Ayra by Aneeta NovelR50474 Ayra Episode 1
No Download Link
Rate this Novel
Ayra Episode 1
Ayra by Aneeta
جو ضرب اس کو لگائی گئی تھی اس کے بعد ہوش میں انا مشکل تھا۔
لیکن ائرہ نے ہمت کر کے خود کو بوٹ کے اوپر لے کر ائی۔وہ بوٹ کی ڈک کے اوپر تھی۔سمندر کی لہریں بھی زور پکڑ چکی تھی۔نہ جانے کیسے اپنی عزت بچا کر وہ یہاں تک ائی تھی۔۔۔۔
۔وہ خود کو سمندر کی نظر کر دینا چاہتی تھی۔کیونکہ اس کے سگے پاپ نے چند پیسوں کے لیے اسے بیچ دیا تھا۔۔۔
بنا کچھ سوچے خود کو سمندر کی نظر کر دینا چاہتی تھی اب زندہ رہنے کے لیے اس کے پاس بچا کیا تھا۔لیکن مہرو اور علی کی وجہ سے اس نے اپنے پاؤں کو پیچھے کھینچا ۔۔۔۔
جب وہ اس کا سودا کر سکتا ہے وہ ان معصوم بچوں کو کیسے بخش دے گا۔۔۔
لیکن وہ کچھ بھی نہیں جانتی تھی کہ وہ کون سا ملک ہے۔۔
اس سے پہلے کہ وہ اپنے قدموں کو مورتی اسے پیچھے سے اہٹ محسوس ہوئی جیسے کوئی تیزی سے اوپر ا رہا ہے۔۔
اس نے بنا کچھ سوچے انکھیں بند کی اور سمندر میں کود گئی۔لیکن شاید قسمت کو کچھ اور ہی منظور تھا۔۔۔۔۔۔
اس نے جب انکھیں کھلی۔خود کو ایک یجد جہاز پہ پایا
جو ایک چھوٹا بحری جہاز ہوتا ہے۔۔۔۔
۔جسے تفریح کے لیے استعمال کیا جاتا ہے وہ اس کے روف کے اوپر گری تھی۔اور سخت زخمی ہوئی تھی۔۔۔۔۔۔
اس نے کانپتے ہوئے ہاتھوں سے خود کو ایک کونے کے ساتھ لگایا۔۔۔۔۔
شپ میں ڈارتھی اواز کے ساتھ میوزک بج رہا تھا۔۔۔
وہ اس شپ کی روف پر تھی یہ ایک تفری شپ تھی۔جس کا سائز اتنا بڑا نہیں تھا اس جہاز جتنا نہیں تھا جس سے وہ کودی تھی۔۔۔۔
جس شپ سے وہ کودی تھی وہ ایک بحری جہاز تھا سامان کو ایک ملک سے دوسرے ملک لے جانے والا۔لیکن ایکچول میں اس میں لڑکیوں کی سمگلنگ ہوتی تھی۔۔۔۔
اس میں انکھیں کھولے رکھنے کی ہمت نہیں بچی تھی۔وہ 24 گھنٹے گھر میں رہنے والی لڑکی تھی۔اب اچانک قسمت نے اسے سمندر کی لہروں کے حوالے کر دیا تھا جنہیں سمجھنا بھی اس کے لیے مشکل تھا۔لڑنا تو دور کی بات۔۔۔۔
اچھا بس بہت مستی ہو گئی اب ہمیں واپس جانا چاہیے بابا ہمارا انتظار کر رہے ہیں۔احل نے قرت کو تھوڑا دور کیا۔جو اس سے چپکنے کی پوری کوشش کر رہی تھی۔۔۔۔
اور موبائل کان کے ساتھ لگا کے بوٹ کے روف کا رخ کیا۔۔۔۔
اس نے نیلی کلر کی شرٹ پہنی تھی نیچے جینز کی پینٹ تھی سفید کلر کی۔شرٹ کے بٹن دو تین ہی بند تھے۔
ہاتھ پہ کھلی چین تھی۔۔
