحشت ہوتی………
ان کا نام سن کر ان کے بچے ڈر جاتے…ان کی صرف دو بیٹیاں تهیں عروج اور گڑیا.. ..گڑیا کو پیار سے گڑیا کہا جاتا تها کیونکہ ایک تو وہ عروج سے ایک سال چهوٹی تهی اس کی دوسری وجہ خوبصورتی تهی. ..وہ معصوم گول مٹول سی لڑکی واقعی ہی کوئی گڑیا تهی….اور ان کی ایک جوان بہن جنت بھی ان کے گهر کا حصہ تهی. …وہ اپنے آپ میں مگن رہنے والی ایک مذہبی لڑکی تهی…اسلام اور اللہ سے محبت کرنے والی …ہر وقت اسکارف اوڑهے رکهتی وہ کام ہرگز نہیں کرتی جو اللہ کو پسند نہیں ہوتا……
ہر بات میں ہر پہلو میں وہ اسلام کے دلائل ڈهونڈ لاتی ..وہ زیادہ پڑهی لکهی نہیں تهی لیکن قرآن پاک ترجمے کے ساتھ وہ حفظ کر چکی تهی. ……نماز روزے کی پابند تهی سال میں تقریباً چھ مہینے وہ روزے رکهتی اور رات کے آدهے حصے تک وہ عبادت کرتی..وہ نہایت نرم مزاج اور خوش اخلاق سی معصوم لڑکی تهی……
چوہدری صاحب کے برابر والا گهرانہ ایک ہندو اکشے اگروال کا تها..وہ گهر ان کے گهر سے کچھ ہی میٹر کے فاصلے پر تها اور ان دو گهروں کے علاوہ وہاں آس پاس کوئی گهر نہیں تها…….
[ دسمبر لوٹ آنا تم تحریر ناصر حسین ]
ان دونوں گهروں میں کوئی پردہ نہیں تها..ان کا رشتہ ایسا تها جیسے خونی رشتے ہوں …اکشے کی بیوی مدهو نامی ایک صابر و شاکر عورت تهی…ان دونوں کا ایک ہی آٹھ سال کا بیٹا رام اگروال تها جو زیادہ تر وقت چوہدری صاحب کے گهر میں ہی گزراتا…اس کی وجہ ایک تو ان دونوں گهرانوں میں بے تکلفی تهی اور دوسری وجہ ان کے آس پاس کوئی ایسا گهر نہیں تها جہاں وہ کهیلتا یا وقت گزارتا…دور وہ جا نہیں سکتا تھا اور یہاں سارا دن وہ ان دونوں لڑکیوں کے ساتھ ہی کهیلتا…..وہ بہت شرارتی تها اور سب سے زیادہ تنگ وہ گڑیا کو کرتا….گڑیا کی اور اس کی جنگ برسوں سے چلی آ رہی تهی وہ دونوں ایک دوسرے کے ساتھ مقابلے بازی میں لگے رہتے. …لیکن اکثر رام ہی جیتتا….کیونکہ وہ بہت ہوشیار تها اور گڑیا دادی کے سامنے کهبی ثابت نہیں کر پاتی تهی فلاں شرارت رام نے کی ہے…
دادی کی نظروں میں وہ ہمیشہ فرشتہ تها اس گهر میں سب سے زیادہ دادی ہی اسے پسند کرتی تهیں..کیونکہ وہ ان کی سو سال پرانی کہانیاں بڑی دلچسپی سے سنتا تها جن میں گڑیا کو کهبی دلچسپی محسوس نہیں ہوئی…دادی اسے پسند کرتی ہے اس حد تک سب ٹهیک تها لیکن وہ دادی کو گڑیا کے خلاف الٹی سیدھی پٹیاں پڑهاتا اور خود کو اچها بناتا……
اور دادی اتنی بهولی تهیں اس کی بات پہ آنکھ بند کر کے یقین کرتیں جیسے اس نے کچھ عرصہ پہلے کہا تھا اس کے انگلش میں چار سو نمبر آئے اور گڑیا کے ستر …اسی بات پہ دادی نے یقین کر کے گڑیا کو نالائقی کے کئی طعنے دیے…وہ بیچاری چپ چاپ سنتی رہتی اگر کچھ بولنے کی کوشش کرتی تو رام اسے جهوٹا ثابت کرتا..اب دادی کو یہ بات کون سمجهاتا کہ انگلش میں تو کیا پورے کورس بک میں بھی چار سو نمبر کسی کے نہیں آئے……اور بالکل ایسے ہی کچھ مہینے قبل اس نے دادی کے کانوں میں یہ بات پهونک دی کہ گڑیا کے رخسار پہ جو کالا تل ہے وہ بد بختی کی علامت ہے اور دادی نے لگے ہاتهوں اس بات پہ یقین بھی کر لیا اب تو وہ اٹهتے بیٹهتے اسے تل کے طعنے دیتیں. ..گهر میں جو بھی چهوٹا بڑا نقصان ہوتا اس کا ذمہ دار وہ تل ہوتا…..بلی چوزے کها گئی تل کی منحوسیت کی وجہ سے….کسی کو بخار ہو گیا تل کی وجہ سے. ..اور اگر کسی کو نزلہ بھی ہوا تو اس کا ذمہ بھی اس تل کے سر پہ ہوتا. ..تل نہ ہوا گویا کالا سانپ ہو گیا…رام کی پڑهائی پٹی اتنی ہی مضبوط ہوتی کہ دادی اس کے علاوہ کچھ دیکھ ہی نہ پاتیں…..
