Ayra by Aneeta NovelR50474 Ayra Episode 18
No Download Link
Rate this Novel
Ayra Episode 18
Ayra by Aneeta
گزرتے گزرتے ادھی رات گزر گئی تھی۔۔۔۔
ائرہ دروازے کے اس پار کمرے میں بیٹھی تھی جبکہ اخل اس پار باہر بیٹھا تھا دونوں نے سر دروازوں کے ساتھ ٹھکائے ہوئے تھے۔۔۔۔
۔۔۔۔۔
ائرہ سر دروازے کے ساتھ جوڑے۔کبھی انکھیں بند کرتی تو کبھی کھولتی۔۔ اخل اسی کنڈیشن میں باہر بیٹھا تھا۔۔۔۔۔۔
کہ اتنی دیر میں ائرہ کا موبائل بجنے لگا۔۔۔
اس نے ایک نظر موبائل کو دیکھا۔۔۔۔
وقت بہت ہو گیا تھا۔۔۔۔
اٹھا کر کان کے ساتھ لگایا اسد کی کال تھی۔۔۔۔۔
اسد اپ نے اتنی رات کو کیوں فون کیا۔۔۔۔
وہ ابھی بولی ہی تھی کے اخل نے کہنی سے دروازے کو زور سے ہٹ کیا تھا۔۔
اسد کا نام سنتے ہی اسے غصہ اگیا تھا۔۔۔
اس کا فون اٹھانا ضروری تھا۔۔۔۔۔
ائرہ ایک دم حیران ہوئی کیونکہ وہ نہیں جانتی تھی کہ اخل یہی ہے۔۔رات کے تین بجنے والے تھے۔۔۔۔۔۔
تم یہیں ہو ابھی تک۔۔۔۔۔۔
اس نے موبائل بند کر دیا۔۔۔۔
ہاں یہیں ہو کیوں کیا ہے اس نے فون۔۔۔۔
رات کے اس ٹائم۔۔۔۔۔۔
مجھے نہیں پتہ بند کر دیا میں نے۔۔۔۔۔
بہن دینی ہے اس نے مجھے اور کچھ نہیں وہ غصے سے بولا تھا۔۔۔
تم گالیاں نکال رہے ہو۔۔۔۔
ہاں۔۔۔۔
دروازہ کھولو۔۔۔۔۔
اخل اسی پوزیشن میں بیٹھا ہوا تھا اس کی بات کو اگنور کرتے ہوئے اس نے کہا۔۔۔۔۔
مجھے بات نہیں کرنی تم سے۔۔۔۔۔ائرہ نے سخت لہجہ احتیار کیا۔۔۔۔۔
اوکے پھر اٹھ کر سائیڈ پہ بیٹھو مجھے دروازہ توڑنا ہے۔۔۔۔
وہ چاہتا تو کب سے دروازہ توڑ دیتا لیکن وہ دروازے کے پاس بیٹھی تھی۔۔۔۔۔۔۔
میں یہی ہوں توڑو۔۔۔۔
ویسے بھی تمہیں کیا پروا کسی کے درد تکلیف کی۔
تم تو ٹشو پیپر کی طرح یوز کرتے ہو لوگوں کو۔۔۔
اپنی ٹینشن سے نکل کر اسے وہ ویڈیو یاد اگئی تھی۔۔۔
اور مجھے بھی اپنی طرح سمجھتے ہو۔۔۔۔
اسد کے ساتھ جو تمہارا بیہیو تھا سب سمجھتی ہوں۔۔۔۔
کاش تم سمجھتی ہوتی۔۔۔اخل نے اسے وہیں فل سٹاپ لگایا
تم نے غلط کہا۔ائرہ نےسجدہ ہو کر کہا۔۔۔۔۔
کیا مطلب ہے اخل بھی سنجیدہ ہوگیا۔۔ اور اپناروخ دروازے کی طرف کیا۔۔۔
غور سے سننا چاہتا تھا۔۔۔۔۔
تمہیں یہ کہنا چاہیے کہ کاش میں تمہیں نہ سمجھتی ہوتی تو تمہارے ٹھرک پن میں ا جاتی۔۔۔
تم مجھے۔۔۔
وہ بولتے بولتے چپ ہوئی۔۔۔۔۔
میں تمہیں کیا بتاؤ۔۔۔۔۔۔۔
اس نے پوچھنا ضروری سمجھا۔۔۔۔۔
تم مجھے بھی اور لڑکیوں کی طرح استعمال کرنا چاہتے ہو۔۔
