Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Ayra Episode 25

Ayra by Aneeta

ائرہ سمندر کے ساحل پہ کھڑی تھی۔۔۔۔

ائرہ تمہیں بہت پہلے ہی خود کو سمندر کے حوالے کر دینا چاہیے تھا۔نہ کبھی تم اس سے ملتی۔اور نہ ہی یہ سب ہوتا۔

تمہیں دنیا جیسا عذاب اور نی جھیلنا پڑتا۔۔۔۔۔

اس نے قدم اٹھا کر اگے رکھا ہی تھا۔۔۔

اب یہی اخری راستہ تھا۔۔۔۔۔۔

کہ اخل نے اسے بازو سے پکڑ کر پیچھے کھینچا اس کے سینے کے ساتھ ٹکر ائی تھی وہ۔۔۔۔۔

بوجل انکھوں سے دیکھا اسے۔۔۔۔۔۔

کیا کر رہی ہو یہ تم پاگل ہو گئی ہو۔لہجے میں انتہا کا غصہ تھا۔۔۔۔

ہاں میں مرنا چاہتی ہوں اب جینے کے لیے بچا ہی کیا ہے تم نے میرے پاس چھوڑا ہے کیا ہے۔۔۔۔

سبھی کچھ تو چھین لیا مجھ سے۔۔۔۔

جینے کی وجہ کوئی بھی نہیں ہے۔۔۔

اور تمہارے ساتھ تو ایک منٹ بھی نہیں رہ سکتی۔۔

قتل ہو تم میری خوشیوں کے۔۔۔۔۔

ائرہ۔۔۔۔۔

سوری۔۔۔۔۔

مشکل سے بول پایا تھا وہ۔۔۔۔۔

سوری۔اس لفظ کا مطلب بھی جانتے ہو تم۔۔

اور تمہارے ایک سوری سے سب ٹھیک ہو جائے گا میرے زخم بھر جائیں گے۔۔۔۔۔

میرے باپ نے تمہاری بہن کا قتل کیا تھا۔

اس میں میرا کیا قصور تھا وہ چیخی تھی۔۔۔۔

بتاؤ۔۔اخل۔۔۔۔

کوئی جواب نہیں ہے تمہارے پاس اس کے پاس سچ میں جواب نہیں تھا یہ اس نے کیا کیا تھا۔۔۔۔

چھورو۔۔۔۔

اس نے بازو کو اس کی گرفت سے ازاد کروانا چاہا لیکن اس کی گرفت مضبوط تھی۔۔۔۔

اوکے ریلکس میری بات سنو۔۔۔۔

وہ بھی اچھے سے جانتا تھا کہ وہ کسی صورت بھی اسے قبول نہیں کرے گی۔۔۔

پر کسی صورت بھی اسے کھونا نہیں چاہتا تھا۔۔۔۔۔

میں تمہیں چھوڑ دوں گا۔

ائی پرومس ۔۔۔۔۔

جس دن مجھے احساس ہوا کہ اب تم اکیلے رہ سکتی ہو خود کو سنبھال سکتی ہو۔یہ تمہاری حفاظت کرنے والا کوئی تمہاری زندگی میں اگیا ہے۔میں اسی دن تمہیں چھوڑ دوں گا۔میں جانتا ہوں میں جو کر چکا ہوں وہ نہ ہی تو معافی کے قابل ہے اور نہ ہی تم کبھی میرے ساتھ رہ سکو گی۔

