Ayra by Aneeta NovelR50474 Ayra Episode 21
No Download Link
Rate this Novel
Ayra Episode 21
Ayra by Aneeta
اخل۔۔ ۔۔۔۔۔
پلیز باہر جاؤ۔۔۔۔
وہ اس کی باتوں کو اگنور کرتا اس کے پاس ا رہا تھا۔اس کا دل تیزی سے دھڑک رہا تھا۔۔۔۔۔
اخل۔۔۔۔۔
پلیز نہیں وہ التجا کرتی نظروں سے اسے دیکھنے لگی۔۔۔۔۔
اچھا یہ لو موبائل اس نے موبائل اگے کیا۔۔۔۔۔۔۔
اخل نے ایک نظر موبائل کو دیکھا پھر اس کی معصومیت پہ ہنسا۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اب موبائل کس کو چاہیے۔۔۔۔
اس نے موبائل اس کے ہاتھ سے لیا۔۔۔۔۔
اور بیڈ پر پھینک دیا۔۔۔۔۔
تم بھی نہ یار ہنستے ہوئے اس نے اپنا ہاتھ پیشانی پہ ٹھکایا تھا۔۔۔۔۔۔۔
وہ قدم در قدم اس کے قریب ا رہا تھا اور ائرہ کے دل کی دھڑکن تیز ہو رہی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اس نے اپنا ایک ہاتھ دیوار پہ رکھا۔۔۔
ائرہ نے نظریں نیچے جھکا لی تھی۔۔۔۔۔۔
ائرہ نے اس کے ارادوں کو باپتے ہوئے اپنا ہاتھ اٹھایا اسے تھپڑ مارنے کے لیے۔۔۔۔۔
اس نے ابھی ہوا میں لہرایا ہی تھا۔۔۔۔۔۔۔
اخل نے ہاتھ کو زور سے تھاما اور دوسرے ہاتھ سے اس سے زوردار تھپڑ دے مارا۔۔۔۔۔۔۔۔
پہلے سیکھ تو لو پھر مارنا۔۔۔۔۔۔۔
ائرہ اسے سمجھ نہیں پا رہی تھی۔۔۔
اس کا ہاتھ ابھی بھی گال پہ تھا۔۔۔۔۔۔۔
تھپڑ بہت زور کا مار تھا اس نے۔۔۔۔۔۔۔
اس کی انکھوں میں انسو آبر آئے تھے ۔۔۔۔۔۔
ایا مزہ۔۔۔۔۔۔
اس کی حالت کا جائزہ لیتے ہوئے اس نے کہا۔۔۔۔۔۔۔
اب کوئی حرکت کی نہ تو اس سے بھی زیادہ زور کا ماروں گا۔۔۔۔۔۔
تم کتنے گھٹیا انسان ہو۔
وہ جو کچھ فیلنگز اس کے دل میں تھی چکنا چور ہو گئی تھی۔
لیکن میں باقیوں جیسی نہیں ہوں یہ یاد رکھنا۔۔۔۔۔
کہ تم کچھ بھی کرو گے اور میں چپ چاپ دیکھوں گی۔
میں بشرا بیگم کو سب بتا دوں سب۔۔۔۔
تھوڑی ہی دیر میں اس نے خود کو سنبھال لیا تھا۔
پھر اس کے سینے پہ ہاتھ رکھتے اس نے اسے دھمکایا۔۔۔۔۔
تو روکا کس نے ہے۔اخل کا رومانس بھی کہیں دور بھاگ گیا تھا۔
وہ بھی اسی کے لہجے میں جواب دے رہا تھا۔۔۔۔..