[ دسمبر لوٹ آنا تم تحریر ناصر حسین ]
دادی اتنے یقین سے کہتیں کهبی کهبی وہ خود بھی سوچ میں پڑ جاتی واقعی یہ تل کوئی منحوس ہے..لیکن تعجب کی بات تو یہ تهی اس تل کی دیوانی اس کی ساری سہیلیاں تهیں وہ جب سکول جاتی تو سبهی اس پہ رشک کرتے ہائے گڑیا تیرے گالوں پہ کتنا خوبصورت تل ہے. …..اب وہ انہیں کیا کیا بتاتی اسی تل کی وجہ سے گهر میں کئی نقصانات ہو چکے ہیں جن کی وجہ سے اس کا دل چاہتا وہ تل نوچ کر کہیں دور پهینک دے وہ تل کسی آسیب کی طرح اس کے پیچھے پڑا تها……
مگر اس سب کے باوجود وہ جانتی تھی یہ سب رام کی کارستانی ہے اور اسی وجہ سے اس کے اور رام کے بیچ نفرت کی دیوار کهڑی تهی ..
عروج البتہ ان دونوں کے مقابلے بازی سے ہمیشہ دور ہی رہتی اسے ان معاملات میں بالکل بھی دلچسپی نہیں تهی مگر ہاں وہ رام کی شرارتوں سے واقف تهی لیکن گڑیا کی طرح اس کے پاس بھی کوئی ثبوت نہیں ہوتے تهے جنہیں وہ دادی کو دکها کر اسے دادی کی نگاہوں سے گراتی……..
عروج اور گڑیا اسے جتنا ہی نا پسند کیوں نہ کرتے مگر وہ کھیلنے کے لیے انہی دونوں کے پاس آتا کیوں ان دونوں کے علاوہ اس کا کوئی دوست ہی نہیں تها…وہ بعض دفعہ ان دونوں کے ساتھ گڑیاں اور گهر گهر بھی کهیلتا……
گڑیا اکثر غصے سے اسے موٹے کہتی…کیوں وہ تهوڑا بهرا ہوا جسم رکهتا تها گوری رنگت اور سنہری آنکهیں. ..اور انہی آنکهوں کی وجہ سے وہ اسے بلی جیسی آنکھوں والا کہتی…جس پہ وہ ناراض ہونے کی بجائے کهلکلا کر ہنس پڑتا ……..
اس وقت بھی جب وہ دادی کے سامنے اس کے لاڈلے کی غلطی ثابت نہیں کر پائی تو آم کے نیچے آ کر بیٹھ گئی. ..اور اس نے ایک ہاتھ سے اپنے پاوں کو چهوا جو تهوڑا بہت درد کر رہا تها. ……
کیا بہت درد کر رہا ہے. …اس کے پاس سے ہی کہیں آواز ابهری…..اس نے سر کو اٹها کر سامنے دیکها. .غصے کی ایک لہر اس کے وجود میں پیدا ہو گئی….
” تم .”..؟ وہ زور سے چلائی. ..
” دفعہ ہو جاو یہاں سے.” ..وہ ایک بار پھر پاوں مسلنے لگی……
” آئم سوری. …”.وہ کان پکڑ کر بولا. ..کهبی کهبی وہ معافی مانگ لیا کرتا لیکن وہ اسے معاف نہیں کرتی کیا فائدہ معاف کرنے کا تهوڑی دیر بعد اسی نے وہی شرارتیں شروع کر دینی تهیں…
“”گڑیاں کهیلو گی”…..؟ عروج پاس ہی کهڑی تهی اس کے ہاتهوں میں گڑیاں تهیں…وہ کھیلنے کے لئے تیار ہو گئی ….اور درخت کے تنے کا سہارا لیتی ہوئی کهڑی ہو گئی….رام ابهی بهی وہیں کهڑا اسے دیکھ رہا تھا…….