اور تمہیں لگتا ہے میں تمہاری باتوں پہ یقین کر لوں گی۔۔۔۔

اگر نہیں یقین کرو گی تو کہاں جاؤ گی بتاؤ اس گھر جہاں سے تمہیں نکال دیا گیا۔۔۔

میں نے نکاح صرف تمہاری حفاظت کے لیے کیا ہے۔۔۔

مجھے کچھ نہیں چاہیے۔۔۔

حفاظت وہ روتے ہوئے ہنسی تھی۔۔۔۔

خود تو جو تم نے کیا وہ کیا اوروں کو بھی مجھ پہ ظلم کرنے دیا۔

اس وقت یہ حفاظت کہاں تھی۔

ائرہ وہ چیخا تھا جیسے پھر سے وہ منظر انکھوں کے سامنے اگئے۔۔۔۔۔

میرے ساتھ چلو پلیز۔۔۔۔

مجھے نہیں جانا ۔۔۔۔۔

نہیں ۔۔۔۔۔۔۔

ائرہ ۔۔۔۔۔۔

پلیز ۔۔۔۔۔

ابھی کے لیے چلو۔۔۔۔

وہ اچھے سے جانتا تھا اب اس کے دل میں جگہ بنانا ممکن نہیں ہے۔۔۔۔

پر وہ اس کو دنیا کے رحم و کرم پر بھی نہیں چھوڑ سکتا تھا۔

ائرہ کے پاس کوئی اور اپشن بھی نہیں تھا لیکن اس کے ساتھ بھی نہیں جانا چاہتی تھی۔۔

اس نے پھر سے دوسری طرف بھاگنا چاہا لیکن اس نے اسے کمر سے زور سے پکڑا اور اٹھا کر گاڑی میں لے کر ایا۔۔۔۔

زبردستی اسے گاڑی میں بٹھا کر اس نے دروازہ بند کیا۔۔۔۔

بہت احتجاج کے بعد اس نے اسے اس بات پہ ایگری کیا تھا۔

کہ وہ اس سے کبھی بھی بیویوں والی ڈیمانڈز نہیں کرے گا۔

اور وقت انے پر اسے ڈیورس دے دے گا۔

اور وہ اسے اپنی فیملی کے ساتھ رکھے گا۔

ائرہ کو اس کی کسی بات کا یقین نہیں تھا۔۔۔۔

یہ لے جانا تمہیں بہت مہنگا پڑے گا۔مسٹر اخل میلان۔۔۔۔

تمہارے پورے خاندان کو بدلہ چکانا پڑے گا میری خوشیوں کا میرے بھائی بہنوں کا۔۔۔۔

اس بار تمہاری گیم تم پر ہی الٹی کروں گی میں۔۔۔

اس کی انکھ میں انسو تھے پر وہ غصے سے اس کی طرف دیکھ رہی تھی۔۔۔۔۔۔

وہ بدلہ لینا چاہتی تھی اپنے بہن بھائیوں کو اپنی خوشیوں کا۔۔۔۔۔۔۔۔۔

میں ہر ممکن کوشش کروں گا تمہارے دل میں اپنی جگہ بنانے کی۔میں اس بار تمہیں خود سے جدا نہیں کروں گا۔

یہ دو سال میں نے کیسی اذیت میں گزارے تم نہیں جانتی ا ئرہ۔میں پل پل ترپا ہوں تمہارے لیے۔۔۔۔۔۔

وہ بھی اس کی طرف دیکھتے ہوئے سوچ رہا تھا۔ائرہ نے غصے سے اپنا رخ بدلا تو اس نے بھی دھیان روڈ پہ کیا۔۔

