Ayra by Aneeta NovelR50474 Ayra Episode 23
No Download Link
Rate this Novel
Ayra Episode 23
Ayra by Aneeta
اخل کو سب بکھرتا ہوا محسوس ہو رہا تھا۔۔۔۔۔
ائرہ کا وہ مظلوم چہرہ اس کی انکھوں کے گرد گھوم رہا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ مشکل سے گھر تک ایا تھا۔۔۔۔۔۔
گھر میں داخل ہوتے ہی اس کی نظر سب سے پہلے ائرہ کے بیکنگ روم پہ پڑی۔اب وہ اس کی انکھوں کے اگے مچلنے لگی تھی وہ اس کی ہنسی وہ اس کی سمائل۔وہ جب پہلی دفعہ اس نے اسے سرپرائز دیا تھا۔۔۔۔۔۔۔
اس کا کیک بنانا۔وہ باری قدموں سے اس کمرے تک ایا تھا۔
اس کی ہنسی اس کے کانوں کے گرد گونج رہی تھی۔۔۔
وہ اسے ایسے دیکھ رہا ہے جیسے وہ سامنے کھڑی ٹیبل پہ کیک بنا رہی ہے۔۔۔۔
ائرہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ جلدی سے اندر ایا لیکن کوئی نہیں تھا وہ غائب ہو چکی تھی۔۔۔۔۔۔
دیوار پہ لگی اس کی کیکس کی پکچر۔۔۔۔۔
اس نے گردن کو پیچھے گھمایا تھا دیوار کے پاس جاتے ہوئے ہر پکچر کے اوپر ہاتھ پھیرا تھا اس نے۔۔۔۔۔۔
یہ کیا کیا تم نے۔۔۔۔
کیا کیا اخل۔۔۔۔۔۔۔
وہ زور سے چیخا تھا۔۔۔۔۔۔
ایمن اور بشرا بیگم جا چکے تھی پاکستان۔۔۔۔۔۔
وہ وہیں زمین پر بیٹھ گیا تھا۔۔۔۔۔۔۔
استین کے بٹن اور شرٹ کے اوپر والے بٹن کھلے ہوئے تھے بال بکھرے ہوئے تھے چہرہ مر جایا ہوا تھا۔۔۔۔۔
یہ گھر کا سناٹا اسے اندر سے چیر رہا تھا۔۔۔۔۔
وہ کتنا اعتماد کرتی تھی اس گھر میں اس کے ساتھ اکیلی رہتی تھی۔بنا کسی رشتے کے۔۔۔۔۔
اسے گھر کے ہر کونے سے اس کی اواز سنائی دے رہی تھی۔
وہ کچن میں کھانا بناتی وہ لانچ میں ٹہلتی۔۔۔۔
بات بات پہ تنگ کرتی۔۔۔۔۔
موبائل کے لیے بات بات پہ لڑنا اس کا۔۔۔۔
کھانا نہ بنانے کی ضد اس کی۔۔۔۔
اس کا ڈرنا۔۔۔۔۔
وہ پہلے دن کا ڈر۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ائرہ۔۔۔۔۔۔۔
وہ بھاگتا ہوا اس کے کمرے میں ایا تھا۔۔۔۔۔
اسے لگا وہ کمرے میں ہے اس کی اواز نے اپنی طرف کھینچا تھا۔۔۔
لیکن کمرہ تو بالکل حالی تھا۔۔۔۔۔۔
صرف سامان تھا۔۔۔۔
اس کے کپڑے اس کا موبائل۔۔۔۔۔
اس کمرے میں ہر چیز اس کی تھی۔
کتنے مان کے ساتھ وہ اسے اپنا کمرہ کہتی تھی۔۔۔
باڑی قدم اٹھاتا وہ بیڈ کے پاس ایا۔۔۔۔
وہ وہاں پہ اسے موبائل کے لیے ضد کرتی نظر ا رہی تھی۔۔۔
تم نے اسے عدنان کے حوالے کر دیا ہے اخل کیوں۔۔۔۔۔۔۔۔
کیوں مارا اسے۔۔۔۔
کیوں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اس نے ہاتھ دیوار پہ دے مارا تھا۔۔۔۔