اس نے ہاتھ پکڑا ہی تھا کہ ائرہ نے زور سے جھٹکا۔۔۔۔۔
اس سے پہلے کہ وہ کوئی جواب دیتا۔۔۔
بشرا بیگم نے زور سے اخل کو پکارا تھا۔۔۔۔۔۔۔
اخل ایک دم سے چونکا موم۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ایک نظر ائرہ کو دیکھنے کے بعد وہ باہر کی طرف بھاگا۔۔۔
بشرا بیگم ٹی وی کے سامنے کھڑی ہو کے زور سے چلا رہی تھی اور رو رہی تھی۔۔۔
موم کیا ہو گیا ہے اپ کو۔۔۔۔۔۔۔
اس نے جلدی سے انہیں ہگ کیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔
لیکن اس نے جیسے ہی ٹی وی کو دیکھا اسے سارے سوالوں کے جواب مل گئے تھے۔۔۔۔۔۔
اخل جس کمبخت نے تمہاری بہن کا قتل کیا تھا وہ پکڑا گیا ہے۔۔۔۔۔۔۔
وہ پکڑا گیا ہے۔۔۔۔۔۔۔
اخری لفظ پہ زور لگایا گیا تھا۔۔۔۔۔۔
ٹی وی پہ ہیڈ لائن چل رہی تھی۔میلان کامران کی بیٹی کو جس نے قتل کیا تھا اسے گرفتار کر لیا گیا تھا۔۔۔۔۔۔
ائرہ جو ابھی ہی ائی تھی اس نے ابھی ٹی وی کو دیکھا جہاں پہ صرف نیوز چل رہی تھی۔۔۔۔۔
لیکن تھوڑی ہی دیر بعد رپورٹرز اس جگہ پہ پہنچ گیا تھا اس قاتل کے پاس۔۔۔۔۔۔
اور وہ دیکھنے کے بعد تو ائرہ جیسے کچھ بولنے کے قابل نہیں تھی۔۔۔۔۔
وہ کوئی اور نہیں تھا اس کا باپ تھا۔۔۔۔۔۔۔
ایمن بھی وہیں پر اگئی تھی۔۔۔۔۔
جس نے کسی کے کہنے پہ یہ قتل کیا تھا۔پیسوں کے لیے۔۔۔
میں اس عدنان (ائرہ کاپاپ) کو اپنے ہاتھوں سے قتل کروں گا۔۔۔
بہت ہی اذیت سے مارا گیا تھا اخل کی بہن کو اس کے بعد ہی تو اس نے لڑکیوں کو ٹشو پیپر کی طرح استعمال کرنا شروع کیا تھا۔۔۔۔
موم پلیز ریلیکس۔۔۔۔۔۔
وہ بھی اس ٹائم شدید غصے میں تھا اس کا خون کھول رہا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔
لیکن بشرا بیگم کے لیے اس نے خود کو ریلیکس رکھا۔۔۔۔۔
جس نے کیا اور جس کے کہنے پہ کیا میں دونوں کے خاندان تباہ کر دوں گا۔۔۔۔۔
دوبارہ کبھی اپنے خاندان میں بیٹی ہونے کی دعا تو کوئی نہیں مانگ پائے گا۔۔۔۔۔۔
عائزہ کے ایک ایک درد کا حساب لوں گا میں ان سے۔۔۔۔۔۔
کچھ اور سننے یا دیکھنے کی ہمت نہیں تھی اس میں وہ انہی قدموں پہ پلٹی اور واپس اپنے کمرے میں اگئی۔۔۔۔۔
یہ کیا کیا بابا اپ نے۔۔۔۔۔۔
یہ مجھے کبھی نہیں بخشے گا۔۔۔۔۔۔
اگر اسے پتہ لگ گیا کہ میں اس کی بیٹی ہوں۔
وہ اتے ہی بیڈ پر بیٹھ گئی تھی۔۔۔۔۔۔
