Ayra by Aneeta NovelR50474 Ayra Episode 35 (Last Episode)
No Download Link
Rate this Novel
Ayra Episode 35 (Last Episode)
Ayra by Aneeta
ہاتھ اس کی کمر میں ڈال کر اسے قریب کیا اس نے ائرہ کو وہ کب سے ڈاکٹر کے پاس نہ جانے کا احتجاج کر رہی تھی۔۔۔۔
احتجاج اور ضد کی وجہ انگیجمنٹ تھی۔۔۔۔
اخل۔۔۔۔۔
ائرہ کا لہجہ حاصہ سرد ہوا تھا۔۔۔
پر اس پہ سرد لہجہ کہاں عصر کرتا تھا۔۔
اس کی قربت میں۔۔۔۔
بولو نا اخل کی جان۔۔۔۔
کل تمہارے ڈیڈ تمہاری اگینجمنٹ کر رہے ہیں۔۔۔
اور تمہیں یہ سب اتنا نارمل لگ رہا ہے۔۔۔۔۔
اف یہ جیلسی اس نے اس کے بالوں کو پیچھے کیا۔۔۔
اور ڈیٹ نہیں کر رہے یہ میں خود چاہتا ہوں۔۔۔
وہ افس سوٹ میں ملبوس اسے قریب سے قریب تر کرتا جا رہا تھا۔۔۔
کیا مطلب ہے تمہارا۔۔۔۔
ائرہ کا لہجہ اور سرد ہوا۔۔۔
اگینجمنٹ کل ہے لیکن اج کا ٹائم ہے تمہارے ساتھ گزارنا چاہتا ہوں۔۔۔۔
سب سے پہلے ہم ڈاکٹر کے پاس جائیں گے وہ اس کے بالوں کے ساتھ کھلتا اسے سمجھا رہا تھا۔۔۔۔
اس کے بعد میری جان اس نے اس کے گالوں پہ لب رکھے۔۔۔
کسی اچھے سے ریسٹورنٹ میں رومینٹک سا ڈنر کریں گے۔۔۔
ہاں میں جانتا ہوں ایمن جیسی کس نہیں ملے گی۔۔۔۔
پر کوئی نہیں میں مینج کر لوں گا۔۔۔۔
اخل۔۔۔۔۔۔۔
ائرہ کو سمجھ نہیں ارہا تھا کہ وہ کیا کرے۔۔۔
___
میلان دیکھو اگینجمنٹ یا نکاح کیا فرق پڑتا ہے۔۔۔۔
کل ہم ایمن کا اور ائرہ کا نکاح کریں گے ہم اس نے کافی کا ایک شپ لیا اور کپ ٹیبل پر رکھ دیا دونوں ہی افس سوٹ میں ملبوس تھے۔۔۔۔۔۔
جب سے انہوں نے ائرہ کے پریگننٹ ہونے کا سنا تھا۔
اپنے پلان اور خواب چکنا چور ہوتے نظر ارہے تھے۔۔۔
اس لیے وہ سب جلدی جلدی کرنا چاہتے تھے۔۔
میلان کے چہرے سے پرشانی واضح تھی۔۔۔
اخل کیسے مانے گا۔۔۔۔
ائرہ کے لیے اس کا جنون دیکھ کر وہ تو انگیجمنٹ کے لیے بھی پریشان تھا کہ عین موقع پہ منکر نہ جائے۔۔۔
پر اس نے صاف انکار بھی نہیں کیا تھا۔۔۔
اس نے ٹیبل پے رکھی کافی کا کیپ اٹھا لیا ۔…
اس نے اس معاملے میں اس سے کافی بحث کی تھی لیکن اب اس کی ماننا اس کی مجبوری تھی۔
یا پھر شاید ائرہ کو اور برداشت نہیں کرنا چاہتا تھا۔۔
وسیم نے بھی بزنس لندن شفٹ کرنے کا کہا تھا۔
کہ اس لیے یہ سب جلدی کر رہے ہیں کہ وہ لندن شفٹ ہو رہا ہے۔
__
ڈاکٹر سے ہوتے ہوئے وہ اسے شاپنگ کے لیے لے کے گیا تھا۔
اور اسے انتہا کی شاپنگ کروائی تھی اس نے۔۔۔۔
اتنا غصہ ا رہا تم پر دل کر رہا ہے اس نے غصے سے چیئر کو اگے کیا اور اسے بیٹھنے کا اشارہ کیا وہ ایک ریسٹورنٹ میں پہنچ چکے تھے۔۔۔۔۔
۔
ائرہ نے ریڈ کلر کی میکسی پہنی ہوئی تھی۔۔۔۔۔
اور شال کو اگے پیچھے لپیٹا ہوا تھا۔۔
جو دل کر رہا ہے وہ کر کیوں نہیں دیتے۔۔
اب میں کسی کو ہائر کروں گا جو 24 گھنٹے تمہارے سر پہ رہے گی اور تمہارے کھانے پینے کا دھیان رکھے گی۔وہ بالکل اس کے سامنے بیٹھا تھا اور مینیو دیکھنے لگا تھا۔۔
جب سے ڈاکٹر نے اسے بتایا تھا کہ ائرہ اور بے بی دونوں ویک ہیں تب سے اسے ائرہ پہ شدید غصہ ا رہا تھا۔۔۔۔۔
یہ ویکنس نہ کھانے کی وجہ سے نہیں ہے جو تم ہر ائے دن مجھے ٹارچر کرتے ہو نا یہ اس کی وجہ ہے۔۔۔۔
اور وہ کیوں نہ ویک ہو جب اس کا باپ دوسری شادی کر رہا ہو۔۔
ائرہ کی سوئی اٹکی ہوئی تھی اور اٹکے بھی کیوں نہ وہ کیسے اپنے شوہر کو کسی اور کے ساتھ برداشت کر سکتی تھی۔۔
صرف اگینجمنٹ ہو رہی ہے اور تم ابھی سے۔۔۔
اخل ۔۔۔۔گول ٹیبل تھا چار کرسیاں پڑی تھی وہ اٹھ کر اس کے ساتھ والی کرسی پہ ا کے بیٹھی۔۔۔
اور اس کے بازوں پہ اپنے ہاتھ جمائے۔۔۔
پلیز نہیں کرو نا پلیز۔۔۔۔
تو پھر ایک اچھی سی بیوی بن جاؤ نا۔۔
کیا کمی ہے مجھ میں وہ چیخی تھی۔۔۔
تھوڑا رومینٹک ہو جاؤ بس اور کچھ نہیں چاہیے۔۔
بس اتنی سی ڈیمانڈ ہے میری۔۔۔۔
دیکھ لو اج کی پوری رات پڑی ہے۔۔
ورنہ کل مجھ سے شکایت مت کرنا اس نے ویٹر کو اشارہ کیا ۔۔۔
__
اپ پاگل ہو گئے ہیں انگیجمنٹ سے ایک دم سے نکاح۔۔۔
مجھے سمجھ نہیں اتی اپ کی۔۔۔۔
وہ چھوڑ کر دبئی چلا جائے گا اپ یہی چاہتے ہیں شاید اپ۔
لیکن میں اپ کو بتا دوں اگر وہ کہیں بھی گیا تو میں اس کے ساتھ جاؤں گی۔
