Ayra by Aneeta NovelR50474 Ayra Episode 14
No Download Link
Rate this Novel
Ayra Episode 14
Ayra by Aneeta
تم اندر جاؤ میں تھوڑی دیر میں اتا ہوں۔۔۔
اسے باہر نکلنے کا اشارہ کیا اور اس نے گاڑی کو پھر سے سٹارٹ کیا تھا۔۔۔۔۔۔
ائرہ بھی چپ چاپ اتر گئی وہ اس کی بیگم یا محبوبہ تھوڑی تھی جو سوال جواب کرتی۔کہ کہاں جا رہے ہو کیوں جا رہے ہو۔۔۔۔۔
اس کے اندر داخل ہونے تک اسے دیکھتا رہا اور پھر گاڑی موڑ لی۔۔۔۔۔۔
_____
تھوڑی ہی دیر میں وہ ایک ویران سی جگہ پر پہنچا تھا۔۔۔۔
جہاں پہ سلطان بندھ ہوا تھا۔اس کے دونوں ہاتھ چیئر کی پچھلی طرف بندھے ہوئے تھے۔دو لڑکے اس کے دائیں بائیں پسٹل لیے کھڑے تھے۔چہرہ زخموں سے بڑا ہوا تھا۔۔۔۔۔
اس کی اہٹ محسوس کرتے اس نے گردن کو اٹھایا۔۔۔
اخل کے پاؤں سے دیکھتے دیکھتے وہ چہرے پہ ایا۔۔۔۔۔
تمہیں پیار سے سمجھایا تھا کہ ائرہ سے دور رہو۔۔۔۔
لیکن تو کتے کی موت ہی مرنا چاہتا تھا۔۔۔۔
اخل نے پاؤں اس کے سینے پہ رکھ کے اس کی چیئر کو نیچے گرایا۔۔۔۔۔
یہ تم اچھا نہیں کر رہے۔سلطان مشکل سے بول پایا تھا۔۔
میرے ادمی تمہیں چھوڑیں گے نہیں۔۔۔۔
ترا تعلق جس گندی دنیا سے ہے۔وہاں صرف تب تک ہی یاد رکھا جاتا ہے جب تک سانسیں چلتی ہے۔ ۔۔
کیوں کے مرے ہوئے انسان پیسے نہیں دے سکتے ۔۔۔
پاؤں وہ اس کے سینے سے گلے تک لے کر گیا تھا اور گلے کو زور سے دبانے لگا۔پاؤں کے ساتھ۔۔
اااااا۔تو اچھا نہیں کر رہا۔۔۔۔
وہ مشکل سے بول پا رہا تھا کہ اخل نے پاس کھڑے لڑکے سے پستل کھینچا۔۔۔
اور اس کے منہ میں رکھا۔۔۔
ہاں مجھے بھی لگا ہی تھا کہ میں اچھا نہیں کر رہا۔
ٹھیک سے کرنا چاہئے نہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ایک ساتھ اس نے تین گولیاں اس کے اندر گاڑی۔۔۔
تڑپ کے مرا تھا وہ۔۔۔۔
اب ہوا ٹھیک۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تمہیں کچھ دن زندہ رکھنے کا پچھتاوا میرے دل سے کبھی نہیں جائے گا ایک زور کا پنچ اس کے منہ پہ مارا اس نے اور پھر اپنا رخ بدلا۔۔۔
اس کے مرنے سے بھی اس کا غصہ کم نہیں ہوا تھا۔۔۔
ہوتا بھی کیسے اس نے ائرہ کو تکلیف پہنچائی تھی۔۔۔۔
اس نے گن پیشانی پہ رکھتے ہوئے ایک نظر پھر پیچھے مڑ کر اسے دیکھا۔۔