تھپڑ اسے بھول چکا تھا۔اب جو اگے ہونا تھا اسے اس کی فکر تھی۔۔۔۔۔۔
جیسے کیسی یہ رات گزری اخل نے بشرا بیگم کو بہت مشکل سے نارمل کیا تھا۔۔۔۔۔۔
عائزہ بہت ہی لاڈلی تھی سب کی۔۔اس کی قتل کو تین سال گزر گئے تھے لیکن جس پارٹی نے قتل کروایا تھا وہ بہت ہی طاقتور تھی۔اس میں سارے سرخ مٹا دیے تھے۔لیکن میلان کا مران اور اخل اس سے بھی زیادہ طاقتور تھے۔اخل کی محنت رنگ لے ائی تھی۔۔۔۔۔۔
وہ تین دن سے پولیس کی کسٹڈری میں تھا۔لیکن جن کے لیے وہ کام کر رہا تھا وہ اسے منہ بند رکھنے کے اچھے حاصے پیسے دے رہے تھے۔وہ کچھ بھی نہیں بول رہا تھا۔۔۔۔۔۔
اخل جاننا چاہتا تھا اس قاتل کا نام اسے مارنا چاہتا تھا۔۔۔۔
بالکل ایسی اذیت سے۔جس اذیت سے اس کی بہن کو مارا گیا۔۔۔۔۔۔۔
لیکن عدنان بھی اپنے بات پر قائم تھا کیونکہ اس نے باڑی رقم لی تھی اور اسے چپ رہنے کے بھی اچھے حاصے پیسے مل رہے تھے۔۔۔۔
اور وہ اچھے سے جانتا تھا جب تک وہ بتائے گا نہیں اسے پھانسی نہیں ملے گی۔۔۔۔۔۔
___
اس کی فیملی میں سے کسی کو اٹھا کے یہاں لاؤ اخل نے فون کان کے ساتھ لگایا تھا اور کسی کو بتا رہا تھا۔۔۔۔
دو دن میں مجھے یہاں چاہیے اس کی فیملی کا کوئی بندہ۔
یہ منہ ایسے نہیں کھولے گا۔۔۔
لڑکی ہو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اس کی فیملی میں ہے کون تھا ایک علی اور ایک مہرو
ائرہ تو پہلے ہی اس کے پاس تھی۔۔۔۔۔۔
ائرہ اچھے سے جانتی تھی کہ وہ اس کا باپ تھا۔
لیکن وہ بتانا چاہتی تھی لیکن وہ نہیں بتا پائی اس کے ڈر اور غصے کی وجہ سے۔۔۔
صبح کے 12 بج چکے تھے ائر ہ ابھی تک نہیں اٹھی تھی۔
صبح ناشتہ بھی اس نے نہیں کیا تھا۔۔۔۔۔
اب اپنی پرابلمز کو پیچھے رکھ کر اسے اس کی فکر تھی۔
اسے تھپڑ پر بھی پچھتاوا تھا۔۔۔۔۔۔
اس نے موبائل کو صوفے پہ گرایا اور اس کے کمرے کی طرف بڑا۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اٹھنا نہیں اج۔۔۔۔۔۔
اس نے بلینکٹ کو کھینچتے ہوئے کہا لیکن اس نے بلینکٹ کو زور سے پکڑ لیا تھا۔۔۔۔۔
اسے لگا کہ شاید تھپڑ کی وجہ سے۔۔۔۔۔۔
یار اب اتنے بھی زور کا نہیں تھا۔۔۔۔۔
نارمل سا تھپڑ تھا۔۔۔۔۔
چلو اب اٹھ جاؤ ناشتہ کرنا ہے۔۔۔۔۔
مجھے بھوک نہیں ہے میری طبیعت نہیں ہے ٹھیک اس لیے میں سونا چاہتی ہوں۔۔۔۔۔
چلو پھر ساتھ میں سوتے ہیں۔۔۔۔۔۔