اللہ نے اتنی بڑی نعمت سے نوازا۔
بشرا بیگم بس کر دو بس بس وہ سرد لہجے میں بولتا ہوا صوفے سے اٹھ گیا تھا وہ دونوں ایک ہی صوفے پہ بیٹھے تھے۔
میں ا گے بہت پریشان ہوں اور میں خود اس سے بات کر لوں گا۔
انگیجمنٹ کر رہا ہے تو اگر نکاح کر لے گا تو کیا مسئلہ ہے۔
مجھے تو وسیم کے ارادے کچھ اچھے نہیں لگ رہے۔
یہ وہی وسیم ہے جس نے اپ کے بزنس میں کتنی گڑبڑ کی تھی۔
لیکن پھر سے۔۔۔
بشرا بیگم نے ہر طریقے سے سمجھانے کی کوشش کی تھی پر ان کے سر پہ نکاح کا بوت سوار تھا۔
میلان کا مران کے بس میں بھی کچھ نہیں تھا۔
کیونکہ وہ وسیم کو پہلے ہی زبان دے چکے تھے۔
اور انہیں ایسے لگتا تھا کہ وسیم ان کا کوئی بہت ہی زیادہ قریبی ہے جو ایک انکار سے دوستی اور سب کچھ ختم ہو جائے گا۔
__
وہ کھانا کھا چکے تھے ابھی ریسٹورنٹ سے نکل رہے تھے کہ ائرہ کو پیچھے سے کسی نے اواز دی۔۔۔
وہ اسد تھا۔۔۔۔
جو ابھی ابھی کسی لڑکی کے ساتھ ریسٹورنٹ میں داخل ہوا تھا۔۔۔
بس اس کی کمی تھی وہ بھی چابی کو گول گھماتے اس کی طرف مرا۔۔۔
تمہیں اب کیوں مسئلہ ہو رہا ہے ۔
جب تمہیں اس سے انگیجمنٹ کر رہے ہو تو میں کسی سے بات بھی نہ کروں وہ غصے سے اسد کی طرف بڑی۔۔۔۔
اخل نے اپنے غصے کو پتہ نہیں کیسے کنٹرول کیا تھا۔۔
دونوں ہاتھوں کا مکہ بناتے زور سے دباتے وہ ان کی طرف بڑھا ۔۔۔
کیسی ہو ا میں نے سنا تھا تمہارے بارے میں بہت پریشان تھا میں۔۔۔
میں ٹھیک ہوں۔۔۔۔۔
اس نے ہاتھ اگے بڑھایا ۔
ائرہ نے بھی ہاتھ اس کے ہاتھ میں دیا ۔۔
ائرہ ۔۔۔
اب کنٹرول مشکل تھا۔۔۔۔
اس نے الجھی ہوئی نگاہ اسد پہ ڈالی انکھوں میں شدید غصہ تھا۔۔
اسد کے ساتھ اس کے بزنس پارٹنر تھی جس کے ساتھ وہ ڈنر پہ ایا تھا۔
اور ائرہ کا بازو زور سے پکڑا اور باہر کی طرف لے کے ایا۔۔
اخل۔۔۔۔
اخل نے اس کا وہ ہاتھ اٹھا کر دیکھا جو اس نے اس کے ہاتھ میں دیا تھا۔
مر گیا تمہارا اخل۔۔۔
اسے دوسری سائیڈ پہ لے کے گیا گاڑی میں بٹھایا اور سیٹ بیلٹ باندھا۔۔۔
کیونکہ وہ جانتا تھا سپیڈ پہ اب اس کا کنٹرول نہیں رہنا۔۔
اسے بٹھا کر دروازے کو زور سے بند کیا۔۔۔۔
اور گاڑی کو پنچ مارتے اپنی سائیڈ پہ ایا۔۔۔
پریگننٹ نہ ہوتی ایک منٹ میں سیدھا کر دیتا ہوں
۔
تمہیں بھی اور اسے بھی۔
ائرہ اس کے غصے سے یوز ٹو تھی تو چپ چاپ اپنا رخ دوسری طرف کر لیا۔۔۔
اسے زندہ چھوڑنا میری سب سے بڑی غلطی تھی سب سے بڑی اس نے دو تین پنچ سٹیلنگ ویل پہ مارے۔۔۔
جو وہ شاید ائرہ کو مارنا چاہتا تھا۔۔۔
اور بریک پہ ہاتھ رکھ کے گاڑی کو سٹارٹ کر لیا سپیڈ پہ واقعی اس کا کنٹرول نہیں رہا تھا۔۔۔
پر جہاں سٹاپ اتا بیلٹ باندھنے کے باوجود وہ اپنا ہاتھ اس کے اگے رکھ لیتا تھا۔۔۔۔
کہ کہیں سر نہ ٹکرائے۔۔۔۔
گھر جا کر اس نے تیزی سے گاڑی کو بریک لگائی۔۔۔
خود نکلا۔۔۔
کوٹ کو اگے کی طرف کھینچا اور اس کی طرف ایا۔
وہ بھی گاڑی میں بیٹھے اسے دیکھ رہی تھی۔۔۔
مہرانی کو ایک نوکر مل گیا ہے۔۔۔۔
غصے سے دروازہ کھولا اور اس کا بیلٹ کھولا۔۔۔۔۔
سیٹ بیلٹ کھولتے ہوئے بھی اس نے اسے غصے سے دیکھا تھا۔۔۔
بشرا بیگم نہ جانے کب سے انتظار کر رہی تھی۔۔۔
اندر اتے ہی ائرہ انہیں ملی اور ڈاکٹر نے سب ٹھیک بتایا ہے یہ بتایا۔۔
اخل غصے سے کمرے کی طرف چلا گیا تھا۔
اسے کیا ہوا ہے بشرا بیگم نے پوچھا ماتھے پہ بل ڈالتے۔۔۔
ریسٹورنٹ میں اسد مل گیا تھا میں نے اسے ہیلو ہائی کر لی تو یہ حال ہو گیا اور خود وہ انگیجمنٹ کر رہا ہے۔۔۔
بشرا بیگم تھوڑی اور پریشان ہو گئی تھی کیونکہ نکاح کے بارے میں اسے کیسے بتائے۔۔
وہ تو انگیجمنٹ پہ اتنا پریشان ہے۔
اور پریشان ہو بھی کیسے نہ شوہر ہے اس کا۔۔۔
کہ اتنی دیر میں میلان کمران ایا۔۔۔۔
کلثوم اس نے غصے سے بلایا۔۔۔
کلثوم جو کچن میں تھی بھاگتی ہوئی ائی۔۔۔
اخل کو بلا کے یہاں لاؤ۔۔۔
ائرہ کا دل دھڑکنے لگا تھا کیونکہ وہ اگینجمنٹ کی بات ہی کرنے والے تھے وہ جانتی تھی۔۔۔
میلان وہ دونوں ابھی ائے ہیں۔۔
بشرا بیگم بولنے ہی لگی تھی کہ میلان نے ہاتھ کے اشارے سے چپ رہنے کا کہا۔۔
تھوڑی دیر میں وہ باہر اگیا تھا چینج کر کے۔۔۔