بندوق لڑکے کی طرف پھینک کر۔۔۔۔
اور پھر غصے سے اپنی گاڑی کی طرف چلا گیا۔۔۔۔۔
______
ائرہ گھر پہنچی ہی تھی کہ تھوڑی ہی دیر میں ملیحہ اگئی تھی۔۔۔
لیکن وہ اپنے ہی شکار پر تھی وہ دونوں کچن میں بیٹھی تھی۔۔۔
یہ بہت اسان ہے۔ملیحہ نے اس کے ایک ہاتھ پہ اپنا ہاتھ رکھا۔۔
اگر تم تیار ہو تو میں یہ کام کر سکتی ہوں کچھ ہی دنوں میں پاکستان جا سکتی ہوں تم۔۔۔۔۔
لیکن یہ کیسے پوسیبل ہے۔۔۔
میرے پاس تو کوئی ڈاکومنٹس ہی نہیں ہے۔ائرہ کی بات بھی بجا تھی۔۔۔۔
دیکھو ہم تم لوگوں کی طرح نہیں ہیں جو ان کاموں کے لیے مہینے یا سال لگ جائیں۔ہمارے پاس پیسہ ہے ہم ایک دو دن میں بھی کر سکتے ہیں۔۔۔
لفظوں لفظوں میں اس نے اسے تانہ مارا تھا۔۔۔
لیکن وہ اس بات پہ اٹل تھی کہ اسے کسی طرح بھی وہ پاکستان بھیج دے۔۔
تاکہ اخل سے اس کی جان چھوٹے لیکن وہ کیا جانتی تھی کہ اخل کی تو جان ہی اس میں بستی ہے۔۔۔۔۔۔
بتاؤ کیا تم جانا چاہتی ہو۔۔۔۔
اس نے سوالیہ نظروں سے اس کی طرف دیکھا۔۔۔
ہاں اگر تم یہ اسانی سے کر سکتی ہو تو میں جاؤں گی۔۔۔
میں یہاں سیو نہیں ہوں۔۔۔
ٹھیک ہے کچھ ہی دنوں میں میں تمہارے ڈاکومنٹس ریڈی کروا دوں گی۔اور پھر اس کے بعد۔۔۔
اور پھر اس کے بعد اس کا بھائی تمہیں۔یہاں سے ایئرپورٹ یا میرے خیال میں ایئرپورٹ سے پاکستان بھی چھوڑنے جائے گا۔۔۔
کیوں ملیحہ ایسا ہی ہے نا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اخل غصے سے
اندر داخل ہوا تھا اس نے ملیحہ کی باتیں سن لی تھی۔۔۔
ملیحہ کے تو ہاتھ پاؤں کانپنے لگے تھے۔۔۔
اور ائرہ تم بہت سیف محسوس کرو گی ۔۔۔
تمہاری جرنی بھی کافی اچھی رہے گی۔۔۔
غصے کی نگاہ اس نے ائرہ پر ڈالی ۔تو ائرہ نے ہونٹ مچتے ہوئے گہری سانس لی۔۔۔
اس نے دونوں ہاتھ ٹیبل پر رکھے تھے۔۔۔
اور نگاہیں ائرہ پہ جمائی ہوئی تھی۔۔۔۔
ائرہ نے ایک نظر اسے دیکھا پھر ملیحہ کو اور پھر اپنے کمرے کی طرف چلی گئی۔۔۔۔
اس کے جاتے ہی ملیحہ چیئر سے اٹھ گئی تھی۔۔۔
اخل میں تو بس۔۔۔
تمہارے چہرے پہ یہ نشان۔۔۔
تم تو بس کیا۔اس نے ملیحہ کے بازو کو زور سے پیچھے کی طرف مڑر ۔۔
بولو تم تو بس کیا۔۔
اخل۔۔۔۔
پلیز یہ کیا کر رہے ہو چھوڑو۔۔۔۔
تم اور تمہارا بھائی۔
میری بات کو کان کھول کر سن لو۔۔۔۔
