Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Ayra Episode 28

Ayra by Aneeta

ائرہ ڈیورس لینے کے بعد پھر تم کیا کرو گی۔۔۔

کس کے پاس جاؤ گی۔۔۔۔۔۔

ائرہ نے حیرانگی سے اس کی طرف دیکھا اور ماتھے پہ اتے بالوں کو پیچھے کیا۔۔۔

ک۔۔۔۔کیا مطلب لفظوں کو گھسیٹتے ہوئے اس نے پوچھا۔۔۔

میرا کہنے کا مطلب ہے اس نے ایک دم سے اپنا رخ چینج کیا اور ہاتھ میں پکڑے باؤل کو شید پر رکھا۔۔۔۔۔

جو کچھ ہوا ہے اس کے بعد تمہاری پھپو تو مجھے نہیں لگتا تمہاری ذمہ داری دبارہ سے لیں گی۔۔۔۔

اس لیے میں یہی سوچ رہا تھا کہ تم کہاں رہو گی۔۔۔

یہ بات ائرو کو بھی کھٹکنے لگی تھی کیونکہ اس نے اس بارے میں کچھ نہیں سوچا تھا۔

اس نے تو بس یہیں تک سوچا تھا کہ وہ ڈیورس لے گی اس سے۔

اس متعلق تو میں نے ابھی کچھ نہیں سوچا۔۔

اس نے پھر سے لٹوں کو پیچھے کیا۔۔۔۔

باندھ دیتا ہوں۔ائرہ ویسے ہی اس پے حاوی تھی اور یہ ادائیں اسے اور پاگل کر رہی تھی۔۔۔

ائرہ اسے روکنا چاہتی تھی لیکن منع نہیں کر پائی اس نے پیچھے سے اس کے بالوں کو مضبوطی سے پکڑا۔ایک کیچر چھوٹا سا جو اس نے لگایا ہوا تھا۔اس کو اتار کر شیڈ پر رکھا اور بالوں کا جوڑا بنا دیا۔۔۔۔

تھینک یو سو مچ۔۔۔۔۔

ویسے اگر تم چاہو تو میں تمہارے رہنے کا بندوبست کر سکتا ہوں۔۔۔۔

وہ اس کی پشت سے ہٹا۔۔

نہیں اس کی ضرورت نہیں ہے میں پھپو کے پاس ہی جاؤں گی۔

وہ اب کسی کا بھی احسان نہیں لینا چاہتی تھی۔۔۔۔

____

ائرہ نے تقریبا ساڑھے کیک بیک کر لیے تھے اور اب ڈیکوریشن رہ گئی تھی۔۔۔۔۔

لیکن اس کے شیطانی دماغ میں ایک اور شرارت سوجی۔۔

اسد ابھی ہی تھوڑی دیر کے لیے باہر گیا تھا اس نے فون اٹھایا۔۔۔۔

اخل کو کال ملائی۔۔۔۔۔۔

پہلے ہی رنگ پر اس نے موبائل اٹھا لیا تھا وہ جو افس چیئر پر بیٹھا تھا اٹھا۔۔۔۔۔۔

اج سورج کہاں سے نکلا ہے دیکھنا پڑے گا۔۔۔

زیادہ فری ہونے کی ضرورت نہیں اس نے موبائل کو ایک کان سے دوسرے کان پہ لگایا۔۔۔

مجھے تمہاری ایکسوں کے نام جاننے ہیں اس لیے فون کیا ہے۔۔۔

مجھے تو لگا تم کیک بنا رہی ہو گی بہت زیادہ تھک گئی ہوگی لیکن لگتا ہے کیک بنا نہیں رہی۔اسے پورا یقین تھا کہ وہ کیک نہیں بنا سکتی۔ائرہ بھی اسے سرپرائز کرنا چاہتی تھی۔۔۔۔۔

کیونکہ اسے بھی اچھے سے پتہ تھا کہ کچن سے سامان اسی نے ہٹوایا ہے۔۔۔۔۔

ہاں بالکل نہیں بنا رہی کیک۔۔۔۔۔

جو میں نے پوچھا ہے وہ بتاؤ۔۔۔

قرت۔۔ملیحہ ان دونوں کو تو میں جانتی ہوں اب باقیوں کے بتاؤ۔۔۔

اس نے ہاتھ میں ایک ڈائری اٹھائی تھی اور پین بھی۔وہ شیڈ کے اوپر ہی جگہ بنا کر بیٹھ گئی تھی۔۔۔۔

دیکھو ائرہ تمہیں میں ایک ائیڈیا دیتا ہوں۔اس نے سمائل کی تھی چہرے پر ڈمپل واضح ہوا تھا۔۔۔۔

