December Lout Ana Tum by Nasir Hussain NovelR50779 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode12
Rate this Novel
December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode01 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode02 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode03 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode04 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode05 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode06 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode07 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode08 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode09 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode10 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode11 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode12 (Watching)December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode13 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode14 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode15 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode16 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode17 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode18 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode19 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode20 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode21 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode22 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode23 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode24 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode25 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode26 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode27 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode28 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode29 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode30 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode31 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode32 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode33 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode34 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode35 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode36 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode37 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode38 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode39 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode40 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode41 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode42 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode43 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode44 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode45 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Last Episode
December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode12
December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode12
جب اسے یقین تھا سب سو گئے ہیں تو اس نے کهڑکی کهول کر چاند کی روشنی میں رومال پہ لکهے وہ الفاظ پڑهنے کی کوشش کی. …..
” اسلام و علیکم. ….
مجهے نہیں معلوم محبت کیا ہے لیکن آپ کو دیکھ کر محبت کی وجود پہ یقین آنے لگا ہے. ..میں آپ کو نہیں بتا سکتا آپ میرے لیے کیا ہیں. ..لیکن آپ کو دیکهنے کے بعد میں اپنے آپ میں نہیں ہوں..میں خود کو ڈهونڈ رہا ہوں لیکن میں کہیں کهو گیا ہوں….آپ ہی مجهے مجھ تک پہنچا سکتی ہیں. ..یوں میرے دل کی دنیا کو نہ اجاڑیں ..مجهے ادهورا نہ کریں…محبت گناہ نہیں ہے محبت تو عبادت ہے …گناہ تو تب ہوگا جب آپ کسی کے سچے جذبوں کی توہین کریں گی کسی کا دل توڑیں گی….دل توڑنے سے بڑھ کر کوئی دوسرا گناہ نہیں ہے دنیا میں. ..اور آپ یہ گناہ نہ کریں..ایک لڑکا جو صبح سے کے کر رات تک صرف اس امید کے سہارے برف پہ کهڑا رہتا ہے کہ اس کی محبت لوٹ آئے گی اس لڑکے پہ رحم کریں……..
جان سے بڑھ کر عزیز. ..روہاب …”
..اسے احساس نہیں ہوا وہ رو رہی تهی. .کیوں رو رہی تھی اس بات کا جواب وہ لڑکی بھی نہیں دے سکتی تهی اس نے رومال کو آنکهوں سے لگایا ایک عجیب خوشبو اس کے اندر تک اتر گئی…..
” روہاب. “…اس نے نم آنکھوں سے مسکرا کر اس نام کو دہرایا تو کیا اس کا نام روہاب تها…اور وہ اس سے اتنی محبت کرتا ہے …اس نے ایک بار پھر ان الفاظ کو پڑها…پهر. ..پهر اور اس طرح بیس بار وہ وہی الفاظ دہراتی رہی یہ کیا تها. .؟ کیا یہ محبت تهی مگر اسے محبت کیوں ہو گئی. ..وہ تو ابھی کچی کلی تهی اور دل نے اس کے ساتھ کیا کر دیا. …..وہ کمرے میں ٹہل رہی تھی بے چینی سے ..یہ تو طے تها کہ وہ آج رات سو نہیں پائے گی لیکن اصل الجهن اسے خط کو لے کر ہونے لگی. .
” کیا مجهے جواب دینا چاہیے”. ..اس سے رابطہ رکهنا چاہیے. ..؟ لیکن اگر اللہ تعالیٰ ناراض ہو گئے تو…
” محبت عبادت ہے اس نے کہا….اور وہ. “..اس لمحے اس نے چاند کو گواہ بنا کر اعتراف کیا وہ اس سے محبت کرتی ہے اور دل کے سامنے ہار چکی ہے.
_ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _
اس دن آسمان پہ موجود بادلوں نے برسنا شروع کر دیا. جگہ جگہ پانی کے ساتھ ساتھ برف نظر آنے لگا. ..بارشوں میں وہاں کے مکین گهروں میں گهس کر آگے لے ذریعے سردی کا مقابلہ کرنے کی کوشش کرتے لیکن یہی وہ موقع تها جب وہ تینوں بچے اپنے کسی شیطانی کارکردگی کو تشکیل دیتے……
اس دن بھی جونہی بارش زرا کو تهمی وہ تینوں بچے رام عروج اور گڑیا گهر سے نکل کر باغیچے کی طرف آئے ارادہ ان کا خوبانیاں توڑنے کا تها …..یہ خیال سب سے پہلے گڑیا کے دماغ میں آیا اور اس نے اس پلان میں ان دونوں کو بھی شامل کر لیا. …….
سبهی گهر والوں سے بچتے بچاتے وہ باہر نکل آئے سردی ابهی بهی عروج پر تهی انہوں سویٹرز اور گرم گرم لباس سے خود کو مکمل طور پر ڈھانپ رکها تها مگر ان سب کے باوجود بھی انہیں سردی محسوس ہو رہی تهی. ……
باغیچہ گهر سے کچھ فاصلے پر ہی تها…جس کے چاروں طرف لوہے کی باڑ تهی …وہ کوئی معمولی باغ نہیں تها دور دور تک پهیلا تها….جس میں خوبانیوں کے ساتھ ساتھ سیب کے بهی درخت تهے اور کچھ سبزیاں بھی. ..
[ دسمبر لوٹ آنا تم تحریر ناصر حسین]
لوہے کی باڑ کے اوپر لوہے کا چهت بھی تها..وہ چوہدری افضل کا باغیچہ تها اور اس کی نگرانی بھی کافی مضبوطی سے کی گئی تهی دروازے پہ تالا ہی ہونا تها لیکن وہ لوگ دروازے سے جاتے ہی کب تهے .باغیچے کے بائیں طرف ایک جگہ سے باڑ ٹوٹا ہوا تها وہ تینوں وہیں سے اندر داخل ہوئے……
یہ ان کا پہلا تجربہ نہیں تها وہ پہلے بھی کئی بار ایسا کر چکے تھے اس لیے انہیں کوئی مشکل پیش نہیں آئی. .اندر آتے ہی تینوں نے سکون کا سانس لیا. ..اور کچھ دیر وہیں بیٹھ کر تهکاوٹ دور کرنے لگے……
پهر گڑیا کهڑی ہو گئی. ..
“ہاں بهئی تو تم دونوں غور سے میری بات سنو. عروج تم دیوار کے پاس کهڑی رہو گی اور بلی جیسی آنکھوں والے تم اس درخت پر کهڑے ہو کر باہر دیکهو گے اگر کوئی آ جائے تو مجهے با خبر کر دینا….اور میں اس سائیڈ والی درخت پہ چڑهوں گی”.. اس نے باڑ کے قریب ہی ایک درخت کی طرف اشارہ کیا. ….
“آئی بات سمجھ میں. ..”؟ اس نے سوالیہ نگاہوں سے دونوں کو دیکها….
“نہیں. ..نہیں بالکل نہیں”. رام بگڑ گیا…
“بہت چالاک ہو تم خود اس درخت پہ کیوں نہیں چڑھ جاتیں اس لیے نا کہ کوئی آ جائے اور تم چهلانگ لگا کر باہر کود جاو .”….اس نے اپنا ماتها پیٹ لیا اصل میں اس کا ارادہ کچھ ایسا ہی تها. …
“ارے نہیں بزدل کہیں کے….لڑکے ہو کر ڈرتے ہو.” ..اس نے رام کو ٹوکا. …..
“نہیں ڈرتا نہیں ہوں …اچها ایک شرط پہ جاوں گا. .اگر تم مجھ سے شادی کرو گی تو.”..؟
گڑیا نے گهور کر اسے خونخوار نظروں سے دیکھا ..وہ ہمیشہ اسے تنگ کرنے کے لیے ایسا ہی کہتا تھا. ..