” میں بهی آپ کے ساتھ کهیلوں گا….”.وہ پرجوش ہو کر بولا….گڑیا نے غصے سے اسے دیکها…..
نہیں کوئی ضرورت نہیں. …..وہ پیر پکڑ کر لنگڑاتی ہوئی جا رہی تهی. …رام کو افسوس ہوا……
” اپنی گڑیا کی شادی مجھ سے کرو گی.”…؟ اس نے پیچھے سے آواز دی ……
” بالکل نہیں. .”…وہ چلتے ہوئے بولی تهی. ..رام مسکرا دیا اس کی آنکھیں چمک اٹهیں…..
” اچها تم شادی کرو گی مجھ سے”. ….اس نے شرارت سے پوچها….یہ بات کہہ کر وہ ہمیشہ اسے چڑاتا تها اور وہ ہمیشہ چڑتی تهی……اس وقت بھی وہ کهڑی ہو کر زمین پہ متلاشی نگاہوں سے دیکھ رہی تھی رام جانتا تھا وہ اسے مارنے کے لیے کچھ ڈهونڈ رہی ہے پهر اسے فرش پہ ربڑ کا بال نظر آیا جو اس نے اٹها کر رام کی طرف اچهال دی…وہ جانتی تھی وہ بهاگ جائے گا اور بال اسے نہیں لگے گی لیکن وہ غلط ثابت ہوئی وہ وہیں کهڑا رہا اور بال سیدھا جا کر اس کے منہ پہ لگی…رام تو مسکرا دیا مگر وہ شرمندہ ہوئی. .یہ سہی تها اس نے نشانہ درست لگایا مگر اسے یقین تها وہ بهاگ جائے گا مگر آج وہ پہلی بار کهڑا رہا….اور بال بهی اسے لگ گئی اور وہ غصہ ہونے کی بجائے مسکرا رہا تھا ….عروج بھی ان دونوں کے تماشے کو انجوائے کر رہی تهی. ……
” تم بهاگے کیوں نہیں بلی جیسی آنکھوں والے” …؟ اس نے حیران ہو کر پوچها …..
” تا کہ تمہارا بدلہ پورا ہو…..” وہ کندهے اچکا کر بولا. ..وہ سر جهٹک کر ایک بار پھر اپنے گڑیوں والے گهر کے پاس جا رہی تهی جب اندر سے جنت بوا کی آواز آئی ……
” گڑیا ، عروج اندر آ جاو….پکوڑے بنائے ہیں .”.وہ دونوں پرجوش ہو گئیں اور گڑیا رکھ کر اندر جانے لگیں….
” رام کو بھی لیتے آنا…”…دادی کی آواز بھی زور سے گونجی جو رام نے سن لیا….اور اندر کی طرف بهاگا. ..یہ اس کی اچھی عادت تھی جب تک اسے کچھ کهلانے کے لیے بلایا نہیں جاتا وہ کهبی نہیں جاتا….وہ لاکھ فری تها لیکن اس معاملے میں اس کے اندر ایک جهجک تهی اور یہ جهجک اس کے اندر اس کی ماں نے پیدا کیا تها..اس کی پرورش لاجواب تهی……..