_____
وہ پاکستان پہنچ چکے تھے۔۔۔۔۔۔
لیکن پاکستان میں اتڑتے ہی ائرہ نے سامنے مہرو اور علی کو دیکھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کچھ بندوں نے پکڑا ہوا تھا۔۔۔۔۔
مہرو۔۔۔۔۔۔۔۔
علی۔۔۔۔۔۔۔۔
ائرہ چہخی تھی۔۔۔۔۔۔۔
ائرہ اگے بڑی ہی تھی کے اس نے پستل اون کر لی۔۔۔۔۔
نہیں۔۔۔۔۔
بابا۔۔۔۔۔
عدنان بیٹوں کو تو کچھ نہیں سمجھتا تھا پر علی میں اس کی جان بستی تھی ۔۔۔۔۔
وہ بھاگتا ہوا علی کے پاس جانا چاہتا تھا۔۔۔۔۔
علی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
میں نے تمہارے لیے کام کیا ہے تم یہ صلہ دے رہے ہو۔۔
وہ وہی تھے جن کے کہنے ہے اس نے اخل کی بہن کو مارتھا۔۔۔
ائرہ سمجھ گئی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔
اپی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آپی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔15 سال کی مہرو 13 سال کا علی ۔۔۔۔۔
نہیں خدا کا واسطہ ہے انہیں کچھ مت کرو نہیں۔۔۔۔۔
وہ مشکل سے چلتی ہوئی ان کے پاس ا رہی تھی۔۔۔۔۔
بابا۔۔۔۔۔۔۔۔
دیکھو چھوڑ دو انہیں عدنان نے ہاتھ جوڑے ان کے ا گے۔۔۔۔
کچھ بولنے سے پہلے ہی ان نے مہرو اور علی کو مار دیا ۔۔۔
نہیں۔۔۔۔۔۔
ائرہ کے اگے بڑھنے سے پہلے ہی وہ گولی چلا چکے تھے۔۔۔۔۔
علی۔۔۔۔۔۔
عدنان نے دونوں ہاتھ سر پہ رکھے۔۔۔۔۔۔۔
وہ اتنا پیسہ علی کے مستقبل کے لیے ہی تو جمع کر رہا تھا۔
پر اج نہ پیسہ بچہ نہ علی۔۔۔۔۔
اپنی لالچ کی وجہ سے اپنے بیٹے کو کھو دیا تھا اس نے ۔۔۔
تم نے دھوکہ دیا ہے عدنان دھوکا وہ پینٹ کوٹ میں ملبوس ادمی عدنان کے پاس ایا تھا۔۔۔۔
اب تو بھی مارے گا اور تری یہ بیتی ہمارے ساتھ چلے گی۔۔۔۔
اس نے تین گولیاں اس پے چلا دی۔۔۔
ائرہ تو پہلے ہی مہر علی کی وجہ سے صدمے میں تھی۔۔۔
ان گولیوں کی نہ ہی تو اس نے اواز سنی تھی اور نہ ہی اس پہ کوئی اثر ہوا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔
سب حتم ہو گیا بابا۔۔۔۔۔۔
سب۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ ائرہ کو پکڑنے ہی لگے کے پچھے سے گولیاں چلی ان پے۔
وہ بندے جو واصف نے ان کے پچھےبھیجے تھے۔۔۔۔۔۔۔۔۔
___
عدنان کی بیٹی اور بیٹے سمت عدنان کو بھی مار دیا انھوں نے ۔۔۔۔۔۔۔
بیٹی۔۔۔۔۔۔۔
اخل اک دم سے اٹھا تھا۔۔۔۔۔
اس نے دل پہ ہاتھ رکھا۔۔۔۔۔
ائرہ۔۔۔۔۔۔۔۔
ان کی چھوتی بیٹی۔۔۔۔۔۔۔
۔۔
مہرو۔۔۔۔۔۔
اسے یہ بھی سن کے دکھ ہوا تھا ۔۔۔۔
ائرہ کتنا بے تاب تھی ان سے ملنے کے لیے۔۔۔۔۔