تھوڑی ہی دیر میں وہ دونوں اخل کے گھر پہنچ چکے تھے۔۔

اخل بشرا بیگم کو پہلے ہی بتا چکا تھا کہ وہ ائرہ سے نکاح کر چکا ہے۔۔۔۔

خوش امدید۔۔۔۔

بشرا بیگم نے اگے بڑھ کر ائرہ کو گلے سے لگایا۔۔۔۔۔

میلان کمران اس شادی سے خاص خوش نہیں تھے۔۔۔

وہ کھڑے تھے کے ائرہ انہیں جھک کر سلام کرے گی۔۔

پرائرہ ٹس سے مس نہ ہوئی۔۔۔

شادی کرنے سے پہلے اسے کوئی تو ڑ طریقے تو سکھا دیتے۔۔

کہ بڑوں کو سلام کیا جاتا ہے۔۔۔۔۔

ائرہ پر پھر بھی کوئی اثر نہیں ہوا تھا۔۔۔۔

اخل نے اسے بازو سے پکڑا اور اپنے ساتھ کمرے کی طرف لے ایا۔۔۔۔۔

مبارک ہو بیگم جیسا بدتمیز بیٹا تھا نا ویسے ہی بہو ملی ہے۔۔۔۔

قاتل کی بیٹی کو ویا کر گھر لے ایا ہے۔۔۔۔

جب جب اسے دیکھوں گا اپنی بیٹی کا چہرہ نظروں میں ائے گا۔۔۔۔

کیا پہلے کم ظلم کر چکی ہیں اس بیچاری پر۔۔۔۔

خدا کا واسطہ ہے خدا کا واسطہ ہے۔۔۔

بشرا بیگم نے ہاتھ جوڑے تھے اب سکون سے رہنے دے۔۔۔۔

____

بابا کو سلام کرنا تھا نا۔کمرے میں اتے ہی اخل نے شکایت کی۔۔۔۔

میری جوتی سلام کرتی ہے۔۔۔

ائرہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔تھوڑا غصے سے پکار تھا اس نے۔۔۔۔

اب دیکھو میں کرتی کیا ہو تم لوگوں کے ساتھ اس نے دل میں کہا ۔۔۔۔

میں اس کمرے میں نہیں رہوں گی تمہارا سا تھ۔۔۔

تمہیں اسی کمرے میں رہنا ہوگا میرے ساتھ۔۔۔

میری فیملی یہاں پہ کوئی تماشہ نہیں ہوگا۔۔۔۔

میں سب کو بتا چکا ہوں کہ تم میرے نکاح میں ہو بیوی ہو میری۔۔۔۔

میں نہیں رہوں گی تو نہیں رہوں گی۔۔۔۔۔

ائرہ میں اپنی بات سے نہیں منکر رہا میں نے کہا نا وقت انے پہ میں تمہیں ازاد کر دوں گا۔۔۔

اس رشتے سے۔۔۔۔۔

لیکن ابھی کے لیے تمہیں یہیں رہنا ہوگا۔۔۔۔

میں تمہیں ہاتھ نہیں لگاؤں گا۔۔۔۔۔۔۔

اسے سر سے لے کے پاؤں تک دیکھتے ہوئے اس نے کہا تھا۔۔

مجھے تم پر بھروسہ نہیں ہے بالکل بھی نہیں ہے۔۔۔۔

ائرہ کی بات سے وہ خفا ہوا۔۔۔۔۔

وہ غصے سے باتھ روم میں چلا گیا تھا۔۔۔۔

______

بشرا بیگم نے اسے کچھ کپڑے دیے تھے جو اس نے تبدیل کر لیے تھے۔۔۔۔

__

پتہ نہیں ائرہ کیسی ہوگی۔۔۔

اماں جیسے بھی ہوگی نا کم از کم میری طرح بھوک ہی نہیں مر رہی ہوگی۔

خدا کا واسطہ ہے۔کچھ کھانے کو دے دیں وہ خود تو ملکہ محلوں میں راج کر رہی ہے اور ہمارے گھر کو سوگ نامہ بنایا ہوا ہے۔۔۔

یہ تمہاری وجہ سے ہوا ہے۔۔

اس معصوم کی زندگی تباہ کر دی تم نے اگے اسے کون سا سکون تھا۔۔۔۔

اس کی آ لے ڈوبے گی تمہیں۔۔۔۔۔

بلکہ اس پورے گھر کو خالدہ بیگم نے روتے ہوئے کہا تھا۔۔۔

میری معصوم بچی۔۔۔۔۔۔۔۔

او خود ہی کچھ بنانا پڑے گا وہ اٹھ کر کچن کی طرف گئی۔۔

_____

پلان کے مطابق ائرہ گھر میں گھومنے لگی تھی۔۔۔۔

ان کے ہنستے ہنساتے چہرے ائرہ کے زخموں پہ نمک چھیڑ رہے تھے۔کیسے یہ ایک خاندان کو ختم کر کے ایسے خوش رہ سکتے ہیں۔۔۔۔

ان کی دشمنی میں اس نے اپنے بہن بھائیوں کو کھویا تھا باپ کو کھونے کا اسے کوئی غم نہیں تھا۔کیونکہ اس کے ہوتے ہوئے بھی اس نے یتیموں والی زندگی گزاری تھی۔۔۔۔