گہری انکھوں کا مالک تھا۔اور سفید رنگت چوڑا سینہ اور لمبا قد۔۔۔۔
وہ جیسے ہی روف پر ایا اس کی نظر ائرہ پر پڑی جو ایک کونے میں کھڑی تھی اور بوٹ کا سہارا لیے شاید اس نے خود کو بٹھایا ہوا تھا۔وہ جو کسی کو فون ملانے کے چکر میں تھا اس نے موبائل کو ایک دم سے پاکٹ میں ڈالا۔
ہیلو کون ہو تم۔۔۔۔وہ پنچیتا نظریں لی ہے اس کی طرف ایا۔۔
ائرہ اس کی اواز سے چونکی۔اور پیچھے ہونے لگی۔وہ پہلے ہی بہت ڈر چکی تھی۔وہ منظر اس کی انکھوں میں سمایا ہوا تھا جب ایک لڑکے نے اس کے بہت قریب انے کی کوشش کی تھی۔۔۔۔
میں۔۔۔۔۔۔
اس نے جیسے ہی اپناروخ احل کی طرف کیا۔۔۔۔
معصوم سا چہرہ سفید رنگت الجھی ہوئی انکھیں۔بکھرے ہوئے بال۔اور بازوں سے پھٹے ہوئے کپڑے۔۔۔۔۔
تھوڑی ہی دیر میں وہ اس کے قریب ا کے بیٹھ چکا تھا۔
تم ٹھیک نہیں لگ رہی کون ہو یہاں کیا کر رہی ہو۔۔۔
ائرہ نے انکھ اٹھ کر ایک نظر اُس بوٹ کو دیکھا جس سے وہ کودی تھی جو اس بوٹ کو اب کراس کرنے ہی والے تھی۔۔
وہ سامان سے لدا ہوا ایک پہلی جہاز تھا۔۔
اس نے اپنی گردن کو تھوڑا اور نیچے جھکایا ان کی نظروں سے بچنے کے لیے۔۔۔
احل سمجھ چکا تھا کہ وہ خود کو کسی سے چھپا رہی ہے۔
احل کھڑا ہوا اور اپنا ہاتھ اگے بڑھایا اگر کسی سے چھپنا ہے تو نیچے بہت اچھی جگہ ہے ۔۔۔
ائرہ کو سمجھ نہیں ارہی تھی اس نے اپنا ہاتھ اس کے ہاتھ میں دیا۔۔۔۔
اور تھوڑی ہی دیر میں وہ اسے نیچے لے ایا تھا۔۔۔۔
لیکن نیچے کا ماحول ائرہ کی سمجھ سے باہر تھا تیز والیوم میں میوزک تھا لڑکیوں نے منی سکرٹ پہنی ہوئی تھی۔۔۔
کسی کے ہاتھ میں شراب تھی تو کوئی کسی کی باہوں میں تھا۔۔۔۔
احل بھی سمجھ چکا تھا کہ وہ انکمفرٹیبل محسوس کر رہی ہے۔۔۔
یہ احل کی پرسنل بورڈ تھی جو ویکن میں وہ تفری کے لیے استعمال کرتا تھا۔۔۔
اس نے ائرہ کا رخ دوسری طرف کیا اور ایک چھوٹا سا دروازہ کھولا جس کے اندر بیڈ تھا چھوٹا سا صوفہ تھوڑا کمرہ نمہ بنا ہوا تھا۔۔۔۔
ائرہ نے ایک نظر اس چھوٹے سے کمرے کو دیکھا۔۔۔۔۔
لیکن اسے بالکل بھی ہوش نہیں تھا وہ زخموں سے چور تھی۔شاید اخل کو بھی اس نے ٹھیک سے نہیں دیکھا تھا۔۔۔۔۔۔۔
اخل نے سہارا دے کر اسے بیڈ پہ بٹھایا۔ایک نرم کپڑے سے اس کے زحموں کو صاف کیا۔۔۔۔
اور ایک کپڑے کو اس کے ماتھے پہ باندھا۔۔۔۔۔
اخل۔۔۔۔۔۔یہ کون ہے ؟؟
اس نے ہاتھ میں پکڑے شراب کے گلاس کو ٹیبل پر رکھا۔
قرت میں نہیں جانتا۔یہ مجھے زخمی ملی تھی۔۔