اخل وہ سب اپ ڈرائنگ روم میں بیٹھے ہوئے تھے۔۔
۔وسیم صبح افس ایا تھا۔۔۔
نیکسٹ منتھ وہ اور فریدہ واپس جا رہے ہیں۔۔۔
وہ اپنا بزنس بھی لندن سیٹ کر رہا ہے۔۔۔
اس لیے وہ جانے سے پہلے ایمن کے فرض سے فارغ ہونا چاہتا ہے۔۔۔
اس نے مجھے کہا کہ انگیجمنٹ کی جگہ اگر ہم ڈائریکٹ شادی رکھ لیں۔۔
نکاح کا فنکشن ہی ہوگا۔۔۔
مجھے بھی بات مناسب لگی۔۔
اخل نے نظر اٹھا کر ائرہ کی طرف دیکھا جو اسے ہی دیکھ رہی تھی سوالیہ نظروں سے۔۔۔
اوکے مجھے کوئی اعتراض نہیں ہے ۔۔
اس کی طرف دیکھتے ہوئے اس نے غصے سے کہا۔۔۔
ائرہ کی انکھیں ایک دم سے نم ہو گئی تھی۔
وہ ایک دم سے اٹھی بشرا بیگم بھی اس کے ساتھ اٹھ گئی۔۔
ایسا کیسے کر سکتے ہیں اپ۔۔
کیوں میری خوشیوں کے دشمن بنے ہیں۔
یہ جرم ہے میری مرضی کے بغیر یہ شادی نہیں کر سکتا۔۔
اخل کو اس پہ غصہ تھا شدید غصہ اسد کی وجہ سے۔۔
لڑکی تم سے کسی نے مرضی نہیں پوچھی ۔۔
اخل نے بھی کچھ کہنا مناسب نہیں سمجھا۔
یا غصے سے اس سے بات نہیں کرنا چاہتا تھا۔۔
میلان بھی ایک دم سے کھڑا ہوا تھا۔
میلان وہ بالکل ٹھیک کہہ رہی ہے بشرا بیگم نے بھی اس کی ہاں میں ہاں ملائی۔۔
اخل تم ایسا کیسے کر سکتے ہو وہ اس کے پاس ائی تھی۔
اس کے گھٹنوں پہ ہاتھ رکھ کے وہ وہیں بیٹھ گئی تھی۔
میں تمہارے بچے کی ماں بننے والی ہوں۔۔۔
تم مجھ سے شادی کر چکے ہو نا۔
یا پھر مجھے چھوڑ دو۔۔۔
ائرہ تم ہی اس گھر کی بہو ہو ایسا کچھ بھی نہیں ہوگا۔
بشرا بیگم اگے ائی اور اسے سہارا دے کر اٹھایا۔جو اس کے گھٹنوں پہ ہاتھ رکھے بیٹھی تھی۔۔
بشرا بیگم کو اس کی حالت پہ ترسا رہا تھا اور اپنے بیٹے پہ غصہ۔۔۔
یہ اس گھر کی بہو کبھی نہیں بن سکتی کبھی نہیں۔
ایک قاتل کی۔۔۔
ڈیڈ وہ غصے سے اٹھا ۔۔
پلیز۔۔۔۔
ہاتھ کے اشارے سے انہیں چپ کروایا۔۔
لہجہ خاصہ سرد تھا۔۔۔۔
میں نے کہا نا مجھے کوئی اعتراض نہیں اس کا مطلب کوئی اعتراض نہیں اور تمہیں بھی نہیں ہونا چاہیے اب وہ ائرہ کی طرف ایا تھا۔۔۔
اور یہ کہتے ہوئے اسے سر سے لے کے پاؤں تک دیکھا اور کمرے کی طرف چلا گیا۔
بشرا بیگم تم تیاری کرو صبح تمہارے بیٹے کا نکاح ہے ۔۔۔
میں وسیم کو اطلاع کرتا ہوں۔۔۔
____
اپ جھوٹ بول رہی ہیں ماما کیا سچ میں وہ نکاح کے لیے راضی ہو گیا۔
وہ خوشی سے جھومی تھی۔
ہاں ہاں سچ میں۔۔۔
صبح ائرہ کا کام بھی تمام کر دوں گی ۔۔
بس اج کی رات اس بیچاری کے لیے اخری رات ہے۔
کل کی رات نہیں دیکھ پائے گی۔۔
فریدہ بیگم کو اب عائزہ کی طرح ائرہ بھی کھٹکھنے لگی تھی۔
موم اپ میری شادی کی پہلی رات ہی خراب کریں گی۔
بیٹی۔۔۔۔
ایک رات خراب ہونے سے ساری زندگی سکون میں گزرے گی۔
تم بس دیکھتی جاؤ۔۔
ہاں ہاں دیکھ لوں گی لیکن سب سے پہلے مجھے یہ ڈریس چینج کروانا ہے یہ تو میں نے انگیجمنٹ کا سوچ کے لیا تھا۔
ایمن کی تو خوشی کی انتہا نہیں تھی۔۔۔
_____
تم بس اتنی سی غلطی کی مجھے اتنی بڑی سزا دے رہے ہو۔
اخل میں مر جاؤں گی پلیز۔۔
ائرہ۔۔۔۔۔
تو پھر کیوں کرتی ہو غلطیاں۔۔۔
یہ بات جانتے ہوئے بھی کہ اسد مجھے بالکل بھی پسند نہیں ہے۔۔
اور تم نے ہاتھ ملا لیا اسے پھر غصہ انے لگا تھا شدید غصہ۔
تم نے اس سے ہاتھ ملا لیا ہاتھ ملا لیا وہ غصے سے بولا۔۔
ایک جملے کو دو دفعہ بولا تھا اس نے اور ہاتھ دیوار پہ دے مارا۔۔۔
یا اللہ مجھے صبر دے۔۔۔۔۔
اس کے سامنے ایا اور بیڈ کو زور سے پاؤں سے ہٹ کیا۔۔
اخل۔۔۔۔۔۔
اب دوبارہ نام نہ لینا اپنے منہ سے۔۔۔۔
اس نے اتنا سا کہا ہی تھا کہ اس کا موبائل بچنے لگا ایمن کی کال تھی نام شو ہو رہا تھا ائرہ نے بھی دیکھا تھا۔
تم نہیں اٹھاؤ گے اس نے موبائل اس کے ہاتھ سے کھینچا اور فون بند کر دیا۔
موبائل واپس کرو نہیں کروں گی۔۔
اس نے دونوں ہاتھوں سے اسے مضبوطی سے پکڑ لیا اور بیڈ پہ بیٹھ گئی۔۔
ائرہ ادھر دو میں کیا کہہ رہا ہوں۔۔
بولا نہ نہیں دوں گی اس نے موبائل کو پیچھے کر لیا تھا۔
اس نے بھی ہاتھ پیچھے کیا لیکن وہ پیچھے کی طرف لیٹ گئی تھی۔
وہ بھی اس کے اوپر جھکا پر اسے اپنے اتنے قریب پاکر اس کا غصہ غائب ہو گیا تھا۔۔
دو نہ یار۔۔۔۔
اسے نظر انداز کرتے ہوئے اس نے ہاتھ اس کی کمر کے پیچھے رکھا۔۔۔۔
