Ayra by Aneeta NovelR50474 Ayra Episode 9
No Download Link
Rate this Novel
Ayra Episode 9
Ayra by Aneeta
کہاں ملنے جانا ہے دوست سے باہر ا جاؤ انتظار کر رہا ہوں۔۔۔۔
اخل نے ایک نظر اسے دیکھا۔۔۔۔۔۔ اتنی سی بات کہہ کر باہر کی طرف چلا گیا۔۔۔۔
اسے اپنی غلطی کا احساس تھا۔وہ اسے اور پریشان نہیں کر سکتا تھا وہ جانتا تھا۔وہ بری طرح سے ڈر چکی ہے۔۔۔۔۔۔
ائرہ نے تھوڑا سکون کا سانس لیا تھا۔لیکن وہ ڈر سے ابھی بھی نہیں نکلی تھی۔۔۔۔۔
لیکن وہ یہی سوچ کر اس کے ساتھ گئی تھی کہ وہ واپس نہیں ائے گی۔۔
ائندہ یہ غلطی مت کرنا کہیں جانا ہو مجھے بتا کے جانا۔وہ گاڑی ڈرائیو کرتے ہوئے اسے ون کر رہا تھا۔جب کہ ائرہ ڈری سہمی چپ چاپ بیٹھی ہوئی تھی۔۔۔۔۔
تھوڑی ہی دیر میں وہ اسے ایک کیفے کے پاس لے کر ایا یہ لوکیشن اسے الفت نے بھیجی تھی۔لیکن وہ اسے اور ڈسٹرب نہیں کرنا چاہتا تھا۔
میں تقریبا ایک دو گھنٹے میں تمہیں یہیں سے پک کر لوں گا۔اور کوئی ہوشیاری نہیں۔۔اسے انکھوں سے ون کرتے ہوئے اس نے کہا۔۔۔۔۔
اس کے ہاتھ ابھی سٹیننگ ویل پر ہی تھے۔گاڑی بھی لاک تھی یہ کہتے ہی اس نے گاڑی کا لاک کھولا اور اسے باہر جانے کا اشارہ کیا۔وہ جب تک اندر نہیں گئی وہ گاڑی میں ہی بیٹھ کے دیکھتا رہا اس کے اندر جانے کے بعد اس نے گاڑی کو موڑا اور چلا گیا۔اس کے جاتے ہی ائرہ نے سکون کا سانس لیا تھا۔۔۔۔
_____
تم میرا فون کیوں نہیں اٹھا رہے تھے۔۔۔۔
جس طرح تم نے مجھے گھر سے باہر نکالا تھا دل تو نہیں کر رہا تھا تمہیں فون کرنے کا۔قرت نے لائن ملتے ہی شکوے شکایتیں شروع کر دی تھی۔۔۔۔
اور بھی بہت سے کام ہوتے ہیں اب زندگی میں صرف یہی سب کچھ نہیں رہ گیا۔۔۔۔
اور میں بزی ہوں۔اخل نے فون کاٹنا چاہا۔۔
یہ تم کہہ رہے ہو اخل۔۔۔
پلیز میں کل لندن واپس جا رہی ہوں۔۔
(قرت بیسکلی لندن سے تھی۔لیکن پچھلے تین مہینوں سے وہ اخل کے لیے یہاں ائی تھی)
اج ملنے ا جاؤ۔۔۔
پلیز اخل۔۔۔۔۔
اس کے بہت اصرار کرنے پر اخل رضامند ہو گیا تھا لیکن اس کا دھیان ائرہ کی طرف ہی تھا۔لیکن کیونکہ اسے گھنٹے کا ٹائم دے کر ایا تھا تو اس نے یہی سوچا کہ میں گھنٹے میں اس سے مل لیتا ہوں۔۔۔۔
_______
دیکھو یہ تم کیا کہہ رہی ہو میں اس کے ساتھ نہیں رہ سکتی۔۔
تم کہیں میری جاب کروا دو جہاں رہنے کا بھی بندوبست ہو۔
ائرہ اس کے مقابل بیٹھی ہوئی تھی۔ٹیبل پہ دو کافی کپ پڑے تھے۔۔۔
ہاں میں دیکھوں گی میں بس ابھی کے لیے کہہ رہی ہوں کہ ابھی کے لیے تم وہیں رکو۔۔۔۔