ائرہ کدھر ہے۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ اسے اپنے ساتھ لے جانے لگے تھے لیکن وہ موقع پر ا گئے۔۔
میلان کامران سر نے کہا ہے کہ اسے چھوڑ دیا جائے۔۔۔۔۔۔
___
دو سال گزر گیے تھا۔۔۔۔۔۔۔
ائرہ مشکل سے ان سب سے نکل پائی تھی۔۔۔۔
تم نے پھر سے میرے کپڑے پہن لیے ائرہ۔۔۔۔۔
اماں اپ اسے کچھ کہتی کیوں نہیں۔۔۔
خالدہ جو ابھی ہی کام سے تھک کر بیٹھی تھی نے غصے سے خرا کو دیکھا۔۔۔۔۔
خالدہ کی ایک ہی بیٹی تھی خرا خود سر اور بدتمیز۔۔۔
تمہیں اس بیچاری سے مسئلہ کیا ہے۔۔۔
وہ نئے کپڑے لے تو بھی مسئلہ اور وہ اگر تمہارے پرانے پہنے تو بھی مسئلہ۔۔۔
پھوپھو جانے دے نہ اور ان کے پاس ا کے بیٹھی میں اتار دوں گی۔۔۔۔
اس واقعے نے اسے بہت بدل دیا تھا۔۔۔۔
مہرور علی کی یاد میں۔۔۔۔۔
انہیں ماں بن کے پالا تھا اس نے۔۔
یہ ذمہ داری اس پے بہت چھوٹی عمر سے پڑ گئی تھی۔
لیکن پھر بھی اس نے بڑی بہن ہونے کا فرض نبھایا تھا۔۔۔۔
پتہ نہیں کب تک ہمارے سر پہ سوار رہے گی مفت کی روٹیاں توڑے گی. ابو بالکل ٹھیک کہتے ہیں شادی کر دیں اس کی جان چھوٹے …۔
اس گھر میں صرف خالدہ بیگم تھی جو اس کی خیر ہوا تھی۔اکبر کو ائرہ کی روٹیاں چمتی تھی اور خرا تو شروع سے ہی پسند نہیں کرتی تھی۔۔۔۔
_____
وہ ابھی افس سے ایا تھا۔۔۔۔۔
ٹائی کو نیچے کرتے ہوئے کوٹ اتار کر اس نے استین کے بازو اوپر چڑھائے۔۔۔۔۔
وائٹ شرٹ کے اوپر نیلا کوٹ اور نیچے نیلی ہی پینٹ تھی۔۔۔
ارادہ تو اس کا اپنے کمرے میں جانے کا تھا لیکن ائرہ کے روم کے سامنے وہ رک گیا تھا۔۔۔۔۔۔
ایسا کوئی دن نہیں گزرا تھا جب وہ اس کمرے میں نہیں اتا تھا۔۔۔۔۔۔
ائرہ کی ہر چیز اس نے ویسے ہی سنبھال کر رکھی تھی۔
لیکن اس کے سامنے جانے کی اسے منانے کی ہمت اب اس میں نہیں تھی مناتا بھی تو کس منہ سے مناتا جاتا بھی تو کس منہ سے جاتا ۔۔۔۔۔
ایک نظر دیکھنے کے بعد وہ اپنے کمرے میں چلا گیا۔۔۔
وہ بہت بدل چکا تھا۔۔۔۔
بہن کے غم میں اس نے خود کو جتنا بگاڑا تھا۔
ائرہ کے غم میں وہ خود کو اتنا ہی سنوار چکا تھا۔۔۔
اپنی ذات میں مگن رہتا تھا۔۔۔۔
برے دوستوں سے کنارہ کر چکا تھا۔۔۔۔
لیکن جو ہمیشہ زندہ رہتی تھی وہ تھی اس میں ائرہ۔۔۔
اس کی یاد جب شدت پکڑتی تو وہ وائن کا سہارا لیتا تھا۔
یہ پچھتاوا کبھی کبھار تو اس کی جان لینے کو تلتا تھا۔۔۔
اس کی بھوک اس کی پیاس اس کا درد۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ کتنا ظالم بن چکا تھا۔۔۔۔۔۔
اسے کیوں نظر نہیں ایا کچھ۔۔۔۔
وہ ائرہ تھی کوئی اور نہیں تھی۔۔۔