ائرہ اب اپنا مکمل ہوش کھو بیٹھی تھی۔وہ بیڈ کراؤن کے ساتھ ٹیک لگائے انکھیں بند کر چکی تھی۔۔۔۔
اور تم اسے یہاں پہ لے ائے تم جانتے نہیں ایسے لڑکیوں کو۔۔۔
بے بی۔۔۔۔۔۔
ٹھیک ہو گئی تو چلی جائے گی۔اخل نے دونوں ہاتھوں سے قرت کے منہ کو تھپتھپایا۔وہ شارٹ سکرٹ پہنے ہوئی تھی۔بال کھلے ہوئے تھے۔رنگ تھوڑا سا ڈل تھا لیکن میک اپ اچھا حاصا لگایا ہوا تھا۔
اخل۔۔۔۔۔نے اپنے بازوں کو کہنیوں تک فولڈ کیا۔اور قرت کی طرف ایا۔۔۔
ٹھیک ہے وہ زخمی تھی تم اسے لے ائے اب پارٹی تو مت خراب کرو نا چلو۔قرت نے اس کا ہاتھ پکڑا۔اور اسے اپنے ساتھ باہر لے ائی۔۔۔۔۔
باقی سب لوگ پھر سے پارٹی کرنے لگے تھے میوزک کی اواز اور اونچی کر دی گئی تھی۔بوٹ کی سپیڈ بھی تیز ہو گئی تھی۔۔۔
____________
دیکھو اج کی موٹی اسامی ائرہ ہے۔۔
اس کے باپ کو جتنا پیسہ دیا ہے نا ہم اس سے زیادہ وصول کریں گے۔۔۔
استاد استاد۔۔۔۔۔ایک 20 22 سالہ لڑکا دوڑتا ہوا کمرے میں ایا یہ وہی بوٹ تھی جہاں سے ائرہ کودی تھی۔۔۔
ائرہ بھاگ چکی ہے۔۔۔۔
40 35 سال کے اس ادمی نے ٹیبل کو زور سے پیچھے گرایا۔جو ہاتھ میں تاش کے پتے تھے انہیں بھی زمین پہ دے مارا تھا۔۔۔
کیسے کہاں۔۔۔لیکن شاید اسے لڑکے کی بات پہ یقین نہیں تھا اس نے اسے زور سے پیچھے گرایا اور بوٹ کے اس حصے میں ایا جہاں پہ ائرہ کے ساتھ اور بھی لڑکیاں قید تھی۔وہ سبھی سہمی ایک دوسرے کے ساتھ چپکی بیٹھی تھی۔وہ لوگ دبئی پہنچنے ہی والے تھے۔۔۔
کہاں گئی ہے یہ۔عدنان نے ایک لڑکی کو بالوں سے پکڑا۔۔اور گھسیٹتے ہوئے باہر لے کر ایا۔ یہ وہی لڑکی تھی جو ائرہ کے ساتھ تھی۔۔۔
عدنان کا یہی کام تھا وہ لڑکیوں کی سمگلنگ کرتا تھا اور ان لڑکیوں کو دبئی کے شیخوں کے اگے بیچتا تھا۔وہ پہلے لڑکیوں کی تصویریں دکھایا کرتا۔۔
اس بار ائرہ کے بدلے میں اس نے باڑی رقم لی تھی۔۔۔
میں نہیں جانتی وہ بس باہر گئی تھی اس کے بعد نہیں ائی۔۔
۔اس لڑکی نے کپکپاتے لبوں کے ساتھ یہ بات کہی تو اس نے ایک جھٹکے میں اسے نیچے گرایا۔۔۔
اس میں موبائل اپنے پاکٹ سے نکالا یقینا اس کے باپ کو فون ملانے والا تھا۔۔۔۔
سلطان تمہاری بیٹی بیٹی بھاگ گئی ہے اور اگر 24 گھنٹوں میں وہ میرے پاس نہ ہوئی تو تو نہیں بچے گا۔۔۔
کہ کیا ائرہ بھاگ گئی۔سلطان جو پلنگ پر بیٹھا پیسے گن رہا تھا ایک دم سے اٹھا۔
نہیں ایسا نہیں ہو سکتا وہ چیخا تھا۔
ایسا ہو گیا ہے اپنی بیٹی کو ڈھونڈو اور میرے پاس لے کر اؤ۔سلطان نے فون بند کر دیا تھا۔۔۔