میں نہیں چاہتی تم دوبارہ سلطان کے ہاتھ لگو۔۔۔۔
بس کچھ ٹائم میری جان۔۔۔۔۔۔۔۔
______
استاد کے سامنے نمبر بڑھانے کا ٹائم اگیا ہے۔۔۔
وہ دونوں لڑکے بھی ائرہ کے سامنے والے ٹیبل پر بیٹھے ہوئے تھے انہوں نے جیسے ہی ائرہ کو دیکھا۔ایک لڑکے نے دوسرے کو مخاطب کیا اور دھیان ائرہ کی طرف کیا۔۔۔
یہ تو وہی لڑکی ہے نا استاد جسے ڈھونڈ رہا ہے.۔۔۔۔
ہاں وہی لڑکی ہے ہماری کامیابی کی سیڑھی۔۔۔
ہمارے خزانے کی کنجی۔۔۔۔۔۔۔
دراصل یہ دونوں لڑکے نہیں جانتے تھے۔اخل اور سلطان کی ملاقات کے متعلق۔۔۔۔
وہ اندر ہی اندر کچھ پلان بنا رہے تھے۔۔۔۔
_____
دیکھو تم ابھی کے لیے وہیں رہو میں کچھ دنوں میں کچھ انتظام کر کے پھر تمہیں بتا دوں گی۔دراصل الفت کافی ڈر گئی تھی کیونکہ سلطان ایک بہت ہی خطرناک بندہ تھا۔۔
اور وہ کسی مشکل میں نہیں پھنسنا چاہتی تھی۔۔
لیکن وہ ائرہ کے لیے پریشان بھی تھی۔۔۔۔
اور جب سے ائرہ نے اخل کے رویے کے بارے میں بتایا تھا۔تب سے تو اس کا دل بالکل نہیں مان رہا تھا اسے واپس بھیجنے کا لیکن اب کوئی چارہ نہیں تھا۔۔۔۔
وہ دونوں کافی دیر سے وہیں بیٹھی ہوئی تھی۔۔۔۔
ائرہ سخت پریشان ہو چکی تھی۔کافی کا اس نے ایک گھونٹ بھی نہیں بڑھا تھا۔۔۔۔
اچھا ائرہ مجھے اب جانا ہے میری ڈیوٹی کا ٹائم ہو گیا ہے۔۔۔
تم اخل کو فون کر لو پھر میں نکلتی ہوں۔۔۔۔
اخل۔۔۔۔۔۔۔۔
اس نے گہری سانس لی تھی وہ فون نہیں کرنا چاہتی تھی۔۔
یہاں انے سے پہلے اخل نے اسں کے موبائل میں اپنا نمبر سیو کیا تھا۔۔۔۔۔
دیکھو ابھی وہی اپشن ہے ورنہ سلطان تمہیں کبھی نہیں چھوڑے گا۔قرت نے اس کے ہاتھ پہ اپنا ہاتھ رکھا۔۔۔۔
اور اگر مجھے خود اس نے سلطان کے حوالے کر دیا۔۔
میں تمہیں بتا چکی ہوں وہ مجھے کئی دفعہ کہہ چکا ہے۔۔۔
دیکھو ائرہ۔۔۔۔۔۔
اخل کو غصہ نہیں ائے گا۔جب تم میرے ساتھ چلی جاؤ گی اور اگر غصے میں اس نے تمہیں سلطان کے حوالے کر دیا۔۔
وہ دونوں اب کافی شاپ سے باہر ا گئی تھی اور وہ دونوں لڑکے بھی اس کے پیچھے پیچھے باہر ائے تھے۔۔۔۔
ان کی نظر مسلسل ائرہ پر تھی۔۔۔۔۔
اور وہ ان کی باتیں بھی غور سے سن رہے تھے۔۔
ائرہ نے بیگ سے فون نکالا ڈائی لسٹ میں ال ریڈی اس کا نمبر ڈائل تھا۔اس نے کال ملا کر کان کے ساتھ لگایا۔۔۔
_________
اخل جو قرت کی باہوں میں مدہوش پڑا تھا اس نے ڈرنک کی ہوئی تھی۔۔۔
ایک نظر موبائل کو دیکھا۔۔۔۔
ائرہ۔۔ہاتھ کے سہارے سے اس نے کمر سیدھی کی۔۔۔۔
اس نے قرت کو پیچھے ہٹایا اور موبائل کان کے ساتھ لگایا۔۔۔
