Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Ayra Episode 13

Ayra by Aneeta

کیا وہ لڑکی اخل کے گھر ہے ۔۔۔۔

محروج نے ملیحہ کے اتے ہی پوچھا اور صوفے سے اٹھ گیا۔۔۔

بھائی مجھے سمجھ نہیں اتی اپ اس لڑکی کے پیچھے کیوں پڑے ہیں۔۔

اخل اس کو لے کر کچھ زیادہ ہی ری ایکٹ کر رہا ہے۔۔

اپ جانتے ہیں میں اس سے کتنی محبت کرتی ہوں۔۔

اور اگر اپ کے کسی سٹیپ سے اس نے مجھے چھوڑ دیا تو میں اپ کو کبھی معاف نہیں کروں گی۔۔۔۔

ملیحہ۔۔۔۔۔۔۔۔

میں نے جو پوچھا ہے مجھے اس کا بتاؤ۔۔۔۔

محروج کو پھر سے غصہ اگیا تھا۔۔۔۔۔۔

اس نے تمہارے سامنے تمہارے بھائی پہ ہاتھ اٹھایا۔۔۔

تم ابھی بھی۔۔۔۔۔

اور وہ تمہارا مقابلہ دو ٹکے کی لڑکی سے ہرگز نہیں کر سکتا۔۔

تم محروج عصر کی بہن ہو۔۔۔۔۔

اس بات کو ہمیشہ یاد رکھنا۔۔۔۔۔۔

اور اگر چاہتی ہو کہ وہ لڑکی تمہارے راستے میں نہ ائے۔۔

تو جو میں کہوں گا وہی کرنا ہوگا۔۔۔۔

__________&&&

ائرہ ابھی رو کر سمبلی ہی تھی۔بیڈ پہ سیدھی ہو کے لیٹی اور بلینکٹ کو اپنے اوپر کیا۔تھپڑ کا نشان واضح تھا۔۔۔۔

دروازہ بند تھا۔لاک کرنے کی اس میں ہمت نہیں تھی۔۔۔۔

وہ اخل سے ڈر گئی تھی۔۔۔۔۔۔۔

اتنا غصہ۔۔۔۔۔۔۔

اس کی انکھوں میں ابھی بھی انسو تھے۔۔۔

انکھیں اس نے ذرا سی بند ہی کی تھی۔۔۔۔۔

کہ دروازہ جو تھوڑا سا بند تھا ایک دم سے زور سے کھلا تھا۔۔

اخل کے ہاتھ میں وائن کی بوتل تھی۔۔۔۔۔

بوتل کو دروازے کے ساتھ ٹھکاتے ہوئے۔اس نے ایک نظر ائرہ کو دیکھا۔۔۔۔۔

ائرہ ایک دم سے اٹھی تھی۔

اس کے دل کے دھڑکن یک دم تیز ہو گئی تھی۔وہ سمجھ گئی تھی کہ وہ نشے میں ہے۔اور اس کے ارادے بھی ٹھیک نہیں لگ رہے تھے اسے۔۔۔۔۔

ماتھے پہ پسینے کی بوندے چمکنے لگی تھی۔۔

ا۔۔۔۔۔اخل۔۔۔۔۔

بمشکل منہ سے نکلا تھا۔۔۔۔۔

اسے سر سے لے کے پاؤں تک دیکھتے ہوئے وہ اگے بڑھا۔۔۔انکھیں نشے سے سرخ ہو گئے تھے۔

اخل۔۔۔وہ مشکل سے بول پا رہی تھی اور پیچھے ہوتی جا رہے تھی۔۔۔

ن۔۔۔۔۔۔نہں۔۔نہیں پلیز۔۔۔۔

اخل۔۔۔

اس وقت ہوش میں نہیں تھا اسے کچھ سمجھ نہیں ا رہا تھا۔۔۔

اوپر سے ائرہ کی خوبصورتی سے اپنی طرف مائل کر رہی تھی۔۔۔۔

یہ معصوم سا چہرہ۔سمندر سے گہری انکھیں۔لبوں پہ کھپ کھپاہٹ۔اس ڈر میں بھی اس کی خوبصورتی ماند نہیں پڑی تھی۔۔۔۔۔۔