[ دسمبر لوٹ آنا تم تحریر ناصر حسین ]
_ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _
دوپہر کا وقت تھا عروج اور گڑیا چپکے سے گهر کے اندر داخل ہوئیں ان کی جهولیاں خوبانی سے بهرے ہوئے تهے__جو وہ اپنے ہی باغیچے سے چوری کر کے لائے تھے اور چوری انہوں نے اس لئے کیا تها کیونکہ وہ ابهی کچے تهے اور اگر پکے بھی ہوتے تب بھی دادی انہیں ہاتھ لگانے نہیں دیتی تھی __جیسے وہ خوبانی نہ ہوئے کوئی سونے کا انڈہ دینے والی مرغی __اس وقت دوپہر کا وقت تھا کهانے کے بعد سبهی سو چکے ہوں گے یہی سوچ کر وہ باغیچے میں گئیں جہاں بیٹھ کر انہوں نے خوب پیٹ بهرا اور باقی بچا ہوا مال جهولیوں میں ڈال کر گهر لائے تھے یہ سوچ کر کہ بعد میں کهائیں گے _______
چهپ وہ اس لیے رہے تهے کیونکہ دادی کا سامنا کرنے پہ انہیں ڈانٹ کے ساتھ لاٹهی کا وار بھی سہنا پڑتا اور اگر سامنا جنت سے ہو جاتا تو وہ دنیا بهر کے اقوال اور احادیث سنا دیتی تهی ____اور جس سے وہ بچنا چاہ رہے تھے وہی ہوا __سامنے سے جنت بوا آتی نظر آئی دونوں کی ہوائیاں اڑ گئیں اور وہ ایک دوسرے کا منہ دیکهنے لگیں_____
جنت ان کے پاس آئی اور ایک ایک نظر دونوں پہ ڈال کر اس نے ان دونوں کی جهولیوں کو دیکها____
‘ تم لوگوں کی جهولی میں کیا ہے_”__؟ دونوں نے تهوک نگلا ___
” بوا اگر ہم آپ کو بتا دیں کہ ہماری جهولی میں خوبانی ہیں تو آپ ہمیں ڈانٹیں گی___” گڑیا بهر پور معصومیت سے بولی جنت نے اپنی مسکراہٹ چھپائی___
” اور اگر تم لوگ نہیں بتاو گی تو میں زیادہ ڈانٹوں گی” __وہ مصنوعی غصے سے بولی __
” یہ خوبانی ہیں _”__اب کی بار عروج نے بتایا جیسے پہلے گڑیا نے تو پتا ہی نہیں لگنے دیا __
” تم لوگوں نے چوری کی ہے___”؟ وہ گهٹنوں کے بل ان کے سامنے بیٹھ گئی _ دونوں نے نگاہیں جهکا لیں البتہ انہیں یقین تھا اب جنت کا لیکچر شروع ہو جائے گا___
” نہیں چوری نہیں کی وہ گرے پڑے تهے تو __”_گڑیا نے جهوٹ بول کر صفائی دینے کی کوشش کی لیکن جنت نے اسے گهور کر ” مجهے سب پتا ہے ” والی نگاہوں سے دیکها__وہ مزید شرمندہ ہو گئی____
” بس چهوٹی سی چوری کی ہے_'”__وہ گردن جهکائے مدهم آواز میں بولی___ جنت نے اس کے گالوں پہ ہاتھ رکھ کر اسے پیار سے دیکها ____
‘” چوری تو چوری ہے چهوٹی ہو یا بڑی ___اور
چوری کرنا بہت بری بات ہے___چوری کرنے والا کهبی نہ کهبی ضرور پکڑا جاتا ہے __چوری مطلب کسی بھی چیز کو غلط طریقے سے حاصل کرنا اور جو چیز غلط طریقے سے ہم حاصل کر لیں وہ کهبی بهی ہمارے لیے سہی نہیں ہو سکتی__غلط راستے کی منزل ہمیشہ غلط ہوتی ہے گڑیا یاد رکهنا __اور تم نے صرف چوری ہی تو نہیں کی تم نے کچے خوبانی توڑ کر نقصان بھی کیا ہے اور جهوٹ بهی بولا ہے __ جهوٹ معلوم ہے کیا ہوتا ہے جهوٹ برف کی طرح ہوتا ہے جو آہستہ آہستہ پهگل کر ختم ہو سکتی ہے جهوٹ کهبی بهی کامیاب نہیں ہو سکتا اور جهوٹ بولنے والا کهبی بهی سہی منزل نہیں پا سکتا ___اور جهوٹ بولنے والے سے اللہ تعالیٰ بھی ناراض ہوتا ہے_”__