اخل لینے ا جاؤ تم۔۔۔۔
سہمی ہوئی اواز دوسری طرف سے ائی تھی۔۔
ہا۔۔۔۔ہاں۔۔۔
اتا ہوں۔وہ مکمل نشے میں تھا۔بول بھی مشکل سے پایا تھا ۔۔۔
کب۔۔۔۔۔۔
وہ ابھی بولی ہی تھی کہ اخل نے فون بند کر دیا۔۔۔۔
کیا کہتا ہے۔۔۔
الفت نے اسے پریشان دیکھ کر پوچھا۔۔۔۔۔
ا رہا ہے۔اس نے اخل کے رویے کو نظر انداز کرتے ہوئے اسے جواب دیا۔۔۔۔۔
اچھا ٹھیک ہے وہ ا رہا ہے تو پھر میں جاتی ہوں۔۔۔۔
اپنا بہت بہت خیال رکھنا اور مجھ سے رابطے میں رہنا بس تھوڑے ہی دنوں میں میں کوئی انتظام کر دوں گی۔اس کے گلے ملنے کے بعد الفت نے ٹیکسی پکڑی اور وہاں سے چلی گئی۔۔۔
یہ تو جا رہی ہے۔۔۔
وہ لڑکے اسے زبردستی نہیں پکڑ سکتے تھے کیونکہ یہ دبئی تھا پاکستان نہیں۔اور وہاں کے قانون سخت ہیں۔۔۔۔
ائرہ نے شال کو ٹھیک کرتے ہوئے اگے پیچھے دیکھا۔تقریبا پانچ دس منٹ تو گزر ہی گئے تھے۔اس نے شارٹ فراک کے نیچے ٹائٹس پہنی تھی یہ بھی اسے الفت نے دی تھی۔وہ شال ضرور اور لیتی تھی اتنے چھوٹے کپڑے اس نے پہلی دفعہ پہنے تھے۔اور وہ شال میں کنفرٹیبل محسوس کرتی تھی۔۔۔۔
کیفے میں لوگ ا جا رہے تھے اور سی سی ٹی وی کیمرے بھی تھے۔۔
وہ لڑکے انتظار میں تھے کہ یہ تھوڑی اگے پیچھے ہو۔۔۔
یہ ابھی تک نہیں ایا تقریبا کافی ٹائم گزر گیا تھا۔۔۔
ائرہ نے پھر سے فون ملایا۔۔۔۔۔
اور کافی دفعہ ملایا لیکن وہ مکمل مد ہوش ہو چکا تھا تو کیسے اٹھاتا اس کا فون۔۔۔۔
اخل بہت ٹائم ہو گیا ہے اب ا جاؤ۔۔۔
اس نے ٹیکس لکھا تھا اور سینڈ کر دیا تھا۔۔۔
وہ فون کرتے کرتے بڑبڑا رہی تھی۔ان دونوں لڑکوں نے اس کی ساری باتیں سن لی تھی۔اب وہ کیفے سے نکلے اور ایک گاڑی لے کر ائے۔۔۔
ائرہ۔۔۔۔۔
ائرہ چونکی اور اس لڑکے کو دیکھا۔۔۔۔
ہمیں اخل نے بھیجا ہے۔۔۔
ائرہ نے ایک نظر دونوں لڑکوں پہ ڈالی۔اور پھر گاڑی کو دیکھا گاڑی پرانے ماڈل کی تھی۔۔۔
یہ کون ہے۔۔۔
اخل نے انہیں کیوں بھیجا وہ دل ہی دل میں کہہ رہی تھی۔۔
اخل سر کا فون ارہا ہے پلیز جلدی چلیں۔ان دونوں لڑکوں میں سے ایک لڑکے نے بولا اور گاڑی کا ڈور کھول کر ائرہ کو اندر بیٹھنے کا اشارہ کیا۔۔
اس کے فون پر بیل ا رہی تھی اور وہ بیل دوسرا لڑکا ہی دے رہا تھا۔وہ دونوں بہت ہی پلاننگ کے ساتھ ائے تھے۔۔۔
ائرہ نے ایک نظر اگے پیچھے دیکھا اور پھر گاڑی میں بیٹھ گئی۔وہ یہی سمجھی تھی کہ یہ لڑکے شاید اس کے پاس کام کرتے ہوں گے۔۔۔۔
لیکن اس کا دل بہت گھبرا رہا تھا جیسے کچھ بہت برا ہونے والا ہو۔۔۔۔