ائرہ سے دور رہو وہ اس کے کان کے قریب ہو کر بولا تھا۔
ورنہ اچھا نہیں ہوگا۔اس نے اسے زور سے دھکا دیا تھا پیچھے وہ چیئر کے ساتھ جا کر ٹکڑائی تھی۔۔۔
وہ باہر کی طرف بڑا ہی تھا کہ ملیحہ نے اس کا ہاتھ پکڑا
وہ مجھ سے پوچھ رہی تھی پاکستان جانے کے بارے میں تو میں اسے کیا کہتی اور ویسے بھی تم اسے یہاں کیوں رکھنا چاہتے ہو۔۔۔
میں تو اس کی بھلائی کے لیے کہہ رہی تھی۔۔
اس کی باتوں نے اخل کو سوچنے پر مجبور کر دیا تھا۔۔
پر اس نے اس کے ہاتھ کو زور سے جھٹکا اور ائرہ کے کمرے کی طرف گیا۔۔۔۔۔
____
تم پاکستان جانا چاہتی ہو دروازے کو زور سے کھولا اس نے اور اس سے سوال کیا۔۔۔
م۔۔۔۔۔وہ جو سونے کی تیاری میں تھی بیڈ سے اٹھی۔اس کے غصے سے تو پہلے ہی وہ ڈری ہوئی تھی۔۔۔
اس نے ننگے پاؤں زمین پر رکھے تو اس کا زخم ایک دفعہ پھر چڑ گیا۔۔۔
ای۔۔۔۔اس نے ہونٹوں کو دانتوں تلے دبایا۔۔۔۔
اخل کا دھیان بھی اس کے پاؤں کی طرف گیا۔۔۔
وہ نیچے جھکا۔۔۔
تو ائرہ کا دھیان باہر گیا جہاں ملیحہ اسے کچھ نہ بولنے کا اشارہ کر رہی تھی۔۔۔۔۔
بیٹھوں میں پٹی چینج کرتا ہوں۔۔۔۔
اس کے درد سے اس کا غصہ کم ہوا تھا۔۔۔۔۔۔۔
بتاؤ کیا وہ تمہیں لے جانے کا کہہ رہی تھی۔۔۔۔
اسے بتانا تو سچ ہی تھا لیکن ملیحہ کی بات سے پھر اس نے بات گھما دی۔۔۔
نہیں میں نے اس سے پوچھا تھا۔۔۔۔
کیوں پوچھا تھا اس کے دونوں پاؤں اس نے بیڈ پر کیے۔۔۔
کیوں کیا ساری زندگی تمہارے ساتھ رہنا ہے۔۔۔
اس کی اس بات سے تو اس کا دل زور سے دھڑکنے لگا تھا۔۔۔۔
اور ہر سانس نے حامی بڑی تھی ہمیشہ ساتھ رکھنے کی۔۔۔
مجھے جانا تو ہے نا۔۔۔
کہیں نہیں جانا۔۔۔۔۔
کیا اپنے باپ کے پاس واپس جانا ہے تاکہ وہ تمہیں پھر سے بھیچ دے۔۔۔۔
کچھ حادثے کتنے خوبصورت ہوتے ہیں نا وہ اس کی انکھوں میں دیکھ رہا تھا۔اور کہیں نہ کہیں اس کے باپ کا شکریہ ادا کر رہا تھا۔کہ اگر وہ اسے بھیجتا نہ تو وہ اس کے پاس کیسے اتی۔لیکن یہ قسمت کے کھیل ہیں۔ائرہ اخل کی تھی۔
اسی لیے چار دیواری سے سیدھی۔دبئی بوٹ پر اتری اخل کے لیے۔وہ دل ہی دل میں اپنی قسمت پہ ناز کر رہا تھا۔۔۔۔۔