وہ ابھی بولی ہی تھی۔۔۔۔
اےےےےےےاخل نے درازے کو کہنی ماری ۔۔۔۔
شٹ اپ۔؟۔۔۔۔اخل نے شدید غصے میں کہا تھا۔۔۔۔۔۔
جسٹ شٹ اپ ائرہ۔۔۔۔ اخل نے دروازے کو پھرسے کہنی ماری۔۔۔۔۔۔
اسے غصہ ایا تھا اس کی محبت کے عقیدے کو وہ کیا نام دے رہی تھی۔۔۔۔
وہ اگے ڈری ہوئی تھی اس کے غصے سے اور ڈر گئی۔۔۔
چلو دروازہ کھولو جلدی۔۔۔۔۔
یہ اٹھ کر بیڈ پر بیٹھو میں توڑتا ہوں۔۔۔۔۔۔
ائرہ کا ذہن کہیں جگہوں پہ بھٹکا ہوا تھا۔۔۔۔
وہ اس کی باتوں پہ خاص دھیان نہیں دے رہی تھی۔۔۔
اوکے چلو ایز یو وش۔۔۔۔۔
تھوڑی ہی چوٹ لگے گی میں مرہم پٹی کر دوں گا۔۔۔۔
اسے اخل کے اٹھنے کا اندازہ ہو گیا تھا۔۔۔۔
تم کیا کرنے لگے ہو۔۔۔
اس نے سنجیدگی سے پوچھا اور ایک ہاتھ دروازے پہ رکھا۔۔۔۔۔
دروازہ توڑنے لگا ہوں۔۔۔۔۔
میں اگے بیٹھی ہوں۔۔۔۔۔
تو اٹھ جاؤ کہہ تو رہا ہوں کب سے۔۔۔
چلو جلدی کرو بس دو سیکنڈ۔اس نے شرٹ کو ٹھیک کرتے ہوئے کہا۔۔۔۔۔۔۔
ائرہ کو اندازہ تھا کہ وہ کتنا کی مینٹل ہے۔۔۔۔۔۔
وہ اٹھ کر بیڈ پر بیٹھ گئی تھی۔۔۔۔۔
پر اسے ڈر بھی لگ رہا تھا۔۔
محروج کا پھر اخل کا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اخل کو بھی اس کے اٹھنے کا اندازہ ہو گیا تھا۔۔۔
دروازہ نہیں کھولنا۔۔۔۔
اس نے خود سے ہی سوال کیا۔اور اس کی بے وقوفی پر اسے دات دینے لگا پھر ایک زور سی ہٹ دروازے کو لگائی۔۔۔
۔
ائرہ کا چہرہ اترا ہوا تھا رو رو کے انکھوں کو بھی سجایا ہوا تھا۔۔۔
اخل دیکھتے ہی پریشان ہو گیا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔
میری ویڈیو وائرل ہونے کا مجھے اتنا دکھ نہیں ہے جتنا دکھ تم لے کر بیٹھی ہو۔۔۔۔۔
وہ اس کے پاس ا کے بیٹھا تو وہ تھوڑی سی سہمی۔۔۔۔
کہیں دل میں فیلنگز تو نہیں چھپائے بیٹھی۔۔۔۔
جو اتنی جیلس ہو اس لڑکی سے۔۔۔۔
وہ ہنستے ہوئے اس سے پوچھ رہا تھا شاید اس کا موڈ اچھا کرنا چاہتا تھا۔۔۔۔۔
ایسا کچھ نہیں ہے۔۔۔۔
اخل پلیز مجھے میرے حال پہ چھوڑ دو۔۔
وہ اسے سمجھ نہیں پا رہی تھی۔بلکہ اسے کچھ بھی سمجھ نہیں ا رہا تھا۔۔
میں بہت ابسیٹ ہوں۔
میں سیٹ کرنے ایا ہوں نہ۔۔۔۔۔۔
اس کا بازو پکڑا اور کھڑا کیا۔۔۔۔
اخل پلیز۔۔۔۔۔۔
وہ بہت ڈری ہوئی تھی۔۔۔۔
کیا ہوا ہے۔۔۔۔۔
اتنی سی بات کا اتنا بڑا ایشو بنا لیا تم نے۔۔۔۔۔
کچھ نہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
میں بس اکیلے رہنا چاہتی ہوں۔۔۔۔۔