میری بھی طبیعت کچھ ٹھیک نہیں۔۔۔
اخل نے بلینکٹ کو پھر سے کھینچنا چاہا۔۔۔۔۔۔
کیا ہوا طبیعت کو ائرہ اس نے بلینکٹ کو پیچھے کیا اور ہاتھ اس کے ماتھے پہ رکھا۔۔۔
اخل وہ تھوڑا پیچھے ہٹی کیونکہ وہ اس کے ساتھ لیٹنے کی۔۔۔۔
جگہ بنا رہا تھا۔۔۔۔۔۔
وہ ایک دم سے اٹھ کر بیٹھ گئی۔۔۔۔۔۔۔
بالکل نارمل ہو چلو اٹھو ڈرامے نہیں۔۔۔۔۔
وہ اسے بس اٹھانا چاہتا تھا۔۔۔
ائرہ کا سانس اوپر نیچے ہو رہا تھا۔اب جا کے کہیں سنبھلا تھا ۔۔۔۔
تمہاری بہن کو کیوں قتل کیا گیا تھا۔وہ سوال جو اس کے ذہن میں گردش کر رہے تھے اس نے پوچھنا مناسب سمجھے۔۔۔۔
اخل نے اسے بتایا کہ بزنس کی وجہ سے۔۔۔۔۔
میں اس کی نسلیں تباہ کر دوں گا۔
پھر وہ چاہے کوئی بھی ہو۔
بچہ برا میں کسی کو نہیں چھوڑوں گا۔۔۔۔۔
عزت کی بھیک مانگے گا یہ مجھ سے۔۔۔۔۔۔
تم اٹھ جاؤ ناشتہ کر لو۔۔۔۔
اس کا غصہ پھر سے رونما ہو چکا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔
اسے مہرو اور علی کی فکر ہو رہی تھی۔
نہیں مجھے سب بتانا چاہیے۔۔۔۔۔
لیکن۔۔۔
وہ اس کے غصے سے ڈر گئی تھی۔۔۔۔۔۔
اج گزرتے گزرتے چار دن گزر گئے تھے۔
ائرہ بتانا چاہتی تھی لیکن بتا نہیں پائی۔۔۔۔۔
_________
ہاں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اخل نے فون کان کے ساتھ لگایا۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تصویر ے بھجی ہے۔دولڑکیاں ہے اور آک لڑکا۔۔۔۔۔
پھوپھو کے پاس ہوتے دو اور اک کا پتہ نہیں۔۔۔
اک لڑکی کو اٹھا لو۔۔۔۔۔۔۔
جب عزت کے لالے پڑے گے خود بولے گا۔۔۔۔
اس نے فون بند کیا ۔۔۔
تو واٹساپ کھولی۔۔۔۔۔۔۔
لڑکے نے اسے تصویریں اور ڈیٹیل بھیجی تھی۔۔
وہ اک دم اٹھا ۔۔۔ائرہ۔۔۔۔۔۔
ائرہ عدنان۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہاتھ کو پیشانی پہ ٹھکایا اس نے۔۔۔۔۔۔
اس نے موبائل کو وہیں پھینکا۔۔۔۔۔
انہیں قدموں پہ پلٹا۔۔۔۔۔۔۔
اس نے ائرہ کا دروازہ زور سے کھولا تھا۔۔۔۔
تم نے مجھے کیوں نہیں بتایا۔
اسے بالوں سے پکڑ کر اپنے قریب کیا۔۔۔۔۔
اس قاتل کی بیٹی ہو۔۔۔۔
جس نے مجھ سے سب کچھ چھین لیا ہمارے خاندان سے۔۔۔۔
اس نے زور کا تھپڑ اس کے منہ پہ مارا وہ بیڈ پہ گری تھی
پھر سے اسے بالوں سے پکڑا۔اور اپنے سامنے کھڑا کیا الٹے ہاتھ کا تھپڑ پھر اسے دے مارا۔۔۔