وہ یہی سوچتے ہوئے ٹہل رہی تھی۔۔۔۔۔۔

یہ فائل بہت امپورٹنٹ ہے تم خود دے کر انا۔اخل سر کو بڑے سر کا حکم ہے۔ایک ملازم نے فائل دوسرے ملازم کو دیتے ہوئے کہا تھا اور اسے تنقید کرتے وہ نیچے چلا گیی۔۔۔

اخل کا کمرہ اوپر تھا۔۔۔۔۔

ایرہ کے کان میں بات بڑھتے ہی وہ ان دونوں کی طرف ائی۔۔۔۔۔۔

میں فائل لے جاتی ہوں۔۔۔۔۔۔۔

نہیں بی بی جی ہم لے جائیں گے۔۔۔۔۔

میلان سر نے حکم دیا ہے کہ خود لے جائے۔۔۔

میں بیوی ہوں اس کی اس گھر کا فرد ہوں اب دو اس نے ہاتھ سے فائل کھینچی۔۔۔۔۔

انکھیں دکھاتی وہ کمرے کی طرف ائی۔ لیکن اس نے فائل کو پیچھے کر لیا تھا پہلے یہ دیکھا کہ وہ کمرے میں ہے یا نہیں۔۔۔۔۔۔

کمرے میں نہیں تھا۔۔۔۔۔۔

اس نے دراز سے لیٹر اٹھایا فائل کو جلا دی۔۔۔۔

شام کے کھانے میں سبھی لوگ موجود تھے۔۔۔۔

اخل بیٹا تم نے دیکھ لی فائل وہ۔۔۔۔۔

کون سی فائل بابا مجھے تو کوئی فائل نہیں ملی۔ائرہ کو کھانا پڑوستے اس نے جواب دیا تھا۔۔۔۔۔

کلثوم میلان کامران نے پکارا۔۔۔۔۔۔

جی برے صاحب۔۔۔۔۔

فائل کہاں ہے۔۔۔۔۔

ائرہ کے ہاتھ کانپنے لگے تو اس نے ٹیبل سے اٹھا کر اپنی گود میں رکھ لیے۔۔۔۔

اس نے زندگی میں پہلی دفعہ کوئی ایسا کام کیا تھا۔۔۔۔

میں نے کہا تھا نا وہ بہت امپورٹنٹ ہے اس کے ہاتھ میں دینا۔۔۔

وہ تو میں نے چھوٹی بیوی کو دے دی تھی۔۔۔۔

چھوٹی بی بی۔۔۔۔میلان کامران نے غصے سے کہا۔۔۔۔

پھر ائرہ کی طرف دیکھا۔۔۔

مجھے کسی نے کوئی فائل نہیں دی۔ان کے دیکھتے ہی ائرہ نے جواب دیا۔۔۔۔۔

اخل نے اس کا جواب سننے کے بعد کلثوم کو دیکھا وہ جانتا تھا وہ جھوٹ نہیں بول رہی ہوگی۔۔۔۔

