Ayra by Aneeta NovelR50474 Ayra Episode 7
No Download Link
Rate this Novel
Ayra Episode 7
Ayra by Aneeta
تو یہاں کیوں اور کس سے پوچھ کر ایا ہے۔اخل نے اگلے ہی لمحے اس بوٹ والے لڑکے کو کھڑا کیا۔اس کا غصہ بے قابو تھا۔۔۔
وہ یقینا ان کو وہیں سے باہر کر دیتا لیکن ان تین لڑکوں میں سے اس کا ایک بیسٹ فرینڈ سمی بھی تھا۔۔۔
کیا ہو گئے ہے اخل۔۔
وہ بات اسی دن ختم ہو گئی تھی نا۔سمی نے اسے پیچھے کیا جو شاید اس لڑکے پہ وار کرنے کے لیے تیار تھا۔۔۔
تو کب سے لڑکیوں کے معاملے میں سی ری ایس ہونے لگا۔۔
کم۔۔اون۔۔۔
اخل نے اس کا ہاتھ پچھے کیا۔۔۔۔
مجھے اس کی شکل نہیں دیکھنی۔اس کا غصہ پہ قابو ہو رہا تھا۔اور ایسا پہلی بار ہوا تھا اور وہ بھی کسی لڑکی کے لیے۔ورنہ تو زندگی میں اس نے صرف ایک ہی لڑکی کی حفاظت کی تھی۔اور وہ اس کی اپنی بہن تھی۔۔۔۔۔۔
اس نے ایک نظر تینوں کو دیکھا اور پھر غصے سے اپنے کمرے کی طرف گیا۔وہ یقینا انہیں جانے کا اشارہ کر کے گیا تھا۔۔۔
اور اپنے دروازے کو بہت زور سے بند کیا۔۔۔۔۔۔
_______
وہ رات ائرہ پے بہت بھاری گزری تھی۔ساری رات اسے اخل اور اس کے دوستوں کا ڈر کھائے جا رہا تھا۔اس نے نہ جانے کتنی دفعہ الفت کا نمبر ٹرائی کیا تھا۔لیکن سلطان کے ڈر سے الفت نے اپنا نمبر چینج کر لیا تھا۔۔۔۔۔
کیونکہ سلطان اس سے بہت تنگ کر رہا تھا۔۔۔۔۔
____
اخل بھی نہیں سو پایا ۔اور یہ اس کی زندگی کی پہلی رات تھی۔جو اس نے اتنی بے چینی سے گزاری تھی۔۔۔
لیکن وہ اچھے سے جانتا تھا۔کہ آئرہ ڈری ہوئی ہے۔۔
اور وہ ڈرتی بھی کیسے نہ جو بوٹ میں اس کے ساتھ ہونے والا تھا۔وہ تو یہی سمجھ رہی ہوگی کہ کیا پتہ میں نے لڑکوں کو بلایا ہے۔۔۔
یہ کیا ہو رہا ہے تمہیں اخل نے خود سے سوال کیا۔ بہت ہی مشکلوں سے سوچوں کو دل سے نکال کر اس نے نیند کی وادیوں میں جانا چاہ۔۔۔
ائرہ کا معصوم چہرہ اس کی آنکھوں کے سامنے بار بار ا جاتا تھا۔۔۔
نہ جانے کتنے دفعہ اس نے سوچا کہ وہ ائرہ کے پاس جاتا ہے۔
پر پھر اپنے قدموں کو واپس موڑ لیتا۔۔۔۔۔
___________
تم کتنے جھوٹے ہو ۔۔۔
صبح کا سورج ڈلا ہی تھا کہ قرت اخل کے سرہانے کھڑی تھی۔۔اس نے جینز ٹاپ پہنا ہوا تھا۔بال رول کیے ہوئے تھے۔ڈرک لپسٹک لگائی ہوئی تھی۔۔۔۔