کہانہ نہیں دے رہی وہ وہی لیٹی رہی۔۔۔۔۔
ائرہ۔۔۔۔۔
وہ اس کی انکھوں میں دیکھ رہا تھا وہ اس کے بالکل اوپر جھکا ہوا تھا ۔۔۔
بس کنٹرول اخل۔۔۔
اس نے دل ہی دل میں کہا ۔
اتنی جلدی ہتھیار نہیں پھینکنے والا تھا۔۔
اوکے نہ دو وہ بھی اٹھا ۔۔۔
اخل ائرہ نے اس کا بازو پکڑا اور پھر سے بٹھا دیا۔۔
مجھے۔۔۔۔۔۔
وہ چپ ہوئی ۔۔۔
ہاں بولو کیا وہ بھی سننا چاہتا تھا کیونکہ وہ شرما رہی تھی۔۔۔
مجھے کس کرنا ہے تمہیں۔۔
اس نے نظروں کو نیچے جھکا لیا۔۔
ہاں تو کرو شوہر ہو تمہارا۔۔۔
ائرہ کو لگتا تھا شاید وہ ان حرکتوں کی وجہ سے دوسری شادی کر رہا ہے۔
اس لیے اس نے افر دی تھی۔
پر اپ کرنا اس کے لیے بہت مشکل تھا۔
پراخل کہ جذبات اس بات پے مچل گئے تھے۔
انتظار اس کے لیے بھی مشکل تھا۔
کرو بھی یار۔
یا موبائل تو میں ایمن کو فون کروں اس نے بھی اس کی کمزوری پکڑ لی تھی۔۔۔
کر رہی ہو ۔۔
پر پھر تم نکاح نہیں کرو گے۔۔
اس نے بھی ڈیمانڈ رکھ دی تھی۔
اوکے ٹھیک ہے پھر میں جا رہا ہوں۔
اس نے پھر سے اٹھنا چاہا اس نے بازو پکڑ لیا اچھا ٹھیک ہے کر رہی ہوں۔۔
اس کے معصومیت بڑی لہجے نے اسے ہنسنے پہ مجبور کر دیا تھا۔پر ہنسی کو کنٹرول کرتے پھر سے بیٹھ گیا۔۔۔
____
طبیعت بہت خراب ہے میری۔۔
سر میں شدید درد ہونے کے باوجود میں نے ایپیسوڈ ریڈی کی۔۔۔
یہ بہت شارٹ ہے میں جانتی ہوں لیکن میں اپ کو اور انتظار نہیں کروا سکتی تھی۔
جب میسج اور کمنٹ ملتے ہیں کہ ہم انتظار کر رہے ہیں تو پھر مجھ سے بھی انتظار نہیں ہوتا۔۔
بس لاسٹ ایپیسوڈ کا لاسٹ پارٹ رہ گیا ہے جو بہت لونگ ہے۔
جتنا میں سیٹ کر سکی اور پروف ریڈنگ کر سکی ہوں میں پوسٹ کر رہی ہوں۔۔
اور سیٹ کرنے سے مراد ہے۔یہ ناول میں نے بہت کٹ کیا ہے۔
بہت لونگ تھا۔۔۔
تقریبا 50 ایپیسوڈ بنتی تھی۔۔
اب سینز کو اگے پیچھے کرنا پڑتا ہے۔۔۔
اس لیے اب بس لاسٹ پارٹ رہ گیا ہے۔ ۔
دعاؤں میں یاد رکھیے گا۔۔۔۔۔
وہ نہ جانے کب سے بیٹھا ائرہ کا منہ دیکھ رہا تھا اور ائرہ اس کا۔۔۔۔
ائرہ اس نے سرد لہجے میں پکارا۔۔۔۔
پر اس نے کوئی حرکت نہیں کی تھی کوئی اثر نہیں ہوا تھا اس کے سرد لہجے کا۔۔
اچھا ٹھیک ہے جا رہا ہوں ویسے بھی کل سے دوسری انے والی ہے۔۔۔
تمہاری طرح ستائے گی تو ہرگز نہیں ۔۔۔۔۔
اس نے بازوں کو کہنیوں تک فولڈ کرتے ہوئے کہا۔
دھیان ابھی بھی اس کی طرف تھا کہ کیا پتہ روک لے۔
تمہاری بالکل بھی ضرورت نہیں رہے گی اس نے غصے کہا تھا۔۔۔۔
کب سے اسے کس کا لالچ دے کر اس نے بٹھایا ہوا تھا۔۔۔
کوشش کرتی پر پیچھے ہو جاتی بہت مشکل کام تھا اس کے لیے۔۔۔
اب اخل کے لیے بھی انتظار کرنا مشکل تھا اس لیے دھمکا رہا تھا۔ اسے کیا پتا تھا کہ دھمکی الٹی پڑ جائے گی۔۔۔
اوکے یہ لو موبائل ٹھیک ہے جاؤ ۔۔۔۔۔۔
اور کل تک کا انتظار کیوں کر رہے ہو۔۔
ابھی بلا لو اسے۔۔
اس کے مقابل کھڑی ہوئی اور موبائل اس کے ہاتھ میں تھمایا زور سے۔۔۔۔۔
اب ایمن کو ہی سب کچھ سمجھنا وہ غصے سے اپنی طرف ائی بلینکٹ اورا لیٹ گئی۔۔۔۔
میں بھی دیکھتی ہوں کیسے کھاتی ہے وہ تھپڑ تمہارے۔۔۔
ایک ماڑو گے اگے سے دو ماڑے گی۔
ہر دفعہ تمہیں ائرہ نہیں ملے گی۔۔۔۔
جس پہ زور زبردستی چلا کر سب کچھ کر لو۔۔۔۔
ائرہ نے انسوؤں کو صاف کیا۔۔۔۔
ہوگی تمہاری تقریر ختم۔۔۔۔
ڈرامہ کوین۔۔۔۔۔
اخل نے ایک ہاتھ ماتھے پہ ٹکایا اور اسے دیکھنے لگا۔۔
جتنی باتیں اس نے کی تھی اب پہل تو نہیں کر سکتا تھا تو باہر جانا ہی مناسب سمجھا اس نے۔۔۔۔
خود پہ کنٹرول مشکل سے تھا اس لیے۔۔۔۔
___
تم اس لڑکی کی حمایت کر رہی ہو جس کے باپ نے تمہاری بیٹی کو مارا۔۔۔
بشرا تم جانتی کتنا ہو اسے۔۔۔
جس بیٹی کو تم نے ہاتھوں سے پالا تھا اس کے باپ نے اسے منٹوں میں ختم کر دیا تھا۔۔
ہماری عائزہ کو ہمارے جگر کے ٹکڑے کو۔۔۔۔۔
بشرا بیگم کے احتجاج پر وہ شدید غصے میں ایا تھا۔میلان کامران کافی سرد لہجے میں بولا تھا۔۔۔
میرے دل میں وہ چاہ کر بھی اپنی جگہ نہیں بنا سکتی یہ جادو ٹونے صرف تمہارے اور تمہارے نکمے اور نالائق بیٹے پہ کام ا سکتے ہیں۔۔
میں تو شکر ادا کر رہا ہوں کہ ائرہ کے ہوتے ہوئے بھی اس نے ایمن کا رشتہ دے دیا۔