نہیں بی بی جی اپ نے لی تھی کہ اپ خود دیں گے۔۔۔

میں کیوں لوں گی میں نے نہیں لی اس نے نظروں کو نیچے کر لیا تھا۔۔۔

کہا ہے فائل۔۔۔۔۔

میلان نے غصے سے پوچھا۔۔۔۔۔

بابا۔۔۔۔۔

اخل بھی انہی کے لہجے میں بولا تھا۔۔۔۔

وہ کہہ رہی ہے نا نہیں ہے تو اس کا مطلب نہیں ہے۔۔۔

یہی کہیں ہو گی۔۔۔۔

فلحال کھانا کھانے کی اجازت ہے۔

اس سے غصہ ایا تھا کہ انہوں نے غصے سے ائرہ کو پکارا۔۔۔۔

______

رات کو وہ پہلے ہی لیٹ گئی تھی وہ کمرے میں ایا۔۔۔۔

اپنی واچ اتار کر سائیڈ ٹیبل پر رکھی۔۔۔۔۔۔۔

استین کے بٹن کھولتے ہوئے ایک دفعہ پھر اسے دیکھا۔۔۔۔۔

تم یہاں کہاں سو رہے ہو۔۔۔۔۔۔

ائرہ نے سنجیدگی سے پوچھا اور اٹھ کر بیٹھ گئی۔۔۔۔

کیا مطلب ہے کہاں سو رہا ہوں اپنے بیڈ پہ سو رہا ہوں۔۔۔

اوکے۔۔۔۔

ائرہ نے اتنی سے بات کہی اور اٹھ کر صوفے پر اگئی۔۔۔۔۔

ائرہ چپ چاپ یہاں آؤ ۔۔۔۔۔

اگر تم وہاں سو رہے ہو تو میں یہیں سوؤں گی۔۔

اور تم تو ابھی سے اپنے بات سے منکر رہے ہو اگے کا کیا کرو گے۔۔۔

ائرہ چاہتی تو یہاں سے جا سکتی تھی لیکن وہ بدلہ لینا چاہتی تھی اب۔اور وہ یہ بھی اچھے سے جانتی تھی کہ اس کے پاس رہنے کے لیے کوئی جگہ نہیں ہے۔۔۔۔

لیکن مجھے دکھ نہیں ہے میں پہلے سے یوز ٹو ہو گئی ہوں۔۔۔

بلکہ بہت زیادہ ہو گئی ہوں اس نے غصے سے کہا اور اپنے ٹانگیں صوفے پہ سیدھی کی اور لیٹ گئی۔۔۔۔

اخل نے پہلے تسلی سے بازو فولڈ کیے۔۔۔۔۔۔

پھر اس کی طرف ایا۔۔۔۔۔

اٹھ کر وہاں پہ اؤ ورنہ میں اٹھا کے لے کے جاؤں گا۔۔۔۔۔

مجھے ہاتھ لگانے کی ہمت مت کرنا ورنہ اچھا نہیں ہوگا۔۔۔

اس کا جملہ بھی انکمپلیٹ تھا۔کہ اخل نے اسے بازوں میں اٹھا لیا۔۔۔۔۔۔۔۔

اخل۔۔۔۔۔۔۔

اور تم نے جھوٹ بولنا کب سے شروع کر دیا ہے۔۔۔۔۔

اور فائل کیوں جلائی۔۔۔۔۔۔

وہ جو پہلے احتجاج کر رہی تھی ابھی ایک دم سے رکی۔۔۔

کا کیا۔۔۔۔۔۔

کیا مطلب ہے تمہارا میں کیوں فائل جلاؤں گی۔۔۔

اخل نے اسے بیڈ پہ لٹایا۔۔۔۔۔

یہی تو مجھے سمجھ نہیں ارہی کہ کیوں چلائی تم نے۔۔۔۔

اس نے فائل کے کچھ ٹکڑے ڈسٹربین سے اٹھا کر اس کے سامنے لہرائے۔۔۔۔

مجھ پہ الزام لگانے کی ضرورت نہیں ہے۔۔۔۔۔۔۔

کب دو کے ڈیورس مجھے۔۔۔۔۔

کبھی نہیں۔۔۔۔۔

تو وہ باتیں صرف باتیں تھی۔۔

وہ اپنی سائیڈ پہ ا گیا تھا اس نے سائیڈ سے لیپ ٹاپ اٹھایا اور اسے کھولا۔۔۔۔

تمہارا کارنامہ مجھے سیدھا کرنا ہے مجھے یہ فائل دوبارہ سے بنانی پڑے گی اب اچھا ہوگا کہ چپ کر کے سو جاؤ تم۔۔۔