ایکسوں کو چھوڑو اور تم رات کا سوچو۔۔۔۔

50 کس او مائی گاڈ۔۔۔۔۔

اس نے دل پر ہاتھ رکھا اور ہنسنے لگا۔۔۔۔۔

اور ٹائم ڈوریشن بتا چکا ہوں کل۔۔۔۔

تو کیا کر پاؤ گی برداشت اس نے ٹائی کو تھوڑا ڈلا کیا اور واپس اپنے چیئر پر بیٹھا۔۔۔۔

میں نے جو پوچھا ہے وہ بتاؤ ورنہ میں فون بند کر رہی ہوں۔

تمہارے لیے آفر ہے۔۔۔۔

ایک ابھی دے دو۔۔۔

رات کو دو مائنس کر دوں گا۔بہت اچھی افر ہے ٹھکرانا مت۔۔

اس نے سر چیئر کی پشت پر ٹکایا۔اور اسے دائیں بائیں جولنے لگا۔۔۔۔۔۔

اوکے اللہ حافظ وہ فون بند کرنے لگی تھی۔۔۔

اچھا یار سنو نا بتا رہا ہوں۔۔۔

وہ سیدھا ہو کر بیٹھا تھا اور چیئر کو بھی اگے کیا۔۔۔۔

عائشہ پریشے مناہل۔۔۔۔۔۔

اس نے ہاتھ کو پیشانے پہ ٹھکایا جیسے دماغ پہ زور لگا رہا ہو۔

افرا

سویرا۔

ریشے۔

ارے جا۔

پڑی ۔۔۔۔۔

تم سن رہی ہو نا۔۔۔۔

وہ تھوڑا سا ہنسا۔

ہاں میں سن بھی رہی ہوں اور لکھ بھی رہی ہوں۔

بہت ہی کوئی گھٹیا انسان ہو تم ویسے۔۔۔

اسے سچ میں غصہ ایا تھا اتنی لڑکیوں کے نام سن کر۔۔۔

اتنی لڑکیوں کے دلوں کے ساتھ کھیل رہے ہو۔۔

اب کہاں کھیل رہا ہوں اب تو تم مجھے نچوا رہی ہو۔کھیل رہے ہو میری فیلنگز کے ساتھ۔۔۔۔

اچھا باقیوں کے بتاؤ یہ تھوڑے ہیں۔۔

تم نے کرنے کیا ہیں یہ تو بتاؤ

بس دیکھ رہی ہوں نا۔

صلحہ۔۔۔

کونوا۔۔۔۔

اور نہ جانے کتنی اس نے شائستگی سے کہا۔۔۔

فیفا۔۔۔

سچ میں بہت ہارٹ تھی فیفا۔۔۔۔۔

اف اس کے لپس۔۔۔۔

اٹیلین تھی۔۔۔۔۔۔

کیا کس کرتی تھی۔۔۔۔۔

تم گھٹیاانسان ہو بہت ہی گھٹیا۔۔۔۔۔

ائرہ نے غصے سے فون بند کر دیا تھا۔۔۔۔۔۔

ارے کس۔۔۔۔۔۔

اس نے پھر سے ڈائل کیا تھا لیکن اس نے ڈس کنیکٹ کر دی کال۔۔۔۔۔

بہت ہی گھٹیا ہو تم۔۔۔۔۔۔۔

وہ جو نام لکھ رہی تھی اس کا دھیان اب اس کی طرف ہو گیا تھا۔۔۔۔

_____

اپ پاگل ہو گئے ہیں ایسا کچھ بھی ممکن نہیں ہو سکتا۔۔۔

اپ کیوں دونوں کی زندگی تباہ کرنا چاہتے ہیں۔۔۔

اخل کو اپ اچھے سے جانتے ہیں کتنا ٹیڑھا ہے وہ۔۔۔

ابھی تو اس نے اپ کو پیار سے منع کیا ہے۔۔

لیکن اگر اپ نے ائرہ سے بات کی تو پھر اپ بھی جانتے ہیں کہ اس کا ری ایکشن کیا ہوگا۔۔۔

بشرا بیگم تو سنتے ہی اپے سے باہر ہو گئے تھے۔۔۔۔۔۔

وہ جو صوفے پر بیٹھی تھی ایک دم سے اٹھی۔اور میلان کامران کے سامنے کھڑی ہو گئی۔۔۔۔

اگے ہم نے اپنی ایک بیٹی کھو دی ہے۔

اب بیٹے کی جان کی دشمن مت بنے۔۔۔

بہت پیار کرتا ہے وہ ائرہ سے یہ بات اپ بھی جانتے ہیں۔

یہ بدلاؤ صرف ائرہ کی وجہ سے ایا ہے اس میں۔۔۔

میں نے کہا چپ کر جاؤ۔

وہ پہلے تو تسلی سے اس کی باتیں سن رہا تھا لیکن اب اچانک ہی غصہ ہوا تھا۔۔۔۔

چپ کر جاؤ چپ کر جاؤ۔۔۔

تم یہ اچھے سے جانتی ہو کہ وسیم کے ساتھ ہمارے تعلقات کیسے ہیں وہ شروع سے ہی ہمارا بزنس پارٹنر رہا ہے۔۔۔