اس سے پہلے کہ وہ کچھ اور بولتا ائرہ کا موبائل بجنے لگا تھا محروج کی کال تھی۔۔۔۔
ائرہ نے ایک دم سے سکرین کو اپنی طرف کیا۔۔۔۔۔
اخل تھوڑا پریشان ہوا تھا کہ وہ کیا چھپا رہی ہے۔۔۔
کون ہے۔۔۔۔۔۔۔
کو۔۔۔۔۔۔کوئی نہیں۔۔۔۔۔۔
ایک کلائند کی کال ہے وہ کیک کا ارڈر تھا بنانا تھا میں نے نہیں بنایا۔۔۔
بس ابھی وہی بار بار کال کر رہا ہے وہ تھرتھراتے ہوئے بول رہی تھی۔۔
تو کال پک کر کے بولو نہیں بنا۔۔۔
دو میں بات کرتا ہوں وہ سوالیہ نظروں سے اسے دیکھ رہا تھا ہاتھ اگے بڑھایا تھا اس نے۔۔۔
نہیں۔۔۔۔۔۔۔۔
میں نے بند کر دیا ہے۔۔۔۔۔
______
یہ کال کیوں نہیں اٹھا رہی کہیں اس نے بتا تو نہیں دیا اس کو۔۔۔۔
نہیں یہ غلطی نہیں کر سکتی۔۔۔۔۔
محروج نے موبائل کو دیکھتے ہوئے کہا۔۔۔۔۔
اس نے کچھ ڈاکومنٹس اسے واٹس ایپ پر سینڈ کیے انفارمیشن تھی اس کی فیملی کی۔۔۔۔۔
گھر کا ڈریس ہر چیز۔۔۔۔۔۔
______
کھانا تو ٹھیک سے کھاؤ اب۔۔۔۔
اس کے کہنے پہ اس نے کانٹا اٹھایا ہی تھا کہ موبائل کی میسج کی ٹیون بجی۔۔۔۔۔۔
اس نے فورا سے پہلے موبائل ہاتھ میں لیا۔۔۔
وہ سب دیکھ کر اس کے چہرے کا رنگ اڑ گیا تھا۔۔۔۔
کیا ہوا ہے۔۔۔
ائرہ نے نظر اٹھا کر اسے دیکھا اور پھر جلدی سے میسج کو بھی ڈیلیٹ کر دیا۔۔۔۔
دکھاؤ اس نے فورا سے موبائل کھینچا تھا لیکن اس سے پہلے وہ ساری ہسٹری ڈیلیٹ کر چکی تھی۔۔۔
کیا ڈیلیٹ کر دیا تم نے۔۔
پرسنل میسج تے تمہیں بتانا ضروری نہیں ہے اس نے موبائل اس کے ہاتھ سے کھینچا تھا اس نے حیرانگی سے اس کی طرف دیکھا۔۔۔
پرسنل میسج کس کے ساتھ۔۔۔۔۔
میں ہر بات تمہیں نہیں بتا سکتی نہیں وہ اچھی خاصی پریشان تھی چہرے کا رنگ اڑ گیا تھا۔۔۔۔
مجھے میرے حال پر چھوڑ دو۔۔۔
وہ رونے والی ہو چکی تھی کمرے میں گئی تھی۔۔
_____
کیا چاہتے ہو تم۔۔۔۔۔
کمرے میں اتے ہی اس نے فون ملایا تھا اور کان کے ساتھ لگایا تھا۔۔۔
تمہیں چاہتا ہوں میری جان بس ایک رات کے لیے ملنے ا جاؤ۔۔
پھر سب ختم ہو جائے گا میں کچھ بھی نہیں کروں گا۔۔۔
تم جو چاہتے ہو وہ میں نہیں کر سکتی کبھی نہیں کر سکتی۔۔
ٹھیک ہے پھر تم نہیں کر سکتی تو تمہاری بہن صحیح۔۔
نہیں
تم ایسا کچھ نہیں کرو گے پلیز تمہیں خدا کا واسطہ۔۔۔
نانا ٹھیک ہے میں کچھ نہیں کروں گا تمہیں ایڈریس بھیجوں گا ا جانا۔۔۔
پھر میں کچھ بھی نہیں کرو گا میری جان۔۔۔
تمہارے حسن نے مجھے پاگل کر دیا ہے۔۔۔۔۔
اور اس پاگل پن میں طوفان لگایا تمہارے تھپڑ نے۔۔۔۔۔۔