میلان اپ کیوں بھول رہے ہیں۔۔۔۔
وہ اس گھر کو وارث دینے والی ہے۔۔
وہ اپ کا خون ہے۔۔۔
بشرا بیگم نہ میں نے اسے قبول کیا ہے اور نہ ہی اس بچے کو کروں گا۔۔۔
تمہاری ممتا مر گئی ہوگی۔۔۔۔
پر میرے اندر اج بھی وہ اگ لگی ہوئی ہے۔۔
وہ زخم اج بھی ہرے ہیں ہرے ہیں بشرا بیگم۔۔۔۔
اس نے ایک جملے کو دو دفعہ دہرایا۔۔
وہ غصے سے باہر گیا ۔۔
عدنان کے مرنے کے بعد بھی وہ اس سے اتنی ہی نفرت کرتا تھا۔۔۔
چاہتے ہوئے بھی وہ ائرہ کو ایکسیپٹ نہیں کر پا رہا تھا ۔۔
پر انہوں نے کبھی کوشش بھی نہیں کی تھی۔
____
ان دونوں نے ہی رات ایک دوسرے سے کنارہ کر کے گزاری تھی۔۔۔۔
اسے اسد پہ اور اسے ایمن پہ غصہ تھا۔۔۔۔
صبح تقریبا ائرہ کی انکھ اس سے پہلے کھل گئی تھی۔۔۔۔
اس سے پہلے کہ وہ اپنا رخ بدل کر اسے دیکھتی اسے اپنی کمر پہ اس کا ہاتھ محسوس ہوا جسے اس نے زور سے جھٹکا۔۔۔
دوبارہ مجھے ہاتھ لگانے کی کوشش مت کرنا اس نے رخ اس کی طرف کیا۔۔۔
اس نے سفید شرٹ پہنی تھی سینے سے بٹن کھلے ہوئے تھے۔۔
ہاں رات کو شدید غصہ تھا پر صبح اس کا معصومانہ چہرہ دیکھ کر وہ کنٹرول نہیں کر پا رہا تھا۔
اور اس کی قربت بھی تو عجیب ہی جادو کرتی تھی اخل پے۔۔۔
تمہیں نہیں لگا رہا اپنے بچے کو لگا رہا ہوں اس نے کمر میں ہاتھ ڈال کر اپنی طرف کھینچا۔۔۔۔
ایمن کو کہنا وہ دے گی بچے تمہیں اب ہٹ جاؤ۔۔۔
اس نے ہنسی کو مشکل سے کنٹرول کیا تھا۔۔
اس نے بات ہی ہنسنے والی کی تھی۔۔۔
یہ صرف میرا بچہ ہے وہ اٹھ کر بیٹھ گئی تھی۔۔۔۔
ساری محنت میری اور بچا تمہارا یہ بھی ٹھیک ہے۔۔
اوکے ایز یو وش وہ بھی بلینکٹ کو ایک طرف پھینکتا دوسری طرف پاؤں رکھے اٹھ کھڑا ہوا پر نظریں اسی پر تھی اور مسکرا بھی رہا تھا۔
کیونکہ جانتا تھا اب ٹف ٹائم اس کا شروع ہونے والا ہے۔
ائرہ کا دل تیزی سے دھڑک رہا تھا اج کی صبح اس کے لیے ڈراونے خواب جیسی تھی۔۔۔۔۔
اتنی دیر میں ایک ملازمہ اخل کے کپڑے لے کر کمرے میں ائی۔۔۔۔
وہ شاور لے رہا تھا۔
____&
تھوڑی دیر میں وہ اس کے سامنے ہی تیار ہوا تھا وہ بیڈ سے نہیں اٹھی تھی۔۔۔
اٹھ جاؤ بیگم اج تمہارے شوہر کا نکاح ہے۔۔
اتنی دیر میں کلثوم ناشتہ لے کر ائی۔۔۔۔
جسے اخل نے ہی ارڈر دیا تھا۔
کیونکہ وہ اچھے سے جانتا تھا اج میڈم باہر نہیں ائے گی۔
مجھے کچھ نہیں کھانا ٹرے کو دیکھتے ہی اس نے منہ بنایا اور پھر سے لیٹ گئی بلینکٹ اور کر۔۔۔
اخل نے کلثوم کو ٹیبل پہ رکھنے کا اشارہ کیا وہ ٹیبل پر رکھ کر باہر جا چکی تھی۔۔
اخل نے وائٹ شرٹ کے اوپر بلیک ویسکوٹ اور اس کے اوپر بلیک کوٹ پہنا تھا۔۔
ایک دفعہ خود کو شیشے میں دیکھا پھر کوٹ اتار دیا۔
شاید ناشتہ کے بعد پہننا تھا اس نے۔۔
ٹیبل کو اٹھا کر بیڈ کے پاس رکھا۔۔۔
اس کے پاس جگہ بنا کر بیٹھ گیا۔۔۔۔
بلینکٹ کو نیچے کھینچتے ہنستے ہوئے اس کی طرف دیکھا۔
میں نکاح نہیں کر رہا۔۔۔
وہ سنتے ہی اٹھ کر بیٹھ گئی تھی۔۔۔۔
کیا مطلب تمہارا۔۔۔
تھوڑا سا اطمینان ملا تھا۔
پر چہرے پہ ابھی بھی باڑا بجے تھے ۔
اس نے ٹرے میں سے ایک ایپل کا پیس اٹھایا اور اس کے منہ میں ڈالا۔۔۔۔
مطلب تمہیں وہاں جا کے سمجھاؤں گا اب جلدی سے ناشتہ کرو۔
کہاں جا کر میں تو کہیں نہیں جا رہی ۔۔
اپنے اکلوتے ہسبنڈ کے نکاح میں نہیں جاؤ گی۔۔
اخل وہ سرد لہجے میں بولی تھی کیونکہ بات ہی کچھ عجیب تھی پہلے نہیں کرنا اور اب کرنا ہے۔۔۔
اخل بی ری ایکشن سمجھ گیا تھا۔اس کے چہرے کا
کہاں نا وہاں جا کے سب سمجھ ا جائے گی۔
لیکن شرط یہ ہے کہ تمہیں ساتھ چلنا ہوگا اگر تم نہیں گئی تو ہو سکتا ہے مجھے نکاح کرنا پر ے۔۔۔
اس نے املیٹ کو کانٹے کے ساتھ کاٹا اور ایک پیس اس کے منہ میں ڈالا۔۔۔
جوس کا گلاس بڑا اور اس کے ہاتھ میں دیا۔
اب یہ تو خود پی لو یار۔۔
تم دونوں نے پاپا کو ملازم بنا رکھا ہے ہاں اس نے پیٹ پہ ہاتھ رکھا تم ماما پہ نہ چلے جانا۔۔۔۔
اگر یہ تم پر گیا نا تو قسم سے بڑا پیٹے گا مجھ سے۔۔۔
ہنستے ہوئے اس نے ناشتہ شروع کیا۔
ائرہ کے ماتھے کے بل ہلکے نہیں ہوئے تھے بلکہ اور واضح ہو گئے تھے۔
کہ وہ کیا کرنے والا ہے یا کیا ہونے والا ہے۔
__
تقریبا ساری تیاریاں مکمل کر کے۔۔۔۔