اپنی بہن کی اواز اس کے کانوں میں گونج رہی تھی۔۔۔۔
کیوں بچایا تمہیں سلطان سے۔۔۔۔
کیسے۔۔۔۔۔۔
اخل۔۔۔۔۔
بشرا بیگم شور سن کر ایک دم سے کمرے میں ائی تھی۔۔۔
یہ تم کیا کر رہے ہو چھوڑو اسے
پیچھے ہٹیں اپ نہیں جانتی کون ہے یہ۔۔۔۔
کون ہے یہ اس کا ہاتھ اس کے بالوں سے چھڑواتے ہوئے پوچھا اور زور سے اخل کو پیچھے کیا۔۔۔۔
یہ عدنان کی بیٹی ہے۔۔۔
بشرا بیگم کو سن کر شوقد لگا تھا۔۔۔۔۔۔پر ایک نظر اسے دیکھا وہ جو مسلسل روئے جا رہی تھی۔۔۔۔۔۔۔
اور پھر ایک زور کا تھپڑ اخل کے منہ پہ دے مارا۔۔۔۔۔۔
تمہیں کس نے سکھایا ہے عورت پہ ہاتھ اٹھانا۔۔۔۔
اخل کو سمجھ نہیں ارہی تھی کہ وہ کیسے اپنی بیٹی کے قاتل کی بیٹی کی وجہ سے تھپڑ مار سکتا سکتی ہے۔۔۔۔
خبردار
۔جو کیا ہے اس کے باپ نے کیا ہے اسے کہو اج یہاں سے چلی جائے۔اتنی سی بات کہہ کے وہ باہر چلی گئی تھی وہ بہت ٹوٹ گئی تھی۔۔۔۔۔
عائزہ کو جس بے دردی سے مارا گیا تھا اب وہ کسی اور کی بیٹی کے ساتھ وہ سب کچھ نہیں دیکھ سکتی تھی۔۔
اتنی اسانی سے تو کہیں نہیں جانے دوں گا۔۔۔۔
اسے سمجھ نہیں ارہی تھی وہ کیا کرے۔۔۔۔۔۔
تم جانتے ہو انہوں نے میرا بھی سودا کر دیا تھا
اگر انہوں نے ایسا کیا ہے تو میں نہیں جانتی۔نہ ہی میرے چھوٹے بہن بھائی۔
لیکن یہ تو پہلے دن سے جانتی تھی نا کہ تم اس کی بیٹی ہو۔۔۔
جانتی ہو کتنی شدت سے انتظار کیا ہے تمہارا۔
اب اتنی اسانی سے بخشنے والا نہیں ہوں میں۔۔۔
تمہارا وہ پیار وہ کپکپاتے لبوں کے ساتھ بولی تھی۔۔۔۔
نفرت کرتا ہوں تم سے نفرت۔۔۔۔۔۔
کچھ نہیں سننا مجھے چپ کر جاؤ
اس نے موبائل کان کے ساتھ لگایا تھا۔۔۔۔۔۔
ہاں چابیاں تمہارے پاس ہے اسے کھول دوں میں ا رہا ہوں۔
اس نے یہ کہتے ہیں فون بند کیا اور پھر سے اسے جکڑا۔۔۔۔۔۔
مجھے یا میرے بہن بھائیوں کو تکلیف پہنچانے سے اس کا کیا جائے گا۔۔۔۔۔
اسے اپنی فکر کم اور محرواور علی کی فکر زیادہ تھی۔۔۔۔
اس کا تو پتہ نہیں پر میرے دل کو بہت سکون ملے گا۔۔
اس نے ائرہ کو بالوں سے دبوچا اور باہر کی طرف لے ایا۔۔۔۔
وہ اسے کھینچنے کے انداز میں گاڑی تک لے کر ایا اور پھر گاڑی میں بٹھایا۔۔۔۔
ائرہ نے پہلے اپنے باپ سے دھوکہ کھایا تھا اور اب اخل سے سبھی مرد ایک جیسے ہوتے ہیں۔محبت تو بس عورت کرتی ہے۔وہ انہی باتوں کو ذہن میں نقش کیے چپ چاپ پچھلی سیٹ پر بیٹھی رو رہی تھی۔