اور میں اس سے انکار کر دیتا بالکل کر دیتا اگر یہ بات میں نے خود نہ کی ہوتی۔۔۔

میں نے خود اس کی بیٹی کا رشتہ مانگا تھا تمہارے بیٹے کے لیے۔

اور کہیں تو وہ بھی درست ہے اس نے بھی پورے خاندان میں اناؤنس کیا ہے۔۔۔

ایسے ہماری فرینڈ شپ پر بہت فرق پڑنے والا ہے۔۔۔

اور بزنس پر بھی۔۔۔۔۔

وہ تو اس کی بھلائی ہے کہ اس نے افر دے دی کہ وہ ائرہ کو بھی ایکسیپٹ کر لے گا۔

ورنہ میں اس لڑکی کو اٹھا کے گھر سے باہر پھینکتا۔

جب جب میں اسے دیکھتا ہوں میرا خون کھولتا ہے۔

اس گھر میں زندہ چل پھر رہی ہے یہی کافی ہے اس کے لیے۔

بیٹی کے قاتل کی بیٹی کو پال رہا ہوں واہ کیا قسمت پائی ہے میں نے۔۔۔۔۔

___

تقریبا ائرہ نے سارے کیکس تیار کر لیے تھے اس نے ہر کیک پہ نام لکھا تھا وہ جو اس نے بتائے تھے۔۔۔۔۔

لیکن نام کم تھے اور کیکس زیادہ تھے۔۔۔۔۔

یقینا تم نے مجھے کم نام بتائے ہیں۔۔۔۔

ورنہ اگر سارے بتاتے تو یہ کیک بھی کم پڑنے تھے اس نے دونوں ہاتھ پھیلائے۔۔۔۔۔

ارے ائرہ اتنا غصہ اسد ابھی ہی ایا تھا اس کے ہاتھ میں کھانا تھا۔۔۔۔

اس نے کھانا ٹیبل پر رکھا اور ہنستے ہوئے اس کے پاس ایا اس کی بنجگانہ حرکت پہ وہ کھلکھلا اٹھا تھا۔۔۔

نہیں بس ایسے ہی ائرہ نے بات کو ٹالا۔۔۔۔

ہر نام کے اوپر اس نے ایکس لکھا تھا اور نیچے نام لکھا تھا۔

ملیحا

قرت۔۔

افرا۔۔

یہ سب کیا ہے اس نے ہنستے ہوئے پوچھا۔۔۔

ایکس اور پھر نام۔

یہ کون اتنا ٹھرکی پیدا ہو گیا۔۔۔۔

نہیں ایسا ہی ارڈر ایا تھا میں نے بنا دیا۔۔۔

اب بہت بھوک لگی ہے کیا ہم کھانا کھائیں اس نے دونوں ہاتھ پیٹ پر رکھے۔۔۔۔

ہاں کیوں نہیں وہ اسے غور سے دیکھ رہا تھا۔۔۔۔

اس نے چیئر کو اگے گھسیٹا اور اسے بیٹھنے کا اشارہ کیا۔

اور وہ بھی فورا سے ہی بیٹھ گئی تھی کیونکہ بھوک اسے بہت لگی تھی۔۔

تھوڑی دیر میں اس نے کھانا ختم کیا۔۔۔

اسد۔۔۔۔۔

میں خود چلی جاؤں گی اس کی ضرورت نہیں ہے بس اپ یہ کیک کسی طرح ڈلیور کروا دیں۔۔۔

اگر تم اس سے ڈر رہی ہو تو ڈرنے کی ضرورت نہیں ہے میں ہوں تمہارے ساتھ۔۔

نہیں نہیں میں کسی سے نہیں ڈر رہی بس میں خود چلی جاؤں گی۔اس نے شال کو اگے پیچھے لپیٹا اور ہینڈ بیگ کو ہینڈ میں لیا۔۔۔۔

۔

یہ کیک تم اس ڈریس پہ ڈلیور کروا لو نا جہاں تم نے ڈلیور کرنا ہے یہ تو تم نے میلان کامران۔۔۔۔

نہیں وہ وہاں سے ریسیو کر لیں گے انہوں نے کہا ہے اس لیے اس نے اس کی بات کو کاٹا۔۔۔۔

اسد نے بھی کوئی سوال نہیں تھوڑی دیر میں ائرہ گھر پہنچ چکی تھی اور اسد نے کیک بھی ڈلیور کروا دیے تھے اس کے پہنچنے کے کچھ دیر باد۔۔۔