کیوں کیا اس نے یہ سب۔۔۔۔۔۔۔
وہ بالکل پاگل ہو جاتا تھا۔۔۔۔
وہ سال میں ایک دفعہ ہی پاکستان گیا تھا۔۔۔۔
پر واصف کو دیکھ کر اس کا خون کھولتا تھا۔۔۔۔
_$____$
تمہارے کیک بکتے تو ہیں نہیں ایسے ہی بناتی رہتی ہو پیسے ضائع کر رہی ہو تم میرے ابو کے۔۔۔۔
وہ طنز کرتے اندر ائی۔۔۔۔
گھنگرالے بال گہری لپسٹک۔لمبے نیلز۔
ملبل کا سمپل سا گلابی سوٹ پہنا تھا اس نے۔۔
ائرہ اس کی باتوں کو اگنور کرتے ہوئے اپنے کام میں مصروف تھی۔۔۔
یہ پیسے میں نے پھپو سے لیے تھے۔۔
تو تمہاری پھپھو کیا بینک میں نوکر لگی ہے۔
یا کسی ملٹی نیشنل کمپنی میں کام کرتی ہیں۔
ائرہ کا پہلے ہی ایک کیک خراب ہو چکا تھا اب اسے اس کی باتوں پہ غصہ ا رہا تھا۔۔۔۔
اتنے میں دروازے پہ دستک ہوئی ان کا گھر چھوٹا سا تھا۔۔۔
اب کون اگیا خرا نے ایک نظر اسے دیکھا اور پھر باہر چلی گئی۔۔۔
اس نے دروازہ کھولا تو دروازے کے باہر ایک بڑی سی گاڑی کھڑی تھی۔سوٹ پینٹ میں ملوث۔ادمی جس نے اپنا رخ دوسری طرف کیا ہوا تھا۔۔۔۔
خرا نے فورا سے دروازہ بند کیا۔۔۔۔۔۔
اپنے بالوں کو دونوں طرف سے اگے کیا۔۔۔
لپسٹک تو اتر گئی ہوگی وہ بھاگتی ہوئی کمرے میں گئی۔۔۔
لپسٹک کو ڈارک کیا دوپٹہ تبدیل کیا۔۔۔۔
اور پھر بھاگتی دروازے کے پاس ائی۔۔۔۔۔۔
ایک لٹ ماتھے پہ ٹھکائی۔۔۔۔
جی کس سے ملنا ہے اپ نے اسے بہت ہی پیار سے مخاطب کیا تھا۔۔۔۔۔
اس نے رخ خرا کی طرف کیا اور انکھوں سے کالا چشمہ اتارا۔۔۔
وہ کوئی اور نہیں اسد تھا۔۔۔۔
کیا مس ائرہ یہیں رہتی ہیں۔۔۔
خرا نے پہلے تو اسے سر سے لے کے پاؤں تک دیکھا اور پھر ہاں میں گردن ہلائی۔۔۔۔
اپ ائیں نا باہر کیوں کھڑے ہیں۔۔۔
اسے سپنوں کا راج کمار لگ رہا تھا۔۔۔۔۔۔
اس نے نہ اؤ دیکھا نہ تاؤ دیکھا اور اسے اندر لے ائی۔۔۔۔
اپ یہاں بیٹھے میں ائرہ کو لے کر اتی ہوں۔۔۔۔
وہ اسے بٹھانے کے بعد کچن میں ائی۔۔۔۔
امی کو تو تم بہت ہی شریف لگتی ہو۔۔۔۔
باہر تمہارا عاشق ہے۔۔۔
بہت ہی اونچی جگہ ہاتھ مارا ہے ویسے۔۔۔
کون ایا ہے۔۔۔
پینٹ کوٹ پہننے کوئی لڑکا ہے۔۔۔
اس کا دل درکنے لگا تھا کہ کہیں اخل یا وہ ان لوگوں میں سے تو کوئی نہیں ایا۔۔۔۔
اب ا بھی جاؤ حرا نے اسے بازو سے پکڑا اور باہر کی طرف لے کر ائی۔۔۔۔۔
اتنے برے خلیے میں دیکھے گا خود ہی بھاگ جائے گا اس نے اندر ہی اندر سوچا۔۔۔۔
اسد۔۔۔۔
خرا کے ہاتھوں سے اپنے بازو کو چھڑوایا اس نے۔۔۔
مس ائرہ۔۔۔۔۔۔۔
وہ کھڑا ہوا تھا۔۔۔
میں چائے لے کر اتی ہوں وہ بھاگتی ہوئی کچن میں گئی تھی اسے امپریس کرنے کے جھکر وں میں ویسے تو وہ کام کو ہاتھ بھی نہیں لگاتی تھی۔۔۔۔۔۔