لیکن پتہ نہیں اسے کیوں امید تھی کہ وہ کچھ زیادہ برا نہیں کرے گا۔۔۔۔۔
______
اسد بہت ہی بے چین تھا۔۔۔۔۔۔
کل کے میسج کے بعد وہ غائب ہو گئی تھی۔۔۔۔
ہمت کر کے وہ پھر سے گھر ایا تھا۔۔۔۔۔
اگے ایمن تھی۔۔۔۔۔۔۔
وہ ایک قاتل کی بیٹی ہے اور اپنے اصل ٹھکاننے پہ ہوگی جہاں بھی ہوگی۔۔۔۔۔
ایمن نے اسے منہ پر جواب دیا۔۔۔۔۔
اسے سمجھ نہیں ا رہا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔
جو نیوز چینلز پہ نیوز چل رہی تھی وہ اچھے سے سمجھ گیا تھا۔۔۔۔۔
ائرہ۔۔۔۔۔۔۔
کیا ائرہ کے باپ نے ان کی بیٹی کو قتل کیا تھا۔۔
وہ یقینا کسی مشکل میں ہوگی۔۔۔۔۔۔
وہ بے بس تھا وہ نہیں جانتا تھا اسے کیا کرنا ہے۔۔۔۔۔
_____&
تھوڑی دیر بعد ایک ویران سی جگہ پہ لے کر ایا جہاں پہ ایک چھوٹا سا گھر تھا۔۔۔۔
یہ ابادی سے بہت دور تھا۔۔۔۔۔
اس کا دل تیزی سے دھڑک رہا تھا۔۔۔۔
اخل غصے سے پہلے خود گاڑی سے باہر نکلا۔۔۔۔
پھر اسے نکالا۔۔۔۔۔۔۔۔
ساری زندگی یہیں سڑو گی تم۔۔۔۔۔
بہت جلد تمہارے باپ کو بھی یہیں لے کر اؤں گا۔۔۔۔
پتہ نہیں اپنی بہن سے نظریں کیسے ملا پاؤں گا۔۔۔۔
تم اپنے بالکل ایگزیکٹ جگہ پر جا رہی تھی۔
تم جیسی لڑکیاں سلطان کے پاس ہی سوٹ کرتی ہو۔۔۔۔۔۔۔
وہ بولتے بولتے چپ ہوا تھا۔۔۔۔۔
اور پھر بازو سے گھسیتےاسے اندر لے کر ایا۔۔۔۔۔۔۔
اسے زور سے بیڈ پہ گرایا تھا اس نے۔۔۔۔۔۔۔
اس نے باہر سے دروازہ بند کیا اور باہر اگیا۔۔۔۔
یہ کیا کر رہا ہے تو اخل ائرہ ہے وہ جیسے خود کو سمجھانا چاہتا تھا۔۔۔۔۔۔
لیکن پھر اس اگ کا کیا کرے وہ جو اندر لگی تھی۔۔۔۔
اس نے ایک لمبی سانس لی۔۔
ائرہ جیسے ایک دم سے اسمان سے زمین پر گری ہو۔۔۔۔۔۔
اور اس کے لیے سب کچھ ختم ہو گیا تھا۔۔۔
اخل نے اعتبار کرچی کرچی کر دیا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔
سب کچھ بکھر رہا تھا۔۔۔۔۔۔۔
لیکن وہ سمجھ نہیں پا رہی تھی کہ اس کے ضمیر فرموش باپ پہ ان سب کا کیا اثر پڑے گا ۔۔۔۔
اخل تو اچھے سے جانتا تھا کہ وہ کیسا ہے۔
پھر۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ منہ کیوں نہیں کھول رہا۔۔۔۔۔۔۔
شام کا وقت تھا جب اخل فون کان کے ساتھ لگا ئے چلا رہا تھا عدنان ابھی تک نہیں بتا رہا تھا اس بندے کا نام جس کے کہنے پہ اس نے اخل قتل کیا تھا۔۔۔۔۔