وہ شرٹ لس بیڈ میں اوندا سویا ہوا تھا۔ایک ہاتھ سے تکیے کو دبوچا ہوا تھا۔۔
قرت نے وہی تکیہ بازو کے نیچے سے کھینچ کر اس کے سر پہ مارا۔۔۔۔
کہ پلو سر پہ پڑنے سے وہ ایک دم سے اٹھا۔۔۔۔
کیا ہے۔۔نمود انکھوں سے اس نے قرت کو دیکھا۔۔۔۔۔
وہ لا علمی سے اٹھ کر پوچھنے لگا۔رات جو ہوا تھا شاید ابھی اس کے ذہن میں نہیں ایا۔۔۔
تم نے تو کہا تھا تم واپس جا رہے ہو۔
اخل نے بلینکٹ پیچھے پھینکا۔۔۔۔۔۔
تو اس کے دماغ میں ایک دم سے ائرہ ائی۔۔۔۔۔
نہیں گیا۔۔۔
اس نے بیڈ سے اٹھنا چاہا۔پر قرت نے اس کے گلے میں بازو ڈالتے ہوئے اسے اٹھنے سے روکا۔۔۔
اخل نے دونوں ہاتھ اس کے بازو پہ جمائے۔۔
ابھی نہیں پلیز۔۔۔۔
اخل نے اسے پیچھے کیا۔۔۔۔۔۔
اسے ائرہ کی فکر تھی۔۔۔۔
اچھا ٹھیک ہے میں تمہارے لیے بریک فاسٹ بناتی ہوں۔۔
قرت تھوڑا پریشان ہوئی تھی۔ اس کے انکار پے ۔۔۔۔
اوکے ٹھیک ہے وہ شاید اس سے جان چھڑانا چاہتا تھا۔تو اس نے اسے بریک فاسٹ کی اجازت دیتے ہوئے خود وہ فریش ہونے چلا گیا۔۔۔۔۔
_______________________________
اخل میلان۔۔۔۔
سلطان نے لفظ پر زور دیتے ہوئے لڑکے کی طرف دیکھا۔۔۔
یہ مجھ سے کیوں ملنا چاہتا ہے۔۔۔
پتہ نہیں استاد۔۔۔۔۔
تم مجھے سب بتا رہے ہو ۔۔۔۔
اس کے ذہن میں یہی چل رہا تھا کہ کوئی ائرہ کی ہی بات ہوگی۔۔۔۔
وہ لڑکی کیا اس کے پاس ہے۔۔۔
سلطان جو ساحل کے پاس کھڑا تھا ایک دم سے چونکا۔۔۔
استاد مجھے بھی یہی لگتا ہے۔۔۔
اگر ایسا ہے تو فورا سے پہلے اس سے بلاؤ۔۔۔
سلطان جو مسلسل ائرہ کی کھوج میں تھا۔
اب اسے امید کی کرن ملی تھی تو وہ کیسے ہاتھ سے جانے دیتا۔۔۔۔
یاد رکھو اگر یہ لڑکی ہمارے ہاتھ لگ گئی۔
تو ڈنڈے کو چار چاند لگ جائیں گے۔ہم عربوں میں کھیلیں گے۔وہ سہانے خواب سجاتا۔سوچ میں پڑ گیا تھا۔۔۔۔
______________
یہ لڑکی اب یہاں کیا کر رہی ہے۔
قرت کو ائرہ کی موجودگی کا علم ہو چکا تھا۔وہ ٹیبل پہ ناشتہ سجاتے ہوئے۔اس سے پوچھ رہی تھی جو ابھی ہی وہاں پہ پہنچا تھا۔شاور لینے کے بعد۔۔۔۔
مجھے نہیں لگتا ہے کہ تمہیں پوچھنے کی ضرورت ہے یہ میرا پرسنل میٹر ہے۔۔۔۔
اچھا ہوگا تم اپنے کام سے کام رکھو۔اخل نے بھی اسے نوک ٹاک جواب دیا تھا۔وہ اپنے اگے کسی کی نہیں سنتا تھا۔
