December Lout Ana Tum by Nasir Hussain NovelR50779 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode22
Rate this Novel
December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode01 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode02 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode03 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode04 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode05 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode06 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode07 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode08 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode09 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode10 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode11 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode12 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode13 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode14 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode15 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode16 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode17 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode18 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode19 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode20 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode21 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode22 (Watching)December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode23 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode24 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode25 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode26 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode27 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode28 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode29 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode30 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode31 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode32 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode33 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode34 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode35 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode36 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode37 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode38 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode39 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode40 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode41 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode42 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode43 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode44 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode45 December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Last Episode
December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode22
December Lout Ana Tum by Nasir Hussain Episode22
•••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••
” جنت بوا یہ خط کسے دوں..”…؟ جنت نے سر اٹها کر اسے دیکها پهر اس کے ہاتھ میں موجود اس سفید کاغظ کو…
” اس میں کیا ہے اور کس کے نام لکها ہے تو نے یہ خط.”..؟ جنت نے حیران ہو کر سوال کیا…..
“اللہ میاں کے نام….”.جنت کے ماتهے پہ شکنیں نمودار ہوئیں…اس نے جهپٹ کر وہ خط گڑیا کے ہاتهوں سے لے لیا…اور حیران ہو کر جلدی جلدی اسے کهولنے لگی…گڑیا وہیں معصومیت سے اسے دیکھ رہی تھی وہ خط کهول چکی تهی…تحریر اس کی آنکھوں کے سامنے تهی. ….
“اسلام و علیکم. ..پیارے اللہ تعالیٰ. .”..
” آپ سب سے بڑے ہیں آپ سب کچھ کر سکتے ہیں تو پلیز رام مجهے واپس کر دیں…میں پهر کهبی اس سے نہیں لڑوں گی…میں نماز بھی پڑهوں گی پلیز رام کو واپس بهیج دیں اللہ. .”….جنت کے ہاتهوں سے وہ تحریر گر گئی…اس میں جگہ جگہ کسی کے آنسو قید تهے. ..اس نے تهوک نگل کر گڑیا کو دیکها….اور اس کا ہاتھ پکڑ کر اسے اپنے پاس بٹهایا…….
” گڑیا تمہیں معلوم ہے جانے والے کهبی واپس نہیں آتے….گڑیا معصومیت سے اسے دیکھ رہی تھی. …
جو ایک بار مر جائیں وہ پهر زندہ نہیں ہو جاتے. .اور کهبی نہ کهبی سب کو مرنا ہے تو رونے دهونے کی بجائے تم اس کے لیے دعا کیا کرو…..کیونکہ رونے سے وہ واپس نہیں آئے گا….جب کوئی مر جائے تو صبر کرنا چاہیے بے شک اللہ تعالیٰ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے.”……جنت نے اس کے گال پہ کس کیا…
” اسے میں نے مارا ہے میں نے اسے بددعا دی دی تهی.؟” وہ روہانسی ہو کر بتانے لگی……
$تم نے اسے نہیں مارا ..تم کوئی بزرگ یا ایسی پہنچی ہوئی ہستی نہیں ہو کسی کو بد دعا دو گی اور وہ مر جائے گا. .موت اللہ تعالیٰ کی طرف سے آتی ہے اور اس کی موت یہیں پہ لکهی تهی ..اب تم صرف صبر کرو کیونکہ صبر کرنے والوں کے ساتھ اللہ ہے”
صبر کی جو تعریف جنت سمجها رہی تهی وہ کهبی نہیں سمجھ پاتی…ایسا کیسا ہو سکتا ہے جس سے محبت کی جائے اسے اتنی آسانی سے بهلایا کیسے جا سکتا ہے. …اس نے جنت سے مزید بحث نہیں کی لیکن وہ مطمئن بھی نہیں ہوئی…..
کهبی کهبی وہ سوچتی کاش زندگی آگے کبھی چلتی ہی نہ…یا وقت کی سوئی اس شام رک جاتی جب وہ تینوں مل کر کهیل رہے تھے. ..اسے کیا معلوم تها وہ ان کے ساتھ کی آخری شام ہے. وہ روزانہ صبح اٹھ کر اللہ تعالیٰ سے دعا کرتی…گهر سے باہر نکل کر گهنٹوں چلا چلا کر بلی جیسی آنکھوں والے کو پکارتی….لیکن جو کهو جائیں وہ پهر کهبی نہیں ملتے….روزانہ وہ اس جگہ جاتی جہاں وہ برف کے گهر بناتے تهے وہ برف کا گهر بنا کر پهر گرا دیتی…..آم کا وہ درخت اس لڑکے کی یاد میں سوکھ رہا تها. …
ہر بار آسمان سے بارش برستا دیکھ کر وہ رو کر بادلوں کی طرف دیکھتی. …..