اس نے فون کو ایک طرف پھینکا اور پھر ائرہ کے کمرے کی طرف گیا۔۔۔۔۔
وہ غصے سے پاگل تھا یہ صدمہ بہت بڑا تھا اس کے لیے پتہ نہیں کیسے مشکل سے اس میں سے نکلا تھا۔لیکن ابھی جیسے زخم پھر سے تازہ ہو گئے ہوں ۔۔۔۔
وہ جو بیڈ پہ آندھی لیٹی تھی۔۔۔۔۔۔۔
اخل نے پھر سے اچانک اسے بالوں سے پکڑا اور کھڑا کیا۔۔۔۔۔
تو اس کی بیٹی ہے۔۔۔۔
جس نے ہماری دنیا اجاڑ دی تھی۔۔۔
تیرے باپ کی وجہ سے میری معصوم بہن نے پتہ نہیں کیا کیا برداشت کیا ہوگا۔۔۔۔۔
تمہیں بھی وہی زبردست کرنا چاہیے وہی سب اخل نے اسے ایک زور کا تھپر اس کے منہ پہ مار ا۔۔۔۔۔۔۔۔
اس کی عزت کے ساتھ کھیلے وہ کتے۔۔۔۔۔۔۔۔
تجھے بھی میں کہیں منہ دکھانے کے قابل نہیں چھوڑوں گا۔
اتنی اسانی سے موت نصیب نہیں ہوگی تمہیں۔۔۔۔
اخل۔۔۔۔۔۔۔۔
نہیں۔۔۔۔۔۔
پلیز۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تو پھر اپنے باپ کو بول اس کا نام بتائے۔۔۔۔
جتنا پیسہ بولے گا میں دوں گا۔۔۔۔۔۔۔
میری بات نہیں مانے گا وہ وہ کیسے مانے گا وہ زور سے چلائی تھی ۔۔۔
مجھے جان سے مار کے اپنی بہن کا بدلہ پورا کر لو۔۔۔۔۔۔۔
_____
24 گھنٹے سے وہ یہاں تھی۔
زخموں سے چکنا چور تھی وہ
اس نے اخل سے نہ جانے کتنی دفعہ پانی مانگا تھا اس نے۔۔
اخل نے اس کے سامنے پانی زمین پر گرا دیا تھا۔۔۔۔۔۔۔
وہ بھوکی پیاسی اب سو گئی تھی یا پھر بے ہوش ہو گئی تھی۔۔۔۔۔۔
اخل اس کے زخموں سے چو رچہرے کو دیکھ کر اندر سے شرمندہ ہو رہا تھا۔۔۔۔۔
وقفے وقفے سے اس نے اسے کتنا ٹارچر کیا تھا۔۔۔۔۔
وہ بالکل اس کے پاس بیٹھا تھا۔۔۔۔۔
وہ بھوکی پیاسی سوئی ہوئی تھی اس کے اٹھنے کے انتظار میں۔۔۔۔۔
ایک نظر پانی کو دیکھتا پھر اس کے ذہن میں ائرہ گھومتی وہ جب اس سے پانی پینے کے لیے مانگ رہے تھی۔۔۔۔۔۔
لیکن اب برداشت سے باہر تھی بات ۔۔۔۔
اسے ترسں ا رہا تھا اس پر۔۔۔۔۔۔
اخل نےگلاس میں پانی ڈالا اس کی گردن کو تھرو اوپر اٹھایا۔۔۔۔۔۔
ائرہ اس نے اس کے لبوں کے ساتھ پانی لگایا۔۔۔۔
لیکن وہ بے ہوش تھی۔۔۔۔
ائرہ پانی پی لو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اس کے لب تھرتھرا رہے تھے۔۔۔۔۔۔۔
اخل کا بس نہیں چل رہا تھا کہ کسی طرح وہ سارا پانی اس کے اندر اتار دے۔۔۔۔۔۔
ائرہ تھوڑی ہمت کرو پی لو۔۔۔۔۔۔۔۔