اب پرسنل ہو گیا۔۔۔
مجھ ۔۔۔۔۔۔۔۔مجھ سے بھی پرسنل وہ پھر اس کے قریب ائی۔۔۔۔
۔اس نے اس کی شرٹ کو پکڑا۔اور تھوڑا قریب کیا۔۔۔
اس سے پہلے کہ اخل کوئی رد عمل ظاہر کرتا۔اس کی نظر ائرہ پر پڑی جو سامنے ہی کھڑی تھی اس نے ایک جھٹکے میں قرت کو پیچھے کیا۔۔۔
ائرہ کی انکھوں سے اندازہ لگایا جا سکتا تھا کہ وہ رات بھر نہیں سوئی وہ روتی رہی ہے۔۔۔۔
اس نے اسی شال کو لپیٹا ہوا تھا۔۔۔
اور ہاتھ میں بیگ اٹھایا ہوا تھا۔۔۔
قرت کا منہ اسے دیکھتے ہی سوج گیا تھا۔۔۔
تم کہاں جا رہی ہو۔۔۔
میں اپنی دوست کے پاس جا رہی ہوں۔ائرہ نے ایک نظر اسے اور پھر قرت کو دیکھا۔۔۔۔
۔قرت نے بھی ائرہ کا جائزہ لیا۔وہ اسے ٹھیک نہیں لگ رہی تھی۔بہت ڈری ہوئی سہمی ہوئی لگ رہی تھی۔۔۔
اخل نے قدم اگے بڑھائے تو ائرہ ڈر کے مارے پیچھے ہوئی۔۔
سمجھ نہیں اتی تمہیں اک بار۔۔۔۔
فریش ہو کر اؤ اور ناشتہ کرو۔۔۔۔
اخل۔۔۔
ارام سے بولو دیکھو اگے کتنا ڈری ہوئی ہے۔۔
قرت کو اندر سے اگ لگی ہوئی تھی۔لیکن اخل کو امپریس کرنے کے لیے کچھ بھی کر سکتی تھی۔۔۔۔
اس کی باتوں کو نظر انداز کرتا اخل نے انکھوں سے اشارہ کیا۔تو ائرہ بھی کچھ بولے بغیر وہاں سے چلی گئی ۔پر وہ اب بس جانے کا سوچ رہی تھی۔کسی بھی طرح وہ بھاگنا چاہتی تھی ۔۔۔۔
اس کے جاتے ہی اخل نے ایک نظر قرت کو دیکھا۔۔۔۔۔
یہ مجھے کیا ہو رہا۔۔۔۔
اخل نے خود سے سوال کیا۔۔۔۔
اور پھر ایک دفعہ ائرہ کو دیکھا جو اب جا چکی تھی۔۔۔۔
______
اخل۔۔۔۔
اس سے پہلے کہ اخل کوئی جواب دیتا اس کا فون بجنے لگا۔۔۔۔
جو کان کے ساتھ لگاتے ہی وہ باہر نکل گیا۔۔۔
قرت نے محنت سے بریک فاسٹ بنایا تھا اس نے بڑا سا منہ بنایا اس کے جاتے ہی۔پر اس نے کوئی سوال نہیں کیا تھا کیونکہ وہ جانتی تھی کہ وہ غصے میں ہیں۔۔۔۔۔
___
کیوں ملنا چاہتے تھے تم مجھ سے۔۔۔۔۔
سلطان نے اخل کو اتے ہی سوال کیا۔وہ دونوں ایک ریسٹورنٹ میں موجود تھے۔۔۔۔
ائرہ۔۔۔۔
سلطان کچھ بولنے ہی لگا تھا کے اخل نے اپنے ہاتھ سے چپ رہنے کا اشارہ کیا۔۔
ائندہ تمہاری زبان پہ اس کا نام نہ ائے۔اخل نے دونوں ہاتھ ٹیبل پر رکھے اور تھوڑا جھکا۔۔۔
ہاتھ میں پکڑے بیگ کو ٹیبل پر رکھا جو کہ پیسوں سے بڑا ہوا تھا۔۔
یہ 20 لاکھ سے زیادہ ہی ہوگا۔۔۔