“تم چاہے کتنے بهی آنسو بہا لو میں تمہیں معاف کبھی نہیں کروں گی”….
اگلی صبح جب وہ سکول جارہی تھی تو آم کے درخت پر اسے دو چڑیاں بیٹهی دکهائی دیں..وہ بڑی محبت سے ایک دوسرے کے پاس بیٹهے تهے وہ ان کا ملاپ نہیں دیکھ سکی …جب اس کا دوست اس کے ساتھ نہیں تها تو وہ چڑیاں کیوں ساتھ بیٹهی تهیں … اسے بہت غصہ آیا اس نے ایک پتهر اٹها کر انہیں اڑا دیا….
اب اگر وہ دنیا کا ایک ایک کونا بھی تلاش کرتی ناں جسے کهویا تها اس نے وہ کهبی نہیں ملنا تها…
وہ گهر سے باہر نکل آئی اس نے منہ پر ہاتھ رکھ کر زور سے صدا لگائی…..
“بلی جیسی آنکھوں والے. .”..اس کی آواز بهرا گئی…
” آو تمہیں موسم بلاتے ہیں. .”…
[ دسمبر لوٹ آنا تم تحریر ناصر حسین]
_ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _ _
جنت اور روہاب کی محبت ویسے ہی جاری تهی. .ان دونوں کی محبت کا سلسلہ ابهی تک خطوط پر ہی مشتمل تها گڑیا ہمیشہ کی طرح ان کے پیغام ادهر سے ادهر منتقل کرتی…….
جنت کو انتظار تها کب وہ رشتہ لے کر ان کے گهر آئے گا ..اور وہ ہمیشہ کے لیے اس کی ہونا چاہتی تهی بالکل ایسی ہی بے تابی روہاب بھی محسوس کر رہا تھا. .اتوار کا دن تها…شام دنیا کو الوداع کہہ رہا تها…گڑیا اس وقت اداس سی جهولے پر بیٹهی تهی آنکهوں میں دنیا بهر سے بیزاری نظر آ رہی تھی جنت اس کے پاس آئی…اور اسے خط دے کر روہاب کے پاس لے جانے کے لیے بولی ….گڑیا کا ارادہ کہیں بھی جانے کا نہیں تها لیکن جنت کو وہ انکار بھی نہیں کر سکی ……
خط لے کر وہ گهر سے باہر نکلی. ..اگر اسے معلوم ہوتا آج کی رات اتنا بڑا طوفان آنے والا ہے تو وہ کهبی خط لے کر نہ جاتی..لیکن غائب کا علم کسی کو نہیں ہوتا….آہستہ آہستہ چلتی وہ برف پر اپنے قدم رکھ رہی تهی ہر جگہ ہر کونے میں اسے رام دکهائی دیتا…مسکراتا کهیلتا لیکن وہ نہیں تها……
اسے اپنے علاقے سے وحشت ہونے لگی تهی کهبی کهبی اس کا دل چاہتا وہ کہیں دور بهاگ جائے ایک ایسی جگہ جہاں نہ بلی جیسی آنکھوں والا ہو اور نا ہی اس کی یادیں ہوں…….
اسے ان جانوروں پر بہت غصہ تها جنہوں نے رام کو اس سے چهینا تها. .برف پر چلتے چلتے اس کے قدم بهاری ہونے لگے…وہی راستے وہی سب کچھ. .پهر بھی کچھ ادهورا تها…کچھ بہت ادهورا….وہ اس جهاڑی کے پاس پہنچی جس کی طرف وہ ہمیشہ آتی تھی. ..
روہاب سامنے ہی کهڑا دکهائی دیا اسے…وہ بھی اسی کا منتظر تها اور اسے دیکھ کر اس کے جان میں جان آئی…کهبی کهبی وہ نہیں سمجهتی تهی آخر جنت بوا اور روہاب کا رشتہ کیا ہے وہ کیوں ایک دوسرے کے لیے اس طرح بے تاب ہوتے ہیں لیکن اب وہ سمجھ رہی تھی کچھ رشتے انجانے ہوتے ہیں. ..بے نام….دل کے بہت قریب……
اس نے جنت کا دیا ہوا خط روہاب کو دیا…جسے روہاب نے اپنے ہونٹوں سے لگایا …اور پھر وہیں بیٹھ کر وہ جنت کے لیے خط لکهنے لگا…وہ تب تک اس جگہ کو دیکهتی رہی جہاں وہ رام کے ساتھ کئی بار گهر گهر کهیل چکی تهی. ..اس جگہ کو اس نے سنسان پایا بالکل اپنے دل کی طرح. ….