کچھ اگے جاتے ہی ایک لڑکے نے ائرہ کا موبائل کھینچا۔
گاڑی خراب ہونے کے بہانے انہوں نے گاڑی کو روکا۔۔۔۔
ائرہ کا موبائل چین کر انہوں نے ایک رومال اس کے ناک پہ رکھا جس کے بعد وہ بے ہوش ہو گئی۔۔۔۔
یہ سب اتنے اچانک ہوا تھا کہ ائرہ کو سمجھ ہی نہیں ائی کہ یہ ہوا کیا ہے۔۔۔
___________
اب تقریبا شام ہو چکی تھی۔اخل کی انکھ کھلی۔۔۔۔
اس ایک نظر کمرے کو دیکھا۔وہ ایک ہوٹل کا کمرہ تھا۔ جہاں قرت رکی ہوئی تھی۔۔۔
پھر اپنے مقابل لیتی قرت کو دیکھا۔۔۔۔
ائرہ۔۔۔۔
ایک دم سے دماغ کو جیسے جھٹکا لگتا ہے وہ ایسے ہی اٹھا تھا۔۔۔
اس نے سائیڈ پہ پکڑے اپنے موبائل کو اٹھایا۔۔
ائرہ کی 15 سے 20 کالز تھی اور وہ ایک میسج تھا۔۔۔۔
ایک جھٹکے میں بلینکٹ کو پیچھے گرایا۔صوفے میں پڑی اپنی شرٹ پہنی۔۔۔۔
قرت گہری نیند سوئی ہوئی تھی۔۔۔۔۔۔
وہ فورا سے باہر نکلا۔ائرہ کو کال ملائی اس نے۔۔۔۔۔
اور تقریبا کافی کال ملا چکا تھا لیکن نمبر بند ہو چکا تھا۔۔
وہ تیز سپیڈ سے گاڑی ڈرائیو کرتا ہوا اسے کیفے شاپ میں پہنچا۔۔۔
وہاں ائرہ نہیں تھی۔۔۔
اسی سپیڈ سے وہ واپس گیا کیونکہ اس کے ذہن میں یہی ایا تھا کہ ائرہ گھر گئی ہوگی۔۔
اسے سخت پچھتاوا تھا۔خود پہ غصہ ا رہا تھا۔۔۔۔
ائرہ۔۔۔۔۔۔
وہ اسے پکارتا ہوا ہر کمرے کو چیک کر چکا تھا۔۔
لیکن ائرہ وہاں ہوتی تو اسے ملتی نہ۔۔۔۔۔
اس کے ماتھے پہ پریشانی کے بل گہرے ہوتے جا رہے تھے ذہن عجیب سے وسوسوں میں گر گیا تھا۔اسے اپنے کیے پہ پچھتاوا ہو رہا تھا۔وہ تو شروع سے غیرذمہ دار تھا لیکن پہلی دفعہ اپنے غیر ذمہ دار ہونے کا احساس اسے ہوا تھا۔۔۔
وہ خود کو کوسے جا رہا تھا۔۔۔۔۔
ابھی سوچنے کا ٹائم نہیں تھا وہ انہی قدموں پہ واپس ایا۔۔
______
کیا تم لوگوں نے مجھ سے پوچھا تھا۔سلطان نے ایک تھپڑ اس ایک لڑکے کے منہ پہ مارا۔ ائرہ کا منہ اور ہاتھ بندھے ہوئے تھے وہ بے ہوش ہو چکی تھی۔۔۔۔
یہ کیا کر دیا تم لوگوں نے۔سلطان اچھے سے جانتا تھا۔اخل اب اسے نہیں بخشنے والا۔اس نے ایک نظر ائرہ پر ڈالی۔جو سامنے والے صوفے پر الٹی پڑی ہوئی تھی۔چہرے پہ بکھرے بال تھے۔۔۔۔
استاد۔۔۔۔
ایک لڑکے نے ڈرتے ہوئے کہا تھا وہ اس کے غصے سے اچھی طرح واقف تھے وہ بخشنے والا نہیں تھا۔۔۔
اپ پیسہ ڈبل بھی کر سکتے ہیں۔۔
اس لڑکے کی اس بات پہ وہ چونک اور اپنا دھیان اس کی طرف کیا۔۔۔
کیا مطلب ہے تمہارا تم جانتے نہیں ہو اخل کو۔۔۔۔
ہمارا پیسہ چلتا ہے جب کہ اس کے باپ کا نام چلتا ہے۔۔۔