تاکہ میں ارام سے کام کر سکوں۔۔۔۔۔۔

ائرہ حیران تھی کہ وہ کب سے کام کو لے کر اتنا سیریس ہو گیا۔۔۔۔۔۔۔

میں نے کچھ نہیں کیا۔۔۔۔۔۔۔

اخل نے سائیڈ سے اپنا موبائل اٹھایا۔۔۔۔۔

سی سی ٹی وی فوٹیج کی ویڈیو نکال کر اس کے ہاتھ میں تھمائی۔

شرمندگی کے مارے انکھوں کو بند کیا۔اس نے پھر اپنا رخ بدل لیا۔۔۔۔۔۔

یہ پہلی اور اخری غلطی تھی۔۔۔۔۔۔

اخل نے موبائل کو سائیڈ پہ رکھا۔۔۔۔

جو نقصان میں کر چکا ہوں یہ اس سے بڑا نہیں ہے۔

اس نے دل میں کہا تھا۔

محبت اعتبار سب کھو چکا ہوں میں۔

اجنبی نظروں سے دیکھنا تمہیں ائرہ بہت مشکل ہے بہت مشکل ہے۔۔۔۔۔۔۔۔

__

صبح کڑنے کمرے میں پڑھتے ہی اخل کی انکھ کھلی اس کی انکھ کھلتے ہی ائرہ کی بھی انکھ کھل گئی تھی۔۔۔۔

رات کو وہ دونوں سوئے تو اپنی اپنی سائیڈ پہ تھے لیکن اب دونوں ہی مڈ میں تھے۔۔۔

گڈ مارننگ یہ کہتے ہی اخل اٹھا تھا۔۔۔۔۔۔

وہ اس کی طرف جھکا۔۔۔

اور اس کی طرف دیکھنے لگا تھا۔۔۔۔۔۔

ایسے کیا گھور رہے ہو اب جاؤ اٹھ جاؤ۔۔۔۔۔

اخل ہنسا تھا۔۔۔۔۔۔

اٹھ جاتا ضرور اٹھ جاتا اگر تم نے میرے ہاتھ کو اتنی مضبوطی سے نہ پکڑا ہوتا۔۔۔۔۔۔

اخل نے بلینکٹ اتارااور اس کا دھیان اپنے ہاتھ کی طرف کیا۔۔۔۔ ائرہ نے بھی ابھی ہی نوٹس کیا اس نے اخل کا ایک ہاتھ اپنے دونوں ہاتھوں سے مضبوطی سے پکڑا ہوا تھا۔۔۔۔

اس نے ایک دم سے چھوڑا اور تھوڑا فاصلے پر ہو گئی تھی۔۔۔۔۔۔

وہ اندازہ لگا سکتا تھا کہ وہ اچھی خاصی شرمندہ ہوئی تھی۔۔۔

اس کی باتیں اور پھر یہ حرکت۔وہ اچھے سے جانتا تھا کہ اس نے نیند میں پکڑا تھا۔۔۔۔

اوکے ریلیکس ہو جاؤ اس نے شوز پہنتے ہوئے کہا۔۔۔۔

شوہر ہوں تمہارا پکڑ سکتی ہو۔۔۔۔۔۔۔

شٹ اپ۔۔۔۔۔۔

اگر وہ پرانے والا۔اخل ہوتا تو یقینا اسے بہت اچھا جواب دیتا لیکن وہ ہنستے ہوئے باتھ روم کی طرف چلا گیا تھا۔۔۔

____

پتہ نہیں یہ سب کب ختم ہوگا کب میری اس سے جان چھوٹے گی۔۔۔۔

وہ لون میں بیٹھی تھی ابھی ناشتے کو ٹائم تھا۔۔۔۔۔

وہ گہری سوچ میں گم تھی کہ اسے اپنے کندھے پہ ہاتھ محسوس ہوا وہ بشر بیگم کی تھی۔۔۔

دسمبر کا لاسٹ تھا اچھی خاصی سردی تھی۔۔۔

ائرہ نے بھی شال لپیٹی ہوئی تھی اور بشرا بیگم نے بھی۔۔

وہ ا کر بالکل اس کے مقابل بیٹھے اور اس کا ہاتھ اپنے دونوں ہاتھوں میں لیا۔۔۔۔۔

کن سوچوں میں گم ہے میری پیاری بیٹی انہوں نے اس کے بالوں کو پیچھے کیا۔۔۔۔

ایک عرصے کے بعد ائرہ کو کسی نے ایسی محبت سے پکارا تھا۔۔۔

الفاظ اس کے دل پہ لگے تھے کہ جیسے سچ میں وہ ائرہ کے دل کی ہر بات جاننا چاہتی ہے اس کا حل نکالنا چاہتی ہے۔۔۔