ائرہ نے اپنا دوپٹہ اٹھانے کی ناکام کوشش کی۔اخل نے اسے بازؤ سے پکڑ کر کھڑا کیا۔۔۔۔

تم بہت خوبصورت ہو ائرہ۔۔۔۔۔۔

اگے اتے اس کے ذرا سے بالوں کو پیچھے کیا۔۔۔

اور کھینچنے والے انداز میں اپنے کمرے کی طرف لے کے گیا۔۔۔

چھوڑو مجھے۔۔۔۔۔

وہ اپنے ہاتھ کو اس کی گرفت سے چھڑوانے کی کوشش کر رہی تھی۔کے اگلے ہی لمحے اخل نے اسے بیڈ پہ دے مارا۔۔۔

سمجھتی کیا ہو تم خود کو۔وہ اس کے احتجاج پر سخت خفا ہوا تھا ۔۔۔۔۔۔

وہ وائن کے بوتل جو اس نے توڑی تھی اس کے کانچ ائرہ کے پاؤں میں چبے تھے۔۔۔۔

پاؤں سے خون نکلنا شروع ہو گیا تھا۔۔۔

پر اسے ترس نہیں ایا تھا پھر بھی۔۔۔۔۔

اج وہ حشر کروں گا کہ ساری زندگی یاد رکھو گی۔۔۔

تم جیسی لڑکیوں کو عزت راس نہیں اتی۔۔۔۔۔

کیا کچھ نہیں کیا تمہاری خاطر اور تم نے بدلے میں۔۔۔۔

اسے بالوں سے پکڑا اور کھڑا کیا۔۔۔۔

شراب کی بوتل اس نے اوپر اٹھائی ایک نظر اسے دیکھا اور پھر زمین پر دے ماری۔۔۔۔۔

ائرہ نے دونوں ہاتھ اس کے اگے جوڑے۔۔۔

ائرہ کا تو دل جیسے بند ہونے لگا تھا۔۔۔۔۔

اس کی التجا کرتی انکھیں اس کی انکھوں میں دیکھ رہی تھی۔۔۔۔

پلیز چھوڑ دو۔۔۔۔۔۔

م۔۔۔۔۔۔۔میں وہ بول نہیں پا رہی تھی۔لفظ حلق میں اٹک گئے تھے۔۔۔۔

حلق سے زبان تو جیسے کسی نے کھینچ لی ہو۔۔۔۔۔

مجھے چھوڑ دو پلیز۔۔۔۔

اخل تو جیسے اندھا ہو گیا تھا وہ اسے دیکھی نہیں پا رہا تھا۔اس کی منتیں ترلے کچھ نہیں سنائی دے رہا تھا۔۔۔

اخل نے کندھے سے اس کی شرٹ کو پکڑ کر کھینچا ہی تھا۔۔۔

اخل۔۔۔۔۔

کہ اس اواز میں اسے اپنی طرف مخاطب کیا وہ ملیحہ تھی۔۔

یہ کیا کر رہے ہو چھوڑو اسے۔۔۔۔

اس نے اگلے ہی لمحے اخل کو پیچھے دھکیلا۔۔۔

ایسی لڑکیاں تو ایسے موقعوں کا فائدہ اٹھاتی ہیں۔۔

اس نے افق نگا ائرہ پر ڈالی۔۔۔۔۔

ائرہ نے ایک لمحہ ضائع کیے بغیر وہاں سے دوڑ لگاتی تھی وہ اپنے کمرے کی طرف گئی تھی اور روم لوک کر لیا تھا۔

وہ یقینا باہر بھاگ جاتی۔بھاگتے ہوئے بھی نہ جانے کتنے کانچ اس کے پاؤں میں چبھے تھے۔۔۔۔۔