اور وہ اخل میلان باپ سے بھی زیادہ خطرناک ہے۔۔۔۔۔
اور اخل یہ بھی تو نہیں جانتا کہ اسے اپ نے اٹھایا ہے۔۔۔
ڈر کے باوجود وہ لڑکا بول رہا تھا کیونکہ شاید اس کے پاس کوئی بہت ہی اچھا ائیڈیا تھا۔۔۔
اگر اپ ائرہ کو کسی تگڑی پارٹی کو بیچ دیں۔۔۔
اپ کو پیسے بھی مل جائیں گے۔اوراخل کو پتہ بھی نہیں چلے گا کوئی ایسی پارٹی جو اس سے لے کے یہاں سے کہیں دور چلی جائے۔۔
اس لڑکے کی اس بات پہ سلطان سوچ میں پڑ گیا تھا اس نے ایک نظر ائرہ کو دیکھا اب اس کے دل میں بھی لالچ ا گیا تھا۔۔۔۔۔
وہ قدم اٹھاتا ہوا اس کے پاس گیا۔۔۔
جھک کر اس کے بالوں کو پیچھے کیا۔۔۔۔
اس کی بولی بھی بڑی ٹگری لگے گی۔۔۔
اس نے زوردار کہکا لگایا تھا تو وہ لڑکے بھی ہنسنے لگے۔۔۔۔
اس کا سودا میرے ہاتھوں ہی ہونا تھا دیکھو پھر سے وہیں اگئی۔اسے اس لڑکے کا ائیڈیا پسند ایا تھا۔۔۔۔۔
_____
وہ یہاں نہیں ہے تو کہاں ہے۔۔۔۔۔
اخل نے الفت کا سارا گھر چھان مارا تھا اور وہ سخت لہجے میں اس سے پوچھ رہا تھا۔کہیں اس کے ذہن میں یہ بھی تھا کہ شاید ائرہ خود ہی اس سے چھپ گئی ہے۔۔۔۔۔
صبح والی حرکت سے۔۔۔۔۔۔
میں تمہیں بتا چکی ہوں میں وہاں سے اگئی تھی۔۔۔
اور میں نے ہی اسے کہا تھا کہ وہ تمہیں فون کر لے۔۔
تمہیں فون کرنے کے بعد جب تم نے انے کا کہا تو میں بھی ا گئی۔۔
اخل کا ایک ہاتھ اس کے ماتھے پہ تھا۔اس کی سمجھ سے باہر تھا کہ وہ گئی کہاں ہے۔۔
کیا پتہ اسے سلطان۔الفت ابھی بولی ہی تھی کہ اخل وہاں سے نکل گیا۔۔۔۔۔
وہ پہلے تو نہیں سوچ رہا تھا کیونکہ وہ جانتا تھا کہ سلطان یہ غلطی نہیں کرے گا اب۔
پر جب ائرہ الفت کے پاس بھی نہیں ملی۔
تو اب اس کا دھیان سلطان کی طرف گیا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
______
تو بہت زیادہ مانگ رہا ہے۔یہ 15 لاکھ رکھو۔۔۔۔
راشدہ نے پیسوں کا بیگ سلطان کی طرف بڑھایا۔۔۔۔
راشدہ نے ائرہ کو 15 لاکھ میں خرید لیا تھا۔وہ ایک 35 40 سال کی عورت تھی۔جسم سے چپکے ہوئے کپڑوں میں ملبوس سرخ گہری لپسٹک۔بالوں کا ٹائٹ جوڑا۔۔۔۔۔
وہ ایسے ہی لڑکیوں کو خریدتی تھی اور پھر مہنگے دام دبئی کے ہوٹلوں میں بھیجا کرتی تھی۔۔۔
دیکھو یہ بہت یونیک پیس ہے۔۔۔
تم کروڑوں کا بزنس کرو گی اور ہمیں صرف 15 لاکھ پہ ٹرکا رہی ہو۔۔۔
سلطان پہلے بھی اس سے کئی سودے کر چکا تھا۔۔۔
رقم بڑھاؤ گی تو اسے لے کے جاؤ گی ورنہ نہیں۔۔۔۔
15 لاکھ دے رہی ہوں تو سکون سے لے لو۔۔۔
ایسی بولی بالی لڑکیوں پہ بہت محنت کرنی پڑتی ہے پھر جا کے کام کے قابل ہوتی ہے۔۔۔۔