لیکن اس نے دل پہ پتھر رکھ کر اسے جانے دیا تھا۔

لیکن اس کی باتوں کو سمجھ بھی نہیں پا رہا تھا۔

ارڈر پھر نام وہ بھی اچھا خاصا کنفیوز ہوا تھا۔۔۔۔۔

___

ائرہ بیٹی یہ اتنے کیک بشرا بیگم نے سوال کیا۔

سارے کیکس اس نے کچن میں رکھوائے تھے۔۔۔۔

اخل نے کہا تھا اسے 50 کیکس چاہیے تو میں نے بنا لیے۔۔

اسے 50 کیکس کیوں چاہیے بشر بیگم نے حیرانگی سے پوچھا۔۔۔۔

یہ تو میں نہیں جانتی۔۔۔۔۔۔

وہ کیا ایکسپلین کرے اس کے پاس کوئی جواب نہیں تھا۔

تھوڑی دیر میں اخل افس سے واپس اگیا تھا۔۔۔۔۔

گڈ ایوننگ ما سویٹ موم۔۔۔

اس نے اتے ہی لیپ ٹاپ کو صوفے پہ رکھا اور انہیں حگ کیا۔۔

ائرہ وہاں پہ موجود نہیں تھی۔۔۔

اس نے نظر کو اگے پیچھے گھمایا۔

وہ ائرہ کا چہرہ دیکھنا چاہتا تھا کہ ہار کے کیسا محسوس کر رہی ہے۔

کہاں ہے یہ اس نے بشرا بیگم سے پوچھا۔

کچن میں ہے تمہارا ہی انتظار کر رہی ہے۔

کچن میں اس نے حیرانگی سے کہا اور پھر ٹائم ویسٹ کیے بغیر کچن کی طرف بڑا۔۔۔

ائرہ۔۔۔۔

وہ دونوں ہاتھوں سے راستہ بند کیے کچن کے دروازے میں کھڑا تھا۔۔۔

ائرہ بولتے ہی اس کی نظر ٹیبل پہ سجے کیکس پہ پڑی۔۔۔

کچھ کیکس اس نے ٹیبل پہ کچھ شیڈ پہ رکھے تھے مشکل سے پورے ائے تھے۔ٹیبل پہ 10 کیکس بھی۔۔۔۔۔

وہ جو ائرہ کا اترا ہوا چہرہ دیکھنا چاہتا تھا اس کا اپنا چہرہ اتر گیا تھا۔۔۔۔

کچن میں بس ائرہ تھی وہ چہرے پہ مسکان سجائے اسے دیکھ رہی تھی۔۔۔

یقینا موم ہیلپ کی ہوگی اس نے دل ہی دل میں سوچا۔۔۔

تو بنا لیے تم نے 50 کیکس اس نے گلے کو صاف کیا ٹائی کو اگے پیچھے گھمایا۔اور کیکس کا معائنہ کرتے ہوئے بولا۔۔۔

پورے 50 کیکس۔۔۔۔۔۔

اس نے گنتی کہی تھی کہ کہیں ایک دو کم ہو جائے اور اسے کس مل ہی جائے گا۔

پر وہ کمبخت پورے 50 تھے۔۔۔۔۔۔

وہ کبھی ٹیبل پہ تو کبھی شیئڈ پہ دیکھتا ہر طرف بس کیک ہی کیک تھے۔۔۔۔

ہاں بنا لیے میں نے کیک ۔۔۔

اور تم اب اپنی ایکسوں کے ایڈریس بتا دو تاکہ میں ڈلیور کر دوں۔۔۔

تو تم نے سب نام لکھ لیے اس نے ایک ہاتھ کی انگلی پیشانی پہ ٹھکائی۔۔۔

وہ ہر نام کو باری باری پڑھ رہا تھا بنا اواز کے۔۔۔۔۔

لیکن ایک ایکس کا نام مسنگ ہے اس میں۔۔۔

وہ اس کے بہت قریب ا چکا تھا۔۔۔۔

دور ہٹ جاؤ میں نے بنا دیا ہے 50 کیکس اب جان چھوڑو میری۔۔۔

مس ائرہ اخل میری سب سے پریس ایکس۔۔۔۔۔

اس نے اس کے بالوں کو پیچھے کیا۔۔۔۔

میں کب رہی تمہاری اکس

اخل اس کے ہاتھ کو زور سے جھٹکا تھا اس نے۔۔۔

لیکن اس پہ کوئی اثر نہیں ہوا تھا۔

اس نے ایک ہاتھ دیوار پہ رکھا اور اسے اپنی گرفت میں کر لیا۔۔۔

تو کیا نہیں رہی میری گر فرینڈ بتاؤ۔۔۔

کب رہی میں تمہاری گرل فرینڈ۔۔

جھوٹے انسان ہٹ جاؤ اس نے دونوں ہاتھ سینے پر رکھے تھے اس کے۔۔

دبئی میں ہم نے کتنا اچھا ٹائم گزارا ہے بھول گئی سب۔۔

دبئی میں واقع میں ہم نے بہت اچھا ٹائم گزارا ہے اور وہ مجھے کبھی نہیں بھولے گا کبھی نہیں۔