ائندہ تمہارے منہ سے اس کا نام تک نہ سنو۔۔۔۔
سلطان نے ایک نظر اسے دیکھا اور پھر پیسوں کے بیگ کو دیکھا پیسے کھول کر اس نے نوٹوں کو دیکھا۔۔۔
اور اگر میں کہوں کہ مجھے یہ نہیں چاہیے۔۔۔
وہ بھی کھڑا ہو گیا ۔۔۔
لیکن مجھے نہیں لگتا تم اتنی جلدی مرنا چاہتے ہو۔۔
ائرہ کی طرف دیکھنے کا سوچ بھی تو تمہارے لیے بالکل ایسا ہی ہوگا جیسے موت کی تیاری کرنا۔اس نے اسے تھوڑا اگے کھینچا۔۔۔۔۔
انکھوں کا تاب دکھا کر ایک ایک جھٹکے میں اسے پیچھے گرایا۔۔۔۔۔۔
اور ایک نگا سلطان پہ ڈال کر وہاں سے چلا گیا۔۔۔۔
_____________
مجھے کوئی شوق نہیں ہے یہاں رہنے کا اخل نے مجھے زبردستی قید کیا ہوا ہے۔قر ت نے اخل کے جانے کے بعد ہی ائرہ کو اپنا رنگ دکھا دیا تھا۔۔۔۔
اب میں کہہ رہی ہوں تو اب دفع ہو جاؤ اس کے انے سے پہلے یہاں سے۔۔۔
اور کبھی مڑ کر نہیں دیکھنا۔۔۔۔۔
تمہارے جیسی لڑکیوں کو تو میں ملازم بھی نہ رکھوں۔پتہ نہیں وہ کیسے برداشت کر رہا ہے۔۔۔۔
ائرہ اسے بہت سے جواب دے سکتی تھی۔لیکن ابھی سنہرا موقع تھا یہاں سے بھاگنے کا۔تو شاید وہ ٹائم ویسٹ نہیں کرنا چاہتی تھی اس نے بنا کچھ سوچے سمجھے اپنا وہ ایک بیگ اٹھایا۔جو نارمل سائز کا ایک ہینڈ بیگ تھا۔اور شال کو اوڑا اور باہر کی طرف جانے لگی۔۔۔۔۔
قرت نے بھی اس کے جاتے ہی سکون کا سانس لیا تھا۔۔۔۔۔
______________
یہ ائرہ کا نمبر کیوں نہیں مل رہا۔۔۔
الفت نہ جانے کب سے اس کا نمبر ٹرائی کر رہی تھی۔۔۔۔
لیکن اس افرا تفری میں ائرہ نے موبائل نہیں اٹھایا تھا۔اور اس کا موبائل سائلنٹ تھا۔۔۔۔
وہ نہ جانے کتنی ہی کالے اسے کر چکی تھی۔۔۔۔۔
لیکن کوئی جواب نہیں مل رہا تھا۔۔۔
اس نے سلطان کی وجہ سے کچھ دنوں کے لیے اپنا نمبر بند کر دیا تھا۔۔۔۔۔۔
اور اب سم چینج کی تھی۔۔۔۔۔
لیکن اب جب ان کیا تھا۔ائری سے رابطہ نہیں ہو رہا تھا۔۔۔
اسے بہت ٹینشن ہو رہی تھی۔۔۔۔۔۔
وہ جانتی تھی کہ ائرہ یہاں پہ کسی کو نہیں جانتی تھی۔
اور اب نہ جانے کہاں ہو گی۔۔۔۔۔۔
_________
کہاں کی تیاری ہے۔۔۔۔
ائرہ جو ابھی اخل کے فلائٹ سے کچھ ہی دور گئی تھی اخل نے گاڑی کی بریک لگائی اور اسے بازو سے پکڑ کر پوچھا۔۔۔
وہ اتنا اچانک سے ایا تھا کہ ائرہ کو بھاگنے کا موقع ہی نہیں ملا۔۔۔۔
م۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ بولتے بولتے لفظوں کو پے گئی تھی۔۔۔۔۔
ہاں بولو۔۔۔۔گرفت مضبوط کرتے ہوئے اخل چلایا تھا۔۔۔۔
مجھے قرت نے باہر نکال دیا۔۔۔
وہ شدید غصے میں تھا۔۔۔
یہ سننے کے بعد تھوڑا نارمل ہوا۔۔۔۔۔۔
تم سچ کر رہی ہو یا یہ تمہاری بنائی ہوئی کوئی کہانی ہے۔۔
میں سچ کہہ رہی ہوں اب چھوڑ دو۔۔
ویسے بھی میں تمہارے ساتھ نہیں رہنا چاہتی میں اپنی دوست کے پاس جا رہی ہوں۔۔۔۔
اچھا اس دوست کے پاس جس نے سلطان کے ڈر سے تمہیں
گھر سے باہر نکال دیا۔۔۔۔
اور پھر واپس تمہاری خبر ہی نہیں لی۔۔۔۔۔۔
تنز کرتے ہوئے اخل نے اس کی انکھوں میں دیکھا۔۔۔
ائرہ کے پاس اس کے کسی سوال کا جواب نہیں تھا۔۔۔
تھوڑی سی دیر میں وہ دونوں فلیٹ پہنچ چکے تھے۔
اور اخل نے قرت کی اچھی خاصی کلاس لے کر اسے گھر سے نکالا تھا۔۔۔
_____
استاد اپ کو اپ کے پیسے مل گئے اور زیادہ مل گئے تو اپ اس لڑکی کا پیچھا چھوڑ کیوں نہیں دیتے۔۔۔
اس کا پیچھا میں چھوڑ دیتا اگر وہ مجھے نہ ملتی۔۔
لیکن مجھے سمجھ نہیں ارہا۔۔
یہ اخل میلان کو کیا ضرورت پڑی۔مجھے نہیں لگتا کہ اس کے پاس لڑکیوں کی کمی ہے۔۔۔
یہ بات سلطان کے ذہن میں اٹکی ہوئی تھی۔۔۔۔
وہ پیسوں سے بھی مطمئن نہیں لگ رہا تھا۔۔۔۔
لیکن وہ اخل میلان کو بھی اچھے سے جانتا تھا ۔ وہ جانتا تھا کہ وہ اس سے زیادہ طاقتور ہے۔۔
اور اس کے باپ کا بہت نام چلتا ہے۔۔۔
_______
اخل کو ائرہ مسلسل اپنی طرف کھینچ رہی تھی اور وہ نہیں جانتا تھا کہ یہ اس کے ساتھ کیا ہو رہا ہے۔۔۔۔۔
اس کا کنٹرول نہیں رہا تھا۔خود ہے شاید۔۔۔۔۔۔
وہ بے چین ہوتا جا رہا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
______________
تم مجھے۔۔۔۔
بولو۔۔۔۔۔اخل نے ایسے چپ ہوتا دیکھا۔تو پھر سے سوال کیا۔۔۔
وہ باہر گارڈن میں بیٹھی ہوئی تھی اور اخل ابھی ہی اسے دیکھتے ہوئے وہاں ایا تھا۔۔۔۔۔۔۔
تم مجھے کیوں قید کرنا چاہتے ہو میں تمہاری کس کام کی ہوں۔۔۔۔
جو ڈر کے مارے پہلے چپ ہو گئی تھی اب ایک دم سے بولی تھی۔۔۔
تم بڑے کام کی چیز ہو۔۔اس نے ہنستے ہوئے کہا اور اس کے سامنے ا کے بیٹھا۔۔۔۔
ائرہ اس کے جواب سے ڈر گئی تھی۔وہ ہاتھ جو اس نے چیئر پہ رکھا تھا اٹھا کے اپنی گود میں رکھا اور سکر کے بیٹھ گئی۔۔۔۔