بهاڑ میں جاو تم…میں خود ہی چلی جاتی ہوں….کہہ کر وہ اسی درخت پہ چڑھ گئی..رام اور عروج بھی اپنے اپنے کام میں لگ گئے. ..درخت پہ چڑھ کر اس نے کچھ خوبانیاں توڑ کر نیچے گرائیں اور کچھ وہیں درخت کے اوپر کهانے بیٹھ گئی. ..عروج اور رام بهی یہی کر رہے تهے …دیکهتے ہی دیکهتے زمین پر خوبانیوں کا ایک ڈھیر اکهٹا ہو گیا پهر وہ تینوں درختوں سے نیچے اتر آئے اور سب کو اکهٹا کر کے گنتی کرنے بیٹھ گئے. ..
ان سب کی لیڈر اس وقت گڑیا بنی ہوئی تھی کیونکہ وہ غیر معمولی چالاک تهی ان خود کو بڑا بنانے کا اسے بہت شوق تھا. …..تین حصے ہو گئے…
” یہ تمہارا حصہ”.. اس نے عروج کی طرف کچھ خوبانی بڑهائے جو اس نے غنیمت سمجھ کر سمیٹ لیے….اور ” یہ تمہارا حصہ “، اس نے گویا احسان کر کے رام کو بهی اس کا حصہ پہنچا دیا. ..وہ تینوں وہیں کهانے بیٹھ گئے..
” اور میرا حصہ کہاں ہیں. …”؟ یہ آواز سامنے سے آئی تھی اور جتنی مانوس تهی اتنی دلکش بھی. .ان تینوں کو اچانک خوبانی کڑوے لگنے لگے .ڈر کے مارے تینوں کهڑے ہو گئے گڑیا کی جهولی سے خوبانی ٹپ ٹپ نیچے گرے وہ حواس باختہ ہو کر سامنے دیکهنے لگی یہ حال رام اور عروج کا بھی تها. ….
جنت سامنے سینے پہ ہاتھ باندھے مسکراہٹ دبائے کهڑی تهی. .اتنی محنت سے کی گئی چوری کے پکڑے جانے کی انہیں امید نہیں تھی. لیکن جنت ہمیشہ ان کی چوری پکڑ لیتی…وہ سمجھ نہیں پاتے اسے یہ سب کیسے پتا چل جاتا ہے…..
وہ چهوٹے چهوٹے قدم اٹهاتی ان کے بالکل سامنے آ گئی..اور گهٹنوں کے بل بیٹھ کر ان کے قد کے برابر ہو گئی. …
” ہاں جی تو چور پارٹی تم لوگوں کی اس گینگ کا لیڈر کون ہے. .”..؟ ایسے پوچها جیسے پولیس تشویش کر رہا ہو…..
عروج اور رام کی نگاہیں بے ساختہ گڑیا کی طرف گهوم گئیں…اس نے غصے سے دونوں کو دیکها…
” مہ…مہ..مجهے کیا ایسے دیکھ رہے ہو”…وہ کانپتے ہونٹوں سے بولی…
.. [ دسمبر لوٹ آنا تم تحریر ناصر حسین]
“ہاں تو گڑیا رانی میں نے تمہیں سمجهایا تها ناں اس دن کہ چوری کرنا بری بات ہے اور تمہیں عبدالقادر جیلانی والی کہانی بھی تو سنائی تهی ناں”…..
گڑیا پر گهڑوں پانی پهر گیا. .وہ نگاہیں جهکائے کهڑی تهی ..رام اور عروج بھی شرمندہ نظر آ رہے تهے. ..
” لیکن خوبانی کهانا غلط تو نہیں ہے ناں…”؟ وہ اپنی دفاع میں کچھ نہ کہتی یہ تو نا ممکن تها …اپنی غلطیوں کی تو وہ سب سے بڑی وکیل تهی…..