وہ سب گزر گیا ہے میں اس پہ بات نہیں کرنا چاہتی۔۔۔
ائرہ بہت بدل گئی تھی۔اس ائرہ نے بہت ہی پتھر دل کر لیا تھا۔کسی کی مہربانیوں کا احسانوں کا اس پہ کوئی اثر نہیں ہوتا تھا۔اخل کی مہربانیوں نے اسے گہرا ضرب لگایا تھا۔۔۔۔۔
کیا اب دوبارہ سے ہمارے ساتھ کام کرنا چاہیں گی۔۔۔
ہمیں خوشی ہوگی مسں ائرہ۔۔۔
نہیں اسد میں خود اپنا بزنس کرنا چاہتی ہوں میں خود سے اپنے کیک بنانا چاہتی ہوں میں کسی کو نہیں دینا چاہتی۔۔۔
مجھے بہت اچھا لگا اپ خیریت معلوم کرنے یہاں تک ائے اپ جا سکتے ہیں۔۔۔۔
اسد کے پاس اب کوئی جواز نہیں تھا رکنے کا تو اس نے بھی جانا مناسب سمجھا۔۔۔
اسد نے بڑی کھوج کے بعد اسے ڈھونڈا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔
اس کے ساتھ جو ہوا تھا وہ سب جانتا تھا۔۔۔۔۔۔۔
شاید اسی لیے بحث نہیں کرنا چاہتا تھا۔۔
یہ کارڈ رکھ لیں اگر کبھی اپ کا دل کیا۔اور یہ بات یاد رکھیے گا کہ میں منتظر ہوں اپ کا۔۔۔۔۔
اس نے کارڈ تو لے لیا تھا لیکن اس کا کوئی ارادہ نہیں تھا۔۔۔
تم پاگل ہو گئی ہو کب تک مفت کی روٹیاں توڑتی رہو گی اگر ایک جاب ملی ہے نا تو اسے قبول کرو اور کل سے اس کے جو بھی کہہ رہا ہے وہاں پہ جاؤ۔۔۔۔
اس نے بات ٹھیک سے سنی نہیں تھی بس اسے مشورے دے رہی تھی۔۔۔
خرا نے چائے کا کپ ٹیبل پر رکھا اور غصے سے چلائی۔۔۔
اکبر جو ابھی ابھی کام سے ایا تھا اس کے چلانے پہ ان دونوں کے پاس ایا تو خرا نے اسے ساری بات بتا دی۔۔۔۔۔۔
یہ بالکل ٹھیک کہہ رہی ہے تم کل سے جاؤ گی۔۔۔۔
ائی سمجھ۔۔۔
____
اس نے چار دن پہلے ہی کیکس بنانا شروع کیے تھے۔۔۔
وہ اس صدمے سے مشکل سے نکلی تھی۔۔۔
اخل سے نفرت سے بھی اگے کوئی لفظ ہوتا تو وہ وہ کرتی تھی۔۔۔
سب کچھ چھین لیا تھا اس نے اس سے۔۔۔۔۔۔
انہی سوچوں کو لے کر وہ لیٹی ہی تھی۔۔۔
کے اس نے انسٹاگرام کھولی۔۔
تو اسے ایک ائی ڈی سے 50 کیکس کا ارڈر ملا تھا۔۔۔۔
رات کے 12 بجے تھے وہ حیران ہوئی۔۔۔۔
کہ ایک ساتھ 50 کا ارڈر۔۔۔۔۔
اور ساتھ میں اس نے اکاؤنٹ بھی مانگا تھا ایڈوانس پیمنٹ کے لیے۔۔۔۔
یہ مذاق کر رہا ہے کوئی اس نے حیرانگی سے کہا۔۔۔
اور موبائل کو ایک سائیڈ پہ رکھ دیا۔۔۔
پھر موبائل نوٹیفکیشن ساؤنڈ کیا تو اس نے موبائل اٹھایا اسی اکاؤنٹ سے پھر میسج تھا۔۔۔۔
اپ نے کوئی جواب نہیں دیا۔۔۔۔
ائرہ نے کال کرنا مناسب سمجھا وہ اٹھی تھی کیونکہ خرا سو رہی تھی وہ باہر کی طرف ائی۔۔۔۔
اس نے اسی اکاؤنٹ پہ کال ملائی اور فون کان کے ساتھ لگایا۔