میلان کامران۔۔۔۔۔۔
نے سبھی کچھ پہلے ہی ارڈر کر دیا تھا جو اب گھر ا چکا تھا۔۔
اور وقفے وقفے سے وسیم کی طرف جا رہا تھا۔
یہ ان کی روایات تھی۔مہنگے تحفے۔۔۔۔۔۔
لڑکی کے پورے خاندان کو دیے جاتے تھے۔
دن کے 12 ایک بجے وہ ریسٹورنٹ پہنچے تھے۔۔
ائرہ کو اخل نے زبردستی تیار کیا تھا۔۔۔۔
میلان کامران اس بات پہ خفا تھے۔پر ان کے ہاتھ میں کچھ نہیں تھا۔
بشرا بیگم ائرہ سے زیادہ اداس اور پریشان تھی۔اور انہیں بھی سمجھ نہیں ا رہا تھا۔کہ اخل یہ سب کیوں کر رہا ہے۔
ان کے پوچھنے پہ وہ بات ٹال دیتا تھا۔
__
موم یہ کیوں ائی ہے ایمن نے اسے دیکھتے ہوئے غصے سے کہا۔۔۔۔
گڑے کلر کی میکسی پہنی جو باربی سٹائل میں تھی۔۔۔۔
سٹیج پر پہلے ہی کھڑی تھی۔۔
انہوں نے ایک ریسٹورنٹ بک کروایا تھا۔۔
جیسے بہت ہی اچھا ڈکوریٹ کیا گیا تھا۔۔۔۔
بیٹا تم فکر مت کرو تمہیں تو خوشی ہونی چاہیے کہ یہ خود ہمارے جال میں پھنسنے اگئی۔۔۔
ورنہ میرے لیے بھی رات تک کا انتظار کرنا بہت مشکل تھا۔
اس کی کمر کو تھپتھپاتے اس نے کہا اور ان کے ویلکم کے لیے اگے بڑھی۔۔
پر ایمن کو تسلی نہیں ہوئی تھی۔
وہ ماتھے پہ وٹ ڈالے اسے دیکھ رہی تھی۔
________
دیکھو تو کتنی خوبصورت لگ رہی ہے یار۔۔۔
ایسی لڑکیاں کہاں ملتی ہے۔
اس نے ائرہ کو سرگوشی میں کہا۔۔
ارادہ اسے تنگ کرنے کا تھا۔
لگ تو وہ بھی کسی سے کم نہیں رہی تھی۔
مہرون کلر کی میکسی پہنی تھی اس نے بال کھلے ہوئے تھے۔
دونوں ساتھ میں چلتے پرفیکٹ کپل لگ رہے تھے۔
اس سے پہلے کہ وہ کوئی جواب دیتی فریدہ بیگم اگے ائی۔۔۔
ویلکم ویلکم اس نے سب کو ویلکم کیا۔۔۔
اور ائرہ کو ترشی نگاہ سے دیکھا۔۔۔۔
ایمن اپنے غصے پہ کنٹرول نہیں کر پا رہی تھی۔
وہ غصے سے سٹیج سے اتری اور پھر سے میک اپ روم میں چلی گئی۔۔۔
ائرہ نے اسے نوٹس کیا تھا۔
اخل گیسٹس کو ملتے ملتے اگے چلا گیا تھا جب کہ وہ وہیں کھڑی تھی بت بنے۔۔۔
گہری سوچ میں گم تھی۔
لڑکی میلان نے غصے سے پکارا۔۔۔
میں نہیں چاہتا لوگ تمہارے بارے میں سوال کریں۔۔
اس لیے اچھا ہوگا کہ کسی سائیڈ کمرے میں جا کر بیٹھ جاؤ۔۔
ساتھ ہی ایک ویٹر کو اشارہ کیا اور اسے سمجھایا کہ اسے کہیں جا کے بٹھا دے۔۔۔
ائرہ اخل کو بتانا چاہتی تھی لیکن وہ مہمانوں میں مصروف تھا۔۔
میلان کامران اسے انکھیں نکال رہا تھا۔
وہ بھی ویٹرکے پیچھے پیچھے چلی گئی وہ اسے میک اپ روم میں لے گئی تھی اور دروازہ کھول کے اندرجانے کا کہہ کے وہ وہاں سے چلی گئی۔۔۔
ائرہ جیسے ہی اندر داخل ہوئی تو وہ پہلے سے موجود تھی۔
ائرہ نے فورا سے باہر کا رخ کرنا چاہا لیکن اس نے روکا۔۔۔
چلتے ہوئے اس کے پاس ائی۔۔۔
بہت ہی کوئی ڈیٹ قسم کی لڑکی ہو تم اس نے اس کا رخ اپنی طرف کیا۔۔۔۔
ہماری جان کیوں نہیں چھوڑ دیتی۔۔۔
بولو کتنے پیسے چاہیے بولو۔۔۔
اسے پہلے ہی غصہ تھا اس پر۔
اج تو وہ ساتھ ہی اگئی تھی۔۔۔
ایمن مجھے تم سے کوئی مسئلہ نہیں ہے اس لیے اچھا ہوگا کہ تم بھی۔۔۔
او ہیلو اس نے چٹکی بجائی۔۔۔
تمہارا مسئلہ ہونے یا نہ ہونے سے مجھے کوئی فرق نہیں پڑتا۔۔
اس نے اسے بازو سے پکڑا
تم جیسی لڑکیاں ایسے باز نہیں اتی۔
اج تمہارا کھیل اور اس بچے کا کھیل بھی میں ایک منٹ میں ختم کروں گی۔۔۔
اخل بس اس بچے کی وجہ سے اہمیت دے رہا ہے نا اج یہی نہیں رہے گا۔۔۔
اور اس کے ساتھ تم بھی نہیں۔
اس نے غصے سے اس کا بازو پکڑا تو ائرہ نے اس کا ہاتھ پیچھے کرنے کی کوشش کی۔۔۔
اس نے سائیڈ ٹیبل پہ پڑے۔
ایک نوک دار چاکو کو اٹھا لیا۔
جو فروٹس کے ساتھ پڑا تھا۔
اب تمہیں مجھ سے کوئی نہیں بچا سکتا۔۔
ایمن یہ تم کیا کر رہی ہو اس نے اس کے چاکو والے ہاتھ کو پکڑا ۔۔۔
اج تمہیں مجھ سے کوئی نہیں بچا سکتا کوئی نہیں اس نے پھر زور سے ہاتھ اگے کیا ہی تھا۔۔۔
کہ اخل نے اس کے چاکو والے ہاتھ کو پکڑ کر پیچھے پٹاہا۔۔
اس کے گرنے سے پہلے ہی اسے بازو سے پکڑ کر الٹے ہاتھ کا تھپڑ مارا۔۔۔۔
اخل۔۔۔
اس کی سانسیں پہلے ہی اٹکی ہوئی تھی وہ زمین سے جا کر لگی۔۔۔
پر اخل غصے سے پاگل ہو گیا تھا اس نے ساتھ ہی اسے دوسرا تھپڑ مارا اور ائرہ کی طرف ایا۔۔۔
جو دڑی سہمی دیکھ رہی تھی۔