لیکن وہ اخل کی موم تھی وہ کیسے یقین کر سکتی تھی کیسے انہیں بتائے کہ وہ اس سے جان چھڑوانا چاہتی ہے۔۔۔

ائرہ اپنے دل کی ہر بات مجھ سے کہہ سکتی ہو۔۔۔۔۔

مجھے اپنی ماں ہی سمجھو۔۔۔۔۔۔

نہیں ایسی کوئی بات نہیں انٹی۔۔۔۔۔

انٹی نہیں تم بھی مجھے موم بولا کرو۔اخل کی طرح۔۔۔

ائرہ نے پھر سے انہیں غور سے دیکھنا شروع کر دیا۔۔

چلو بولو شاباش۔۔۔۔

موم۔۔۔۔۔۔

بشرا بیگم کو لگا جیسے عائزہ نے انہیں پکارا ہو۔۔۔۔

انہوں نے ائرہ کو سینے سے لگا لیا۔۔۔۔۔۔۔

تم جانتی ہو تم میں عائزہ نظر اتی ہے۔۔۔۔۔

میری بیٹی بھی تمہاری طرح بہت معصوم تھی۔۔۔۔

ائرہ کے زخم تازہ ہو گئے تھے۔۔۔۔۔۔

مہرو اور علی اس کے ذہن میں گھومنے لگے تھے۔۔۔

وہ ان کا قاتل میلان کامران اور اخل کوئی سمجھتی تھی

ویسے تو وہ اچھے سے جانتی تھی کہ اسے کس نے قتل کیا۔

لیکن جو بھی ہوا اس کا ذمہ دار ان لوگوں کو ٹھہرانا چاہتی تھی کیونکہ سب ان کی وجہ سے ہوا تھا۔۔۔۔۔۔

ائرہ بہت محبت کرتا ہے وہ تم سے۔۔۔۔

ائرہ ایک دم سے ان سے دور ہوئی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔

پر میں نہیں وہ بولنے ہی لگی تھی کہ اخل وہاں پہ اگیا۔۔۔

گڈ مارننگ موم۔۔۔۔۔۔

اس نے ان کے گال پہ کس کیا۔۔۔۔۔۔۔

اس نے ایک نظر ائرہ کو دیکھا نیلے رنگ کی شال اس نے لپیٹی ہوئی تھی بال کھلے ہوئے تھے۔۔۔۔۔۔

اخل نے نیلی شرٹ پہنی تھی ۔نیچے وائٹ جینز۔۔۔۔۔۔

سردی سے کانپ رہی تھی ۔۔۔۔۔۔۔۔

تم دونوں بیٹھو میں چائے بجواتی ہوں انہوں نے ا خل کو بیٹھنے کا اشارہ کیا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔

کسی نے تمہیں سردی میں بیٹھنے کے لیے فورس کیا ہے۔یا پھر بھاگنے کا پلان ہے۔۔۔۔۔۔

وہ بیٹھا ہی تھا کہ وہ ایک دم سے اٹھ گئی۔۔۔۔۔۔۔

میں تمہاری غلام نہیں ہوں جو بھاگوں گی۔۔۔

جب جانا ہوگا تو خود ہی چلی جاؤں گی۔

اس کا مطلب تم اپنی مرضی سے رہ رہی ہو۔

میں ایسے ہی خود کو کوس رہا ہوں کہ میں نے زبردستی کی بچاری پر۔۔۔۔۔۔

اتنا سب ہونے کے بعد تم ایسے کیسے نارمل بیہیو کر سکتے ہو میرے ساتھ۔۔۔۔

وہ اس کے مقابل کھڑا ہوا۔اور شرٹ کو تھوڑا نیچے کھینچا۔۔۔

میں تو ابھی نارمل ہوا ہی نہیں۔۔۔۔

تم اچھے سے جانتی ہو۔نارمل اخل کو اور اس کے رومنس کو۔

ائرہ حیران تھی وہ بات کو کہاں سے کہاں لے ایا ہے۔۔۔۔

ورنہ صبح والی حرکت کو میں ایسے اگنور تھوڑی کرتا۔۔

میں بہت سدھر گیا ہوں لیکن لگتا ہے۔

وہ کچھ ٹائم جو تم میرے ساتھ گزارا ہے صحبت کا اثر ہے وہ جو تم نے فائل جلائی پھر وہ رات والی حرکت۔۔۔۔۔

دیکھو میں تو اپنی بات پہ قائم ہوں میں نے بالکل بھی ہاتھ نہیں لگایا تمہیں۔۔۔۔۔

وہ اس کی گٹیاں باتوں سے پہلے ہی یوز ٹو تھی وہ بنا کچھ بولے اندر کی طرف چلی گئی۔۔۔

اخل اسے روکنا چاہتا تھا لیکن پھر ہاتھ اس نے پیچھے کر لیا کہ کہیں وہ برا نہ منا جائے۔۔۔۔۔۔۔

___

اج فردوس اور اس کی کمپنی کے کچھ بندوں کو میں نے ڈنر پر انوائٹ کیا ہے۔

ہم ان کے ساتھ پارٹنر شپ کرنے والے ہیں اج رات کے کھانے میں کوئی کسر نہیں رہنی چاہیے۔۔۔

یہ پارٹنر شپ ہمیں بہت فائدہ دے گی۔۔۔۔۔۔

وہ اپنے پرسنل سیکٹری کو سمجھا رہے تھے۔۔۔۔

اج ساری ارینجمنٹ تم دیکھو گے۔۔۔۔۔۔

ائرہ جوابھی حال میں داخل ہوئی تھی ساری باتیں اس کے کان میں پڑ چکی تھی۔۔۔

اج کا ڈنر سچ میں بہت ہی زیادہ اچھا ہونے والا ہے کیونکہ اپ کی پیاری بہو بنائے گی۔۔۔۔

اس نے منہ بناتے ہوئے کہا اور پاؤں کو زور سے زمین پر مارا۔۔۔

اتنا غصہ بیگم کس پر اخل نے اتے ہی اسے پیچھے سے تھاما تھا۔۔۔۔

اس کے ہاتھ کو جھٹکا ائرہ نے۔۔۔۔۔

اس سے پہلے کہ وہ کوئی جواب دیتی میلان کامران نے دونوں کو مخاطب کیا۔۔۔۔

اخل۔۔۔۔

اور تم لڑکی۔۔۔۔۔

میری بات کان کھول کر سن لو اج رات کے ڈنر میں یہ مجھے نظر نہ ائے۔

اس بے تکے رشتے کا ابھی میں کسی کو نہیں بتانا چاہتا۔۔

وہ بیوی ہے میری۔۔۔۔۔۔

جہاں میں وہیں وہ ہوگی۔۔۔۔

اخل۔۔۔۔۔انہوں نے غصے سے پکارا تھا۔۔۔۔۔۔

بابا کہہ نا وہ بیوی ہے میری اور کسی کو بتانے میں مجھے کوئی شرمندگی نہیں ہے۔۔۔

لیکن لوگوں کو یہ بتاتے ہوئے ہمیں ضرور شرم ائے گی کہ اپنی بہن کے قاتل کی بیٹی سے اس نے شادی کر لی۔۔۔۔۔

اگر میرا باپ قاتل ہے تو اپ لوگ کون سا۔۔۔۔۔

ائرہ اخل نے اس کی بات کو بیچ میں کاٹا تھا۔۔۔۔

کمرے میں جاؤ میں بات کر رہا ہوں۔۔۔۔۔

ائرہ نے غصے سے پہلے کامران کی طرف دیکھا۔۔۔۔

پھر اخل۔۔۔

میں اؤں گی نہیں لیکن اج رات کے دنر کو شاندار ضرور بنا دوں گی اس نے دل ہی دل میں کہا اور اپنے کمرے کی طرف چلی گئی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