” یہ لو پیاری گڑیا. ..”.
روہاب نے خط اس کی طرف بڑهایا اور جیب سے ایک چاکلیٹ نکال کر اسے دینے لگا…وہ چاکلیٹ ہمیشہ اسے پسند تهے لیکن اب پسند ناپسند کے لیے کچھ بھی باقی نہیں رہ گیا تها……
وہ خط لے کر اسی خاموشی سے واپس چل دی جس خاموشی سے وہ آئی تهی…اس نے ایک بار پلٹ کر دیکها روہاب وہ خط پڑھ رہا تھا ایک بار. .بار بار. …
محبت ایسی ہی ہوتی ہے محبت کو ایسا ہی ہونا چاہیے. .ہر جگہ سے اسے رام دکهائی دینے لگا. .اس کی روح پر علاقے کی سیر کر رہا تھا جیسے. ..چاروں طرف اس کی آوازیں تهیں …وہ بهاگتی ہوئی گهر تک آئی ان آوازوں کو پیچھے چهوڑ کر کچھ آوازوں کو ساتھ لیے…..وہ اتنی مگن تهی کہ خط چهپانا بھی بهول گئی اور یہی اس کی سب سے بڑی غلطی ثابت ہوئی…گهر پہنچتے مغرب کی اذانیں کانوں میں پڑ رہی تھیں. …وہ دروازہ عبور کر کے اندر آئی سامنے اپنے ابو چوہدری افضل کو دیکھ کر ٹهٹک گئی. …جسم میں جان باقی نہ رہنا اسی منظر کو کہتے ہوں گے….ڈرتے ڈرتے اس نے فوراً وہ خط پیچھے چهپا لی…..لیکن چوہدری صاحب کی نظر اس خط پر پڑ چکی تھی. ……
گهر میں خاموشی اترتی محسوس ہوئی اسے…..دادی اور اماں چارپائی پر بیٹهی تهیں…چوہدری صاحب آہستہ آہستہ چلتے ہوئے اس کے پاس آئے….وہ سہم کر کهڑی تهی کسی بے بس شکار کی طرح. ..چوہدری صاحب کے چہرے پر کرختگی تهی……
” کیا چهپا رہی ہو…..”؟
چوہدری صاحب کی گرج دار آواز کهلے صحن میں گونجی اسے پہلے بار اپنے اندر سناٹا محسوس ہوا…اس نے کوئی جواب نہیں دیا……..
” بتاو کیا ہے تمہارے ہاتھ میں. “…؟ اب کی بار لہجہ غصیلا تها…ہمیشہ کی طرح. ..اماں اور دادی حیرت سے کهڑی ہو گئیں اور ایک دوسرے کے چہرے تکنے لگیں..گڑیا کو اپنی حماقت پر جی بهر کے افسوس ہوا…مگر جو ہونا تھا وہ تو ہو کر ہی رہتا ہے. ….
چوہدری صاحب نے آگے بڑھ کر اس کا ہاتھ آگے کیا. .اور اس کی مٹهی میں بند وہ مرڑا کاغظ جو کافی بوسیدہ نظر آ رہا تھا کهینچ کر اپنے ہاتهوں میں لے لیا…گڑیا کو ایک خطرناک طوفان کو اندیشہ تها …یہی ڈر باقی سب کو بھی تها…چوہدری صاحب نے وہ خط کهولا اسی لمحے گڑیا کو آسمان اپنے سر پر گرتا ہوا محسوس ہوا…..جوں جوں چوہدری صاحب وہ خط پڑهتے جا رہے تھے ان کے چہرے کا رنگ بدلتا جا رہا تها. …
خط انہوں نے مٹهی میں بهینچ کر دور پهینک دی…اور چلا کر جنت کو پکارا….گڑیا کو اپنی ریڑھ کی ہڈی میں خوف اترتا محسوس ہوا……..دادی اور اماں الگ حیران تهیں….