لیکن اگے کا سفر اس سے مشکل لگ رہا تھا۔منزل تو اس کے سامنے تھی۔پر راستہ نہیں مل رہا تھا کہ منزل تک پہنچ کیسے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پاکستان میں میرے دوست ہیں رشتہ دار ہیں کوئی نہ کوئی تو رکھیے گا۔
تو یہاں رہنے میں کیا مسئلہ ہے۔۔۔۔۔
کیا اس دوست پر یقین نہیں ہے۔۔۔
دل کی بات لبوں پر ائی تھی۔۔۔۔
اخل۔۔۔۔
یہ چوٹ کیسے لگی۔۔۔
ملیحہ نے اس کا رخ اپنی طرف کیا۔۔۔۔
دیکھو تو۔کتنا گہرا زخم ہے کیا کسی سے لڑائی ہوئی ہے۔۔۔
وہ دونوں ہاتھ اس کے چہرے پہ رکھے اس کے زخم کو دیکھ رہی تھی۔۔۔۔
جب کےاخل یہ کیئر ائرہ سے اکسپٹ کر رہا تھا۔۔۔
تمہارا جھگڑا ہوا ہے کسی سے۔۔۔
ملیحہ سوال پہ سوال کر رہی تھی جب کہ اس کا دھیان ائرہ پہ تھا۔۔۔
چلو میں مرہم لگاتی ہوں۔۔۔۔۔
ملیحہ نے اس کا ہاتھ پکڑا اور اپنے ساتھ لے گئی۔وہ ائرہ کے سامنے بڑی بڑی باتیں کر چکا تھا ملیحہ کو لے کے اب انکار مشکل لگ رہا تھا۔۔۔۔
ائرہ بھی سکون سے لیٹ گئی تھی۔
جیسے ان کے باہر جانے کا انتظار کر رہی ہو۔۔۔۔۔
_________
تم نے ابھی تک نہیں بتایا کہ تمہیں کیا ہوا ہے۔۔۔
میں نے کہا نا میں اب سکون سے سونا چاہتا ہوں کیا یہ پوسیبل ہے۔مرہم لگانے کی وجہ سے اس کا ذخم بھی تھوڑا چھڑ گیا تھا۔
اور اوپر سے ائرہ کی ٹینشن۔۔۔۔۔۔
وہ جو اسے مرہم لگا رہی تھی اس نے ایک جھٹکے میں سے پیچھے کیا۔۔۔۔
تم مجھے جانے کا کہہ رہے ہو۔۔
تم نے اس دن بھی میری انسلٹ کی تھی اس کے باوجود میں اگئی۔
تم بدل گئے ہو۔۔۔
کیا تمہارے دل میں میرے لیے اب کوئی فیلنگز نہیں بچی۔۔۔
دیکھو میں اس ٹائم بہت تھک گیا ہوں میں سونا چاہتا ہوں
ہم صبح اس موضوع پہ بات کریں گے اور ویسے بھی تمہارا گھر جانا ہی ٹھیک رہے گا
بھا۔۔
وہ بھائی کہنے لگی تھی لیکن اخل سمجھ گیا تھا۔۔۔۔
ابھی اس کا نام میرے سامنے مت لینا۔۔۔۔۔
وہ شرمندہ ہے اپنے کیے پہ۔۔۔
اس کے غصے کے باوجود ملیحہ نے اپنی بات پوری کی۔۔
وہ ائرہ سے معافی مانگنا چاہتے ہیں۔۔
ملیحہ وہ غصے سے بولا تھا
۔۔۔۔۔
اسے کہنا دوبارہ ائرہ کا نام بھی اس کی زبان پہ نہ ائے۔۔۔
ورنہ اچھا نہیں ہوگا۔۔
اخل۔۔۔۔۔۔
اخل جو پہلے غصے میں تھا۔اسے بازو سے پکڑ کر اس نے باہر نکالا اور دروازے کو زور سے بند کر دیا۔۔۔۔
سر پہ چڑھ رہی ہے۔۔۔۔
معافی مانگے گا۔۔۔۔۔
اس نے صوفے کو زور سے ہٹ کیا تھا۔۔۔۔۔۔۔
اخل
۔۔۔