ائرہ۔۔۔۔۔

اب اس متعلق کوئی بات نہیں ہوگی اس نے غصے سے کہا تھا۔۔

سوچو ذرا جو تم سننے میں اتنی تکلیف محسوس کر رہے ہو وہ میں نے برداشت کیسے کیا ہوگا۔

کیسے۔۔۔۔۔

اخل۔۔۔

پلیز ہٹ جاؤ مجھے روم میں جانا ہے۔

ایسے اترے چہرے کے ساتھ تو نہیں جانے دوں گا۔۔۔

اس کے کچھ بولنے سے پہلے ہی اس نے اس کے ہونٹوں کو اپنے ہونٹوں سے قید کیا۔

ا۔۔۔۔۔۔اخل۔۔۔۔

وہ بخشنے کا ارادہ نہیں رکھتا تھا۔

اس کی شدت بڑھتی جا رہی تھی اس نے اس کے چہرے کو دونوں ہاتھوں سے پکڑا ہوا تھا۔جب کہ اس کے ہاتھ اس کے سینے پے مکوں کی برسات کر رہے تھے۔۔۔۔

اخل۔۔

وہ اس کی سانسوں کو قید کر چکا تھا۔شدت سے چوم رہا تھا اس کے ہونٹوں کو۔۔۔۔

۔

ایک جھٹکے میں اسے پیچھے کیا اس نے گہرا سانس لیا تھا۔۔۔۔۔

جھوٹا انسان اس نے ہاتھ کو ہونٹوں پہ ملتے ہوئے کہا۔۔۔

وہ بے ساختہ ہنسا تھا۔۔۔۔۔۔

کیونکہ وہ بہت کانپ رہی تھی اور ہونٹ تو سرخ ہو چکے تھے۔۔۔۔۔

ایک سے یہ حال ہو گیا ہے شکر ہے تم نے 50 کیکس بنا لیے ورنہ پتہ نہیں کیسے برداشت کرتی ہے۔۔۔۔۔

اس نے ٹیبل پہ پرے ایک کیکں کو اٹھایا تھا۔

چلو کاٹتے ہیں۔۔۔۔

میں نہیں کاٹنے والی وہ باہر جانے ہی لگی تھی کہ اس نے بازو سے پکڑ کر ٹیبل کے اگے کیا ۔۔۔۔۔

خود اس کی پشت پہ کھڑا ہو کے اسے پوری طرح سے اپنے کنٹرول میں کر لیا۔۔۔۔۔۔

اس نے جو کیک اٹھایا تھا اس پہ کسی کا نام نہیں تھا۔۔۔

ویسے فیفا والا نظر نہیں ارہا۔۔۔۔۔۔۔

اس نے چھڑی اس کے ہاتھ میں تھمائی اور پھر اوپر سے اس کے ہاتھ کو تھاما۔

جیسے بچوں کا ہاتھ پکڑ کر کیک کاٹتے ہیں ویسے ہی اس نے کیک کاٹا تھا۔

ایک پیس کاٹنے کے بعد اس نے اٹھایا اور اس کے منہ کے قریب کیا لیکن وہ منہ کھونے کے لیے تیار نہیں تھی۔

اس نے زبردستی منہ میں گھسا دیا۔۔

اخل۔۔۔۔۔

بہت بدتمیز ہو تم بہت زیادہ۔۔۔۔۔

میں تم سے کل ہی ڈیوس لوں گی دیکھ لینا وہ اسے زور سے پیچھے کرتی باہر چلی گئی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اس نے ہنستے ہوئے کیک کھایا تھا۔

ویسے بہت ڈیلیشیس ہے۔۔۔

سچ میں امہ ممممممممممم اس نے فلائنگ کس کیا۔۔۔۔۔۔

___

وہ اپنے کمرے کی طرف بڑی ہی تھی کہ میلان کامران نے اسے اپنے کمرے میں بلایا تھا ایک ملازم نے اسے بتایا تھا۔

اب انہوں نے پتہ نہیں کون سی داستان سنانی ہے اس نے غصے سے اپنے کمرے کا دروازہ بند کیا ارادہ اس کا سونے کا تھا۔۔۔۔۔

بہت تھک گئی تھی اج وہ۔۔۔۔

اپ نے بلایا۔۔۔۔۔۔

لگتا ہے تمہیں کسی نے تمیز نہیں سکھائی کہ جب بڑوں کے سامنے جاتے ہیں پہلے سلام کرتے ہیں۔۔۔۔۔