میری جان اسے دونوں ہاتھوں سے تھاما۔۔۔
مجھے بنا بتائے کیسے ا سکتی ہو تم۔۔۔
اسے انہونی کا ڈر تھا کہ اگر کچھ ہو جاتا۔۔۔۔
ائرہ کو اس نے سینے سے لگایا
ایمن زمین پر بیٹھے زار و قطار روئے جا رہی تھی۔۔۔
تم سے میں بعد میں نمٹتا ہوں۔۔۔
___
وہ لڑکی ائرہ کہاں ہے
فریدہ بیگم ریسٹورنٹ کے کچن میں ائی تھی اس نے ایک ویٹرر کو اچھے حاصے پیسے دیے تھے اور جوس میں زہر ٹائپ کے ہی کچھ ڈراپس ڈالے تھے جو اس نے اسے ائرہ کو دینے کا کہا تھا۔۔۔
یہ ڈراپس کچھ ٹائم بعد اثر کرتے تھے۔
پیسوں کی لالچ میں وہ بھی راضی ہو گئی تھی۔۔
وہ میک اپ روم میں ہے۔
اوکے یہ تو میک اپ روم میں لے کے جاؤ۔
فریدہ نے اسے سمجھاتے ہوئے کہا اور باہر اگئی۔۔
کیونکہ وہ نہیں چاہتے تھے کہ اس پہ شک جائے۔
__
تھوڑی دیر میں اخل ائرہ کو لے کر باہر ا چکا تھا۔۔۔
نکاح پہ ابھی اس نے کوئی بات نہیں کی تھی۔
کیونکہ وہ اپنے اگلے پلان کو چلانا چاہتا تھا۔
نکاح کے لیے مولوی ا چکا تھا ویٹر نے اندر ا کے ایمن کو بتایا تھا۔۔
ایمن تھوڑا حیران ہوئی تھی کیونکہ اسے لگا تھا کہ باہر تو تماشہ لگا ہوگا۔
ایمن واش روم میں گئی تھی منہ دھونے کیونکہ رونے سے میک اپ خراب ہو گیا تھا۔۔۔
وہ ویٹر میک اپ روم میں ائی اسے واش روم میں پانی کی اواز ائی تو وہ سمجھی کہ ائرہ وہیں پہ ہے اس نے وہ جوس کا گلاس ٹیبل پر رکھا اور اور باہر چلی گئی۔۔۔
اس نے انکار کیوں نہیں کیا اس کے ذہن میں کہیں سوال تھے۔
ایمن جیسے ہی کمرے میں ائی اس نے جوس دیکھا تو اسے پی لیا کیونکہ اسے پانی کی طلب تھی لیکن پانی وہاں نہیں تھا۔
اور اسے اور کیا چاہیے تھا۔اخل مل رہا تھا وہ اسی میں خوش تھی۔
__
میری جان۔۔۔
وہ فریدہ بیگم کو سب بتانا چاہتی تھی لیکن ابھی اس پہ صرف نکاح کا بوت سوار تھا وہ کسی طرح اس سے نکاح کر کے ائرہ کو نیچا دکھانا چاہتی تھی۔۔۔
وہ نہیں جانتی تھی کہ اب وہ ہاں کرے گا یا انکار کرے گا لیکن وہ چاہتی تھی کہ یہ سب جلدی میں ہو جائے۔۔
تھوڑی دیر میں فریدہ اسے لے کر سٹیج پر ائی تھی۔۔
ائرہ کا دل تیزی سے دھڑکنے لگا تھا۔۔۔
وہ اسے سوالیہ نظروں سے دیکھ رہے تھی۔
اخل کی نظریں بھی اسی پر تھی۔
کہ اتنا سب ہونے کے باوجود وہ نکاح کر رہا ہے۔یہ بات اس کے من میں کھٹک رہی تھی۔
مہمانوں سے حال بڑا ہوا تھا۔
مولوی نکاح شروع ہی کرنے لگا تھا کہ۔اخل ایک دم سے کھڑا ہوا۔۔۔
ائرہ کی جان میں جان ائی۔۔۔
ڈیڈ ۔۔۔۔۔میلان کمران بھی کھڑے ہوئے اور پریشانی کے عالم میں اسے دیکھنے لگے۔۔۔
اخل انہوں نے نظروں سے اشارہ کیا تھا۔
بشرا بیگم نے بھی سکون کا سانس لیا تھا۔
جبکہ ایمن کی سانسیں اگے پیچھے ہو رہی تھی۔
وہ سٹیچ سے نیچے اترا اور ائرہ کے پاس ایا۔۔۔
اپ نے ائرہ کو اج تک ایکسیپٹ اس لیے نہیں کیا ناکہ اس کے باپ نے عائزہ کا قتل کیا تھا۔۔۔
سبھی لوگ حیرانگی سے دیکھنے لگے تھے کیونکہ ائرہ کا تعلق۔کیا ہے کوئی نہیں جانتا تھا۔
میلان فیملی سے۔۔۔۔۔۔
سمی۔۔۔۔
اس نے اواز دی تو وہ دو بندوں کو پکڑ کر اندر لے کر ایا۔۔
اخل پہلے سے سب جانتا تھا کہ عائزہ کے قتل میں کون انوالو ہے۔۔
میلان کامران انہیں دیکھتے ہی غصے سے پاگل ہو رہا تھا کیونکہ وہ وہی تھے۔۔
جو عدنان کے ساتھ قتل میں موجود تھے۔۔۔۔
سی سی ٹی وی فوٹیج میں ان کا چہرہ صاف واضح تھا۔
عدنان ان دونوں کے نیچے کام کر رہا تھا اور یہ دونوں وسیم کے نیچے۔
عدنان صرف ان دونوں کو جانتا تھا ایز۔۔ا۔۔
بوس۔۔۔as a boss
میلان کامران غصے سے اگے بڑھنے لگا تھا کہ اخل نے روکا۔
بتاؤ کس کے کہنے پہ قتل کیا تھا۔
وسیم کے ماتھے پہ پسینہ انے لگا تھا۔۔۔
فریدہ کا بھی یہی عالم تھا۔۔۔
وہ دونوں لڑکے زخموں سے چور تھے۔ ۔
سارے زخم اخل کے لگائے ہوئے تھے۔
ائرہ بھی حیرانگی سے سب دیکھ اور سن رہی تھی۔۔۔۔
ابھی جا کے اس نے سکون کا سانس لیا تھا۔
جبکہ بشرا بیگم کے انسو نکلنے لگے تھے وہ سب پھر سے جیسے سامنے اگیا ہو۔۔۔
ائرہ ان کے قریب گئی اور انہیں تھاما۔۔
ان دونوں لڑکوں نے وسیم کی طرف اشارہ کیا تھا اور تھوڑی ہی دیر میں ساری کہانی سبھی کو سنا دی تھی۔
کہ انہوں نے نہ صرف عائزہ کا بلکہ مہرو اور علی کا بھی قتل اس کے کہنے پہ کیا تھا۔۔۔