” کیا ہوا افضل دادی نے پوچها ..”..مگر انہوں نے نہیں سنا…وہ دوڑ کر کمرے میں گئے…پہلے دوسرے پهر تیسرے جنت وہاں نہیں تهی…پهر وہ گهر کے پچهلے حصے میں بنے صحن کی طرف آئے جہاں جنت جائے نماز پر نماز پڑهنے میں مصروف تهی..چہرے پہ مکمل اطمینان اور سکون تها…اماں اور دادی گڑیا عروج بهاگ کر سب اس کے پیچھے پیچھے آئے….چوہدری کا غصے سے برا حال تها…
“بد کردار بے حیا…نماز کا ڈھونگ کرتی ہے اور یوں سر عام ہماری عزت اچهال رہی ہے”. …وہ پوری قوت سے چلائے..جنت نے جیسے سنا ہی نہیں تها وہ نماز پڑهنے میں مصروف تهی…….گڑیا نے عروج کا ہاتھ مضبوطی سے پکڑ لیا انہیں اپنے باپ سے اتنا خوف پہلے کهبی نہیں آیا جتنا وہ اس وقت محسوس کر رہے تھے. ….
“بند کرو اس نماز کا ناٹک اور کهڑی ہو جاو آج ہم تمہیں زندہ نہیں چهوڑیں گے بے غیرت”. … خاموشی کو چیرتی ان کی آواز پورے علاقے میں گونج اٹهی . آج کیا ہونے والا تها. …دادی کی آنکھوں میں آنسو آ گئے…اماں الگ پریشان تهیں انہیں پوری بات نہیں معلوم تهی لیکن پهر بھی وہ کچھ کچھ سمجھ رہے تھے. .یہ آنکھ مچولی اس طرح ختم ہو جائے گی گڑیا نے تصور بھی نہیں کیا تها…..رات کی چادر نے زمین کو ڈهانپ دیا صرف چاند کی روشنی تهی…..
چوہدری کسی زخمی شیر کی طرح وہاں سے بهاگتے ہوئے کچن کی طرف آیا…مٹی تیل کا ڈبہ اور ماچس اٹهائی….سبهی گهر والوں کی چیخیں نکل گئیں….اماں نے چوہدری صاحب کا ہاتھ پکڑ لیا. .لیکن وہ جیسے کچھ دیکھ اور سن نہیں رہے تهے……
جهٹکے سے انہوں نے اپنے پاوں آزاد کیے اور آگے بڑھے. …دادی روتے ہوئے ان کے قدموں میں گر گئی…اور اپنے بیٹے سے بیٹی کی زندگی بهیک میں مانگنے لگی….لیکن اس پر جنون سوار تھا …آج کی رات وہ کم از کم کسی کی نہیں سننے والا تها…انہوں نے دادی کو گهیسٹ کر خود سے الگ کیا اور انہیں زبردستی کهینچتے ہوئے کمرے میں لے جانے لگا. …دادی کو کمرے میں دهکا دے کر انہوں نے دروازہ باہر سے بند کر دیا….جنت سجدے میں تهی . .اس سب تماشے سے لاتعلق. ….
[ دسمبر لوٹ آنا تم تحریر ناصر حسین]
پهر گڑیا نے انہیں غصے سے اماں کی طرف آتے دیکها. .انہوں نے اماں کو بازوؤں سے پکڑا…اماں روتے ہوئے ان سے رحم مانگ رہی تهیں…پهر اماں نے زور سے ان کے قدم جکڑ لیے تا کہ انہیں جنت تک جانے سے روک سکے……جنت ابهی بهی نماز پڑھ رہی تھی وہ بچے ڈرے ہوئے ایک طرف کهڑے تهے…..
” خدا کے لیے اتنا بڑا ظلم مت کریں.”..
” بے غیرت عورت میرے پاوں چهوڑو”……
“جنت اٹهو بهاگ جاو یہاں سے.” …انہوں نے جنت کو آواز دی…دادی گرل والی کھڑکیوں سے باہر کا منظر روتے ہوئے دیکھ رہی تهیں….
” جنت بیٹا…نماز چهوڑو اور بهاگ جاو..”…دادی نے زور سے چلا کر جنت کو کہا..لیکن جنت نے جیسے سنا ہی نہیں وہ ابهی تک نماز پڑھ رہی تھی. .چہرے پہ ہمیشہ والا سکون تها…چوہدری صاحب اپنے قدم چھڑانے کی کوشش کر رہے تھے. ….چاند دور آسمان پر کهڑا ہو کر بے بسی کا یہ تماشا دیکھ رہی تها …آج بنا طوفان کے بجلی گرنے والی تهی. . …
“جنت اللہ کے واسطے نماز توڑ ڈالو اور بهاگو یہاں سے. .اپنی زندگی بچاو”….
جاری ہے. ……