وہ کمرے میں پہنچتے پہنچتے دو دفعہ گری تھی۔۔۔

وہ باہر بھاگ جاتی لیکن۔ایک تو اور چلنا محال تھا اور اوپر سے

محروج سلطان راشدہ کا ڈر۔اور ایسے ہی چھپی دنیا میں کالی بھیڑوں کر ڈر۔وہ روئے بھی تو کسے اس کے اپنے باپ نے اسے دنیا کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا تھا۔۔۔۔

گھر جیسا بھی تھا محفوظ تو تھا۔۔۔۔۔۔۔۔

ان باتوں کو سوچتے وہ دجکے سے رونے لگی تھی۔۔۔

پاؤں میں بہتا خون اتنی تکلیف نہیں دے رہا تھا۔۔۔

جتنا اسے اخل کا ڈر بے چین کر رہا تھا

_________

اخل نشے میں مکمل جا چکا تھا۔ملیحہ نے اسے سنبھالتے ہوئے بیڈ پہ لٹایا تھا۔اور خود بھی اس کے ساتھ ہی لیٹ گئی تھی۔۔۔

اس کے ذہن میں اپنے بھائی کی باتیں گھومنے لگی تھی۔۔۔۔

اس کا شک یقین میں بدلتا جا رہا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔

_________&&&&&

یا اللہ میری مدد کر۔۔۔۔۔۔

مجھے ان سب سے نکال دے۔۔

ہر دوسرے لمحے وہ اہٹ محسوس کرتی تھی کہ کہیں پھر سے اخل نہ ہو۔۔۔۔

وہ زمین پر ہی بیٹھ گئی تھی۔

سب کچھ ختم ہو گیا تھا اج۔۔۔۔

اخل سے جو اسے خطرہ تھا اج وہ یقین میں بدل گیا تھا۔۔۔۔

اس نے اپنا اپ دکھا دیا تھا اسے ایسا لگتا تھا۔۔۔۔

اب اس کا بچنا اسان نہیں۔۔۔۔۔

وہ اب بس مر جانا چاہتی تھی۔۔۔۔۔

اس کے پاؤں سے مسلسل خون بہہ رہا تھا۔۔۔۔

پر اندر کا درد اس باہر کے درد سے کہیں زیادہ گہرا تھا۔اسے اس درد کا احساس نہیں ہو رہا تھا۔۔۔۔۔

_______&&&&&

صبح اخل کی انکھ کھلی تھی۔۔۔

ملیحہ پوری طرح اس میں چھپ کر سوئی ہوئی تھی۔۔

وہ ایک دم سے اٹھ کر بیٹھا تھا۔۔۔

کمرے میں بکھرے کانچ کے ٹکڑے۔۔۔

ان ٹکڑوں پہ اور کمرے میں خون کے نشان۔۔۔۔

ائرہ۔۔۔۔۔۔۔۔

پاس پری اپنی شرٹ کو پہنا اور بلینکٹ کو ایک دم سے پیچھے گرایا۔۔۔۔

ائرہ۔۔۔۔

وہ منظر اس کے ذہن میں تھا جب ائرہ کو گھسیٹتے ہوئےروم میں لے کے ا رہا تھا۔۔

اسے تھپڑ مارا اس کے بال کھینچے۔۔۔۔۔۔۔۔

اس کے قریب ہونے کی کوشش کی۔۔۔۔۔

اس کی شرٹ۔۔۔۔۔۔۔۔

نہیں۔۔؟۔۔۔

یہ کانچ کے ٹکڑے اس کے پاؤں میں چبھے تھے۔

پر اپنی بے خودی میں اسے اس کے درد کا احساس کہاں تھا۔۔۔۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔اس کی سانسیں رکنے لگی تھی۔۔۔۔۔۔