بھاگنے کا بھی ڈر ہوتا ہے۔۔۔۔
یہ اتنی جلدی لائن پہ نہیں اتی۔۔۔۔
ائرہ کو اب تھوڑا ہوش ا رہا تھا۔۔۔۔
بہت اسرار کرنے پر راشدہ نے اسے 17 لاکھ میں خرید لیا تھا۔۔۔۔۔
م۔۔۔۔۔۔
ائرہ کے منہ پہ کپڑا بندہ ہوا تھا وہ بول نہیں پا رہی تھی اس کی انکھ ابھی ہی کھلی تھی۔۔۔
کہ راشدہ قدم بڑھا کر اس کے پاس ائی۔۔۔
میں صدقے۔۔۔۔
اس حسن کے۔راشدہ نے پیسوں میں سے ایک گڈی اٹھائی ائرہ کے گرد گھماتے ہوئے اس نے وہ پیسے ان لڑکوں کی طرف پھینکے۔۔۔۔۔
یہ تو سچ میں بہت خوبصورت ہے۔
اس کے قریب ہوتے ہوئے اس کے منہ سے اس نے کپڑا ہٹا دیا تھا۔۔
کو۔۔۔۔۔کون۔۔۔۔
کون ہو تم لوگ اور مجھے یہاں کیوں لے کر ائے ہو۔۔۔۔
اس سے پہلے کہ وہ کوئی اور سوال کرتی سلطان بھی وہیں اگیا تھا سارے سوالوں کے جواب مل گئے تھے۔۔۔۔
اخل۔۔۔۔
اس نے ان دونوں لڑکوں کو دیکھا اس کے ذہن میں اخل ایا تھا کہیں وہ یہ بھی سوچ رہی تھی کہ مجھے اخل نے ان کے حوالے کر دیا۔۔۔۔
کیونکہ وہ اسے لینے بھی نہیں ایا تھا اور ان لڑکوں کو بیچ دیا تھا۔۔۔۔
وہ سچ نہیں جانتی تھی۔۔۔۔
کپکپاتے وجود کے ساتھ وہ سب کو گھور رہی تھی۔لفظ زبان کا ساتھ نہیں دے رہے تھے۔۔۔۔
وہ بہت چیخی بہت چلائی لیکن وہاں پہ کسی نے اس پہ ترس نہیں کھایا تھا۔۔
تھوڑی ہی دیر میں راشدہ اسے لے کر اپنے اڈے پر ائی
_____
سلطان وہ چیختا ہوا وہاں ایا۔۔
تھوڑی ہی دیر میں وہ بالکل اس کے سامنے کھڑا تھا اس کے ہاتھ میں پسٹل تھا۔۔۔
ائرہ کہا ہے۔۔۔۔
اس پہ پسٹل طعنےہوئے وہ پوچھ رہا تھا۔۔
مجھے کیا پتا وہ کہاں ہوگی وہ تمہارے پاس تھی۔۔۔
اس کے جواب نے اخل کو اور پریشان کیا تھا۔۔۔
ائرہ۔۔۔۔۔
کہاں ہے جو پوچھا ہے وہ بتاؤ۔۔۔
وہ اکیلا ہی سلطان اور اس کے بندوں پہ باری تھا۔۔۔
اسے کسی چیز کا ڈر نہیں تھا۔۔۔
فکر تھی تو بس ائرہ کی۔۔۔۔۔۔
لیکن سلطان اسی بات پہ قائم تھا کہ ائرہ اس کے پاس نہیں ہے۔۔۔۔
بہت مار کھانے کے بعد بھی وہ جب اسی بات پہ قائم رہا۔۔۔
تو اخل بھی اس کی بات پہ یقین کرنے کا سوچ رہا تھا لیکن اس کا ذہن ابھی بھی اٹکا ہوا تھا۔۔۔
اس نے سلطان کا پورا گھر چھان مارا تھا۔۔۔۔۔۔
اسے پچھتاوا ہو رہا تھا۔قرت کے پاس جانے کا۔۔۔۔۔
شراب پینے کا۔۔۔۔۔۔
ائرہ۔۔۔۔
کہاں ہو یار۔۔۔اس نے ایک ہاتھ گاڑی پہ رکھا۔اندر سے وہ ٹوٹ چکا تھا۔رات اپنے تیسرے حصے میں ڈل چکی تھی اور ابھی تک اس کی کوئی خبر نہیں تھی۔۔۔
کہاں ہوگی…… کیسی ہوگی۔۔۔۔۔
اسے یہ باتیں اندر سے پریشان کر رہی تھی۔۔۔۔