ائرہ۔۔۔۔۔
اب لہجہ تھوڑا چینج ہوا تھا۔۔۔۔
وہ اس کی انکھوں میں دیکھ رہا تھا۔اور شاید اس کی بے بسی محسوس کر رہا تھا۔۔۔۔۔۔
کیا ہم اچھے دوست بن سکتے ہیں۔اس نے ہاتھ ائرہ کی طرف بڑھایا تھا۔۔۔۔
لیکن ائرہ نے اپنا رخ دوسری طرف کیا۔۔۔
وہ اچھے سے جانتی تھی۔اخل کو تو کیسے یقین کر لیتی۔۔۔۔
میں جانتا ہوں میں بہت فلرٹی انسان ہوں۔۔
اسے یوں سوچتے دیکھ کر وہ بولا۔۔۔
لیکن تم مجھ پر یقین کر سکتی ہو۔۔۔
یہ دنیا بہت خراب ہے اور تم بہت معصوم ہو۔۔۔
ائرہ نے روخ دوسری طرف کر لیا تھا جیسے اس کی باتیں کا
کوئی اثر نہیں ہو رہا۔۔۔۔
تمہاری اتنی زیادہ گرل فرینڈز ہیں۔تمہیں کیا ضرورت پڑی ہے مجھ سے دوستی کرنے کی۔۔۔
وہ گل فرینڈز ہیں میں تمہیں دوست بنانا چاہتا ہوں۔۔۔
اور تمہارے ساتھ میرا فلرٹ کرنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔۔۔۔
یہ فلرٹ ہی تو کر رہے ہو تم۔۔۔۔
نہیں۔۔۔۔اس کی بات کاٹتے ہوئے بولا۔۔۔۔
میں دل سے دوستی کرنا چاہتا ہوں۔۔۔
ائرہ نے نظر اٹھا کر اسے دیکھا۔لیکن اس کے پاس اپشن ہی کیا تھا وہ ہاں ہی کر سکتی تھی کوئی اپشن نہیں تھا۔اسے سچ میں ضرورت تھی کسی کی۔لیکن اخل پہ اعتبار کرنا ناممکن تھا۔پر وہ صرف دوستی کی تو ڈیمانڈ کر رہا تھا۔۔۔۔۔
اس نے گردن ہلائی۔۔۔۔
اور ہاں کی۔۔۔۔۔۔۔
لیکن اس کا ڈر کم نہیں ہوا تھا۔۔۔
اس کا دل مطمئن نہیں تھا۔۔۔۔۔
کافی دیر خاموش رہنے کے بعد اس نے خاموشی توڑی۔۔۔۔۔
قرت کو منایا نہیں ۔ائرہ کے دماغ میں یہی ایا تو اس نے پوچھ لیا ۔۔۔۔
خود ہی ا جائے گی۔۔
کیوں تمہیں فکر نہیں ہو رہی۔۔۔
نہیں اس نے ہنستے ہوئے کہا۔اس نے تو اندر سے شکر منایا تھا کہ اس سے جان چھوٹی ہے۔۔۔
اس سے پہلے ائرہ کچھ اور سوال کرتی۔۔
اس پارٹی والی لڑکی کی امد ہوئی۔جو اس دن پارٹی میں اخل کے ساتھ تھی۔۔۔۔۔
اخل۔۔۔۔۔۔
اس کے اتے ہی اخل کھڑا ہوا تھا اور اسے ملا تھا۔۔
اس سے پہلے کہ وہ ائرہ کو انٹروڈیوس کرواتا ائرہ اپنے کمرے کی طرف جانے لگی۔اس نے بھی روکنا مناسب نہیں سمجھا۔۔۔۔
وہ لڑکی بھی ائرہ کو قرت کی نظروں سے دیکھ رہی تھی۔جیسے کچا چبا جائے گی۔۔۔
کتنا ٹھرکی ہے یہ۔ائرہ نے دل ہی دل میں سوچا تھا اور اپنے کمرے کی طرف جانے لگی ۔۔۔۔۔