لمحہ ضائع کیے بغیر وہ اس کے کمرے کی طرف بھاگا۔۔۔۔۔

ائرہ۔۔۔۔

اس نے ہینڈل کو دو تین دفعہ پریس کیا۔۔۔

دروازہ کھولو۔۔۔۔۔

تم ٹھیک ہو۔۔۔۔۔

اس نے شرٹ کے بٹن کو بند کرتے ہوئے پوچھا تھا۔۔۔

چہرے پہ پریشانی واضح تھی۔۔۔۔

پلیز کھولو یار۔۔۔۔۔۔

ہینڈل کو پریس کرتے ہوئے وہ کہہ رہا تھا۔۔۔

اس کے کمرے سے لے کر ائرہ کے کمرے تک خون کے نشان تھے۔۔۔۔۔۔۔۔

ایک ہاتھ کو اس نے اب پیشانی پہ ٹھکرایا۔۔۔

وہ اس کا سامنا کیسے کرے گا۔۔۔۔ کیا وضاحت دے گا۔۔

اسے کیسے محفوظ ہونے کا احساس دلائے گا۔۔

وہ تو خود کتوں کی طرح اس پہ چپٹنے لگا تھا۔۔۔۔۔

وہ منظر اس کی انکھوں کے سامنے تھا۔۔۔۔

جب اس نے اسے تھپڑ مارا۔

پھر وائن پینے کے بعد۔۔۔

یہ کیا کیا تم نے وہ زور سے چلایا تھا۔۔۔

ائرہ اس کے نوک کرنے سے ہی سہمی ہوئی تھی۔۔

اور اس کے چلانے سے وہ اور ڈر گئی تھی۔۔۔۔۔۔

اس کے پاؤں میں شدید درد تھا لیکن ان تکلیفوں میں وہ درد اسے محسوس نہیں ہو رہا تھا۔۔۔۔

اخل۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

کیا ہو گیا ہے۔۔۔

ملیحہ ٹاپ پہنتے ہوئے کمرے سے باہر ائی۔۔۔۔۔

کچھ نہیں ہوا اس کے پاس انے سے پہلے ہی اس نے اسے دور رہنے کا اشارہ کیا۔۔۔۔۔

یہاں سے اب جاؤ ابھی کے لیے جاؤ پلیز۔۔۔۔۔

اس کا غصہ دیکھ کر ملیحہ بھی وہاں سے جا چکی تھی ۔۔

اور اس کی انکھ میں انسو تھے۔۔۔۔

وہ ائرہ کو سب کا قصور وار سمجھ رہی تھی۔۔۔۔۔

یہ سب اس لڑکی کی وجہ سے ہوا ہے۔۔۔۔

اتنی اسانی سے نہیں۔۔۔

وہ بڑبڑاتے ہوئے باہر چلی گئی ۔۔۔۔۔

_____

محروج۔کو ملیحہ کی طرف سے خبر کا انتظار تھا۔۔۔

لیکن ملیحہ خود منہ لٹکائے ا رہی تھی۔۔۔۔

تمہیں میں نے کچھ بولا تھا وہ غصے سے بولا اور ملیحہ کی طرف قدم بڑھائے۔وہ افس جانے لگا تھا۔۔۔۔