اپ نے کیوں بلایا ہے یہ بتائیں میرے پاس فالتو ٹائم نہیں ہے۔۔۔۔

لڑکی اپنی اوقات میں رہو۔

مجھے لگتا ہے مجھے جانا چاہیے کوئی ضروری بات نہیں ہے۔

اخل کی دوسری شادی کروا رہا ہوں۔۔۔

اس نے ہینڈل کو نیچے ہی کیا تھا کہ ایک دم سے رک گئی اور رخ ان کی طرف کیا۔۔۔

ک۔۔۔۔۔کیا مطلب۔

مطلب اس کا صاف ہے کہ دوسری شادی کروا رہا ہوں اپنے بیٹے کی۔۔۔

اور وہ بھی خاندانی طریقے سے۔۔۔۔

نہ کہ چوروں کی طرح۔۔۔۔۔۔۔۔

شکر مناؤ کہ تمہیں اٹھا کے گھر سے باہر نہیں پھینک رہا۔

ایک قاتل کی بیٹی کو گھر میں پناہ دی ہوئی ہے۔اس سے زیادہ کی توقع مت کرنا اور میں پوچھ نہیں رہا تمہیں بتا رہا ہوں۔۔۔۔

اور کسی بھول میں نہ رہنا کہ کوئی محبت وبت ہو گئی ہے میرے بیٹے کو تم سے۔۔۔۔

اس نے بس ترس کھا کر تم سے شادی کی ہے۔میلان کامران نے اپنے دونوں ہاتھ پیچھے باندھے ہوئے تھے وہ اب قریب ایا تھا۔

اور شکر مناؤ کہ اس نے شادی کر لی ورنہ تم جیسی اس قابل نہیں ہوتی کہ انہیں گھر کی زینت بنایا جائے۔

بس۔۔۔۔۔۔۔۔

بس کر دیں بس کر دیں اور مجھے بھی کوئی شوق نہیں اپ کے بیٹے کے ساتھ رہنے کا۔اس کی انکھوں سے موٹے موٹے انسو گرنے لگے تھے۔۔

میری طرف سے ایک نئی دو دو شادیاں کروا دے۔

پر میں دعا ہی کروں گی کہ اللہ اپ کو خوشیاں نصیب کرے۔

اس نے غصے سے دروازے کو پٹاخا تھا اور باہر چلی گئی۔

بدلحاظ بدتمیز۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

میلان کمران نے غصے سے کہا۔۔۔۔

دروازے کہ ہینڈل کو ہاتھ میں دبوچے اس نے سر دروازے کے ساتھ لگایا تھا اور ایک لمبی سانس لی تھی باہر اکے۔

روتے روتے ہچکی بند گئی تھی۔۔۔۔۔۔

انسو صاف کرتے ہوئے اپنے کمرے کی طرف بھاگی تھی۔

اخل شاور لے رہا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔

وہ اس کے کسی سوالوں کے جواب نہیں دینا چاہتی تھی۔

منہ کو بلینکٹ میں چھپائے وہ سونے کی ایکٹنگ کرنے لگی تھی جبکہ وہ جاگ رہی تھی اور مسلسل رو رہی تھی۔۔۔

وہ شاور لے کر جیسے ہی باہر ایا سب سے پہلے نظر بیڈ پے پڑی۔۔۔۔

ابھی رات ہونے میں کافی ٹائم باقی تھا۔۔۔۔۔

اس نے شرٹ کو بیڈ پہ ہی رکھا ہوا تھا اٹھا کر وہ پہننے لگا۔

ویسے از وائف تمہاری کچھ ڈیوٹیز ہیں۔۔۔۔۔

مس ائرہ ۔۔۔۔۔۔

کہ جب شوہر تھکا ہارا گھر واپس ائے۔

اسے اچھی سی بلیک کافی پیش کی جائے۔۔۔۔۔

اس کا کوٹ اتارا جائے لیپ ٹاپ لے کر ہاتھ سے رکھا جائے۔

یہ سب نا اب ایمن کو سمجھانا۔

ائرہ نے بیڈ پہ پڑھے کشن کو اس کی طرف پھینکا۔

وہ کہنیوں کے سہارے اٹھی تھی بلینکٹ کو پیچھے کرتی۔۔۔

اخل جو استین کے بٹن بن کر رہا تھا ایک دم سے رکا اس کا دھیان اس کی انکھوں پہ تھا جو روئی ہوئی تھی۔۔۔

ائرہ۔۔۔۔۔۔۔

اب وہ اس کے پاس ایا بیڈ پہ جگہ بنا کر بیٹھا تھا۔۔۔۔

تم روئی ہو۔۔۔۔

اسے اندازہ ہو گیا تھا ایمن کے نام سے کہ ڈیڈ نے اسے بتا دیا ہے۔۔۔۔

اس بات سے نہیں کہ تمہاری شادی ایمن سے ہو رہی ہے بلکہ جو باتیں تمہارے ڈیڈ نے مجھے کہیں ان باتوں سے۔