صبح قرت اور اب یہ اس نے مڑ کر ایک دفعہ پیچھے دیکھا تو اخل اسے ہی دیکھ رہاتھا۔ ائرہ کے پیچھے دیکھتے ہی اس نے سمائل کی۔وہ لڑکی اس کی باہوں میں ہی تھی ابھی۔۔۔
ائرہ نے کوئی ری ایکٹ نہیں کیا تھا اور سیدھا اپنے کمرے میں چلی گئی۔۔۔۔
جب کے اس لڑکی کے ساتھ ہوتے ہوئے بھی اخل کا دھیان ائرہ کی طرف تھا۔۔
نہ جانے کتنی دفعہ اس نے گردن کو موڑ کر ائرہ کے کمرے کی طرف دیکھا تھا۔۔۔۔۔
وہ لڑکی جو اخل کو ڈنر پہ لے کے جانے کے لیے فورس کر رہی تھی۔بہت مشکل سے اس نے ٹالا۔۔۔۔
اس کے جاتے ہی اس نے ائرہ کے کمرے کی طرف کرنا چاہا لیکن رات بہت ہو گئی تھی اور وہ جانتا تھا کہ وہ سو چکی ہوگی ۔۔۔۔
اس نے ہاتھ دروازے پہ رکھتے رکھتے پیچھے کیا تھا۔۔۔۔
اور پھر کچھ سوچنے کے بعد وہ اپنے کمرے میں چلا گیا تھا۔۔۔۔
____________
صبح ہوتے ہی ائرہ کا دھیان موبائل کی طرف گیا سب سے پہلے تو اس نے جلدی سے موبائل اٹھایا تو ایک انون نمبر سے کافی کالز ائی ہوئی تھی۔۔۔۔
اس نے بنا کچھ سوچے اسی نمبر کو ڈائل کیا کیونکہ وہ جانتی تھی کہ یہ الفت ہی ہوگی۔۔۔۔۔
الفت۔۔۔۔۔
تھوڑی ہی دیر میں فون اٹھا لیا تھا الفت نے اس کی اواز سنتے ہی بے ساختہ اس کے منہ سے نکلا۔اس نے بلینکٹ کو پیچھے گرایا اور ایک دم سے اٹھ کر کھڑی ہو گئی۔۔۔۔
تم نے اپنا نمبر کیوں بند کر دیا تھا میں کتنی پریشان ہو رہی تھی۔
وہ سلطان ایا تھا۔
کیا سلطان ائرہ ڈرتے ہوئے بولی۔۔۔
تم کہاں ہو بتاؤ مجھے تمہاری فکر ہو رہی ہے الفت نے بھی سوال پہ سوال کیا۔۔۔
میں۔۔۔۔۔۔۔
ائرہ نے نظر کمرے کی طرف گھمائی۔۔۔
میں اسی اخل کہ گھر ہوں میں نے تمہیں بتایا تھا جس کے بارے میں نے تمہیں بتایا تھا۔۔۔
کیا الفت شوکٹ ہوئی تھی۔۔۔
کیا مطلب ہے اس نے موبائل کو ایک کان سے دوسرے کان پہ لگایا۔۔۔
تھوڑی ہی دیر میں ائرہ نے اسے ساری داستان سنا دی تھی۔
تم شام کو مجھ سے ملو میں تمہیں بتاتی ہوں کہ کیا کرنا ہے۔
کیا میں تمہارے پاس واپس نہیں ا سکتی ائرہ نے معصومیت سے پوچھا۔۔۔۔
کیونکہ اب وہ اور یہاں نہیں رہنا چاہتی تھی۔۔۔
دیکھو میں تمہیں بتا چکی ہوں کہ سلطان ایا تھا یہ پوسیبل نہیں ہے۔
الفت نے صاف لفظوں میں انکار کر دیا تھا۔ائرہ کا دل ٹوٹ گیا تھا کیونکہ وہ اخری امید تھی۔۔۔۔