ائرہ کی انکھیں ایک دم سے کھلی تھی۔۔۔۔۔۔
اخل نے پانی کے گلاس کو ایک دم سے ٹیبل پر رکھ دیا۔۔۔۔
اخل۔۔۔۔۔۔۔۔
۔ائرہ مشکل سے بول پائی تھی وہ سنتے ہی کمرے سے باہر گیا اور دروازے کو پھر سے بند کر دیا۔۔۔۔۔
اخل نے اسے اتنا مارا تھا اس میں ہمت نہیں تھی لیکن وہ پانی پینا چاہتی تھی۔
اس نے بہت کوشش کی لیکن وہ گلاس تک نہیں پہنچ پائی اور تھک ہار کے وہ پھر سے سو گئی۔۔۔۔۔۔
وہ سرگٹ کے کش لگانے کے بعد کمرے میں ایا تھا۔۔۔۔۔
اتے ہی اس کی نظر اس پانی کے گلاس پر پڑی اسے لگا وہ پی چکی ہوگی۔۔۔۔۔
پر وہ ویسے کے ویسے بڑا ہوا تھا وہ پھر سے اندر سے کڑونے لگا تھا۔۔۔۔۔
وہ قدم اٹھاتا اس کے پاس ایا۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اس کے بالوں کو پیچھے کیا چہرہ زخموں سے چور چور تھا۔۔۔
ائرہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
چلو اٹھو۔۔۔۔۔۔۔۔
یہ پانی پی لو میں کھانا لے کر اتا ہوں۔۔۔۔۔۔
اسے سہارے کی ضرورت تھی پانی پینے کے لیے۔۔۔۔۔۔۔
وہ ہمت کر کے اٹھی اس نے پانی کا گلاس منہ کے ساتھ لگایا ہی تھا۔
کے اخل کے ذہن میں پھر سے اس کی بہن کی چیخیں گونجنے لگی تھی۔۔۔۔
اس نے اگلے ہی لمحے گلاس کو زمین پر گرایا۔۔۔۔۔۔
تم اس قابل نہیں ہو کے ترس کھایا جائے تم پر۔۔۔۔۔
اس نے ہاتھ ہوا میں لہرایا تھا اسے مارنے کے لیے لیکن وہ اگے ہی زحموں سے چور تھی اس نے پھر سے اسے پیچھے کھینچا اور اٹھ کر دوسری طرف اگیا۔۔۔۔۔۔۔۔
محبت اور انتقام کے بیچ میں وہ پھنس گیا تھا۔
ایک طرف ائرہ تھی دوسری طرف اس کی بہن۔۔۔۔۔۔
وہ اگر اسے بخشے تو اپنی بہن کا مجرم بنے۔
یہی بات اسے مجبور کرتی تھی اسے تکلیف پہنچانے پہ۔۔۔۔
پر کہیں اس کی حالت دیکھ کر اسے ترس بھی ا رہا تھا۔
وہ کیا کرے اس کی سمجھ سے باہر تھا۔۔۔۔۔۔۔
____
یہ ابھی تک نہیں ایا۔
بشرا بیگم کو فکر تھی۔
انہوں نے پریشانی کے عالم میں ایمن سے پوچھا جو نوح تراش رہی تھی۔
نہیں اس کو چھوڑنے گیا تھا ابھی تک نہیں ایا۔
اپ بھی کتنی بولی ہیں انٹی۔
اس کے باپ نے قتل کیا تھا عائزہ کا۔
اپ ایسے کیسے اسے جانے دے سکتی ہیں۔
قتل اس کے باپ نے کیا تھا اس نے نہیں۔
اور خبردار یہاں پہ جو بھی ہوا وہ پاکستان پہنچا۔
ان باتوں کو دل میں دفن کر لو۔
انہیں ڈر تھا کہ کہیں اخل کچھ برا نہ کر دے اس کے ساتھ۔