یہ سب اس دو ٹکے کی لڑکی کی وجہ سے ہے۔۔۔
لیکن اب اور نہیں۔۔۔۔۔
اس نے پاؤں کو زور سے زمین پر مارا۔۔
اور کچن سے اپنا بیگ اٹھا کر باہر چلی گئی۔۔۔
ائرہ کے لیے نفرت تھی اس کے دل میں۔۔۔۔۔۔۔
______
اج جلدی اٹھ کے ائرہ۔۔۔
وہ جو ابھی اٹھا تھا انگڑائی لیتے ہوئے وہ گارڈن میں فریش ایئر لینے ایا تھا۔۔۔۔۔
کہ ائرو کو سامنے ٹہلتے دیکھا۔تو اس کے پاس ایا۔۔۔۔۔
ہاں۔۔۔۔۔
گڈ مارننگ۔۔۔۔۔
پاؤں کیسا ہے اس نے پاؤں کی طرف دیکھا۔۔۔۔
ٹھیک ہے ۔۔۔۔۔
وہ جب جب اس زخم کو دیکھتا تھا۔ تو وہ اسے بے چین کر دیتا تھا۔وہ کتنا گھٹیا انسان ہے اسے اس بات کا احساس ہوتا تھا۔۔۔۔۔۔
تمہیں کیاہوا ہے ۔۔۔
اشارہ اس کے چہرے کی طرف تھا۔۔۔
اس نے ہاتھ چہرے پہ رکھا۔۔۔۔۔۔
کچھ نہیں ذرا سا زخم یے۔۔۔۔۔
اسے اس کا یوں ایسے پوچھنا اچھا لگا تھا۔۔۔
کیا یہ رات کو نہیں نظر ایا تمہیں۔۔۔۔
اس کے ذہن میں جو رات سے ٹینشن تھی وہ دور کرنا چاہتا تھا۔۔۔
ایا تھا پر ملیحہ نے مرہم لگا دی تھی نہ
اگر وہ نہ لگاتی تو کیا تم لگاتی۔اس نے سوالیہ نظروں سے اس کی طرف دیکھا۔
میں۔۔۔۔۔۔۔
میں کیوں لگاتی۔۔۔۔۔
ملیحہ کا حق ہے تم پر۔۔۔۔
ویسے بھی تم دونوں ایک ہونے والے ہو۔۔۔۔
مجھے تو یہاں رہنا بھی اچھا نہیں لگتا ملیحہ پتہ نہیں کیا سوچے گی۔۔۔۔
وہ جو اپنے دل کی بات اس کے اگے رکھنا چاہتا تھا اس کی باتوں سے خفا ہوا۔۔۔۔۔
ان کچھ دنوں میں ائرہ اخل کے بہت قریب ہو گئی تھی۔
۔
وہ بھی اسے دوست ماننے لگی تھی۔۔۔۔۔۔
اس پر اعتبار کرنے لگی تھی۔اور صرف دوستی کی حد تک اس نے اگے کا کبھی نہیں سوچا تھا۔
وہ جانتی تھی اپنی اوقات۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ بھی چھوٹے بچوں کی طرح اس کی فکر کرتا تھا۔
اس کے کھانے پینے کا اس کے سونے کا وہ ہر چیز کا خیال رکھتا تھا۔رات کو کئی دفعہ اسے اٹھ کے دیکھتا۔اس کی ہر ضرورت کا خیال رکھتا تھا۔۔۔۔۔۔۔
وہ پاکستان گیا تھا کچھ دنوں کے لیے پر ایک لمحہ نہیں رک پایا۔اور فیملی سے بھی ملنا چاہتا تھا اور ائرہ کے ڈاکومنٹس بھی ریڈی کروانے تھے۔لیکن وہ اس نے خود ہی نہیں کروائے۔
وہ چاہتا تھا وہ ہمیشہ اس کے ساتھ ایسے ہی رہے۔۔۔
تم نے مجھے جواب نہیں دیا اخل میں کچھ پوچھ رہی ہوں۔