اس لڑکی نے اخل کو اپنے کنٹرول میں کر لیا ہے۔۔۔۔۔

اس کی وجہ سے اس نے انسلٹ کی۔۔۔۔

اگر وہ میرا نہیں ہوا تو میں اس کا بھی نہیں ہونے دوں گی۔۔۔

محروج کی وہ ایک ہی اکلوتی بہن تھی۔۔۔

کیا مطلب ہے اس بات کا۔۔۔۔

لیکن وہ جواب دیے بغیر اپنے کمرے میں جا چکی تھی۔۔۔۔

_____

ائرہ۔۔۔

اخل نے چابی سے لوک کھولا۔۔۔۔۔۔۔

وہ پہلے ہی ڈر کے مارے دیوار کے ساتھ لگ گئی تھی۔۔

میرے قریب نہیں انا۔۔۔۔۔۔

اس کا وجود کرچی کرچی ہو گیا تھا۔۔۔۔۔

کوئی نہیں آرہا۔۔۔۔

کوئی بھی نہیں۔۔۔

وہ قدم بڑھا کر اگے گیا۔۔۔

تمہارا پاؤں ایک دم سے نیچے بیٹھا۔۔۔۔۔

پلیز ریلیکس ہو جاؤ۔۔۔

اس کو الفاظ نہیں مل رہے تھے کے کن لفظوں میں وہ اسے تسلی دے۔۔۔۔۔

ایسا کیا بولے کہ اسے سکون ملے۔۔۔۔

بس۔اگلے ہی لمحے وہ اٹھا تھا دونوں ہاتھوں سے اس کے انسو صاف کیے۔۔۔

بس نہ مر جاؤں گا میں اب۔۔۔۔۔

پلیز خاموش۔۔۔۔۔۔

لیکن فلحال اس کے پاؤں کی فکر تھی اسے۔۔۔۔

اسے بیڈ پہ بٹھایا۔۔۔۔۔۔

اس کا پاؤں بری طرح زخمی ہوا تھا۔۔۔۔۔۔

یا اللہ۔۔۔۔۔۔۔۔

اخل نے ہونٹوں کو میچتے ہوئے اس کی طرف دیکھا۔

کہ وہ کیسے برداشت کر رہی ہے اتنے درد کو۔۔۔۔۔

ائرہ دل ہی دل میں دعائیں مانگ رہی تھی اپنی حفاظت کی۔

وہ پہلے بھی تو ایسے ہی مہربان تھا۔۔۔۔۔

تھوڑی دیر میں اس کے زحموں کو صاف کر کے اسے پٹی کی۔۔

اس نے کھانا ارڈر کیا تھا وہ اسے زبردستی کھلایا اس نے۔۔۔۔

_______________

سلطان دبئی ا چکا ہے۔۔۔۔

فون لے کر اخل باہر ایا۔۔۔۔۔

دوسری طرف والی لڑکے نے بتایا تھا کہ سلطان اس کی قید میں ہے اب۔اس خبر نے اسے تھوڑا سکون دیا تھا۔۔۔

اور دل میں ابھی بھی ائرہ کا درد تھا۔۔۔۔۔

اس نے فون بند کر کے پاکٹ میں ڈالا۔۔۔۔۔۔۔

________

صبح سے شام ہو گئی تھی ائر ہ ابھی تک کمرے میں تھی۔۔۔۔

اس کا یہ مرجھایا ہوا روپ اخل کو اندر ہی اندر سے چھیڑ رہا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔

چلو۔۔۔۔۔

اخل نے ہاتھ ائر کی طرف بڑھایا۔۔۔۔

ک۔۔۔۔۔۔کہا۔۔۔۔۔۔

اس نے ڈرتے ہوئے پوچھا تھا۔۔۔۔

کہیں باہر چلتے ہیں۔۔۔۔

کسی اچھی سے جگہ پر۔۔۔۔۔۔

م۔۔۔۔۔۔مجھے۔نظر اٹھا کر اسے دیکھا۔اس نے سفید کلر کی شارٹ فراک پہنی تھی۔نیچے جینز کے پینٹ تھی۔یہ سب اخل نے ارڈر کیے تھے۔سمپل سے فراک تھی۔گہرا گلا۔۔۔۔