اب برداشت سے باہر ہے بات۔وہ ٹانگیں سیدھی کر کے صوفے پہ بیٹھا ہوا تھا۔۔۔۔
ٹائی کو تھوڑا نیچے کھینچتے ہوئے بولا۔۔۔۔
گرے پینٹ کوٹ پہنا ہوا تھا اس نے۔۔۔۔۔۔۔
اب اور انتظار نہیں ہوتا۔۔۔۔۔۔
میری جان۔۔۔۔۔۔۔
اجاؤ۔۔۔ان باہوں میں۔۔
اس سے پہلے کہ وہ کچھ اور نہ زیبہ بولتا ائرہ نے فون بند کر دیا تھا۔۔۔
مان گئی لڑکی۔۔ایک کہکا بلند ہوا اور اس نے موبائل کو ٹیبل پر رکھا ۔۔۔۔۔۔۔
ائرہ کے پاس اب کوئی اپشن نہیں تھا۔۔۔۔
وہ اپنی بہن کی عزت بچانے کے لیے خود قربانی دینے کے لیے تیار تھی۔۔۔۔
______
ائرہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کمرے میں داخل ہوتے ہوئے اس کا دھیان لوک پر پڑ ا جو بری طرح سے توڑ چکا تھاوہ۔۔۔۔
تمہاری وجہ سے تیسری دفعہ میں اس دروازے کو ٹھیک کروا رہا ہوں۔۔۔۔
تو میں نے کہا تھا۔توڑو اس نے موبائل کو پیچھے کرتے ہوئے کہا۔۔۔۔
باڑا کیوں بجے ہیں۔۔۔۔۔۔۔
وہ اس کے قریب ہوتے ہوئے بولا تھا۔۔۔۔۔
اسے کچھ کچھ اندازہ تو ہو رہا تھا وہ کچھ پریشان ہے۔لیکن وہاں اس کی سوئی اٹک جاتی تھی کہ وہ ویڈیو کی وجہ سے پریشان ہے۔۔
وہ حقیقت تک نہیں پہنچ پا رہا تھا۔۔۔۔
کھانا بھی ٹھیک سے نہیں کھایا اور کمرے میں آگئی ۔
میں تو تمہارے پرسنل میسج پڑھنے کے لیے بیتاب ہوں ا ئرہ۔
شو می پلیز۔۔۔۔۔۔۔
اس نے موبائل پکڑنے کی ناکام کوشش کی تھی اسے بے چینی لگی ہوئی تھی کہ یہ وہ کہہ کے کیا گئی ہے۔۔۔۔
میری طبیعت ٹھیک نہیں ہے اس نے روخ موڑا۔۔۔۔
ا
________
ائرہ نے مشکل سے دل کو منایا تھا۔۔۔۔۔
محروج نے اسے جو لوکیشن بھیجی تھی اسے وہاں پہ پہنچنا تھا۔۔۔۔
صبح کا سورج طلوع ہوا۔۔۔۔۔۔
اخل ناشتے کے بعد افس کے کاموں کے لیے نکل گیا تھا۔۔۔۔
ائرہ رات کو نہیں سوئی تھی ۔اس نے صبح اٹھانا مناسب نہیں سمجھا۔۔۔۔۔
اب تقریبا شام ہونے سے پہلے گھر ایا تھا۔۔۔۔۔۔
جب ائرہ تیار ہو کے گھر سے نکلنے والی تھی۔۔۔۔۔۔۔
تم کہاں جا رہی ہو۔۔۔۔۔
اخل نے بلو پینٹ کوٹ اور وائٹ شرٹ پہنی تھی۔۔۔۔۔
ایرہ نیم فل بلیک ڈریس پہنا ہوا تھا۔اور اوپر کالے رنگ کی چادر اوڑی ہوئی تھی۔۔۔۔۔۔
اس نے کی سے گاڑی کو لاک کیا دھیان اس کی طرف تھا۔۔۔۔۔
مجھے کیک بنانا ہے اس کے لیے کچھ چیزیں چاہیے وہ لینے جانا ہے مجھے۔۔۔۔
مجھے لگتا ہے سارا سامان موجود ہے۔۔۔۔۔۔
ایک ارڈر ملا ہے اسپیشل ہے کچھ چیزیں ہیں جو مجھے لینی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔
اس نے شال کو ٹھیک کرتے ہوئے کہا تھا اور نظروں کو نیچے جھکا لیا تھا۔۔۔۔۔
اچھا ٹھیک ہے چلو اجاؤ میں لے کے جاتا ہوں۔۔۔
میں چھوٹی بچی نہیں ہوں میں خود جا سکتی ہوں ۔۔۔۔۔
وہ جو گاڑی کی طرف بڑھا ہی تھا ایک دم سے پلٹا۔۔۔۔
خیر ہے نا کیا مسئلہ ہے۔
رات سے برداشت کر رہا ہوں تمہارا یہ لہجہ مجھے عادت نہیں ہے اس کی۔۔۔۔۔۔۔۔
اب دوبارہ اس لہجے میں کچھ نہیں سننے والا ۔۔۔۔
اپنے لیے مشکلات نہ کھڑی کرو ائرہ۔۔۔۔۔۔
مجھے تمہیں سنانے کی ضرورت بھی نہیں ہے میں نے کہا نا میں خود جا سکتی ہوں تم اپنے کام سے کام رکھا کرو اور میرے معاملات سے دور رہا کرو ٹھیک ہے میں تمہارے ساتھ اس گھر میں رہتی ہوں میری مجبوری ہے لیکن اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ ہر معاملے میں تم میرے ساتھ ساتھ ہو۔۔۔۔۔
انسان کے کچھ پرسنل کام بھی ہوتے ہیں۔۔۔۔
اس کی باتیں اخل کے دل پہ جا کے لگی تھی کہ وہ اس کے لیے کیا کیا سوچتا ہے اور وہ۔ا سے کوئی جواب نہ دیا اس نے زور سے گاڑی کو ہٹ کیا اور اندر کی طرف چلا گیا۔۔۔۔
اندر جاتے ہی اس نے ٹائی کو گلے سے کھینچ کے ڈھیلا کیا۔۔۔۔۔
جیسے سانس باری ہو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ابھی اسے منانے کا ٹائم نہیں تھا ائرہ کے پاس وہ بھی انہی قدموں باہر کی طرف ائی۔۔۔۔۔۔۔
لیکن وہ تیار نہیں تھی وہ اس سے نہیں ملنا چاہتی تھی وہ باری باری قدم اٹھاتے روڈ پہ چلتی جا رہے تھی۔۔۔۔۔
زہن میں کئی سوال تھے وہ کیا کرے گا۔۔۔۔۔
کبھی جانے کا سوچتی تو کبھی واپسی کا سوچتی۔
لیکن اب بات اس کی بہن کی تھی وہ کیسے قدموں کو موڑ سکتی تھی ۔۔۔۔۔۔۔۔
اس نے دل پے پتھر رکھ کر قدم اٹھایا۔۔۔۔۔۔
لیکن اس کا ذہن ایک ہی طرف اٹکا ہوا تھا۔انکھوں سے انسو رواں تھے۔شال ایک طرف لپکی ہوئی تھی۔نہ چلنے کے برابر چل رہی تھی وہ۔۔۔۔۔۔
ائرہ۔۔۔۔۔۔
اس نے اپنی سوچوں سے نکل کر پیچھے دیکھا اسد نہ جانے کب سے اسے پکار رہا تھا۔۔۔۔۔
اس کی انکھوں میں انسو تھے۔۔۔
میں ائرہ یہ کیا حلیہ بنایا ہوا ہے اپ نے اور روڈ پہ اس طرح گاڑیاں چل رہی ہیں۔۔۔
نہیں
ائرہ اچھی خاصی پزل ہو چکی تھی کہ وہ کیا ایکسپلین کرے۔۔۔۔۔
اپ مجھے ٹھیک نہیں لگ رہی گاڑی میں بیٹھیں۔۔۔۔۔۔
نہیں میں ٹھیک ہوں مجھے ضروری کام کے لیے جانا ہے۔۔۔۔
دیکھیں اپ مجھے ٹھیک نہیں لگ رہی جلدی سے گاڑی میں بیٹھیں اس نے ائرہ کو بہت فورس کر کے گاڑی میں بٹھایا تھا اب وہ دونوں ایک کیفے میں بیٹھے ہوئے تھے۔۔۔۔