کیا کہا ڈیڈ نے بتاؤ۔۔۔۔

جا کر اپنے ڈیڈ سے پوچھ لو۔۔

اور جا کر شادی کے لیے بھی ہاں کر دو مجھے کوئی اعتراض نہیں ہے ویسے بھی میں ڈیورس لینے والی ہوں۔۔۔

وہ جو پھر سے لیٹنے کا ارادہ رکھتی تھی۔

اخل نے بازو سے پکڑ کر بیڈ کرون کے ساتھ لگایا۔۔۔۔

میں ابھی صرف ائرہ اخل کو اپنے بچوں کی ماما بنانے کے بارے میں سوچ رہا ہوں۔۔۔۔

باقی لوگ کیا سوچتے ہیں مجھے اس سے کوئی غرض نہیں۔

کوئی زبردستی مجھ پر کچھ بھی مسلط نہیں کر سکتا اس نے اس کے بالوں کو پیچھے کیا تھا۔۔۔۔

میں نے کہا ہٹ جاؤ اس نے اس کے ہاتھ کو پیچھے کیا اور پھر سے لیٹ گئی رخ دوسری طرف کر کے بلینکٹ کو اوپر کھینچا۔۔۔۔۔

مجھے بس ڈیورس چاہیے اس گھر میں ایک منٹ بھی نہیں رہ سکتی میں۔۔۔۔

اخل نے اسے منانے سے پہلے ڈیڈ سے بات کرنا مناسب سمجھی اور اپنے کمرے سے باہر ایا غصے سے۔۔۔۔

____

کچھ بھی کر کر اسے یہ شادی کرنی پڑے گی۔۔۔۔۔

بشرا بیگم اسے سمجھا دو۔۔۔۔

ڈیڈ اس نے غصے سے دروازہ کھولا تھا۔

میں نے اپ کو کہا تھا نا ائرہ سے اس متعلق کوئی بات نہیں کرنی۔۔۔

موم اپ کیوں نہیں سمجھاتی انہیں لہجے میں بے انتہا غصہ تھا۔

کتنا ہرٹ ہوئی ہے وہ۔۔۔۔۔

یقینا اپ نے پھر سے اسے باپ کے طنے دیے ہوں گے۔۔۔

واہ واہ واہ۔۔۔۔

میلان کامران نے کلیپنگ کرتے ہوئے کہا۔۔۔۔

یہ اس قاتل کی بیٹی کی زبان بول رہا ہے دیکھا اس کا لہجہ۔۔

میری بات سب کان کھول کر سن لو۔۔۔۔۔۔۔۔

تمہاری دوسری شادی ایمن سے ہوگی۔۔۔۔۔۔

اور یہ میں پوچھ نہیں رہا بتا رہا ہوں۔

میں بھی دیکھتا ہوں ڈیڈ کیسے کرتے ہیں اپ شادی۔۔۔

وہ غصے سے دروازے کو پٹاخ کر باہر کی طرف ایا۔۔۔۔

___

تقریبا رات کے 10 بج چکے تھے۔

وہ سرگت کے کش لگاتا لون میں ٹہل رہا تھا۔۔۔

اس نے ائرہ کو کھانے کے لیے فورس کیا تھا لیکن اسے سخت نیند ائی تھی تو اس نے بھی سونے دیا۔۔۔

اور اس کی طبیعت پہ کچھ ٹھیک نہیں تھی۔۔۔۔۔۔۔

وہ ابھی ٹہل ہی رہا تھا۔گارڈ نے گیسٹ انے کی اطلاع دی۔

کون ایا ہے ابھی اس نے رخ بدرا ہی تھا کہ پیچھے اسد کھڑا تھا۔۔۔۔

بس اسی کی کمی تھی۔۔۔۔

تو یہاں کیا کرنے ایا ہے اس نے غصے سے مخاطب کیا۔۔

میں ائرہ سے ملنے ایا ہوں تمہارے منہ نہیں لگنا چاہتا۔۔۔۔

وہ تنزیہ ہنسا اور اس کے پاس ایا۔

ہنسا وہ اس کی بے وقوفی پر تھا کہ کیسے سوچ لیا کہ وہ اسے اس سے ملنے دے گا۔۔۔۔۔۔

تمہیں ائرہ سے کیا کام ہے۔۔۔۔۔

اس نے دونوں ہاتھ کمر پہ ٹھکائے تھے سرگٹ وہ پھینک چکا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔

اس نے ہاتھ میں پکڑے کلپ کو اوپر کیا۔۔۔۔

اج کیک بناتے ہوئے اس کے بال اسے تنگ کر رہے تھے۔۔۔

میں نے اس کی پشت پہ کھڑے ہو کے اس کے بالوں کو باندھا تھا بہت ہی قریب سے۔۔۔۔۔

یہ کلپ وہیں چھوڑ ائی تھی دینے ایا ہوں۔۔۔

تیری تو اس نے گربیان سے پکڑا۔۔۔

ہمت کیسے ہوئی اس کے بالوں کو ہاتھ لگانے کی۔

اس نے ہاتھ کا مکہ بنا کے اس کے ناک پہ دے مارا۔

اسد نے بھی بدلے میں وار کیا اس کے ناک پر۔۔۔

تو زبردستی اس کی زندگی میں مسلط نہیں ہو سکتا۔۔۔

اخل جس کا ہاتھ ابھی بھی ناک پر تھا اسے اور غصہ ایا۔

تو اج نہیں بچے گا اس نے پھر سے گریبان سے پکڑ کر ایک اور مکہ اس کے دائیں طرف دے مارا۔

اور ایک ساتھ نہ جانے کتنے مکے مارے اس کے منہ پر۔

اس کے بالوں کو ہاتھ کیسے لگایا تو نے۔۔۔

اسے نیچے پھینک کر وہ اس کے اوپر بیٹھا تھا اور مارے جا رہا تھا۔۔۔۔۔۔

گارڈ جو پہلے چھڑانے کی کوشش کر رہا تھا بھاگتا ہوا اندر گیا تھا میلان کامران کو بتانے۔۔۔۔۔

اسد نے بھی سر اس کی ناک میں مارا اس کی ناک سے خون بہنا شروع ہو گیا تھا۔۔۔۔۔

اخل۔۔۔۔۔۔۔

میلان بھاگتا ہوا باہر ایا اور کچھ گارڈز بھی تھے ساتھ انہوں نے اخل کو پیچھے کیا اور اسد بھی اٹھ کر سائیڈ پہ ہوا وہ مشکل سے کھڑا ہو پا رہا تھا۔۔۔۔۔۔

اس کا حساب تمہیں جھکانا پڑے گا۔

سود سمیت۔۔۔۔۔

اور کسی صورت بھی ائرہ کو تمہارے حوالے نہیں کروں گا۔

وہ کورٹ کو اگے کرتا ہوا جانے لگا تھا۔۔

کےاخل ائرہ کا نام پھر سے اس کے منہ سے سن کر اگے بڑھنے لگا تھا کہ گارڈز نے پھر سے زور سے پکڑا۔۔۔۔۔۔۔

تھوڑی دیر میں اسد جا چکا تھا۔اخل کا غصہ کم ہونے کا نام نہیں لے رہا تھا۔۔۔۔۔۔

جب کسی گھٹیا خاندان کی لڑکی کو گھر لاؤ گے نا تو ایسے عاشقوں کی لائنیں لگیں گی۔۔۔۔۔

ڈیڈ وہ زور سے چلایا تھا اور لون میں پڑے ٹیبل کو ایک طرف پھینکا تھا۔۔۔۔۔۔

گاڈز کے لیے اپ سنبھالنا مشکل تھا وہ اپنی اپنی ڈیوٹیز میں لگ گیے۔۔۔۔۔

بشرا بیگم بھاگتی ہوئی لون میں ائی۔۔۔۔

اخل۔۔۔۔۔

سنبھالو اپنے بیٹے کو بیوی کے عاشق سے مار کھائی ہے۔اس نے ۔۔۔۔۔۔۔

بشرا بیگم نے ایک نظر انہیں دیکھا پھر اخل کو تھاما۔۔۔۔

ائرہ کس سے پوچھ کر گھر سے باہر گئی تھی۔۔۔

بیٹا وہ مجھ سے پوچھ کر گئی تھی کیک بنانے کے لیے۔۔

کیوں کیوں موم کیوں۔۔۔۔۔

وہ ان کے بہت قریب ا کر چیخا تھا۔۔۔۔۔۔

اس کتے نے اس کے بالوں کو ہاتھ لگایا اس نے چیئر کو اٹھا کر زمین پر مارا تھا۔۔۔۔۔۔۔

کس کی اجازت سے۔وہ غصے سے اندر کی طرف جانے ہی لگا تھا کہ بشرہ بیگم نے بازو سے کھینچ کر اس سے پیچھے کیا۔۔

میں ابھی گئی تھی کمرے میں بخار میں ٹپ رہی ہے وہ۔۔

اج پہلے ہی تمہارے ڈیڈ نے بہت ٹارچر کیا ہے اسے۔۔۔

اپنے غصے پے قابو رکھو اور صبح بات کرنا اس سے۔۔۔۔

میری اجازت سے گئی تھی وہ گھر سے باہر۔۔۔۔۔

مجھ سے پوچھا تھا اس نے پوچھا تھا اس نے مجھ سے۔۔۔۔۔

اس نے ہاتھ کو دیوار پہ مارا تھا غصے سے۔۔۔۔