ائرہ کے بھی زخم تازہ ہو گئے تھے۔
اخل نے انہیں مہر اور علی کے قتل کے چکر میں پکڑا تھا پر جب پکڑا تو کہانی الگ ہی سامنے ائی۔۔۔
جب اسے مہرور اور علی کے قتل کی حبر ملی تو وہ ان کے پیچھے پڑ گیا تھا۔ابھی کچھ دن پہلے ہی وہ اس کے ہاتھ لگے تھے۔کیونکہ وسیم نے بہت کوشش کی تھی۔
انہیں سب کی نظروں سے چھپانے کی۔۔
ہال میں موجود سبھی لوگ وسیم پہ تھو تھو کر رہے تھے۔
وہ اہستہ اہستہ سبھی لعنت بیج کر جانے لگے تھے۔۔۔۔
وسیم کو اب کوئی راستہ نظر نہیں ارہا تھا۔۔
۔تھوڑی دیر میں پولیس اگئی تھی جنہوں نے وسیم کو پکڑ لیا تھا۔۔
فریدہ بیگم سوائے چیخنے چلانے کے سوا اور کچھ نہیں کر سکی۔۔
ایمن پہ جوس اپنا اثر چھوڑ رہا تھا جو ہو رہا تھا اسے کچھ سمجھ نہیں ارہی تھی۔۔
کہ تھوڑی دیر میں وہ ٹھ کر کے سٹیج پر گری تھی اس کے منہ سے جاگ نکلنے لگی تھی۔۔۔۔
فریدہ بیگم ایک دم سے نیچے گری ایمن وہ چیہی تھی۔۔
وسیم جسے پولیس نے ہتھکڑیاں باندھی ہوئی تھی اس نے بھی بھاگنے کی کوشش کی تھی لیکن ہتھکڑیوں میں جکڑا ہوا تھا۔۔۔۔
وہ بے بسی کے عالم میں دیکھ رہا تھا۔
یہ اللہ کا انصاف تھا جو سامنے ایا تھا اج۔
یہ کیا ہو گیا بیٹی ۔۔۔
وہ جوس اس نے اس ووٹرز کی طرف دیکھا جو سامنے ہی کھڑی تھی وہ جوس کیا تم نے میری بیٹی کو پلا دیا۔
نہیں نہیں ایسا نہیں ہو سکتا۔
یہ کیا ہو گیا۔۔
تھوڑی دیر میں جوس کی کہانی بھی سبھی کے سامنے اگئی تھی۔
فریدہ بیگم کو سمجھ نہیں ارہی تھی۔
اپنے ہاتھوں سے اس نے اپنی بیٹی کو مار دیا تھا۔
تم جیسوں کے ساتھ ایسا ہی ہونا چاہیے بشر بیگم چیہی تھی۔
اور جب اپنی بیٹی مری تو کیسا دکھ ہو رہا ہے اور جب میری بیٹی چھینی تھی اس نے فریدہ کو کھڑا کیا۔۔۔
یہ سب کچھ انہوں نے دولت کی لالچ میں کیا تھا کہ سب کچھ ان کی بیٹی کے نصیب میں ا جائے۔
پر اللہ نے بیٹی کے نصیب میں موت لکھی تھی وہ بھی جوانی میں اور بے شک اللہ کا انصاف سب سے باری ہوتا ہے۔
انسان کتنا بھی شاتر اور تیز کیوں نہ ہو وہ پکڑ ہی لیتا ہے ۔
یہ ترکیبیں وہاں نہیں چلتی۔۔۔
میری بیٹی کے قاتل ہو تم لوگ میلان کامران اگے بڑھا اور بشرا بیگم کو تھاما۔۔
میلان کامران بھی شرمندہ تھا۔
کہ وہ اپنی بیٹی کے قاتل کی بیٹی کو بہو بنانے لگا تھا۔
اس نے بھی وسیم کو سات اٹھ پنچ ماڑے تھے۔اگر پولیس نہ ہوتی تو شاید وہ اسے اپنے ہاتھوں سے ختم کر دیتا۔۔۔
________
اخل نے ڈائمنڈ رنگ لی تھی ائرہ کے لیے۔
اب وہاں سے وہ اسے ایک ریسٹورنٹ میں لے کر گیا تھا اور وہ انگوٹھی اسے پہنائی تھی اس نے میلان کامران اور بشر بیگم بھی موجود تھے ۔۔۔
میلان کامران نے بھی اسے قبول کر لیا تھا۔بلکہ اپنے سلوک پر معافی مانگی تھی ۔۔۔۔
ایرہ نے بھی انہیں دل سے معاف کر دیا تھا۔۔۔۔۔
_$___
After 2 year
ماما نے تو صرف بازو پہ قبضہ جمایا ہوا تھا۔
بابا کا شیر تو پورے سینے پہ قبضہ جمائے بیٹھا ہے ۔۔۔
شایان میلان کو اس نے اپنے سینے پہ لٹایا ہوا تھا۔جو پورے ایک سال کا ہو گیا تھا۔۔۔۔۔
اخل۔۔۔۔۔۔
ائرہ نے غصے سے انکھ کھولی تھی۔۔۔
وہ جس کا سر اس کے شولڈر پر اور ایک ہاتھ شایان کے اوپر تھا۔۔
وہ ابھی سویا ہے کتنی مشکل سے سلایا میں نے اسے۔۔۔۔
پھر سے اٹھا رہے ہیں وہ جو اس کے بالوں سے کھیل رہا تھا اس کے ہاتھ کو پکڑا ائرہ نے ۔۔۔۔
پھر خود سے کھیلنے دو اسے سائیڈ پہ کرتا ہوں۔۔۔۔۔
دیکھو اس کا کوئی پارٹنر لے اتے ہیں۔۔۔۔
پھر تم تھوڑا ریلیکس ہو جاؤ گی۔۔۔
اخل۔۔۔۔۔۔
اس نے سرد لہجے میں پکارا۔۔۔
اس نے شایان کو بیڈ کے ساتھ پڑے جھولے میں لٹایا۔
ائرہ اس کے ارادوں کو بھاپ گئی تھی بلینکٹ کو فورا اپنے اوپر کیا۔۔۔۔
اور خود کو چھپا لیا۔۔۔۔۔۔
کیوں ہاتھ کو زحمت دینی ہے ائرہ اخل نے بھی لہجہ سرد کیا۔۔۔
وہ جگہ بناتے اس کے ساتھ بیٹھا اور لب اس کے ماتھے پہ رکھے۔۔
لگتا بابا کا شیر کچھ زیادہ ہی تنگ کرتا ہے ماما کو۔۔۔
اس نے بلینکٹ کو کھینچا۔۔
ابھی اٹھے کلاس لیتا ہوں۔۔۔۔
ائرہ نے ہلکی سی سمائل کی ۔۔۔۔
اور دایاں ہاتھ اس کے چہرے پہ رکھا۔۔
بیٹے سے زیادہ باپ تنگ کرتا ہے مجھے پہلے اپنی کلاس لو ۔۔۔