وہ بہت ڈیسنٹ اور خوبصورت لگ رہی تھی۔۔۔۔۔۔

اخل نے فریش ہونے کے بعد ملٹی کلر میں شرٹ پہنی تھی نیچے لائنوں والی جینز تھی۔۔۔۔

ائرہ کے چکر میں اس کی شیپ بھی تھوڑی بڑھ گئی تھی۔پر اسے سوٹ کر رہی تھی۔۔۔۔

میری طبیعت نہیں ٹھیک مجھے الفت کے پاس چھوڑا اؤ۔۔

میں یہاں سکون سے نہیں رہ سکوں گی۔۔۔۔

ائرہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

چلو اؤ اٹھو جلدی۔۔

گہری سانس لینے کے بعد اس نے کہا تھا۔۔۔

باہر جا کے بات کریں گے۔۔۔۔

____

تھوڑی ہی دیر میں وہ دونوں ایک ریسٹورنٹ میں موجود تھے۔۔۔۔۔

اس کے ڈر کے اگے وہ احتجاج نہیں کر سکی۔۔۔۔

اس کے پاؤں میں تکلیف کی وجہ سے اسے سہارا دے کر لایا تھا۔اخل نے

کیا ہم اچھے دوست بن سکتے ہیں۔۔۔۔۔۔

وہ اچھے سے جانتا تھا کہ اگر وہ پیار کا کہے گا۔وہ کبھی یقین نہیں کرے گی۔۔

لیکن وہ تو عشق کی بھی حد پار کر چکا تھا۔۔۔

ائرہ نے اس پہ جیسے جادو کر دیا ہو۔۔۔۔۔

تم بول نہیں رہی۔۔۔۔۔

تم جو رات کو کرنے لگے تھے اس کے بعد میں تم پہ یقین کر سکتی ہوں تمہیں لگتا ہے۔۔

ایک دفعہ پھر شرم سے پانی پانی ہو گیا تھا۔وہ رات والا منظر اس کے ذہن میں چلنے لگا تھا۔اخل نے کوئی جواب نہیں دیا۔۔۔۔۔۔۔

مجھے وحشت محسوس ہوتی ہے تم سے۔۔۔

وہ جو اس کے ڈر سے خاموش تھی ایک دم سے بولی۔۔۔۔۔

مجھے واپس بھیج دو یا مجھے الفت کے پاس چھوڑ دو۔۔۔۔

پلیز۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اس کی انکھوں سے پھر سے انسو نکلنا شروع ہو گئے تھے۔۔۔

ائرہ۔۔۔۔۔۔

اسے ہاتھوں سے پکڑ کر اس نے کھڑا کیا۔۔۔۔۔۔۔

ایم سو سوری۔۔۔۔

میں اج کے بعد وئن کو ہاتھ بھی نہیں لگاؤں گا۔۔

میں معافی مانگتا ہوں تم سے۔۔۔۔۔

اور اگر الفت کو تمہاری پرواہ ہوتی تو وہ پوچھ لیتی۔اگر مجھے لگتا کہ تم وہاں سیو ہو تو میں تمہیں وہاں چھوڑنے میں کیوں دیر لگتا۔۔۔۔۔

سوری۔۔۔۔۔۔

لیکن میں جانتا ہوں کہ یہ لفظ کافی نہیں ہے۔تمہارے درد کو تمہاری تکلیف کو کم کرنے کے لیے۔۔۔۔

ائرہ۔۔۔۔۔

کو اس نے تھوڑا قریب کیا تو وہ بھی اس کے سینے سے لگ گئی۔اس نے دونوں ہاتھ اس کے سینے پہ رکھے اور زار و قطار ہونا شروع کر دیا۔جیسے اسے چاہیے تھا کوئی جس کے سینے سے لگ کر وہ رو سکے۔۔۔۔۔۔۔

یہ لمحہ اتنا خوبصورت تھا۔

کےاخل اسے خود سے جدا نہیں کرنا چاہتا تھا۔۔۔۔

پر اس کے انسو اسے تکلیف دے رہے تھے۔۔۔۔

اوکے بس۔۔۔۔۔

اس نے اسے سینے سے اپنے سامنے کیا۔اس کے انسو صاف کیے۔۔۔

اب کچھ بھی نہیں ہوگا۔۔۔۔

تم اپنے اس دوست پر یقین کر سکتی ہو۔۔۔۔

تمہیں کبھی مایوس نہیں کرے گا۔۔۔۔۔وہ ائی لو یو کہنا چاہتا تھا۔۔۔

کیسے کہتا۔وہ جانتا تھا کہ وہ یقین نہیں کرے گی۔۔۔۔۔۔۔

ائرہ نے روخ موڑ لیا تھا۔۔۔۔

کیا ہم دوست ہیں اس نے ہاتھ اگے بڑھایا۔۔۔۔۔

ائرہ نے ایک نظر اسے دیکھا۔پھر اس کے ہاتھ کو۔۔۔۔۔

اخل کو لے کر اس کے ذہن میں کئی سوال تھے۔اور سچ یہی تھا کہ اس نے کوئی امید نہیں لگائی تھی اس سے۔اس کے دل میں کوئی فیلنگز بھی نہیں تھی۔ایسی لڑکی جس نے باپ سے دھوکہ کھایا ہو وہ کیسے کسی پہ اعتبار کر سکتی تھی۔لیکن اور اپشن ہی کیا تھا۔اور کوئی بھی نہیں تھا۔۔۔۔۔۔