کچھ تو مسئلہ ہے اپ مجھے نہیں بتائیں گی۔۔۔۔۔
میں زیادہ بڑی باتیں نہیں کروں گا لیکن میں وعدہ کرتا ہوں میں اپنی پوری کوشش کروں گا اپ کا ہر مسئلہ حل کرنے کی۔۔۔۔۔۔۔
نہیں کوئی مسئلہ نہیں میں اپ کو بتا چکی ہوں۔۔۔۔
دیکھیں مس ائرہ۔۔۔۔۔۔
میں چھوٹا بچہ نہیں ہوں میں سمجھ سکتا ہوں جیسی حالت اپ کی تھی کے کچھ ہوا ہے۔۔۔۔۔۔
اسد کے ذہن میں عجیب وسوسے ا رہے تھے اس کا دھیان اخل کی طرف ہی جا رہا تھا۔۔۔
اس نے ائرہ کے ہاتھوں پہ اپنا ہاتھ رکھا مجھے بتائیں میں اپ کا ایک اچھا دوست بننا چاہتا ہوں۔۔۔۔
ائرہ بے بس ہو چکی تھی۔وہ کسی پہ اعتبار نہیں کر سکتی تھی۔
وہ چپ چاپ اس کی باتیں سنتی رہی۔۔۔۔۔۔
اپ مجھ سے ہر بات شیئر کر سکتی ہیں۔۔۔۔۔
__________
اخل ائرہ کی لوکیشن ٹریس کر کر اسی جگہ پر پہنچا تھا۔
لیکن سامنے کا منظر دیکھ کر اس کا دل چکنا چور ہو گیا تھا۔۔۔
ائرہ کے ہاتھ اس کے ہاتھ میں تھے ۔۔۔۔۔۔
تم نے مجھ سے جھوٹ بولا۔۔۔۔۔۔۔
وہ دو ٹیبل چھوڑ کر تیسرے ٹیبل پہ کھڑا تھا اسی ٹیبل کی چیئر کو اس نے زور سے گرایا تو دونوں کا دھیان اس کی طرف ہوا۔۔۔۔۔
اخل۔۔۔۔۔۔
ائرہ ایک دم سے اٹھی تو اخل بھی اگے بڑھا اور اسے بازو سے کھینچتا ہوا باہر کی طرف لے کر ایا۔۔۔
اسد نے روکنے کی کوشش کی تھی۔
لیکن ائرہ کے کہنے پہ رک گیا۔۔۔۔۔۔۔۔
_____
سارے راستے اس نے اس سے کوئی بات نہیں کی تھی اور بہت ہی تیز سپیڈ سے گاڑی چلا رہا تھا۔۔۔۔۔
کیوں جھوٹ بولا تم نے۔
اخل نے گھر اتے ہی اسے صوفے پہ گرایا تھا۔۔۔۔
کب سے چل رہا ہے یہ سب تو یہ تھے تمہارے پرسنل میسج۔۔۔۔۔
۔۔میری انکھوں میں دھول جونک رہی تھی تم۔۔۔۔
وہ غصے سے پاگل ہو رہا تھا اگر ائرہ کی جگہ کوئی اور ہوتی تو پتہ نہیں وہ کیا کرتا لیکن یہ ائرہ تھی اس لیے ہاتھوں کو کنٹرول میں رکھا تھا اس نے۔۔۔۔
تم جیسا سمجھ رہے ہو ویسا کچھ بھی نہیں۔۔
وہ انکھوں میں سوال لیے اٹھی تھی۔۔۔۔۔۔
ائرہ اسے ایکسپلین کرنا چاہتی تھی۔۔۔
میں جو سمجھ رہا ہوں اس سے بھی بات کہیں اگے پہنچ گئی ائرہ۔۔۔۔۔۔
ورنہ تم مجھ سے جھوٹ بول کر کبھی نہ جاتی۔۔۔
ائرہ کو اس کی باتیں پریشان کرنے لگی تھی ایک محروج کا ڈر۔۔۔
کہ پتہ نہیں وہ کیا کرے گا اس کے نہ پہنچنے پر۔۔۔۔۔
اس کے ذہن میں یہی باتیں گردش کر رہی تھی۔
اگر ایسا ہے بھی تو یہ میرا معاملہ ہے میرے معاملات سے دور رہو میں پہلے بھی تمہیں کہہ چکی ہوں۔۔۔۔۔