______
میوزک کی اواز ائرہ کے کانوں میں بج رہی تھی۔اسے سر میں شدید درد تھا۔وہ بے ہوشی کی حالت میں بھی درد سے اکڑا رہی تھی۔۔
ایسے ماسٹر پیس کا مزہ ہی کچھ اور ہے۔ ایک لڑکا ائرہ کے اسی کمرے میں داخل ہوا۔ اور ائرہ کے قریب ا رہے تھا۔۔۔
اج سچ میں پارٹی کا مزہ انے والا ہے۔ہاتھ میں پکڑے گلاس کو لڑکے نے ٹیبل پہ رکھا۔اور اپنی شرٹ اتار کر ایک سائیڈ پہ پھینکی۔۔۔۔
اخل کہاں دھیان ہے تمہارا۔قرت نے بازو اس کے کے گلے میں ڈالے۔ہوئے تھے اور گول گول گھوم رہی تھی وہ پوری طرح سے ٹن ہو چکی تھی۔۔۔۔۔
کہیں نہیں بی بی۔۔۔۔
اخل ایک دل پھینک انسان تھا۔وہ قرت جیسی کئی لڑکیاں تبدیل کر چکا تھا۔لیکن ان دنوں وہ قرت کے ساتھ تھا۔۔۔
لیکن اس کا دھیان ائرہ کی طرف تھا۔۔۔
اس نے دو تین دفعہ نظر اپنے کمرے کی طرف گھمائی تھی۔
شاید وہ زخمی تھی اس وجہ سے۔ورنہ وہ ایک لاپڑوا انسان تھا۔۔۔
وہ لڑکا اب بید پے جگہ بنا کے ائرہ کے سامنے بیٹھ گیا۔ائرہ کے چہرے پہ اتے بال اس نے پیچھے کیے ائرہ ابھی بھی ہوش میں نہیں تھی۔۔۔
تم کتنی خوبصورت ہو لڑکی۔زخم میں بھی کتنی خوبصورت لگ رہی ہو۔لیکن اج میں تمہیں اور تکلیف دینا چاہتا ہوں۔۔۔
______
تم اکیلی گھوم رہی ہو تمہارا پارٹنر کہاں ہے۔یہ اسی لڑکے کی گرل فرینڈ تھی جو اندر ائرہ کے پاس تھا۔
میں اسی کو ڈھونڈ رہی ہوں اخل کیا تمہاری بوٹ میں کوئی سیکرٹ روم بھی ہے ۔
مجھے عمر کہیں مل نہیں رہا اس کی بات پہ ایک دم سے اخل جو قرت کو میں تھامے ہوئے رقص میں مصروف تھا۔۔
ایک دم سے رکا۔۔۔
اس کا دھیان ائرہ کی طرف کیا کیونکہ وہ اس لڑکے کی حرکتوں کو اچھے واقف تھاکے وہ ہوس کا مارا ہے۔۔۔
اس نے ایک جھٹکے میں تانہ کو پیچھے گرایا۔
اور اپنے کمرے کی طرف بھاگا۔۔۔
کمرے کا دروازہ کھولتے ہی وہ لڑکا ائرہ کے قریب تھا۔
تو۔۔۔۔۔
وہ جو اس کی گردن پہ جھکنے ہی والا تھا اخل نے اسے پیچھے سے پکڑا۔۔۔
تیری جرات کیسے ہوئی۔۔
اخل کی افرا تفری دیکھ کر قرت اور وہ لڑکی بھی اس کے پیچھے ائی تھی۔۔
اخل نے اسے پکڑ کر پیچھے گرایا۔
۔
____________
تو تو ایسے کہہ رہا ہے ۔جیسے تم نے کبھی کسی لڑکی کو ہاتھ بھی نہ لگایا ہو۔
وہ خود کو سنبھالتے اگے ایا۔۔۔۔۔
لڑکی کو یہاں کیوں لے کر ایا ہے اسی لیے لے کے ایا ہے نا۔
ائرہ بری طرح سے سہم چکی تھی۔اس کے ساتھ وہ ہوا تھا کہ اسمان سے گرا کھجور پہ اٹکا۔۔۔