اس بار لہجے میں تھوڑا غصہ ایا تھا۔۔
ائرہ کیوں صبح صبح دماغ خراب کر رہی ہو۔۔۔۔
وہ استین کوہنیوں تک فولڈ کرتا ہوا اس کے پاس ایا۔
یہ جاب کا کیڑا کہاں سے تمہارے دماغ میں اگیا۔۔
اس نے ایک پاؤں ٹیبل کے نکر پر رکھ کر تسمیں بند کیے۔۔
اس نے گرین کلر کی شرٹ پہنی تھی۔وائٹ لائن تھی جس میں۔۔۔
اور ویسے بھی تمہارے ڈاکومنٹس کمپلیٹ نہیں ہیں۔۔۔
تو میں کون سا کہہ رہی ہوں میں کسی افس میں جاب کروں گی۔۔
کسی ریسٹورنٹ پہ۔۔
اچھا بس اب تم کیا ویٹرز کی جاب کرو گی۔اس کی بات ابھی ان کمپلیٹ تھی کہ اس نے اسے ٹوکا۔۔۔
پچھلے دو دنوں سے وہ اسی بات پہ اس سے بحث کرتی تھی۔۔۔
اخل۔۔۔۔۔
ملیحہ بھی یہاں ہے اسے اندازہ نہیں تھا وہ ابھی سو کر کمرے سے باہر ایا تھا۔۔۔
اگر وہ کرنا چاہتی ہے تو اسے کرنے دو تم اسے ایسے قید تو نہیں کر سکتے۔۔۔۔
یہ اس کا رائٹ ہے۔۔۔
ملیحہ نے کافی کا کپ اسے دیا۔۔۔
وہ اچھی خاصی جیلس تھی اس سے۔۔۔۔۔
اخل نے کافی پکڑی ایک نظر ائرہ کو دیکھا باہرچلا گیا۔۔۔۔
_____
۔
وہ میری بات نہیں تالے گا دیکھ لینا۔۔۔
تمہیں پرمیشن دے دے گا۔۔۔
میری کوئی بھی بات نہیں ڈالتا۔۔
ائرہ نے ایک نظر اسے دیکھا اور پھر باہر کی طرف دیکھا۔۔۔۔
ائرہ اسے ابھی بھی دوست ہی سمجھتی تھی۔پر ملیحہ اندر ہی اندر کُرتی تھی۔۔۔۔۔۔
______
اخل تم بات نہیں کر رہے۔۔۔۔۔
کیا بات کروں میں ائرہ تم سے۔۔۔۔
وہ جب واپس جانے لگی تھی اس نے اٹھ کے اس کا بازو پکڑا۔وہ ایسے ناراض نہیں ہو سکتا تھا۔۔۔۔
اس کی خوشبو کا وہ دیوانہ تھا اسے پاس کرنے سے ڈرتا تھا۔
وہ مسلسل اس کی انکھوں میں دیکھ رہا تھا۔۔۔۔
پھر اچانک ہی اپنی غلطی کا احساس ہوا تو انکھوں کا رخ موڑا۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کیوں نہیں مانتی بات میری۔۔۔۔۔۔
میں سارا دن گھر میں رہ کے بور ہو جاتی ہوں۔۔۔۔
ائرہ کو اپنا اپ اس پہ بوجھ سا لگنے لگا تھا۔وہ کب تک اس کے ٹکڑوں پہ پلتی۔۔۔۔۔۔۔۔
اور ویسے بھی میرے پاس تو ہنر بھی ہے میں کیکس بناتی ہوں۔اور بہت ہی اچھے۔وہ اسے ڈیٹیل میں بتانا چاہتی تھی اپنی خوبیوں کے بارے میں۔
اچھا ٹھیک ہے۔۔۔
کل سے تم میرے ساتھ چلنا افس۔اخل لوگوں کے جو دبئی میں ریسٹورنٹ تھے۔ان کو اخل ہی دیکھتا تھا۔۔۔۔۔۔