اخل جو تھوڑا فاصلے پہ کھڑا تھا قدم بڑھا کے اس کے پاس ایا۔۔۔
اچھا ایسا ہے۔۔۔۔۔۔
میرے قریب انے کی ضرورت نہیں ہے۔۔۔
اچھا یہ بات اسد کو تو نہیں کہی تھی تم نے وہ تو تمہارے ہاتھوں میں ہاتھ ڈالے بیٹھا تھا۔۔وہ قریب اتے ہوئے بول رہا تھا۔۔۔۔
یہ پابندیاں صرف میرے لیے ہیں۔۔۔۔
اس لفنٹر کو کھلی اجازت ہے۔۔۔
تم ہر ایک کو اپنے جیسا سمجھتے ہو۔۔۔۔
وہ تمہاری طرح نہیں ہے۔۔۔۔۔
اس کی بات ابھی ادھوری تھی کہ اخل نے اسے بازو سے پکڑا اور پھر دوسرے ہاتھ سے بالوں سے پکڑ لیا۔۔۔۔۔۔
وہ اسے کسی اور کے ساتھ برداشت نہیں کر سکتا تھا۔
پوری طرح سے پاگل ہو چکا تھا۔۔۔۔۔۔۔
میں تمہیں اگے وان کر چکا ہوں کہ اواز نیچی۔۔۔۔۔۔۔۔
بال چھوڑو میرے۔۔۔۔۔۔۔ائرہ نے اپنا ایک ہاتھ اس کے ہاتھ پہ رکھا جس ہاتھ سے اس نے بال پکڑے ہوئے تھے۔۔۔۔
اس کے ہاتھ رکھتے ہی اخل نے اس کی گردن کو تھوڑا اور پیچھے کی طرف کھینچا۔۔۔۔
ای۔۔۔۔۔درد سے اس کے منہ سے سسکی نکلی۔۔۔تو اخل نے بھی چھوڑ دیا۔۔۔۔۔۔۔
اس کی انکھیں انسوؤں سے بھر ائی تھی۔۔۔۔
اج سے تم ازاد ہو جہاں جانا ہے دفع ہو جاؤ۔۔۔
اس کی بات ائرہ کے دل پہ لگی تھی۔۔۔۔
اسے یقین نہیں ا رہا تھا کہ وہ سچ میں جانے کا کہہ رہا ہے۔۔۔
کہاں جاؤں گی میں۔۔۔۔۔
اس نے اس قدر معصومیت سے انسو صاف کرتے ہوئے پوچھا تھا۔۔۔۔
کے اخل کا دل تو جیسے مٹھی میں اگیا ہو۔۔۔۔۔
لیکن اس کے جھوٹ پر اسے شدید غصہ تھا اس نے ایک نظر دیکھا اور پھر غصے سے اپنے کمرے کی طرف چلا گیا۔۔۔۔۔
۔۔
آئرہ وہیں صوفے پر بیٹھ گئی تھی اور رونا شروع کر دیا تھا۔۔۔۔۔۔
کہ اتنی دیر میں اس کا فون بجنے لگا اسی کمینے کی کال تھی۔۔۔۔
ائرہ نے ایک نظر اخل کے کمرے کی طرف دیکھا اور پھر فون اٹھا کر اپنے کمرے میں ا گئی۔۔۔۔
تمہیں سمجھ نہیں ائی تھی ایک بار کب سے انتظار کر رہا ہوں اگر تم اب نہ آئی تو صبح تمہاری بہن یہاں ہوگی۔۔۔۔
اب میں ہاں یا نہ نہیں سنوں گا میں صرف انتظار کروں گا اگر صبح تک تم یہاں نہ پہنچی تو۔۔۔۔۔۔
ائرہ نے موبائل کو بیڈ پہ گرایا۔وہ اخل کے کمرے کی طرف بھاگی تھی وہ اسے بتانے کا سوچ رہی تھی۔۔۔
اخل۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اس نے دروازہ کھولا تو وہ سامنے لیپ ٹاپ کے ساتھ لگا ہوا تھا۔۔۔
اس نےنظر اٹھا کر اسے دیکھا۔۔۔۔
مجھے بات کرنی ہے تم سے۔
اخل نے اپک نگا اس پر ڈالی لیپ ٹاپ ہولڈ کرتے ہوئے وہ اٹھا۔۔۔۔
اس کے قریب ا کر اس نے اسے بازو سے پکڑا تھا۔۔۔
کہا تھا نا یہاں سے دفع ہو جاؤ مجھے کوئی بات نہیں کرنی۔
لیکن تمہیں عزت راس نہیں ہے۔۔۔
اخل نے اسے بازؤ سے پکڑا اور کمرے سے باہر دے مارا۔۔۔۔
ائرہ کے پاؤں تلے سے تو جیسے زمین نکل گئی ہو۔۔۔
یہ اخل تھا۔۔۔۔
وہ اخل۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ اس کی اخری امید تھی اسے لگا تھا وہ سب بتائے گی وہ حل کر دے گا۔۔۔
لیکن اب اپنے ساتھ ساتھ اپنے بہن کی زندگی بھی تباہ ہوتی اسے نظر ارہی تھی۔۔۔
کچھ دیر زمین پر بیٹھی رہی۔۔۔۔۔۔
اور پھر اٹھ کر انسو صاف کیے جیسے ارادہ کر لیا ہو۔۔۔۔۔
ایک نظر اس کے بند دروازے کو دیکھا اور پھر بھاگتے ہوئے باہر چلی گئی۔جیسے کبھی واپس نہ انے کی قسم کھائی ہو۔۔۔
_____
اخل نے اسے باہر تو نکال دیا تھا لیکن اسی کی ٹینشن میں گھل رہا تھا۔۔۔
۔
کئی دفعہ اس نے ارادہ کیا دروازہ کھول کے اسے دیکھنے کا لیکن پھر دل پر پتھر رکھ کر سو گیا۔۔۔۔
_____
محروج نے اسے ایک گھر کی لوکیشن بھیجی تھی وہ گھر نہیں تھا جہاں پہ وہ پہلے گئی تھی۔۔۔۔
تھوڑی دیر میں وہ وہاں پہنچ ائی تھی۔۔۔
وہ ڈرتے ہوئے گھر کے اندر جا رہی تھی۔۔
ابھی وہ لانچ کے پاس ہی پہنچی تھی کہ پیچھے سے ایک لڑکی نے اسے اواز دی ائرہ۔۔۔۔
اپ مس ائرہ ہو میرے ساتھ اؤ۔۔۔۔۔۔
اس کے ہاتھ پاؤں مسلسل کانپ رہے تھے وہ ڈرتے ہوئے اسے فالو کر رہی تھی۔۔۔۔
وہ اسے کمرے میں لے کر ائی تھی۔۔۔
یہ کپڑے پہن لو اور تیار ہو جاؤ۔۔۔۔
سر نے مجھے حکم دیا ہے کہ تمہیں ریڈی کر کے لایا جائے۔۔۔
نہیں مجھے تیار نہیں ہونا اس نے احتجاج کرنا چاہا۔۔۔
لیکن اس سے پہلے کہ زبردستی اسے کپڑے پہنائے جاتے اس نے دل پہ پتھر رکھ کے کپڑے پہنے اور پھر ڈریسنگ ٹیبل کے اگے بیٹھ گئی۔۔۔
ایک اور لڑکی ائی جو اس کے بال بنا رہی تھی اور اسے میک اپ کر رہی تھی۔۔۔۔۔
اس نے یلو کلر کی میکسی پہنی تھی جو باربی سٹائل میں تھی۔۔۔۔
اسے کسی نہ زیبہ کپڑوں کی توقع تھی لیکن یہ کپڑے کچھ مناسب تھے۔۔۔۔
وہ دل ہی دل میں دعا مانگ رہی تھی۔۔۔۔۔
کاش اخل کو۔۔۔۔۔۔۔
اس کا دھیان اسی کی طرف تھا۔۔۔۔
اسے کیوں تھی امید وہ نہیں جانتی تھی۔۔۔
تھوڑی دیر بعد وہ لڑکیاں اسے ایک کمرے میں لے کے آئی ۔۔
کمرا سجا ہوا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اس کا دل بری طرح کانپ رہاتھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہاتھ پاؤں بھی____