[ دسمبر لوٹ آنا تم تحریر ناصر حسین ]
” مجهے ڈر لگا اگر میں سچ بولوں گی تو آپ مجهے ڈانٹیں گی “___وہ رونے والی شکل بنا کر بولی__
” کچھ بھی ہوتا___لیکن تمہیں جهوٹ نہیں بولنا چاہیے تھا جهوٹ بولنا بری بات ہے….چاہے انسان کتنی مشکل میں ہی کیوں نہ ہو اسے ہمیشہ سچ کا ساتھ دینا چاہیے. جهوٹ کے پاوں نہیں ہوتا اس لیے یہ زیادہ دیر تک نہیں چل سکتی..اور جهوٹ بولنے والا کهبی نہ کهبی زندگی کے کسی نہ کسی موڑ پر ٹهوکر کها کر گر ہی جاتا ہے”.___
وہ دونوں خاموشی سے اسے سن رہی تهیں __
” چلو میں تمہیں ایک کہانی سناتی ہوں __قادر جیلانی جب چهوٹا سا تها تبهی اس کی ماں نے اسے تلقین کی تهی کہ زندگی میں کچھ بھی ہو جائے لیکن کهبی جهوٹ مت بولنا __اور ایک رات وہ کسی قافلے کے ساتھ سفر پہ روانہ تها اس کی قیمض کے اندر اس کی ماں نے چالیس دینار باندھ دیے تهے __اچانک اس قافلے کو ڈاکوؤں نے لوٹ لیا اور سبهی سے ان کا مال پیسہ سب چهین لیا __ایک ڈاکو قادر جیلانی کے پاس آ کر اس سے پوچهنے لگا کیا تمہارے پاس کچھ ہے تو قادر جیلانی کو اپنی ماں کی نصیحت یاد آئی اور اس نے سچ سچ بتا دیا کہ اس کے پاس چالیس دینار ہیں___اس آدمی کو یقین نہیں آیا وہ ڈاکوؤں کے سردار کے پاس گیا اور اسے سارا ماجرا سنایا تو ڈاکوؤں کے سردار نے آ کر اس کی تلاشی لی__اور چالیس دینار بر آمد کیے __پهر اس سردار نے قادر جیلانی سے پوچها تم نے سچ کیوں بولا تم جهوٹ بول کر بھی اپنے دینار بچا سکتے تھے تب قادر جیلانی نے معلوم ہے کیا کہا “___؟
دونوں نے سوالیہ نگاہوں سے جنت کو دیکها___
” اس نے کہا میری ماں نے مجهے نصیحت کی تھی کهبی جهوٹ مت بولنا …یہ بات سن کر سردار کو پچهتاوا ہوا ایک معصوم بچہ سچ بول سکتا ہے اور وک کیا کر رہے تهے تبهی انہوں نے سب کا چهینا ہوا مال واپس کر دیا”___
” یہ تها سچ کا انعام __اگر وہ جهوٹ بولتا تو وہ ڈاکو ناں تو خود سیدهے راستے پہ آتا اور نہ ہی وہ کسی کا مال واپس کرتا.”…..
وہ دونوں بور نظر آنے لگی تهیں جنت کا لیکچر کافی لمبا ہو چکا تھا. .. …
” ﺷﺮﻭﻉ ﺷﺮﻭﻉ ﻣﯿﮟ ﺟﺐ ﺗﻢ ﻏﻠﻂ ﮐﺮﻭ ﮔﯽ ﺗﻮ ﺿﻤﯿﺮ ﺗﻤﮩﯿﮟ ﻣﻨﻊ ﮐﺮﮮ ﮔﺎ __ ﭘﻬﺮ ﺗﻤﮩﯿﮟ ﻟﻌﻨﺖ ﻣﻼﻣﺖ ﮐﺮﮮ ﮔﺎ __ ﭘﻬﺮ ﺍﯾﮏ ﺍﯾﺴﺎ ﻭﻗﺖ ﺁﺋﮯ ﮔﺎ ﺟﺐ ﺿﻤﯿﺮ ﺗﻤﮩﯿﮟ ﮐﻬﺒﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﺭﻭﮐﮯ ﮔﺎ ﮐﯿﻮﻧﮑﮧ ﺍﺱ ﻭﻗﺖ ﺗﻤﮩﺎﺭﮮ ﺩﻝ ﭘﮧ ﺗﺎﻟﮯ ﭘﮍ ﭼﮑﮯ ﮨﻮﮞ ﮔﮯ___ﺍﻭﺭ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﮐﻮ ﺟﺐ ﺿﻤﯿﺮ ﮐﯽ ﺁﻭﺍﺯ
ﺳﻨﺎﺋﯽ ﻧﮧ ﺩﮮ ﺗﻮ ﻭﮦ ﺩﻧﯿﺎ ﮐﯽ ﮐﻮﺋﯽ ﺁﻭﺍﺯ ﻧﮩﯿﮟ ﺳﻦ ﺳﮑﺘﺎ ___ ﺟﺐ ﻭﮦ ﺧﺪﺍ ﺳﮯ ﻧﮧ ﮈﺭﮮ ﺗﻮ ﻭﮦ ﮐﺴﯽ ﺳﮯ ﮈﺭﮮ ﻧﮧ ﮈﺭﮮ ﮐﯿﺎ ﻓﺮﻕ ﭘﮍﺗﺎ ﮨﮯ. .آئی بات سمجھ میں. “…. …عروج اور گڑیا نے سر اثبات میں ہلا دیا. ….
جنت نے دونوں کے گال کی چٹیاں کاٹیں اور کهڑی ہو گئی. ..پهر وہ اندر چلی گئی اور ان دونوں نے اس کے جانے پہ خدا کا شکر ادا کیا اور وہیں آم کے درخت کے نیچے خوبانی کے مزے لینے لگیں …..
جاری ہے. … .

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *