Ayra by Aneeta NovelR50474 Ayra Episode 32
No Download Link
Rate this Novel
Ayra Episode 32
Ayra by Aneeta
بشرا بیگم کے فورس کرنے پر وہ جانے کے لیے تیار ہوئی تھی۔۔۔
جبکہ اس کا دل بالکل بھی نہیں تھا۔۔۔۔۔
وہ سامنا نہیں کرنا چاہتی تھی۔۔۔۔۔۔
اخل کا۔۔۔۔۔۔۔۔
جبکہ اخل تو موقع کی تلاش میں تھا کہ کب اسے رات والی حرکت پہ سیدھا کرنے کا موقع ملے اسے۔۔۔۔۔۔۔
___
تھوڑی دیر میں ناشتے کے بعد وہ کمرے میں اگئی تھی۔
اس نے ٹالنے کی بہت کوشش کی تھی لیکن ہر حربہ ناکام گیا تھا۔۔۔۔۔
اس نے کلثوم کو کمرے میں بھیجا تھا تاکہ اس کے کپڑے لے کر ائے وہ خود نہیں جانا چاہتی تھی۔۔۔۔۔۔
اس کی حرکتوں سے خوفزدہ تھی۔۔۔۔۔۔
چھوٹے صاحب وہ چھوٹی بی بی کے کپڑے لینے ہیں الماری سے۔۔۔۔۔
چھوٹی بی بی کو خود بھیجو اپنے کپڑے لے کے جائے۔۔۔۔
اخل موبائل کے ساتھ لگا ہوا تھا۔ایمن اس کے کمرے میں تھی ابھی اس سے جان چھڑوائی تھی ۔۔۔۔۔۔
چھوٹی بی بی صاحب کہہ رہے ہیں کہ اپ خود کپڑے لینے ائے ائرو کو اندازہ تھا وہ ایسا ہی کہے گا۔۔۔۔۔
اس نے وہی وائٹ شارٹ فراک پہنی تھی۔اور شیشے کے سامنے کھڑی خود کو دیکھ رہی تھی۔۔۔۔
اسے بولو مجھے نہیں چاہیے کپڑے وہ بھی بولی ہی تھی۔
کہ اخل اگیا تھا کمرے میں تم جاؤ اس نے کلثوم کو جانے کا کہا۔۔۔۔
وہ جو ایزیلی کھڑی تھی اب ایک دم سے اس کے دل کی دھڑکن تیز ہونے لگی تھی۔۔۔۔۔
مجھ سے دور رہو یہ کہتے ہوئے وہ باہر بھاگنے لگی تھی کہ اس نے بازو سے پکڑا۔۔۔
ائرہ کو بھی اندازہ تھا کہ رات والی حرکت کو وہ ایسے نہیں جانے دے گا۔۔۔۔۔۔
تمہیں کپڑے چاہیے تھے نا چلو اؤ کپڑے لو وہ اسے کھینچنے کے انداز میں اپنے کمرے میں لے کے گیا تھا۔۔۔۔۔
اخل۔۔۔۔۔۔۔
اس نے زور سے اس کے بازو کو جھٹکا تھا۔۔۔۔۔
اسے اندر کرتے ہی اس نے دروازہ اندر سے لاک کیا تھا اور پھر دروازے کے ساتھ ٹیک لگا کے کھڑا ہو گیا تھا۔۔۔۔۔۔
اسے دیکھ کر وہ ہنسا تھا۔وہ ڈری سیمی نظروں سے اسے دیکھ رہی تھی۔۔۔۔
ایکٹنگ اچھی کی تھی رات کو تم نے۔۔۔۔
پر مجھے سمجھ نہیں اتی تم جان بوجھ کر اپنے لیے مصیبت کیوں کھڑی کرتی ہو۔۔۔۔۔
ایکٹنگ کرنے سے پہلے سوچنا تھا نا انجام کیا ہوگا اب ساری زندگی تو تم اپنے کمرے میں نہیں چھپ سکتی۔۔۔۔
وہ بات کرتے کرتے اس کے پاس ا رہا تھا اور وہ پیچھے پیچھے ہو رہی تھی۔۔۔۔
میری طبیعت سچ میں خراب تھی میں ایکٹنگ نہیں کر رہی تھی۔۔
اس کی قربت سے خوف زادا تھی وہ بولی جا رہی تھی کہ کسی طرح بس جان چھوٹ جائے۔۔۔۔۔
مجھے چکر ا رہے تھے۔
ہاں پھر چکراتے ہوئے تم نے فورا سے دروازہ لاک کر دیا۔۔۔
حسین ہونے کے ساتھ ساتھ جھوٹی بھی ہو مجھے اج پتہ لگا۔وہ رکی تو وہ بھی بازو باندھ کر اسے دیکھنے لگا۔۔۔۔
اخل۔۔۔۔۔
تمہارا انتظار کر رہی ہےوہ۔۔۔۔
تمہیں ساتھ لے کے جاؤں گا نا۔۔۔۔
وہ رومینٹک انداز میں بولا۔۔۔۔۔۔
موبائل نہیں لینا کیا اسد سے کیسے رابطہ کرو گی۔۔
اگر میں تمہیں کل ڈیورس دے دیتا ہوں۔
تو کیسے رابطہ کرو گی اس سے۔۔۔
میں وہ تھوڑا رکی میں کیوں رابطہ کروں گی اس سے۔۔۔
افر اچھی ہے ساتھ چلو اچھا سا موبائل لے کے دوں گا۔۔۔۔
جب لینا ہوگا میں خود لے لوں گی۔۔۔
مجھے نہیں لگتا یہاں سے نکل کر اگر تم اسد کے گھر جانا چاہو تو تمہارے پاس ٹیکسی تک کے بھی پیسے ہوں گے۔۔۔۔
اس نے ائرہ کا جائزہ لیتے ہوئے کہا تھا۔۔۔۔۔
اور موبائل۔۔۔۔
اب اس کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو چکا تھا. وہ دل میں ابھرتے الفاظوں کو زبان دینا چاہتی تھی لیکن پھر اس کا خوف۔۔۔۔۔۔۔۔
اس سے پہلے کہ وہ کوئی جواب دے دیتی۔
ایمن نے باہر سے دروازہ نوک کیا۔۔۔۔۔۔
ائرہ ڈر گئی تھی کیونکہ سبھی جانتے تھے کہ وہ دوسرے کمرے میں رہ رہی ہے اور ڈیورس کا بھی سبھی جانتے تھے۔
یقینا اگر کوئی گھر والا دیکھ لیتا تو اسے شرمندگی ہوتی۔۔۔
پراخل اچھے سے جانتا تھا کون ہو سکتا ہے اس نے بنا ٹائم ویسٹ کیے دروازے کو کھولا تھا۔۔۔
ایمن پہلے تو اسے کچھ کہنے لگی تھی لیکن ایک دم سے پیچھے ائرہ کو دیکھ کر وہ حیران ہوئی۔۔۔۔
ائر ہ تم یہاں کیا کر رہی ہو۔۔۔اس نے ایسے پوچھا تھا جیسے اس کی استانی ہو۔۔۔۔
اخل نے ایک نظر ائرہ کو دیکھا۔ایک ہاتھ سے اس نے دروازہ پکڑا ہوا تھا ۔۔۔۔
وائف ہے میری۔اور ہسبینڈ ہوں میں اس کا مجھے نہیں لگتا کہ یہ ایکسپلین کرنے کی ضرورت ہے کہ ہم بند دروازے کے پیچھے کیا کر رہے تھے ۔۔۔۔۔۔
اس کے لہجے میں اسے شدید غصہ ایا تھا۔
اس لہجے میں صرف وہ ائرہ کو مخاطب کر سکتا تھا۔ ۔
اس نے تو اسانی سے اسے جواب دے دیا تھا لیکن ائرہ نے شرم کے مارے نظروں کو نیچے جھکا لیا تھا۔۔۔۔
نہیں میرا یہ مطلب نہیں تھا میں کہہ رہی ہوں کہ ہمیں دیر ہو رہی ہے۔اس نے افق نگاہ ائرہ پر ڈالی۔۔۔۔
ہاں بس چلتے ہیں یہ ریڈی ہو لے۔
اس نے پھر ایک نظر ائرہ کو دیکھا اور پھر قبرد کی طرف بڑھا۔۔۔۔
پنک کلر کا ڈریس نکال کر اس کے ہاتھ میں دیا۔۔۔۔
ائرہ نے ایک نظر ایمن کو دیکھا پھر اسے پھر کپڑے لے کر اپنے کمرے کی طرف بھاگی۔۔۔۔
کیا یہ گیسٹ روم میں رہتی ہے ایمن نے سوال کیا۔۔۔۔
ہاں پورا گھر اس کا ہے جہاں دل کرے وہیں رہ لیتی ہے اخل نے بھی اس کے منہ پہ جواب دیا۔۔۔۔۔
لیکن حقیقت میں قبضہ میرے دل پہ کیا ہوا ہے۔
اور مجھے نہیں لگتا کسی کو اتنی اسانی سے گھر بنانے دے گی وہاں۔تمہیں محنت در قرار ہوگی۔۔۔۔۔
بہت محنت ایمن اس نے قبرد سے ایک شرٹ نکالی اور لہراتا ہوا باتھ روم کی طرف گیا۔۔۔۔۔۔۔
ایمن تھوڑا حیران ہوئی تھی۔۔۔
__
اسے تو ایسا سبق سکھاؤں گی کہ یاد رکھے گی ایمن غصے سے گاڑی میں بیٹھی تھی۔۔۔۔۔
اس کا اس کے ساتھ کمرے میں ہونا۔پھر اخل کا اسے یوں ڈیفینڈ کرنا۔۔۔۔۔۔
اسے شدید غصہ ارہا تھا۔۔۔۔۔۔۔
ائرہ ابھی تک نہیں ائی تھی اور نہ ہی اس کا کوئی ارادہ تھا اس نے کپڑے ضرور بدل لیے تھے۔۔۔۔
بی بی پنک کلر کی میکسی تھی۔۔۔۔
گول اور ڈیپ گلا تھا۔۔۔۔۔
جس کے اوپر اس نے شال اوری تھی۔
بلیک کلر کی سمپل شال تھی اوپر ہاتھ سے کام ہوا تھا۔۔
بال اس کے کھلے ہوئے تھے۔۔۔۔۔۔۔
تمہیں سمجھ نہیں ارہی کب سے بلا رہا ہوں۔۔
اس نے دروازہ کھولا ہی تھا کہ اس کی نظر اس پر اٹک گئی تھی۔۔۔۔
اسے سر سے لے کے پاؤں تک دیکھ رہا تھا وہ۔۔۔۔۔
کیا قیامت لگ رہی ہو یار اس نے دل میں کہا تھا۔۔۔۔
ایک ہاتھ سے اس نے دروازے کے ہینڈل کو پکڑا ہوا تھا۔
دوسرا ہاتھ دیوار پہ تھا۔
کب سے۔۔۔۔
بولا رہا ہو؟
لہجہ تھوڑا دیمہ تھا۔۔۔۔۔۔
وہ پزل تھا ائرہ کو اندازہ تھا۔۔۔۔۔۔
میں تم لوگوں کے ساتھ نہیں جا رہی۔۔
نظروں کو نیچے جھکاتے اس نے کہا تھا اور واپس بیڈ پہ بیٹھنے لگی تھی۔۔۔۔۔
اخل نے اس کے بیٹھنے سے پہلے ہی بازو سے پکڑا اور کھینچنے کے انداز سے باہر لے کر ایا۔۔۔۔
اخل۔۔۔۔۔۔
پیار سے تمہیں سمجھ نہیں اتی۔۔۔۔۔۔
وہ گاڑی تک پہنچا تھا کہ وہ اگے کی سیٹ پر قبضہ کیے بیٹھی تھی وہ اسے اگے بٹھانا چاہتا تھا۔۔۔۔۔
پر ائرہ کے سامنے اتنی جلدی ہار نہیں ماننا چاہتا تھا۔۔۔
ورنہ ایمن کو سبق سکھانا اس کے دائیں ہاتھ کا کام تھا۔۔۔۔۔
اس نے پیچھے کا دروازہ کھولا اور اسے پھینک دیا۔
ائرہ کو اب غلاموں والی فیلنگز ا رہی تھی کہ کہیں بھی اٹھا کے پھینک دیتا ہے اسے۔۔۔۔
________
اب وہ ایک بڑی سی جولری شاپ پر ائے تھے۔۔۔۔۔۔
اخل نے سکائی بلو شرٹ لوز سائز میں پہنی تھی نیچے وائٹ جینز۔۔۔۔۔
اوپر کے بٹن کھلے تھے۔۔۔
اور سن گلائسز شرٹ پہ ہی لٹکائے ہوئے تھے اس نے۔۔۔۔
بازوں کو کہنیوں تک فولڈ کیا ہوا تھا۔۔۔۔۔۔۔
ائرہ ایک سائیڈ پہ جا کے بیٹھ گئی تھی کیوں کے شاپنگ تو ایمن نے کرنی تھی۔۔۔۔
شاپ میں داخل ہوتے ہی۔نیو ڈیزائن کی ڈائمنڈ رنگ۔بالکل فرنٹ پر سجائی گئی تھی۔۔۔۔
جو ابھی ابھی مارکٹ میں ائی تھی بالکل نیو ڈیزائن تھا۔
اخل نے داخل ہوتے ہی اس انگوٹھی کو اٹھایا تھا وہ ائرہ کے لیے اٹھائی تھی اس نے۔۔۔۔۔
وہ ایک نظر انگوٹھی کو دیکھتا پھر ائرہ کو دیکھتا لیکن ائرہ کا دھیان اس کی طرف نہیں تھا۔۔۔۔۔
ایمن جو دوسری سائیڈ پہ جولری دیکھ رہی تھی اس نے اچانک ہی اخل کو دیکھا وہ ائرہ کی طرف بڑھنے ہی لگا تھا کہ وہ دو قدم اٹھا کرا گے ائی تمہاری چوائس کتنی یونیک ہے سچ میں۔۔۔۔
وہ دونوں بالکل ائرہ کے سامنے کھڑے تھے اخل بھی ائرو کو اگنور کرتے ہوئے انگوٹھی اسے پہنانے لگا۔۔۔۔۔۔
ائرہ نے ایک نظر دونوں کو دیکھا پھر نظروں کو نیچے جھکا لیا۔۔۔۔۔
وہ دل ہی دل میں اسے برا بھلا کہہ رہی تھی۔اس لیے نہیں کہ اس نے انگوٹھی اسے پہنا دی تھی اس لیے کہ کسی کے ساتھ بھی فری ہو جاتا ہے۔۔۔۔۔۔
اسے تو اندازہ بھی نہیں تھا کہ یہ انگوٹھی اس نے اس کے لیے لی تھی۔۔۔۔
اسے بالکل بھی اچھا نہیں لگ رہا تھا کیونکہ وہ اس نے ائرہ کے لیے اٹھائی تھی۔۔۔۔۔
اور پھر اس کے سامنے اس سے پہنانا۔۔۔۔
ائرہ دیکھو کتنی پیاری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اخل دونوں ہاتھ کمر پہ ٹکائے ائرہ کو نوٹس کر رہا تھا۔۔۔۔۔۔
ایمن نے ایک سیٹ پسند کیا تھا وہ بھی کافی ایکسپینسو تھا۔۔۔۔
لیکن میلان کمران کو کیا فرق پڑتا۔
وہ ایسے سو سیٹ لے سکتی تھی۔۔۔
اخل کا شدت سے دل کر رہا تھا کہ وہ ائرہ کو کچھ دلوئے یہاں سے۔۔۔۔۔۔
پر شاید اپنی اکڑ کی وجہ سے وہ بھی اکڑا ہوا تھا۔۔۔۔۔
وہ بھی تو اس سے کوئی بات نہیں کر رہی تھی۔۔۔
ایمن کی شاپنگ الموسٹ کمپلیٹ ہو گئی تھی اس نے کئی دفعہ ٹرائی کیا تھا ائرہ کو کہنے کا کہ وہ بھی کچھ لے لے لیکن پھر چپ کر جاتا۔۔۔۔۔
چلو ہو گئی شاپنگ اب ہم ڈریس کی طرف چلتے ہیں۔
یہ شوپنگ اگینجمنٹ کی تھی۔۔۔۔
اب دونوں اتنے اتنے بڑے بزنس مین تھے تو اناؤنسمنٹ بھی تو بڑی ہونی تھی نا۔۔۔۔۔
اب کلاتھ شاپ ائے تھے وہ۔۔۔۔۔۔
وہ ونڈو میں لگے برانڈڈ ڈریس دیکھ رہی تھی۔۔۔۔۔
لیکن اب اخل کی بھی بس ہو گئی تھی۔ایمن ائرہ کے سامنے شاپنگ کر رہی تھی جب کہ وہ چپ چاپ بیٹھی تھی۔۔۔۔۔۔
اب وہ اور ٹارچر نہیں کر سکتا تھا اسے۔۔۔
سامنے لگے ایک یونیک پیس پہ اس کی نظر پڑی۔
ائرہ اس نے پکارا تھا۔۔۔۔۔۔۔
لیکن اس کے سننے سے پہلے ہی ایمن نے سن لیا تھا وہ بھاگتی ہوئی ائی تھی کیا سچ میں میں نے بھی پہلے یہی پسند کیا تھا۔۔۔۔۔
ائرہ نے اس کی اواز کو اگنور کیا تھا وہ اس کی کوئی بھی بات نہیں سننا چاہتی تھی۔۔۔
اسے اگنور کرنے کے چکر میں وہ بھی گھومنے لگی تھی۔۔۔
اخل کو اب پھر غصہ ایا تھا کہ اس نے اس کی بات کو اگنور کیا۔۔۔۔۔۔
گھومتے ہوئے ائرہ کی نظر ایک ڈریس پر پڑی گرین کلر کا فل سمپل سوٹ تھا ال اور میں۔۔۔۔۔۔۔
اور وہ سچ میں اسے بہت اچھا لگا تھا۔۔۔۔۔۔
نہ چاہتے ہوئے بھی اس نے اسے چھوا تھا۔۔۔۔۔۔
اخل جسے ایمن پہ شدید غصہ تھا اچانک نظر اس پر پڑی۔
اس کا چہرہ کھل کھلا اٹھا تھا کہ وہ بھی کچھ لینے والی ہے اس کے پاس ایا تھا۔۔۔۔۔۔۔
یہ سچ میں بہت اچھا ہے تم پہ بہت سوٹ کرے گا۔۔
اخل نے بھی اس کو ایک کونے سے پکڑا۔۔۔۔
وہ اس کی پشت پہ کھڑا تھا اور اسے محسوس کر رہا تھا قریب سے۔۔۔۔
اگر مجھے کچھ چاہیے ہوگا تو میں خود لے لوں گی۔۔۔
ائرہ کو بھی اب شدید غصہ تھا اس کی حرکتوں پہ۔۔۔۔
اخل جس نے مشکل سے اکڑ توڑی تھی اب پھر سے غصہ رونما تھا۔۔۔
یہ بہت ایکسپینسو ہے لے سکو گی۔۔۔
وہ کچھ اور کہنا چاہتا تھا لیکن غصے سے یہی نکل گیا۔۔۔۔
یہ بات ائرہ کے دل پہ لگی تھی اس نے نظر اٹھا کر اسے دیکھا انسو چمک ائے تھے۔۔۔۔
میرے کہنے کا مطلب ہے۔۔۔۔۔
ہاں میں نہیں لے سکتی یہ بہت ایکسپنسو ہے تمہاری ایمن کو نصیب ہو۔۔۔۔
اس نے غصے سے اس ڈریس کو چھوڑا تھا۔۔۔۔
اس نے ڈریس ہینگر سے اتارا تھا اس کے پاس ایا تھا۔۔۔
چلو ٹرائی کرو۔۔۔۔۔
میں نے کہا نا مجھے نہیں چاہیے ہو گا تو اسد لے دے گا۔۔۔۔۔۔
اسد اس نے غصے سے اسے بازو سے پکڑ کر کھڑا کیا۔۔۔۔
اس کا نام سن کر اسے شدید غصہ ایا تھا۔۔۔۔
کیوں بار بار مجھے احساس دلاتی ہو کہ اسے زندہ چھوڑ کر میں نے غلطی کی ہے۔۔۔۔۔
دیکھو ہم مارکیٹ میں ہیں کوئی تماشہ نہیں کرنا چاہتا میں لیکن گھر جا کے تمہیں اس بات کا جواب ضرور دوں گا۔
گھر جا کر کیوں یہی دو نا تاکہ لوگوں کو بھی پتہ چلے کتنے گھٹیا انسان ہو تم۔۔۔۔
ائرہ ۔۔۔۔۔
کیا ائرہ دو جواب مجھے۔۔۔
اخل ڈر گیا کیا۔۔۔۔۔۔
اخل نے ہاتھ میں پکڑے ڈریس کو صوفے پہ گرایا اسے بازو کی کہنی سے پکڑ کر دیوار کے ساتھ لگایا۔۔۔۔۔۔
میں کسی سے نہیں ڈرتا یہ بات یاد رکھنا۔۔۔۔۔۔
ائرہ کو شرم ا رہی تھی کہ سبھی کا دھیان ادھر ہو گیا تھا۔۔
شاپ بہت بڑی تھی ایمن دوسرے کونے میں تھی۔۔۔۔۔
لیکن ہاتھ میں ایک سوٹ اٹھائے اب وہ اخل کے پاس ا رہی تھی کہ اس نے جو دیکھا اسے دل سے سکون ملا تھا۔
اخل ائرہ پہ غصہ کر رہا تھا۔۔۔۔۔۔
اس کی انکھوں سے انسو گرنے لگے تھے۔
اس نے ایک نظر دیکھا سبھی اسے دیکھ رہے تھے اس نے شرم کے مارے نظروں کو نیچے جھکا لیا تھا۔
کل سے تمہیں خوراک نہیں ملی نہ اسی لیے زبان کینچی کی طرح چل رہی ہے۔۔۔۔۔۔
اس نے ایک جھٹکے میں چھوڑا۔۔۔۔۔۔
وہ کتنا گھٹیا انسان تھا وہ دل ہی دل میں سوچ رہی تھی۔
اسے اس کی عزت کی کوئی پرواہ نہیں کسی کے سامنے بھی وہ بعثت کر دیتا ہے اسے۔۔۔۔
اسے چھوڑ کر اس نے اگے پیچھے دیکھا سبھی کا دہان ادھر ہی تھا ۔۔۔۔۔
ایمن بھاگتے ہوئے اس کے پاس ائی۔۔
اخل کیا کر رہے ہو سبھی دیکھ رہے ہیں۔۔۔۔۔
گھر جا کے بات کر لینا اس نے ایکٹنگ کی اچھی خاصی۔۔۔۔۔
ا ئرہ کی انکھ میں انسو تھے شرم کے مارے اس نے نظروں کو نیچے جھکا لیا تھا۔۔۔۔
اخل کو بھی اس کی حالت دیکھ کر شدید غصہ ا رہا تھا۔۔۔
وہ رو نہیں رہی تھی پر رونے والی ہی لگ رہی تھی۔۔۔
وہ ابھی بھی دیوار کے ساتھ چپکی کھڑی تھی۔۔۔۔۔
ایمن میڈم نے اس ڈریس پر بھی قبضہ کر لیا تھا۔
اخل نے بھی اس پہ غصے کی وجہ سے کچھ نہیں کہا تھا۔
اخل کو کچھ سمجھ نہیں ا رہا تھا اوپر سےائرہ کی حالت۔
اب وہ کھانے کے لیے ائے تھے۔۔۔۔۔۔
میں تو سوشی ہی کھاؤں گی۔۔۔۔۔۔۔
ٹھنڈ ہے نا وہی بیسٹ رہے گی۔۔۔۔۔۔
اخل کی بلا سے ایمن کچھ بھی کھائے اسے کوئی پرواہ نہیں تھی۔
ائرہ تم۔۔۔۔۔۔۔۔
مینیو کارڈ اس کے ہاتھ میں تھا۔۔۔۔
وہ صبح سے ان کے ساتھ گھوم رہی تھی بھوک تو اسے بھی بہت لگی تھی۔
لیکن اب کچھ بھی کھانے کو دل نہیں تھا اس کا ۔۔۔۔
جبکہ اخل کے ذہن میں بھی کئی باتیں گردش کر رہی تھی وہ رنگ جو اس نے اس کے لیے لی تھی پھر وہ ڈریس۔۔۔۔۔
اور ایمن اس کے سامنے شہزادیوں کی طرح سب لے رہی تھی اور اس نے کچھ بھی نہیں لیا تھا۔
اس کا پورا حق تھا۔۔۔
اور پھر سب کے سامنے یوں انسلٹ کرنا۔۔۔
وہ اندر سے بہت شرمندہ تھا۔
لیکن یہ کہہ کے خود کو تسلی دی تھی کہ کھانے کے بعد وہ اسے شاپنگ کروائے گا۔۔
اس کے لیے بھی سوشی ہی ارڈر کر دو۔۔۔
اسے پسند نہیں ہے اس نے روٹا ہوا جواب دیا۔۔۔۔
اس کا تو بس نہیں چل رہا تھا کہ اسے بالوں سے پکڑ کر سبق سکھائے۔۔۔۔
ائرہ کی انکھیں رونے کی وجہ سے سرخ ہو گئی تھی ۔اخل کے دل کا درد بھی انکھوں میں اتر ایا تھا اس کی انکھوں میں انسو چمک رہے تھے۔۔۔۔۔۔
اس نے کچھ دیر انتظار کیا کہ وہ کچھ بولے گی لیکن کچھ نہیں بولی تھی وہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اس کے لیے رشین اور ونگز ارڈر کیے تھے اس نے اور ساتھ میں فریش جوس۔۔۔۔۔
اپنے اور ایمن کے لیے سوشی ارڈر کی تھی اس نے۔۔۔۔
لیکن ائرہ نے کوئی چیز نہیں کھائی تھی کچھ بھی نہیں کھایا تھا اس نے۔بلکہ کھانے کو دیکھا تک نہیں تھا۔۔۔۔
اخل نے دو تین دفعہ اسے کہا تھا۔۔
لیکن ایمن کے دل میں کچھ اور ہی پلان چل رہا تھا اس نے جان بوجھ کر۔سوشی کی ساس اخل کی شرٹ پر پھینک دی۔
او ایم ریلی سوری۔۔۔۔۔۔
اخل ایک دم سے اٹھا تھ اپنے چیئر سے شرٹ کو ہلاتے ہوئے۔۔۔
ویٹر بھاگتا ہوا ایا تھا سر۔۔۔۔۔۔۔
نہیں میں خود صاف کر لوں گا۔اخل شرٹ کے اس حصے کو پکڑے ہوئے باتھ روم کی طرف گیا۔
ائرہ اس کے جاتے ہی ایمن اپنے ٹارگٹ پر ائی تھی۔۔۔
تم کتنی ڈیٹ لڑکی ہو اور کتنی بے شرم لڑکی ہو۔
ائرہ نے نظر اٹھا کر دیکھا اسے۔۔۔۔۔
وہ تمہیں بات بات پہ بعثت کرتا ہے پھر بھی بے شرموں کی طرح اس کے ساتھ چپکی ہوئی ہو۔۔۔
دفعہ کیوں نہیں ہوتی تم یہاں سے۔۔۔۔۔۔
دیکھو اگر اپنی عزت پیاری ہے نا تو اسے چھوڑ دو۔۔۔
ائرہ کے لیے کچھ بھی نیا نہیں تھا۔۔۔۔
ایمن کا یہ رویہ اس نے ایکسپیکٹ کیا تھا۔۔۔
لیکن اس کے الفاظ اس کے دل پہ لگے تھے۔۔۔۔۔
ایمن نے ایک نظر پیچھے دیکھا اور اپنے بیگ سے کچھ پیسے نکالے۔۔۔
یہ لو پیسے اور یہاں سے چلی جاؤ۔۔۔۔۔۔
ائرہ نے اس کے پیسے اس کے ہاتھ سے لیے اور اس کے منہ پر مارے مجھے تمہارے پیسوں کی ضرورت نہیں ہے۔
لیکن اب بس ہو گئی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ اٹھی اور باہر کی طرف بھاگی۔۔۔۔
وہ نہیں جانتی تھی کہ اسے کہاں جانا ہے۔۔۔۔۔
لیکن وہ ان کی باتوں سے تنگ ا گئی تھی۔۔۔۔۔
اسے اپنے وجود سے نفرت ہو گئی تھی اتنی ذلت۔۔۔۔
لیکن کون تھا دنیا میں وہ کس کے پاس جائے۔۔۔۔۔۔۔۔
اس نے بے دھیانی میں روڈ پہ پاؤں رکھا ہی تھا۔۔۔
اخل نے پیچھے سے کھینچا۔۔۔۔۔۔۔
وہ اس کے سینے سے ٹکڑائی تھی وہ چکرا کر گرنے لگی تھی کہ اس نے سنبھال لیا۔
وہ ایا تو شدید غصے میں تھا لیکن اس کی ایسی حالت دیکھ کر وہ گھبرا گیا تھا۔۔۔
ائرہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اس کا سر گود میں رکھ کے اس نے اس کے چہرے کو تھپتھپایا تھا۔۔۔۔
پر کوئی ہلچل نہیں ہوئی اس نے فورا سے اسے گاڑی میں بٹھایا۔۔۔۔
___
وہ اسے ہاسپٹل لے کر ایا تھا ڈاکٹروں اسے چیک کر رہے تھے اور وہ باہر چکر کاٹ رہا تھا ایمن کی اسے کوئی پرواہ نہیں تھی وہ اسے وہیں چھوڑ ایا تھا۔۔۔
اب کیسا فل کر رہی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔
اس کی انکھ کھلتے ہی ڈاکٹر نے پوچھا ۔۔۔
وہ ایک لیڈی ڈاکٹر تھی۔
اس نے کوئی جواب نہیں دیا تھا۔۔۔۔۔۔۔
کمرے کو دیکھنے لگی ۔۔۔
ایسی حالت میں ایسے تریس فل کنڈیشن بچے اور ماں کی صحت پہ بہت اثر پڑتا ہے تمہیں اپنا خیال رکھنا چاہیے۔۔۔
وہ پہلے جو اطمینان سے لیٹی تھی ایک دم سے چونکی۔۔
ک۔۔۔۔۔کیا مطلب ۔۔۔۔۔۔۔۔
بچہ۔۔۔
جی لگتا اپ نہیں جانتی کے آپ پگنت ہے۔
مس ائرہ ۔۔۔ ۔
کیا۔۔۔۔۔اس نے حیرانگی سے کہا۔۔۔۔۔۔۔۔
اس کے ماتھے پہ پریشانی کے بل نمودار ہو چکے تھے ۔۔۔
اپ لیٹے میں اپ کے ہسبینڈ ائرہ نے ڈاکٹر کا ہاتھ پکڑا۔۔۔۔۔۔
پلیز کسی کو مت بتائیے گا میں پریگنیٹ ہوں پلیز۔۔۔
میرے لیے بہت مسئلہ ہو جائے گا۔۔۔۔۔
یہ سب کچھ زبردستی ہوا میرے ساتھ۔۔۔۔
اس نے نظروں کو نیچے جھکاتے ہوئے کہا تھا ڈاکٹر سمجھ نہیں پا رہی تھی۔
دیکھیں جو باہر ہے وہ کافی فکر مند ہے اپ کے لیے۔۔۔۔
مجھے سمجھ نہیں ارہی اپ ان سے چھپانا کیوں چاہتی ہیں
میں خود بتا دوں گی پلیز۔۔۔۔۔۔
ڈاکٹر دل کی بہت اچھی تھی اس نے بھی اسے تسلی دی کہ وہ کسی سے کوئی بات نہیں کرے گی۔لیکن ائرہ اپنا بہت خیال رکھے گی اس نے وعدہ لیا تھا کہ وہ اپنا خیال رکھے گی ۔
ڈاکٹر نے اخل کو وعدے کے مطابق یہی بتایا تھا کہ ائرہ کی بس ایسے ہی طبیعت خراب ہو گئی تھی۔
اخل جو کافی فکر مند تھا ابھی جا کے ریلیکس ہوا تھا۔
لیکن وہ اسے چھوڑ کر بھاگنے لگی تھی اسے اس بات پہ شدید غصہ تھا۔۔۔۔
__
ایمن کو شدید غصہ ایا تھا۔۔۔
اخل اسے چھوڑ کر چلا گیا تھا اس نے گھر اتے ہی ہنگامہ کیا تھا۔
وسیم نے بھی میلان کامران کو فون کر کے بتایا تھا۔
بیٹی میں نے اس کے باپ کو فون کیا ہے دیکھنا کیسے سیدھا کرتا ہے۔۔۔
تم اپنا مقابلہ دو ٹکے کی لڑکی سے کر رہی ہو۔۔
وسیم غصے سے اسے سمجھا رہا تھا۔۔۔۔۔
فریدہ سمجھاؤ اپنی اس لاڈلی کو۔
ایمن اسی بات پہ اری تھی کہ شادی سے پہلے وہ اسے ڈیورس دے گا۔۔۔۔
اور وسیم یہ مطالبہ رکھے گا۔۔۔۔۔۔
کیونکہ اسے اندر سے ڈر تھا کہ ائرہ سچ نہ بتا دے کہ اس کے کہنے سے بھاگی تھی۔
_____
بہت شوق ہے تمہیں بھاگنے کا۔۔۔۔
ہاتھوں کی مار لگتا ہے تمہیں سمجھ میں نہیں اتی اس نے ہاتھ لہراتے ہوئے اسے کہا تھا۔
تمہیں اج بیلٹ سے سمجھاؤں گا میں کہ بھاگتے کیسے ہیں۔
وہ دونوں گھر کی طرف جا رہے تھے ائرہ تو بس پریگننٹ والی بات پے اٹکی ہوئی تھی۔۔۔۔
اب کیا کرے گی وہ یہی سوچ رہی تھی اس کی کسی بات پہ دھیان نہیں تھا اس کا۔۔۔۔
ائرہ۔۔۔۔۔۔۔۔
اس نے غصے سے بلایا تھا۔۔۔۔۔
اس کی کھڑکدار اواز سے وہ چونکی تھی۔۔۔۔۔
پر پھر بھی کچھ نہیں بولی۔۔۔۔
____
گھر میں داخل ہوتے ہی میلان کمران دروازے پہ ہی ان کا انتظار کر رہے تھے۔۔۔۔
تو لے ائے تشریف تم۔۔۔۔۔
تقریبا اب رات ہو گئی تھی۔۔۔
تم ایمن کو ریسٹورنٹ میں اکیلا چھوڑ ائے تھے وہ بھی اس کے پیچھے وہ اگے بڑے ہی تھے کہ اخل ائرہ کے اگے ہوا۔۔۔۔
میلان کامران شدید غصے میں تھا اس کی حرکت کی وجہ سے۔۔۔
بابا۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ کیا چھوٹی بچی تھی جو راستہ بھول گئی تھی یا گھر نہیں جا سکتی تھی۔
طبیعت خراب ہو گئی تھی اس کی ہاسپٹل لے کے گیا تھا۔۔۔
اب اس معاملے میں کوئی بحث نہیں کروں گا میں اس نے ائرہ کے ہاتھ کو تھاما اور اندر کی طرف گیا ۔۔۔۔
سبھی نے دماغ خراب کر کے رکھا ہے۔۔۔۔۔۔
وہ اسے سیدھا اپنے کمرے میں لے کر گیا تھا۔۔۔۔۔
مجھے گیسٹ روم میں۔۔۔
وہ اتنا ہی بولی تھی۔
کہ اس نے اسے بیڈ پہ پٹاخا تھا۔۔۔۔۔۔
اخل۔۔۔۔۔۔
ائرہ کو اب بچے کی فکر تھی۔۔۔۔۔
کیوں بھاگی تھی تم بتاؤ۔۔۔۔۔
اور دوبارہ گیسٹ روم کا نام بھی لیا نا تو۔۔۔۔۔
وہ اگے بڑھنے ہی لگا تھا کہ وہ بیڈ پہ سرک کے پیچھے ہوئی۔۔
اخل۔۔۔۔۔
میری طبیعت نہیں ٹھیک پلیز۔۔۔۔۔
اسے بھی احساس تھا وہ کافی ویک لگ رہی تھی۔۔۔۔
طبیعت نہیں ٹھیک اس نے زور سے بیڈ کو ہٹ کیا اور باہر چلا گیا۔۔۔۔۔
ائرہ بھی وہیں بلینکٹ سیدھا کر کے لیٹ گئی تھی۔۔۔۔۔
وہ اسے بالکل بھی نہیں بتانا چاہتی تھی۔۔۔۔
اگے کیا کرنا اسے کچھ نہیں پتہ تھا۔۔۔۔
_____
اب طبیعت کیسی ائرہ کی۔۔۔
میں گئی تھی لیکن گہری نیند سو رہی تھی وہ۔۔۔
بہت کمزور لگ رہی تھی۔۔۔۔۔۔
کھانے کے ٹیبل پہ بشرا بیگم اور اخل ہی موجود تھے میلان کامران افس کے کسی کام سے باہر نکلے تھے۔۔۔
ٹھیک ہے اس نے روٹھا ہوا جواب دیا تھا۔۔۔۔
وہ اگر اج بھاگ جاتی وہ اسے کہاں ڈھونڈتا یہی باتیں اس کے ذہن میں گردش کر رہی تھی۔
اور اس کا غصہ ٹھنڈا نہیں ہونے دے رہی تھی۔۔۔۔۔
کیوں کر رہے ہو یہ سب۔۔۔۔۔۔
ایمن سے شادی نہیں کرنی تو صاف بتا دو اپنے باپ کو۔۔
یہ بات میں بھی اچھے سے جانتی ہوں کہ تم ائرہ سے محبت کرتے ہو
نہیں کرتا نہیں کرتا نہیں کرتا اس نے پلیٹ کو زور سے پٹاخا تھا اور وہاں سے اٹھ گیا تھا۔
جب چاہے وہ چھوڑ کر بھاگ جاتی ہے اور میں ہی ہمیشہ محبت کروں۔
ڈیورس چاہیے تو دے دوں گا میں اسے۔۔۔
اتنا سا کہہ کے وہ باہر نکلا تھا بشرا بیگم نے بھی اسے اس کے حال پہ چھوڑ دیا۔۔۔
پر ؤہ فکر مند تھی۔۔۔۔
ائرہ کے لیے بھی اور اس کے لیے بھی۔۔۔۔۔
اس سے پہلے جو تماشہ لگا تھا وہ گھر نہیں تھی لیکن گھر اتے ہی میلان کمران نے اسے ساڑھے داستان سنا دی تھی کہ تمہارا بیٹا ایمن کو چھوڑ کر ا گیا تھا۔۔۔۔۔۔
________
وہ بھی تقریبا رات کا کھانا کھانے کے بعد دیر سے کمرے میں ایا تھا۔
ائرہ نے صبح سے کچھ نہیں کھایا اسے احساس تھا رات کے تقریبا 12 بج رہے تھے۔۔۔۔۔
وہ ا کر اپنی سائیڈ پہ بیٹھ تھا
اس کے انے سے ہلچل ہوئی۔تو ائرہ کی بھی انکھ کھل گئی تھی۔۔۔۔۔۔
اسے شدید ویکنس محسوس ہو رہی تھی۔
اور اس نے صبح سے کچھ نہیں کھایا تھا بچے کی فکر تھی اسے۔۔۔۔۔۔۔۔
اخل ۔۔۔
وہ جو اس کی طرف کمر کر کے اپنی سائیڈ پہ بیٹھا تھا ایک دم سے پیچھے مرا۔۔۔۔
اس نے اتنے پیار سے بلایا تھا اس نے ہنستے ہوئے اس کی طرف دیکھا۔۔۔۔
مجھے کھانا لا دو۔۔۔۔
اوکے لے اتا ہوں پہلے فریش تو ہو لو۔۔۔۔۔۔
پہلے جان بنا لو پھر بھاگنے کی کوشش کرنا۔
حالت دیکھو میری نہیں تو کم از کم اپنی حالت پہ ترس کھاؤ۔۔۔۔
مجھے بہت بھوک لگی ہے کہ کھانا مل جائے گا اس نے غصے سے کہا ۔۔۔
جا رہا ہوں اس نے اسی کے لہجے میں جواب دیا۔۔۔۔۔۔
تھوڑی دیر میں وہ فریش ہو کر دوبارہ بیڈ پر بیٹھ گئی تھی۔۔۔۔۔
اس نے ہاتھ اپنے پیٹ پر رکھا ۔اگر اس نے پھر مجھے مارا تو۔
نہیں میں تمہیں کچھ نہیں ہونے دوں گی۔اسے خوشی تھی کہ کوئی اس کا اپنا اس دنیا میں انے والا ہے۔۔۔۔
لیکن وہ یہ بات اسے نہیں بتانا چاہتی تھی ہرگز نہیں بتانا چاہتی تھی۔۔۔
کیونکہ اسے سچ میں لگتا تھا کہ وہ اسے ڈیورس دینے والا ہے اور ایمن سے شادی کرنے والا ہے۔۔۔۔۔