اپ ایک ساتھ اتنے ساتھ ارڈرز کر رہے ہیں۔۔۔۔
اپ نے تو میرا کیک چیک بھی نہیں کیا۔۔۔۔۔
وہ اخل تھا۔۔۔۔۔
دو سال دو مہینے بعد وہ اس کی اواز سن رہا تھا۔۔۔۔۔
موبائل پہ ہاتھ رکھ کر اس نے ایک لمبا سانس لیا تھا۔۔۔۔
۔اس کی اواز نے کتنا سکون پہنچایا تھا اسے۔۔۔۔۔
وہ اواز پہچان لےگی اس نے موبائل بند کیا۔۔۔۔۔
مجھے صبح تک چاہیے میں ایڈوانس پیمنٹ کروں گا۔
اپ اکاؤنٹس کی ڈیٹیل مجھے بھیج دیں۔۔۔۔
ائرہ تھوڑا حیران تھی لیکن اس نے اکاؤنٹ کی ڈیٹیلز بھیج دی تھی۔۔۔۔۔
وہ ہیرا اکاؤنٹ تھا۔۔۔
اس نے اپنے پیج کے ساتھ پہلے ہی لنک کر دیا تھا اس نے۔
ائرہ کو پتہ تھا کہ یا تو کوئی مذاق کر رہا ہے یا کیونکہ فون پہ بھی وہ کچھ نہیں بولا تھا۔۔۔۔
تھوڑی دیر باہر کھڑا ہونے کے بعد وہ اندر جانے ہی والی تھی کہ پھر سے موبائل ساؤنڈ کیا۔۔۔۔۔
اس نے پیمنٹ کا پروف بھیجا تھا۔۔۔۔
اور جتنی ائرہ نے ڈیمانڈ کی تھی پیسے اس سے کہیں زیادہ تھے۔۔۔۔
ائرہ نے پھر سے فون ملایا۔۔۔۔۔
اپ نے پیسے زیادہ بھیج دیے ہیں۔۔۔
میں نے اپ کو کیک کی پرائز جو اپ نے سلیکٹ کی ہے اس کی پرائز میں نے اپ کو بھیجی ہے۔۔۔۔۔
اپ کچھ بول کیوں نہیں رہے میں اپ سے بات کر رہی ہوں۔۔۔
اخل فون بند تو نہیں کرنا چاہتا تھا اواز کو سننا چاہتا تھا۔۔۔
پر وہ انسوں پہ بھی کنٹرول نہیں کر پا رہا تھا۔۔۔۔۔
میں جس جگہ پر ہوں یہاں پہ فون الاؤ نہیں ہے اس لیے۔
میں اپ کو ایڈریس دو گا وہاں اپ صبح پارسل بھیج دیجئے گا۔۔۔۔۔
اور پیسے نیکسٹ میں ایڈجسٹ کر لیں گے۔۔۔۔۔
ائرہ کو کام ہی تو چاہیے تھا۔۔۔
لیکن اسے سمجھ نہیں ا رہا تھا وہ خوش ہو یا اداس ہو۔۔۔
اخل کبھی بھی اس لاعلم نہیں رہا تھا۔
اس کی نظر تھی اس پر کئی لوگوں کو اس نے اس کے پیچھے لگایا ہوا تھا۔
اس نے چار دن پہلے کیکس کا بزنس شروع کیا تھا۔
وہ جان گیا تھا۔۔۔۔۔
وہ فائننشلی سپورٹ کرنا چاہتا تھا اس سے اور اس سے بہتر طریقہ نہیں تھا اس کے پاس۔۔۔۔۔
___
پلیز پھر سے فون کرو۔۔۔۔۔
وہ بے صبری سے موبائل کی طرف دیکھ رہا تھا تھا۔۔۔۔۔۔
ائی مس یو سو مچ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
لیکن یہ بے چینی کنٹرول سے باہر تھی۔۔۔۔
صبح کب تک مل سکتے ہیں اس نے میسج لکھ کر سینڈ کیا۔۔۔۔
وہ دبئی میں تھا لیکن اس نے پاکستان میں کسی ڈریس پہ منگوائے تھے اور انہوں بھی بتا دیا تھا کہ وہ یہ کیکس رکھ لیں۔۔۔
ائرہ جو لیٹی ہی تھی ایک دم سے ساؤنڈ پہ اس نے موبائل اٹھایا۔۔۔۔۔
اب وہ کم ہی سوتی تھی۔۔۔۔۔۔۔
میں کوشش کروں گی کہ جلدی بن جائے۔۔۔۔۔