اور ہاتھ ملائے بغیر اس نے سر ہلایا۔۔۔

اخل اسی پہ خوش تھا کہ چلو اس نے انکار نہیں کیا۔۔۔۔

اس نے ہاتھ کو پیچھے کیا۔۔۔۔

______________

ائرہ نے کافی منہ کے ساتھ لگاتے ہی برا سا منہ بنایا۔۔۔

اخل اپنی ہنسی نہیں روک پایا ۔۔۔۔

ائرہ نے شرمندگی کے مارے کافی کو وہیں رکھ دیا تھا وہ کھانا کھا چکے تھے اب گاڑی میں بیٹھے تھے۔۔۔۔

ائرہ کے دل میں سے ڈر نہیں گیا تھا۔اس کی قربت کا ڈر۔

اس کے ساتھ ایک گھر میں رہنے کا ڈر۔۔۔۔۔

تم پہلی دفعہ پی رہی ہو۔۔۔۔

خود کو تھوڑا سنبھالتے اس نے پوچھا تھا۔اس کی معصومیت پہ فدا ہو چکا تھاوہ

جی۔۔۔۔۔۔۔۔۔سوچوں سے نکلتے ہوئے کہا اس نے۔۔۔۔

اس معصومیت پہ وہ صدقے واری جا رہا تھا۔۔۔۔۔

اس نے سوچا نہیں تھا کہ وہ ایسی لڑکی سے محبت کر بیٹھے گا۔۔۔۔۔۔۔

وہ ابھی اسے دیکھ ہی رہا تھا کہ اس کا موبائل بچنا شروع ہوا ۔۔۔۔۔۔

ملیحہ کی کال تھی۔موبائل گاڑی کے ڈک پہ پڑا تھا تو ائرہ نے بھی دیکھا لیا۔۔۔

وہ باہر کی طرف دیکھنے لگی تھی۔۔

کہ وہ ارام سے کال سن لیں۔۔۔۔۔۔

اخل نے فون کٹ کر دیا۔۔۔۔

ائرہ نے ایک نظر اسے دیکھا پھر موبائل کو۔۔۔

تم کیوں نہیں سن رہے اس نے معصومیت سے پوچھا۔۔۔۔

اسے لگا تھا شاید اس کی وجہ سے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اب اخل اسے کیا ایکسپلین کرے اس کے دماغ میں نہیں ا رہا تھا ۔۔

اٹھاناضروری بھی نہیں اس نے سرسری سا جواب دیا۔

کیوں تم پیار نہیں کرتے کیا۔اس کے سوال نے تو جیسے اس کو پکڑ لیا ہو۔۔۔

م۔۔۔

کیونکہ اگر وہ نہ کہے گا۔تو وہ سمجھ جائے گی کہ وہ نہیں سدھرا۔۔۔۔۔

اور کل رات بھی وہ اس کے ساتھ تھی تو سوال اس کے ذہن میں ا سکتے ہیں۔وہ اگے ڈری ہوئی تھی وہ اور ڈسٹرب کرنا نہیں چاہتا تھا۔۔۔۔۔

ہاں کرتا ہوں۔۔۔۔۔۔۔

بلکہ بہت جلد ہم ایک ہونے والے ہیں۔

یہ اس کے منہ سے اچانک نکلا تھا۔۔۔

لیکن اب وہ اس کو کیسے سنبھالے گا۔وہ نہیں جانتا تھا۔۔۔

ائرہ نے اسے پریشانی میں ڈال دیا تھا۔۔۔

اس نے بھی کافی کو سامنے رکھ دیا تھا۔۔۔

اسے دیکھتے ہوئے اس نے گاڑی کو سٹارٹ کیا۔۔۔۔