غیر ذمہ دار سے وہ تھوڑا ذمہ دار ہوا تھا۔اس کے اس بدلاؤ پے۔اس کی فیملی بھی ہوش تھی کیونکہ پہلے فورس کرنا پڑتا تھا اسے کے کام میں دھیان لگائے۔پر اب وہ خود ہی ہر کام میں دلچسپی لیتا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دبئی میں ہمارے کچھ ریسٹورنٹ ہیں۔۔۔
اگر تم چاہو تو وہاں۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نہیں تمہارے ریسٹورنٹ میں نہیں۔۔۔۔۔
یہ کیا بیکار کی ضد ہیں ائرہ۔۔۔۔۔
تم میرے انڈر کام نہیں کرنا چاہتی۔۔۔۔۔۔
نہیں میں ہر وقت تمہارے سر پہ سوار نہیں رہ سکتی۔
ویسے بھی ملیحہ کو اچھا نہیں لگتا۔
مجھے خود اچھا نہیں لگتا۔
تم دونوں میری وجہ سے۔۔۔۔
تمہاری وجہ سے کیا۔
میری وجہ سے تم لوگ اچھے سے بات نہیں کرتے۔
ایسا نہیں ہے۔۔۔۔
میں تم سے۔۔۔۔۔
نہیں وہ پزل ہو چکا تھا۔۔۔۔۔۔
وہ نہیں جانتا تھا اسے کیا کہنا چاہیے کہ ایکسپلین کرنا چاہیے۔۔۔۔
ان فیکٹ میں تو ابھی بھی اسی سے بات کر رہا ہوں۔۔
یہ دیکھو اس نے بے دہانی میں اپنا موبائل کا لاک کھولا۔۔
اور چیٹ اس کے سامنے کر دی۔۔۔۔
ائرہ نے سکرین دیکھتے ہی ایک نظر سکرین کو دیکھا اور پھر اسے دیکھا۔۔۔۔
اس نے سکرین کو اپنی طرف کیا۔
اس کے چہرے کے ری ایکشن دیکھ کر کہ کیا دیکھ لیا اس نے۔۔۔۔۔
وہ قرت کی چیٹ تھی۔۔۔۔
لو ون لو ٹو کے چکر میں وہ نمبر بھی بلا بیٹھا تھا۔۔۔۔۔
اور بہت ہی پرسنل میسج۔۔۔۔۔
تم نہیں سدھرو کے اخل۔۔۔۔۔
اب کوئی میسج کرے جواب تو دینا پڑتا ہے ۔وہ اندر سے اچھا خاصا شرمندہ ہوا تھا۔۔۔۔
قرت سے بھی بریک اپ نہیں ہوا تھا اس کے بہت میسج اور کالز کرنے پہ اس نے بس کل ذرا سی اس سے بات کی تھی
لیکن اس ذرا سی بات میں بھی بہت کچھ تھا۔۔۔۔۔
اس نے دل کو مشکل سے مطمئن کیا تھا کہ وہ ائرہ کو دل کی بات بتائے گا۔
پر ساری محنت پہ پانی پھر گیا تھا۔۔۔۔۔۔
_____
ائرہ کو اپنے باپ کی تو کبھی یاد نہیں ائی تھی لیکن اپنے چھوٹے بہن بھائیوں کو وہ ضرور یاد کرتی تھی۔
اور ان سے ملنے کے لیے بے تاب تھی۔۔۔۔۔۔
ائرہ ٹائم دیکھا ہے رکھ دو اب اسے۔۔۔
وہ رات کے تقریبا ایک بجے ایا تھا اس کے کمرے میں دیکھنے
اور وہ موبائل میں لگی ہوئی تھی۔۔۔۔
اس نے موبائل اس کے ہاتھ سے کھینچا۔۔۔۔
کیا یے۔۔۔۔۔۔۔اخل۔۔۔۔۔
ائرہ نے برا سا منہ بنایا اور اس کی طرف دیکھنے لگی۔۔۔۔۔۔۔
اب سو جاؤ۔۔۔۔
اس نے اس کا موبائل اپنی پاکٹ میں ڈال لیا تھا۔
موبائل تو دو پھر سو جاؤں گی۔۔۔۔۔
اس نے ہونٹوں کی ایک طرف کھینچتے منہ سے نہ کی تھی۔۔۔
اس نے بلیک کلر کی شرٹ پہنی تھی۔کھلے بال چہرے پہ معصومیت۔گلابی ہونٹ گلابی گال۔دل کو مشکل سے قابو کر پاتا تھا وہ۔۔۔۔۔۔
وہ کتنا بے بس تھا۔وہ اسے باہو میں بڑنا چاہتا تھا اسے دل کی ہر بات کہنا چاہتا تھا۔۔۔۔۔۔
لیکن اسے ڈر تھا۔کہ کہیں پیار کے چکر میں وہ اپنی دوستی بھی خراب نہ کر لے۔۔
اخل۔۔۔۔۔۔۔
کہاں گم ہو گئے کیا قرت کی یاد ا رہی ہے ۔۔
ائرہ نے ہنستے ہوئے پوچھا۔۔۔۔۔
وہ جو اس کو گوڑے جا رہا تھا ایک دم سے چونکا۔۔۔۔۔
نہیں۔۔۔
وہ بلینکٹ سیدھا کرنے کے لیے اس پہ جھکا تھا کہ ائرہ نے اس کے پوکٹ سے ارام سے موبائل نکالا لیا۔کیونکہ وہ جانتی تھی کہ یہ اس کی اخری ڈیوٹی ہے وہ بلینکٹ سیدھا ضرور کرے گا۔اخل نے ہنستے ہوئے اس کی طرف دیکھا۔۔۔۔
اور جو ہاتھ اس نے موبائل لے کے بلینکٹ میں چھپایا تھا اس ہاتھ کو زور سے پکڑا۔۔۔
یہ چالاکیاں میرے ساتھ نہیں چلیں گی مس ائرہ۔۔۔۔
اخل۔۔۔۔۔۔۔۔
التجا کرتے ہوئے اس نے موبائل مانگا تھا۔
۔۔۔
بچوں کی طرح سارا دن بس ویڈیوز اس نے دروازے کو زور سے بند کیا اور موبائل کو پھر سے پاکٹ میں ڈال لیا۔۔۔۔۔۔۔
________&&&&&&
مہروج ابھی تک اس کے نشے سے نہیں نکلا تھا۔۔۔۔۔
لیکن اب اس نے اپنے قدم مضبوط کر لیے تھے۔۔۔۔
بھائی اپ کو لگتا ہے یہ ٹرک کام کرے گی۔۔۔۔
ہاں کیوں نہیں کام کرے گی۔۔۔۔۔
بس تم وہاں جا کر ائرہ کو میرا پیغام دو۔۔۔۔۔۔
وہ پیچھے پیچھے ائے گی۔۔۔۔
اور ہر بات پہ جی حضوری کرے گی۔۔۔۔
____
ایک تو یہ میرے نہ ہونے والے صالے کو ابھی بھی سکون نہیں ہے۔۔
اخل نے موبائل غصے سے کان سے اتارا۔ ۔۔۔
اور ملیحہ کو کال کی اور اسے بلایا۔۔۔۔۔۔
تھوڑی ہی دیر میں وہ ا چکی تھی رات بہت ہو گئی تھی لیکن اخل کا حکم کیسے ٹاالا جا سکتا تھا۔۔۔۔۔۔۔
تم نے مجھے اتنی رات کو بلایا کیا ہوا۔۔۔۔۔۔
کیوں نہیں بلا سکتا اس نے مسکراتے ہوئے کہا تھا۔۔۔۔۔
اسے کمرے میں جانے کا اشارہ کرتے ہوئے جب وہ کمرے میں جا چکی تھی اس نے ایک دفعہ پھر ائرہ کو دیکھا تھا جو گہری نیند سو چکی تھی۔۔۔۔۔