“خوبانی کهانا غلط نہیں ہے لیکن اس طرح چهپ کر چوری کرنا غلط ہے اور یہ بات تو تم لوگوں کو بھی معلوم ہے اس لیے تو چپکے چپکے آئے ہو…اور انسان چهپ کر وہی کام کرتا ہے جس کے بارے میں معلوم ہو وہ غلط ہے. .” .
” زندگی بہت مختصر ہوتی ہے انسان کو معلوم ہی نہیں چلتا کب گزر گئی…اس لیے اسے اچهے کاموں میں استعمال کرنا چاہیے”. ..
اسے اس وقت جنت کے لیکچر میں دلچسپی نہیں تهی لیکن جنت نے اسے آخری وارننگ دے کر معاف کر دیا. .
رات کے وقت کمرے میں انگهیٹی جل رہی تھی جو سردی کا سر توڑ مقابلہ کرنے میں لگی ہوئی تھی. .جنت چار پائی پر لیٹی تھی اور ان کے دائیں طرف رام تها بائیں طرف عروج اور گڑیا لیٹی تهیں….رات کے وقت وہ روزانہ اس کے پاس کہانی سننے آتیں اور رام تو کهبی کهبی وہیں سو جاتا….مدهو جتنا بھی منع کرتی لیکن وہ گهر نہیں جاتا تھا. ….
کہانی سنانے کی ذمہ داری پہلے دادی کی ہوتی تهی جو انہیں اپنے دور کے واقعات سناتی تهیں ..جو بچے زیادہ دلچسپی سے نہیں سنتے تھے لیکن کچھ نہ ہونے سے کچھ ہونا بہتر تها….ایک دادی نے سر درد کا بہانہ کر کے انہیں ٹال دی اور جنت نے تینوں بچوں کو کہانی سنائی جو کہ جنگل اور پریوں کی تهی…….
بس اس کے بعد بچوں نے تو طے کر لیا کہانی جنت بوا سے ہی سنا کریں گے کیونکہ ان کی کہانیاں ماڈرن ہوتی ہیں اور اس کے بولنے کا انداز بھی اتنا مدهم ہوتا کہ سننے والا کهو جاتا….وہ ہر کہانی کے اختتام پر ایک خوبصورت سبق بھی ضرور دیتی……
لیکن پچهلے کچھ دن سے وہ کهوئی کهوئی رہنے لگی کہانی ادهوری چهوڑ کر کسی سوچ میں ڈوب جاتی اور گڑیا کے ” پهر آگے کیا ہوا ” کہنے پہ وہ لوٹ آتی اسے خود بھی یاد نہیں رہتا وہ کہاں تک پہنچی تهی…بس وہ ان پہاڑوں کے درمیان تهی جہاں خود کو چهوڑ آئی. .
اس رات بھی وہ بچوں کو وہی آپ بیتی سنا رہی تھی. .
ایک لڑکا پہاڑ سے نیچے لٹک رہا تھا پهر ایک لڑکی نے جا کر اسے بچایا …اور…اور وہ پهر کهو گئی…
بچے حیران تهے پریوں اور ٹارزن کی کہانی سناتے سناتے یہ لڑکا لڑکی والی کہانی کہاں سے آ گئی بیچ میں. …
” پهر کیا ہوا.” ..؟ گڑیا نے بوجھل آنکهوں سے پوچها..
” بس کہانی ختم…..”عروج اور رام سو چکے تھے ان کے خراٹے ہی گونج رہے تھے. …
“ایسے کیسے ختم یہ کہانی تو ادهوری ہے…”.
اس نے احتجاج کیا. …
” زندگی میں کچھ کہانیاں ادهوری رہ جاتی ہیں. “..اس نے خیالوں میں کهوئے کهوئے جواب دیا…گڑیا نے خفگی سے منہ پهلایا اور سونے کے لیے آنکهیں بند کر دیں……….
جاری ہے______.
